|
ہندوستان کی پہلی قومی اردو یونیورسٹی کے دž

28-02-09, 09:43 PM
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 1998ء میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت ’کل ہند دائرہٴ کار کی حامل یونیورسٹی کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ ایکٹ کے مطابق اردو زبان کی ترویج و ترقی، اردو ذریعہ تعلیم سے اعلی تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کی فراہمی اور تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ اس یونیورسٹی کے مقاصد میں شامل ہیں۔ ایکٹ میں یونیورسٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فاصلاتی اور کیمپس (روایتی) دونوں طریقوں سے تعلیم فراہم کرے۔
یونیورسٹی نے اپنے قیام کے پہلے ہی سال نظامت فاصلاتی تعلیم کے قیام کے ذریعے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی، حیدرآباد کے ساتھ ایک یادداشت مفاہمت کے ذریعہ اس کے نصابی مواد کے استعمال اور ترجمہ کے حقوق حاصل کیے گئے اور بی اے ڈگری پروگرام کا آغاز کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بی ایس سی اور بی کام کورس بھی شروع کیے گئے۔ بی کام کا سارا نصابی مواد اردو زبان میں خود یونیورسٹی نے تیار کیا۔
یونیورسٹی میں اس وقت چار گریجویٹ، چار پوسٹ گریجویٹ، تین سرٹی فکیٹ اور دو ڈپلوما پروگرام فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ ملک بھر کے 141 اسٹڈی سنٹروں پر چلائے جارہے ہیں جب کہ اس کا ایک امتحانی مرکز جدہ (سعودی عرب) میں بھی موجود ہے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ طلبہ کی تعداد (جن میں 58 ہزار منسلک ہیں) کے ذریعہ یونیورسٹی کی فاصلاتی تعلیم کی کوششوں کو اردو بولنے والوں کی بھر پور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس پذیرائی سے حوصلہ پاکر یونیورسٹی برطانیہ اور امریکہ میں بسنے والے اردو داں عوام کی درخواست پر لندن اور امریکہ کے مختلف شہروں میں امتحانی مراکز کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہے اور جلد ہی ان کا قیام ہوجائے گا۔
ملک کے مختلف حصوں میں فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تعلیمی و انتظامی مدد فراہم کرنے کیلیے نو علاقائی مراکز (دہلی، پٹنہ، بنگلور، بھوپال، دربھنگہ، کولکتہ، سری نگر، ممبئی اور رانچی میں ایک ایک) اور چھہ ذیلی مراکز (لکھنو، میوات، جموں، سنبھل، امراوتی اور حیدرآباد) قائم کیے گئے ہیں۔
یونیورسٹی نے چھہ اسکولز آف اسٹڈی اور 13 شعبہ جات کے قیام کے ذریعہ روایتی تعلیم کے محاذ پر بھی پیش رفت کی ہے۔ 2002ء میں ڈپلوما ان ایجوکیشن کے کورس سے کیمپس (روایتی) تعلیم کا آغاز ہوا۔ اس وقت یونیورسٹی مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی، ایم فل اور پوسٹ گریجویٹ کورس فراہم کررہی ہے۔ ان کے علاوہ کیمپس میں ڈپلوما، پی جی ڈپلوما، ٹیچر ٹریننگ اور آئی ٹی آئی ٹریڈز کے کورس بھی فراہم ہیں۔
یونیورسٹی نے خصوصیت سے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دربھنگہ، بنگلور اور حیدرآباد میں صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئی) قائم کیے ہیں جہاں الیکٹریشن، پلمبنگ، الیکٹرانک، میکانک، ایر کنڈیشن و ریفریجریشن اور سیول ڈرافٹس مین کے شعبہ جات موجود ہیں اور ہر شعبہ میں 40 طلبہ کو داخلہ دیا جارہا ہے۔ حیدرآباد، بنگلور اور دربھنگہ میں پالی ٹیکنک کالجوں کے آغاز کے ذریعہ بھی یونیورسٹی نے ایک نئی جہت لگائی ہے۔
کمپیوٹر، انفارمیشن ٹکنا لوجی، الکٹرانکس اینڈ کمیونکیشن اور سیول انجینئرنگ جیسے ڈپلوما کورسز پہلی مرتبہ اردو میں متعارف کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی نے دربھنگہ، سری نگر اور بھوپال میں ٹیچرس ٹریننگ کالج بھی قائم کیے ان کے علاوہ دربھنگہ اور حیدرآباد میں ماڈل اسکول کا بھی قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
فاصلاتی تعلیم سے ذرائع ابلاغ کو مربوط کرنے کے ایک حصہ کے طور پر ذرائع ابلاغ کے پروگراموں کی تیاری کی غرض سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیمپس میں ایک مکمل انسٹرکشنل میڈیا سنٹر قائم کیا ہے۔ اگر چہ انسٹرکشنل میڈیا سنٹر ابتدائی طور پر یونیورسٹی کی فاصلاتی تعلیم کی ضرورتیں پوری کررہا ہے لیکن مستقبل میں یہ روایتی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اضافی اکتسابی مواد فراہم کرے گا تاکہ کلاس روم کے اکتساب میں مزید اضافہ ہو۔ یہ سنٹر ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلزم اور اسی طرح کے دوسرے شعبوں کے لیے عملی تجربہ گاہ کی حیثیت سے بھی کام کرے گا۔ یونیورسی نے اپنے قیام کے دس سال کی تکمیل پر دوردشن کے ساتھ بھی ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت جنوری 2008ء سے دوردرشن اردو چینل پر فاصلاتی تعلیم کے پروگرام اور اردو زبان کے تاریخی، تہذیبی اور لسانی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر مختلف پروگرام ٹیلی کاسٹ کیے جارہے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب ارجن سنگھ نے نو جنوری 2008ء کو اس کا افتتاح انجام دیا۔
یونیورسٹی کا تیسرا کانووکیشن
تقریبِ تقسیمِ اسناد
یونیورسٹی کی پہلی تقریبِ تقسیمِ اسناد پانچ اگست 2005ء کو منعقد ہوئی تھی جس میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے شرکت کی۔ انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میں چار ہزار ڈگریاں اور 13 گولڈ میڈل عطا کیے گئے۔
دوسرا کانوکیشن 16 جون 2007کو منعقد ہوا، جس میں 3500 ڈگریاں اور 20 گولڈ میڈل عطا کیے گئے۔
تیسرا کانوکیشن 21 فروری 2009ء کو منقد ہوا۔ انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور ایم فل میں 5706 ڈگریاں حوالے کی گئیں۔ 42 گولڈ میڈل عطا کیے گئے۔
جنوری 2007ء میں یو جی سی سے یونیورسٹی میں قیام کی منظوری بھی ایک کے لیے اورینٹیشن اور ریفریشر جاری ہیں۔ اردو میڈیا اسکولوں کے اساتذہ و صدر مدرسین کو ان کے متعلقہ مضامین میں تربیت اور انہیں تدریس کی جدید حکمت عملیوں سے واقف کروانے کیلیے مرکز (اکیڈیمی) برائے پیشہ ورانہ فروغ اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم (CPDUMT) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اس سال اپنی تصدیق کیلیے NAAC سے بھی رجوع کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مجلس عمل تشکیل کی گئی ہے جو ایک مطالعاتی رپورٹ تیار کررہی ہے۔ یونیورسٹی اس نظریہ کے تحت کام کرتی ہے کہ اس کی کوششوں کے ذریعہ اردو داں افراد کو جدید تعلیم، تعلیمی قابلیت اور دانشورانہ اکتساب کے مواقع فراہم ہوں۔ اردو بولنے والوں کو با اختیار بنانے سے متعلق راہ نمایانہ اصولوں پیش نظر رکھ کر یو جی سی کے دسویں منصوبے کے تحت منظور شدہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کا آغاز کیا گیا۔ ان میں مرکز برائے مطالعات نسواں، علاقی مرکز دہلی پر مرکز برائے مطالعات نہرو، اقلیتی طلباء کیلیے UGC-NET کوچنگ سنٹر، اردو داں افراد کو ان کی انگریزی لیاقت میں اضافہ کے لیے خصوصی کوچنگ سنٹر، سرکاری ملازمتوں میں داخلہ کیلیے اقلیتی طلباء میں مسابقت بڑھانے کیلیے سنٹر فار کوچنگ آف مائناریٹی کینڈیڈیٹس کا قیام شامل ہے۔
جولائی 2008ء میں اگنو ہیڈ کوارٹر (دہلی) میں منعقدہ تقریب میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) نے فاصلاتی تعلیم کے اردو ویڈیو پروگراموں کے تبادلے کے لیے ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے ہیں۔ اس یادداشت مفاہمت سے فاصلاتی تعلیم کے لیے الیکٹرانک تدریسی مواد کے اشتراک کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ وائس چانسلر اگنو پروفیسر راج شیکھرن پلے نے اردو یونیورسٹی کو تعلیمی و تدریسی مواد کی فراہمی سے اتفاق کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر پٹھان نے دونوں جامعات کے درمیان مشترکہ پروڈکشن کی پیش کش کی اور کہا کہ اگنو کو اردو پروگراموں کی تیاری میں اردو یونیورسٹی کے ماہرین سے استفادہ کرسکتی ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں مختلف عمارتوں کا تعمیری کام کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور نظامت فاصلاتی تعلیم، عمارت درس و تدریس، مرکز اردو زبان، ادب و ثقافت، انسٹرکشنل میڈیا سنٹر، آئی ٹی آئی، مرکز برائے پیشہ ورانہ فروغ اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم وغیرہ جیسے دفاتر اپنی عمارت میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے ہاسٹل اور اسٹاف کے کوارٹروں کی تعمیر بھی ہوچکی ہے۔
طلبہ اور عملہ کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیمپس میں اے ٹی ایم کے ساتھ انڈین اوورسیز بینک کی شاخ قائم کی گئی ہے اس کے علاوہ ڈاک خانہ اور ہیلتھ سینٹر کا بھی قیام عمل میں آچکا ہے۔ اس وقت یونیورسٹی میں ہیڈ کوارٹر، علاقی مراکز اور سنٹر فار ٹیچر ایجوکیشن پر تقریباً 460 تدریسی و غیر تدریسی عملہ کام کررہا ہے۔ یونیورسٹی کے ہیڈ کوارٹر پر تدریسی عملہ میں 104 افراد اور 212 کی تعداد میں غیر تدریسی عملہ موجود ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 144 کی تعداد میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ یونیورسٹی کے مختلف علاقائی مراکز، مرکز برائے تعلیم اساتذہ و آئی ٹی آئی اور ماڈل اسکولوں میں کام کررہا ہے۔
Attached Images
|
wajee
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,463 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|