|
ہم ذوق پرست: برائی کے مرُغے (سائرہ غفار)

07-07-11, 10:44 AM
قدیم تاریخ کے مطابق ہم جنس پرستی کا آغاز قومِ لوط سے ہو اتھا، جسکا ذکر ہمیں قرآنِ کریم میں بھی ملتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق قومِ لوط اس برائی بلکہ بیماری میں پوری طرح سی مبتلا تھی اور بار بار تنبیہہ اور منع کرنے کے باوجود بھی اسی برائی میں مبتلا رہی۔ نتیجتاً اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں عبرت کا نشان بنا کر ساری دنیا کو سبق حاصل کرنے کا ایک اور موقع عنایت فرما دیا اور اپنے قہر کو ظاہر کرکے یہ بھی بتا دیا کہ ہم جنس پرستی ایک قبیح اورمذموم فعل ہے اور اس کے مرتکب افراد کے لئے قرآنِ کریم میں سخت ترین سزاﺅں کا بھی ذکر ہے۔
ہم سب کا پختہ ایمان ہے کہ مرنے کے بعد ہم سب کو زندہ کیا جائے گا اور نیک اعمال کرنے والوں کو مرنے کے بعد ان کا نامئہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ارو وہ پُلِ صراط سے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ گزریں گے۔ اس دن ہر انسان چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کے لئے ترسے گا اور سوچے گا کہ کاش میں نے یہ عمل کیا ہوتا تو آج میری نیکیوں کا پلڑا ذرا اور بھاری ہو جاتا۔ کسی بھی برے کام کو کرنا ہی صرف گناہ نہیں بلکہ اس برے کام میں شریک ہونااور خاموش تماشائی بن کر اس برائی کو پھلتے پھولتے دیکھنا بھی گناہ میں شامل ہے۔ ظلم کے خلاف اپنے طور پر اپنے وسائل میں رہتے ہوئے آواز بلند نہ کرنے والا بھی آخرت میں یہ گناہ اپنے سر پائے گا۔
پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والا ہر وہ واقعہ جو برائی کے زمرے میں آتا ہے،اس کے پیچھی ایک عدد امریکی ماسٹر بلکہ پرنسپل ہوتا ہے۔امریکی پرنسپل جب بھی پاکستان کے دورے پر آتا ہے تو ایک عدد برائی کا مرغا ساتھ لے کر آتا ہے۔ امریکی پرنسپل برائی کے مرغے کو بغل میں تھامے خراماں خراماں چلتا ہوا ایوانِ صدر میں داخل ہوتا ہے تو برائی کا مرغا بغل میں مچلنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ پاکستان کا ماحول اس کی عادات و اطوار سے میل نہیں کھاتا۔ مگر امریکی پرنسپل وہ مرغا پاکستان کے حکمران کو پیش کردیتا ہے۔ پاکستان حکمران اپنی اسمبلی میں موجود ڈھیروں ڈھیر میٹرک فیل باورچیوں کو فوراً طلب کرتا ہے اوران سے مرغا پکانے کی مختلف تراکیب پر اظہارِ خیال کرتا ہے۔ آخر ایک منظورِ نظر باورچی کی گھٹیا سی ترکیب کو فائنل کر کے اس کے کاغذات پر دستخط کر دئے جاتے ہیں اور یوں یہ برائی کا مرغا خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر پاکستانی عوام کے لئے حلال کہہ کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام اس مہنگے ترین مرغے کو چٹکی بھر خرید کر بمشکل زہر مار کرتی ہے۔ یوں سارا پاکستان خوش و خرم زندگی بسر کرتا ہے۔
امریکی پرزور کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ کسی طریقے سے پاکستان جیسی اسلامی ریاست کو ایک آوارہ اور عیاش ریاست میں بدل دے، جس کا اسلام سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہ ہو۔ اب تک امریکہ اپنی تمام ناپاک کوششوں میں تھوڑا بہت تو کامیاب ہو اہی ہے مگر زیادہ تر اسے منہ کی ہی کھانی پڑی ہے۔ امریکہ کی روشن خیالی دیکھ کر مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اس ساسو ماں کے جیسا ہے جو اپنی بہو پر دنیا بھر کے مظالم توڑ دیتی ہے اپنا حق سمجھ کر مگر اگر اس کی بیٹی کو کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھ لے تو اس کا جینا دوبھر کر دیتی ہے۔
ایک بات جو مجھے اور میرے خیال سے کسی بھی پاکستانی کو سمجھ نہیں آتی کہ جب ہم نے یہ وطن اور آذاد خودمختار ریاست پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کی تھی تو آخر اس کی بنیادوں کو کمزور ہوتے چپ چاپ کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اسلام تو ایسا مذہب ہے جو انسان کو مکمل ضابطئہ حیات سکھاتا ہے۔ مگر یہ ہمارے حکمران کب سمجھیں گے؟قرآن کریم میں اللہ نے انسان کو ہی عنوان کے طور پر چنا ہے اور اس عظیم کتاب میں انسان کی زندگی کا ہر وہ پہلو بیان فرمایا ہے جس کو جاننے اور سمجھنے کی ایک انسان کو ضرورت ہے پھر بھی ہمیں غیر مسلم کیوں آکر بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں پر عمل کرنا چاہئے؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کافروں سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ وہ کبھی بھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔یہ بات اور یہ سچائی پاکستان کے اندھے حکمرانوں کو نہ نظر آتی ہے اور نہ نظر آسکتی ہے کہ جس کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھی ہو وہ جنت کے خوابوں سے بھی محروم رہتا ہے۔
بشکریہ : کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
|
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|