واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ہولوکاسٹ بیسویں صدی کا بگ فراڈ۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-01-11, 11:49 PM   #1
ہولوکاسٹ بیسویں صدی کا بگ فراڈ۔
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 03-01-11, 11:49 PM

ہولوکاسٹ پتہ نہیں کونسا اسمانی صحیفہ ہے کہ مذہبی اور شخصی ازادیوں کے لئے جنت تصور کئے جانیوالے یورپ میں نہ تو بحث اور مثبت و تعمیری تنقید کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ناقدین کو اسکی تحقیق اور حقائق کی تلاش کے لئے ہولوکاسٹ میں درج واقعات کو نقد و نظر کے ترازو میں تولنے کا معمولی سا اختیار بھی حاصل نہیں۔ یورپی یونین کی کم و بیش ساری اکائیوں میں ہولوکاسٹ کو ہدف تنقید بنانے والوں کو جاں گسل اور اعصاب شکن سزاوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ عبرانی ڈکشنری میں ہولوکاسٹ کو شواح کا مخفف قرار دیا گیا ہے۔ ہولوکاسٹ کا لفظ یونانی زبان سے ماخوذ ہے ۔ یونانی رسم الخط میں اسکی تشریح یوں کی گئی ہے عالمگیر تباہی ۔ یہودی ہر سال یوم شواح مناتے ہیں۔ اسرائیل کے کٹر متعصب سکالر بن زیان نے سب سے پہلے1942 میں شواح کا تذکرہ کیا تھا کہ شواح تاریخ کی بڑی تباہی کا نام ہے۔1940 کی دہائی تک یہودی فتنہ گر اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے در در کی خاک چھانتے رہے ۔ صہیونی بازیگروں نے یہودی ریاست کے قیام کے لئے ہولوکاسٹ کا کارڈ کھیلا۔ یہودیوں نے اپنے کارپوریٹ میڈیا کے زریعے واویلہ شروع کیا کہ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کروایا۔ صہیونییت کے بنارسی ٹھگوں نے فرضی اور لایعنی داستانوں کو یکجا کرکے 60 لاکھ یہودیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ہولوکاسٹ نام کا برانڈ متعارف کروایا۔ امریکی و افرنگی زرائع ابلاغ نے نیو برانڈ کی مظلومیت اور شہرت کو چار چاند لگادئیے۔ ہولوکاسٹ کے حق میں چلائی جانیوالی پراپگنڈہ مہم کو اتنے منظم انداز میں پیش کیا گیا کہ یورپی اقوام احساس جرم میں مبتلا ہوگئیں اور انکے دلوں میں یہ سواد سما گیا کہ ہولوکاسٹ ڈرامہ نہیں بلکہ سچائی ہے یہودی ظالم نہیں بلکہ مظلومیت کے فلک بوس اسمانوں پر فروکش ہیں۔ ہولوکاسٹ نامی برانڈ یہودیوں کے لئے اتنا سود مند ثابت ہوا کہ اگلے پچھلے سارئے نقصانات پورے ہوگئے۔یہودیوں کو ہولوکاسٹ کے توسط سے ارض فلسطین پر اسرائیل نام کی بریڈڈ ریاست مل گئی علاوہ ازیں صہیونی مملکت کو ملنے والی مالی امداد کا کوئی حساب نہیں۔ مغربی ممالک نے سپیشل قانون سازی کی کہ ہولوکاسٹ کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑاور تاریخی حثیت پر نقطہ چینی کرنے والے مجرم ہونگے۔ ہولوکاسٹ پرتحقیق و جستجو اور عرق ریزی و عمیق نظری سمیت حرف زنی کو نسل پرستی ایسے شرمناک فعل کے مماثل سمجھا جانے لگا۔ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ ہٹلر یہودیوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتا تھا۔ وہ یہودیوں کی ریاکاری فتنہ پروری اور منافقانہ طرز عمل سے شاکی تھا۔ ہٹلر 1932میں سربرائے مملکت ہوا تو ا تو یہودی اقلیت میں ہونے کے باوجود ریاست کے تمام سرکاری شعبوں پر چھائے ہوئے تھے تعلیم تجارت فنانس سیکیورٹی فورسز زراعت کے شعبے یہودیوں کے زیرسایہ چل رہے تھے۔وہ جرمنی کو منظم انداز میں چلارہے تھے۔ یہودیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لئے ہٹلر نے1935 میں قانون نافذ کیا کہ سرکاری شعبوں میں غیر جرمن نسل کام نہیں کرسکتی۔ یہودی دولت کی چمک سے کسی بھی وقت امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے میں تاک تھے۔ ہٹلر نے قانون سازی اور قوت کے زور پر ایک طرف سرکاری شعبوں کے کلیدی عہدوں کو یہودیوں سے ازاد کروایا تو دوسری طرف نازیوں نے غیر جرمن نسل کی خاطر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں کہ یہودی سرکاری محکموں اور تجارتی سیکٹر کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ سیکنڈ ورلڈ وار میں جرمن یہودیوں نے اتحادیوں کے ساتھ ایکا کرلیا اور جرمنی کے خلاف جاسوسی اور مخبری کا خطرناک کام کرنے لگے۔ہٹلر کو خبر ہوئی تو وہ بڑا غضبناک ہوا اور یہ جملہ دہرایا کہ زمین پر تین قسم کی مخلوق پائی جاتی ہے انسان حیوان اور یہودی۔ یہودیوں کی موجودگی میںانسان اور حیوان امن و چین سے نہیں رہ سکتے۔ ہٹلر نے جرمنی میں بسنے والے تمام یہودیوں کو گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بند کردیا۔ صہیونی سکالرز اور تاریخ دان ماتم کرتے ہیں کہ قیدیوں کی نسل کشی کے لئے زیرحراست کیمپوں میںزہریلی گیس چھوڑ دی جاتی۔ یہودی تو یہ پروپگنڈہ کرتے ہیں کہ کیمپوں میں زہریلی گیس کے چیمبرز اور ٹینکرز نصب تھے جو ہر جاندار کو غتر بود کرنے والی گیس خارج کرتے تھے یہودیوں کے دعوے کے مطابق 1942 میںایشونز نامی کیمپوں میں 27 لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا گیا مگر غیر جانبدار سکالرز کی ریسرچ اور تحقیق سے یہ سچائی مترشح ہوچکی ہے کہ ہولوکاسٹ فرضی ڈرامہ ہے۔ تحقیقات میں کوئی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ قتل عام کا حکم ہٹلر نے جاری کیا تھا۔ ہٹلر پر 60 لاکھ یہودیوں کی نسل کشی کا الزام پر فریب ہے کیونکہ جرمنی میں یہودیوں کی کل ابادی 20لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ ہولوکاسٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھنا جرم بن چکا ہے۔دنیا میں امریکہ برطانیہ سمیت 10 ملک ایسے ہیں جہاں ہٹلر کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے یہودیوں کی تعداد پر رائے زنی کر نے کوسنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور ائین میں باقاعدہ سزا ئیںدرج ہے۔ درجنوں سکالرز اخبار نویس ہولوکاسٹ کی حقیقت تلاش کرنے کے چکر میں جیل خوری کرچکے ہیں۔ ایران کے بیباک صدر احمد نژاد نے ہولوکاسٹ کو مبالغہ ارائی کا نام دیا تو صہیونی میڈیا بھڑک اٹھا اور ایرانی صدر پر نسلی منافرت پھیلانے کی فرد جرم عائد کردی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ذات مبارکہ کی توہین اور دین اسلام کی تکذیب کی خاطر دو سال قبل ناروے کے اخبار جیلینڈر پوسٹن نے گھٹیا و شرمناک کارٹون شائع کئے مسلم دنیا میں اشتعال پھیل گیا ۔ مسلمانوں نے شاتم رسول سے معافی کا مطالبہ کیا تو یہی مغربی ملک شاتم اخبار اور مشرک انتظامیہ کے تحفظ کے لئے ڈھال بن گئے۔ گو کہ اخبار نے چاند پر تھوکنے کی جہالت کی۔ جیلینڈر پوسٹن کی دانستہ توہین رسالت کو گوروں نے ازادی اظہار کا نام دے دیامگر ازادی اظہار کی شائیں شائیں کرنے والے ہولوکاسٹ کے خلاف ایک لفظ تک سننے کے روادار نہیں۔ یہودیوں نے ہولوکاسٹ کے شعبدے سے کیا مقصد حاصل کیا۔ جنگ عظیم کے خاتمے پر یہودیوں کی نمائندہ تنظیم نیشنل جیوش کا نفرنس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ60 لاکھ جیوز نازی ازم کے جوف جہنم میں راکھ ہوگئے۔ یہودیوں کو نئی زندگی شروع کرنے کے لئے یروشلم کے گرد و نواح میں علحیدہ زمین کا ٹکڑا دیا جائے جہاں وہ امن سکون و شانتی کے ساتھ گزر بسر کرسکیں اور انکی خود مختیاری پر کوئی انچ ائے۔۔ اہل مغرب کو ہولوکاسٹ کے رنگین جال نے پہلے سے ہی انکی حمایت پر اکسا رکھا ۔اہل مغرب اور یہود ی ایک ہی کھوٹے سکے کے دورخ ہیں۔ دونوں کے دلوں میں ازلی اسلام دشمنی کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔۔ امریکی برطانوی دست شفقت ، یورپ میں یہود یوں کی ازاد ریاست کے حق میںچلائی جانیوالی تحریک اور اقوام متحدہ کی قاتلانہ اور خونخوار قرارداد سے شہہ پاکر یہودیوں نے مشرق وسطی کے سینے میں اسرائیل نام کا خنجر پیوست کردیا ۔ یروشلم میں مظلومیت کا لبادہ پہن کر داخل ہونے والے یہودیوں نے دھیرے دھیرے ارض فلسطین پر شب خون مار مار مار کرتل ابیب کے رقبے جغرافیے میں اضافے کی جس شرپسندی کا اغاز روز اول سے کیا تھا وہی ظلمت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر تعمیر کی جانیوالی ناجائز بستیوں کی شکل میں اج بھی موجود ہے ۔مڈل ایسٹ میں اسرائیل سپرپاور بن چکا ہے جبکہ بیت المقدس کے اصلی نسبی و حسبی فلسطینی اپنے ہی دیس میں خانماں اور بے سائباں ہوگئے

ہولوکاسٹ بیسویں صدی کا بگ فراڈ۔۔۔ روف عامر پپا بریار
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 145
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (04-01-11)
جواب

Tags
php, کارڈ, ڈکشنری, واقعات, ناروے, نظر, متعارف, ایران, اقوام متحدہ, اللہ, الزام, انتظامیہ, انسان, امریکہ, اسلام, تلاش, تعلیم, جیل, جرم, خلاف, دیس, زندگی, سال, ظالم, غزہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انیسویں ترمیم منظور قاسم شاہ خبریں 0 22-12-10 10:24 PM
اکیسویں صدی کا طلسم کدہ گوہر خبریں 8 16-01-10 07:59 PM
اکیسویں صدی, پہلی دہائی خدا حافظ!!! گوہر اپکے کالم 4 20-12-09 04:14 PM
بیسویں صدی کی سب سے بڑی قزّاقی فیصل ناصر عمومی بحث 0 30-01-09 04:01 AM
اکیسویں بین الاقوامی کانفرنس برائے اتحاد مسلم ! طاھر دلچسپ اور عجیب 0 22-05-08 12:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger