واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کیا پاکستان کا نظام تعلیم کالے انگریز اور فتنہ جو مُلا پیدا کر رہا ہے؟(Part-1)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-11-09, 04:05 PM   #1
کیا پاکستان کا نظام تعلیم کالے انگریز اور فتنہ جو مُلا پیدا کر رہا ہے؟(Part-1)
حیدر حیدر آن لائن ہے 29-11-09, 04:05 PM

یہ کہانی ہے جنگ آزادی 1857 کے بعد کے حالات کی:
دو صدیوں پہلے جب دو صدیوں کا پیہم انحطاط ایک خوفناک سیاسی انقلاب پر منتج ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی ڈوبتے ہوئے بیڑے کو سنبھالنے کے لیے پردہ غیب سے چند ناخدا پیدا ہو گئے تھے۔ وہ وقت زیادہ غور و خوض کا نہ تھا ۔ یہ سوچنے کی مہلت کہاں تھی کہ اس شکستہ جہاز کے بجائے ایک نیا اور پائیدار جہاز کس نقشے پر بنایا جائے۔ اس وقت تو صرف یہ سوال در پیش تھا کہ یہ قوم جو ڈوب رہی ہے اس کو ہلاکت سے کیوں کر بچایا جائے؟نا خداؤں میں سے ایک گروہ نے فورا اپنے اسی پرانے جہاز کی مرمت شروع کر دی، انہی پرانے تختوں کو جوڑا، ان کے رخنوں کو بھرا اور پھٹے ہوئے بادبانوں کو رفو کر کے جیسے تیسے بن پڑا چلنے کے قابل بنا لیا۔
دوسرے گروہ نے لپک کر ایک نیا دخانی جہاز کرائے پر لے لیا اور ڈوبنے والوں کی اچھی خاصی تعداد کو اس پر سوار کر دیا۔اس طریقہ سے دونوں گروہ اس اچانک مصیبت کو ٹالنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر یہ دونوں تدبیریں صرف اس حیثیت سے کامیاب تھیں کہ انہوں نے فوری ضرورت کے لحاظ سے چارہ سازی کر دی، اور ڈوبتوں کا ہلاکت سے بچا لیا۔ان میں حکمت اور دانشمندی جو کچھ بھی تھی صرف اسی حد تک تھی۔اب جو لوگ اس وقت کے ٹل جانے کے بعد انہی دونوں تدبیروں کو ٹھیک ٹھیک انہی دونوں شکلوں پر قائم رکھنا چاہتے ہیں ان کا طرز عمل عقل و دانش کے خلاف ہے۔ نہ تو پرانا بادبانی جہاز اس قابل ہے کہ مسلمان صرف اسی پر بیٹھ کر ان قوموں سے مسابقت کریں جن کے پاس اس سے ہزار گنا تیز رفتار چلنے والے مشینی جہاز ہیں اور نہ ہی کرایہ پر لیاہوا جہاز اس لائق ہے کہ مسلمان اس کے ذریعے سے اپنی منزل مقصود تک پہنچھ سکیں۔ کیونکہ اس کا ساز و سامان ضرور نیا ہے اور اس کی رفتار تییز بھی ہے۔ مگر وہ دوسروں کا جہاز ہے۔اس کا ڈئزائن ان ہی کے مقاصد اور ان ہی کی ضروریات کے لیے موزوں ہے۔اس کے رہنما اور ناخدا بھی وہی ہیں۔ لہٰذا اس جہاز سے بھی ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہمیں اپنی منزل مقصود کی طرف لے جائے۔بلکہ اس تیز رفتاری سے الٹا خطرہ یہ ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سرعت کے ساتھ تو مخالف سمت میں لے جائے گا اور روز بروز اپنی منزل مقصود سے دور کرتا جائے گا۔ فوری ضرورت کے وقت تو وہ لوگ بھی حق بجانب تھے جنہوں نے پرانے جہاز کی مرمت کی اور وہ بھی غلطی پر نہ تھے جنہوں نے کرایہ کے جہاز پر سوار ہو کر جان بچائی۔ مگر اب وہ بھی غلطی پر ہیں جو پرانے جہاز پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی غلطی پر ہیں جو کرایہ کے جہاز پر ڈٹے ہوئےہیں۔

"اصلی رہنما اور حقیقی مصلح کی تعریف یہ ہے کہ وہ اجتہاد فکر سے کام لیتا ہے اور وقت اور موقع کے لحاظ سے جو مناسب ترین تدبیر ہوتی ہے اسے اختیار کرتا ہے،اس کے بعد جو لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں وہ اندھے مقلد کہلاتے ہیں ۔ جس طریقہ اور تدبیر کو مجتہد نے وقت کے لحاظ سے اختیار کیا ہوتا ہے ،اسی طریقہ پر وہ مقلد وقت گزر جانے کے بعد بھی آنکھیں بند کر کے عمل کیے جاتے ہیں "

بد قسمتی سے ہم کو ان دونوں گروہوں میں ایک بھی مجتہد نظر نہیں آتا۔ انتہائی جرآت کر کے پرانے جہاز والوں میں سے کوئی اگر اجتہاد کر بھی لیتا ہےتو بس اتنا کہ اپنے اسی پرانے جہاز میں چند بجلی کے بلب لگا لیتا ہے، کچھ نئے طرز کا فرنیچر خرید لیتا ہے اور ایک چھوٹی سی دخانی مشین خرید لاتا ہے جس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیٹی بجا بجا کر لوگوں کو دھوکا دیتی رہے کہ اب پرانا جہاز نیا ہو گیا ہے۔
اس کے مقابلے میں نئے جہاز والے اگرچہ دوسروں کے جہاز میں بیٹھے ہیں اور تیزی کے ساتھ مخالف سمت میں بہے جا رہے ہیں، مگر دو چار پرانے بادبان لے کر بیسیوں صدی کے اس اپ ٹو ڈیٹ جہاز میں لگائے ہوئےہیں تاکہ خود کو اور مسلمانوں کو یہ دھوکا دے سکیں کہ یہ جہاز بھی "اسلامی جہاز" ہے اور لندن کے راستہ حج کعبہ کو چلا جا رہا ہے۔

اندھی تقلید اور اس کے اجتہاد کی یہ جھوٹی نمائش
ایک طوفان گزر گیا (1857 سے بعد)۔اب دوسرا طوفان بہت قریب ہے (جنگ عظیم دوم کے بعد کے حالات کی طرف اشارہ)۔ہندوستان میں ایک دوسرے سیاسی انقلاب کی بنا پر رہی ہے (یہ مضمون 1936میں لکھا گیا)۔ممالک عالم میں ایک اور بہت بڑے تصادم کا سامان ہو رہا ہے۔مسلمانوں کو نت نئے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی ایمانی و اعتقادی اور اخلاقی وعملی حالت جیسی کچھہ ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہم نہیں سمجھتے کہ ان آنے والے طوفانوں کی ایک ٹکر بھی خیریت کے ساتھ سہہ سکیں گے۔ ان کا پرانا جہاز دور جدید کے کسی ہولناک طوفان کا مقابلہ نہیں کو سکتا۔شاید ایک ہی تھپیڑے میں اس کے تختے بکھر جائیں اور اس کے بادبانوں کا تار تار الگ ہو جائے۔ کرائے کا جہاز تو پرانے جہاز سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جو لوگ اس پر سوار ہیں ،ہمیں خوف ہے کہ طوفانی دور کا پہلا تھپیڑا ہی ان کو ملت اسلامیہ سے جدا کر دے گا۔
پس اب یہی وقت ہے کہ مسلمان پرانے جہاز سے بھی نکلیں اور کرایے کے جہاز سے بھی اتریں اور خود اپنا ایک جہاز بنائیں۔ جس کے الات اور کل پرزے جدید ترین ہوں۔ مشین موجودہ دور کے تیز سے تیز جہاز کے برابر ہو مگر نقشہ ٹھیٹھ اسلامی جہاز کاہو اور اسکے انجینیر اور کپتان اور دیدبان سب وہ ہوں جو منزل کعبہ کی راہ و رسم سے با خبر ہوں۔
(ماخذ: تعلیمات ازسید ابوالاعلیٰ مودودی)

Last edited by حیدر; 29-11-09 at 08:52 PM..

