واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کیپٹل ازم کا بت بھی گر گیا مستقبل اسلام کا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-10-11, 01:04 PM   #1
کیپٹل ازم کا بت بھی گر گیا مستقبل اسلام کا ہے
ALI-OAD ALI-OAD آف لائن ہے 26-10-11, 01:04 PM

انسان دو چیزوں کا مرکب ہے روح اور جسم۔ روح کی غذا آسمانوں سے آتی تو جسم کی غذا مادیت سے حاصل ہوتی ہے۔ معیشت مادیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے چونکہ اس کا تعلق موجودہ زندگی سے ہے تو انسانوں کی زیادہ تر توجہ اسی پر مرکوز ہے۔ اس سلسلے میں دنیا نے پہلے سوشلزم کو آزمایا مگر بہت جلد اس کا خمار بھی اتر گیا پھر کیپٹل ازم کو مسائل کا حل جانا گیا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ 83 ممالک میں لوگ اس کے خلاف احتجاج کناں ہیں۔ وہ کہتے ہیں بہت جلد باقی ممالک اور باقی عوام بھی ان کے موقف کے موید ہو جائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا اعتماد اس نظام سے بھی اٹھ چکا۔ گویا اقبال کے لفظوں میں
گیا دورِ سرمایہ کاری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا
”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک“ نے امریکہ سے جنم لیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ تحریک اور یہ سوچ و فکر سمندروں کو عبور کرتی براعظموں میں پرواز کر رہی ہے اب ناصرف براعظم امریکا بلکہ یورپ، افریقا اور حد تو یہ کہ براعظم ایشیا تک اپنا آپ پھیلا چکی ہے۔ وال سٹریٹ دراصل سرمایہ دارانہ نظام کا ہیڈ آفس قرار دیا جا سکتا ہے، سوشلزم اگر ایک انتہا تھی تو کیپٹل ازم اس کی دوسری انتہا ہے۔ سوشلزم نے ایک حد سے زیادہ سرمایہ فرد سے چھین کر ریاست کے حق میں ضبط کر لیا تھا تو سرمایہ دارانہ نظام میں فرد کو سرمایہ اکٹھا کرنے کی ایسی کھلی چھٹی دے دی گئی کہ جہاں وہ کسی قسم کی حدود و قیود سے ماورا ہو کر اپنی من مانی کے لئے پوری طرح آزاد ہو گیا۔
نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ سرمایہ دار ہر طرح سے آزاد ہو کر پوری طرح استحصال پر اتر آیا، حلال و حرام کی تو خیر غیر مسلموں کو تمیز کیا ہوتی انہوں نے اخلاقی حدود کو بھی یوں پامال کیا کہ انسانیت کشی کی بدترین مثالیں قائم کر دیں۔ قانونِ الٰہی سے نابلد اور اخلاقیات سے عاری سرمایہ داری نے جو گل کھلائے وہ اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے اور غریب سے غریب تر ہوتے عوام بھگت بھی رہے ہیں۔ یہ تحریک ایک ایسے زور سے اٹھی ہے کہ ساری دنیا ایک دفعہ پھر کسی نئے نظام کی متلاشی ہے۔ وہ کسی ایسے نظام، کسی ایسے مسیحا اور کسی ایسے مرہم کی شدید ترین متلاشی ہے جو اس کے درد کا درماں بن سکے، جو اس کے لخت لخت جسم سے اٹھتی ٹیسوں کے لئے دوا بن کر اسے اس لامتناہی جہنم سے نجات دلائے۔
سوشلزم اور کیپٹل ازم کی دو انتہاﺅں کے درمیان اسلام ایک معتدل اور متوازن نظام معیشت پیش کرتا ہے یہ وہ واحد نظام ہے جو ایک حد میں سرمایہ دار کے سرمائے کی حفاظت کرتا ہے تو دوسری طرف غریب عوام کے حقوق، ان کی معیشت اور روزی روٹی کا بھی پوری طرح تحفظ کرتا ہے، یہ وہ واحد نظام ہے جس کا کئی بار دنیا میں تجربہ ہوا اور ہر بار ہی یہ انسانیت کے لئے امن و امان اور محبت و ہمدردی کا پیام لایا۔ بہت پہلے جب ابتدا میں یہ نظام جناب محمد کریمe نے مدینہ میں نافذ کیا تو حیرت انگیز طور پر اس نے ناصرف تاجروں اور سرمایہ داروں کو ان کے حقوق دیئے، غریبوں کی باعزت روزی روٹی کا تحفظ کیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ غیر مسلم اقوام کو بھی جینے کا معقول اور طے شدہ موقع فراہم کیا۔
اسلام سرمایہ داری کے لئے حلال و حرام کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی ایک ایسی تربیت طے کر دیتا ہے جہاں انسانی استحصال کی راہیں پوری طرح مسدود ہو جاتی ہیں، پھر اسلام نے زکوٰة کا ایک ایسا شفاف نظام دیا جو اگر کماحقہ لاگو کر دیا جائے تو غریب عوام ایک میکانکی انداز سے اپنے لئے معقول روزی روٹی حاصل کر لیتے ہیں بلکہ آگے چل کر اس نظام کے ایسے ایسے کرشمے بھی ظہور میں آئے کہ لوگ زکوٰة لئے کسی مستحق کی تلاش میں گھومتے مگر کوئی ایسا غریب نہ پاتے جوان کی زکوٰة قبول کرتا۔ یہ اپنی طرز کی وہ نادر مثالیں ہیں جنہیں اسلامی نظام نے تو ظہور بخشا ہے مگر کوئی دوسرا نظام اس کی مثال نہیں لا سکا مگر افسوس محض مسلمانوں کا نظام ہونے کے باعث حاسدین اور معاندین نے مسلمانوں کے کمزور ہوتے ادوار میں اسے یک قلم مسترد کر کے انسانوں کے بنائے ہوئے معاشی نظام رائج کئے جو وقتی طور پر تو خوشنما نعروں کی طرح بڑے دلفریب ثابت ہوئے مگر جلد ہی ان کی خامیاں اور انسانیت کش خصوصیات دیکھ کر پوری عالمی برادری چیخ اٹھی کہ وہ اسے جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں۔ یعنی انسانیت اسے پوری طرح ٹھکرا چکی۔
انسانیت کی یہ تلاش اور جستجو تب تک جاری رہے گی جب تک وہ سراب سے حقیقت تک کا سفر طے نہیں کر لیتی اور وہ ہے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین سے رب کے عطا کردہ قوانین کی طرف رخ کرنا۔
اب جبکہ حالات نے ایک دفعہ پھر ہر میدان میں اسلام کی بالادستی ثابت کر دی ہے، ایک طرف جہادی یلغاروں اور ایمانی تلواروں نے میدانوں میں کفر کے قدم ڈگمگا دیئے ہیں اور ان کی بودی حیثیت ثابت کر دی ہے تو دوسری طرف ان کے جعلی تب و تاب رکھتے نظاموں کی قلعی بھی کھول کے رکھ دی ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے دنیا کی تشنگی اور انسانیت کی پیاس بے انتہا ہو چکی ہے وہ کسی جام شیریں، کسی آب حیات اور کسی چشمہ ¿ روح افزا کی تلاش میں بری طرح تھک چکے ہیں۔
چنانچہ اب اسلامی رہنماﺅں، ریسرچ سکالروں اور زیرک مذہبی علماءکا فرض ہے کہ وہ ایسے موقعوںپر زبانی تقریروں سے آگے بڑھیں، باہم مل کے بیٹھیں، سرمایہ دارانہ نظام اور اسلامی نظام معیشت کا تقابلی مطالعہ و تجزیہ کریں اور اس کے مقابل اسلامی نظام معیشت کو ناصرف اجاگر کریں بلکہ جہاں جہاں اسلام کی بالادستی ہے وہ مغربی اقوام کے سامنے دلائل کے ساتھ ثابت کریں۔ اس لئے کہ مغربی اقوام دلائل کی زبان سمجھتی ہیں اور اللہ کے فضل سے اسلام کے پاس دلائل کی کمی نہیں، ہاں مگر دلائل پیش کرنے والوں کو متحرک ہونے کی ضرورت ضرور ہے۔ ان شاءاللہ جب پیاس سے بلکتی اور تشنگی سے سسکتی انسانیت کے سامنے اسلام کے پاکیزہ اصول رکھے جائیں گے تو وہ لوگ اس طرح اسلام کی طرف دوڑ لگا دیں گے جس کا نقشہ سورہ ¿ نصر میں رب کریم نے کھینچا ہے یعنی لوگ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہونے لگیں گے۔ مستقبل اسلام اور اہل اسلام کا ہے۔ دنیا بہت تجربات کر چکی، وہ بہت تھک چکی، اب وہ آرام کرنا اور راحت لینا چاہتی ہے۔ راحت و آرام اسلام کے گھنے شجرِ سایہ دار میں ہے مگر اب یہ رہنماﺅں کے ذمے ہے کہ وہ انسانیت کی اس طرف درست اور بروقت رہنمائی کریں کیونکہ جہاں تک میدانوں میں استقامت سے جمنے والوں کا کام تھا تو وہ اپنے ایمانی جذبوں سے کفر کا سارا رعب و دبدبہ موم کی طرح پگھلا چکے اور اس کی رعونت کافرانہ کی ہیبت پوری طرح اڑا چکے اب سیاستدان خود بھی ایمانی راستوں کی طرف پلٹیں اور علماءکے سنگ مل کے اوروں کی بھی رہنماﺅں کریں۔ ان شاءاللہ کامرانی ان کے قدم چومے گی۔

بشکریہ۔۔۔۔ ہفت روزہ جرار
والسلام،،،علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 200
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
asakpke (26-10-11), shafresha (26-10-11), محمد عاصم (27-10-11), مسلم بھائی (28-10-11), احمد نذیر (26-10-11), رضی (27-10-11), عروج (28-10-11)
پرانا 26-10-11, 01:33 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,267
شکریہ: 911
1,266 مراسلہ میں 2,887 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بقول ابلیسی نظام کے مفکر(ابلیس( کے : مزدکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے ( اقبال (
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (26-10-11), قاسمی (28-10-11), رضی (27-10-11)
پرانا 27-10-11, 09:01 AM   #3
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تحریر اچھی ہے مگر اس میں اسلامی نظام اسلامی نظام ہی لکھا نظر آیا ہے وہ اسلامی نظام کا نام کیا ہے پتا نہیں کیوں نہیں لکھا گیا ہے!!!
اسلام نے ہمیں خلافت کا نظام دیا ہے وہ خلافت کا نظام جس میں سب کلمہ پڑھنے والے ایک جسم کی مانند اکٹھے رہتے تھے،
عرب کے سحراؤں سے لے کر سمرقند و بخارا کے فلک بوس پہاڑوں تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر ہندوستان کے سرسبز و شاداب میدانوں تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر افریقہ کے جنگل و بیابان تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر یورپ کے ایوانوں تک،
سب کلمہ پڑھنے والے اسلامی نظام خلافت کے تحت متحد و منظم زندگی بسر کرتے تھے اُس وقت نہ ہی مسلمانوں میں قوم، برادری اور قبیلے کی بنیاد پر قوم پرستی کی جہالت تھی اور نہ ہی ان میں علاقوں کی نسبت سے وطن پرستی تھی اور نہ ہی اُن میں مذہب کی بنیاد پر فرقہ واریت تھی، خلافت کے نظام نے سب کو ایک جسم کے مانند متحد رکھا ہوا تھا اور یہی بات کفار یہود، نصاریٰ اور مشرکین کو برداشت نہیں ہورہی تھی اُن کو معلوم تھا کہ یہ اسلامی نظام خلافت جب تک مسلمانوں کے پاس ہے یہ کبھی بھی کسی سے شکست نہیں کھائیں گے اس لیئے کفار نے مل کر اسلامی نظام خلافت پر چار اطراف سے حملہ کر کے پہلی جنگ عظیم کی بنیاد رکھی، برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی، جرمنی اور یورپ کے کئی ملکوں نے مل کر ایک ملک یعنی مسلمانوں کی سلطنت پر حملہ کردیا یعنی جو خلافت لاکھوں مربع کلومیٹر میں پھیلی ہوئی تھی اس میں ان کفار نے درجنوں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم کیں اور ان کی حکومت اپنے ایجنٹوں کے سپرد کی اور آج کا نقشہ وہی نقشہ ہے جو جنگ عظیم اول میں بنایا گیا تھا فرق اتنا پڑا ہے کہ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں اللہ کی دتکاری ہوئی قوم کو لابسایا گیا اور وہ آج تک وہاں پر قبضہ کو وسعت ہی دیتا چلا جارہا ہے بلکہ گریٹر اسرائیل کا خواب بھی دیکھ رہا ہے، امریکی دہشت گردوں کا عراق پر حملہ بھی اسی مشن کے لیئے تھا کہ گریٹر اسرائیل بنانے کی راہ ہموار کی جائے مگر اللہ کی تدبیر کچھ اور ہی تھی الحمدللہ۔
اب جلد ہی جمہوریت کا بُت پاش پاش ہونےوالا ہے ان شاءاللہ
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (27-10-11), قاسمی (28-10-11), مسلم بھائی (28-10-11), عروج (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 03:02 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
مسلم بھائی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 103
کمائي: 3,226
شکریہ: 1,013
95 مراسلہ میں 318 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
تحریر اچھی ہے مگر اس میں اسلامی نظام اسلامی نظام ہی لکھا نظر آیا ہے وہ اسلامی نظام کا نام کیا ہے پتا نہیں کیوں نہیں لکھا گیا ہے!!!
اسلام نے ہمیں خلافت کا نظام دیا ہے وہ خلافت کا نظام جس میں سب کلمہ پڑھنے والے ایک جسم کی مانند اکٹھے رہتے تھے،
عرب کے سحراؤں سے لے کر سمرقند و بخارا کے فلک بوس پہاڑوں تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر ہندوستان کے سرسبز و شاداب میدانوں تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر افریقہ کے جنگل و بیابان تک،
عرب کے سحراؤں سے لے کر یورپ کے ایوانوں تک،
سب کلمہ پڑھنے والے اسلامی نظام خلافت کے تحت متحد و منظم زندگی بسر کرتے تھے اُس وقت نہ ہی مسلمانوں میں قوم، برادری اور قبیلے کی بنیاد پر قوم پرستی کی جہالت تھی اور نہ ہی ان میں علاقوں کی نسبت سے وطن پرستی تھی اور نہ ہی اُن میں مذہب کی بنیاد پر فرقہ واریت تھی، خلافت کے نظام نے سب کو ایک جسم کے مانند متحد رکھا ہوا تھا اور یہی بات کفار یہود، نصاریٰ اور مشرکین کو برداشت نہیں ہورہی تھی اُن کو معلوم تھا کہ یہ اسلامی نظام خلافت جب تک مسلمانوں کے پاس ہے یہ کبھی بھی کسی سے شکست نہیں کھائیں گے اس لیئے کفار نے مل کر اسلامی نظام خلافت پر چار اطراف سے حملہ کر کے پہلی جنگ عظیم کی بنیاد رکھی، برطانیہ، روس، فرانس، اٹلی، جرمنی اور یورپ کے کئی ملکوں نے مل کر ایک ملک یعنی مسلمانوں کی سلطنت پر حملہ کردیا یعنی جو خلافت لاکھوں مربع کلومیٹر میں پھیلی ہوئی تھی اس میں ان کفار نے درجنوں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم کیں اور ان کی حکومت اپنے ایجنٹوں کے سپرد کی اور آج کا نقشہ وہی نقشہ ہے جو جنگ عظیم اول میں بنایا گیا تھا فرق اتنا پڑا ہے کہ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں اللہ کی دتکاری ہوئی قوم کو لابسایا گیا اور وہ آج تک وہاں پر قبضہ کو وسعت ہی دیتا چلا جارہا ہے بلکہ گریٹر اسرائیل کا خواب بھی دیکھ رہا ہے، امریکی دہشت گردوں کا عراق پر حملہ بھی اسی مشن کے لیئے تھا کہ گریٹر اسرائیل بنانے کی راہ ہموار کی جائے مگر اللہ کی تدبیر کچھ اور ہی تھی الحمدللہ۔
اب جلد ہی جمہوریت کا بُت پاش پاش ہونےوالا ہے ان شاءاللہ
بھائی عاصم اللہ آپ کو جزا دے آپ نے صحیح کہا ہے کہ کفار نے اور ان کے نام نہاد مسلمان ایجنٹوں نے مل کر اسلامی خلافت کو ختم کیا تھا کیونکہ یہ امت مسلمہ کی اجتماعیت کو قائم رکھے ہوئے تھا
__________________
اسی(اللہ) نے پہلی کتابوں میں تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی مسلم ہی رکھا ہے۔(الحج آیت 7تو بھائیوں لوگوں کی پسند کے ناموں کو چھوڑو اللہ کی پسند کو اپناؤ اور تفرقہ بازی ختم کرو۔
مسلم بھائی آن لائن ہے   Reply With Quote
مسلم بھائی کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (28-10-11)
جواب

Tags
فرض, کیپٹل ازم, قدم, لوگ, موقع, موم, موجودہ, ماورا, محبت, مسائل, اللہ, انسان, امریکہ, احتجاج, اسلام, اسلامی, جلد, جام, حل, خلاف, روزہ, زندگی, سفر, سرمایہ دارانہ, صورتحال


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیپٹن احسان ملک وقار پاکستان کے ہیروز 6 15-05-11 11:17 PM
یار بہیھٹے ہیں The Great شعر و شاعری 0 25-06-08 05:53 PM
پی پی اور ق لیگ کے انتخابی منشور آج کیپٹل ٹاک میں گفتگو کی جائیگی عبدالقدوس خبریں 0 12-12-07 09:56 AM
سال قبل پاک فوج کے کیپٹن کیلئے برطانوی کمپنی کی جانب سے رشوت کے اسکینڈل کاانکشاف عبدالقدوس خبریں 0 29-10-07 09:58 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger