| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 565
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (29-11-09), فاروق سرورخان (12-12-09), پاک سپائی (12-12-09), wajee (01-12-09), راجہ اکرام (12-12-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی۔ماشا اللہ اچھی شیرنگ ہے۔
ذرا پروف ریڈنگ کرلیں اورآخر میں نام بھی درست کرلیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ۔ آپ نے ابوالعلی لکھا ہے۔ شکریہ
__________________
عابد |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا | حیدر (29-11-09), راجہ اکرام (12-12-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ بھائی پروف ریڈنگ کر دی ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی بدر سلام،
یہ میں نے پڑھا تھا۔ لیکن یہ جناب مودودی صاحب کا مضمون ہے ، اس کے کچھ مندرجات ایسے ہیں جن سے اتفاق ممکن نہیں۔ اس لئے کہ اس سفینہ کو بہت احتیاط سے آرکیٹیکٹ کیا گیا ہے ، اس میں چوٹ پٹی سے کینسر کا علاج نہیںکیا گیا۔ چونکہ ہم کسی مرحوم شخص سے بحث نہیں کرسکتے اس لیے میں نے اس پر کوئی تائید یا تنقید نہیں کی تھی۔ بہر حال مودودی ایک مفکر ہیں ، ان کی اپنی سوچیں ہیں ، جس سے بہت سے لوگ متاثر ہیں، مودودی صاحب کے خیالات کے بارے میں کچھ قابل تائید اور کچھ قابل تنقید ہیں۔ یہ میرا خیال ہے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ 1947 سے پاکستان میںکامیابی سے ہورہا ہے۔ اس کی ذرا وضاحت فرمادیں مختصرا ۔۔۔۔ شکریہ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (12-12-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ہاں فاروق چچا آپ نے درست فرمایا کہ مودودی صاحب کے خیالات سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی۔اس لیے کہ مودودی عام انسان تھا نہ کہ نبی۔ اس سے بھی غلطیاں ہو سکتی تھیں۔ تاہم کسی کو مکمل طور پر پرھے بغیر اس سے اختلاف کر دینا ۔ ۔ ۔ غلط ہوتا ہے۔ میں نے جو پیش کیا ادھر وہ انکی کتاب تعلیمات کے محض چند صفحات ہیں۔ اپنی بات کے لیے وہ جو دلیلیں رکھتے ہیں وہ بھی اہمیت کی حامل ہیں۔تاہم یہ بات بھی ذہن میں رکھی جانی چاہیے کہ یہ مضامین 1938 کے دور کے ہیں ۔ یہ وہی دور ہے جس کے بارے میں اقبال بھی فرما گئے کہ
"ہم تو سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم کسے خبر تھی چلا ائے گا الحاد بھی ساتھ " |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | احمدنواز (14-12-09), راجہ اکرام (12-12-09) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم بھی اسی جدید تعلیم کے پروردہ ہیں۔ میں اپنے بارے میں خوش گمانی رکھتا ہوں کہ میرے اندر کوئی ملحدانہ نظریات نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہر کوئی اپنے حالات کے مطابق ذہن بناتا ہے۔ میرا ذہن بھی کتابوں اور استادوں سے ہٹ کر اپنے حالات کے مطابق اپنی سوچ تشکیل دیتا ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ شروع کی کلاسز سے لے کر آخر کلاس تک اسلامیات کی کتاب سے یتیموں کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اول تو استاد صاحب ریگولر ہوتے نہیں۔ سال میں کوئی چند ہفتے کلاس ہوتی ہے۔ اگر استاد ریگولر ہو تو بھی وہ حاضری کے معاملہ میں سختی نہیں کرتا اور "ڈنگ ٹپاؤ" سٹریٹیجی کے تحت ریڈنگ کر کے یا گپ شپ کر کے چلا جاتا ہے۔ ایسے میں ذہنوں میں کیا آبیاری ہونی اور کسی نے اسلام کی کیا روح دیکھنی۔ میں جس کلاس کو پڑھا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ وہ سائنس مضامین میں بہترین تھی لیکن جونہی باری آتی تھی اسلامایت کی تو صرف رٹا ۔ ان کو کوئی مقصد ہی معلوم نہ تھا کہ ہم جو پڑھ رہے ہیں اسکا مقصد ہے کیا۔ اگر موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامایت کی حیثیت 30 منٹ کے یتیمی مضمون سے بڑھا کر 1 گھنٹے کے اہم مضمون کی کر دی جائے اور اسکے اساتذہ بھی بہترین دماغ کے حامل لائے جائیں تو کوئی شک نہیں ۔ ۔ ہم اسی نظام تعلیم سے بھیئ بہتر نتائج حاصٌل کر سکتے ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرورخان صاحب اور بدر بھائی
آپ دونوں کی رائے بالکل درست ہے۔ معصوم عن الخطاء صرف انبیاء علیہم السلام ہیں باقی انسانوں سے غلطی کا احتمال ہے اس لئے نبی کے علاوہ باقی انسانوں کی باتوں میں سے جو صحیح ہو اسے لینا اور جو غلط ہو اسے چھوڑ دینا ہی اہل علم کا طریقہ ہے۔ اس موقع پر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ذہن میں آ رہا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’’کل یؤخذ من قولہ و یترک الا صاحب ہذا القبر یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق سرورخان صاحب اور بدر بھائی
آپ دونوں کی رائے بالکل درست ہے۔ معصوم عن الخطاء صرف انبیاء علیہم السلام ہیں باقی انسانوں سے غلطی کا احتمال ہے اس لئے نبی کے علاوہ باقی انسانوں کی باتوں میں سے جو صحیح ہو اسے لینا اور جو غلط ہو اسے چھوڑ دینا ہی اہل علم کا طریقہ ہے۔ اس موقع پر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ذہن میں آ رہا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ’’’کل یؤخذ من قولہ و یترک الا صاحب ہذا القبر یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (12-12-09) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی جی امام مالک کے قول کا ترجمہ بھی پیش کر دیتے۔ عربی سے نابلد ہوں
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
اسلامیات کے بارے میں درست فرمایا آپ نے۔ آپ اگر اسکول میں پڑھاتے ہیں تو کیا آپ کے اسکول میں قومی ترانہ، دعا، اور پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے ؟
میرا خیال ہے کہ آپ کا جواب ا ثبات میں ہوگا۔ کیا آپ اپنے طالب علموں کو دوسرے " پیلے شیطان " کے "پیلے اسکول " میں پڑھائی جانے والی "غیر اسلامی کافرانہ تعلیم " کے بارے میں بتاتے ہیں؟ کیا آپ اپنے طالب علموں کو بتاتے ہیں : کہ پیلے شیطان کے پیلے اسکول کے کافرانہ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کافر ہیں۔ کہ یہ لوگ غاصب ہیں جو ہر قسم کے "موقع" پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ کہ ان کافر پیلے شیطانوں میںسے کسی کو کمشنر کی نوکری ملے گی ، کو ئی فوج کا حکمران بنے گا، کوئی بنک کا افسر بنے گا ۔ جب کہ ان میںسے کسی کے باس بھی "علم " نہیں؟ کہ "ہم علم والوں " کو کوئی کسی بھی نوکری کے مقام پر گھسنے بھی نہیں دے گا۔ کیا آپ ان کافرانہ تعلیم کے حاصل کرنے والوں کے بارے میں فرضی قصے بنا بنا کر سناتے ہیں۔ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت "غیر اسلامی اور کافرانہ " ہے کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ بتاتے ہیں کہ ووٹنگ بیعت نہیںہے۔ میںیقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہر سوال پر آپ کا جواب نہیں میں ہوگا۔ اس لیے کہ پاکستان کے پبلک اسکولوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بنیادی جذبہ ٰ حب الوطنی سے بھر پور ہے۔ ان اسکولوںمیں کسی طبقہ کے خلاف نفرت نہیں سکھائی جاتی ہے۔ لیکن پاکستانی مدرسہ سے باوجود اس کے اسلامیات 4 گھنٹہ پڑھائی جاتی ہے، وطن سے نفرت، تعلیم یافتہ طبقوں سے نفرت۔ اور پاکستان کے سیاسی نظام سے نفرت۔ کیا وجہ ہے کہ ان مدرسوں سے نکلے والے، لڑکے ، ڈاکٹر، انجینئر ، وکیل ، اکاؤنٹنٹ، سرمایہ دار، کاروباری لوگ نہیں بنتے۔؟ میرا خیال ہے کہ ہم کو ان مدرسوں میں پڑھنے والے اور اسکولوں میں پڑھنے والے دونوں قسم کے طالب علموں سے ہمدردی ہونی چاہئے۔ ہم کو چاہئیے کہ ہم ان مدارس کے نصاب میں وہ تبدیلی لائیں کہ ان مدارس کی تعلیم بھی رہے اور یہ لوگ بھی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح قرآن کی تعلیم اسکولوں میں بڑھائی جائے۔ اس کا ایک بہت ہی آسان طریقہ ہے ۔ وہ یہ ہے دسویں جماعت کے بعد کالج میں داخلہ کا امتحان ہونا چاہئیے۔ اس طرح مدرسہ کے اساتذہ ، اس کم از کم معیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں گے جو کہ پبلک اسکولوں کا ہے ۔ اس طرح ایک مدرسہ کا تعلیم یافتہ بچہ بھی زندگی کی دوڑمیں آگے بڑھ سکے گا۔ اسی طرح ضرورت ہے کہ عام پبلک اسکولوں میں قرآن کی تعلیم میں اضافہ کیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ جو کچھ میں قرآن کے شورائی نظام کے بارے میں لکھتا ہوں وہ سب کا سب غلط ہو۔ لیکن کیا ہمارے یہاں اساتذہ کرام کی کمی ہے؟ وہ تو ایک ایسا نصاب بنا سکتے ہیں جو ایک بہترین قسم کے شورائی سیاسی نظام کو اسکولوں و مدرسوں کے نصاب میں شامل کرے۔ اس طرح یہ روز روز کے " اسلامی نطام " آئے گا تو یہ ہوگا اور وہ ہوگا کہ موجودہ نظام کافرانہ ہے کے نعروںسے نجات ملے گی۔ پاکستان کی ریڈیکل یعنی انتہا پسند قوتوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,364
کمائي: 95,408
شکریہ: 52,450
11,149 مراسلہ میں 35,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا تو محض یہ خیال ہے کہ اگر مدارس کی "ضرورت" ختم کر دی جائے تو معاملہ "خوش اسلوبی" سے حل ہو جائے گا۔ مدارس کی "ضرورت" اس طرح ختم ہو سکتی ہے کہ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ آخر مدارس چل کیوں رہے ہیں۔ میرا اس سلسلہ میں خیال یہ ہے کہ اسکی دو وجوہات ہیں
1: لوگوں کی خؤاہش کہ انکی اولاد اسلام کا علم حاصل کرے اور اپنے والدین کی جنت کھری کرے۔ 2:جنکی اولاد کسی کام کی نہیں ہوتی انکو اس کام میں کھپا دیا جاتا ہے۔ کہ کونسا پیسے بھرنے پڑتے ہیں۔ چناچہ اگر سکولوں میں دینی تعلیم کا مفت بندو بست کر دیا جائے تو مدارس کی چنداں ضرورت نہ رہے گی۔حکومت اپنا نصاب اس طرح ترتیب دے کہ وہ دینی اور جدید دونوں قسم کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے کشش کا باعث ہو۔حکومت اتنا خرچہ کر رہی ہے تعلیم عام کرنے پر ۔ اگر تھوڑی سی توجہ اس جہت پر بھی کر دے تو چند ہی سالوں میں یہ صورت حال بہت مختلف نظر آئے گی۔ حکومت بلاوجہ مدارس کی رجسٹریشن، انکے نصابوں میں تبدیلی ، انکے آڈٹ وغیرہ کے چکر میں پڑی اور قوم کے اعصاب کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (12-12-09), راجہ اکرام (12-12-09) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی بدر بھائی
یہ سیدھا سیدھا طلب اور رصد کا معاملہ ہے، پاکستان کی آبادی کا تقریبا 97% مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ہر مسلمان دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت سنوارنے کی فکر ضرور کرتا ہے۔ اس کے لئے اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا، اپنے بچوں میں سے کم از کم کسی ایک کو حافظ قرآن بنا کر اپنے اخروی سفارش کا بندو بست کرنا ایک بڑی اکثریت کا معمول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت منہ کھولے کھڑی ہے، عام سکولوں میں یا سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا ہر خاندان کے بس کی بات نہیں بطور خاص جب بچوں کی تعداد بھی نصف درجن کے لگ بھگ ہو۔ ان وجوہات اور اس طرح کی دیگر وجوہات کی بنا پر معاشرے میں دین اور دینی علم کی طلب موجود ہے۔ اب اس کے لئے رصد کا انتظام کسی نہ کسی نے تو کرنا ہے۔ اصولی طور پر تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا انتظام کرے، ایک اسلامی حکومت نہ صرف اپنے شہریوں کی مادی بلکہ دینی و تعلیمی ضرورتیں پوری کرنے کی مسئول ہے۔ جب حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی تو کوئی نہ کوئی اس کام کا بیڑا اٹھائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس قسم کا کوئی انتظام نہیں، نظام تعلیم وہی ہے جو تقسیم بر صغیر سے پہلے ہندوستان میں رائج تھا۔ اسلامیات کے مضمون کے ساتھ جو حشر ہے اس سے کوئی ناواقف نہیں۔ اس پر مستزاد کہ جو تعلیم حکومت کی طرف سے دی جاتی ہے اس کے لئے جو بجٹ منظور کیا جاتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے جتنا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی بنا پر تعلیمی اخراجات اتنے ہو جاتے ہیں کہ ہر کسی کے لئے قابل برداشت نہیں۔ بچوں کےلئے وردی، کتابیں، پین، کاپیاں، بستے وغیرہ لینے جب ایک متوسط طبقے کا بندہ جاتا ہے تو اسے دال آٹے کے بھاؤ بھول جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر سکول کی فیس نکال دیتی ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر ان اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو تعلیم بھی دیں،خصوصا دینی تعلیم، مفت بھی دیں اور دیگر اخراجات مثلا رہائش، کھانا، کتابیں کاپیاں، جیب خرچہ اور بعض دیگر ضروریات۔ اور الحمدللہ دینی مدارس بانداز احسن یہ کام کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے دینی کے اس دور میں بہترین تعلیم بھی دے رہے ہیں اور مفت بھی دے رہے ہیں۔ اور اہل خیر کے تعاون سے یہ نظام بانداز احسن چل رہا ہے اور انشاء اللہ چلتا رہے گا۔ اگرچہ مدارس کے تعلیمی نصاب میں بہتری کی گنجائش ہے، اس میں کچھ مزید مضامین شامل کر کے مزید بہترین نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں تاہم موجودہ نصاب کے ساتھ بھی مدارس اسلام اور پاکستان کی بہترین خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ بطور خاص پاکستان کی شرح خواندگی کے حوالے سے۔ اگر مدارس کے تعلیم یافتہ طبقہ کو نکال دیا جائے تو آپ اندازہ لگائیں یہ شرح کتنی رہ جائے گی۔ مدارس کی اس کارکردگی کا اعتراف اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک سمیت کئی بین الاقوامی ادارے بھی کر چکے ہیں۔ اور میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دینی مدارس میں تعلیم پانے والے وطن سے محبت میں کسی طور بھی عام اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والوں سے کم نہیں۔بلکہ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ اہل مدارس حب الوطنی میں دیگر سے زیادہ ہیں ۔ ہاں اگر کوئی واقعی یہ چاہتا ہے کہ ان اداروں کو ختم کر دیا جائے، ان کی افادیت کو اس قدر کم کر دیا جائے کہ یہ اپنی موت آپ مر جائیں تو پھر ایسا متوازی نظام لانا ہوگا جو ان تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو جسے مدارس پورا کر رہے ہیں۔ بلکہ مدارس سے زیادہ سہولیات دینا ہوں گی۔ جس میں دینی تعلیم کا بہترین انتظام ہو، تعلیم بالکل مفت ہو، رہائش اور کھانے کا انتظام ہو، دیگر ضروریات بھی پوری کی جاتی ہوں۔ اگر کوئی اخلاص نیت کے ساتھ کی کسی اور ارادے سے یہ کرے میں کامیاب ہو جاتا ہے پھر تو شاید دینی مدارس کی اہمیت کم ہو اور وہ مرجع خلائق نہ رہیں، بصورت دیگر دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے یا پابندیاں لگا کر اس قافلے کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (12-12-09) |
![]() |
| Tags |
| 1947, پاکستان, لوگ, لندن, نظر, موقع, موجودہ, مقابلہ, آزادی, اللہ, اسلامی, بھائی, تعلیم, خلاف, خبر, رفتار, راستہ, عقل, عالم, عظیم, غیب, غور, غلطی, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کنیز اور مالک کے تعلقات - اختلافات | فاروق سرورخان | اپکے کالم | 34 | 10-11-11 09:29 AM |
| پاکستان سے متعلق 800 سالہ قدیم پیش گوئیاں | حیدر | میرا پاکستان | 60 | 16-08-09 06:26 PM |
| نیوزی لینڈکرکٹ حکام نے پاکستان سیریز کی پیشکش قبول کرلی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-04-08 01:31 PM |
| ::: افغانستان میں پوست کی دھماکا خیز پیداوار کا امکان ہے، امریکی کمانڈر ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 03-01-08 11:54 AM |