| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 285
|
||||
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
بھائی بدرالزمان کی تجویز واقعی بہت عمدہ ہے کہ نمائش کے لیئے اتنا مہنگا جانور خریدنے سے بہتر ہے کہ اس رقم میں بہت سارے جانور خرید لیں۔ اگر نمائش ہی مقصود ہے تو یہ زیادہ بہتر ہے کہ آپ کے گھر کے سامنے کئی سو لوگ لائن لگا ئے ہوئے ہوں جو ایک کے بجائے بہت سے بیلوں کا گوشت استعمال کر سکیں۔ آپ کی بھہی واہ واہ کہ دیکھو کتنے لوگوں کو گوشت بانٹا ہے؟ نمائش کی نمائش اور غریب غرباءکا فائدہ الگ۔ نہ جانے لوگ قربانی کے اصل مقصد کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (28-11-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,463
شکریہ: 52,468
11,155 مراسلہ میں 35,197 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے پہلے بھی کہا کہ قربانی کے کئی مقاصد بیان کیے جا سکتے ہیں مثال کے طور پر ایک تو یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کو اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دینے کی ادا اس قدرپسند آ ئی کہ اللہ نے اسکو ہمیشہ کے لیے جاری و ساری کر دیا ۔چناچہ قربانی درحقیقت اسی کی یاد میں کی جاتی ہے۔ ۔ اسی سے دوسرا مقصد یہ نکالا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی سب سے پسندیدہ چیز قربان کی جائے جیسے حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم زیادہ تر اسی بات پر متفق ہیں کہ قربانی کو حج کا رکن بنانے کا مقصد اللہ کا اپنے خلیل کی ادا کو ہمیشہ کے لیے جاری و ساری کر دینا تھا۔ اسکی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ شیطان کو کنکریاں مارنا ، سعی کرنا بھی درحقیقت اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم کے گھرانے کے ادا کردہ افعال ہیں جو اللہ کو نہایت پسند آئے۔ واللہ عالم تاہم میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میرا یہ لکھنے کا مقصد کوئی شرعی مسئلہ بیان کرنا نہیں تھا ۔میرا مقصد صرف یہ تھا کہ چونکہ اللہ کو جانور کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ ہی اسکو اس کی ضرورت ہے۔اس لیے بے شک اپنی پیاری چیز کی قربانی اللہ کو پسند ہے لیکن ساتھ ہی اصراف بھی پسند نہیں۔ اور پیسے کا غلط یا بے مصرف استعمال بھی پسند نہیں۔اور 15 لاکھ کا ایک بیل خریدنا میرے نزدیک پیسے کے اصراف سے زائد نمود و نمائش ہے۔ میری استنباط اس سے بھی ہے کہ زکواۃ کی رقم اللہ کو ضرورت نہیں لیکن اس نے فرض کر دی۔ کیوں؟ اس لیے کہ بنی نوع انسان کا فائدہ ہے اس میں۔ چناچہ اسی سے میں نےقربانی کے مسئلے کی منطق نکالی ہے۔ تاہم میں پھر واضح کر دوں اسکو کوئی شرعی مسئلہ نہ سمجھا جائے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, پسند, پسندیدہ, لوگ, معلوم, اللہ, انسان, بھائی, توحید, تحریر, حال, خوش, دیکھو, سودا, شہر, عید, عمدہ, عالم, غلط, غریب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|