واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کیا خواتین کو امامت کا حق ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-08-11, 05:13 PM   #1
کیا خواتین کو امامت کا حق ہے؟
skjatala skjatala آف لائن ہے 11-08-11, 05:13 PM

اسد مفتی ، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
Name:  p-8.jpg
Views: 155
Size:  32.7 KB
امریکہ کے بعد اب ہالینڈ میں بھی خواتین کے لیے ایک مخصوص مسجد کا افتتاح کرکے اسلام میں خواتین کی امامت کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دارالخلافہ ایمسٹرڈیم میں ایک ایسی مسجد کا افتتاح کیا گیا ہے جس میں صرف خواتین ہی عبادت کرسکتی ہیں۔ اس مسجد کا افتتاح ایک مصری خاتون ادیبہ نول السعادوی کے ہاتھوں ہوا، جس کے خلاف مصر کی ایک عدالت میں اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہوجانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔وہاں کی تنظیموں نے اس خاتون کے خلاف احتجاج کیا،بڑھتے ہنگاموں سے خوف زدہ ہوکر وہ ہالینڈ چلی آئیں۔اس خاتون نے مسجد کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر اپنے وعظ میں عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مردوں کی بالادستی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں اور ان کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔ انہوں نے مساوی حقوق کے مطالبہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فریضہ حج کے تعلق سے اسلامی قانون میں تبدیلی کرنے کے مطالبہ کی پاداش میں روایتی علماء حضرات نے مصر کی ایک عدالت میں ان کے خلاف اسلام سے برگشتہ ہونے کا مقدمہ چلایا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد عورتوں پر اپنی بالادستی بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس نئی مسجد’’ جس میںعبادت و امامت صرف خاتون کرے گی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں زیادہ تر مرد حضرات نے شرکت کی۔
یوروپی یونین میں اسلامی تنظیم کے صدر اور سکریٹری نے کہا کہ اس طرح کی مسجدوں، خواتین کے لیے مخصوص کی گئی مسجد جس میں امامت کی خدمات خاتون ہی انجام دیں گی، کی مغربی معاشرے میں حوصلہ افزائی کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو الجھا کران کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا دی جائے۔ ہالینڈ کی 18 ملین آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے،جس میں اکثریت کا تعلق ترکی اور مراکش سے ہے۔ہالینڈ میں کل 450 مساجد ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب اسلامی ادارے ہیں۔
اس سے قبل امریکہ کی ریاست ورجینیا میں افریقہ سے تعلق رکھنے والی اسلامیات کی ایک پروفیسر امینہ ودود نے نیو یارک اپرمین ہیٹن کی ایک عمارت ایمسٹرڈیم ایونیو میں ایک چرچ کے بڑے ہال میں نماز جمعہ کی امامت کر کے خوب شہرت حاصل کی تھی،انہوں نے اس سے پہلے بھی ’’اسلام اور عورت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر مسلمان مفکروں ، دانشوروں اور علماء کو چیلنج کیا تھا، انہوں نے نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جب اذان کی آواز سنو تو دنیاوی کام چھوڑ کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے روانہ ہوجائو۔ جب اس فرمان میں قرآن نے صرف مرد حضرات کو ہی مخاطب نہیں کیا ہے تو عورت کو مسجد سے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے؟ ملک عزیز میں پچاس فیصد سے زائد آبادی رکھنے والی بے زبان مخلوق یعنی خواتین کو مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے،ایسی صورت میں مذہب اسلام کو ’’مساوی حقوق دینے والا مذہب‘‘ کیسے سمجھا جائے گا۔انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ’’ زندہ لوگوں کو چھوڑیے،عورتوں کو قبرستان کے پاس جانے سے بھی روکا جاتا ہے اور ہم پھر بھی برابر کا دعویٰ کریں، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
مسلم ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم علی جمعہ نے کہا ہے کہ اگر نمازی چاہیں تو عورت کے امام بننے کی اجازت ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عرب ٹی وی’ العربیہ‘ نے شیخ علی جمعہ سے ایک انٹرویو بھی کیا ہے جس میں شیخ نے کہا ہے کہ فقہ میں عورت کی امامت پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس میں عورت کے امام بننے کی گنجائش ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ امام طبرانی اور امام العربی کے نزدیک عورت کی امامت جائز ہے۔ دوسری طرف آج کے اسلام میں عورت کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی خاتون اپنے مرد ولی کے دستخط کے بغیر اسپتال میں بغرضِ علاج داخل تک نہیں ہوسکتی۔اس سلسلے میں پاکستان کے اردو اخبار جنگ نے ’’ اجتہاد ناگزیر ہے‘‘ کے عنوان سے اپنا اداریہ سپرد قلم کیا ہے، جس میں اخبار جنگ لکھتا ہے، ایک مکتب فکر کے نزدیک صدارتی نظام ، موسیقی اور نظام تعلیم ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں اجتہاد ہونا چاہیے۔ اسلام میں موسیقی کی ممانعت کے بارے میں دو رائے نہیں ہے۔ اگر موسیقی کے بارے میں اجتہاد کرکے اسے اسلامی طریقہ کہا جاسکتا ہے تو پھر خواتین کی امامت کے بارے میں مردحضرات یوں الرجک کیوں ہیں۔ ایک دلچسپ بات جس کاذکر یہاں پر کرنا مناسب گا ،وہ یہ کہ کیا یہ حسنِ اتفاق ہے کہ جن خواتین نے مساجد میں امامت کا بیڑہ اٹھایا ہے ان کا تعلق افریقہ سے ہے۔ میرے حساب سے اگر عورتوں میں ان کا پیغام عام ہوگیا تو ہندوستان اور پاکستان کے علماء کرام اور مفکرین اسلام کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اور مردوں کے مساوی حقوق کی خواہش میں کہیں وہاں بھی عورتیں اپنے لیے علاحدہ، مخصوص مسجد کا مطالبہ نہ شروع کردیں۔ہاں ویسے ایک بات یہاں پر غور کرنے کی ہے کہ اگر خواتین گھروں اور ٹی وی پر بآواز بلند قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہیں تو مسجد میں خدا کا نام لینے اور ان کی امامت پر علماء کرام کیوں اعتراض کررہے ہیں۔ ہمیں لازم ہے کہ دورِ حاضر کے مطابق اسلامی مسائل کا حل تلاش کریں،کیوں کہ اگر ہم نے دور حاضر کو قبول نہیں کیا تو یہ ہمارے لیے پس ماندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ہاں یہاں پر ایک تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عورت کی امامت کے مسئلے پر سوائے بر صغیر کے دنیائے اسلام سے کوئی بلند آواز سامنے نہیں آئی اور بر صغیر کے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ قدامت پسندی کے جال کو توڑ کر باہر آنا نہیں چاہتے۔جبکہ یہ بات ذہن نشیں کرنا ہوگی کہ اصلاح ،خوف کے سائے میں نہیں ہوتی، اس کے لیے جرأت و حوصلے کی ضرورت ہے۔

صاحب تھریڈ کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

Last edited by skjatala; 11-08-11 at 05:20 PM..

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 834
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), احمد نذیر (11-08-11), حیدر (12-08-11), حیدر Rehan (12-08-11)
پرانا 11-08-11, 06:58 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عجیب بات یہ ہے کہ اس نئی مسجد’’ جس میںعبادت و امامت صرف خاتون کرے گی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں زیادہ تر مرد حضرات نے شرکت کی۔
اس ميں تعجب كي كيا بات ہے ايك بار ان مساجد كے رواج كو عام ہونے ديں‌پھر ديكھيں جس طرح گرلز كالج كے باہر مرد حضرات كي لائنيں لگي ہوتي ہيں يہاں بھي ہوں‌گي۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
Muhammad Atteeq ur Rehman (12-08-11), rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), فیصل ناصر (11-08-11), نبیل خان (12-08-11), مرزا عامر (11-08-11), احمد نذیر (11-08-11), حیدر (12-08-11)
کمائي نے شمشاد احمد کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
11-08-11 فیصل ناصر nice coment 150
پرانا 11-08-11, 07:34 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک نظر یہاں بھی
اسی سے متعلق تھریڈ ہے اس لئے لنک کردیا ہے
عورت کی امامت
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), حیدر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 11-08-11, 10:53 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,216
کمائي: 17,920
شکریہ: 2,330
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عورت مردکی امام نہیں بن سکتی لیکن عورتوں کی امامت توکراسکتی ہے۔
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), کنعان (12-08-11), حیدر (12-08-11), سحر (11-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 11-08-11, 11:09 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ ہیں کہاں سام بہن ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-08-11), حیدر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 11-08-11, 11:16 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,216
کمائي: 17,920
شکریہ: 2,330
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تراویح میں مصروف ہوں میرامطلب ہےکہ جوپارہ رات تراویح میں پڑھناہوتا ہے دن بھراسکی دہرائی پھر سحری اور افطاری کی مصروفیات۔so very busy

Last edited by سام; 11-08-11 at 11:18 PM.
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), فیصل ناصر (11-08-11), کنعان (12-08-11), پاکستانی (12-08-11), ننھا بچہ (12-08-11), حیدر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 10:53 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اس ميں تعجب كي كيا بات ہے ايك بار ان مساجد كے رواج كو عام ہونے ديں‌پھر ديكھيں جس طرح گرلز كالج كے باہر مرد حضرات كي لائنيں لگي ہوتي ہيں يہاں بھي ہوں‌گي۔۔۔
معذرت کے ساتھ شمشاد بھائی آپ کی بات کچھ سمھجھ نہیں ائی ۔
پہلی بات عورتوں کی مسجد سے کیا مراد ہے ۔
میں نے بار ہا کئی ممالک میں عورتوں کی نماز کی الگ جگہ دیکھی ہے ۔
جو مردوں کی مسجد سے منسلک ہوتیں ہیں ۔ کہیں تو خواتین مردوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتی ہیں جہاں امام کی آواز آرہی ہوتی ہے اور کہیں خواتین انفرادی نماز پڑھتی ہیں ۔ میں نے کہیں پر بھی خواتین کی نماز پڑھنے کی جگہ کے باہر مردوں کی لائن نہیں دیکھی ۔ یاد رہے مسجد نماز پڑھنے کی جگہ کو ہی کہتے ہیں ۔
کیا آپ خواتین کے لیے مخصوص نماز کی جگہوں کے ہی خلاف ہیں یا ۔۔۔۔
یہاں تین موضوعات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔
1 خواتین کی الگ مسجد
2 خواتین کی امامت صرف خواتین کے لیے
3 خواتین کی امامت مردوں کے لیے بھی

تیسرے پوائنٹ کے علاوہ باقی دو میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں اتی ۔
بلکہ خواتین کی الگ مسجد ہوگی تو خواتین ذیادہ بہتر طریقے سے پردے کے ساتھ عبادت کرسکتی ہیں ۔ جب اسلام میں عورتوں کو مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے مسجد میں، تو ایک علیحدہ خواتین کی مسجد میں کیا قباحت ہے ۔
بلکہ خواتین کی مسجد کے امام مرد بھی ہوسکتے ہیں جو پردے کے پیچھے سے خواتین کو نماز پڑھائیں ۔
اور جہاں تک گلزکالج کی طرح مردوں کی لائن لگی ہونی کی بات ہے
معذرت کے ساتھ شمشاد بھائی ۔
مسجد اور کالج میں فرق ہوتا ہے اور مردوں کو خواتین صرف مسجد میں ہی نظر نہیں آتی کہ وہ اس کے باہر لائن لگالر کھڑے ہوجائیں گے ۔
ان لوگوں کی نیتوں کا تو علم نہیں لیکن خالص نیت کے ساتھ پاکستان میں مساجد میں خواتین کا حصہ ہونا چاہیے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), بزم خیال (12-08-11), حیدر (12-08-11), روشنی (14-08-11), رضی (04-09-11), سام (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 11:00 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہماری مسجد بھی اسی طرح کی ہی ہے۔ خواتین جب چاہتی ہیں ، مردوں کے لیے شجر ممنوعہ بن جاتی ہے مسجد۔
میرا نہیں خیال کہ خواتین کے لیے مسجد میں مخصوص جگہ یا پھر الگ مساجد کوئی ایشو ہونا چاہیے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (12-08-11), skjatala (12-08-11), مرزا عامر (14-08-11), بزم خیال (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 11:16 AM   #9
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرا سوال تو اب تک قائم ہے!!!

آخر کیوں؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), حیدر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 12:19 PM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
ہماری مسجد بھی اسی طرح کی ہی ہے۔ خواتین جب چاہتی ہیں ، مردوں کے لیے شجر ممنوعہ بن جاتی ہے مسجد۔
یہ بات کچھ سمجھ نہیں آئی
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), حیدر (12-08-11), سام (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 12:33 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اصل میں مسجد ہر وقت کھلی رہتی ہے۔ اور افراد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ لیکن اینٹرینس ایک ہی ہے۔ چناچہ جس وقت خواتین موجود ہوتی ہیں تب مرد حضرات مسجد جانے سے کنارہ کرتے ہیں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), skjatala (12-08-11), بزم خیال (12-08-11), سحر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 02:34 PM   #12
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کی بندیوں کو اللہ کے گھر آنے سے مت روکو “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”
زمین پر سب سے بری جگہہ بازار ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم بازار جانے سے تو ان کو نہیں روکتے مگر مسجد میں فتنہ کا ڈر ہے۔
قیامت کے دن سب مرد زن برہنہ ہوں گے۔ مگر وہ دن ایسا ہولناک پریشان کن ہوگا کہ سوائے اپنی ذات کے کامیاب ہوجانے کی فکر کےکچھ اور نہیں ہوگا۔
ہر ذی روح پر اللہ تعالی کا خوف اور دبدبہ مسلط ہوگا۔
یاد رکھو یہ مسجدیں اسی مالک روز جزا کا گھر ہیں۔
اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

کون کیا نیت لے کر اللہ تعالی کے گھر پر جاتا ہے اس سے مالک خوب واقف ہے۔
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), فیصل ناصر (12-08-11), حیدر (12-08-11), روشنی (14-08-11), سام (12-08-11), سحر (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
کمائي نے skjatala کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
12-08-11 حیدر بزار جانے سے منع نہیں۔ مسجد سے منع ہے 10
پرانا 12-08-11, 02:49 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی سے یاد آیا کہ پہلے پڑھا کرتے تھے کہ خؤاتین کا قبرستان جانا "سختی سے " منع ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں چند معتبر (نام یاد نہیں) تحریریں نظروں سے گزریں کہ جانا تو منع نہیں ہے۔ لیکن وہاں جا کر بین کرنے وغیرہ منع ہے۔ واللہ اعلم
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), skjatala (12-08-11), فیصل ناصر (12-08-11), بزم خیال (12-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 12-08-11, 08:13 PM   #14
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,380
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میرا سوال تو اب تک قائم ہے!!!
اسلام علیکم شافریشہ بھائی درج زیل میں تین مختلف مکاتب فکر کے فتاوٰی جات ذکر کیئے جاتے ہیں جو کہ خواتین کے مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کی بابت ہیں ۔۔۔

اہل سنت :

سوال نمبر 489:
کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟
جواب:


بعض احادیث کی رُو سے عورتوں کا باجماعت نماز کے لیے مسجد میں جانا ثابت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں خواتین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مردوں کے پیچھے کھڑی ہو کر باجماعت نماز میں شریک ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا :

کُنَّ نِسَأءُ الْمُؤمِنَاتِ، يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم صَلَاةَ الْفَجْرِ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إلٰی بُيُوتِهِنَّ حِيْنَ يَقْضِيْنَ الصَّلَاةَ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ.

بخاری، الصحيح، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت الفجر، 1 : 210، 211، رقم : 553

’’مسلمان عورتیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر میں شامل ہونے کی خاطر چادروں میں لپٹی ہوئی حاضر ہوا کرتی تھیں۔ جب نماز سے فارغ ہو جاتیں تو اپنے گھروں کو واپس آ جاتیں اور اندھیرے کے باعث کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔‘‘

مگر اس کے ساتھ ہی ایسی احادیث بھی تواتر کے ساتھ موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کا اپنے گھر کے کسی کونے میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے اگرچہ بعض احادیث میں خواتین کو خاص مواقع پر نمازِ باجماعت میں شامل ہونے کی اجازت دی مگر ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ عورت کی بہترین نماز وہی ہے جو مسجد کی بجائے گھر میں ادا کی جائے۔ اس حوالے سے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَ کُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ.
ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء فی خروج النساء إلی المسجد، 1 : 224، رقم : 567

’’اپنی عورتوں کو مسجد میں آنے سے مت روکو لیکن ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔‘‘

گویا مردوں اور عورتوں کے لیے جس طرح دیگر بہت \سے معاملات میں الگ الگ احکام ہیں اسی طرح باجماعت نماز کے متعلق بھی دونوں کے لیے علیحدہ حکم ہے۔ مرد اگر جماعت چھوڑ کر انفرادی طور پر اپنے گھر ہی نماز پڑھنے کو اپنا معمول بنائے تو یہ اس کے لیے جائز نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے والوں پر اس قدر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ان کے گھروں کو جلا دینے کی بات کی مگر فرمایا کہ ایسا کرنے میں عورتوں اور بچوں کی موجودگی مانع ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ ایسے شخص کی انفرادی نماز صرف ایک درجہ ثواب کے برابر ہے جبکہ باجماعت نماز ادا کرنے والے کا ثواب ستائیس (27) گنا زیادہ ہے۔

امتدادِ زمانہ کی وجہ سے جب حالات بدل گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے مشورہ سے عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بند کر دیا۔


واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


دیوبند متب فکر :

عورتوں کی جمعہ اور عیدین میں شرکت
س… بعض حضرات اس پر زور دیتے ہیں کہ عورتوں کو جمعہ، جماعت اور عیدین میں ضرور شریک ہونا چاہئے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمعہ، جماعت اور عیدین میں عورتوں کی شرکت ہوتی تھی، بعد میں کون سی شریعت نازل ہوئی کہ عورتوں کو مساجد سے روک دیا گیا؟


ج… جمعہ، جماعت اور عیدین کی نماز عورتوں کے ذمہ نہیں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا، ادھر عورتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اَحکام سیکھنے کی ضرورت تھی، اس لئے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی، اور اس میں بھی یہ قیود تھیں کہ باپردہ جائیں، میلی کچیلی جائیں، زینت نہ لگائیں، اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”لا تمنعوا نسائکم المساجد، وبیوتھن خیر لھن۔“ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶)

ترجمہ:…”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور ان کے گھر ان کے لئے زیادہ بہتر ہیں۔“

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:

”صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا۔“ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶)

ترجمہ:…”عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا، اپنے گھر کی چاردیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا اگلے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“

مسندِ احمد میں حضرت اُمِّ حمید ساعدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”قد علمت انک تحبین الصلٰوة معی وصلٰوتک فی بیتک خیر لک من صلٰوتک فی حجرتک، وصلٰوتک فی حجرتک خیر من صلٰوتک فی دارک، وصلٰوتک فی دارک خیر لک من مسجد قومک، وصلٰوتک فی مسجد قومک خیر لک من صلٰوتک فی مسجدی۔ قال: فأمرت فبنی لھا مسجد فی اقصی شیٴ من بیتھا واظلمہ، فکانت تصلی فیہ حتی لقیت الله عز وجل۔“ (مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۱، وقال الھیثمی ورجالہ رجال الصحیح غیر عبدالله بن سوید الأنصاری، وثقہ ابن حبان، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۳۴)

ترجمہ:…”مجھے معلوم ہے کہ تم کو میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے، مگر تمہارا اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور احاطے میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں (میرے ساتھ) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت اُمِّ حمید رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کے لئے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔

ان احادیث میں عورتوں کے مساجد میں آنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشائے مبارک بھی معلوم ہوجاتا ہے اور حضراتِ صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذوق بھی۔
یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ سعادت کی بات تھی، لیکن بعد میں جب عورتوں نے ان قیود میں کوتاہی شروع کردی جن کے ساتھ ان کو مساجد میں جانے کی اجازت دی گئی تو فقہائے اُمت نے ان کے جانے کو مکروہ قرار دیا۔

اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے:

”لو ادرک رسول الله صلی الله علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۲۰، صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۸۳، موٴطا امام مالک ص:۱۸۴)

ترجمہ:…”عورتوں نے جو نئی رَوش اختراع کرلی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد سے روک دیتے، جس طرح بنواسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔“

حضرت اُمّ الموٴمنین رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد ان کے زمانے کی عورتوں کے بارے میں ہے، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے زمانے کی عورتوں کا کیا حال ہوگا․․․؟

خلاصہ یہ کہ شریعت نہیں بدلی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو شریعت کے بدلنے کا اختیار نہیں، لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی، جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی، اس بنا پر فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے، مگر کسی عارضے کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کردے، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کردیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے، اسی لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔

وہابی یا سلفی مکتبہ فکر :

سوال: کیا عورت کے لئے نماز تراویح گھرمیں پڑھنا افضل ہے یا جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے ؟

جواب: عورت کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز فرض، نماز تراویح، نماز کسوف (سورج گرہن کی نماز) اور نماز جنازہ پڑھنا بھی اس کے لئے جائز ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ مکمل طور پرباپردہ ہو اس نے جسم اور کپڑوں کو زینت اور خوشبو سے بچا رکھا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ :

’’لاتمنعوا اماء اللّٰہ مساجد اللّٰہ ، وبیوتہن خیرلہن، ولیخرجن تفلات‘‘۔

’’اللہ کی باندیوں کو اس کی مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لئے بہتر ہیں ، انہیں زینت اور خوشبو کے بغیر باہر جاناہوگا‘‘۔

مسند احمد (2/43 حدیث : (9645) قال شعیب صحیح وہذا اسنادہ حسن صححہ ابن خزیمۃ حدیث 1679) وابن حبان حدیث : (2214) قال الالبانی صحیح ابوداود حدیث : (565) ۔

حدیث میں عورت کے لئے مشروط طورپر مسجد میں جانے کا جواز بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ وہ حیا ء وحجاب کی پتلی ہو، زیب وزینت اور خوشبو نہ لگائے ہوئے ہو، اور مردوں کے پیچھے صف بنائے۔ مذکورہ بالا شرط کو بجالاتے ہوئے بھی اس کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ اس میں اس کا تحفظ بھی ہے اور خود پریشان ہونے اور لوگوں کو پریشان کرنے سے بچائو بھی ۔

اگر وہ ان شرائط کی پابندی نہیںکرتی تو اس کے لئے باہر جانا حرام اور باعث گناہ ہے خواہ وہ نماز ہی کے ارادے سے جائے ۔ --- شیخ صالح بن فوزان---

نوٹ : قارئین کرام مبارک ہو تینوں مکتبہ فکر نے کم از کم ایک مسئلہ میں تو ایک ہی حدیث یعنی حدیث ابو داؤد سے استدلال کرتے ہوئے عورتوں کی نماز کو گھروں میں ادا کرنے کو افضل قرار دیا ماشاء اللہ جزاک اللہ۔۔۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (15-08-11), کنعان (14-08-11), مہتاب (04-09-11), احمد نذیر (12-08-11), حسن قادری (15-08-11), رضی (04-09-11), عبداللہ حیدر (04-09-11)
پرانا 14-08-11, 01:14 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
معذرت کے ساتھ شمشاد بھائی آپ کی بات کچھ سمھجھ نہیں ائی ۔
پہلی بات عورتوں کی مسجد سے کیا مراد ہے ۔
میں نے بار ہا کئی ممالک میں عورتوں کی نماز کی الگ جگہ دیکھی ہے ۔
جو مردوں کی مسجد سے منسلک ہوتیں ہیں ۔ کہیں تو خواتین مردوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھتی ہیں جہاں امام کی آواز آرہی ہوتی ہے اور کہیں خواتین انفرادی نماز پڑھتی ہیں ۔ میں نے کہیں پر بھی خواتین کی نماز پڑھنے کی جگہ کے باہر مردوں کی لائن نہیں دیکھی ۔ یاد رہے مسجد نماز پڑھنے کی جگہ کو ہی کہتے ہیں ۔
کیا آپ خواتین کے لیے مخصوص نماز کی جگہوں کے ہی خلاف ہیں یا ۔۔۔۔
یہاں تین موضوعات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔
1 خواتین کی الگ مسجد
2 خواتین کی امامت صرف خواتین کے لیے
3 خواتین کی امامت مردوں کے لیے بھی

تیسرے پوائنٹ کے علاوہ باقی دو میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں اتی ۔
بلکہ خواتین کی الگ مسجد ہوگی تو خواتین ذیادہ بہتر طریقے سے پردے کے ساتھ عبادت کرسکتی ہیں ۔ جب اسلام میں عورتوں کو مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے مسجد میں، تو ایک علیحدہ خواتین کی مسجد میں کیا قباحت ہے ۔
بلکہ خواتین کی مسجد کے امام مرد بھی ہوسکتے ہیں جو پردے کے پیچھے سے خواتین کو نماز پڑھائیں ۔
اور جہاں تک گلزکالج کی طرح مردوں کی لائن لگی ہونی کی بات ہے
معذرت کے ساتھ شمشاد بھائی ۔
مسجد اور کالج میں فرق ہوتا ہے اور مردوں کو خواتین صرف مسجد میں ہی نظر نہیں آتی کہ وہ اس کے باہر لائن لگالر کھڑے ہوجائیں گے ۔
ان لوگوں کی نیتوں کا تو علم نہیں لیکن خالص نیت کے ساتھ پاکستان میں مساجد میں خواتین کا حصہ ہونا چاہیے ۔
شکریہ
ميري بہن عورتوں كي مسجد سے‌مراد يہي ہے‌جو اس مضمون ميں بيان كي گئي ہے‌
اقتباس:
ہے۔اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دارالخلافہ ایمسٹرڈیم میں ایک ایسی مسجد کا افتتاح کیا گیا ہے جس میں صرف خواتین ہی عبادت کرسکتی ہیں
مسجد ميں‌خواتين كے نماز باجماعت ادا كرنے كے‌حوالے سے‌تفصيل آبي بھائي نے بيان كر دي ہے اس كے بعد مزيد كچھ كہنے كي ميرا خيال نہيں كہ ضرورت ہے۔۔۔
بہن ميرا اختلاف يہ نہيں ہے كہ عورت كو مسجد آنا چاہے‌يا نہيں‌بلكہ ميرا اختلاف يہ ہے كہ جس قسم كے لوگ ان مساجد كے رواج كو عام كرنے كي كوشش ميں ہيں‌ان كي اس كوشش ميں خلوص كتنا ہے ميري نظر ميں يہ زيادہ اہم ہے اس بات سے‌كہ ہم اس ميں‌الجھيں كہ عورت مسجد ميں آ سكتي ہے يا نہيں۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اس مسجد کا افتتاح ایک مصری خاتون ادیبہ نول السعادوی کے ہاتھوں ہوا، جس کے خلاف مصر کی ایک عدالت میں اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہوجانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔وہاں کی تنظیموں نے اس خاتون کے خلاف احتجاج کیا،بڑھتے ہنگاموں سے خوف زدہ ہوکر وہ ہالینڈ چلی آئیں۔اس خاتون نے مسجد کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر اپنے وعظ میں عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مردوں کی بالادستی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں اور ان کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیں
عوت كوئي نجس چيز نہيں جس كے مسجد ميں آنے‌پر پابندي ہے۔۔۔ عورت كا مسجد ميں آنا الگ بات ہے۔۔۔۔‌وہاں عبادت كے لئے كبھي آنا الگ بات ہے۔۔۔۔‌اور پانچ وقت كي نمازوں‌كے لئے آنا الگ بات ہے۔۔۔

باقي ميں آپ كي اس بات سے بھي اتفاق كرتا ہوں كہ مسجد اور كالج ميں فرق ہے۔۔۔۔۔ آپ اس سے‌انكار نہيں‌كر پائيں‌گي كہ مسجد ہو يا كالج ہو مرد اور عورت كا رحجان ايك ہي رہتا ہے۔۔۔ ہاں يہ كہا جا سكتا ہے كہ عموما مقدس مقامات پر ايسے‌جذبات كم ہوتے ہيں‌ليكن جن پر شيطان حاوي ہو جاتا ہے ان كے لئے تقدس اور مقامات كي كوئي حيثيت نہيں رہتي بلكہ وہ تو رشتوں تك كا پاس نہيں‌كرتے۔۔۔اسي وجہ سے بہت سے علماء كرام خواتين كے مروجہ مدارس كو باوجود سخت پابنديوں كے بھي پسنديدہ نظروں سے‌نہيں ديكھتے۔۔۔۔

اس ساري بحث ميں اگر آپ صرف اس ايك نقطے‌پر غور فرمائيں كہ اسلام نے عورت كي عبادت خصوصا پنج وقتہ نمازوں كے لئے كون سي جگہ كو افضل اور پسنديدہ قرار ديا ہے۔۔۔ تو ميرا خيال نہيں‌كہ اس بحث كو پھر طور دينے كي ضرورت باقي رہ جاتي ہے۔

موضوع بہت طويل اور نازك ہے۔۔۔۔‌اور وقت بھي نہيں‌اور آج كچھ لكھنے كي طبيعت بھي نہيں ہو رہي۔۔۔ اميد ہے ميں اپنا موقف سمجھا سكا ہوں۔۔۔ اگر كوئي كمي رہ گئي ہو تو آپ بتائيں ۔۔۔ اور اگر كہيں خطاء ہے تو بتائيں‌تا كہ اس كي اصلاح كي جائے۔۔۔

شكريہ۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-02-12), shafresha (15-08-11), skjatala (14-08-11), فیصل ناصر (14-08-11), کنعان (14-08-11), احمد نذیر (15-08-11), رضی (04-09-11)
جواب

Tags
پاکستان, ویب, ورجینیا, نماز, نشیں, مسائل, مسجد, اللہ, الزام, احتجاج, اردو, اسلام, اسلامی, تلاش, تعلیم, حل, حضرات, خواتین, خدا, علی, عبادت, عدالت, عزیز, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیرصحت کی مشیر کے گھر سے تین خواتین با زیاب جاویداسد خبریں 2 23-12-10 11:39 AM
باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک جاویداسد خبریں 0 15-12-10 06:41 PM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
ناریل کے تیل سے اڑائی جانے والی پرواز کا میابی سے منزل پر پہنچ گئی عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:33 PM
تارکین وطن خواتین مقامی خواتین کی بری عادات اپنالیتی ہیں عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger