واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


یورپ کے تاریک دور سے تاریک تر، بر صغیر کا دور مولویت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-12-09, 08:28 PM   #1
یورپ کے تاریک دور سے تاریک تر، بر صغیر کا دور مولویت
فاروق سرورخان فاروق سرورخان آن لائن ہے 11-12-09, 08:28 PM

اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہآپ دو الٍفاظ کے فرق کو جانیں۔

مولویت ----- مذہبی سیاست جس کا تعلق ضروری نہیں کہ کسی محترم مولوی سے ہو۔
ملا، مولوی، آیت اللہ۔ ۔۔۔۔ کبھی کبھی ۔۔ مولویت کے کردار۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر مذہب کا ٹیچر یا مدرس، مولویت میں بھی شامل ہو۔

اس کے مساوی یہ مثال دیکھئے
جس طرح سیاست، تاریخ اور جغرافیہ کا ایک پروفیسر ، سیاست میں شامل نہیں ہوتا۔
اسی طرح اسلام، قرآن اور سنت کا ہر مدرس، ٹیچر معلم، مولویت میں شامل نہیں ہوتا۔

یہ مراسلہ مولویت یعنی مذہبی سیاست کے بارے میں ہے۔ مڑ کر سوال نہ کیجئے کہ آپ قرآن پڑھانے والوں کو بر ا یا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایسا نہیں‌ہے۔ بغور دیکھئے کہ مذہبی سیاست کیا ہے اور اس کے ہتھکنڈے کیا ہیں۔ آپ کا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ تائید و تنقید دونوں کا خیر مقدم۔

----------------------------------------

لوگ عموما 'دور تاریکی' سے واقف ہیں کہ یہ یورپ کا پسماندہ ترین دور تھا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اسی طرح کا ایک دورمسلمانانِ برصغیر پاک ہند پر بھی گذرا ہے۔
یہ دور ہے برصغیر میں وسطی ایشیاء کے مسلمان حکمرانوں کے اقتدار کا دور جو بابر سے شروع ہوا اور بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوا۔ کچھ لوگ اس دور کو کھینچ کر محمد بن قاسم تک لے جاتے ہیں اور کچھ صرف 1000 سال تک۔ متـفـقـہ تاریخ یہ ہے کے یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ عسکری نکتہء نگاہ سے یہ تو درست ہے، لیکن اس دور میں فرد واحد حکمراں رہا اور فرد واحد ہی قانون سازی کرتا رہا۔ کسی مجلس شوری کے آثار تاریخ میں نہیں ملتے، بغور دیکھئے تو حالات کا تانا بانا کچھ اس طرح رہا کہ، برصغیر میں، اس دور میں کوئی علمی ترقی نہ ہوئی، کوئی ایجاد قابل ذکر نہیں ہے، کوئی قابل ذکر درسگاہ، کوئی یونیورسٹی، کوئی شفا خانوں‌کا نظام، سڑکوں کا نظام، فلاحی نظام، گویا علمی ترقی جو مسلمانوں کا مشرق وسطیٰ میں‌طرہء امتیاز رہا، معدوم ہے۔ اس کم علمی و تاریکی کی بڑی وجہ کیا ہے، میں بے بہرہ ہوں۔ اور اس کا الزام کس کے سر ہے؟ بتانا بہت مشکل ہے۔
البتہ سر سید احمد خان نے جس ادارے کی ابتداء کی اور جس نظام کی بنیاد ڈالی، اس سے اوریجنل تعلیم یعنی سیاست، معاشیت، ثقافت، شہریات، علم ھندسہ (انجینئیرنگ) و ریاضی کی تعلیم عام ہوئی اور برصغیر میں تھوڑے وقت میں ہی مسلمانوں نے جس نشاط ثانیہ کی طرف پیش رفت شروع کی، اس کی رفتار دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں گذشتہ 60 سال میں خصوصا اور قیام علیگڑھ کے وقت سے خصوصاَ نہیں ملتی۔
اس لئے جو طبقہ سرسید کی لائی ہوئی تبدیلی کی مخالفت سرسید کی کردار کشی اس زمانے میں کرتا رہا، اور روایتی مدرسہ کو جدید مدرسہ پر ترجیح دیتا رہا، اور جدید تعلیم کی مخالفت کرتا رہا، اس طبقہ کو میں فطری طور پر اس عصرِانحطاط کا ذمہ دار ٹہراتا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو 'دور مولویت' کہہ کر اس کا مقابلہ یورپ کے دور تاریکی سے کرتا ہوں۔ اس موازنہ کی وجہ علم کی روشنی کی کمی، علمی انحطاط، روایئتوں کا فروغ، توہم پرستی کا فروغ، ایجادات کی کمی اور اس کے نتیجے میں آزادی سے غلامی میں داخلہ ہے۔
اس 'تاریک دور مولویت' کو میں 'یوروپی دور تاریکی' سی بدتر کیوں قرار دیتا ہوں، اکی وجہ علم کے نام پر تاریکی کو فروغ‌ دینا ہے۔اور اس لئے بھی کہ اس دور میں تعلیم عظیم یعنی قران سے سنگدلانہ اختراعات کا سلسلہء غیر متناہی شروع ہوا۔ کلام الہی سے جنوں‌کی تسخیر، جنوں کی مدد سے عورتوں کو اڑوا کر منگوانا، علم الہی کو پھونک کر علاج کرنا، بے بسوں پر ظلم، اور اسی طرح کی دوسرے توہمات کو علم قران قرار دینا، علم کی نام سے تاریکی کے فروغ کی ادنیٰ مثالیں ہیں اور کچھ لوگوں کے عقیدہ میں اب تک اس قدر راسخ ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے۔ مولویت اس دور میں عروج پر رہی۔ مولویں‌کی کوشش تھی کہ درپردہ علم و حکومت ان کے اپنے ہاتھ رہے، چاہے بادشاہ کوئی ہو۔ درسگاہیں صرف ان لوگوں کے لئے محدود تھیں جو ان کے "اپنے" خیالات سے متفق تھے۔ مولوی کا اپنا خیال تھا کہ وہ دین و علم کی خدمت کر رہا ہے لیکن وہ تمام مسلمانوں کو پسماندگی کی طرف دھکیلتا رہا۔ کوئی ایسی کوشش جو کسی دوسری درسگا ہ کی ہوئی، مولوی اس کی راہ میں رکاوٹ‌بنا رہا، حتی کہ کسی بھی درسگاہ کی کوشش کو حکومتی زور و طاقت سے کچلتا رہا۔ یہی رکاوٹ سر سید احمد خان کو بھی پیش آئی، جب علی گڑھ یونیورسٹی کے قیام کا وقت آیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ مولویوں نے ایک نظریاتی جنگ کی ابتداء کی اور سرسید کی کردار کشی اپنے پرانے ہتھکنڈوں سے کرنی شروع کردی۔ جس میں کفر کا فتوی، تارک دین ، تارک حدیث، تارک قرآن اور تارک کے سنت کے فتاوی بہ آسانی ملتے ہیں۔

مولویت کو سب سے بڑا خطرہ کسی بھی قسم کی سند سے تھا۔ اب تک وہ خود ہی قوانین بناتے آرہے تھے، جس کے گواہ، بے تحاشا فتاوی ہیں۔ لیکن کسی دوسری قسم کی سند کا مطلب تھا کہ تعلیم یافتہ افراد اپنا حصہ قانون سازی، سیاست، اور معاشرے کے دوسرے حصوں میں مانگیں گے۔ یہی ہوا بھی اور مولویت کی اولیں شکست کے بعد ہی ایک مسلم حکومت کے آثار بر صغیر پاک و ہند میں نظر آنا شروع ہوگئے۔ مولویت کی اس استحصال کو برصغیر کی کسی قوم بشمول مسلمانوں نے معاف نہیں کیا اور نئی بننے والی حکومت میں ان مولویوں کو کوئی حصہ نہیں دیا کہ مولویت معاشرے کے لئے ایک زہر قاتل ہے۔ اور مذہب کے نام پر ایک مذموم عزائم سے بھرپور سیاسی نظام کا نام ہے۔

آپ کی آسانی کے لئے تاریخ‌ برصغیر میں مولیت کے نمایاں کارنامے:
حرم سراء کے لئے محلوں کی تعمیر۔
مال کی حفاظت کے لئے قلعوں کی تعمیر۔
حکومت کی حفاظت کے لئے چھاونیوں کی تعمیر۔
فرد واحد کی حکومت کے نظریاتی دفاع کے لئے ایک مذہبی انـفراسٹرکچر کا قیام جو کہ حکومت کے لئے زیادہ منافع بخش اور عوام کے لئیے سخت تکلیف دہ سزاؤں پر مشتمل۔
ایکسٹرا جیوڈیشیل طریقہ سے مقدمات کی ہینڈلنگ۔
جنگوں سے بھرپور تاریخ۔

اس کے تاریخی حوالہ جات تو ہم سب کو زبانی یاد ہیں۔ کیا وجہ ہے کی ہماری تاریخ درج ذیل سے عاری ہے؟

جن خامیوں کی طرف اشارہ ہے، مسلمان قرون وسطی میں درج ذیل کار ہائے نمایاں انجام دے چکے تھے۔ ان میں سے، بابر سے ظفر تک علم کا ارتقاء اور قابل ذکر انسٹی ٹیوشنز کے قیام میں سرکاری اور حکومتی کوششوں کے بارے میں حوالہ جات سے بتائیے:

مشترکہ ہندوستان میں
چند بڑی یونیورسٹیوں‌کے نام؟
بڑے شفا خانوں کا نظام، ان کا وجود؟
ان دواؤں کی ایجاد و تعداد جو صحت و زندگی کی ضامن ہیں؟
عوامی دولت کے معاشرے میں‌نفوذ کے بڑے ادارے؟
نظام زکوۃ‌ اور غرباء کی فلاح کے ادارے؟
قرآن و سنت کی ترویج کے ادارے اور مدرسے؟
سائینسی، دفاعی اور دیگر ایجادات؟
صنعت و حرفت کی ترقی کے لیے کئے گئے انتظامات؟
نقل حمل کا نظام۔ (شیر شاہ سوری کی جی ٹی روڈ کو ہٹا کر)؟
عوام الناس کو درج بالاء مدوں‌ میں مشغول اور استعمال کرنے کے نظام؟
ملک گیر مالیاتی نظام؟
عوام کی فلاح و بہبود کی تعمیرات کے نظام کے فروغ کے ادارے؟
ملک گیر مکمل عدالتی نظام کی مثال؟
دفاعی آلات حرب اور کمیونیکشن کی ایجادات؟

یہ سب کچھ میرے لیے بھی اتنا تکلیف دہ ہے جتنا شاید آپ کےلئے کہ خود اپنی زریں تاریخ ہم پر عیاں ہے اور اس تاریکی کے نتیجے میں‌ 200 سالہ غلامی کی سزا بھی یاد ہے۔ اس کا سدباب کیسے ہوا، یہ بھی یاد ہے اور علم حاصل کرنے کی راہ میں کون سا فلسفہ رکاوٹ بنا یہ بھی یاد ہے۔

ذہن میں‌رکھئے کہ یہ مجموعی تنقید آزردہ دلی اور برائی کے نکتہ نظر سے نہیں بلکہ خود آگہی کے لئے ہے کہ مولویت مسلمان کو کس پسماندگی میں دھکیل دیتی ہے۔ کہ معاشرے کا ہر فرد، ہرحصہ تاریکیوں میں‌ڈوب جاتا ہے۔ اور مزا یہ ہے کہ یہ سب اس مذہب کے نام پر ہوتا ہے جو دنیا میں نور کا گہوارہ ہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 12-12-09 at 05:54 AM..

فاروق سرورخان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 838
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-12-09), منتظمین (11-12-09), حیدر (11-12-09)
پرانا 11-12-09, 09:59 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے اچھا لکھا ہے۔تاہم میرے نزدیک آپکا یہ کہنا غیر ضروری تھا کہ کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کیوں کہ رائے میں اختلاف کی صورت بہر کیف ضرور موجود رہتی ہے۔
اگر کوئی خلافت راشدہ کے بعد کے حالات و واقعات کو اسلام کی ترقی سمجھتا ہے یا مغلیہ سلطنت کو اسلامی حکومت گردانتا ہے تو وہ یا تو بچہ ہوگا یا تاریخ سے کُلی طور پر نابلد۔یا پھر تاریخ سے واقفیت محض نسیم حجازی اور اسلم راہی کے ناولوں کت ذریعے رکھتا ہوگا۔
ان حکومتوں کو ہم مسلمانوں کی حکومتیں تو ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن اسلامی حکومت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسلمان حکمرانوں نے اپنی ذاتی اغراض کے حصول کے لیے مذہبی اقتدار کے حامل لوگوں سے گٹھ جوڑ کیا (بعینہ جس طرح آج پاکستان میں ایک پارٹی دوسری پارٹی کے اقتدار کو سہارا دیے ہوئے ہے) مذہبی اقتدار کے لوگوں نے سلطانوں ،بادشاہوں کو کھل کھیلنے کی اجازت دے دی جبکہ ان بادشاہوں و سلطانوں نے مذہبی مہم جوؤں کی ریشہ دوانیوں میں دخل اندازی نہ کروانے کی یقین دہانی کروا دی۔یہی وجہ ہے کہ ملت اسلامیہ کا یہ تاریک ترین دور تھا۔ یہ ایسا دور تھا جس میں بار بار دین اسلام کی تجدید و احیا کی ضرورت پیشآئی۔ وگرنہ صورت حال اس ققدر دگرگوں ہو چکی تھی کہ مذہبی طبقہ کی منافقت و بزدلی کی وجہ سے نیا دین الہی وجود میں اچکا تھا ۔جس کی سب سے بڑی وجہ بادشاہ پر ہندوانہ اثرات اور مزہبی مہم جوؤں کی روز روز کی ریشہ دوانیوں اور لڑائیوں سے نفرت تھی۔
یہہ وہ دور تاریک تھا جس میں فتنہ خلق قران ، معتزلہ، علم الکلام کے فضول مباحث، بین الفقہی فسادات عام ہو گئے۔ عوام کو صوفیت کا بھیس بدل کر ٹھگا جانے لگا۔مساجد ویران اور خانقاہیں آباد ہو گئیں۔ علم کا منبع قرآن و سنت کے بجائے عقل و فہم اور ذاتی اغراض کو سمجھا جانے لگا۔ تبھی اللہ کی وہ سنت پوری ہونے کا وقت آ گیا جس کو قرآن میں "و ضربت علیھم ذلۃ و مسکنۃ" کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ مسلمانوں پر ہلاکت، زلت ،اور مسکینیت کا عذاب نازل کر دیا گیا۔ کبھی چنگیز خان اور ہلاکو خان کی عفریتیں مسلمانوں کو خون بہاتی تھی تو کبھی تیمور اور نادر شاہ کی ہولناکیوں مسلمانوں کو کلیجہ دہلاتی تھیں۔
ایسے میں تجدید کے مقصد کے لیے مختلف بزرگان دین نے اپنا کردار ادا کیا جن میں شیخ احمد سر ہندی، شاہ ولی اللہ و غیر ہم شامل ہیں۔
لیکن مسلمانوں میں مکمل تجدید کا کام نہ ہو سکا۔ نہ کوئی جدید یونیورسٹی قائم کی گئی اور نہ ہی جدید ترقی کی کوئی مساعی کی گئی۔
یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کا زوال رک نہ سکا ۔اور مغلیہ سلطنت کے اختتام پر منتج ہوا۔ بالاخر وہ قوم بر صغیر پر حکمران ہوئی جو مسلمانوں سے بہتر تھی۔
ایسے میں مسلمانوں کی نئے سرے سے تجدید کی ضرورت تھی ۔ اسکا بیڑا سر سید احمد خآن نے اٹھایا۔ انہوں نےاس وقت کے حآلات کے مطابق بہترین فیصلے کیے۔ جس دور پر آشوب میں انہوں نے کام کیا وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
لیکن انکی استعداد کار محض جدید تعلیم کی حد تک تھی۔ جو کسی حد تک ٹھیک بھی تھی۔ لیکن مسلمانوں کے مسائل کا مداوہ محض جدید تعلیم نہیں کر سکتی تھی (بعینہ جس طرح سابقہ دور میں دینی شخصیات کی کوششیں بھی مسلمانوں کو زوال سے نہ بچا سکیں کیونکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کی اشد ضرورت تھی) ۔ سر سید احمد خان جلدی میں غلطی کر بیٹھے اور محض جدید تعلیم کی طرف مسلمانوں کو راغب کیا۔لیکن وقت گزرتے نے انکے رفقا پر ثابت کر دیا کہ محض جدید تعلیم بناؤ سے زیادہ بگاڑ کا سبب بن رہی ہیے اسی وجہ سے یونیورسٹی کے کورسسز میں اسلامیات کا اضافہ کیا گیا۔
لیکن کیا محض 40 صفحوں کی اسلامیات ہم کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کر سکتی ہے؟
اسی وجہ سے اقبال جیسے ماڈرن شخصیت تک کو کہنا پڑ گیا
"ہم تو سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم
کسے خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ"
اسی طرح کی کوشش دینی طبقوں کی طرف سے کوئی انہوں نے اپنے مدارس کی نوک پلک سدھارنے کی کوشش کی۔ لیکن اب وقت کا دھارا بہت آگے جا چکا تھا۔ انہوں نے غلطی کی کہ محض مذہبی تعلیم کو مسائل کا حل سمجھ لیا اور جدید تعلیم پر کوئی توجہ نہ دی۔ جس کی وجہ سے ان اداروں کی دینی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن انہوں نے بھی بناؤ سے زیادہ بگاڑ پیدا کیا۔
اسی پر اقبال نے کہا کہ
"یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتلاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ "
چناچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم خود تیار کریں جس میں ایک اچھا جدید مسلمان تیار کیا جا سکے نہ کہ ایسا مسلمان جس پر "وضع میں تم ہو نصاری تمدن میں تم ہنود" کا لیبل لگ جائے اور نہ ہی ایسا کہ جس کے بارے میں کہا جائے"پر من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا"
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (12-12-09), فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (11-12-09), شاہ (12-12-09)
پرانا 11-12-09, 10:00 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی سلسلہ میں شاید آپکو میرا مقصد مزید سمجھ میں آ جائے
کیا پاکستان کا نظام تعلیم کالے انگریز اور فتنہ جو مُلا پیدا کر رہا ہے؟(Part-1)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (11-12-09)
پرانا 11-12-09, 10:38 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان مسائل کا ایک آسان حل یہ ہے کہ مدرسوں میں دسویں جماعت سے پہلے کسی بھی بچے کا داخلہ ممنوع قرارد دے دیا جائے۔ ایک بچہ دسویں کلاس تک عام سکولوں میں ، عام بچوں کے ساتھ علم حاصل کرئے جس میں اسلامی نصاب پر زیادہ زور ہو۔ اور دسویں کے بعد وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے مدرسے کا رخ کرئے۔
اس سے ایک اچھا معاشرتی مسلمان عالم بننے کے چانس زیادہ ہوں گے۔ ملک میں اس وقت 25 ہزار مدرسے ہیں جن سے ہر سال کم از کم ایک سو عالم فی مدرسہ پیدا ہونا چاہیے۔ جس سے مجموعی تعداد 25 لاکھ عالم ہر سال کی بنتی ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں اتنی تعداد میں عالم کیا عام فہم کے لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں؟
اگر ایسا نہیں تو پھر یہ مدرسے کیا بنا رہے ہیں؟ ان کی استعداد کار کیا ہے؟ ان کا مروج نصاب کیا ہے؟ کیوں‌اس نصاب کو عام عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ہے؟ اس بارے میں رازداری کیوں برتی جاتی ہے؟
مدرسے حکومت کے ساتھ رجسٹر ہونے سے کیوں بھاگتے ہیں؟ آخر کچھ تو دال میں کالا ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), حیدر (12-12-09), شاہ (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 12:40 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
شاہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 199
کمائي: 2,947
شکریہ: 32
139 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
ان مسائل کا ایک آسان حل یہ ہے کہ مدرسوں میں دسویں جماعت سے پہلے کسی بھی بچے کا داخلہ ممنوع قرارد دے دیا جائے۔ ایک بچہ دسویں کلاس تک عام سکولوں میں ، عام بچوں کے ساتھ علم حاصل کرئے جس میں اسلامی نصاب پر زیادہ زور ہو۔ اور دسویں کے بعد وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے مدرسے کا رخ کرئے۔
بہت اچھی تجویز ہے اگر اس پر عمل ہو تو شاید ہم بہترین عالم پیدا کرسکیں ہمارے خیال میں تو یہ شعبہ دسویں کے بجائے بارہویں کے بعد شروع ہو تو اور بھی اچھا رہے گا لیکن مجبوری یہ ہے کے پڑھے لکھے والدین کی اکثریت اپنے بچوں کو عالم دین بنانے سے دور بھاگتے ہیں اسی لئے اتنے بڑے گیپ کو کور کرنے کے لئے مدارس سے فارغ التحصیل عالم ہی میسر آتے ہیں
اب تو ان مدارس کے نصاب میں بھی کافی حد تک سائنس اور انگریزی تعلیم شامل ہے لیکن ان مدرسوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے ان میں دین سے زیادہ مسلک کی تعلیم دی جاتی ہے اور علما کا سارا زور مسلک کی ترویج اور حفاظت پر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہم مسلمانوں کے بجائے مسلکی جتھے تیار کررہے ہیں جو ہر دوسرے جتھے کو کافر اور ظالم قرار دیتا ہے

اقتباس:
مدرسے حکومت کے ساتھ رجسٹر ہونے سے کیوں بھاگتے ہیں؟ آخر کچھ تو دال میں کالا ہے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں‌ اسکا بڑا سبب مالی معاملات ہیں میرے خیال سے تو مدرسوں میں آنے والی امداد شاید کسی چھوٹے موٹے پرائیوٹ اسکول کی آمدنی سے زیادہ ہی ہوتی ہے
شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (12-12-09), حیدر (12-12-09), طاھر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 01:52 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

احبابو اور اصحابو سلام ،

پلیز نوٹ‌کیجئے کہ میرا مراسلہ مذہبی سیاست کے اس دور کے بارے میں ہے جو ہندوستان میں مغلیہ حکومت کے ختم ہونے سے پہلے پروان چڑھتی رہی۔ اس کے اثرات ضرور آج تک موجود ہیں ۔ علمی انحطاط کی وجوہات، فوج کی ترقی ، دفاعی ، معاشی اور علمی ترقی جو پاکستان نے 60 سالوں میں کی ہے وہ اس نظام سے چھٹکارا حاصل کرکے کی ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-12-09, 02:59 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
ان مسائل کا ایک آسان حل یہ ہے کہ مدرسوں میں دسویں جماعت سے پہلے کسی بھی بچے کا داخلہ ممنوع قرارد دے دیا جائے۔ ایک بچہ دسویں کلاس تک عام سکولوں میں ، عام بچوں کے ساتھ علم حاصل کرئے جس میں اسلامی نصاب پر زیادہ زور ہو۔ اور دسویں کے بعد وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے مدرسے کا رخ کرئے۔
اس سے ایک اچھا معاشرتی مسلمان عالم بننے کے چانس زیادہ ہوں گے۔ ملک میں اس وقت 25 ہزار مدرسے ہیں جن سے ہر سال کم از کم ایک سو عالم فی مدرسہ پیدا ہونا چاہیے۔ جس سے مجموعی تعداد 25 لاکھ عالم ہر سال کی بنتی ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں اتنی تعداد میں عالم کیا عام فہم کے لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں؟
اگر ایسا نہیں تو پھر یہ مدرسے کیا بنا رہے ہیں؟ ان کی استعداد کار کیا ہے؟ ان کا مروج نصاب کیا ہے؟ کیوں‌اس نصاب کو عام عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ہے؟ اس بارے میں رازداری کیوں برتی جاتی ہے؟
مدرسے حکومت کے ساتھ رجسٹر ہونے سے کیوں بھاگتے ہیں؟ آخر کچھ تو دال میں کالا ہے۔
بہت شکریہ ان سوالات کا۔
مدرسوں سے نکلا ہوا کوئی بھی شخص آج تک پاکستان مین کوئی قابل ذکر پیشہ ور نہیں‌بن سکا، کسی بھی شعبہ میں دیکھ لیجئے مدرسہ کی تعلیم سے کوئی فائیدہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے ہمارے معاشرہ میں ایسے افراد کا اضافہ ہورہا ہے جو سخت فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ یہ لوگ نفرت پڑھتے اور نفرت پڑھاتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ ان کی اپنی تعلیم کی کمی کی وجہ سے ناکامی ہے۔

ضرور ت ہے مدرسہ کی مذہبی تعلیم کو عام اسکولوں کے نصاب میں ضم کرنے کی اور مدرسوں کو ختم کرنے کی۔ ورنہ ایک فوج ظفر موج تیار کھڑی ہوگی جو امن عامہ کو درہم برہم کردے گی۔ اس لئے کہ وہ 25 لاکھ افراد جو سال یا دو سال میں مدرسہ سے چند سال پڑھ کر باہر آتے ہیں، کوئی نوکری نہیں حاصل کرسکتے، کوئی کاروبار نہیں‌کرسکتے۔ کسی بینک میں‌نہیں‌جاسکتے، گویا تمام قسم کے دروازے ان پر بند ہیں۔ اس طرح نہ صرف یہ لوگ معیشیت پر بوجھ ہیں۔ خود بھی ادھر سے ادھر ناکام پھرتے ہیں۔ دوسروں سے کم رہتے ہیں۔ ان مدرسوں سے سند یافتہ افراد کے ساتھ یہ ایک معاشرتی جرم ہے کہ ان کو اس طرح تیسرے اور چوتھے درجہ کا شہری بنایا جائے۔ یہ خود ان مدرسہ کے طالبعلموں کے ساتھ طلم اور زیادتی ہے کہ ان کو اس صورت حال سے آگاہی نہ دلائی جائے۔

نوٹ کیجئے کہ بندہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک صبح مدرسہ اور 12 سے 5 اسکول جاتا رہا ہے۔ مدرسہ میں‌کوئی پاکستانی ترانہ نہیں ہوتا۔ کوئی پاکستانی جھنڈا نہیں ہوتا۔ مدرسہ حب الوطنی نہیں سکھاتا، مدرسہ نفرت الوطنی سکھاتا ہے۔ مدرسہ کے نصاب کو ایک طرف رکھئے، ہر مولوی پاکستان کے سیاسی نظام پر کیچڑ اچھالتا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہن میں یہ راسخ‌کرتا ہے کہ اس ملک کا نظام ایک غیر اسلامی نظام ہے۔ جب "اسلامی نظام " آئے کا ، "خلفاء کا نظام " آئے گا تو یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔ جبکہ کسی دوسرے نظام کی معمولی سی بھی تفصیل ان کے پاس نہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس ملک کا سیاسی نظام ہے کیا لیکن یہ لوگ اس نظام سے نفرت پڑھانے میں پیش پیش ہیں۔

یہ سب ان بچوں کے دماغ مین راسخ ہوجاتا کہ یہ ایک غیر اسلامی ملک ہے۔ یہ ایک ناپاک فوج ہے، اسلامی نظام آنے والا ہے ۔ پیلے اسکول کے پڑھے ہوئے لوگ پیلے شیطان ہیں۔ یہ پڑھ لکھ کر شیطانی کام کرتے ہیں۔ پھر جب اس شخص کو معاشرہ میں اپنی تعلیم کی کمی کی وجہ سے محرومیاں جکڑ لیتی ہیں تو یہ اس کا الزام بھی پیلے اسکول والے پیلے شیطان پر ڈال دیتا ہے۔

آپ اپنے آپ کو دیکھئے، اپنی ڈگریاں ہٹا دیجئے اور اپنی تعلیم کو واپس پرائمری اسکول کی سطح پر لے جائیے ۔ کیا آُ کا معاشرتی سٹیٹس ایسا ہوگا جیسا کہ آج ہے؟ یقیناً نہیں‌کہ اللہ تعالی بھی کوشش کرنے والوں کو پھل دیتے ہیں۔ تو پھر ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو مدرسہ کے لا علاج مرض میں کیوں‌مبتلا کریں جب کہ ہم کو اس کے نتائج کا علم ہے؟

ضرورت ہے کہ مدرسوں‌کو درجہ بدرجہ فیز آؤٹ کیا جائے اور ان میں‌تمام علوم پڑھائے جائیں۔ اس کے علاوہ مدرسوں کا باقاعدہ انسپیکشن کیا جائے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ان میں حب الوطنی اور حب الاسلام متوازی سکھایا جارہا ہے یا مخالف ۔ تاکہ اس ریاست میں کسی بچے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-12-09, 11:54 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمارے تعلیمی مسائل سہ جہتی ہیں۔ علما سُو کے سکول سسٹم کے خلاف فتاوی اب انہی علما سُو کی طرح قصہ پارینہ بن چُکے۔خود مدارس میں پڑھنے والے نوجوان جدید تعلیم کی اہمیت سے واقف ہیں۔ میرے ایک دوست نے پہلے تو مدرسہ تعلیم حاصل کی پھر اس نے جدید تعلیم کا رخ کیا اور اس میں اس نے پہلے تو بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی پھر انٹر میڈیٹ کے امتحان کو امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اور اب اسکی گرایجویشن کے امتحان میں دوسری پوزیشن ہے یونیورسٹی میں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایک اور دوست کے ساتھ بھی ہے جو اب ایک میدیکل کمپنی میں اعلی عہدے پر تعینات ہے۔
چونکہ یہ لوگ دونوں سسٹمز (جدید اور قدیم) کی خوبیوں اور خامیوں سے کما حقہ واقف ہیں تو وہ زیادہ بہتر تجزیہ پیش کر سکتے ہوتے ہیں با نسبت ان لوگوں کے کہ جو محض کسی ایک سسٹم سے تعلیم یافتہ ہوں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (12-12-09), راجہ اکرام (13-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:59 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ کا کہنا درست ہے کہ اکثر مدارس میں اسلام کے بجائے مسالک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں خود بھی آگاہ ہوںاس بات سے کہ کئی سال طلبا کو علم الکلام (بحث مباحثہ ع مناظرے)کی تعلیم دی جاتی ہے۔ صرف آخری سال قرآن کی تعلیم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ لوگ قرآن و اسلام کی اصل روح سے ناواقف اور لڑاکو مرغوں کی طرح ہوتے ہیں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 08:42 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین، بدر اور شاہ، سلام،

آُپ نے بہت خوبصورتی سے ان بنیادی نوعیت کے مسائیل پر روشنی ڈاالی ہے۔ اس کا بہت شکریہ۔

آپ نے بالکل درست فرمایا۔ میں اس کا امر کا چشم دید گواہ ہوں ۔ مدرسہ کی تعلیم کے چند اچھے پہلو ہیں ۔ وہ ہیں ۔ لیڈر شپ کی ٹریننگ۔ قرآن کی تعلیم ، لیکن یہ دونوں ہنر کچھ دبے دبے سے ہیں۔ لیڈر شپ کی ٹریننگ میں اذان دینا، امامت کرنا، مجمع سے خطاب کرنا، وعظ دینا، بحث و مباحثہ کرنا شامل ہیں۔ لیکن اس میں پلاننگ، سیلز مین شپ اور تواتر سے امامت یعنی لیڈ کرنے کی صلاحیت نہیں فراہم کی جاتی۔ یہ وہ ہنر ہیں جو مزید چاہئیے ہوتے ہیں ۔ پھر یہ ہنر جب ہی کام کے بنتے ہیں‌جب آپ کے پاس نظریات باغیانہ نہ ہوں بلکہ آپ کے نظریات قرآن حکیم کے اصولوں‌کے مطابق ہوں۔ جب تک نظریات کی نوعیت باغیانہ ہوگی، لیڈر شپ کے تمام ہنر منفی مد میں استعمال ہونگے۔

دوسری طرف اسکولوں کا یہ حال ہے کہ ان مین لیڈر شپ کی تعلیم بالکل مفقود ہے۔ نہ اسکولوں میں کوئی خطابت، وعظ، ڈرامہ ، بحث و مباحثہ ، مشاعرہ وغیرہ ہوتا ہے کہ ایک لڑکے کے پبلک سپیکنگ صلاحیتیں بہتر ہوں اور نہ ہی اس کو قرآنی نظریات فراہم کئے جاتے ہیں۔

دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ قوم کے قوانین اٹھا کر دیکھ لیجئے، یہ قوانین ان لوگوں نے بنائے ہیں جن کے نظریات ، قرآن کے سنہری اصولوں پر مشتمل تھے۔ گو کہ ان میں سے بہت سے مسلمان نہیں تھے۔ پھر بھی دنیا کے سنہری اصول کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ یہ وہ جہت ہے جو اسکول ہو یا مدرسہ ، دونوں‌کے طالب علموں‌کے لئے ضروری ہے۔

اس فورم پر اہم پاکستان کی ایجوکیشن پالیسی تو نہیں‌بنا سکتے لیکن کم از کم ہم ایک بنیادی سوچ تو ذہنوں میں پیدا کرسکتےہیں کہ تطہیر اور بہتر کی گنجائش کہاں کہاں ہے؟

جیسا کہ میں نے لکھا آُپ نے بہت خوبصورتی سے ان بنیادی نوعیت کے مسائیل پر روشنی ڈاالی ہے۔ اس کا ایک بار پھر شکریہ۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 12-12-09 at 09:21 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (12-12-09), حیدر (12-12-09)
پرانا 12-12-09, 10:37 PM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مدارس سے ہٹ کر بات کرتے ہین۔
میں اس وقت ایک قبائلی علاقے روجھان مزاری کے ایک سکول میں بطور معلم تعینات ہوں۔ ویسے میرا بنیادی مقصد تو ان طلبہ کی اپ گریدیشن خاص کر سائنس مضامین میں طلبا کے معیار میں بہتری لانا ہے۔ لیکن چونکہ اسلام میرا پسندیدہ موضوع ہے اس لیے میں وقتاََ فوقتاََ اس سلسلے میں طلبا کی ذہنی صلاحیتیں چیک کرتا رہتا ہوں ۔ اس سلسلے میں ۔ ۔ میں نے چند باتیں نوٹ کی ہیں
1: تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہونے کے باوجود اس علاقے کے افراد کی انٹلیکچول لیول دیگر علاقوں کی نسبت بہت بلند ہے
2: زیادہ تر لوگوں کے دماغ میں اسلام کا تصور دین کے بجائے مذہب کا ہے
3: اسلام کو فرقہ وارانہ تناظر میں لیا جاتا ہے
4:لوگ اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے نا بلد ہیں
5:بچے بنیادی دعائیں تک نہیں جانتے
6: ہائی سکول تک کے لیول پر اکثر بچوں کو قران پڑھنا نہیں آتا۔
7:کئی مدارس اور سکول ایسے ہیں جن کے مالکان کسی نہ کسی فرقہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے متعصبانہ شدت پسندانہ نظریات رکھتے ہیں ۔ خطرہ یہ ہے کہ یہی نطریات بچوں میں بھی داخل ہو جائیں گے

میں نے ان مسائل کے تدارک کے طور پر چند اقدامات تو کیے ہیں جیسے اسمبلی میں دعاؤن کا دہروانا، کلاس میں اسلامیات کے پیریڈ میں قرآن کی تلاوت کروانا ، بچوں کو قران کے باترجمہ پڑھنے کا حوصلہ دلوانا وغیرہ
لیکن یہ تمام اقدامات انفرادی طور کے ہیں۔ مجھے مشورہ دیجیے کہ مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے کہ آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں۔
یاد رہے کہ روجھان مزاری جنوبی پنجاب کا وہ علاقہ ہے جہاں وزیرستان سے مفرور دہشت گردوں کے قیام کرنے کی اطلاعات ہیں اور اسی علاقے میں بلوچستان کے باغی بھی ا کر پناہ لیا کرتے ہیں۔ چناچہ یہ علاقہ متوقع طور پر کسی آتش فشاں سے کم نہیں،
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-12-09), فاروق سرورخان (12-12-09), منتظمین (13-12-09)
پرانا 12-12-09, 11:35 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام بدر،
آپ کا سوال بہت ہی اہم نوعیت کا ہے۔

آُپ نے بہت خوبصورتی سے ان بنیادی نوعیت کے مسائیل پر روشنی ڈاالی ہے۔ اس کا ایک بار پھر شکریہ۔

اقتباس:
میں نے ان مسائل کے تدارک کے طور پر چند اقدامات تو کیے ہیں جیسے اسمبلی میں دعاؤن کا دہروانا، کلاس میں اسلامیات کے پیریڈ میں قرآن کی تلاوت کروانا ، بچوں کو قران کے باترجمہ پڑھنے کا حوصلہ دلوانا وغیرہ
لیکن یہ تمام اقدامات انفرادی طور کے ہیں۔ مجھے مشورہ دیجیے کہ مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے کہ آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں۔
سب سے پہلے آپ یہ سوچئیے کہ آُ کا مقصد ( آبجیکٹیو) کیا ہے؟

کیا ایک مضبوط پاکستان آپ کی خواہش ہے؟

اگر ہاں تو ایک مضبوط پاکستان ایک مضبوط مرکز کے بغیر ممکن ہے؟

اگر ایک مضبوط مرکز ضروری ہے تو پھر اس کے لئے کیا قربانیاں‌دینی ہونگی؟

بہت سے لوگوں کو مرکز سے شکایات ہیں ۔ جو کہ اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ اس کا علاج یہ لوگ مرکز سے نفرت پھیلا کر کرتے ہیں۔ کیا یہ ایک اچھا علاج ہے؟

مرکز کو برا ثابت کرنے کے لئے، کچھ قوتیں‌، مرکز کی برائی کرنے میں اسلامی نظریات سے مدد لیتی ہیں ۔ ان قوتوں کے سات پھر ملا بھی لگ جاتے ہیں۔ اس طرح "ایمانی قوتوں" کے آتش فشاں ، مرکز کے خلاف تعمیر کئے جارہے ہیں۔ اس لئے کہ مرکز بنیادی طور پر بڑا ہے۔

اگر مرکز کی مدد خود اللہ تعالی یا اس کے فرشتے بھی کرنے آئیں تو یہی لوگ رحمان کو شیطان اور فرشتوں کو شیطان کے چیلے ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔

آپ نے اسی قسم کے آتش فشاں کی نشاندہی کی ہے۔ مزاری بلوچوں کی سیٹ اسی شہر سے آتی رہی ہے۔ جو کچھ بلوچستان میں‌ہا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرکز سے دوری بہت ہی نمایاں ہے۔

اس کا علاج وطن پرستی اور دین پرستی کا متوازی ہونا ضروری ہے۔ اس کے لئے آپ قومی ترانہ، اور قومی پرچم اسمبلی میں شامل رکھئے۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں‌ خامی نہیں‌ہے ، اس کو چلانے والوں‌میں کمی ہے۔ آپ اپنے طالب علم بچوں کو بتائیے کہ باہمی مشورہ کہ یہ نظام تو اللہ تعالی کے احکام کے مطابق ہے لیکن اس کے لئے بہتر لوگوں‌کی ضروت ہے۔ ان بچوں سے پوچھئیے کہ آپ میں‌سے کون ایسا بہتر قانون دان بننا پسند کرے گا جو ایوان قانون میں جاکر روجھان مزاری کا نام روشن کرسکے۔

آپ نے ایک دل بھی دھڑکا دیا تو آپ کا شمار ان روشنی کے میناروں میں‌ہوگا، جو اپنی جگہ کھڑے کھڑے پاکستان کی تاریخ کا دھارا موڑ دیتے ہیں۔

اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 13-12-09 at 02:10 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (13-12-09), حیدر (13-12-09)
پرانا 13-12-09, 12:30 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,438
شکریہ: 52,468
11,152 مراسلہ میں 35,192 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اس بات کا قائل ہوں کہ مرکزیت یا اجتماعیت ہی اصل میں مسلمانوں کی اصل طاقت ہے، اور جب بھی اکثریت کوئی فیصلہ کر دے تو چاہے کسی کا دل مانے یا نہ مانے اس فیصلہ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اس پر عمل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ اور اس کے خلاف کرنا گناہ کا باعث (مثال صلح حدیبیہ) -یہی وہ بات ہے جو میں اپنے طلبا کو ذہن نشین کرواتا رہتاہوں۔
پاکستان کا قومی ترنہ و پرچم تو لازمی حصہ ہے ہی۔ لیکن اس وقت اصل مسئلہ فرقہ وارانہ منافرت کا ہے۔ لوگوں کے ذہن میں اسلام یا تو بریلوی ہے یا دیو بندی یا شیعہ یا دیگر۔ خاٌس اسلام تو ہے ہی نہیں سونے پر سہاگی کسی کو قرآن پڑھنا ہی نہیں آتا۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-12-09), منتظمین (13-12-09)
پرانا 13-12-09, 02:21 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ میرے آرٹیکلز میں دئے گے حوالوں سے قرآن کی آیات چن چن کر مرکزیت ، باہمی مشورہ ، قانون سازی کی ضرورت، اجاگر کیجئے ۔ صرف قرآن کی آیات پہنچائیے، میرے خیالات پہنچانے کے ضرورت نہیں۔

یہ بتائیے کہ اللہ تعالی نے اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامنے اور فرقہ بندی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جی؟
اور ہم کو یہ طریقہ بھی سکھایا ہے کہ فرقہ بندی کیسے ختم ہوگی، کہ تمام فرقہ آپس میں‌باہمی مشورہ کریں ، یہی لوگ مومن ہیں۔ آپ ان دو آیات سے مدد لیجئے اور بچوں کے ذہن میں فرقہ بندی کا علاج باہمی مشورہ ڈالئے،

کلاس میں ہر بچے کا نام لکھئے اور نام کے آگے اس کو قرآن کی ایک آیت کو مع معانی یاد کرنے کا کام ذمہ لگائیے۔ یہ آیت چھوٹی ہو اور معانی بھی چھوٹے ہوں۔ اسلامیات کے پیریڈ میں 30 میں سے 10 منٹ ، پانچ بچوں کو بلائیے اور کلاس کے سامنے اس آیت کی تلاوٹ اور معانی اس بچے سے سنئیے اور پھر ان بچوں کو ایک چھوٹا سا ربن دیجئے یا کوئی بھی نمایاں‌ بیج۔ چاہے کاغذ کا ہی بنا ہو۔ یہ انعام اور پہچان بن جائے گا۔ بچہ اپنے باپ کو بھی سنائے گا تو وہ خوش ہوگا کہ اس کے بچے کو قرآن کی آیت اور معانی یاد ہوئے اور آپ کی کلاس کے باقی بچے اس آیت کو سنیں گے اور سمجھیں گے۔ اس طرح ہر روز 5 آیات ساری کلاس کے سامنے پہنچیں گی۔ یعنی 25 آیات ہفتہ اور 10 آیات مہینہ۔ آپ آیات کود سے اور پہلے سے چن سکتے ہیں ، جو دینی اور مذہبی نکتہ نگاہ کے علاوہ اسلامی یکجہتی سے بھر پور ہوں۔

باہمی مشور، تفرقہ کا علاج ہے اور مرکزیت کو طاقت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالی کا یہ ہم پر احسان ہے کہ تفرقہ کا علاج بھی بتایا ہے۔ پھر قرآن لوگوں کو قریب لاتا ہے ۔ آپ اس کو ایک بار چھو لیجئے ، یہ آپ کو چھوڑتا نہیں، چمٹ‌جاتا ہے

میری تمام دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-12-09, 02:21 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,599
کمائي: 31,044
شکریہ: 7,103
2,935 مراسلہ میں 8,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ میرے آرٹیکلز میں دئے گے حوالوں سے قرآن کی آیات چن چن کر مرکزیت ، باہمی مشورہ ، قانون سازی کی ضرورت، اجاگر کیجئے ۔ صرف قرآن کی آیات پہنچائیے، میرے خیالات پہنچانے کے ضرورت نہیں۔

یہ بتائیے کہ اللہ تعالی نے اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامنے اور فرقہ بندی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ جی؟
اور ہم کو یہ طریقہ بھی سکھایا ہے کہ فرقہ بندی کیسے ختم ہوگی، کہ تمام فرقہ آپس میں‌باہمی مشورہ کریں ، یہی لوگ مومن ہیں۔ آپ ان دو آیات سے مدد لیجئے اور بچوں کے ذہن میں فرقہ بندی کا علاج باہمی مشورہ ڈالئے،

کلاس میں ہر بچے کا نام لکھئے اور نام کے آگے اس کو قرآن کی ایک آیت کو مع معانی یاد کرنے کا کام ذمہ لگائیے۔ یہ آیت چھوٹی ہو اور معانی بھی چھوٹے ہوں۔ اسلامیات کے پیریڈ میں 30 میں سے 10 منٹ ، پانچ بچوں کو بلائیے اور کلاس کے سامنے اس آیت کی تلاوت اور معانی اس بچے سے سنئیے اور پھر ان بچوں کو ایک چھوٹا سا ربن دیجئے یا کوئی بھی نمایاں‌ بیج۔ چاہے کاغذ کا ہی بنا ہو۔ یہ انعام اور پہچان بن جائے گا۔ بچہ اپنے باپ کو بھی سنائے گا تو وہ خوش ہوگا کہ اس کے بچے کو قرآن کی آیت اور معانی یاد ہوئے اور آپ کی کلاس کے باقی بچے اس آیت کو سنیں گے اور سمجھیں گے۔ اس طرح ہر روز 5 آیات ساری کلاس کے سامنے پہنچیں گی۔ یعنی 25 آیات ہفتہ اور 10 آیات مہینہ۔ آپ آیات کود سے اور پہلے سے چن سکتے ہیں ، جو دینی اور مذہبی نکتہ نگاہ کے علاوہ اسلامی یکجہتی سے بھر پور ہوں۔

باہمی مشورہ، تفرقہ کا علاج ہے اور مرکزیت کو طاقت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالی کا یہ ہم پر احسان ہے کہ تفرقہ کا علاج بھی بتایا ہے۔ پھر قرآن لوگوں کو قریب لاتا ہے ۔ آپ اس کو ایک بار چھو لیجئے ، یہ آپ کو چھوڑتا نہیں، چمٹ‌جاتا ہے

میری تمام دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

Last edited by فاروق سرورخان; 13-12-09 at 02:37 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کوششوں, کلام, کارنامے, پاک, قرآن, قران, مکمل, مقابلہ, الزام, تعلیم, رفتار, زندگی, سیاست, سوری, سال, علاج, عروج, عزائم, عسکری, عظیم, غلامی, صحت, صرف, صغیر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دورہ یورپ کی منسوخی، تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو تقویت مل سکتی ہے گلاب خان خبریں 0 26-09-10 04:13 AM
صغیر احمد صغیر احمد تعارف 8 26-11-09 06:30 PM
بر صغیر کی آزادی wajee تاریخ کا آئینہ 1 03-08-09 08:03 PM
برصغیر پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ کی گم شدگی طارق راحیل خبریں 0 23-02-09 09:00 PM
اک کارواں کہیں کو رواں ہونا چاہئے احمد صغیر صدیقی Real_Light شعر و شاعری 2 04-09-08 11:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger