| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 206
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (16-06-09), چیتا چالباز (15-06-09), محمدخلیل (16-06-09), راشد احمد (16-06-09), رضی (16-06-09) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے ماؤں یا خواتین کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ۔ کبھی آپ نے ایسی ماؤں کے شوہروں کو دیکھنے کی زحمت کی ۔ کتنی بھی ماڈرن فیملی ہو گھر کا ماحول مرد کے مطابق ہوتا ہے ۔ یہ ہم نے کہیں نہیں دیکھا کہ شوہر تو بہت مذ ہبی ہے لیکن بیوی ان خصوصیات کی حامل ہے جو آپ نے اوپر بتایا ۔ ہم نے ماڈرن سے ماڈرن لڑکیوں کو شوہر کے مطابق ڈھلتے دیکھا ہے ۔
ان خواتین کی تربیت کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ۔ جس معاشرے میں خواتین کو مسجد میں جانے پر پابندی اور شاپنگ سینٹر میں جانے کی آذادی ہوگی وہاں ایسی ہی خواتین آپ کو ملیں گی مرد حضرات کو کم از کم ہفتے میں ایک بار جمعہ کا خطبہ سننے کو تو ملتا ہے ۔ خواتین کو کیا دیا ہے آپ لوگوں نے یہی ٹی وی ۔ فلمیں ۔ ہماری پچھلی نسل نے ہم کو قرآن پڑھنا تو سکھایا لیکن اس کا ترجمعہ پڑھنے کا خیال کسی کو نہیں آیا میں جب ساتویں کلاس میں تھی تو پہلی بار میں نے قرآن کی تفسیر کھول کر پڑھنی شروع کی تو میری امی نے کہا کہ تم یہ کیوں پڑھ رہی ہو ہم ایسے قرآن نہیں پڑھ سکتے ۔ تم کو کچھ سمجھ نہیں آئے گا ۔ مین نے امی کو کہا تو پھر مجھ کو ایسے مدرسے میں داخل کرائیں جہاں میں اس کا ترجمعہ سیکھ سکوں تو میری امی نے کہا کہ تمھاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی ہیں ۔ اس طرح خواتین کا مذاق اُڑانا بہت آسان ہے لیکن کیا ہم نے کبھی خواتین کو اسلام کی تعلیم دینے کا سوچا۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,081
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بہن آپ نے بالکل درست فرمایا۔
در اصل ہم نے مذہبی روایات اور اسلاف کے طریقہ کار کو پس پشت ڈال کر مقامی روایات اور غیر اسلامی طریقہ کار کو اپنا لیا ہے۔ اور آپ نے بہت ہی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ ’’بازار میں جانے کی تو اجازت ہے لیکن مسجد میں جانے کی نہیں‘‘ جب ایسا ماحول ہو گا تو جو گل کھلیں گے وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے ، بالخصوص باپ کی کہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بھی تعلیم دینے کا انتظام کرے۔ آج کل ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیںجو بچیوں کے لئے انتہائی متوازن اور مناسب نصاب پڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر میٹر کے بعد دو سال کے لئے ۔ اور تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ طریقہ انتہائی مفید ہے۔ لیکن ہم ماؤں کا زیادہ ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اور شوہر حضرات تو شام کو ہی آکر دیکھتے ہیں۔ اور اکثر منا سو رہا ہوتا ہے۔ شوہر کتنا ہی ماڈرن کیوں نہ ہو، لیکن اگر ماں مثبت سوچ کی حامل ہو تو اس کا یقینی اثر بچے کی تربیت اور ذہنی ساخت پر پڑتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے معاشرے اور معاشرتی اقدار کو بچانا ہے تو ہمیں بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا، بالخصوص دینی تعلیم۔ کسی نے کہا تھا کہ ’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا‘‘ اسی طرح عربی زبان میں ایک مقولہ ہے جس کا یہاں ذکر مفید ہو گا ’’تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں معماران تاریخ ہوں، تو لازم ہے کہ تعلیم یافتہ اور خود دار و ہنر مند مائیں تیار کی جائیں۔ کیوں کہ یہی خصوصیات پھر اولاد میں منتقل ہوں گی۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر غیروں سے گلا کرنا زیادتی ہو گی۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,081
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بہن آپ نے بالکل درست فرمایا۔
در اصل ہم نے مذہبی روایات اور اسلاف کے طریقہ کار کو پس پشت ڈال کر مقامی روایات اور غیر اسلامی طریقہ کار کو اپنا لیا ہے۔ اور آپ نے بہت ہی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ ’’بازار میں جانے کی تو اجازت ہے لیکن مسجد میں جانے کی نہیں‘‘ جب ایسا ماحول ہو گا تو جو گل کھلیں گے وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے ، بالخصوص باپ کی کہ اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بھی تعلیم دینے کا انتظام کرے۔ آج کل ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیںجو بچیوں کے لئے انتہائی متوازن اور مناسب نصاب پڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر میٹر کے بعد دو سال کے لئے ۔ اور تجربہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ طریقہ انتہائی مفید ہے۔ لیکن ہم ماؤں کا زیادہ ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ اور شوہر حضرات تو شام کو ہی آکر دیکھتے ہیں۔ اور اکثر منا سو رہا ہوتا ہے۔ شوہر کتنا ہی ماڈرن کیوں نہ ہو، لیکن اگر ماں مثبت سوچ کی حامل ہو تو اس کا یقینی اثر بچے کی تربیت اور ذہنی ساخت پر پڑتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے معاشرے اور معاشرتی اقدار کو بچانا ہے تو ہمیں بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا، بالخصوص دینی تعلیم۔ کسی نے کہا تھا کہ ’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا‘‘ اسی طرح عربی زبان میں ایک مقولہ ہے جس کا یہاں ذکر مفید ہو گا ’’تعليم رجل واحد ھو تعليم لشخص واحد، بينما تعليم امرأة واحدة يعني تعليم أسرة بكاملھا‘‘ ایک مرد کو تعلیم دینا ’سکھانا‘ فرد واحد کو تعلیم دینا ہے جبکہ ایک عورت کو تعلیم دینا ایک پورے خاندان کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں معماران تاریخ ہوں، تو لازم ہے کہ تعلیم یافتہ اور خود دار و ہنر مند مائیں تیار کی جائیں۔ کیوں کہ یہی خصوصیات پھر اولاد میں منتقل ہوں گی۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر غیروں سے گلا کرنا زیادتی ہو گی۔ ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | مرزا محمد فاروق (16-06-09), راشد احمد (16-06-09) |
![]() |
| Tags |
| گانے, قرآن, قرآنی, لوگ, چور, نماز, ماں, محبت, مسجد, ایمان, انسان, اسلام, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بچوں, ترک, تعلیم, حضرات, خون, خواتین, رات, زمانہ, سودا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سی آئی اے سمیت کسی غیر ملکی ایجنسی کو پاکستان میں آزادانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی | گلاب خان | خبریں | 0 | 28-02-11 05:13 AM |
| ایس سی او ٹول بار کسی بھی مہنگے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سافٹ ویر سے بہتر | یاسر عمران مرزا | SEO and Marketing | 15 | 28-11-10 12:55 AM |
| پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-08-10 10:28 PM |
| آئی سی ایل میںپاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل | محمدعدنان | کرکٹ | 1 | 16-04-08 11:27 AM |
| لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-12-07 08:27 AM |