بھارتی فوجی نے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلا دیں۔ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ۔ بھارتی فورسز کی بربریت پر اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی.... وغیرہ وغیرہ.... جب سے ہوش سنبھالاہے اسی قسم کی خبریں پڑھتے ہوئے جوان ہوئے ہیں.... خروٹ آباد اور کراچی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے پاکستانیوں پر گولیاں برستے دیکھیں تو ”نہتے کشمیریوں“ کا گمان ہوا، ہو بہو وہی نقشہ تھا، بھارتی فوج کے نرغے میں بیدردی سے مارے جانے والے کشمیری مرد و خواتین کی طرح ”نہتے پاکستانی“ زمین پر پڑے تڑپ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے جسم بھی ٹھنڈے ہو گئے۔ جموں وکشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے جبکہ ہم ایک آزاد مسلم ریاست کی بات کر رہے ہیں جس پر”آزاد مقبوضہ پاکستان“ کا گمان ہونے لگا ہے۔ فرعونوں کی سلطنت ہے۔ جان و مال کے محافظ ”بھیڑیے“ دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان ایک بیمار معاشرہ بن چکا ہے۔ اس سرزمین پر رونما ہونے والا ہر واقعہ وہاں کی نفسیاتی حالت کا پتہ دے رہا ہے۔ نیچے سے لے کر اوپر تک جس کو موقع ملتا ہے، اپنے اندر کے غم و غصہ اور انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر نا چاہتا ہے۔ آئے روز سکیورٹی اداروں پر دہشت گردی کے واقعات میں ہزاروں اہلکاروں کی شہادتوں کا ردعمل انتقام کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں میں بھی ”ردعمل“ کا زہر اندر ہی اندر پک رہا ہے جس کا مظاہرہ سیالکوٹ،کوئٹہ اور کراچی کے واقعات میں دیکھا گیا۔ پولیس اور رینجرز کی بے رحمی کے پیچھے نفسیاتی مرض عیاں ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔کہیںحکومت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی قانون و انصاف کے ادارے مکمل طور پر آزاد ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری واقعات کا ازخود نوٹس لیتے ہیں مگر مجرموں کے عبرت ناک انجام کی خبر نہیں ملتی جس کی وجہ سے معاشرے میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے۔ سیالکوٹ واقعہ کے مجرموں کو سرعام پھانسی دے دی جاتی تو کوئٹہ اور کراچی جیسے دردناک واقعات رونما نہ ہوتے لیکن پاکستان کا یہ حال ہے کہ وہاں آج ایک کتا بھی بندے کی موت مرنے سے خوفزدہ ہو گیا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس دن دہاڑے تین قتل کر دیتا ہے مگر اسے بغیر پاسپورٹ کے باعزت طور پر جہاز میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں چار مشکوک امریکیوں کو”اوپر والوں“ کے کہنے پر چھوڑ دیا گیا.... لیکن دوسری طرف نہتے پاکستانیوں کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جاتا ہے۔ رینجرز کے ہاتھوں مارے جانے والا شہری بھی منت سماجت کرتا رہا، تڑپتا رہا مگر نہ آسمان سے قہر نازل ہوا اور نہ ہی زمین کا سینہ پھٹا۔ جس ریاست میں حکمران عذاب کی صورت اختیار کر لیں وہاں قہر الہیٰ بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ اسلامی ریاست پاکستان کا جو حشر ہو چکا ہے وہاں اسلامی قوانین کے سوا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ اسلام میں نظریہ سزا کا مقصد ایک صحت مند اور پرامن معاشرے کا قیام اور انسانوں اور جانوروں کے طرز زندگی میں تمیز برقرار رکھنا ہے۔ سرعام سزائیں دینے کے تین اہم مقاصد ہیں، اول، مجرم سے اس کی زیادتی کا بدلہ لیا جائے اور اس کو اس برائی کا مزہ چکھایا جائے جو اس نے کسی دوسرے شخص یا معاشرے کے ساتھ کی تھی۔
دوم، اسے دوبارہ جرم کرنے سے باز رکھا جائے۔ سوم، اس کی سزا کو ایک عبرت بنا دیا جائے تا کہ معاشرے میں جو دوسرے لوگ مجرمانہ رجحان رکھتے ہیں ان کے دماغ کا اپریشن ہو جائے اور وہ اس طرح کے کسی جرم کی جرات نہ کر سکیں۔ قتل ایک سنگین جرم ہے جس کی کسی صورت معافی نہیں ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”تمہارا خون، جان مال کعبہ کی طرح محترم ہے“.... آپ نے فرمایا ”ایک مسلمان غیر مسلم کا قتل کرے گا، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے اور میں غیر مسلم کے حق میں گواہی دوں گا“.... جبکہ پاکستان میں مسلمان مسلمان کا قاتل ہے، اس مسلمان جو بنا ثبوت اور قانون کے دوسرے مسلمان پر لاٹھیاں اور گولیاں برسا رہا ہے کے انجام کے بارے میںسوچ کر روح لرز جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ایک غیر مسلم کے حق میں گواہی دینے کا ارشاد فرماتے ہیں تو آپ کے حضور جب مسلمان کا مقدمہ پیش ہو گا تو اس امتی کے پاس نجات کا کیا راستہ رہ جائے گا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے“ (النسائ)....
یہ مضمون قرآن پاک میں بارہا دہرایا گیا ہے ”لوگوں کو ناحق قتل کرنے اور زمین پر فساد پھیلانے والوں کے لئے تکلیف دینے والا عذاب ہو گا“.... ”جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سواکسی اور وجہ سے قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی، اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی“ (المائدہ)۔۔۔کبھی امریکیوں کی ایما پر، کبھی بھارت کے اشارے پر، کبھی پاکستانی حکام کے حکم پر، کبھی انتقام کی صورت، جتنے بھی قتل ہو تے ہیں ان میںصرف پاکستانی مارے جاتے ہیں۔۔۔! آزاد پاکستان میں نہتے شہریوں پر ظلم و تشدد ہوتے دیکھ کر بھارتی فورسز قہقہے لگاتے ہیں اور نہتے کشمیریوں سے کہتے ہیں کہ وہ دیکھو! تمہیں آزادی دلانے کے علمبردار خود آزادی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ ہم دشمن کے ہاتھوں نہیں، خود اپنے محافظوں کے ہاتھوں بے موت مارے جا رہے ہیں....!
ربط:
ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پر ہیں