واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


2009 بھی گزر گیا - کیا کھویا کیا پایا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-01-10, 06:02 AM   #1
2009 بھی گزر گیا - کیا کھویا کیا پایا
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 01-01-10, 06:02 AM

خدا خدا کر کے زندگی کا ایک سال اور گزر گیا ۔ امید و آس کے ساتھ جس کا آغاز ہوا تھا ۔ نا امیدی و مایوسی کے ساتھ انجام پزیر ہوا ۔ دنیا کے نقشے میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر ہر ملک اپنی حدوں کے اندر ہی پناہ گزیں رہا۔ جگمگاتی روشنیوں کا فائر ورکس نئی امیدوں کا چراغ بن کر پھر آنکھوں کو چندھیاگیا ۔ ہر سال ہی ہم خوشیوں کے ساتھ نئے سال کا استقبال کرتے ہیں ۔ اور گزشتہ برس پر افسوس کا اظہار کر کے پھر ایک نئی منزل کی امید میں نظریں باندھ لیتے ہیں ۔جیسے ریگستان میں بھٹکا قافلہ ہر پڑاؤ پر نیا سراب دیکھتا ہے ۔ مگر جونہی قریب پہنچتا ہے تو خواب بکھر جاتے ہیں ۔ ہر بار وہی پشیمانی ، وہی درد افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔جن سے امید باندھ لیتے ہیں وہی نا امیدی کے دھکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔مجھے اب نئے سال کی خوشی نہیں ہوتی اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہونی چاہیئے تو پھر احمقوں کی جنت میں رہنے کا اب شوق نہیں رہا۔ ایک کے بعد ایک جزباتی انداز میں فلسفہء زندگی کو ایسے تاک تاک کر نشانے پر بٹھاتے ہیں کہ اب تختہ مشق بننے پر دل آمادہ نہیں ۔حلق سے نیچے تو اب کسی بات کی اثر انگیزی نہیں رہی ۔تر نوالہ کی طرح لعاب دہن ہی اب لفظوں کو گولی میں ڈھال کر حلق سے اتارنے کی کوشش میں ہیں ۔آج سائنس کا یہ کہنا کہ قلب تو بس ایک خون کے بہاؤ کے لئے پمپ کا کام کرتا ہے ، ان کی زبان سے نکلتے الفاظ اور دعوے اس کی دلالت کے غماز ہیں ۔کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے قلب ہر کیفیت سے عاری ہیں اور واقعی انہیں وہ صرف پمپ کاکام ہی دیتے ہیں۔ مگر درد دل رکھنے والا ہر انسان اس مفروضے پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے قاصر ہے۔جس عقل کی بنیاد پر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جاتا ہے ۔وہ اگر سو بھی جائے تو وہی قلب اس کی حفاظت کا حصار بنا رہتا ہے۔اگر وہ بھی غافل ہو جائے تو منوں مٹی کے نیچے دفن ہونے سے کوئی کیا بچا پائے گا۔ مگر ان کے نزدیک ہر منزل کا راستہ عقل کی راہوں سے گزرتا ہے۔ اور اسی راستے پر چلنے والے تو بہک سکتے ہیں مگر دل کی بات سننے والے ہمیشہ ہی شش و پنج کا شکار رہتے ہیں۔شیطان کا بہکاوہ کمزور عقل مالک پر گہری چوٹ رکھتا ہے۔ وگرنہ مٹی سے بنا انسان اسی زمین پر تکبر نہ کرتا ۔کامیابی کا حصول ، دوسروں سے معتبر ہونے میں اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔ برداشت ، صبر ، عجز و انکساری کی جگہ اب لالچ خود غرضی نے لے لی ہیں ۔ فلسفہ حیات و ممات اب صرف کتابوں کی زینت رہ گیا ہے۔ دوسروں سے بڑھ جانے کی تگ و دو میں روندنے کا عمل اپنی دانست میں عقل کی معراج سمجھا جانے لگا ہے۔ بیوقوف انسان تصور کیا جاتا ہے جو اپنا مستقبل ، بڑھاپا اور اولاد کی جوانی محفوظ نہیں رکھتا ۔کامیابی کی سیڑھی جزبات کے کھیل سے تیار کی جاتی ہے۔مفاد پرستی میں کینہ و بغض کو جھوٹ کی تراوٹ سے تازگی کے دھوکہ میں بہلایا جاتا ہے۔

قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفس طائر رہائی

سیاست سے لیکر کاروبار تک اور حکومت سے لیکر گھریلو انتظامات تک فرد فرد سے شکوہ و شکایت کے دربار شاہی کا طلبگار ہے۔ہر شخص اپنے مسائل و مشکلات کا شکار ہے ۔ جسے جو مسئلہ درپیش ہو ۔ اسی کا مداوا چاہتا ہے ۔ مردوں کو نوکریوں کے لالے پڑے ہیں تو خواتین کو مردوں سے برابری کی جنگ جیتنے کی جستجو ہے۔ والدین اولادوں سے نالاں ہیں ، تو اولادیں والدین کو اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں کہ سفارش یا رشوت کی سیڑھی سے انہیں منزل مراد تک پہنچنے میں مددگار نہیں ہوئے۔ احسان ہی بھول چکے ہیں کہ تابعداری میں حکم کیا ہے۔ بس صرف شکوہ میں زبان ذکر کرتی ہے۔ دولت کا حصول ہی مقصدحیات ٹھہر چکا۔ رشتوں میں بناوٹ و تصنع نے اصل چہرے چھپا لئے ۔ پردہ اٹھنے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

بندہ غرض کو پل قناعت سے گزرنا آسان نہیں
غم روزگار و خشوع افکار کوئی بڑا امتحان نہیں
مادیت کا اژدہا جسے نگل لے کامل انسان نہیں
معبود سے عبد کی محبت کا کوئی بیان نہیں

اگر ملک میں انصاف نہیں تو خود میں بھی برداشت نہیں۔ جلوس ریلیاں نکال نکال کر نوجوانوں کو توڑ پھوڑ کا ڈھنگ سکھا دیتے ۔ پھر شکوہ دوسروں سے کہ اپنی حدوں سے آگے گزر گئے ہیں۔ہر عروج کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب کا ایک ہی ڈھنگ اور کام ہونے کے بعد پھر وہی رنگ۔ قوم تتلیوں کی مانند کبھی ایک ڈالی پہ تو کبھی دوسری ڈالی پہ۔ظالموں نے قوم کے خوبصورت رنگوں کو ہی بکھیر دیا ۔ روز ہی ٹی وی مناظروں میں لوٹا لفافہ کریسی سے بات اب آگے بڑھ کر کردار کشی تک جا پہنچی۔ لفظوں کی نورا کشتی سے اب آگے تھپڑوں گھونسوں کی باری ہے جو پارلیمنٹ کی بجائے قوم کو گھروں میں دیکھنے کو ملے گی۔ کوئی ستر ہزار ووٹ سے جیتنے کے دعوی سے ہر الزام سے بری الزمہ ہو گیا ۔ تو کوئی ان کے کندھوں پر ہی پوری قوم کا نا خدا بن جا تا ہے ۔نہ الیکشن شفاف اور نہ ہی ریفرنڈم ۔ بس بھیڑوں کا ایک باڑا ہے جو چاروں اطراف سے گھرا ہوا ہے۔ ایک ہانکتا ہے تو باقی ارد گرد سے گھیرا ڈال کربکھرنے سے بچاتے ہیں۔ بھوک سے لاچار بھی ہوں قدم ڈگمگانے کی اجازت نہیں ۔ بچا کر رکھتے ہیں کیونکہ دولت کے انبار انہی کی کھالوں سےتو لئے جاتے ہیں۔جس کو ہاتھ لگاؤ ڈنک بھرے تیار بیٹھےہے۔
ہر بار نئے سال کی امید بہار میں ہمارے بالوں میں بھی چاندنی پوری طرح سے پھیل چکی ہے۔ ہم تو بچپن سے لاٹھی جلوس کی تزکیہ نفسی کے شکار رہے اور اب ہمارے بچے بھی دھکم پیل کے اس کھیل میں کہیں عمر نہ گنوا دیں۔اور دوسروں کو اپنے ماموں کے پودینہ کے باغات کے قصے سنا کر مرعوب کرنے کی ناکام کوشش میں اپنی شناخت ہی بھول جائیں ۔ اور جو غریب ہیں ان پر ظلم ڈھانے کے لئے امارت کا رعب ہی کافی ہے۔غریب وکمزور کو اوئے ،تو کہ کر بلانا اور امیر طاقتور کو آپ جناب کی گردان سےعزت افزائی سے طاقت بڑھائی جاتی ہے۔تو غریب بچہ کوئی ایسا ہی فعل انجام دے گا جس کی ایک مثال نیلا گنبد میں پارکنگ سٹینڈ پر گاڑی صاف کرنے والا ایک بچے نے کالی بڑی گاڑی کے شیشےکو اچھی طرح آئینہ کی طرح صاف کیا ۔ اور خود کا چہرہ دیکھا پھر اسی شیشے پر تھوک کر چلا گیا ۔مگر دوسری طرف وی آئی پی کلچر کے دلدادہ وطن میں ہوں تو ملازموں کی فوج ظفر موج انتظار میں پسند فرماتے ہیں۔ اور اگر باہر سے آئیں توامیگریشن سے پہلے اپنے نام کے ساتھ استقبال پر مامور سرکاری ملازم کا پروٹوکول چاہتے ہیں ۔آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ دو سو سال بعدبھی کس کی حکومت ہے یہاں مغل بادشاہ کی ، ریاست کے راجہ مہاراجہ کی یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی۔ کیونکہ جمہوریت عوام سے ہے مگر عوام کہاں ہیں؟

ٱلصَّلَوٰةَ خَيۡرٌ۬ مِنَ إِلَـٰنَوۡمٌ۬‌ۚ کا ہے پیغام بیدار ہو جا
نفس کو کاٹ شکمء فقر سے صوم کی تلوار ہو جا


مگر ان تمام کے باوجود میرے لئے یہ ایک اہم سال تھا ۔ میں زندگی میں مرحوم و مغفوربوڑھے والدین کے ساتھ اس لئے جڑا رہا کہ دنیا تو شائد مجھے کچھ نہ دے سکے ۔مگر ان کی خدمت سےجو اطمینان قلب آج مجھے نصیب ہے ۔ وہ دولت سے بڑھ کر بیش بہا خزانہ تسکین ہے ۔ خاص طور پر اس سال آٹھ جنوری کو شروع ہونے والا میرا یہ سفردر دستک ہے۔ موسل بار ، برگ بار، روشن عطار، خندہ جبین ، بادِ امنگ، بر عنبرین اور خیال رست جیسی تخلیق قلم نے آسودہ کیا۔

تحریر : محمودالحق

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 460
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-01-10), گوہر (01-01-10), منتظمین (01-01-10), ام طلحہ (01-01-10), حیدر (01-01-10), رانا امر (03-01-10), راجہ اکرام (01-01-10)
پرانا 01-01-10, 08:36 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,081
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اقتباس:
اگر ملک میں انصاف نہیں تو خود میں بھی برداشت نہیں۔ جلوس ریلیاں نکال نکال کر نوجوانوں کو توڑ پھوڑ کا ڈھنگ سکھا دیتے ۔ پھر شکوہ دوسروں سے کہ اپنی حدوں سے آگے گزر گئے ہیں۔ہر عروج کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب کا ایک ہی ڈھنگ اور کام ہونے کے بعد پھر وہی رنگ۔ قوم تتلیوں کی مانند کبھی ایک ڈالی پہ تو کبھی دوسری ڈالی پہ۔ظالموں نے قوم کے خوبصورت رنگوں کو ہی بکھیر دیا ۔ روز ہی ٹی وی مناظروں میں لوٹا لفافہ کریسی سے بات اب آگے بڑھ کر کردار کشی تک جا پہنچی۔ لفظوں کی نورا کشتی سے اب آگے تھپڑوں گھونسوں کی باری ہے
السلام علیکم
بھائی جان بہت ہی خوبصورت انداز سے تصویر کشی کی ہے، حالات ایسے ہی ہیں کہ اب گھونسوں کی باری آیا ہی چاہتی ہے۔

اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہم پر رحم فرمائے ۔۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-01-10), بزم خیال (01-01-10), حیدر (01-01-10)
پرانا 01-01-10, 02:51 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,468
شکریہ: 52,468
11,155 مراسلہ میں 35,198 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گھونسے بہت پیچھے رہ گئے۔ہم لوگوں نے خود کش حملوں کا نیا ٹرینڈ نکالا ہے۔ ماشا اللہ
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-01-10), منتظمین (01-01-10), بزم خیال (01-01-10)
پرانا 01-01-10, 03:00 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (01-01-10)
پرانا 01-01-10, 04:50 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ سال بھی گذرا ہے تیرے پیار کی مانند
آتے ہوئے کچھ اور تھا جاتے ہوئے کچھ اور
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (01-01-10)
پرانا 05-01-10, 06:01 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ اکرام بھائی، منتظمین بھائی، بدرالزمان بھائی اور عدنان دانی بھائی آپ کا بہت شکریہ !

آج کل ٹی وی مذاکرے کسی بھی طرح ڈراموں سے کم نہیں ۔ پہلے غصہ آتا تھا اب کچھ مزا آنے لگا ہے ۔ کیونکہ قوم ان کا اصلی چہرہ دیکھ رہی ہے ۔
بکرے کی ماں آخرکب تک خیر منائے گی !
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پسند, قید, قدم, لوگ, محبت, مسائل, معراج, آئینہ, الزام, انسان, امیر, امتحان, بچپن, جھوٹ, حکم, خون, خواتین, خدا, دل, راستہ, زندگی, سائنس, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ربا! ڈاھڈیا سیپ پنجابی چوپال 0 14-02-11 07:25 PM
کیا کھویا؟ کیا پایا؟ سیپ گپ شپ 3 28-12-10 01:42 AM
تجھے کھویا اگر میں نے عدنان دانی شعر و شاعری 0 04-12-09 06:53 PM
کھویا کھویا چاند شیراز احمد شاعری اور مصوری 1 15-07-09 12:03 PM
فلمی دنیا پر بنی ’کھویا کھویا چاند‘ محمدعدنان فلمی دنیا 0 14-12-07 03:08 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:10 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger