احمد فراز کے دکھ کی نوعیت جانے کیا تھی جب اس نے کہا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز#
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
کچھ دکھ واقعی قیامت کے ہوتے ہیں۔ آنکھ سے بہہ نہ نکلیں تو دیوار جاں تک کو توڑ ڈالتے ہیں۔ دکھ یہ نہیں کہ فرعون وقت کے خلاف مزاحمت کا علم اٹھانے اور برسوں اس کی نیندیں حرام رکھنے والا مرد مجاہد نہ رہا۔ وہ رکا تو کوہ گراں بن کر اور چلا تو جاں سے گزر گیا ، اس نے تو واقعی رہ یار کو قدم قدم یادگار بنا دیا، سو اس نے وہ منزل پالی جو اس کی کشادہ پیشانی پہ لکھی تھی اور اب اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی کتنی ہی رفعتیں پا لے، کوئی ایسا میزائل، کوئی ایسا راکٹ اور کوئی ایسا ہتھیار ایجاد نہیں کر سکتا جو ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں جنم لینے والے اسامہ کا سینہ چھلنی کر سکے۔
اسی ایبٹ آباد کے پہلو میں ایک مقام بالا کوٹ کا بھی ہے۔ یہاں سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید، آسودہ خاک ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ تقریباً 180برس قبل جب وہ کچھ ”اپنوں“ کی انٹیلی جینس کے باعث شہادت سے ہمکنار ہوئے تو وہ بھی مئی کا مہینہ تھا اور اس کا پہلا ہفتہ۔ امریکی رعونت سے پنجہ آزمائی کرنے والے اس عرب شہزادے کو کوئی شہید نہ کہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سچی بات یہ ہے کہ غلاموں کی طرف سے دیئے گئے تمغے ،کسی اعزاز کا باعث نہیں ہوتے۔سو اسامہ کا اس جہان فانی سے کوچ کر جانا دکھ کی بات نہیں۔ اگر امریکہ اسی خدا فراموشی ، اسی خودسر ی، اسی انسانیت دشمنی اور اسی فرعونیت کے ساتھ آگ اور بارود کا کھیل جاری رکھتا ہے تو اسامہ پیدا ہوتے رہیں گے اور ان کی موج خوں سے چمن ایجاد ہوتے رہیں گے۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمان رکھنے والے ستاون ممالک پر سکوت مرگ طاری ہے۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی آزادی، خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ کے خلاف ایک شرمناک غیر ملکی کارروائی کو فتح عظیم کا نام دیا۔ اقتدار کے دستر خوانوں کے رزق کے ریزے چننے والی چیونٹیوں سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے ۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ صدر آصف زرداری نے امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کو اپنے تازہ مضمون سے نوازا اور کہا کہ اسامہ کا خاتمہ ان کے لئے دہری تسکین کا باعث ہے کیونکہ اسامہ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو پیسہ دیا تھا۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ بڑے بڑے دعوے کرنے اور امریکہ دشمنی کو اپنے ماتھے کا جھومر بنانے والے علمائے کرام بھی مراقبے میں چلے گئے ہیں۔ دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ دفتر خارجہ نے ایک انتہائی لغو بیان جاری کر کے قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا، دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ چار سو بیالیس ارکان پر مشتمل پارلیمینٹ میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوا اور دکھ اس بات کا بھی نہیں کہ ہمارے میڈیا نے توازن قائم رکھنے کے بجائے اسامہ کو صرف امریکہ کی آنکھ سے دیکھا۔
دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھری ہے۔ جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں وہ ہر پاکستانی کے لئے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف نامی سیاہ رو ڈکٹیٹر ہمیں ایک ایسی دلدل میں پھینک گیا جس سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ اس نے باضابطہ طور پر امریکہ کی غلامی کو حکمت عملی کا درجہ دیا۔ گزشتہ دس برس کے دوران امریکیوں نے ایسے سینکڑوں اقدامات کئے جو آزادی و خود مختاری کا ادنیٰ سا احساس رکھنے والا ملک بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ستم یہ کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی امریکہ کی چاکری کو ہی اپنے سر کا تاج بنایا۔ اہل پاکستان کا عمومی تاثر یہی رہا کہ مشرف کے دور سے ہی ہماری فوج اور خفیہ ایجنسیاں ،امریکی اہداف و مقاصد کی زنجیر سے بندھی ہیں اور امریکہ جو کارروائیاں بھی کرتا ہے، ان میں ہمارا تعاون شامل ہوتا ہے یا کم از کم وہ ہمارے علم میں ہوتی ہیں۔ لوگ اسے اچھی نگاہ سے نہ دیکھتے ،لیکن نظر انداز کر دیتے تھے۔ لیکن ایبٹ آباد کے واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوالات ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہے اور عالمی سطح پر بھی ان سوالوں کا تذکرہ ایک گونج بنتا جا رہا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسامہ ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں برسوں سے مقیم تھا ؟ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔پہلی یہ کہ پاکستان انٹیلی جینس ایجنسیاں بالخصوص آئی ۔ایس ۔آئی کو اس کا علم تھا اور وہ اسامہ کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آئی ۔ ایس ۔آئی اس قدر نا اہل ہے کہ اسے سب سے بڑی ملٹری اکیڈمی سے چند سو گز دور ایک بڑے کمپاؤنڈ میں اسامہ کی موجودگی کا پتہ ہی نہیں چلا۔
اس سوال کو بھی ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ آئی۔ایس۔آئی کو علم تھا یا نہیں، اس سے کہیں بڑا اور ہر آن بچھو کی طرح ڈنک مارنے والا سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی دفتر خارجہ درست کہہ رہا ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اس آپریشن سے کلی طور پر لاعلم تھی اور اگر سچ بتایا گیا ہے کہ ہمارے جیٹ طیارے حرکت میں آنے سے پہلے امریکی اپنی کارروائی ختم کر کے افغانستان جا چکے تھے اور اگر امریکی سی۔ آئی ۔ اے کے چیف کا یہ دعویٰ بھی درست ہے کہ پاکستانیوں پر اعتبار نہ ہونے کے باعث آپریشن آخری لمحے تک خفیہ رکھا گیا اور اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ پاکستان کی طرف سے کوئی فوجی ردعمل نہ ہو تو پھر ہماری سلامتی کس گھروندے کا نام ہے اور ہمارے دفاع کا آشیانہ کو ن سی شاخ نازک پر ہے؟
گزشتہ روز دفتر خارجہ نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے جواز پیش کیا کہ ہماری دفاعی آنکھ امریکی ہیلی کاپٹروں کو کیوں نہ دیکھ سکی۔ ساتھ ہی اپنی عزت و حمیت کی علامت کے طور پر بتایا کہ یہ ہیلی کاپٹرز،تربیلہ کے قریب غازی ائر بیس سے نہیں اڑے، مان لیا کہ نہیں اڑے ہوں گے لیکن یہ بھی تو بتاؤ کہ غازی بیس پر یہ امریکی گن شپ کیا تربیلہ ڈیم میں پانی کی لہریں شمار کرنے کے لئے کھڑے ہیں ؟ یہ یقیناً اڑ کر یہاں آئے ہیں۔ ہر روز اڑانیں بھرتے ہیں۔ اور اگر یہ ہیلی کاپٹرز ایک سو بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جلال آباد سے ایبٹ آباد پہنچے تو سوال کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔وہ طویل فاصلہ طے کر کے آئے، چالیس منٹ زمینی آپریشن کیا، ایسا اہتمام کیا گیا کہ واشنگٹن میں صدر اوبامہ اور اسکی ٹیم اس آپریشن کو ”لائیو“ دیکھے، چالیس منٹ تک یہ آپریشن جاری رہا، ایک ہیلی کاپٹر زمین بوس ہوا۔ پھر اسے دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ گولیاں چلتی رہیں، آگ بھڑکتی رہی اور جیٹ صرف چار سے پانچ منٹ تک جائے وقوعہ تک آ سکتا تھا ۔ امریکی ہیلی کاپٹروں نے جلال آباد سے ایبٹ آباد تک کا فاصلہ کم از کم آدھے گھنٹے میں طے کیا۔ وہ کامرہ کے بالکل پہلو سے گزرے۔ جاتے ہوئے بھی انہوں نے اتنا ہی وقت لیا۔ گویا مجموعی طور پر ہیلی کاپٹر تقریباً پونے دو گھنٹے ہماری فضا اور زمین پر رہے۔ چالیس امریکیوں نے اطمینان سے اپنا آپریشن مکمل کیا ۔ یہ فاٹا یا کسی دور دراز پہاڑی علاقے کا نہیں، ایبٹ آباد کا ذکر ہو رہا ہے۔
اس سارے کھیل کے دوران ہماری فضائیہ ،ہماری فوج اور ہمارے دفاعی نظام کے سارے کل پرزے کہاں تھے؟ امریکہ میں اس فتح عظیم کے بعد بھی آپریشن کرنے والوں سے باز پرس اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا آئی۔ ایس ۔پی آر کہاں ہے؟ قوم کو بتایا کیوں نہیں جا رہا کہ ساتویں ایٹمی طاقت ایک غیر ملکی آپریشن کو روکنے میں کیوں ناکام رہی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ بتا تو سہی !...نقش خیال…عرفان صدیقی...