واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


’کون سی ماں اور کہاں کی جنت‘؟۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-09, 05:02 PM   #1
’کون سی ماں اور کہاں کی جنت‘؟۔
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 15-06-09, 05:02 PM

تحریر مفتی ابو ہریرہ محی الدین

ماں نے بچے کو مکتب میں داخل کرایا۔ استاد نے کہا کہ بیٹا پڑھو الحمد للہ رب العالمین بچہ کہتا ہے کہ استاد جی یہ تو مجھے آتا ہے، بلکہ مجھے تو چودہ پارے آتے ہیں۔ میں پندرہواں پارہ سبحان الذی اسریٰ سے پڑھوں گا۔ استاد حیران رہ گیا کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اسے چودہ پارے کیسے آگئے اور وہ بھی صرف ناظرہ نہیں بلکہ حفظ کئے ہوئے ہیں۔ استاد نے بچے کی ماں کو بلوایا۔ اس سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ کہتا ہے کہ مجھے چودہ پارے حفظ ہیں، اتنی سی عمر میں اس نے یہ کیسے حفظ کرلئے؟ اس کا استاد کون ہے؟ ماں نے کہا بات دراصل یہ ہے کہ مجھے چودہ پارے حفظ تھے لہذا جب میں اسے دودھ پلاتی تو پہلے وضو کرتی پھر دودھ پلاتی اور اس دوران تلاوت بھی کرتی رہتی، لہذا اس طرح سے بچے کو چودہ پارے زبانی یاد ہو گئے۔ اس عظیم ماں کا یہی بیٹا جب بڑا ہوا تو شیخ عبدالقادر جیلانی کہلایا۔

یہ ان بھلے وقتوں کی باتیں ہیں جب مائیں قرآنی صفات والی ’مومنات‘ ہوا کرتی تھیں، ایمان ان کی جان، تقویٰ ان کی پہچان، شرم وحیا ان کا زیور، صبروقناعت ان کا اوڑھنا بچھونا، شکر و ذکر ان کی گفتگو، خدمت ان کا شعار اور حیا ان کی چادر ہوا کرتی تھی، ایسی مائیں طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، محمود غزنوی اور ٹیپو سلطان جیسے مجاہد پیدا کیا کرتی تھیں، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام محمد اور امام ابو یوسف جیسے آئمہ کو جنم دیا کرتی تھیں، امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی اور امام ابو داود جیسے محدثین کو پروان چڑھایا کرتی تھیں، بوعلی سینا، ابن الہیثم، جابر بن حیان وغیرہ جیسے سائنسدان تخلیق کیا کرتی تھیں، شاہ ولی اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے علمائے کرام امت کو دیا کرتی تھیں، شیخ عبدالقادر جیلانی، معین الدین چشتی، نظام الدین اولیائ، جنید بغدادی، بایزید بسطامی اور امام غزالی جیسے تصوف کے اماموں کی پرورش کیا کرتی تھیں اور عمر ابن عبدالعزیز، ہارون رشید، سلطان محمود غزنوی، حیدر علی اور جہانگیر جیسے حکمران تیار کیا کرتی تھیں۔

آج صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔ مائیں بچے کو دودھ پلانے سے پہلے وضو کیا کریں گی؟ وہ تو نماز تک نہیں پڑھتیں، دودھ پلاتے وقت تلاوت اور ذکر و اذکار کرنے کے بجائے یا تو گانے گنگناتی رہتی ہیں یا پھر ٹی وی پر فلمیں، ڈرامے اور گانے دیکھتی اور سنتی رہتی ہیں، حتیٰ کہ بھارتی ڈراموں کے ذریعے معصوم شیر خوار بچے کے کانوں اور ذہن کو ہندووں کے بھجن اور رام بھگوان کے ناموں سے آلود کرتی ہیں۔ بچے کو کوئی بھی کام شروع کرنے کے موقع پر بسم اللہ کے بجائے ’ون ٹو تھری ریڈی‘ سکھاتی ہیں دوسروں کی جانب سے اچھے برتاو پر جزاک اللہ کی بجائے تھینک یو سکھاتی ہیں۔ کوئی بات ناگوار گزرنے اور پریشانی کی بات سننے پر اناللہ کے بجائے ’اوشٹ‘ اور ’او سو سیڈ‘ سکھاتی ہیں سلام کی جگہ ’گڈ مارننگ‘ اور ’گڈ ایوننگ‘ سکھاتی ہیں حتی کہ اپنے رب کا پیارا نام اللہ سکھانے کی بجائے ’گاڈ‘ سکھاتی ہیں اور غیر مسلموں کی تہذیب سکھانے کے بعد انتہائی فخر سے کہتی ہیں۔ ’میری بیٹی ڈانس بہت اچھا کرتی ہے، بیٹا ذرا آنٹی، انکل کو ڈانس کرکے دکھاو ایک خاتون کو تو یہاں تک کہتے سنا کہ ’ماشاءاللہ! ہمارے خاندان کی ساری لڑکیاں ڈانس اچھا کرتی ہیں۔ اللہ کی پناہ اور خودان ’ماوں‘ کا یہ حال ہے کہ رات کو ٹی وی پر فلمیں، ڈرامے دیکھتے سو جاتی ہیں اور صبح اٹھتے ہی گانے لگا دیتی ہیں اور پھر گھر کے سارے کام موسیقی کی ردھم پر کرتی ہیں، لباس جیسا زیب تن کرتی ہیں کہ ’لاکھ کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے‘۔ فیشن کی اس قدر دلدادہ ہیں کہ سودا خریدنے بازار بھی جائیں گی تو دس منٹ کی خریداری کے لیے ایک گھنٹہ میک اپ کریں گی اور پھر بازاروں میں ہنسی مذاق الگ کرتی ہیں، فرائض کی پروا نہیں، واجبات کا علم نہیں اور سنتوں سے دلچسپی نہیں، پردہ ترک کئے تو زمانہ گزر گیا اور اکثر خواتین کا یہ حال ہے کہ وہ ملازمت آزادی حاصل کرنے، فیشن کا شوق پورا کرنے اور ’دوستیاں‘ کرنے کے لیے کرتی ہیں جن کی وجہ سے وہ خواتین بھی بدنام ہوتی ہیں جو کسی مجبوری کے تحت ملازمت کرتی ہیں۔

ماں کی گود دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جو بچہ اس گود سے کامیابی کی ڈگری لے کر نکلتا ہے وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہوتا۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے اور کسی بھی فلیڈ میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ جبکہ تربیت اسے انسانیت سکھاتی ہے۔ آج کی مائیں اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم تو دلوارہی ہیں، مگر وہ خود بھی اچھی تربیت سے محروم ہیں اور اپنے بچوں کو بھی محروم رکھ رہی ہیں۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ایسی ماوں کے بچے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کر کے مسیحا بننے کے بجائے ڈاکو، لٹیرے بن جاتے ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے قیمتی انسانی جان ضائع ہو رہی ہوتی ہے مگر وہ اپنی بھاری بھرکم فیس کا انتظام ہونے سے پہلے اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے، استاد بنتے ہیں تو ان کی نظریں بچوں کے مستقبل کے بجائے ٹیوشن پر لگی رہتی ہیں۔ تاجر وصنعتکار بنتے ہیں تو ملاوٹ، بے ایمانی، ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ حکمران بنتے ہیں تو عوام کے خون کا ایک ایک قطرہ چوس کر ان کا سودا کرکے بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں، سرکاری ملازم بنتے ہیں تو رشوت کا بازار گرم کر دیتے ہیں، سرمایہ دار بنتے ہیں تو غریبوں کو غلام بنالیتے ہیں اور منصف بنتے ہیں تو انصاف کی قیمت مقرر کرکے اسے ’انمول‘ کر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آج کی مائیں رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کو ’ہائی کوالیفائیڈ‘ بنا کر پیسوں کی مشین تو بنا دیتی ہیں مگر اسے انسانیت کے بنیادی اخلاق سے محروم رکھ کر اچھا انسان بلکہ انسان ہی نہیں بننے دیتیں۔

مغرب اور مغرب زدہ اقوام نے ماں کو بھی ’تہوار‘ کا درجہ دے دیا ہے۔ لہذا جس طرح کوئی بھی تہوار سال میں ایک مرتبہ منایا جاتا ہے، اسی طرح ماوں کا دن بھی سال میں ایک مرتبہ منایا جاتا ہے۔ اس دن ماں سے محبت کا اظہار، ملاقات، فون، میسج یا تحائف پیش کئے جاتے ہیں اور پھر باقی 364 دن کونسی ماں اور کس کی ماں؟ مغربی عوام توھم پرست ہیں، ان کی نظر میں کوئی بھی چیز اسی وقت تک اہمیت رکھتی ہے جب تک وہ ان کے لیے مفید ہو بصورت دیگر وہ اسے ڈسٹ بن کی نذر کر دیتے ہیں، ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹا، بیٹی وغیرہ وغیرہ یہ سب جذباتی باتیں ہیں، جو کیپیٹل ازم کے دلددادہ عوام کی نظر میں وقت کا ضیاع اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ وہ چونکہ خود کو ڈارون تھیوری کے مطابق بندروں کی اولاد سمجھتے ہیں، لہذا ان کا نظام بھی حیوانی ہے کہ بچوں کو جانوروں کی طرح اپنے پاو ¿ں پر کھڑا کردو اور پھر انہیں بھول جاو، جبکہ اسلام کی تعلیمات اس قدر جامع ہیں کہ ان پر عمل کرنے والوں کو ’مدر ڈے‘ ’فادر ڈے‘ منانے کی ضرورت نہیں پڑتی کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہے، لہذا ایک لمحے کے لیے بھی باپ کو ناراض کر کے رب کائنات کو ناراض کرنے کی حماقت نہیں کر سکتے اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی ماں کو خفا کرکے جنت سے محرومی برداشت نہیں کر سکتے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو بندر کے بچے بنانے کے بجائے انسان بنایا جائے، انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے، انہیں اخوت اسلامی اور انسانیت کا درس دیا جائے ایک دیندار مسلمان ہی اس بات کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے کہ جنت میری ماں کے قدموں تلے ہے بصورت دیگر وہ یہی کہے گا کہ ’کون سی ماں اور کہاں کی جنت‘؟۔


ایک آن لائن روزنامے ’’کراچی اپڈیٹس‘‘ دیکھنے کو ملی۔ اچھی لگی، سوچا اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر ہو جائے۔
بشکریہ: کراچی اپڈیٹس
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 206
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-06-09), چیتا چالباز (15-06-09), محمدخلیل (16-06-09), راشد احمد (16-06-09), رضی (16-06-09)
پرانا 16-06-09, 01:30 AM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے ماؤں یا خواتین کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ۔ کبھی آپ نے ایسی ماؤں کے شوہروں کو دیکھنے کی زحمت کی ۔ کتنی بھی ماڈرن فیملی ہو گھر کا ماحول مرد کے مطابق ہوتا ہے ۔ یہ ہم نے کہیں نہیں دیکھا کہ شوہر تو بہت مذ ہبی ہے لیکن بیوی ان خصوصیات کی حامل ہے جو آپ نے اوپر بتایا ۔ ہم نے ماڈرن سے ماڈرن لڑکیوں کو شوہر کے مطابق ڈھلتے دیکھا ہے ۔
ان خواتین کی تربیت کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ۔ جس معاشرے میں خواتین کو مسجد میں جانے پر پابندی اور شاپنگ سینٹر میں جانے کی آذادی ہوگی وہاں ایسی ہی خواتین آپ کو ملیں گی
مرد حضرات کو کم از کم ہفتے میں ایک بار جمعہ کا خطبہ سننے کو تو ملتا ہے ۔ خواتین کو کیا دیا ہے آپ لوگوں نے یہی ٹی وی ۔ فلمیں ۔
ہماری پچھلی نسل نے ہم کو قرآن پڑھنا تو سکھایا لیکن اس کا ترجمعہ پڑھنے کا خیال کسی کو نہیں آیا
میں جب ساتویں کلاس میں تھی تو پہلی بار میں نے قرآن کی تفسیر کھول کر پڑھنی شروع کی تو میری امی نے کہا کہ تم یہ کیوں پڑھ رہی ہو ہم ایسے قرآن نہیں پڑھ سکتے ۔ تم کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا ۔ مین نے امی کو کہا تو پھر مجھ کو ایسے مدرسے میں داخل کرائیں جہاں میں اس کا ترجمعہ سیکھ سکوں تو میری امی نے کہا کہ تمھاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی ہیں ۔
اس طرح خواتین کا مذاق اُڑانا بہت آسان ہے لیکن کیا ہم نے کبھی خواتین کو اسلام کی تعلیم دینے کا سوچا۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
مرزا محمد فاروق (16-06-09), راجہ اکرام (16-06-09), راشد احمد (16-06-09), علی....Ali (17-06-09)
پرانا 16-06-09, 08:22 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,081
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بہن آپ نے بالکل درست فرمایا۔
در اصل ہم نے مذہبی روایات اور اسلاف کے طریقہ کار کو پس پشت ڈال کر مقامی روایات اور غیر اسلامی طریقہ کار کو اپنا لیا ہے۔
اور آپ نے بہت ہی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ ’’بازار میں جانے کی تو اجازت ہے لیکن مسجد میں جانے کی نہیں‘‘ جب ایسا ماحول ہو گا تو جو گل کھلیں گے وہ سب کے سامنے ہیں۔

یہ والدین کی ذمہ داری ہے ، بالخصوص باپ کی کہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بھی تعلیم دینے کا انتظام کرے۔ آج کل ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیں‌جو بچیوں کے لئے انتہائی متوازن اور مناسب نصاب پڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر میٹر کے بعد دو سال کے لئے ۔ اور تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ طریقہ انتہائی مفید ہے۔

لیکن ہم ماؤں کا زیادہ ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اور شوہر حضرات تو شام کو ہی آکر دیکھتے ہیں۔ اور اکثر منا سو رہا ہوتا ہے۔ شوہر کتنا ہی ماڈرن کیوں نہ ہو، لیکن اگر ماں مثبت سوچ کی حامل ہو تو اس کا یقینی اثر بچے کی تربیت اور ذہنی ساخت پر پڑتا ہے۔

اگر ہم نے اپنے معاشرے اور معاشرتی اقدار کو بچانا ہے تو ہمیں بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا، بالخصوص دینی تعلیم۔
کسی نے کہا تھا کہ ’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں‌ تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا‘‘

اسی طرح عربی زبان میں ایک مقولہ ہے جس کا یہاں ذکر مفید ہو گا ’’تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں معماران تاریخ ہوں، تو لازم ہے کہ تعلیم یافتہ اور خود دار و ہنر مند مائیں تیار کی جائیں۔ کیوں کہ یہی خصوصیات پھر اولاد میں منتقل ہوں گی۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر غیروں سے گلا کرنا زیادتی ہو گی۔

۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-06-09), راشد احمد (16-06-09), رضی (16-06-09), سحر (16-06-09)
پرانا 16-06-09, 08:22 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,081
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بہن آپ نے بالکل درست فرمایا۔
در اصل ہم نے مذہبی روایات اور اسلاف کے طریقہ کار کو پس پشت ڈال کر مقامی روایات اور غیر اسلامی طریقہ کار کو اپنا لیا ہے۔
اور آپ نے بہت ہی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ ’’بازار میں جانے کی تو اجازت ہے لیکن مسجد میں جانے کی نہیں‘‘ جب ایسا ماحول ہو گا تو جو گل کھلیں گے وہ سب کے سامنے ہیں۔

یہ والدین کی ذمہ داری ہے ، بالخصوص باپ کی کہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بھی تعلیم دینے کا انتظام کرے۔ آج کل ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیں‌جو بچیوں کے لئے انتہائی متوازن اور مناسب نصاب پڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر میٹر کے بعد دو سال کے لئے ۔ اور تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ طریقہ انتہائی مفید ہے۔

لیکن ہم ماؤں کا زیادہ ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اور شوہر حضرات تو شام کو ہی آکر دیکھتے ہیں۔ اور اکثر منا سو رہا ہوتا ہے۔ شوہر کتنا ہی ماڈرن کیوں نہ ہو، لیکن اگر ماں مثبت سوچ کی حامل ہو تو اس کا یقینی اثر بچے کی تربیت اور ذہنی ساخت پر پڑتا ہے۔

اگر ہم نے اپنے معاشرے اور معاشرتی اقدار کو بچانا ہے تو ہمیں بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا، بالخصوص دینی تعلیم۔
کسی نے کہا تھا کہ ’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں‌ تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا‘‘

اسی طرح عربی زبان میں ایک مقولہ ہے جس کا یہاں ذکر مفید ہو گا ’’تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں معماران تاریخ ہوں، تو لازم ہے کہ تعلیم یافتہ اور خود دار و ہنر مند مائیں تیار کی جائیں۔ کیوں کہ یہی خصوصیات پھر اولاد میں منتقل ہوں گی۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر غیروں سے گلا کرنا زیادتی ہو گی۔

۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پرانا 16-06-09, 11:20 AM   #5
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے بالکل وقت ہی ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کروایا ہے ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
راشد احمد (16-06-09)
جواب

Tags
گانے, قرآن, قرآنی, لوگ, چور, نماز, ماں, محبت, مسجد, ایمان, انسان, اسلام, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بچوں, ترک, تعلیم, حضرات, خون, خواتین, رات, زمانہ, سودا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سی آئی اے سمیت کسی غیر ملکی ایجنسی کو پاکستان میں آزادانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی گلاب خان خبریں 0 28-02-11 05:13 AM
ایس سی او ٹول بار کسی بھی مہنگے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سافٹ ویر سے بہتر یاسر عمران مرزا SEO and Marketing 15 28-11-10 12:55 AM
پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی جاویداسد خبریں 0 18-08-10 10:28 PM
آئی سی ایل میں‌پاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل محمدعدنان کرکٹ 1 16-04-08 11:27 AM
لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 08:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:04 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger