استغفراللہ ربی من کل ذنب و التوب الیہ:-
ہم الحمداللہ مسلمان ہیں اور ایک مسلمان ملک میں رہ رہےہیں لیکن ہمارے ہاں اسلام کوپوری طرح سمجھا نہیں جاتاہے بلکہ ہرجگہ پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے کوششیں کی جاتیں ہیں اور قومی طور پر بھی اور بین الاقوامی طور پر میڈیا اسلام کے خلاف لکھتارہتاہے اور اسلام پر اعتراضات کرتاہے رہتاہے لیکن حقیقت میں بات یہ ہےکہ ہم لوگوں نے دراصل اسلام کو بس اپنا اوڑھنا بوچھنا تو بنالیاہے لیکن عملی طور پر اسلام سے بہت دور ہوچکے ہیں۔ اور اصل میں بات یہ ہےکہ دنیابھر میں بدنام مسلمان ہیں اسلام آج بھی اپنی آفاقی ہدایت کے ساتھـ انسانوں کی رہنمائی کے لئے موجود ہے لیکن بات ہے اس کی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی جبکہ ہم ان دونوں صورت حال سے دور ہوچکے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زندگی کا مقصد اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اپنے سٹیٹس کو بنالیاہے اوربس اپنی ساری توانائیاں دولت کے حصول کے لئے خرچ کررہے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہ دولت آئی کہاں سے ہے اور وہ طریقہ حلال ہے یا کہ حرام بس دولت کی ہوس نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے جبکہ رزق کا وعدہ تو اللہ تعالی نے واضح طور پر قرآن مجید میں ارشاد فرمایاہے۔
وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ
اور آسمان میں تمہارا رِزق (بھی) ہے اور وہ (سب کچھ بھی) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
22-51
لیکن ہم لوگوںنے رزق کے لئے اپنے آپ کو اس بری طرح تباہ کرلیا ہے کہ اللہ کی عبادت کے لئے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔
اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں پانچ چیزیں ایسی ہیں جوکہ عذاب الہی کو دعوت دیتیں ہیں لیکن ہم میں یہ چیزیں اب ایک عام سی چیز بن چکیں ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ جب کسی قوم میں خیانت ظاہر اور کھلم کھلا ہونے لگتی ہے اللہ تعالی اس قوم کے دل میں اس کے دشمنوں کا خوف اور ڈر ڈال دیتاہے اور جب کوئی قوم میں زنا کاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں بکثرت موتیں ہونے لگتی ہیں اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگتی ہے تو اس کی روزی کاٹ دی جاتی ہے اورجوقوم ناحق فیصلہ کرنے لگتی ہے اس قوم میں خون ریزی پھیل جاتی ہے اورجوقوم عہدشکنی اوربدعہدی کرنے لگتی ہےاس قوم پر اس کے دشمن کوغالب ومسلط کردیاجاتاہے۔
(مشکوۃ باب تغیر الناس ص 469)
اب ان پانچ باتوں کی روشنی میں ہم دیکھیں کہ ہم بحثیت قوم کہاں پر کھڑے ہیں۔
1- جب کسی قوم میں خیانت ظاہر اور کھلم کھلا ہونے لگتی ہے اللہ تعالی اس قوم کے دل میں اس کے دشمنوں کا خوف اور ڈر ڈال دیتاہے
اب ہم نے خیانت کو تو ایک معمولی سی چیز سمجھـ لیا ہے بالکل اس آدمی کو جوخیانت کرتاہے اس کو عقل مند کہاجاتاہے کہ اس نے بہت ہی عقلمندی سے دوسرے کے ساتھـ خیانت کی ہےجو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کی کھلم کھلا دشمنی کے مترادف ہے۔ جسکی وجہ سے ہم لوگ دشمن سے خوف زدہ ہیں کہ وہ ہم پر کہیں حملہ ناں کردے بلکہ ہر ہرچیز کا الزام ہم لوگ امریکہ یا بھارت کے ذمے لگاکربری الذمہ ہوجاتےہیں جبکہ اپنے فرائض کو ادا کرنے میں غفلت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ عذاب ہم پر ہورہاہے۔
2- جب کوئی قوم میں زنا کاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں بکثرت موتیں ہونے لگتی ہیں۔
دوسرا زنا ہے جسکی لت میں اس بری طرح مبتلاہوچکے ہیں کہ الامان کہ اب ظالم بچوں کو بھی اس مذہوم جرم میں نہیں چھوڑتےہیں تو اسکی وجہ سے دوسرا عذاب بکثرت موتیں ہیں اس کی مثال میں کراچی اور کوئٹہ بلکہ پورا ملک میں اسطرح موتیں ہورہی ہیں کہ اللہ تعالی کی پناہ لیکن ہم لوگ اس گناہ میں بری طرح گرفتار ہوچکے ہیں اس کاسبب بھی اسلام کی تعلیمات سے دوری ہے کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان رہ چکےہیں اور بس باقی ہمارے کام ایسے ہیں جن کو دیکھـ کر شیطان بھی شرماتاہوگا۔
3- جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگتی ہے تو اس کی روزی کاٹ دی جاتی ہے۔
اسی وجہ سے آج ہم دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ناپ تول میں کمی اسطرح ہماری زندگیوں میں شامل ہوچکی ہے کہ اس گناہ کومعیوب نہیں سمجھاجارہاہے بلکہ بڑے فخر سے ایکدوسرے کو بیان کیاجاتاہے کہ آج میں نےناپ تول میں کمی کرکے اتنے لوگوں کو بیوقوف بنایا۔جبکہ اسی وجہ سے آج ہم لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اتناکمانے کےباوجودپیسے میں برکت نہیں ہے ہمارے ضروریات زندگی پوری طرح پوری کیوں نہیں ہوتیں۔ اس کی سبب یہی ہےکہ بحثیت قوم ہم میں یہ گناہ شامل ہوچکاہے تقریبا یہ گناہ تو تقریبا نوے فی صدی لوگوں میں پایاجاتاہے۔ کیونکہ یہ پیسے کمانے کےلئے شاٹ کٹ کے طور پراستعمال کیاجاتاہے حالانکہ یہ پیسے سے برکت کوختم کردیتاہے اورروزی کی کمی کاسبب بنتاہے۔ جسطرح ہمارا یہ خیال ہوتاہے کہ زکوۃ دینے سے ہمارا کام کم ہوتاہے حالانکہ ہمارا مال بھی پاک ہوتاہے اور اس میں بڑھوتری بھی ہوتی ہے یہی ہے ناپ تول میں کمی کے گناہ میں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کمی کرکے ہم زیادہ رقم کمائیں گے حالانکہ یہ مال میں سے برکت ختم کردیتی ہے جوکہ روزی کی کمی کاسبب بنتی ہے۔
4- اورجوقوم ناحق فیصلہ کرنے لگتی ہے اس قوم میں خون ریزی پھیل جاتی ہے۔ ہمارے ہاں عدالتوں کا نظام اس بری طرح پٹ چکاہےکہ الامان قاتل اس طرح دندناتے پھرتے ہیں ان کو سزادینے کا صحیح نظام نہیں ہے اور عدالتیں صحیح طورپر مجرموں کو سزا نہیں دے رہی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول تو ہرکوئی جانتاہے کہ جسکامفہوم یہ ہےکہ معاشرہ ظلم پر توقائم رہ سکتاہے لیکن بے انصافی پر قائم نہیں رہ سکتاہے۔ یہی وجہ ہےکہ انتشار اس بری طرح معاشرے میں سرایت کرچکاہے کہ ہرکوئی ایکدوسرے سے سہماسہمانظرآتاہے اور خون ریزی بھی اس بری طرح پھیل چکی ہے کہ لوگوں کے خون کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہ گئی بلکہ گاجرمولی کی طرح ان کو کاٹاجاتاہے۔
5- اورجوقوم عہدشکنی اوربدعہدی کرنے لگتی ہےاس قوم پر اس کے دشمن کوغالب ومسلط کردیاجاتاہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےیہ بھی ارشادفرمایاتھاکہ عہدشکنی اوربدعہدی کرنے سے دشمن کوغالب ومسلط کردیاجاتاہے لیکن بحثیت قوم یہ برائی ہم میں اتنی پھیل چکی ہے اور اس برائی کو بھی اب معمول کی بات سمجھـ لیاجاتاہے حالانکہ اس کی وجہ سے ہم پر عذاب اس بری طرح نازل ہورہےہیں لیکن ہم ہیں کہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور اپنی دنیامیں مست ہیں۔ بلکہ وہ کیاکہتےہیں کہ اس برائی میں تقریبا ہرآدمی مبتلاہے کیونکہ عہدشکنی کو تو ہم نے معمولی سا گناہ سمجھـ لیاہے جبکہ اس کی وجہ سے خدانخواستہ اللہ تعالی ہم پر کوئی دوسری قوم کوغالب ومسلط کردیتےہیں۔ جبکہ میں تو کہتاہوں کہ امریکہ وبھارت اس بری طرح ہمارے عاصبوں پرقابض ہوچکےہیں کہ ہرہربات میں انہی پر الزام دھردیاجاتاہے اوراپنی صلاح نہیں کی جاتی ہے۔
جبکہ اس وقت ہم سب کو ان حالات سے صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات باری تعالی ہی بچاسکتی ہے اور اللہ تعالی توبندے کومعاف کرنے کا انتظارکرتےہیں۔ جب کوئی گناہ کرکے اس سے توبہ طلب کرتاہے تووہ انسان کے پچھلےتمام گناہوں کو معاف کردیتےہیں۔ انسان کو چاہیے کہ توبہ میں جلدی کرنی چاہیے کیونکہ موت کاکوئی علم نہیں کہ کب انسان کواس دارفانی سے کوچ کرناپڑے۔ اوروہ اللہ تعالی تو انسان کو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیارکرتےہیں جبکہ ایک ماں بھی بچے کےلئے کتنے دکھـ درد سہتی ہے لیکن بچے کو کچھـ نہیں ہونے دیتی تو اللہ تعالی توسترماؤں سےبھی زیادہ محبت کرتےہیں۔ ہماری تمام پریشانیوں کا حل اجتماعی توبہ میں چھپاہواہے اوراپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ مانگیں اور یہ تہیہ کریں کہ آج کے بعد ہم نے ان تمام گناہوں سے پیچھاچھڑاناہے۔ اور اپنی زندگی کو اسلام کے سہنری اصولوں کی روشنی میں گزارنے کے لئے حتی الوسیع کوشش کرنی ہے۔ جبکہ یہ رمضان کامہینہ ہے اس میں رب تعالی کی رحمتیں جوش مار رہیں ہوتی ہےہمیں آج ہی بلکہ ابھی اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرکے اللہ تعالی کے احکام کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالناہے۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ ہم کو توبہ کی توفیق عطاء فرمائیں اور اپنے تمام گناہوں سے نجات عطافرمائیں اور اپنے حکامات پرتعمیل کرنے کی توفیق عطاء فرمائيں۔ آمین ثم آمین
ہماری ضرورت اجتماعی توبہ