واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ہم سب ایک ہیں ہماری باتیں بھی ایک ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-11, 03:24 PM   #1
ہم سب ایک ہیں ہماری باتیں بھی ایک ہیں
عصمت عصمت آف لائن ہے 13-05-11, 03:24 PM

السلام علیکم:
دوستو :میں نے سوچا کیوں نہ ہم سب مل کر ایک دوسرے کی مدد کریں ایک دوسروں کے مسلے سنے اور ان کا حل تلاش کریں
ایک اچھے مسلمان اورایک اچھے دوست بھائی کی طرح
آو دوستو میں سب کو دعوت دیتا ہوں
وہ مسائل جو ہمیں پریشان کیئے رکھتے ہیں ایک دوسرے کو بتاتے ہیں اور ان کا حل تلاش کرتے ہیں
جو دوست ساتھ دینا چاہئے پلیز اپنا تعارف کرائیں:
--------------------------------------------------------------
بعض مخصوص گروہ بھی تشکیل پاتے ہیں جن میں اپنے آپ کو اذیت پہنچانے والے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو جذباتی طور پر سہارا دیتے ہیں اور قابل عمل مشورے دیتے ہیں۔ اپنی پریشانیاں اور مسا ئل ایک گروپ کے ساتھ بانٹنے سے آپ اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہیں کرتے، گروپ کے باقی افراد بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔

باہمی تعلقات میں بہتری کے لیے مدد

اپنے آپ کواذیت اکثر اوقات قریبی رشتوں میں مسا ئل کی وجہ سے بھی پہنچائی جاتی ہے۔ اس صورت میں رشتوں (رشتے داریوں) میں مسا ئل حل کرنا ضروری ہے۔

ماہر ین سے بات کر یں

وہ لوگ جو مسا ئل سے فرار حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں، مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

Problem Solving Therapy

Cognitive Psychotherapy

Psychodynamic Psychotherapy

Cognitive Behavior Therapy

گھریلو (فیملی) افراد کے ساتھ ماہرین سے مشترکہ گفتگو جہاں ممکن ہو گھریلو افراد کے ساتھ ماہرین سے مشترکہ گفتگو بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے گھریلو ماحول میں موجود تناؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔

گروپ کی صورت میں علاج معالجہ

یہ اپنی مدد آّپ سے مختلف طریقہ ہے۔ اس میں مریضوں کا ایک گروہ (گروپ) کسی ماہر کی رہنمائی میں کام کرتے ہوئے ارکان کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ دوسروں سے اپنے تعلقات بہتر بناسکیں۔

سب سے بہتر طریقہ کون سا ہے؟

اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا طریقہ دوسروں سے بہتر ہے، مگر جو ریسرچ موجود ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ پرابلم سولونگ تھراپی (ایسا طریقہ جس میں زندگی کے مسائل کو براہَ راست حل کرنے کی طرف توجہ ہو ) اور طریقوں سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

اگر میں مدد نہیں لوں گا ۔

تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص جو پہلی دفعہ اپنے آپ کو اذیت پہنچاتا ہے ایک سال میں دوبارہ ایسا کرتا ہے۔

تقریباً ہر سو میں سے تین اشخاص جو اپنے آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں اگلے پندرہ سال میں خود کشی کر لیتے ہیں۔ یہ خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ ہے جو اپنے آپ کو اذیت نہیں پہنچاتے۔ عمر گزرنے کے ساتھ خود کشی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مردوں میں اس کا احتمال زیادہ ہو تا ہے۔

کاٹنے سے مستقل نشانات آسکتے ہیں، انگلیوں میں کمزوری ہو سکتی ہے انگلیاں سن ہو سکتی ہیں یا انگلیاں کام کرنے سے معذور ہو سکتی ہیں۔

میں اپنی مدد کیسے کر سکتا ہوں؟

جب آپ کو اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کا خیال آئے اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے خیالات تھوڑی دیر میں چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنی پریشانی کو بغیر اپنے آپ کو اذیت پہنچا ئے برداشت کر لیں تو وہ پریشانی اگلے چند گھنٹوں میں آسان ہو جائے گی۔

آپ کسی سے بات کر سکتے ہیں اگر آپ اکیلے ہیں تو کسی دوست کو فون کر لیجئے اگر آپ ایسے شخص کے ساتھ ہیں جس کے ساتھ رہنے سے آپ کو برا محسوس ہو گا ، اس جگہ کو چھوڑ دیں - باہر جا کر، گنگناکر، موسیقی سن کر، یا کو ئی بھی ایسا کام کر کے جو آپ کو پسند ہو اپنی توجہ دوسری طرف لگائیے اپنےآپ کو پرسکون کیجئے او ذہن میں کسی خوشگوار لمحے کا سوچیں-

اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈیں جیسے برف کے ٹکڑوں کو مٹھی میں دبانا،( آپ اس کو لال رنگ سے بھی بنا سکتے ہیں تاکہ یہ خون سے ملتے جلتے نظر آئیں اگر خون دیکھنا آپ کے لئے اہم ہے) اپنے جذبات کا اظہار اپنی جلد پر لال لکیریں ڈال کر بھی کر سکتے ہیں

اپنے آپ کو بے ضرر درد پہنچائیں جیسے لال مرچیں کھا کر یا ٹھنڈے پانی سے نہاکر۔

اپنے ذہن کی توجہ مثبت پہلو وں پر مرکوز کریں

ایک ڈائری یا خط لکھئے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے

کسی اور کو اس بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں۔

کوئی ایسا کام کریں جو آپ کو اچھا لگے، مثلاً اپنی مالش کروانا۔

جب اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے خیالات ختم ہو جا ئیں۔

جب اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کی طلب ختم ہو جائے اور آپ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں اس وقت کے بارے میں سو چئے جب آپ نے اپنے آپ کو اذیت پہنچائی تھی اوراسوقت کیا عمل مدد گار ثابت ہو سکتا تھا:

اپنے ذہن میں اس وقت کے متعلق سو چئے جب آخری دفعہ آپ نے چاہا تھا کہ آپ اپنےآپ کو اذیت نہ پہنچا ئیں پھر وہاں سے اپنی سو چیں آگے بڑھا ئیں۔ آپ کہاں تھے ، آپ کے ساتھ کون تھا اور آپ کیا محسوس کر رہے تھے۔ اس بارے میں غور کیجئے کہ آپ نے اپنے آپ کو اذیت پہنچانے کے بارے میں کیوں سوچا تھا۔

کیا اپنے آپ کو اذیت پہنچانے سے آپ کو تحفظ کا احساس یا قابو میں ہو نے کا احساس ہوا تھا؟ ان طریقوں کے متعلق سوچیں جو آپ کو اسی طرح کا احساس دیں لیکن اس میں اذیت رسانی شامل نہ ہو۔
----------------------------------------------------------------------------------------------
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
-

Last edited by عصمت; 13-05-11 at 04:01 PM..

 
عصمت's Avatar
عصمت
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 149
Reply With Quote
عصمت کا شکریہ ادا کیا گیا
صبیحہ (13-05-11)
پرانا 13-05-11, 04:20 PM   #2
Senior Member
 
صبیحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ااچھا لکھا اپ نے عصمت۔
صبیحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-05-11, 04:54 PM   #3
Senior Member
 
عصمت's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
کمائي: 7,813
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
عصمت کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عصمت کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اينگزائٹي(گھبراہٹ) اور فوبيا

تعارف

گھبراہٹ ايک عام انساني احساس ہے? ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسي مشکل يا کڑے وقت سے گذرتے ہيں?

خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے ميںعام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفيد ثابت ہوسکتے ہيں? تاہم اگر يہ احساسات شديد ہوجائيں يا بہت عرصے تک رہيں تو يہ ہميں ان کاموں سے روک سکتے ہيں جو ہم کرنا چاہتے ہيں اور اس کے نتيجے ميں ہماري زندگي تکليف دہ ہوسکتي ہے?

فوبيا کسي ايسي مخصوص صورتحال يا چيز کا خوف ہے جو خطرناک نہيں ہوتي اور عام طور پر لوگوں کے ليے پريشان کن نہيں ہوتي?

گھبراہٹ کي علامات

ذہني علامات

جسماني علامات



ہر وقت پريشاني کا احساس

تھکن کا احساس

توجہ مرکوز نہ کرپانا

چڑچڑے پن کا احساس

نيند کے مسائل

دل کي دھڑکن محسوس ہونا

زيادہ پسينہ آنا

پٹھوں ميں کھنچاؤ اور درد ہونا

سانس کا تيزي سے چلنا

سر چکرانا

بے ہوش ہو جانے کا ڈر ہونا

بدہضمي

اسہال



گھبراہٹ کا شکار افراد ان علامات کي وجہ سے يہ سمجھتے ہيں کہ انہيں کوئي شديد جسماني بيماري ہو گئ ہے، گھبراہٹ سےان علامات ميں اور زيادہ اضافہ ہو جاتا ہے? گھبراہٹ کے غير متوقع اچانک دورے پينک (Panic) کہلاتے ہيں ? اکثر گھبراہٹ اور پينک کے ساتھ ڈپريشن بھي ہوتا ہے? جب ہم اداس ہوتے ہيں تو ہماري بھوک ختم ہوجاتي ہے اور مستقبل تاريک اور مايوس کن نظر آتا ہے?

فوبيا (Phobia)

ايک ايسا شخص جسے فوبيا ہو اس ميں اوپر بيان کي گئي گھبراہٹ کي شديد علاما ت پائي جاتي ہيں? ليکن يہ اس وقت ظاہر ہوتي ہيں جب وہ کسي ايسي خاص صورتحال ميں ہوں جس ميں انہيں شديد گھبراہٹ ہوتي ہو? ديگر اوقات ميں انہيں گھبراہٹ نہيں ہوتي? اگر آپ کو کتوں کا خوف ہو تو آپ اس وقت بالکل ٹھيک ہونگے جب کتے آپ کے آس پاس نہ ہوں? اگر آپ کو بلندي کا خوف ہو تو زمين پر آپ ٹھيک رہيں گے? اگر آپ ہجوم کا سامنا نہ کرسکتے ہوں تو اکيلے ميں آپ آرام سے رہيں گے?

فوبيا ميں مبتلا شخص ايسي ہر صورتحال سے بچنے کي کوشش کرتا ہے جو اسے گھبراہٹ ميں مبتلا کرسکتي ہے ليکن اصل ميں اس طرح وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ يہ فوبيا شديد ہوجاتا ہے? اس کا يہ بھي مطلب ہوسکتا ہے کہ متاثرہ شخص کي زندگي ان احتياطي تدابير کي محتاج ہوجائے جو اسے ان صورتحال سے بچنے کے ليے اختيار کرني پڑتي ہيں? اس بيماري سے متاثرہ افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ايسا کوئي حقيقي خطرہ نہيں ہے، انھيں اپنے خوف بيوقوفانہ لگتے ہيں ليکن اس کے باوجود وہ انھيں کنٹرول نہيں کرسکتے? وہ فوبيا جو کسي پريشان کن واقعے يا حادثے کے نتيجے ميں شروع ہوا ہو اس کے ختم ہونے کے امکانات زيادہ ہوتے ہيں?

کيا يہ عام ہيں؟

ہر دس ميں سے ايک شخص کو زندگي ميں کبھي نہ کبھي تکليف دہ گھبراہٹ يا فوبيا کا سامنا ہوتا ہے? تاہم زيادہ تر افراد اس کا علاج نہيں کرواتے?

وجوہات

ہم ميں سے کچھ لوگوں کي طبيعت اس طرح کي ہوتي ہے کہ وہ ہر بات پہ پريشان رہتے ہيں? تحقيقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کي طبيعت جينز کے ذريعے وراثت ميں بھي مل سکتي ہے? تاہم وہ لوگ بھي جو قدرتي طور پر ہر وقت پريشان نہ رہتے ہوں اگر ان پر بھي مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھي گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہيں?

کبھي کبھار گھبراہٹ کي وجہ بہت واضح ہوتي ہے اور جب مسئلہ حل ہوجائے تو گھبراہٹ بھي ختم ہوجاتي ہے? ليکن کچھ واقعات اور حالات اتنے تکليف دہ اور خوفناک ہوتے ہيں کہ ان کي وجہ سے پيدا ہونے والي گھبراہٹ واقعات کے ختم ہونے کے طويل عرصے بعد تک جاري رہتي ہے? يہ عام طور پر اس طرح کے واقعتا ہوتے ہيں جن ميں انسان کي جان کو خطرہ ہو مثلاً کار يا ٹرين کے حادثات اور آگ وغيرہ? ان واقعات ميں شامل افراد مہيںوں يا سالوں تک گھبراہٹ اور پريشاني کا شکار رہ سکتے ہيں چاہے خودانھيں کوئي جسماني چوٹ نہ لگي ہو? يہ علامات پوسٹ ٹراميٹک اسٹريس ڈس آرڈر (Post Traumatic Stress Disorder)ميں پائي جاتي ہيں?

کبھي کبھي نشہ آور اشيا مثلاً ايمفيٹا مائنز(amphetamines)، ايل ايس ڈي يا ايکسٹيسي (ecstasy)کے استعمال کي وجہ سے بھي گھبراہٹ ہوسکتي ہے? حتي? کہ کافي ميں موجود کيفين بھي ہم ميں سے کچھ افراد کو تکليف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے ليے کافي ہے?

تاہم دوسري طرف يہ واضح نہ?يں ہے کہ کوئي مخصوص شخص کيوں گھبراہٹ ميں مبتلا ہوتا ہے ? اس ليے کہ يہ ان کي شخصيت ، ان پر گذرنے والے واقعات اور زندگي کي تبديليوں مثلاً بچے کي پيدائش وغيرہ کي وجوہات کے باعث ہوتے ہيں?

مدد طلب کرنا

اگر ہميں بہت زيادہ دباؤ ميں رہنا پڑے تو ہم بيشتر وقت پريشان اور خوفزدہ رہيں گے? ہم عام طور پر ان کيفيات کا مقابلہ کرليتے ہيں کيونکہ ہميں ان کي وجہ پتہ ہوتي ہے اور يہ معلوم ہوتا ہے کہ يہ صورتحال کب ختم ہوگي ?مثلاً ڈرائيونگ ٹيسٹ سے قبل ہم ميں سے بيشتر لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہيں ليکن ہم اس پر قابو پاليتے ہيں کيونکہ ہميں معلوم ہوتا ہے کہ ٹيسٹ ختم ہونے کے ساتھ ہي گھبراہٹ بھي ختم ہوجائے گي?

ليکن بعض لوگ بہت زيادہ وقت کے ليے ان گھبراہٹ اور خوف کے احساسات کا شکار رہتے ہيں، انہيں نہيں پتہ ہوتا کہ انہيں کس وجہ سے گھبراہٹ ہو رہي ہے اور يہ گھبراہٹ کب اور کيسے ختم ہوگي ? اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے اور اس سلسلے ميں عام طور پر کسي کي مدد کي ضرورت ہوتي ہے? اکثر اوقات لوگ اس سلسلے ميں مدد نہيں حاصل کرنا چاہتے کيونکہ انھيں يہ لگتا ہے کہ لوگ انھيں پاگل سمجھيں گے? جبکہ حقيقت يہ ہے کہ گھبراہٹ اور خوف ميں مبتلا لوگ شاذ و نادر ہي کبھي شديد قسم کي دماغي بيماريوں ميں مبتلا ہوتے ہيں? جتني جلدي مدد حاصل کي جائے اتنا ہي بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ خاموشي سے تکليف برداشت کي جائے?

گھبراہٹ اور خوف ميں مبتلا لوگ ان احساسات کے بارے ميں کسي سے حتي? کہ گھر والوں يا قريبي دوستوں سے بھي بات نہيں کرتے ? اس کے باوجود يہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹھيک نہيں ہيں ?اس مسئلے ميں مبتلا فرد پيلاہٹ اور تناؤ کا شکارنظر آئے گا اور معمول کي آوازوں مثلاً دروازے کي گھنٹي يا کار کے ہارن سے بھي بہت زيادہ چونک جائے گا? وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوتے ہيں اور اس کي وجہ سے قريبي افراد سے بحث مباحثہ ہوسکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ان کو يہ اندازہ نہ ہو کہ مريض کچھ مخصوص کام کيوں نہيں کرپارہا? گوکہ دوست اور گھر والے گھبراہٹ کي وجہ سے ہونے والي تکليف کو سمجھتے ہيں تاہم انھيں يہ تمام پريشانياں بلا وجہ لگتي ہيں?

بچوں ميں گھبراہٹ اور فوبيا

اکثر بچے کبھي نہ کبھي کسي وجہ سے ڈر جاتے ہيں ? نشوونما کے دوران يہ معمول کي بات ہے? مثلاً چھوٹے بچے اپني ديکھ بھال کرنے والےافراد سے مانوس ہوجاتے ہيں اور اگر کسي وجہ سے وہ ان سے الگ ہوجائيں تو بچے بہت پريشان ہوجاتے ہيں اور گھبرا جاتے ہيں? بہت سے بچے اندھيرے يا فرضي وجود (جن بھوتوں)سے ڈرتے ہيں? يہ خوف عام طور پر بڑے ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہيں اور بچوں کي زندگي يا ان کي نشوونما کو متاثر نہيں کرتے ہيں? زيادہ تر بچے اسکول کے پہلے دن جيسے اہم واقعات کے بارے ميں خوفزدہ ہوتے ہيں ليکن بعد ميں يہ خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس نئي صورتحال کے عادي ہو کر اس سے لطف اندوز ہونے لگتے ہيں?

نوجونوں کا مزاج اکثر بدلتا رہتا ہے ? ان کي پريشانيوں کي وجوہات مختلف ہوسکتي ہيں مثلاً وہ کيسے لگ رہے ہيں، دوسرے لوگ ان کے بارے ميں کيا سوچتے ہيں، عموماً لوگوں سے ان کے تعلقات کيسے ہوتے ہيں اور خصوصاً صنف مخالف کے ساتھ تعلقات کيسے ہيں ? ان پريشانيوں کے بارے ميں بات چيت کرکے ان پر قابو پايا جاسکتا ہے? تاہم اگر يہ پريشانياں بہت بڑھ جائيں تو اور لوگ اس بات کا اندازہ کرسکتے ہيں کہ وہ اسکول ميں اچھي کارکردگي کا مظاہرہ نہيں کررہے، ان کا رويہ بدل گيا ہے يا وہ جسماني طور پر ٹھيک نہيں ہيں?

اگر کوئي بچہ يا نوجوان يہ محسوس کرے کہ پريشاني، گھبراہٹ يا خوف اس کي زندگي تباہ کررہے ہيں تو اسے فيملي ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہيے?

اينگزائٹي اور فوبيا کا شکار لوگوں کي مدد

مسئلے کے بارے ميں گفتگو کرنا

يہ اس صورت ميں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جب مسئلہ فوري نوعيت کا ہو مثلاً شريک حيات سے عليحدگي، بچے کي بيماري يا نوکري کا چھوٹ جانا? کس سے بات کي جائے؟ ايسے دوست يا رشتے داروں سے بات کريں جن پر آپ اعتماد کرتے ہوں، جن کي رائے کو اہميت ديتے ہوں اور جو آپ کي بات اچھي طرح سنتے ہوں? شايد وہ بھي ايسے مسائل سے گذر چکے ہوں يا ايسے کسي شخص کو جانتے ہوں جو ان ہي حالات کا شکار رہا ہو? بات کرنے کے موقع کے ساتھ ساتھ ہميں يہ بھي پتہ چل سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں نے ايسے مسائل کا سامنا کس طرح کياتھا?

پرسکون رہنا سيکھيں

پرسکون رہنے کا کوئي مخصوص طريقہ سيکھنا گھبراہٹ اور پريشاني پر قابو پانے ميں مفيد ہوسکتا ہے? يہ گروپ کي صورت ميں بھي سيکھا جا سکتا ہے، ماہرين کي مدد سے بھي، اور اس کے علاوہ کتابوں اور وڈيو ٹيپس کے ذريعے ہم خود بھي يہ طريقے سيکھ سکتے ہيں? اس عمل سے اس وقت صحيح فائدہ ہوتا ہے جب اسے باقاعدگي سے کيا جائے بجائے اس کے کہ صرف اس وقت کيا جائے جب انسان کسي مسئلے کا شکار ہو?

سائيکو تھيراپي

يہ بات چيت کا ايک زيادہ جامع طريقہ ہےجس سے ہميں گھبراہٹ کي ان وجوہات کو جاننے ميں مدد مل سکتي ہے جنھيں ہم اب تک پہچان نہيں پائے? اس طريقے پر عمل انفرادي يا گروپ کي صورت ميں کيا جاسکتا ہے اور عام طور پر يہ ہفتہ وار بنيادوں پر کئي ہفتوں يا مہيںوں تک کيا جاتا ہے? سائيکو تھيراپسٹ ڈاکٹر بھي ہو سکتے ہيں اور نہيں بھي?

ادويات

گھبراہٹ اور فوبيا ميں مبتلا کچھ افراد کے علاج ميں ادويات کا استعمال بھي کياجاسکتا ہے?

عام سکون بخش ادويات ميں ويليم کي طرح کي ادويات) زيادہ تر خواب آور ادويات، ادويات کي اس قسم سے تعلق رکھتي ہيں) شامل ہيں? گھبراہٹ کو ختم کرنے ميں يہ ادويات بہت موثر ثابت ہوتي ہيں تاہم اس بات کا خيال رہے کہ صرف چار ہفتوں کے باقاعدہ استعمال سے انسان ان کا عادي بن سکتا ہے اور جب لوگ انھيں چھوڑنے کي کوشش کرتے ہيں تو انھيں ناخوشگوار علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکافي عرصے تک جاري رہ سکتي ہيں? گھبراہٹ کے لمبے عرصے کے علاج کے ليے ان ادويات کا استعمال مناسب نہيں

اينٹي ڈپريسنٹ ادويات

اينٹي ڈپريسنٹ ادويات کو گھبراہٹ اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپريشن (جس کے ليے يہ عام طور پر تجويز کي جاتي ہيں)کے ليے بھي استعمال کيا جاسکتا ہے? ان ميں سے کچھ ادويات کسي مخصوص قسم کي گھبراہٹ پر مخصوص اثرات مرتب کرتي ہيں? ان کا ايک منفي پہلو يہ ہے کہ يہ دو سے چار ہفتوں ميں اثر کرتي ہيں اور ان کے نتيجے ميں متلي، غنودگي، سر چکرانا، مںہ کا خشک ہونا اور قبض جيسي شکايات ہوسکتي ہيں?

بيٹا بلاکرز

بيٹا بلاکرز عام طور پر ہائي بلڈ پريشر کے علاج ميں استعمال ہوتے ہيں? کم مقدار ميں يہ گھبراہٹ سے ہونے والے جسماني کپکپاہٹ کو کنٹرول کرتے ہيں اور لوگوں سے ملاقات يا پبلک ميں تقرير کرنے سے تھوڑي دير پہلے انھيں ليا جاسکتا ہے?
عصمت آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہماری, کیئے, کرائیں, کرتے, پلیز, پریشان, چاہئے, مل, مدد, مسائل, السلام, اچھے, بھائی, بتاتے, تلاش, تعارف, حل, دینا, دیتا, دوسروں, دوسرے, دعوت, سوچا, ساتھ, طرح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پرانی کتاب میں رکھی تصویر سے باتیں سیپ شاعری اور مصوری 0 11-02-11 10:28 PM
محبتیں کبھی تم سے نہ ہو سکیں جاناں جواد رضا خان جامی جواد رضا خان جامی 3 30-12-10 04:10 PM
وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 24-06-08 09:59 AM
لڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا،الطاف حسینلڑائی کی باتیں کرنے والے سندھ کے غدار ہیں ،عوام کا مین عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 02:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:48 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger