| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 834
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), احمد نذیر (11-08-11), حیدر (12-08-11), حیدر Rehan (12-08-11) |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | Muhammad Atteeq ur Rehman (12-08-11), rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), فیصل ناصر (11-08-11), نبیل خان (12-08-11), مرزا عامر (11-08-11), احمد نذیر (11-08-11), حیدر (12-08-11) |
| کمائي نے شمشاد احمد کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 11-08-11 | فیصل ناصر | nice coment | 150 |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,216
کمائي: 17,920
شکریہ: 2,330
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عورت مردکی امام نہیں بن سکتی لیکن عورتوں کی امامت توکراسکتی ہے۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), کنعان (12-08-11), حیدر (12-08-11), سحر (11-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ ہیں کہاں سام بہن ؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,216
کمائي: 17,920
شکریہ: 2,330
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تراویح میں مصروف ہوں میرامطلب ہےکہ جوپارہ رات تراویح میں پڑھناہوتا ہے دن بھراسکی دہرائی پھر سحری اور افطاری کی مصروفیات۔so very busy
Last edited by سام; 11-08-11 at 11:18 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), فیصل ناصر (11-08-11), کنعان (12-08-11), پاکستانی (12-08-11), ننھا بچہ (12-08-11), حیدر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#7 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پہلی بات عورتوں کی مسجد سے کیا مراد ہے ۔ میں نے بار ہا کئی ممالک میں عورتوں کی نماز کی الگ جگہ دیکھی ہے ۔ جو مردوں کی مسجد سے منسلک ہوتیں ہیں ۔ کہیں تو خواتین مردوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتی ہیں جہاں امام کی آواز آرہی ہوتی ہے اور کہیں خواتین انفرادی نماز پڑھتی ہیں ۔ میں نے کہیں پر بھی خواتین کی نماز پڑھنے کی جگہ کے باہر مردوں کی لائن نہیں دیکھی ۔ یاد رہے مسجد نماز پڑھنے کی جگہ کو ہی کہتے ہیں ۔ کیا آپ خواتین کے لیے مخصوص نماز کی جگہوں کے ہی خلاف ہیں یا ۔۔۔۔ یہاں تین موضوعات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ 1 خواتین کی الگ مسجد 2 خواتین کی امامت صرف خواتین کے لیے 3 خواتین کی امامت مردوں کے لیے بھی تیسرے پوائنٹ کے علاوہ باقی دو میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں اتی ۔ بلکہ خواتین کی الگ مسجد ہوگی تو خواتین ذیادہ بہتر طریقے سے پردے کے ساتھ عبادت کرسکتی ہیں ۔ جب اسلام میں عورتوں کو مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے مسجد میں، تو ایک علیحدہ خواتین کی مسجد میں کیا قباحت ہے ۔ بلکہ خواتین کی مسجد کے امام مرد بھی ہوسکتے ہیں جو پردے کے پیچھے سے خواتین کو نماز پڑھائیں ۔ اور جہاں تک گلزکالج کی طرح مردوں کی لائن لگی ہونی کی بات ہے معذرت کے ساتھ شمشاد بھائی ۔ مسجد اور کالج میں فرق ہوتا ہے اور مردوں کو خواتین صرف مسجد میں ہی نظر نہیں آتی کہ وہ اس کے باہر لائن لگالر کھڑے ہوجائیں گے ۔ ان لوگوں کی نیتوں کا تو علم نہیں لیکن خالص نیت کے ساتھ پاکستان میں مساجد میں خواتین کا حصہ ہونا چاہیے ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), بزم خیال (12-08-11), حیدر (12-08-11), روشنی (14-08-11), رضی (04-09-11), سام (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہماری مسجد بھی اسی طرح کی ہی ہے۔ خواتین جب چاہتی ہیں ، مردوں کے لیے شجر ممنوعہ بن جاتی ہے مسجد۔
میرا نہیں خیال کہ خواتین کے لیے مسجد میں مخصوص جگہ یا پھر الگ مساجد کوئی ایشو ہونا چاہیے۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), بزم خیال (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اصل میں مسجد ہر وقت کھلی رہتی ہے۔ اور افراد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ لیکن اینٹرینس ایک ہی ہے۔ چناچہ جس وقت خواتین موجود ہوتی ہیں تب مرد حضرات مسجد جانے سے کنارہ کرتے ہیں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), skjatala (12-08-11), بزم خیال (12-08-11), سحر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ کی بندیوں کو اللہ کے گھر آنے سے مت روکو “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”
زمین پر سب سے بری جگہہ بازار ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم بازار جانے سے تو ان کو نہیں روکتے مگر مسجد میں فتنہ کا ڈر ہے۔ قیامت کے دن سب مرد زن برہنہ ہوں گے۔ مگر وہ دن ایسا ہولناک پریشان کن ہوگا کہ سوائے اپنی ذات کے کامیاب ہوجانے کی فکر کےکچھ اور نہیں ہوگا۔ ہر ذی روح پر اللہ تعالی کا خوف اور دبدبہ مسلط ہوگا۔ یاد رکھو یہ مسجدیں اسی مالک روز جزا کا گھر ہیں۔ اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ کون کیا نیت لے کر اللہ تعالی کے گھر پر جاتا ہے اس سے مالک خوب واقف ہے۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), فیصل ناصر (12-08-11), حیدر (12-08-11), روشنی (14-08-11), سام (12-08-11), سحر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
| کمائي نے skjatala کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 12-08-11 | حیدر | بزار جانے سے منع نہیں۔ مسجد سے منع ہے | 10 |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسی سے یاد آیا کہ پہلے پڑھا کرتے تھے کہ خؤاتین کا قبرستان جانا "سختی سے " منع ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں چند معتبر (نام یاد نہیں) تحریریں نظروں سے گزریں کہ جانا تو منع نہیں ہے۔ لیکن وہاں جا کر بین کرنے وغیرہ منع ہے۔ واللہ اعلم
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), skjatala (12-08-11), فیصل ناصر (12-08-11), بزم خیال (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,380
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اہل سنت : سوال نمبر 489: کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ جواب: بعض احادیث کی رُو سے عورتوں کا باجماعت نماز کے لیے مسجد میں جانا ثابت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں خواتین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مردوں کے پیچھے کھڑی ہو کر باجماعت نماز میں شریک ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : کُنَّ نِسَأءُ الْمُؤمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم صَلَاةَ الْفَجْرِ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إلٰی بُيُوتِهِنَّ حِيْنَ يَقْضِيْنَ الصَّلَاةَ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ. بخاری، الصحيح، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الفجر، 1 : 210، 211، رقم : 553 ’’مسلمان عورتیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر میں شامل ہونے کی خاطر چادروں میں لپٹی ہوئی حاضر ہوا کرتی تھیں۔ جب نماز سے فارغ ہو جاتیں تو اپنے گھروں کو واپس آ جاتیں اور اندھیرے کے باعث کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔‘‘ مگر اس کے ساتھ ہی ایسی احادیث بھی تواتر کے ساتھ موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کا اپنے گھر کے کسی کونے میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے اگرچہ بعض احادیث میں خواتین کو خاص مواقع پر نمازِ باجماعت میں شامل ہونے کی اجازت دی مگر ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ عورت کی بہترین نماز وہی ہے جو مسجد کی بجائے گھر میں ادا کی جائے۔ اس حوالے سے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَ کُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ. ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء فی خروج النساء إلی المسجد، 1 : 224، رقم : 567 ’’اپنی عورتوں کو مسجد میں آنے سے مت روکو لیکن ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔‘‘ گویا مردوں اور عورتوں کے لیے جس طرح دیگر بہت \سے معاملات میں الگ الگ احکام ہیں اسی طرح باجماعت نماز کے متعلق بھی دونوں کے لیے علیحدہ حکم ہے۔ مرد اگر جماعت چھوڑ کر انفرادی طور پر اپنے گھر ہی نماز پڑھنے کو اپنا معمول بنائے تو یہ اس کے لیے جائز نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے والوں پر اس قدر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ان کے گھروں کو جلا دینے کی بات کی مگر فرمایا کہ ایسا کرنے میں عورتوں اور بچوں کی موجودگی مانع ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ ایسے شخص کی انفرادی نماز صرف ایک درجہ ثواب کے برابر ہے جبکہ باجماعت نماز ادا کرنے والے کا ثواب ستائیس (27) گنا زیادہ ہے۔ امتدادِ زمانہ کی وجہ سے جب حالات بدل گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے مشورہ سے عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بند کر دیا۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ دیوبند متب فکر : عورتوں کی جمعہ اور عیدین میں شرکت س… بعض حضرات اس پر زور دیتے ہیں کہ عورتوں کو جمعہ، جماعت اور عیدین میں ضرور شریک ہونا چاہئے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ، جماعت اور عیدین میں عورتوں کی شرکت ہوتی تھی، بعد میں کون سی شریعت نازل ہوئی کہ عورتوں کو مساجد سے روک دیا گیا؟ ج… جمعہ، جماعت اور عیدین کی نماز عورتوں کے ذمہ نہیں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا، ادھر عورتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اَحکام سیکھنے کی ضرورت تھی، اس لئے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی، اور اس میں بھی یہ قیود تھیں کہ باپردہ جائیں، میلی کچیلی جائیں، زینت نہ لگائیں، اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لا تمنعوا نسائکم المساجد، وبیوتھن خیر لھن۔“ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶) ترجمہ:…”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور ان کے گھر ان کے لئے زیادہ بہتر ہیں۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا۔“ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶) ترجمہ:…”عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا، اپنے گھر کی چاردیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا اگلے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“ مسندِ احمد میں حضرت اُمِّ حمید ساعدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قد علمت انک تحبین الصلٰوة معی وصلٰوتک فی بیتک خیر لک من صلٰوتک فی حجرتک، وصلٰوتک فی حجرتک خیر من صلٰوتک فی دارک، وصلٰوتک فی دارک خیر لک من مسجد قومک، وصلٰوتک فی مسجد قومک خیر لک من صلٰوتک فی مسجدی۔ قال: فأمرت فبنی لھا مسجد فی اقصی شیٴ من بیتھا واظلمہ، فکانت تصلی فیہ حتی لقیت الله عز وجل۔“ (مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۱، وقال الھیثمی ورجالہ رجال الصحیح غیر عبدالله بن سوید الأنصاری، وثقہ ابن حبان، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۳۴) ترجمہ:…”مجھے معلوم ہے کہ تم کو میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے، مگر تمہارا اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور احاطے میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں (میرے ساتھ) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت اُمِّ حمید رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کے لئے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔“ ان احادیث میں عورتوں کے مساجد میں آنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشائے مبارک بھی معلوم ہوجاتا ہے اور حضراتِ صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذوق بھی۔ یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ سعادت کی بات تھی، لیکن بعد میں جب عورتوں نے ان قیود میں کوتاہی شروع کردی جن کے ساتھ ان کو مساجد میں جانے کی اجازت دی گئی تو فقہائے اُمت نے ان کے جانے کو مکروہ قرار دیا۔ اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے: ”لو ادرک رسول الله صلی الله علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔“ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۲۰، صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۸۳، موٴطا امام مالک ص:۱۸۴) ترجمہ:…”عورتوں نے جو نئی رَوش اختراع کرلی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد سے روک دیتے، جس طرح بنواسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔“ حضرت اُمّ الموٴمنین رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد ان کے زمانے کی عورتوں کے بارے میں ہے، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے زمانے کی عورتوں کا کیا حال ہوگا․․․؟ خلاصہ یہ کہ شریعت نہیں بدلی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو شریعت کے بدلنے کا اختیار نہیں، لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی، جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی، اس بنا پر فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے، مگر کسی عارضے کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کردے، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کردیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے، اسی لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔ وہابی یا سلفی مکتبہ فکر : سوال: کیا عورت کے لئے نماز تراویح گھرمیں پڑھنا افضل ہے یا جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے ؟ جواب: عورت کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز فرض، نماز تراویح، نماز کسوف (سورج گرہن کی نماز) اور نماز جنازہ پڑھنا بھی اس کے لئے جائز ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ مکمل طور پرباپردہ ہو اس نے جسم اور کپڑوں کو زینت اور خوشبو سے بچا رکھا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ : ’’لاتمنعوا اماء اللّٰہ مساجد اللّٰہ ، وبیوتہن خیرلہن، ولیخرجن تفلات‘‘۔ ’’اللہ کی باندیوں کو اس کی مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لئے بہتر ہیں ، انہیں زینت اور خوشبو کے بغیر باہر جاناہوگا‘‘۔ مسند احمد (2/43 حدیث : (9645) قال شعیب صحیح وہذا اسنادہ حسن صححہ ابن خزیمۃ حدیث 1679) وابن حبان حدیث : (2214) قال الالبانی صحیح ابوداود حدیث : (565) ۔ حدیث میں عورت کے لئے مشروط طورپر مسجد میں جانے کا جواز بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ وہ حیا ء وحجاب کی پتلی ہو، زیب وزینت اور خوشبو نہ لگائے ہوئے ہو، اور مردوں کے پیچھے صف بنائے۔ مذکورہ بالا شرط کو بجالاتے ہوئے بھی اس کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ اس میں اس کا تحفظ بھی ہے اور خود پریشان ہونے اور لوگوں کو پریشان کرنے سے بچائو بھی ۔ اگر وہ ان شرائط کی پابندی نہیںکرتی تو اس کے لئے باہر جانا حرام اور باعث گناہ ہے خواہ وہ نماز ہی کے ارادے سے جائے ۔ --- شیخ صالح بن فوزان--- نوٹ : قارئین کرام مبارک ہو تینوں مکتبہ فکر نے کم از کم ایک مسئلہ میں تو ایک ہی حدیث یعنی حدیث ابو داؤد سے استدلال کرتے ہوئے عورتوں کی نماز کو گھروں میں ادا کرنے کو افضل قرار دیا ماشاء اللہ جزاک اللہ۔۔۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (15-08-11), کنعان (14-08-11), مہتاب (04-09-11), احمد نذیر (12-08-11), حسن قادری (15-08-11), رضی (04-09-11), عبداللہ حیدر (04-09-11) |
|
|
#15 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
بہن ميرا اختلاف يہ نہيں ہے كہ عورت كو مسجد آنا چاہےيا نہيںبلكہ ميرا اختلاف يہ ہے كہ جس قسم كے لوگ ان مساجد كے رواج كو عام كرنے كي كوشش ميں ہيںان كي اس كوشش ميں خلوص كتنا ہے ميري نظر ميں يہ زيادہ اہم ہے اس بات سےكہ ہم اس ميںالجھيں كہ عورت مسجد ميں آ سكتي ہے يا نہيں۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
باقي ميں آپ كي اس بات سے بھي اتفاق كرتا ہوں كہ مسجد اور كالج ميں فرق ہے۔۔۔۔۔ آپ اس سےانكار نہيںكر پائيںگي كہ مسجد ہو يا كالج ہو مرد اور عورت كا رحجان ايك ہي رہتا ہے۔۔۔ ہاں يہ كہا جا سكتا ہے كہ عموما مقدس مقامات پر ايسےجذبات كم ہوتے ہيںليكن جن پر شيطان حاوي ہو جاتا ہے ان كے لئے تقدس اور مقامات كي كوئي حيثيت نہيں رہتي بلكہ وہ تو رشتوں تك كا پاس نہيںكرتے۔۔۔اسي وجہ سے بہت سے علماء كرام خواتين كے مروجہ مدارس كو باوجود سخت پابنديوں كے بھي پسنديدہ نظروں سےنہيں ديكھتے۔۔۔۔ اس ساري بحث ميں اگر آپ صرف اس ايك نقطےپر غور فرمائيں كہ اسلام نے عورت كي عبادت خصوصا پنج وقتہ نمازوں كے لئے كون سي جگہ كو افضل اور پسنديدہ قرار ديا ہے۔۔۔ تو ميرا خيال نہيںكہ اس بحث كو پھر طور دينے كي ضرورت باقي رہ جاتي ہے۔ موضوع بہت طويل اور نازك ہے۔۔۔۔اور وقت بھي نہيںاور آج كچھ لكھنے كي طبيعت بھي نہيں ہو رہي۔۔۔ اميد ہے ميں اپنا موقف سمجھا سكا ہوں۔۔۔ اگر كوئي كمي رہ گئي ہو تو آپ بتائيں ۔۔۔ اور اگر كہيں خطاء ہے تو بتائيںتا كہ اس كي اصلاح كي جائے۔۔۔ شكريہ۔۔ |
|||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستان, ویب, ورجینیا, نماز, نشیں, مسائل, مسجد, اللہ, الزام, احتجاج, اردو, اسلام, اسلامی, تلاش, تعلیم, حل, حضرات, خواتین, خدا, علی, عبادت, عدالت, عزیز, صدارتی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| وزیرصحت کی مشیر کے گھر سے تین خواتین با زیاب | جاویداسد | خبریں | 2 | 23-12-10 11:39 AM |
| باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک | جاویداسد | خبریں | 0 | 15-12-10 06:41 PM |
| عالمی منڈی میںخم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میںروپے کی قدر میںاضافہ | زین۔zf | خبریں | 0 | 10-10-08 12:37 PM |
| ناریل کے تیل سے اڑائی جانے والی پرواز کا میابی سے منزل پر پہنچ گئی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-04-08 01:33 PM |
| تارکین وطن خواتین مقامی خواتین کی بری عادات اپنالیتی ہیں | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 13-04-08 09:27 AM |