|
کیانی کے بھارت مخالف نظریات، حقائق کے عکاس ہیں

09-01-11, 01:06 AM
امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی پر طبع آزمائی کی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ جنرل کیانی ایک مضبوط اعصاب والی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ اپنا ایک الگ اور واضح نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ حالیہ (نام نہاد) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ پوری طرح امریکی حمایت نہیں کرتے۔ اخبار نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے طول طویل لیکچر سنتے ہیں، ان کے ساتھ چائے پیتے اور گالف بھی کھیل لیتے ہیں، ہیلی کاپٹروں میں ان کے ساتھ سفر بھی کرتے ہیں لیکن وہ امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتے بلکہ بعض معاملات میں امریکہ پر اعتبار کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ اخبار نے کہا کہ جنرل کیانی کا خیال ہے کہ افغانستان کے بعد امریکہ کی نظر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہے علاوہ ازیں جنرل کیانی سب سے زیادہ بھارت مخالف جنرل ہیں۔
اخبار نے اپنے لئے جن باتوں کو باعث تشویش قرار دیا ہے دراصل یہ اہل پاکستان کے لئے باعث تسکین جاں ہیں۔ ایک سپاہی سے قوم بجاطور پر یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والا ہو، وہ اغیار کی ڈکٹیشن لینے والا نہیں بلکہ ملکی مفاد میں سوچ و عمل رکھنے والا ہو۔ امریکی اخبار کو جنرل کے ان نظریات پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی امریکی جنرل امریکی مفاد کے خلاف چلنے والا ہو تو اس کے متعلق امریکی حکام و عوام کا کیا خیال ہو گا۔ کیا اسے غدار ملک و ملت قرار دے کر مقدمات غداری کی نذر نہیں کر دیا جائے گا؟ سو آزادی کے اس نام نہاد علمبردار کو برداشت کر لینا چاہئے کہ تمام ممالک کے چیف آف آرمی سٹاف اپنے اپنے ملک و قوم کے مفاد میں دشمنوں سے عناد رکھ سکیں۔
جہاں تک بھارت مخالف ہونے کی بات ہے تو یہ نظریات دراصل پاکستانی قوم کے خیالات کے عکاس اور آج تک کے زمینی حقائق کے آئینہ دار ہیں اور اس پر بھارت کی سابقہ ساری تاریخ شاہد ہے۔ اس ضمن میں چھ عشروں پر محیط بھارتی تاریخ جارحیت، دہشت اور لاقانونیت سے بھری تاریک تاریخ ہے۔
بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو بطور ایک آزاد اور الگ ملک تسلیم نہیں کیا اس نے روز اول ہی پاکستان کے ساتھ تنازعات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ کشمیر کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں پر ناجائز قبضہ جما کر دہشت لاقانونیت کا اک طوفان کھڑا کر دیا جس نے آج تک جنوبی ایشیا کو دہشت اور عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔
یہ بھارت ہی ہے جس نے اقوام متحدہ جا کر کئے گئے اپنے ہی وعدے سے انحراف کر کے عہد شکنی اور ہنگامہ آرائی کی بنیاد رکھی۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے 1965ء میں پرا من ،معصوم انسانوں کو جنگ اور بارود کا تحفہ دیا۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے تعاون سے 1971ء میں پاکستان کو دولخت کیا اس کے 90 ہزار فوجی قیدی بنائے اور ایک ملک کے باسیوں کو کیک کے دو حصوں کی طرح کاٹنے میں اپنا گھنائونا کردار ادا کیا۔
1971ء میں بے اصولی اور بے ضمیری دکھانے والے اسی بھارت نے 1974ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کر کے ایک بار پھر خطے کے امن کو دھوئیں کے بادلوں کی نذر کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ایسے مواقع پر پاکستان نے ایک متوازن، معتدل اور معتبر رویہ اپنا کر ہندو بنیے پر واضح کیا کہ پاکستان کی شکست بنیے کا لاہور پر قبضے کی طرح کبھی نہ شرمندہ تعبیر ہونے والا محض اک خواب ہے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف بھارت کی طرف سے بار بار اعلان سامنے آتے ہیں کہ اسے پاکستان سے خطرہ ہے۔ وہ بمبئی طرز کے حملوں سے مسلسل ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک طرف پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں تو دوسری طرف کشمیر میں ظلم و ستم کا اک طوفان بپا کر رکھا ہے۔ وہاں نہتے احتجاج کرنے اور اپنا حق آزادی لینے کے لئے قطعاً پرامن مظاہرے کرنے والوں پر گولی اور بارود کسی بارش کی طرح برسایا جا رہا ہے۔ وہاں کھیت و کھلیان اجاڑے جا رہے ہیں۔ معصوم بچے دودھ کیلئے بلکتے ہیں تو اپنے ہی خون سے نہلا دیئے جاتے ہیں۔ ہر طرح کی شہری زندگی مفلوج و معطل کر دی گئی تو شاید دنیا اور بھارت کو یہ سب نظر نہیں آتا، دنیا بھر کے عوام بالعموم اور پاکستانی ارباب عقل و دانش بالخصوص جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سب دہشت و تشدد بھارت اور بھارت نوازوں کو کیوں نظر نہیں آتا؟
شاید بھارت ایک اکڑی گردن سے صرف پاکستان کو دیکھ رہا ہے۔ اسے چاہئے اک ذرا گردن جھکا کر اپنے گریبان میں بھی جھانکے، اسے ضرور معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان کی طرف سے اٹھایا گیا ہر اقدام محض ردعمل ہے جس کے عمل کی تمام لہریں خود بھارت سے اٹھتی ہیں، اور یہ ردعمل تب تک ضرور جاری رہے گا جب تک عمل ختم نہیں کر دیا جاتا۔
یہی وہ تمام حقائق و حالات ہیں جن کے تناظر میں چیف آف آرمی سٹاف بجا طور پر بھارت کے حوالے سے چوکنا ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات و حقائق سے عوامی حکمران بھی آگاہ ہوں اور اپنا مضبوط موقف سامنے لا کر بھارت اور بھارت نوازوں کو اس ظلم سے باز رکھ کر اس خطے کو امن کا تحفہ دیں۔
بشکریہ ہفت روزہ جرار
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|