واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


” مَاتَ الیہُودی “

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-02-11, 04:29 AM   #1
” مَاتَ الیہُودی “
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 14-02-11, 04:29 AM

ڈاکٹر عبدالقدیرخان
سپریم کورٹ نے ایک طویل عرصہ بعد پنشن یافتہ یعنی ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو دوبارہ باربار کنٹریکٹ پر ملازم رکھنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس کو دستور کی خلاف ورزی قرار دے کر حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کی لسٹ یعنی فہرست مہیا کرے اور ان کو جلد ازجلد فارغ کرے۔ یہ ایک احسن اقدام ہے اور امید ہے کہ سپریم کورٹ اس کو حتمی انجام تک پہنچائے گی اور یہ معاملہ، این آر او، زرداری کے دو عہدے، قرضوں کی وصولیابی کے مقدموں میں شامل نہ ہوگا۔ اس وقت ملک کی بھلائی کے لئے کوئی ادارہ کام کرسکتا ہے تو وہ سپریم کورٹ ہے اگر اس نے اپنے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرایا اور جلد فیصلے نہ دیئے تو اس ملک کی تباہی و بربادی یقینی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ملک میں اعلیٰ ملازمتوں پر تقرری کرنے کے لئے ایک ناقص نظام رائج ہے۔ ایک نام نہاد مرکزی اعلیٰ ملازمتوں یعنی سی ایس ایس یا سی ایس پی نام کا ٹسٹ لیا جاتا ہے جس میں شامل ہونے کی بنیادی تعلیم صرف بی ۔اے ہے۔ اب آپ ہمارے آجکل کی بی۔اے کی ڈگری کی اہمیت کا خود ہی فیصلہ کرلیجئے۔ تحریری امتحان سے زیادہ زبانی انٹرویو پر زور دیا جاتا ہے۔ عام طور پر عوام کو یقین ہے کہ جس طرح پورا ملک کرپشن کی لپیٹ میں ہے اسی طرح اس امتحان میں بھی دھاندلی ہوتی ہے اور رشتہ دار، عزیز و اقارب بہ آسان چن لئے جاتے ہیں۔ پھر یہی بی۔اے، گھومتے پھرے عقل کل بن کر ہمارے ملک کے تمام ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل اداروں اور وزارتوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں۔ آپ زرا ان کی گفتگو سُنیئے، حیران رہ جائیں گے۔ یہ اپنے آگے دوسروں کو کمتر و جاہل سمجھتے ہیں۔ ان کے آگے پڑھے لکھے لوگ منہ کھولنے کی جرات نہیں کرتے۔ ہمارے ملک کی خستہ اور ابتر حالت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔
دوسرے یعنی ترقی یافتہ ممالک میں نہ صرف تعلیم کا معیار بہت اعلیٰ ہے بلکہ وہاں ہر شعبہ ، ہر وزارت کے لئے ایک بنیادی قوّت یعنی کےڈر یا ورک فورس بنائی جاتی ہے۔ سائنٹیفک سول سروس کا ایک علیحدہ کیڈر ہوتا ہے۔ اس کے امتحانات علیحدہ ہوتے ہیں اور اس میں اعلیٰ تعلیمیافہ لوگ چنے جاتے ہیں۔ یہ سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعت و پیداوار ، بنکنگ، زراعت اور مختلف انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ ملازمین اپنی تمام دوران ملازمت ان ہی اداروں میں کام کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنے شعبہ میں ماہرانہ صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ جب اوپر والا شخص ریٹائر ہوتا ہے اسکی جگہ اسکے نیچے والا لے لےتا ہے۔ یہ لوگ بالکل غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ جو بھی پارٹی حکومت بناتی ہے وہ ان کی غیر جانبداری پر یقین کرتی ہے، ان پر بھروسہ کرتی ہے اور کبھی ان کے معاملات میں دخل نہیں دیتی۔ حکومت جو پالیسی بناتی ہے اور جو عموماً ان ہی ماہرین کے مشورہ سے بناتی ہے تو یہ من و عن اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہاں صرف سیاسی لےڈروں کی وزارت تبدیل ہوتی ہے اور عموماً ان وزارتوں کی جو ٹیکنیکل نہیں ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دو سو سال پیشتر کا انگریزی نظام حکومت قائم ہے جب ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر مطلق العنان حاکم ہوتا تھا، صنعتی اور تعلیمی ترقی اتنی نہیں ہوتی تھی۔ اب حالات مختلف ہیں ہرشعبہ میں ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں بی۔اے کی ڈگری والا ہر فن مولا، عقل کل سمجھا جاتا ہے۔ وہ ہی تعلیم، وہ ہی سائنس و ٹیکنالوجی، وہ ہی زراعت، وہ ہی صنعت و پیداوار اور وہ ہی بجل وپانی کا ماہر مانا جاتاہے۔
یہ لوگ حکمران کی مہربانی سے ہر تخت پر بےٹھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ حکمراں ان کو ناقابل تبدیل قرار دے کر باربار ان کے معاہدہ ملازمت میں توسیع کرتے جاتے ہیں۔ جب تک یہ نظام اس ملک میں رائج رہے گا یہ ملک نالی سے نکل کر گٹر میں چلا جائے گا۔ ملک میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ بھی اَن پڑھ یا لاعلم سیاستدانوں کی حکمرانی ہے۔ یہاں کبھی ٹیکنوکریٹس کو اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان سے مشورہ کیا گیا۔ ایک بی۔اے بیوروکریٹ ایک آکسفورڈ اور کیمبرج سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری والے پروفیسر سے ملنے میں ہتک محسوس کرتا ہے بلکہ بلا کر انتظار کے کمرے میں بٹھا کر اپنے دوستوں سے گپیں لگاتا رہتا ہے۔ میں نے خود یہ واقعات دیکھے ہیں۔
پینشن یافتہ یا ریٹائرڈ غیرفنی لوگوں کو ملازمت میں رکھنا یا ان کو بار بار مدّت ملازمت میں توسیع دینا اور یہ تاثر دینا کہ وہ ناقابل تبدیل ہیں ایک بہت بڑی غلطی اور خام خیالی ہے۔ دیکھئے بقول جنرل ڈےگال دنیا بھر کے قبرستان ایسے ناقابل تبدیل لوگوں کی قبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ کسی بھی انسان کو ناقابل تبدیل کرنے کے ذکر نے مجھے ایک اہم واقعہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور کا یاد دلا دیا ہے۔ میں اس کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بغداد، واسطہ، انبار، خوزستان اور بصرہ کے علاقہ میں ایک یہودی عامل حکمران تھا۔ ان علاقوں کے لوگوں نے امیرالمومنین حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس درخواست بھیجی جس میں اس یہودی عامل کے خلاف فریاد کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے لکھا تھا کہ یہودی عامل سرکاری کام کے بہانہ سے انھیں بہت پریشان کررہا اور ستا رہا تھا اور دُکھ دے رہا تھا۔ وہ ان کی توہین کررہا تھا اور مذاق بھی اُڑا رہا تھا۔ اگر وہ ناقابل تبدیل ہے تو ٹھیک ورنہ اسکی جگہ کسی مسلمان عامل کو مقرر کردیا جائے۔ ہم میں اب قوّت برداشت نہیں رہی ہے۔ ایک مسلمان عامل ہمارا ہم مذہب ہونے کی وجہ سے غیر قانونی اور ناجائز کارروائیاں نہ کرے گا اور ہمیں تکالیف نہ دے گا۔ اور اگر اس نے ایسا کیا بھی تو ہم ایک مسلمان کے ہاتھ سے دی گئی تکلیف کو ایک یہودی کی دی گئی تکلیف پر ترجیح دیں گے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کوجب یہ شکایت موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا، ”کیا خوب ایک تو یہودی دنیا میں امن وچین سے رہے اور پھر اس پر اکتفا نہ کرکے مسلمانوں پر ستم ڈھائے اور اُنھیں ایذائیں دے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اسی وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمان بھیجا کہ وہ فوراً یہودی کو ہٹا دیں اور کسی مسلمان کو عامل مقرر کردیں۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرمان ملا تو انھوں نے فوراً ایک سوار کو حکم دیا کہ وہ روانہ ہو اور جہاں بھی وہ یہودی عامل ملے اس کو لے آئے اور ساتھ ہی ایران، عراق میں جہاں بھی مسلمان عامل و گورنر ہوں اُنھیں حاضر کیا جائے۔ کچھ عرصہ بعد یہودی کو حاضر کیا گیا اور کئی مسلمان عہدیداران بھی حاضر ہوگئے۔ سب کو جانچا گیا، سوال جواب کئے گئے تو علم ہوا کہ عربوں میں کوئی بھی یہودی کے پایہ کا نہ تھا۔ اسی طرح عجمی اور مسلمان عہدیداروں میں بھی یہودی کی قابلیت کا کوئی فرد نہیں ملا۔ یہودی نے حکومت کے خزانہ کے لئے رقوم فراہم کرنے، تعمیری کام کرنے، مختلف لوگوں کو سمجھنے اور پرکھنے، وصولِ تحصیل سے واقفیت بہم پہونچانے میں جس قابلیت کا ثبوت دیا تھا وہ کسی مسلمان عہدیدار میں موجود نہ تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہودی کو اپنے عہدہ پر فائز رہنے دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پغام بھجوادیا۔
”امیرالمومنین! میں نے یہودی کو بلوا بھیجا اور اُسے آزمایا اور اس کے کام کی جانچ پڑتال کی۔ عربوں اور مسلمانوں میں سے ایک بھی معاملات حکومت سے اس واقفیت کا ثبوت نہ بہم پہونچا سکا چنانچہ مجبوراً میں نے اسے اس کے کام پر بحال رکھا اسلئے کہ اگر میں اس کو معزول کردیتا تو کام بگڑ جاتے“۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب یہ جواب پڑھا تو فرمایا کہ لوگ میرے فیصلہ پر بھی فیصلے کرنے لگے ہیں اور میرے حکم پر بھی حکم چلاتے ہیں اور میری رائے میں جو بات صحیح ہوتی ہے اس کو دوبارہ پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مراسلہ پر ہی ایک مختصر ترین ریمارک یعنی نوٹ تحریر کردیا۔ یہ اس عظیم مدّبر، عدیم المثال منتظم، عقل و فہم کے خزینے کی یہ ایسی تحریر تھی جو ہمارے رہنماﺅں بلکہ دنیا بھر کے اقربا پرستوں اور بہانہ خوروں کے لئے قیامت تک مشعل راہ کے طور پر کام کرسکتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے صرف یہ دو الفاظ تحریر فرمائے۔ مَاتَ الیہودی ۔ اور وہ مراسلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بجھوادیا۔ ”مَاتَ الیہودی“ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ یہودی مرگیا۔ لیکن اس مختصر اور مجمل سے فقرہ کا مفہوم یہ ہوا کہ عام آدمی تو اپنی موت سے وقت مقررّہ پر مرتا ہے لیکن کسی عامل یا صاحب منصب کی موت یہ ہے کہ اس کو اس کے عہدہ سے معزول کردیا جائے۔ اگر ایک عہدیدار مرجائے یا برخاست کردیا جائے تو اس کے کام کو رُکنا نہیں چاہئے اور فوراً ہی کسی دوسرے کو اس کی جگہ مقرر کردینا چاہئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دینا چاہا تھا کہ آخر یہ تمھارا افلاطون قسم کا یہودی کبھی تو مرے گا تو پھر اس قدر مجبوری اور ایک ناپسندیدہ ماہر کی لیاقت کے اعتراف کی کیا ضرورت ہے بس یوں سمجھو یہ یہودی مرگیا اور اس کے مرنے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو تو بہرصورت پُر کرنا ہی ہے۔ جب سعد رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تحریر کردہ یہ دو الفاظ ملے تو فوراً یہودی کو طلب کیا اور اسے ملازمت سے برخاست کردیا اور اسکی جگہ ایک مسلمان عامل مقرر کردیا۔ ایک سال کے بعد جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس عہدہ پر اس مسلمان نے نہایت بہترین کارکردگی دکھائی اور یہ یہودی سے بہتر ثابت ہوا۔ حکومت کی آمدنی بڑھ گئی اور عوام بھی بے حد خوش ہوگئے۔ تعمیرات کے کام بھی خوب ہوئے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے مصاحبوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے تو یہودی کی تعریف میں بہت کچھ لکھ کر بھیجا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صرف دو الفاظ میں یہ بات واضح کردی اور سچی بات وہی تھی جو آپ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی“ (سیاست نامہ ۔ نظام المک طوسی)۔

دیکھئے جو کچھ میں نے پہلے لکھا اور پھر اس سنہری مثال سے سمجھانے کی کوشش کی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی مستقل طور پر زندہ نہیں رہتا اور کوئی بھی ناقابل تبدیل نہیں ہوتا۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ ہر میدان، ہر وزارت کا علیحدہ کیڈر تیار کریں، ان کو دھوبی کا کتا نہ بنائیں اور خود غرضی اور اقرباپروری سے نہ صرف اعلیٰ عہدوں پر بٹھائے رکھیں اور نوکری کو طول دیں بلکہ نئے مستحق لوگوں کو سیاست سے علحیدہ رکھ کر اپنے ہی اداروں میں ترقی دیں۔ اور اگر کچھ لوگ واقعی تجربہ کار ہیں اور حکومت ان کے تجربہ سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے تو ان کو تھوڑے معاوضہ پر مشیر رکھ لیں کہ وہ ہفتہ میں ایک دن جاکر مشورہ دے دیا کریں۔ ان کو ہرگز انتظامی معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہ ہونا چاہئے۔ پاکستان میں جب تک ایسا نظام نافذ نہیں کیا جائے گا کہ جہاں افسران اپنے ہی محکموں میں، وزارتوں میں، اپنے میدان فن میں مہارت حاصل نہ کریں مستقل طور پر وہاں تعینات نہ ہوں اور سیاسی دباﺅ سے پاک نہ ہوں یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور اس کا نظام حکومت ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ فنّی ماہرین کے تھنک ٹینک بنائے جائیں اور ان کے تجربہ سے استفادہ کیا جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔ دوسرے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 91
Reply With Quote
جواب

Tags
فن, کورٹ, پاکستان, واقعات, لوگ, موت, مشعل, معلوم, آدمی, اللہ, انسان, امتحان, اعلیٰ, بہترین, تحریری, تعلیم, جواب, جاہل, خوش, خلاف, زرداری, سوال جواب, سائنس, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger