واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


گولی کا راج,,,,,جیون خان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 09:32 AM   #1
گولی کا راج,,,,,جیون خان
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 05-01-08, 09:32 AM

گولی کا راج,,,,,جیون خان



گولی چلی، دھماکہ ہوا، پھر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ صدمہ کی شدت سے دل دہل گئے، آنکھوں سے اشک رواں ہوئے جو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے، محرومی کا احساس ہردل و دماغ میں گھر کر گیا، جس کسی نے جس لمحے بی بی کی شہادت کا سنا اندوہ و الم میں ڈوب گیا۔ اسے یوں لگا کہ متاع حیات لٹ گئی۔ حسن و خوبی کے سب استعارے چھن گئے۔ دنیا ویران ہوگئی۔ 27دسمبر 2007ء کی شام بڑی اُداس تھی۔ قیامت گزر گئی تھی۔ بھونچال آیا تھا جس نے سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا۔ شروع میں سکتے کا عالم تھا مگر رات پڑتے ہی غم و غصہ کی لہر ابھری تھی۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے، توڑ پھوڑ شروع ہوئی تھی، ادھر ادھر آگ کے شعلے بلندہونے لگے تھے۔ تین دن تک زندگی معطل رہی۔ غیض و غضب کا رخ زیادہ تر بینکوں، کارخانوں، کاروں اور سرکار کی حمایتی سیاسی پارٹیوں کے دفاتر کی طرف رہا۔ ریلوے نظام کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ اہل نظر کا خیال تھا کہ آٹھ سالہ ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچنے کی بجائے چند شعبوں میں مرکوزہوگئے تھے۔ دولت و ثروت کے یہ جزیرے محروم طبقہ کے لئے نفرت کی علامات بن گئے۔ غم و غصہ کی طوفانی لہر اٹھی، مشتعل لوگوں کی ٹولیاں بابر نکلیں۔ پولیس ان کے سامنے بے بس تھی۔ بپھرے ہوئے نادار نوجونوں کو میدان صاف ملا تو وہ نفرت کی علامات پر پل پڑے۔ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے باقاعدہ کارکن نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔ ان کی جھولی خالی تھی نہ دکان نہ مکان۔ نہ ڈھنگ کا کاروبار۔ کسی ڈھنگ روٹی کما کھاتے تھے۔ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا۔ یوں بھی وہ سراپا احتجاج تھے۔ اب جو دیکھا کہ ان کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں تو معاشرہ سے انتقام لینے بے محابا اُبل پڑے۔ یہ سوچنے کی زحمت تک گوارا نہ کی کہ تاخت و تاراج سے کیا حاصل ہوگا۔ ریل گاڑیوں اور ریلوے اسٹیشن کو نذر آتش کرنے سے اشرافیہ کا کیا بگڑے گا۔ جاگیردار، سرمایہ دار اور حاکم کہاں ریل گاڑی میں بیٹھتے ہیں۔ یہ تو غریب مسافروں کی سواری ہے۔ اسی لئے پہلے ہی تباہ حال ہے اب اس پر جو آگ برسی تو ہلکان وہ ہزاروں مسافر ہوئے جو بے سروسامانی کے عالم میں غیر آباد جھلسے ہوئے ریلوے سٹیشنوں پر بے یارومددگار پھنس گئے۔ لگتاہے کہ معاشرہ کے دونوں سرے گل سڑ گئے ہیں ، اپنی بناوٹ میں معاشرہ ایک زینے کی مانند ہے جس میں کئی سیڑھیاں ہیں۔ آخری سیڑھی شان و شوکت اور اقتدار کی چھت پر کھلتی ہے۔ پہلی سیڑھی عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں گھری ہوتی ہے۔ عدل اور انصاف پر مبنی معاشرہ ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں ہر انسان کے لئے ترقی کے یکساں مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہر فرد اپنی اہلیت اور محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتا ہے۔ استحقاق کے راستہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ جو جس مقام کااہل ہے وہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔ ظلم اور جبر معاشرتی ترقی کے لئے زہر قاتل ہیں۔ ناانصافی اورعدم مساوات حساس انسانوں کے لئے سوہان روح بن جاتے ہیں۔ غریب والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ذہین بچوں پر ساری راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ان کی خداداد ذہانت انہیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا جواز نہ پاکر وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں معاشرتی آداب انہیں وہ آہنی زنجیریں لگتی ہیں جن سے ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ دیئے گئے۔ اخلاقی اقدار انہیں غالب طبقہ کے مفادات کی ضامن نظر آتی ہیں۔ موقع ملتے ہی وہ اچھے برے کاخیال کئے بغیر ہر اس چیز پر چڑھ دوڑتے ہیں جس کی تذلیل اور بے حرمتی سے مقتدر طبقہ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، انارکی کے عالم میں وہ یوں کھل کھیلتے ہیں کہ خدمت خلق کے بے لوث مراکز تک ان کی دسترس سے محفوظ نہیں رہتے۔ اس احساس محرومیت کے کئی ایک مجنونانہ شواہد کا مشاہدہ ایام سوگ کے دوران ہوا، کئی بار تو غضب ہوگیا، کراچی کی سپر ہائی وے (شاہراہ) پر ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک گاؤں آباد کر رکھا ہے جہاں 1500بے آسرا لوگ رہتے ہیں، ان میں تین سو بچے ہیں جن میں سے اکثر یتیم ہیں۔ بارہ سو کے لگ بھگ ذہنی معذور افراد وہاں مقیم ہیں۔ بی بی کی شہادت کے دوسرے روز جمعہ کی دوپہر کو ڈیڑھ سو مسلح افراد اس گاؤں میں آگھسے۔ سولہ ایمبولینس گاڑیاں تباہ کر دیں۔ سازوسامان کو توڑ ڈالا۔ بچوں اور معذوروں تک کو لائق درگزر نہ سمجھا۔ کئی ایک کو بری طرح مارا پیٹا، رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ نہ انہوں نے کوئی اور مطالبہ کیا نہ ہی اپنی شناخت کرائی۔ بے سبب تشدد اور جارحیت کے سوا ان کا کوئی مقصود نہ تھا۔ انسان جوش جنوں میں بھیڑیئے بن گئے تھے۔ جہاں ایدھی سنٹر جنہیں دنیا بھر میں احترام اورعقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے محفوظ نہ ہوں وہاں ریل گاڑیوں کے جلائے جانے پرکیا ماتم کیا جائے۔ معاشرے کے دونوں سرے بانجھ پن کا شکار ہوچکے ہیں اصحاب اقتدار اپنے حصار کے اندر قلعہ بند ہیں۔قلعہ کی فصیلیں سنگین، بلند اورمضبوط ہیں اس کے اندر آسائش آرام اور عشرت کے سارے سامان میسر ہیں سرکاری وسائل کا پہلا مصرف سرکار کی اپنی نشوونما، بناؤ سنگار، اور حفاظت ہیں جو جتنا بڑا عہدیدار ہے اتنے ہی شاندار اس کے ٹھاٹھ باٹھ ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہیں جن کے رہن سہن دیکھ کر جدی پشتی شہنشاہ تک دنگ رہ جائیں۔ فصیل سے باہر باجگذار رعایا رہتی ہے جس کے جان و مال کی حفاظت کبھی سرکار کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی حکومت انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ دار بھی تھی۔ آہستہ آہستہ سرکار ڈھیلی پڑتی گئی۔ اب سرکاری گماشتے طرح طرح کے خراج وصول کرنے ہی رعایا پر نازل ہوتے ہیں اگر کوئی شوریدہ سر قہر سلطانی کا سزاوار ٹھہرے تو پیادے اس کا ناطقہ یوں بند کر دیتے ہیں کہ ارض وطن اس پر تنگ ہو جاتی ہے ۔پرانے وقتوکیں بادشاہوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے تب بھی عتاب شاہی کے مجرم مست ہاتھیوں اور بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیئے جاتے تھے۔ اب بھی وہی ہوتا ہے فرق فقط اتنا ہے کہ یہ خدمت اب خونخوار جانورنہیں وفادار انسان بجا لاتے ہیں۔ یہ انداز خسروانہ فقط تخت سلطانی تک محدود نہیں ہے چھوٹے بڑے سب گماشتے اپنے کام میں بہت ہوشیار ہیں ذاتی مفاد میں وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں اوپر سے واضح احکام نہ ہوں اور اپنوں کی طرف سے کوئی مجبوری نہ ہو تو یہ اہلکار عموماً ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان کی اسی کرم نوازی کے طفیل ہرطرف انارکی پھیل رہی ہے۔ عوامی سطح پر ریاست کا وجود تک نظروں سے ا وجھل ہوتاجارہا ہے گولی کاراج زور پکڑتا جارہا ہے بم اور پستول طاقت کا سرچشمہ بن گئے ہیں رعایا خوفزدہ ہے پستول والے البتہ بے سبب مارتے نہیں ان کا مقصد لوٹ مار ہوتا ہے۔ رعایا میں سے جو بھی ان کے ہتھے چڑھتا ہے جان بچانے کے لئے اپنا مال اسباب ان کے حوالے کر دیتا ہے، انارکی کے دم سے یہ عناصر پھل پھول رہے ہیں وہ بستیاں جہاں نادار لوگ بستے ہیں جنگل کے قانون کے حوالے ہو چکی ہیں مقامی سطح پر قانون کی حکمرانی اور بے لاگ انصاف فراہم کئے بغیر گولی کے راج سے چھٹکاراممکن نہیں۔ سرکار نے انتظامی اصلاحات کے لئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں قائم کرر کھا ہے کیا عجب کہ یہ کمیشن چند روز کسی کچی بستی اور گاؤں میں جاکرڈیرہ ڈالے اوراپنی آنکھوں سے دھونس دھاندلی اور گولی کے راج کا مشاہدہ کرے اور انارکی کی جگہ قانون اور انصاف کی سربلندی کی کوئی راہ نکالے۔ امن اور سلامتی یوں لوٹ آئیں کہ ارض پاک میں بینظیر لوگ ہوں یا فقیر سب گولی سے محفوظ رہیں۔

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 238
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پھول, پولیس, لوگ, نفرت, نظر, معاشرہ, انسان, احتجاج, اعلیٰ, بچوں, حال, حسن, خان, دھماکہ, دل, رات, راستہ, زندگی, شناخت, شاندار, شام, عالم, غم, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نیپال :بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ یومیہ16 گھنٹے ہوگا چیتا چالباز خبریں 0 19-01-09 10:37 PM
پنجاب یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ کا لوڈشیڈنگ کے خلاف PDآفس کا گھیراﺅ ابن جلال خبریں 1 25-10-08 11:56 AM
لیزر نیوکلیئر فیوژن میں مددگار محمدعدنان دیگر تحقیقات 0 21-05-08 06:40 PM
آئی سی ایل ورلڈ سیریز : انڈین الیون نے ورلڈ الیون کو شکست دیدی عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 13-04-08 09:37 AM
آئی سی ایل: پاکستان الیون نے ورلڈ الیون کونو وکٹ سے ہرادیا champion_pakistani کرکٹ 0 11-04-08 07:02 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger