مرکزی ایشیا کے ممالک ، جو روس کے پڑوسی ممالک ھیں، امریکہ کے اسٹراٹجک مفادات کے دائرے میں شامل ھو گئے ھيں- اسلام آباد سے امریکہ کے تعلقکت خراب ھو جانے کی وجہ سے واشنگٹن ، دیگر ممالک کے راستے اپنی فوج کیلیے ضروری سامان افغانستان پہنچانے کا امکان حاصل کرنا چاھتا ھے- قزاخستان، قرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان میں اس کیلیے بہترین امکانات موجود ھیں-
امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی متعلقہ رپورٹ میں زور دیا گیا ھے کہ مرکزی ایشیا ، افغانستان میں جاری اتحادی فوج کے آپریشن کیلیے بہت بڑی سیاسی اور اسٹراٹـجک اھمیب کا حامل ھے- مثال کے طور پر، رپورٹ کے مطابق، اس سال پاکستان کے راستے 60 اور ازبکستان کے راستے 40 فیصد سامان جنگ افغانستان پہنچـایا گیا ھے- پیچھلے عرصے میں پاکستان نے دو بار افغانستان میں متعین امریکی فوج کو رسد کی فراھمی بند کر دی-اگرچہ مذکورہ رپورٹ میں پاک امریکہ تعلقات کی بہتری پر امید ظاھر کی گیی ھے پھر بھی امریکی سینیٹ نہیں چاھتا کہ امریکی فوج کو رسد کی فراھمی اسلام آباد کی مرضی پر منحصر ھو- اس سلسلے میں سینٹ نے واشلگٹن انتظامیہ کو مرکزی ایشیا کی ریاستوں سے تعاون کو مذید تقویت پہنچانے کی صلاح دی۔
جب تک بات انسان دوست تعاون کی رھیگی، اس وقت تک روس اس کے خلاف نہیں ھوگا، "فرغانہ" نامی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مدیر علی دانی ایل کیسلوو سمجھتے ھیں۔انہوں نے کہا: روس نے سب سے پہلے امریکیوں کو اپنی سرزمین اور فضا کے راستے سامان کی ٹرینزیٹ نقل و حمل کرنے کی اجازت دی تھی- اس لیےاس ضمن میں روس اور امریکہ کے درمیان کوئی اختلاف رائے پیدا ھونے کی بنیاد نہی ھے کم سے کم اس وقت تک جب امریکہ اور نیٹو مرکزی ایشیا کی ریاستوں میں اپنے زیر کنٹرول کوئی نئے فوجی ٹھکانے قائم کرنے کا ارادہ ظاھر نہیں کریں-
لیکن خدشہ ھے کہ امریکہ اور نیٹو اس طرح کا قدم اٹھانا چاھیں گے- ستمبر میں امریکی کانگریس نے ازبکستان کیلیے فوجی امداد کی فراھمی پر لگی پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا، جو سات برس قبل لگائی گئی تھیں- اس سے بڑھکر کانگریس نے تاشقند کو وہ فضول اضافی ھتھیارفراھم کرنے کی تجویزپیش کی جو افغان مہم کیلیے غیر ضروری ھیں- منطقی بات ھے کہ اس کے بعد امریکہ وھاں اپنا فوجی اڈہ قائم کرنا اور اس علاقے کو اپنے مفادات کا دائرہ اعلان کرنا چاھیگا – اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ھے؟ یہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے واقعات سے اچھی طرح معلوم ھے، ماھر شرقیات اندرے گروزین نے کہا۔ ان کے مطابق عموما" اس کے بعد امریکہ کے دائرۂ عمل میں شامل ھونے والے ممالک اور قوموں کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے – امریکہ کا دیگر ریاستوں کی ترقی کا اپنا تصور ھے، اور واشنگٹن مذکورہ ملکوں کے باوقار حلقوں اور آبادی کے مفادات پر کم سے کم توجہ دینے پر مائل ھے- مشرق وسطی کی ریاستوں کی نسبت، مرکزی ایشیا کے پانچ ملکوں کے موجودہ نظام زیادہ غیر مستحکم ھیں۔ اس لیے باھر سے ھر قسم کی مداخلت ان ملکوں میں مذید عدم استحکام اور بہت سے اختلافات اور تصادمات کا باعث بن سکتی ھے۔
یہ اختلافات اندرونی اور بےرونی پالیسی کے میدان میں پیدا ھو سکتے ھیں- امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی رپورٹ میں مرکزی ایشیائی ممالک کو معاشی امداد دینے کی سفارش کی گئی ھے- کمیٹی نے نشاندھی کرائی کہ اس طرح ، امریکہ مرکزی ایشیا کو خطے کی سب سے بڑی طاقتوں یعنی روس اور چین کے خلاف کھیل میں اپنا اتحادی بنا سکتا ھے- مگر ایشیا اور بحر الکاھل کی دیگر ریاستوں کے معاشی اور سیاسی مفادات بھی براہ راست طور پر مرکزی ایشیا سے منسلک ھیں- اس لیے شائد ھی ممکن ھے کہ یہ ریاستیں، روس اور چین تو در کنار، امریکی مفادات کے دائرے میں مرکزی ایشیا کی شمولیت کو لاپروائی کی نگاہ سے دیکھینگی۔
اندری گروزین نے مذید کہا: ایک بھی ملک جس کے مفادات مرکزی ایشیا سے وابستہ ھیں، امریکہ کے اس اقدام کو نہیں مانیگا- واضح ھے کہ یہ سبھی ممالک مختلف طریقوں سے اس امریکی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرینگے۔
جہاں تک روس کا تعلق ھے تو اس کیلیے مرکزی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات خصوصی اھمیت کے حامل ھیں کیونکہ ان تعلقات کی جڑیں قدیم زمانےسے پیواست ھیں- روس اس عمل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا جو کوسوں میل دور نہیں بلکہ اس کی سرحدوں کے قریب ھو رھا ھے
صدائے روس