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 565
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-09), فاروق سرورخان (12-12-09), پاک سپائی (12-12-09), wajee (01-12-09), راجہ اکرام (12-12-09)
پرانا 29-11-09, 07:04 PM   #2
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی۔ماشا اللہ اچھی شیرنگ ہے۔
ذرا پروف ریڈنگ کرلیں اورآخر میں نام بھی درست کرلیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ۔ آپ نے ابوالعلی لکھا ہے۔ شکریہ
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
حیدر (29-11-09), راجہ اکرام (12-12-09)
پرانا 29-11-09, 08:53 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ بھائی پروف ریڈنگ کر دی ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
گوندل (30-11-09), احمدنواز (14-12-09), راجہ اکرام (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 05:47 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی بدر سلام،

یہ میں نے پڑھا تھا۔ لیکن یہ جناب مودودی صاحب کا مضمون ہے ، اس کے کچھ مندرجات ایسے ہیں جن سے اتفاق ممکن نہیں۔ اس لئے کہ اس سفینہ کو بہت احتیاط سے آرکیٹیکٹ کیا گیا ہے ، اس میں چوٹ پٹی سے کینسر کا علاج نہیں‌کیا گیا۔ چونکہ ہم کسی مرحوم شخص سے بحث نہیں کرسکتے اس لیے میں نے اس پر کوئی تائید یا تنقید نہیں کی تھی۔ بہر حال مودودی ایک مفکر ہیں ، ان کی اپنی سوچیں ہیں ، جس سے بہت سے لوگ متاثر ہیں، مودودی صاحب کے خیالات کے بارے میں کچھ قابل تائید اور کچھ قابل تنقید ہیں۔ یہ میرا خیال ہے۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (12-12-09), حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 10:18 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پس اب یہی وقت ہے کہ مسلمان پرانے جہاز سے بھی نکلیں اور کرایے کے جہاز سے بھی اتریں اور خود اپنا ایک جہاز بنائیں۔ جس کے الات اور کل پرزے جدید ترین ہوں۔ مشین موجودہ دور کے تیز سے تیز جہاز کے برابر ہو مگر نقشہ ٹھیٹھ اسلامی جہاز کاہو اور اسکے انجینیر اور کپتان اور دیدبان سب وہ ہوں جو منزل کعبہ کی راہ و رسم سے با خبر ہوں۔
یقینا یہ وقت کی اہم ترین ضروت ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-12-09, 10:42 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
یقینا یہ وقت کی اہم ترین ضروت ہے۔
درست فرمایا جناب نے، یہ 1947 سے پاکستان میں‌کامیابی سے ہورہا ہے۔ چوتھی جماعت پاس مفتوں کی سمجھ میں یہ بات ابھی تک آئی نہیں ہے۔ آجائے گی۔ فکر کی کیا بات ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 10:47 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ 1947 سے پاکستان میں‌کامیابی سے ہورہا ہے۔

اس کی ذرا وضاحت فرمادیں مختصرا ۔۔۔۔ شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:29 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں فاروق چچا آپ نے درست فرمایا کہ مودودی صاحب کے خیالات سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی۔اس لیے کہ مودودی عام انسان تھا نہ کہ نبی۔ اس سے بھی غلطیاں ہو سکتی تھیں۔ تاہم کسی کو مکمل طور پر پرھے بغیر اس سے اختلاف کر دینا ۔ ۔ ۔ غلط ہوتا ہے۔ میں نے جو پیش کیا ادھر وہ انکی کتاب تعلیمات کے محض چند صفحات ہیں۔ اپنی بات کے لیے وہ جو دلیلیں رکھتے ہیں وہ بھی اہمیت کی حامل ہیں۔تاہم یہ بات بھی ذہن میں رکھی جانی چاہیے کہ یہ مضامین 1938 کے دور کے ہیں ۔ یہ وہی دور ہے جس کے بارے میں اقبال بھی فرما گئے کہ
"ہم تو سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کسے خبر تھی چلا ائے گا الحاد بھی ساتھ "
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
احمدنواز (14-12-09), راجہ اکرام (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:36 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم بھی اسی جدید تعلیم کے پروردہ ہیں۔ میں اپنے بارے میں خوش گمانی رکھتا ہوں کہ میرے اندر کوئی ملحدانہ نظریات نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہر کوئی اپنے حالات کے مطابق ذہن بناتا ہے۔ میرا ذہن بھی کتابوں اور استادوں سے ہٹ کر اپنے حالات کے مطابق اپنی سوچ تشکیل دیتا ہے۔
لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ شروع کی کلاسز سے لے کر آخر کلاس تک اسلامیات کی کتاب سے یتیموں کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اول تو استاد صاحب ریگولر ہوتے نہیں۔ سال میں کوئی چند ہفتے کلاس ہوتی ہے۔ اگر استاد ریگولر ہو تو بھی وہ حاضری کے معاملہ میں سختی نہیں کرتا اور "ڈنگ ٹپاؤ" سٹریٹیجی کے تحت ریڈنگ کر کے یا گپ شپ کر کے چلا جاتا ہے۔ ایسے میں ذہنوں میں کیا آبیاری ہونی اور کسی نے اسلام کی کیا روح دیکھنی۔
میں جس کلاس کو پڑھا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ وہ سائنس مضامین میں بہترین تھی لیکن جونہی باری آتی تھی اسلامایت کی تو صرف رٹا ۔ ان کو کوئی مقصد ہی معلوم نہ تھا کہ ہم جو پڑھ رہے ہیں اسکا مقصد ہے کیا۔
اگر موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامایت کی حیثیت 30 منٹ کے یتیمی مضمون سے بڑھا کر 1 گھنٹے کے اہم مضمون کی کر دی جائے اور اسکے اساتذہ بھی بہترین دماغ کے حامل لائے جائیں تو کوئی شک نہیں ۔ ۔ ہم اسی نظام تعلیم سے بھیئ بہتر نتائج حاصٌل کر سکتے ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-12-09), فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (12-12-09), راجہ اکرام (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:47 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرورخان صاحب اور بدر بھائی
آپ دونوں کی رائے بالکل درست ہے۔ معصوم عن الخطاء صرف انبیاء علیہم السلام ہیں
باقی انسانوں سے غلطی کا احتمال ہے اس لئے نبی کے علاوہ باقی انسانوں کی باتوں میں سے جو صحیح ہو اسے لینا اور جو غلط ہو اسے چھوڑ دینا ہی اہل علم کا طریقہ ہے۔ اس موقع پر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ذہن میں آ رہا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’’کل یؤخذ من قولہ و یترک الا صاحب ہذا القبر یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (12-12-09), حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:47 AM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرورخان صاحب اور بدر بھائی
آپ دونوں کی رائے بالکل درست ہے۔ معصوم عن الخطاء صرف انبیاء علیہم السلام ہیں
باقی انسانوں سے غلطی کا احتمال ہے اس لئے نبی کے علاوہ باقی انسانوں کی باتوں میں سے جو صحیح ہو اسے لینا اور جو غلط ہو اسے چھوڑ دینا ہی اہل علم کا طریقہ ہے۔ اس موقع پر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ذہن میں آ رہا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’’کل یؤخذ من قولہ و یترک الا صاحب ہذا القبر یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 12:01 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی جی امام مالک کے قول کا ترجمہ بھی پیش کر دیتے۔ عربی سے نابلد ہوں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-12-09, 12:06 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلامیات کے بارے میں درست فرمایا آپ نے۔ آپ اگر اسکول میں پڑھاتے ہیں تو کیا آپ کے اسکول میں قومی ترانہ، دعا، اور پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے ؟
میرا خیال ہے کہ آپ کا جواب ا ثبات میں ہوگا۔

کیا آپ اپنے طالب علموں کو دوسرے " پیلے شیطان " کے "پیلے اسکول " میں پڑھائی جانے والی "غیر اسلامی کافرانہ تعلیم " کے بارے میں بتاتے ہیں؟
کیا آپ اپنے طالب علموں کو بتاتے ہیں :
کہ پیلے شیطان کے پیلے اسکول کے کافرانہ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کافر ہیں۔
کہ یہ لوگ غاصب ہیں جو ہر قسم کے "موقع" پر قبضہ کرلیتے ہیں۔
کہ ان کافر پیلے شیطانوں میں‌سے کسی کو کمشنر کی نوکری ملے گی ، کو ئی فوج کا حکمران بنے گا، کوئی بنک کا افسر بنے گا ۔ جب کہ ان میں‌سے کسی کے باس بھی "علم "‌ نہیں؟
کہ "ہم علم والوں " کو کوئی کسی بھی نوکری کے مقام پر گھسنے بھی نہیں دے گا۔
کیا آپ ان کافرانہ تعلیم کے حاصل کرنے والوں کے بارے میں فرضی قصے بنا بنا کر سناتے ہیں۔
کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت "غیر اسلامی اور کافرانہ " ہے
کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔
کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ ووٹنگ بیعت نہیں‌ہے۔

میں‌یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہر سوال پر آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔ اس لیے کہ پاکستان کے پبلک اسکولوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بنیادی جذبہ ٰ‌ حب الوطنی سے بھر پور ہے۔ ان اسکولوں‌میں کسی طبقہ کے خلاف نفرت نہیں سکھائی جاتی ہے۔

لیکن پاکستانی مدرسہ سے باوجود اس کے اسلامیات 4 گھنٹہ پڑھائی جاتی ہے، وطن سے نفرت، تعلیم یافتہ طبقوں سے نفرت۔ اور پاکستان کے سیاسی نظام سے نفرت۔

کیا وجہ ہے کہ ان مدرسوں سے نکلے والے، لڑکے ، ڈاکٹر، انجینئر ، وکیل ، اکاؤنٹنٹ، سرمایہ دار، کاروباری لوگ نہیں بنتے۔؟

میرا خیال ہے کہ ہم کو ان مدرسوں میں پڑھنے والے اور اسکولوں میں پڑھنے والے دونوں قسم کے طالب علموں سے ہمدردی ہونی چاہئے۔ ہم کو چاہئیے کہ ہم ان مدارس کے نصاب میں وہ تبدیلی لائیں کہ ان مدارس کی تعلیم بھی رہے اور یہ لوگ بھی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکیں۔

اسی طرح قرآن کی تعلیم اسکولوں میں بڑھائی جائے۔

اس کا ایک بہت ہی آسان طریقہ ہے ۔ وہ یہ ہے دسویں جماعت کے بعد کالج میں داخلہ کا امتحان ہونا چاہئیے۔ اس طرح مدرسہ کے اساتذہ ، اس کم از کم معیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں گے جو کہ پبلک اسکولوں کا ہے ۔ اس طرح ایک مدرسہ کا تعلیم یافتہ بچہ بھی زندگی کی دوڑ‌میں آگے بڑھ سکے گا۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ عام پبلک اسکولوں میں‌ قرآن کی تعلیم میں اضافہ کیا جائے۔

ہو سکتا ہے کہ جو کچھ میں قرآن کے شورائی نظام کے بارے میں لکھتا ہوں وہ سب کا سب غلط ہو۔ لیکن کیا ہمارے یہاں اساتذہ کرام کی کمی ہے؟ وہ تو ایک ایسا نصاب بنا سکتے ہیں جو ایک بہترین قسم کے شورائی سیاسی نظام کو اسکولوں و مدرسوں کے نصاب میں شامل کرے۔ اس طرح یہ روز روز کے " اسلامی نطام " آئے گا تو یہ ہوگا اور وہ ہوگا کہ موجودہ نظام کافرانہ ہے کے نعروں‌سے نجات ملے گی۔ پاکستان کی ریڈیکل یعنی انتہا پسند قوتوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (12-12-09), حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 10:16 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا تو محض یہ خیال ہے کہ اگر مدارس کی "ضرورت" ختم کر دی جائے تو معاملہ "خوش اسلوبی" سے حل ہو جائے گا۔ مدارس کی "ضرورت" اس طرح ختم ہو سکتی ہے کہ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ آخر مدارس چل کیوں رہے ہیں۔ میرا اس سلسلہ میں خیال یہ ہے کہ اسکی دو وجوہات ہیں
1: لوگوں کی خؤاہش کہ انکی اولاد اسلام کا علم حاصل کرے اور اپنے والدین کی جنت کھری کرے۔
2:جنکی اولاد کسی کام کی نہیں ہوتی انکو اس کام میں کھپا دیا جاتا ہے۔ کہ کونسا پیسے بھرنے پڑتے ہیں۔
چناچہ اگر سکولوں میں دینی تعلیم کا مفت بندو بست کر دیا جائے تو مدارس کی چنداں ضرورت نہ رہے گی۔حکومت اپنا نصاب اس طرح ترتیب دے کہ وہ دینی اور جدید دونوں قسم کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے کشش کا باعث ہو۔حکومت اتنا خرچہ کر رہی ہے تعلیم عام کرنے پر ۔ اگر تھوڑی سی توجہ اس جہت پر بھی کر دے تو چند ہی سالوں میں یہ صورت حال بہت مختلف نظر آئے گی۔
حکومت بلاوجہ مدارس کی رجسٹریشن، انکے نصابوں میں تبدیلی ، انکے آڈٹ وغیرہ کے چکر میں پڑی اور قوم کے اعصاب کے ساتھ کھیل رہی ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 12-12-09, 10:53 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی بدر بھائی
یہ سیدھا سیدھا طلب اور رصد کا معاملہ ہے، پاکستان کی آبادی کا تقریبا 97% مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہر مسلمان دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت سنوارنے کی فکر ضرور کرتا ہے۔ اس کے لئے اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا، اپنے بچوں میں سے کم از کم کسی ایک کو حافظ قرآن بنا کر اپنے اخروی سفارش کا بندو بست کرنا ایک بڑی اکثریت کا معمول ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ غربت منہ کھولے کھڑی ہے، عام سکولوں میں یا سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا ہر خاندان کے بس کی بات نہیں بطور خاص جب بچوں کی تعداد بھی نصف درجن کے لگ بھگ ہو۔
ان وجوہات اور اس طرح کی دیگر وجوہات کی بنا پر معاشرے میں دین اور دینی علم کی طلب موجود ہے۔ اب اس کے لئے رصد کا انتظام کسی نہ کسی نے تو کرنا ہے۔
اصولی طور پر تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا انتظام کرے، ایک اسلامی حکومت نہ صرف اپنے شہریوں کی مادی بلکہ دینی و تعلیمی ضرورتیں پوری کرنے کی مسئول ہے۔ جب حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی تو کوئی نہ کوئی اس کام کا بیڑا اٹھائے گا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس قسم کا کوئی انتظام نہیں، نظام تعلیم وہی ہے جو تقسیم بر صغیر سے پہلے ہندوستان میں رائج تھا۔ اسلامیات کے مضمون کے ساتھ جو حشر ہے اس سے کوئی ناواقف نہیں۔
اس پر مستزاد کہ جو تعلیم حکومت کی طرف سے دی جاتی ہے اس کے لئے جو بجٹ منظور کیا جاتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے جتنا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی بنا پر تعلیمی اخراجات اتنے ہو جاتے ہیں کہ ہر کسی کے لئے قابل برداشت نہیں۔ بچوں کےلئے وردی، کتابیں، پین، کاپیاں، بستے وغیرہ لینے جب ایک متوسط طبقے کا بندہ جاتا ہے تو اسے دال آٹے کے بھاؤ بھول جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر سکول کی فیس نکال دیتی ہے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر ان اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو تعلیم بھی دیں،خصوصا دینی تعلیم، مفت بھی دیں اور دیگر اخراجات مثلا رہائش، کھانا، کتابیں کاپیاں، جیب خرچہ اور بعض دیگر ضروریات۔
اور الحمدللہ دینی مدارس بانداز احسن یہ کام کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے دینی کے اس دور میں بہترین تعلیم بھی دے رہے ہیں اور مفت بھی
دے رہے ہیں۔ اور اہل خیر کے تعاون سے یہ نظام بانداز احسن چل رہا ہے اور انشاء اللہ چلتا رہے گا۔

اگرچہ مدارس کے تعلیمی نصاب میں بہتری کی گنجائش ہے، اس میں کچھ مزید مضامین شامل کر کے مزید بہترین نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں تاہم موجودہ نصاب کے ساتھ بھی مدارس اسلام اور پاکستان کی بہترین خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
بطور خاص پاکستان کی شرح خواندگی کے حوالے سے۔ اگر مدارس کے تعلیم یافتہ طبقہ کو نکال دیا جائے تو آپ اندازہ لگائیں یہ شرح کتنی رہ جائے گی۔
مدارس کی اس کارکردگی کا اعتراف اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک سمیت کئی بین الاقوامی ادارے بھی کر چکے ہیں۔

اور میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دینی مدارس میں تعلیم پانے والے وطن سے محبت میں کسی طور بھی عام اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں سے کم نہیں۔بلکہ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ اہل مدارس حب الوطنی میں دیگر سے زیادہ ہیں ۔

ہاں اگر کوئی واقعی یہ چاہتا ہے کہ ان اداروں کو ختم کر دیا جائے، ان کی افادیت کو اس قدر کم کر دیا جائے کہ یہ اپنی موت آپ مر جائیں تو پھر ایسا متوازی نظام لانا ہوگا جو ان تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو جسے مدارس پورا کر رہے ہیں۔ بلکہ مدارس سے زیادہ سہولیات دینا ہوں گی۔
جس میں دینی تعلیم کا بہترین انتظام ہو، تعلیم بالکل مفت ہو، رہائش اور کھانے کا انتظام ہو، دیگر ضروریات بھی پوری کی جاتی ہوں۔

اگر کوئی اخلاص نیت کے ساتھ کی کسی اور ارادے سے یہ کرے میں کامیاب ہو جاتا ہے پھر تو شاید دینی مدارس کی اہمیت کم ہو اور وہ مرجع خلائق نہ رہیں، بصورت دیگر دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے یا پابندیاں لگا کر اس قافلے کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
1947, پاکستان, لوگ, لندن, نظر, موقع, موجودہ, مقابلہ, آزادی, اللہ, اسلامی, بھائی, تعلیم, خلاف, خبر, رفتار, راستہ, عقل, عالم, عظیم, غیب, غور, غلطی, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کنیز اور مالک کے تعلقات - اختلافات فاروق سرورخان اپکے کالم 34 10-11-11 09:29 AM
پاکستان سے متعلق 800 سالہ قدیم پیش گوئیاں حیدر میرا پاکستان 60 16-08-09 06:26 PM
نیوزی لینڈکرکٹ حکام نے پاکستان سیریز کی پیشکش قبول کرلی عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:31 PM
::: افغانستان میں پوست کی دھماکا خیز پیداوار کا امکان ہے، امریکی کمانڈر ::: ابو کاشان خبریں 0 03-01-08 11:54 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger