واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-05-09, 09:39 AM   #1
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 02-05-09, 09:39 AM

یوم مزدور کے حوالے سے ایک تحریر نظر سے گزری، اچھی لگی سوچا کہ چلو دوستوں کے ساتھ شیئر کر لی جائے۔
پیش خدمت ہے

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
تحریر: سلیم اللہ شیخ
آج ہم یوم مئی منارہے ہیں یعنی مزدوروں کا عالمی دن آگے کچھ کہنے سے پہلے اس دن کی تاریخ پر تھوڑی نظر ڈالتے ہیں۔صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی پہلی باقاعدہ ٹریڈ یونین پندرہ مختلف یونینز کے اتحاد سے 1827 میں امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں مکینکس یونین آف ٹریڈ ایسوسی ایشن کے نام قائم کی گئی۔مزدوروں کا پہلا مطالبہ ایک دن میں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار مقرر کرنے کا تھا،آغاز میں مزدوروں کو چوبیس گھنٹوں میںسے اٹھارہ گھنٹے اوسطاً کام کرنا پڑتا تھا۔یہ مطالبہ آہستہ آہستہ پورے امریکہ میں زور پکڑ گیا۔

اپنے اس مطالبے کے حق میں 1861 اور 1862 میں امریکہ کے کان کن اور بوالئر مزدور اکٹھے ہوگئے اور 1863 میں صرف امریکہ میں بیس مزدور یونینز قائم ہوگئیں اگلے سال تک اس مطالبے کے حق میں 53 یونیز قائم ہوچکی تھیں۔جبکہ 1864 میں سگار بنانے والے مزدور اور بحری جہازوں کے مزدور،1865 میں اینٹیں بنانے والے مزدور، اور 1866 میں دلک لومز بنانے والے،ٹوپیاں بنانے والے مزدور بھی اتحاد کرچکے تھے۔

بیس اگست 1866 کو امریکہ کے ساری مزدور یونینز کے نمائندے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک متحدہ نیشنل یونین لیبر بنانے کا اعلان کیا۔مفاد پرست سرمایہ داروں نے یہ صورتحال دیکھی توانہوں نے مقامی مزدور جو کہ احتجاج میں شامل ہوتے تھے ان کی جگہ غیر مقامی اور غیر تربیت یافتہ مزدوروں کو کام دینا شروع کیا۔غیر مقامی اور غیر ملکی مزدوروں کی مد کے بعد مقامی مزدوروںکی تشویش میں اضافہ ہوگیا اور اس کے ساتھ ملک میں بیروزگاری میں بھی اچانک اضافہ ہوگیا۔دوسری طرف 1873 کی کساد بازاری نے مزدوروں کے حالات کو ناقابل برداشت حد تک خراب کردیا اور مزدور اپنے حقوق کے لیے ہڑتالیں کرنے لگ گئے۔

سنہ 1880 تک جاپان، آسٹریلیا،لاطینی امریکہ اور یورپ میں بھی مزدور اپنے حقوق کے لیے متحد ہوگئے۔ 1882 میں جاپان ٹراموے ورکرز کی ایک بہت بڑی ہرتال ہوئی، مزودر لیڈر َ َ گومبرسَ َ کا نعرہ َ َ مزدوروں ایک ہوجاﺅ َ َ کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی۔گومبرس کی فیڈریشن نے متحدہ جدجہد شروع کرنے کے لیے 1884 شکاگو میں ایک بڑا کنونشن بلایا،اس موقعے مزدوروں کی جانب سے کی گئی ہڑتال دنیا کی پہلی عام ہڑتال ثابت ہوئی،اور اس میں مطالبہ کیا گیا کہ یکم مئی 1886 سے اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کیے جائیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں عام ہڑتال کی جائے گی۔

شکاگو اس وقت مزدور تحریک کا مرکز اور ایک بڑا صنعتی شہر تھا۔ یکم مئی 1886 کو شکاگو کے َ َ ہے مارکیٹ اسکوئر َ َ پر کم و بیش اسی ہزار مزدور جمع ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں ریلی نکال رہے تھے تھے،یہاں واضح رہے کہ ہرتال کئی روز سے جاری تھی جس نے مفاد پرست سرمایہ داروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ مزدوروں کے اس احتجاج کو سبو تاژ کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے سرمایہ داروں اور حکومتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ریلی کے اختتام پر کسی نامعلوم فرد نے ریلی پر ایک بم پھینک دیا جس میں ایک درجن کے قریب مزدور ہلاک ہوگئے جب کہ سات پولیس والے بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس واقعے کے تیسرے روز جب کہ مزدوروں کا احتجاج ہنوز جاری تھا پولیس نے پر امن مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں متعدد مزدور ہلاک ہوگئے جب کہ کئی زخمی ہوگئے۔اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ دو دن پیشتر ہونے والے بم بلاسٹ کا الزام بھی مزدور رہنماوں پر لگایا گیا اور آٹھ مزدوروں لیڈروں کو پھانسی دیدی گئی جب کہ دو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعے کے تین سال کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم مئی کو ان مزدوروں کی شہادت کی یاد میں منایا جائے گا اور یوں پہلا یوم مئی 1890ئ کو منایا گیا۔یہ اس دن کی ایک مختصر تاریخ تھی جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہے۔

اب اگر ہم اپنے معاشرے میں آج مزدوروں کی حالتِ زار کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ آج کا مزدور انتہائی مفلوک الحالی کا شکار ہے۔فیکٹریوں وغیرہ میں عموماً تو آٹھ گھنٹے کے اوقات کار پر عمل ہی نہیں ہوتا اور اگر کہیں اوقات کار پر عمل بھی ہوتا ہے تو پھر دیگر سہولیات ( میڈیکل،فوڈ الاونس،وغیرہ ) نہیں دیا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارا محنت کش روز کنواں کھودتا ہے اور رو پانی بھرتا ہے کی مثال بنا ہوا ہے یعنی اگر وہ کسی دن کام سے رخصت لے گا تو اس کی تنخواہ میں سے اس دن کی رقم کات لی جاتی ہے جبکہ ایک ماہ میں ہفتہ واری چھٹی کے علاوہ کم از کم تین اتفاقی چھٹیاں ایک مزدور کا استحقاق ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں مزدور اپنے ان حقوق سے آگاہ ہی نہیں۔کئی اداروں میں مزدوروں کی تنخواہیں روک کر دی جاتی ہیں۔اس کےعلاوہ متعدد اداروں نے مزدوروں کے حقوق کو غصب کرنے کے لیے ٹھیکیداری سسٹم کو فروغ دیا ہوا ہے جس میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ متعلقہ مزدور کسی ادارے کا ملازم نہیں ہے بلکہ آوٹ سورس ایمپلائی ہے جس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کئی فیکٹریوں اور اداروں میں کم از کم اجرت کے قانون پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے۔( اگرچہ پاکستان میں کم از کم اجرت بھی بہت کم ہے یعنی چھ ہزار) اور مزدوروں کو کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔جس کی اوسط ڈیڑھ سو تا دو سو روپے روز تک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کو ملازمتوں کا تحفظ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور کئی اداروں میں مالکان اپنی مرضی سے جب چاہے کسی بھی ایمپلائی کو نکال سکتے ہیں۔ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ہمارا مزدور کی حالت اس حوالے سے انتہائی افسوسناک ہے کہ یہ مزدور اپنی زدگی کے بہترین ایام یعنی اپنی نوجوانی اور جوانی کسی ادارے میں کھپا دیتے ہیں لیکن تیس پینتیس سال کی ملازمت کے باوجود کئی اداروں میں پینشن اور گریجویٹی کا کوئی تصور نہیں ہے اور یہ مزدور اتنے عرصے تک ایک ادارے کے ساتھ وفادری نبھانے کے باوجود آخر میں تہی ست ہوتا ہے اور وہ وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں سے تیس پینتیس سال قبل اس نے آغاز کیا تھا۔

یہ تو ہمارے یہاں صنعتی مزدوروں کا حال ہے جبکہ عام مزدور ( راج مستری،رنگ ساز،ہاتھ کا کام کرنے والے) کی حالت بھی قابل رحم ہے۔اول تو ان کی اجرت ( دیہاڑی) ان کی محنت کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔اور ان کے کام کے اوقات بہت طویل ہوتے ہیں کیونکہ عمومی طورپر ان مزدوروں سے کام لینے والے افراد ان سے صبح جلدی کام شروع کراتے ہیں اور شام کو سورج ڈھلنے تک یعنی کم و بیش دس تا بارہ گھنٹے تک کام کرایا جاتا ہے۔ جو معاوضہ طے کیا جاتا ہے کوشش کی جاتی ہے کہ اس سے کم دیا جائے یا اس میں زیادہ سے زیادہ کام کرایا جائے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک ہے کہ مزدور کو اس کی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو لیکن بعض اوقات اس میں بھی مزدوروں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ایک سب سے بڑا المیہ ہمارے معاشرے میں یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ہمارا معاشرہ طبقات تفریق کا شکار ہوگیا ہے اور ہمارے معاشرے میں ایک محنت کش کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس کی وہ عزت نہیں کی جاتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا۔ اسلام تو مساوات کا حکم دیتا ہے لیکن ہمارے معاشرے سے یہ چیزیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہیں۔ اور ایک محنت کش کو کمی کمین سمجھا جاتا ہے۔

یہ تو شہروں کی صورتحال ہے جبکہ گاوں دیہاتوں میں مزدور اپنے حقوق تو دور کی بات ہے انسانی حقوق سے بھی محروم ہے آج بھی ہمارے دیہاتوں میں مزدور کو ہاری، جاگیردار، وڈیرے، چوہدری اس کا استحصال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زر خرید غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔اس کو قید میں رکھا جاتا ہے۔اس کو معاوضہ کی صورت میں صرف دو وقت کا کھانا اور سال میں تین جوڑے کپڑے دئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مزدور کی عزت بھی ان وڈیروں جاگیرداروں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہوتی ہے آئے دن ان مزدوروں کی بہن بیٹیوں کی عزت داغدار کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ استحصالی طبقہ ان مزدورں کا جسمانی استحصال تو کرتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی روح تک میں تازیانے لگاتا ہے۔

آج ہم یوم مئی منارہے ہیں یعنی مزدوروں کے حقوق کا دن۔ جبکہ ہم جس دین کے پیرو کار ہیں اس کی تعلیمات پر اگر ہم درست طریقے پر عمل کریں تو ہمیں کوئی دن منانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس تو اپنا منشور ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی اللہ نے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قرآن کی صورت میں دے دیا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے اس پر عمل کیا جائے۔ قرآن کو صرف ایصال ثواب یا خیرو برکت کے بجائے قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے اس کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ تو ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔پھر ہمارا مزدور بھی ایک قابل رشک زندگی گزارنے کے قابل ہوگا ضرورت صرف قرآن پر عمل کرنے کی ہے۔

 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 226
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (02-05-09)
پرانا 02-05-09, 01:32 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (19-09-09)
پرانا 02-05-09, 01:36 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,851
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (19-09-09)
پرانا 03-05-09, 05:55 AM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے راجہ اکرام بھائی
بہت معلوماتی شئرنگ ہے
یوم مزدور کی تاریخ سامنے آئی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (19-09-09)
جواب

Tags
images, پولیس, پاکستان, قید, قرآن, نظر, منشور, مسائل, معاشرہ, اللہ, الزام, امریکہ, احتجاج, اسلام, بہترین, بھائی, تحریر, حکم, حدیث, زندگی, سال, شہر, شکاگو, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger