واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-01-11, 09:05 AM   #1
ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 31-01-11, 09:05 AM

ہر گستاخ رسول سن لے، ہر شاتم رسول جان لے

گورنر سلیمان تاثیر کے قتل نے پاکستان اور پوری دنیا پریہ بات واضح کر دی ہے کہ مسلمان اپنی تذلیل ہونے پر تو صبر کرسکتے ہیں مگر جب بات حرمت رسول کی ہو، معاملہ ناموس رسالت کاہو تو پھر کٹ مرنا سعادت سمجھتے ہیں۔تاریخ اسلام میں پیش آنے والےسینکڑوں ہزاروںواقعات نے عملی طور پر اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ کے متعلق کوئی بدزبانی کرے توپھرشمع رسالت کے پروانوں کومرنے مارنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس دیوانگی میں اچھے یابرے مسلمان کی تخصیص نہیں، بلکہ اکثر ناموس رسالت پر اپنی جانِ عزیزان لوگوں نے قربان کردی جو علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں زیادہ نمایاں نہ تھے ۔پڑھے لکھےیا ان پڑھ کی بات ہی نہیں مولانا محمدعلی جوہر تو برطانیہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی کے فاضل تھے۔ ان کے یہ الفاظ ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:
”جہاں تک خود میرا تعلق ہے، مجھے نہ قانون کی ضرورت ہے نہ عدالتوں کی حاجت، اگر کوئی ہندوستانی اس قدر شقی القلب ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے، ان میں سب سے اشرف نبی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس برگزیدہ ہستی کی توہین کرکے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے … تو مجھ سے جہاں تک صبر ہوسکے گا، صبر کروں گا، جب صبر کا جام لبریز ہوجائے گا تو اٹھوں گا اور یا تو اس گندے دل ، گندے دماغ ، گندے دہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس کی کوشش میں کھو دوں گا“
سلیمان تاثیر کے قتل نے دنیا بھرکے ان تمام بد بخت کفار پر بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر حضور والا تبار علیہ الصلوٰة والتسلیم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا،جو مسلسل کبھی خاکے بنا کر اور کبھی کاٹون شائع کر کے امت کی دل آزاری کرتے ہیں۔اس لیے کہ تحفظ ناموس رسالت ہمارے دین و ایمان کاحصہ ہے اور یہ نعرہ امت کے ہرنوجوان کی زبان پر رہتا ہے کہ:”حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے‘ ‘ حضور کی ذات مبارکہ ہی ہمارے ایمان کی تکمیل،ہماری قوت کا سرمایہ ‘ ہماری وحدت کا راز اور ہماری زندگی کا شرف ہے۔آپ سے نسبت ہونے ہی سے توہم امت واحدہ بنے ہیں۔ آپ کے ذریعے ہی تو ہمیں اللہ کا آخری اور مکمل دین ملاہے۔ اقوامِ مغرب کومسلمانوں کے اس جذبے سے چڑ ہے اور انہیں ہر وہ نام نہاد مسلمان پسند ہے جس کے دل میں شریعت محمدی کی وقعت نہیں اورجومقام محمدِ عربی سے نا آشنا ہے۔اہل مغرب اس امت کی غیرت کی آزمائش کے لیے با بار ان کے مرکز محبت (حضور ر حمت اللعالمین)پر حملہ آور ہوتے ہیں۔پھر جب انہیں یقین ہونے لگتا ہے کہ اس امت کا دامن شاید ان دیوانوں سے خالی ہو گیا ہے جواپنی جان قربان کر کے دنیا پرثابت کر دیا کرتے تھے کہ شاتم رسول کی سزا صرف موت ہے،اچانک کوئی غازی علم دین شہید اٹھتاہے اور ان کی بد گمانی کو کافور کر دیتا ہے۔اہل مغرب مسلمان قوم کی اس ہیئت ترکیبی کو سمجھنے سے قاصر ہیں جس کے بارے میں حکیم الامت نے فرمایا تھا۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ملک ممتاز حسین قادری کو پاکستان بھر کے عوام نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔اس کے چہرے پر جو اطمینان اس روز تھا اور اس کی زبان پر جو کلمات جاری تھے اس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نے گورنر کا قتل کسی وقتی جوش میں آکر نہیں کیا، ایمانی حرارت اور عشق حضور رسالت مآب میں ڈوب کر کیا ۔یہی وجہ ہے کہ اٹھارہ کروڑمسلمانانِ پاکستان نے آنِ واحد میںممتاز قادری کو اپنا ہیرو قرار دے دیااور دوسری طرف علماءنے متفقہ اعلان کیا کہ سلمان تاثیر کا نماز جنازہ پڑھا جائے اور نہ ہی ہلاکت پراظہار افسوس کیا جائے۔ علمائے اہل سنت نے اپنے بیان میں کہا ، گستاخ رسول کا حمایتی بھی گستاخ ہے اور یہ کہ گستاخان رسول کی حمایت کرنے والے نام نہاد دانش ور‘ وزراء‘ سیاست دان اور اینکر پرسن بھی عبرت حاصل کریں۔ اس اعلان کے بعد نہ صرف بادشاہی مسجد اور کچھ دوسری مساجد کے خطیبوں نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا بلکہ گورنر ہائوس کی مسجد کے اپنے خطیب نے بھی سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ،نوکری چھوڑنے کے لیے تیار ہوں مگر سلمان تاثیر کی نماز جنازہ نہیں پڑھاﺅں گا۔خطیب شاہی مسجد کا کہنا تھا ، کمشنر لاہور نے رات ایک بجے ان سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی مگر انہوں نے معذرت کر لی۔ اس پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو نماز جنازہ پڑھانا پڑی۔ صرف اہل مغرب نے شور مچایا ،پاپائے روم نے احتجاج کیایا ان کی معنوی اولادنے۔عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈیکٹ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ تحفظ ناموس رسالت قانون کو تبدیل کرے ،لیکن پوپ بینڈیکٹ اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیوں نہیں دکھائی دیتیں جن کو امریکی عدالت نے ناکردہ گناہ کی پاداش میں 86سال قید بامشقت کی سزا سنا رکھی ہے۔ پاکستان میں مغرب کی نام نہاد این جی اوز نے ہاتھوں میں چندپلے کارڈ اٹھا کراپنے ہونے کا ثبوت دیا، دوسری طرف سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے سیکورٹی گارڈ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی ہیں،اس کا منہ چوما جا رہا ہے اور اسے غازی علم دین شہید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت کا قانون295-c جس کے تحت گستاخ ر سول آسیہ مسیح کو موت کی سزا سنائی گئی، مقتول گورنر کی نظر میں وہ کالا قانون تھا۔چنانچہ گورنر کی طرف سے مسیحی عورت کے حق میں بیان جاری کرنے کے بعد دارالعلوم حزب الاحناف لاہور کی جانب سے ایک فتویٰ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا سلمان تاثیر مجرمہ کی مدد کرکے نہ صرف مرتد اور منافق قرار پا چکے ہیں ،بلکہ آئین کے مطابق وہ کسی بھی اعلیٰ عہدے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔گورنر کے حامیوں کی طرف سے کہا گیا کہ سلیمان تاثیر کی نگاہ میںیہ قانون اس لیے کالا قانون تھا کہ ایک آمر ضیاءالحق نے بنایا تھا ۔یہ دعویٰ سر تا سر غلط ہے یہ قانون کسی آمر کابنایا ہوا نہیں تھا،بلکہ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کا قانون خود حضور نبی کریم ﷺ نے جاری فرمایاتھا اور اس کا نفاذبھی عدالت نبوی سے متعدد گستاخانِ رسول اور شاتمین رسالت پناہ کو سزائے موت دے کر کیا گیا۔نبی کریمﷺ کی زندگی میں ہی کفار مکہ آپ کے خلاف توہین آمیز کلمات سے خود کو تسکین دیا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقعے پر نبی کریمﷺ نے تمام دشمنان اسلام کو معاف کر دیا مگر آپ نے اس موقعے پر بھی توہین ررسول کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر خانہ کعبہ کے پردوں سے بھی چمٹے ہوئے ملیں تو انہیں وہیں قتل کر دیا جائے۔نبی کریمﷺ کا یہ حکم کسی ذاتی انتقام پر مبنی نہیں تھا بلکہ یہ جرم اللہ کی کتاب میں ناقابل معافی قرار پا چکا تھا۔اسی لیے گستاخان رسول کے لیے اس قانون کو پوری امت نے ہمیشہ شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق سمجھا اور اس جرم کی سزا کو حدودِ الہٰی میں شمار کیا۔ گستاخیِ رسول کی سزا اسلامی معاشرے میں روز اول سے قتل ہی رہی ہے۔ تاریخ اسلامی کے عظیم ہیرو صلاح الدین ایوبی نے زندگی بھر کسی جنگی قیدی کو بھی سزا نہیں دی تھی۔ وہ ایسا رحیم وشفیق تھا کہ دشمنوں کے لیے بھی اس کے دل میں نرمی وگداز تھا،مگر اس نے بھی یورپ کے شہزادے راجر کوشانِ رسالت ماب میں گستاخی کرنے پر اپنی تلوار سے قتل کیا ؛ کیونکہ راجرنے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اکھاڑ دے گا اور مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔ غازی صلاح الدین ایوبیؒ نے فرمایا تھا :”اگر میں نے اسے اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ نہ اتارا تو اپنے آقا کو روزِ محشر کیا منہ دکھاﺅں گا!!
یورپ میں دشمنان اسلام توہین رسالت کے جرم کا وقتاً فوقتاً ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ کچھ عرصے سے آزادی اظہار کے نام پریورپ میں یہ زہریلی ہوا چل پڑی ہے۔ اس ناقابل معافی جرم کا ارتکاب وہ جان بوجھ کرکرتے ہیں۔پہلی بار ڈنمارک کے ایک اخبار نے رسول اکرم ﷺ کے خاکے اور کارٹون شائع کیے۔اس سےپوری دنیائے اسلام میں غم و غصے کی لہر ابھری۔اہل مغرب نے کہایہ ہمارا حق ہے ہمیں آزادی اظہار سے نہیں روکا جا سکتا،مگر دنیا کی مقدس ترین ہستی کی توہین کا تعلق آزادی اظہار سے کیسے جوڑا جا سکتاہے۔بعض اسلامی ممالک نے ڈینش مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ،امت مسلمہ میں عوامی سطح پر بائیکاٹ ہوتا رہا ، لوگ اپنے اپنے اپنے طریقے سے غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے، مگر امت کے بے حمیت حکمران اس معاملے پرخاموش تھے ۔اسی سے فرانس، اٹلی، جرمنی اور ہسپانیہ کے اخباروں کی ہمت بڑھی انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی توہین پر مبنی ڈینش اخبارکے متنازع کارٹون شائع کیے ۔وہ اخبار جن میں یہ کارٹون شائع ہوئے ان میں پیرس سے شائع ہونے والا اخبار سواغ، جرمنی کا ڈائی ویلٹ، اٹلی کا لا سٹیمپا اور سپین کا ایل پیریڈیکو زیادہ نمایاں ہیں۔سوال یہ ہے اہل مغرب کو ایسا کارٹون بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ امت مسلمہ کو یہ بدترین گالی کس جرم میں دی گئی؟فرانس کے اخبار سواغ نے اپنے اس جرم کا مقصد یہ بتایا کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹرپن کی کوئی گنجائش نہیں ۔سواغ کی شہ سرخی یہ تھی:”ہاں، ہمیں خداتعالی کا خاکہ اڑانے کا حق بھی حاصل ہے“۔فرانسیسی مسلمانوں نے سواغ میں کارٹونوں کی اشاعت کو فرانس میں بسنے والے ستر لاکھ مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز قرار دیا ۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہناتھا،ہم نے اسلام آباد میں تعینات ڈنمارک کے سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر ڈینش اخبار میں پیغمبر اسلام کے بارے میں چھپنے والے کیری کیچرز کی اشاعت پر احتجاج کر دیا ہے۔یوں لگتا تھاجیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔اسی کا نتیجہ تھا کہ مغرب کے کفارآزادی اظہار کی آڑ لے کر مسلمانوں کی بچی کھچی غیرت کو تہس نہس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا تعلق ان کے مرکزِ محبت سے ختم کردیا جائے اور ان کو مکمل بے غیرت بنادیا جائے۔ممتاز قادری نے بتا دیاکہ ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔پاکستان کے حکمران بھی سن لیں کہ وہ اس قانون میں تبدیلی کرنے کی خواہش بھی نہ کریں،ایسا کرنے والے خود بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے اور معاشرے پر بھی ان کی بے غیرتی کی وجہ سے قہر نازل ہوگا۔
توہینِ رسالت کے مجرموں کی حوصلہ افزائی بجائے خود ناقابل معافی جرم ہے۔اس سے اسلام کے دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔جیسے ہی گورنر تاثیر مسیحی ملزمہ سے ملنے جیل گئے اور اس کے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ صدر سے اسے معافی دلوا کر دم لیں گے،امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے ملزمہ کو پناہ دینے کی پیشکشیں بھی سامنے آ نے لگیں،بلکہ درجنوں غیر ملکی اسلامی قانون کا تمسخر اڑانے کے لیے ضلع شیخوپورہ کے موضع اٹانوالی پہنچ کر ملزمہ کے رشتے داروں کو بھاری رقم بطور امداد دیتے ہوئے تسلیاں دینے لگے کہ فکر نہ کرو عالمی سطح پر دباﺅ ڈلوا کر ملزمہ کو رہا کرا لیا جائے گا۔ان لوگوں کو اور خود سلیمان تاثیر کو بھی اس بات کا علم نہ تھاکہ توہین رسالت کا جرم سر زد ہو جائے ،تو اسے معافی نہ تو صدر پاکستان دے سکتا ہے اور نہ کوئی اور۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے اس قانون میں ترمیم لانے کے لیے بل تیار کر لیا اور اسمبلی میں پیش بھی کر دیاتھا، مگر بھلا ہوممتاز حسین قادری کا،اس نے شیری رحمان اور ان کی حکومت کا ارادہ متزلزل کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس سے اس جرم کی سزا کے بارے میں یہ پکا اصول رہا ہے کہ توہین کا مجرم سچی توبہ کرکے آخرت کی سزا سے تو بچ سکتا ہے، دنیاوی سزا سے نہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ شاتمِ رسول گرفتار ہو کر توبہ کر لے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔
اس جرم کے مجرموں کے لیےیہ تخصیص نہیں کہ یہ گستاخی کسی غیر مسلم کی جانب سے ہی سرزد ہو، تو اسے سزا دی جائے گی۔ مسلمان سے بھی یہ جرم سر زد ہو گاتو اسے بھی قتل کیا جائے گا۔دفعہ295-c کے نفاذ کے بعد انیس برسوں میں توہین رسالت کے سات سوسے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ جرائم کے مرتکب مسلمان تھے۔ اس لیے پوپ کایہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ توہین رسالت قانون کا نشانہ صرف مسیحی ہی بنتے ہیں۔اسی طرح معترضین کے اس اعتراض کا واضح جواب تعزیرات پاکستان میں موجود ہے کہ یہ قانون بے گناہوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ194کہتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کرے اور اس کی خلاف جھوٹی گواہی دے جس کی سزا عمر قید یا موت ہو تو جھوٹا الزام لگانے والے اور جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو بھی عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ اسی شق میں یہ بات بھی موجود ہے کہ اگر کسی بے گناہ شخص پر جھوٹے مقدمے یا جھوٹی گواہی کے نتیجے میں سزائے موت نافذ ہو گئی تو قانون کے مطابق جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو بھی سزائے موت دی جائے گی۔عمر قید اور سزائے موت سے بڑھ کر کون سی سزا ہو گی جو اس قانون کا غلط استعمال کرنے والے کو دی جا سکتی ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ کا فرض ہے کہ اس قانون کے خلاف عالمی پیمانے پر جو زہریلا پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کا تدارک کریں۔خصوصاً دنیا کویہ بتانے کی ضرورت ہے کہ توہین رسالت کا جرم مسلمان کرے یا کوئی اور اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔
اہل مغرب میں جوجو لوگ اس جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں وہ بھی سن لیں کہ وہ بھی ذلت کی موت کے مستحق ہیں،اپنے حق میں موت کا فیصلہ انہوں نےخود کیاہے۔اس وقت امت یقینا کمزور ہے ہم خود اسلامی دنیا میں بھی تمام مجرموں کے لیے اس فیصلے کو نافذ نہیں کر سکتے ،لیکن بہر حال یہ کام ہو کر رہے گا۔یہ مسلمانوں کا اجتماعی فرض ہے کہ توہین رسالت کرنے والوں پر مقررہ سزا کانفاذ عمل میں لائیں ۔ہر گستاخ رسول سن لے اورہر شاتم رسول جان لے کہ آخرت میں تو اس کے لیے روسیاہی ہے ہی،لیکن دنیا میں بھی دشمنانِ رسالت کو پناہ نہیں ملے گی۔آئیے ہم سب مل کر اعلان کریں کہ امت کو جب بھی قوت حاصل ہو گی اوراسلام کوجب بھی غلبہ ملے گاوہ دنیا کے سارے گستاخانِ رسول کو ا س جرم کے ارتکاب کی سزا ضرور دیں گے۔وہ ملعون جو ہمارے آقا ومولا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی بھی نوع کی توہین کا ارتکاب کر چکے،کر رہے ہیں یا کریں گے،ان کو صفحہ ہستی سے مٹاناہمارا فرض بھی ہے اور ساری امت پر قرض بھی ۔

Last edited by عبدالہادی احمد; 31-01-11 at 06:23 PM..

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 394
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-01-11), کنعان (01-02-11), ھارون اعظم (31-01-11), محمد عاصم (04-02-11), محمدمبشرعلی (01-02-11), محمدعدنان (01-02-11), مرزا عامر (02-02-11), احمد بلال (31-01-11), ارشد کمبوہ (31-01-11), راجہ اکرام (31-01-11), عبداللہ آدم (31-01-11)
پرانا 31-01-11, 06:41 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

منتظمین حضرات سے ایک وضاحت مطلوب ہے،میرے تعارف میں مستقل طور پر "اجنبی" اور"جونیر ممبر"درج ہے۔ 64 برس کا ہو چکا ہوں اور 41برس سے صحافت میں ہوں، کب تک جونیر رہوں گااور دو برس سےمسلسل پاک نیٹ کا رکن ہونے کے باوجود میری اجنبیت کیسے دور ہو گی؟؟
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (02-02-11), sahj (01-02-11), کنعان (01-02-11), ھارون اعظم (31-01-11), محمدعدنان (01-02-11), ارشد کمبوہ (31-01-11)
پرانا 31-01-11, 09:54 PM   #3
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,342
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,894 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،

عبد الہادی احمد صاحب، آپ کے 100 مراسلے پورے ہونگے تو پھر جونئیر ممبر سے سینئر ممبر ہوجائیں‌ گے۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), کنعان (01-02-11), ارشد کمبوہ (31-01-11)
پرانا 31-01-11, 10:30 PM   #4
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
جی عبد الہادی احمد صاحب یہ جونیئر کا دم چھلا 50 مراسلوں کے بعد ہی اترے گا۔
شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), کنعان (01-02-11)
پرانا 01-02-11, 08:56 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جونیر سے سینیر بننے کے لیے 50 مراسلے کی شرط ہے یا 100 کی؟ اوراجنبی کیسے آشنا بنتا ہے یہ بھی تو بتائیں!!
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (01-02-11)
پرانا 01-02-11, 10:19 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سارے ٹیگ اپکے مراسلات کی تعداد پر انحصار کرتے ہیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), ھارون اعظم (01-02-11)
پرانا 01-02-11, 10:35 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,070
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,619 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم مکرمی عبد الہادی صاحب
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے
اگرچہ آپ کے نام کے ساتھ اجنبی اور جونیئر کے لاحقے لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اپنی تحریروں کی وساطت سے آپ نہ صرف ’آشنا‘ بن گئے ہیں بلکہ انسیت کا ایک تعلق قائم ہو چکا ہے۔
اور مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ ہمارے اس خاندان ’’پاک نیٹ‘‘ کا حصہ ہیں۔ اور آپ جیسے تجربہ کار اور صاحب علم حضرات کی سرپرستی ہمیں حاصل ہے۔

امید ہے کہ یہ تعلق ہر آنے والے دن کے ساتھ مضبوط تر ہو گا اور ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا
پاک نیٹ کی ترقی اور میری خصوصی ہدایت کے لئے دعا کیا کریں
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), ھارون اعظم (01-02-11), محمدعدنان (01-02-11)
پرانا 01-02-11, 11:13 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,038
شکریہ: 7,103
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
جی عبد الہادی احمد صاحب یہ جونیئر کا دم چھلا 50 مراسلوں کے بعد ہی اترے گا۔
شکریہ
پچاس بندوں کو الگ الگ مراسلات میں سلام کرلیجئے یا پھر ایک بندے کو پچاس سلام کرلیجئے
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), ھارون اعظم (01-02-11), محمدعدنان (01-02-11), ارشد کمبوہ (01-02-11)
پرانا 01-02-11, 11:14 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,070
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,619 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پچاس بندوں کو الگ الگ مراسلات میں سلام کرلیجئے یا پھر ایک بندے کو پچاس سلام کرلیجئے
تجربہ بولتا ہے
۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (01-02-11), ھارون اعظم (01-02-11), محمد عاصم (04-02-11), محمدعدنان (01-02-11)
کمائي نے راجہ اکرام کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-02-11 ھارون اعظم sixer 50
پرانا 01-02-11, 07:06 PM   #10
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
جونیر سے سینیر بننے کے لیے 50 مراسلے کی شرط ہے یا 100 کی؟ اوراجنبی کیسے آشنا بنتا ہے یہ بھی تو بتائیں!!
السلام علیکم
چچا جان، جونئیر ممبر 50 مراسلوں کے بعد صرف ممبر بنے گا۔ 100 تک وہ صرف ممبر رہے گا۔ سنچری سکور کرنے پر آپ سینئر ممبر بن جائیں گے۔ اور پھر قائداعظم والے بیج لگنے بھی شروع ہوجائیں گے۔
بہرحال ہمارے لیے آپ اب بھی سینئر اور محترم ہیں۔
والسلام علیکم
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (01-02-11)
پرانا 02-02-11, 05:00 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم فارق سرور خان صاحب!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کو میرے پچاس،بلکہ پچاس ہزار سلام !!
لیجیے آپ کی شرط تو پوری ہوگئی۔لیکن میرا خیال ہے اس سے بھی میری اجنبیت دورنہیں‌ہوگی۔ویسے ایک بات قابلِ غور ہے کہ ایک شخص محض پچاس سلام کرکے کوالی فائی کر لے اور دوسرا دس بیس گھنٹے مغز سوزی کرکے مضمون لکھے اور اس سے کہا جائے،ایسے 49 مراسلے اور لکھو گے،تو بات بنے گی ورنہ اجنبی ہی رہو گے،جونیر ہی شمار ہوتے رہو گے۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (02-02-11), محمد عاصم (04-02-11)
پرانا 02-02-11, 05:15 PM   #12
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالہادی احمد مراسلہ دیکھیں
لیکن میرا خیال ہے اس سے بھی میری اجنبیت دورنہیں‌ہوگی۔ویسے ایک بات قابلِ غور ہے کہ ایک شخص محض پچاس سلام کرکے کوالی فائی کر لے اور دوسرا دس بیس گھنٹے مغز سوزی کرکے مضمون لکھے اور اس سے کہا جائے،ایسے 49 مراسلے اور لکھو گے،تو بات بنے گی ورنہ اجنبی ہی رہو گے،جونیر ہی شمار ہوتے رہو گے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
چچا جان، جونئیر ممبر 50 مراسلوں کے بعد صرف ممبر بنے گا۔ 100 تک وہ صرف ممبر رہے گا۔ سنچری سکور کرنے پر آپ سینئر ممبر بن جائیں گے۔ اور پھر قائداعظم والے بیج لگنے بھی شروع ہوجائیں گے۔
بہرحال ہمارے لیے آپ اب بھی سینئر اور محترم ہیں۔
والسلام علیکم
السلام علیکم
کیا چچا اجنبی ہوتے ہیں۔
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-02-11, 08:29 PM   #13
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چاچا جی آپ یہاں پر آکر Senior Member کی گنتی پوری کرلیں

اردو فورمز کی سب سے لمبی تھریڈ!!!!!!!
ALI-OAD آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-02-11, 08:32 PM   #14
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چاچا جی آپ یہاں پر آکر Senior Member کی گنتی پوری کرلیں

اردو فورمز کی سب سے لمبی تھریڈ!!!!!!!
ALI-OAD آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوں،, ہونے, ہے۔, ہے،میرے, کیسے, پاک, وضاحت, چکا, نیٹ, منتظمین, ممبر, مستقل, مطلوب, اجنبی, باوجود, برس, تعارف, جونیر, حضرات, دور, درج, رہوں, رکن, طور, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
سوچ رہا ہے پاکستان فرحان دانش دلچسپ اور عجیب 2 15-11-09 06:52 PM
قادیانی مرزائی سب سے بڑے گستاخ رسول غازی اسلام عقیدہ رسالت 11 20-03-09 04:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger