| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 263
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2010ء پاکستانی صحافیوں کے لیے مہلک ترین ثابت ہوا
صحافیوں کے حقوق کی علم بردار ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق پاکستان میں رواں سال 11 صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران پرتشدد کارروائیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 2010ء کے دوران 25 ملکوں میں مجموعی طور پر 57 صحافی مارے گئے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں براعظم ایشیا میں ہوئیں جس کی بنیادی وجہ پاکستان میں بڑی تعداد میں صحافیوں کی ہلاکت تھی۔ تاہم صحافیوں کی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 2010ء میں ملک میں کل 12 صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان، عراق اور میکسیکو امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث مسلسل صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان اُن آٹھ ملکوں میں بھی شامل ہے جہاں گذشتہ 10 برسوں کے دوران ہر سال صحافی کے قتل کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ملکوں میں صحافیوں کے خلاف تشدد کا ر بدستور بڑھتا جار ہا ہے ۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس تمام عرصے کے دوران کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے اور ملک میں نا صرف اسلامی شدت پسند صحافیوں کو پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ صحافی خودکش حملوں میں بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل جین فرینکس جولیارڈ کا کہنا ہے کہ جہاں رواں سال جنگ سے براہ راست متاثرہ علاقوں میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے وہیں منظم مجرمان کی جانب سے صحافیوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ اس تشدد کی روک تھام حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر حکومتیں صحافیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہچانے کے لیے تمام تر اقدامات نہیں کرتیں تو وہ اس جرم میں شریک ہو جاتی ہیں۔ تنظیم نے صحافیوں کے اغوا کی وارداتوں میں بھی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قدرتی آفات، رواں سال بدترین رہا، یومیہ اوسطاً 900 افراد ہلاک پاکستان سمیت دنیا بھر کے لئے یہ سال قدرتی آفات کے حوالے سے بدترین ثابت ہوا۔ دنیا میں یومیہ اوسطاً 900 افراد ہلاک ہوئے۔ رواں سال قدرتی آفات سے جہاں لاکھوں افراد جاں بحق ہوئے وہیں بچ جانے والے کروڑوں افراد انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی 2کروڑ ہلاکتیں اور بے گھر ہوجانے والے لاکھوں افراد اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔اگرچہ سیلاب کو گزرے پانچ ماہ ہونے کو ہیں مگر اب بھی سینکڑوں افراد کی مکمل بحالی باقی ہے۔ یہ لوگ آج بھی بے بس و لاچار امداد کے منتظر ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2009ء کی نسبت 2010ء کے دوران قدرتی آفات سے ہلاکتوں کی تعدا میں 221 فیصد اضافہ ہوا۔ 2010ء میں 225000سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2009ء میں آفاتی ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار تھی۔ 2010ء میں ملک میں سیلاب کی تباہ کاری دنیا میں سب سے بڑی اور جنوری میں ہیٹی کا زلزلہ دوسری بڑی قدرتی آفت تھی۔ ہیٹی کا زلزلہ جانی نقصان کے حوالے سے نمایاں رہا جہاں 2لاکھ 22ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ملک میں آنے والے سیلاب سے وسیع رقبے پر موجود املاک اور فصلوں کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ قدرتی آفات، رواں سال بدترین رہا، یومیہ اوسطاً 900 افراد ہلاک پاکستان سمیت دنیا بھر کے لئے یہ سال قدرتی آفات کے حوالے سے بدترین ثابت ہوا۔ دنیا میں یومیہ اوسطاً 900 افراد ہلاک ہوئے۔ رواں سال قدرتی آفات سے جہاں لاکھوں افراد جاں بحق ہوئے وہیں بچ جانے والے کروڑوں افراد انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی 2کروڑ ہلاکتیں اور بے گھر ہوجانے والے لاکھوں افراد اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔اگرچہ سیلاب کو گزرے پانچ ماہ ہونے کو ہیں مگر اب بھی سینکڑوں افراد کی مکمل بحالی باقی ہے۔ یہ لوگ آج بھی بے بس و لاچار امداد کے منتظر ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2009ء کی نسبت 2010ء کے دوران قدرتی آفات سے ہلاکتوں کی تعدا میں 221 فیصد اضافہ ہوا۔ 2010ء میں 225000سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2009ء میں آفاتی ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار تھی۔ 2010ء میں ملک میں سیلاب کی تباہ کاری دنیا میں سب سے بڑی اور جنوری میں ہیٹی کا زلزلہ دوسری بڑی قدرتی آفت تھی۔ ہیٹی کا زلزلہ جانی نقصان کے حوالے سے نمایاں رہا جہاں 2لاکھ 22ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ملک میں آنے والے سیلاب سے وسیع رقبے پر موجود املاک اور فصلوں کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ 2010 میں بھی بلوچستان تشدد کی لپیٹ میں رہا صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین دُرانی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 2010ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران آباد کاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور ان کے گھروں پر حملوں کے واقعات جاری رہے لیکن بقیہ عرصے میں یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ۔ رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا وسیع ترین لیکن سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان 2010ء میں بھی شورش کی زد میں رہا اور قوم پرست باغیوں سمیت عسکریت پسند عناصر نے سکیورٹی فورسز، آباد کاروں اور بنیادی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ 2009ء کے مقابلے میں رواں سال امن و امان کی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں رواں سال تشدد کے تقریباً 425 واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 315 سے زائد افراد ہلاک اور لگ بھگ 700 زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال 467 واقعات میں 333 افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد زخمی ہوئے۔ 2010ء میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ حملوں ، ہدف بنا کر قتل اور دوسرے واقعات میں مارے جانے والوں میں 113 آباد کار، 82 پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار اور بیسیوں عام شہری شامل تھے۔ شدت پسندوں نے پانچ اساتذہ کو بھی نشانہ بنایا۔ بلوچستان کے نو اضلاع میں افغانستان میں طالبان کے خلاف بر سر پیکار نیٹو افواج کے لیے ایندھن لے جانے والے آئل ٹینکر ز پر 56 حملے کئے گئے جن میں 34 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے جب کہ 136 ٹینکرز بھی جل کر تباہ ہو گئے ۔ اس ہی طر ح صوبے بھر سے 117 افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے 25 کو بازیاب کرا لیا گیااور 35افراد کے نام مکمل کوائف نا ہونے کے باعث فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ساٹھ افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبرحسین دُرانی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 2010ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران آباد کاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور ان کے گھروں پر حملوں کے واقعات جاری رہے لیکن بقیہ عرصے میں یہ سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا ۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ صوبے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں مقامی گروہوں کے ساتھ بعض مشتبہ طور پر افغان مہاجر ین کے گروہ بھی ملوث ہیں۔ یہ عناصر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگراضلاع کے علاوہ پاک افغان سر حد پر بھی وارداتیں کر تے ہیں ۔ اکبرحسین دُرانی نے بتایا کہ ان وارداتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ہیں جس سے صوبہ بُر ی طر ح متاثر ہوا ہے۔ ”یہ مسئلہ اب صوبائی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے، اس سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت نے پالیسی تیار کر لی ہے اور اگر اس پر عمل کیا گیا توآئندہ چھ ماہ میں تمام شعبوں میں بہتر ی آئے گی ۔“ رواں سال میں حالات میں نسبتاً بہتری کے اسباب بتاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس کی وجوہات وفاقی حکومت کی طر ف سے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھانا ،آغازحقوق بلوچستان کے تحت فوج اور سرکاری اداروں میں مقامی افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہیں۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو اکثریت رکھنے والے مسلمانوں کے ہیں۔ بلوچستان کی حکومت نے ہندوتاجروں کے اغوا کے حالیہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں کہیں بھی ہندو ، عیسائی ، سکھ رہتے یا کاروبار کر تے ہوں اس علاقے کی سیکورٹی بڑھائی جائے۔ اقلیتی برادری کے لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے اگر وہ اسلحہ یا گارڈز رکھنا چاہیں تو حکومت اُنھیں اسلحہ کا لائسنس بھی دے گی ۔ شعبہ تعلیم 2010ء میں بھی عدم توجہ کا شکار وفاقی کابینہ نے گذشتہ سال ستمبر میں قومی تعلیمی پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت 2015ء تک شعبہء تعلیم کے لیے مختص رقم کو بڑھا کر ملک کی مجموعی مقامی پیداوار کے سات فیصد کے برابر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیم کا فروغ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں غربت کے خاتمے اور انسانی و اقتصادی ترقی کے حصول کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں تعلیم کا شعبہ بیشتر عرصے عدم توجہ کا شکار رہا ہے اور 2010ء بھی ماضی سے مختلف نہیں تھا۔تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت شرح خواندگی 57 فیصد ہے۔ گذشتہ برس سرکاری سطح پر ہونے والے سماجی اور رہن سہن کے انداز سے متعلق جائزے میں کہا گیا ہے کہ خواندہ افراد میں مردوں کی شرح 69 اور خواتین کی 45 فیصد ہے، جب کہ ملک بھر کے اسکولوں میں اندراج شدہ بچوں میں طلباء کی تعداد طالبات سے زیادہ ہے۔اقتصادی جائزے 2009-10ء کے مطابق ملک بھر میں سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ ان تعلیمی اداروں کا ماحول بھی ناموزوں ہے۔ ٓاقتصادی بحران 2010ء میں غیر مستحکم اقتصادی صورتحال نے پاکستان میں درس و تدیس کے نظام پر مزید تباہ کن اثرات مرتب کیے اور معاشی مسائل میں گھری حکومت نے حالات سے نمٹنے کی خاطر جب سرکاری اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا تو اس کی زد میں آنے والے شعبوں میں یہ سر فہرست تھا۔ سال کے وسط میں پیش ہونے والے وفاقی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 15.7 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی جو گذشتہ برس کی نسبت 30 فیصد کم تھی۔بجٹ میں اس کٹوتی اور رقم کی فراہمی میں تاخیر سے ناصرف جامعات میں تحقیق کا عمل اور توسیعی منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ کمیشن کی طرف سے دیے جانے والے وظیفوں پر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں ا سکالرز کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سیلاب موسم گرما میں آنے والے غیر معمولی سیلاب کے بعد حکومت نے متاثرہ افراد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے درکار مالی وسائل اکٹھے کرنے کے سلسلے میں ایچ ای سی کے فنڈز میں مزید کمی کا عندیہ بھی دیا لیکن ستمبر کے اواخر میں 70 سے زائد سرکاری جامعات کے سربراہان کی طرف سے ہڑتال اور بیک وقت مستعفی ہونے کی دھمکی نے حکومت کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے جہاں ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے وہیں نو ہزار سے زائد اسکول تباہ ہوئے یا اُن کو جزوی نقصان پہنچا۔ مختلف اضلاع میں تقریباً 5,800 اسکولوں کا عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال بھی درس و تدیس کے عمل میں رکاوٹ بنا۔ شدت پسندی کے اثرات 2010ء میں ملک کے شمال مغربی صوبے خیبر پختون خواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں نے بھی تعلیمی اداروں، خصوصاً طالبات کے لیے قائم اسکولوں، کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں اور کئی عمارتوں کو بارودی مواد کے ذریعے کلی یا جزوی طور پر تباہ کر دیا۔ان علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں سے ا سکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی تعداد میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ انتہا پسند طالبان نے سال کے دوران ناصرف تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ اس نظام سے وابستہ ماہرین کے قتل و اغوا میں بھی ملوث رہے۔ شعبہ تعلیم کو ایک شدید دھچکا اْس وقت لگا جب سوات اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق کو نامعلوم مسلح افراد نے اکتوبر کے مہینے میں مردان میں اْن کے کلینک کے اندر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ڈاکٹر فاروق اعتدال پسند ماہرین تعلیم میں شمار کیے جاتے تھے اور وہ ایک بحالی مرکز کے سربراہ بھی تھے طالبان جنگجوؤں کی طرف سے خودکش حملوں کے لیے تیار کے جانے والے بمبارو ں کی اصلاح کے لیے سوات میں قائم کیا گیا ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور کی تاریخی درس گاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی سربراہ اجمل خان کو تین ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔ بلوچستان میں تشدد کی لہر کے اثرات پاکستان میں 2010ء میں تعلیم کے شعبے کو سب سے زیادہ نقصان بلوچستان میں پہنچا جہاں اساتذہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ خطرات کا سامنا رہا اور انھیں لسانی بنیادوں پر ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بلوچ عسکریت پسندوں کی ان مہلک کارروائیوں کا نشانہ بننے والے بیشتر اساتذہ کا تعلق ملک کے دوسرے صوبوں سے تھا۔ پاکستان کے اس پسماندہ ترین صوبے میں امن و امان کی دن بدن بگڑتی صورتحال کے باعث اساتذہ کی اکثریت یہاں سے تبادلے کی خواہاں ہے۔بلوچستان میں ملک کے دوسرے صوبوں کی نسبت خواندگی کی شرح پہلے ہی سب سے کم ہے۔ سال کے اواخر میں نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی علم بردار غیر سرکاری تنظیم نے بلوچستان پر اپنی ایک مفصل جائزہ رپورٹ میں متنبہ کیا کہ شورش زدگی سے پاکستانی صوبے میں تعلیم کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ”بلوچستان میں اساتذہ اپنے جان پر کھیل کر درس وتدریس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔“ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں بہتری لانے کے لیے حکومت کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ اور شعبہ تعلیم کی ترقی کے لیے مالی وسائل میں مسلسل اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ حکومتِ پاکستان، بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک کی مجموعی مقامی پیداوار کا محض 2.1 فیصد تعلیم کے فروغ پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ خطے میں بنگلادیش وہ واحد ملک ہے جہاں شرح خواندگی اور شعبہ تعلیم کے لیے مختص مالی وسائل پاکستان سے بھی کم ہیں۔ وفاقی کابینہ نے گذشتہ سال ستمبر میں قومی تعلیمی پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت 2015ء تک شعبہء تعلیم کے لیے مختص رقم کو بڑھا کر ملک کی مجموعی مقامی پیداوار کے سات فیصد کے برابر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیم کا فروغ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں غربت کے خاتمے اور انسانی و اقتصادی ترقی کے حصول کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (10-01-11), ڈاکٹرنور (11-01-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سال 2010 کے دوران پاکستان میں تین فضائی حادثے
پاکستان میں اس سال دوہزار دس میں بدقسمتی سے پہ درپہ تین فضائی حادثات ہوئے جس میں مجموعی طور پر 210 افراد جاں بحق ہوئے ۔عجب اتفاق ہے کہ تینوں حادثات کے ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی حب کا نام جڑا ہے کیوں کہ تینوں بدقسمت طیاروں نے کراچی ائیرپورٹ سے پروازیں بھری تھیں۔ پہلے حادثے میں کراچی ائیرپورٹ سے اسلام آباد جانے والی ائیر بلیو کی پرواز اسلام آباد ائیرپورٹ پر اترنے سے کچھ لمحے قبل مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکراگئی جس میں پائلٹ اور عملے سمیت 178 مسافر جاں بحق ہوگئے۔ دوسرا حادثہ کراچی ائیر پورٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک نجی کمپنی جے ایس ائیر لائن کا چھوٹا چارٹرڈ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔حادثے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ طیارے نے کراچی ائیرپورٹ سے صبح ساڑھے سات بجے ضلع دادو میں کیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں واقع بھٹ آئل فیلڈ کے لئے پرواز بھری تھی کہ پرواز کے چند منٹ بعد ہی طیارے کے انجن میں خرابی کی نشاندہی پر اسے واپس لینڈنگ کی ہدایت کی گئی تاہم یہ اترنے سے پہلے ہی گرکر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے اٹھارہ ملازمین اور عملے کے تین افراد سوار تھے ۔ تیسرا حادثہ روسی ساخت کے کارگو طیارے کو پیش آیا جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ۔ اس میں عملے کے تین افراد بھی شامل ہیں۔ طیارہ متحدہ عرب امارات سے کراچی پہنچا تھا جہاں سے اسے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے لئے روانہ ہونا تھا۔ 2010ء کے سرفہرست ہیروز کی کامیابیاں اور ناکامیاں سال 2010 ایسا سال تھا جس میں ایک دو نہیں کئی ایک نئے چہروں نے ہیروکی حیثیت سے بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور خود کو منوانے میں بھی کامیاب رہے لیکن اگر بات کی جائے ہاٹ ہیروز کی تو مجموعی طور پر اس سال بڑے بڑے ہاٹ ہیروز نے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا۔ آیئے ان سے متعلق مزید بات کرنے سے پہلے باری باری ان سے متعلق کچھ تفصیلات پر غور کیا جائے۔ عامر خان انڈسٹری میں مسٹر پرفیکٹ کا درجہ رکھنے والے عامر خان کے مداح سارا سال یہ سوچتے رہے کہ انہیں اس سال کے آخر تک عامر کی کوئی نئی دھماکے دار فلم دیکھنے کو ملے گی جیسا کہ پچھلے دو سا ل سے ہوتا آرہا تھا مگر اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔ رواں سال عامر خان "پیپلی لائف" کی پروڈکشن کے ساتھ میدان میں اترے ضرور مگر وہ اس فلم کے لیڈنگ رولز میں شامل نہیں تھے لہذا ان کے مداحوں کو عامر کی جانب سے خاموشی ہی دیکھنے کو ملی۔ عامر خان اپنی شریک سفر کرن راوٴ کے ساتھ اپنی نئی فلم دھوبی گھاٹ میں مصروف ہیں جس میں ان کا لیڈنگ رول ہوگا۔ شاہ رخ خان سال دوہزار دس میں شاہ رخ خان کاجول کے ساتھ صرف ایک فلم 'مائی نیم از خان' لے کر آئے جبکہ باقی سال ان کی جانب سے بھی خاموشی ہی رہی۔ اس سال زیادہ تر وہ فلم "را۔ون"کی شوٹنگ میں لگے رہے جو اگلے سال یعنی دوہزار گیارہ میں ریلیز ہوگی۔ سلمان خان سلمان خان نے دوہزار دس کا آغاز ایک کمزور موضوع پر بنی فلم "ویر"سے کیا تاہم سال کے آخری مہینوں میں آنے والی ان کی فلم "دبنگ" نے ان کی ریٹنگ ہائی کردی۔ فلم نے ریلیز کے ایک ہفتے بعد ہی باکس آفس پر بننے والے اب تک کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے ہی سب سے زیادہ بزنس کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ عامر خان کی فلم "تھری ایڈیٹس" کا ریکارڈ بھی دبنگ کے ہاتھوں ہی چکناچور ہوا۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے ہی 48 کروڑ کا بزنس کیا۔ سیف علی خان سیف علی خان اس سال کرینہ کپور سے دوستی کے چرچوں کے علاوہ اپنے چاہنے والوں کو کچھ نہ دے سکے۔ اس سال ان کی ایک بھی فلم ریلیز نہیں ہوئی اور باکس آفس پر ان کا نام اسکینڈلز کی زد میں زیادہ رہا۔ شاہد کپور سال دوہزار دس شاہدکپور کے لئے مایوسی لے کر آیا۔ ان کی تین فلمیں "چانس پہ چانس"، "پاٹھ شالا" اور" ملیں گے ملیں گے" فلاپ ہوگئیں۔ صرف ایک فلم "بدمعاش کمپنی"نے تھوڑا بہت بزنس کیا مگر اسے کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یوں کہہ لیں کہ فلم نے اوسط بزنس کیا۔ شاہد کپور کے بارے میں سارے سال یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ وہ پریانکا چوپڑا سے عشق کی پینگیں لڑا رہے ہیں۔ کامیابی کے نام پر شاہد کپور اس سال مایوسی سے ہی دوچار ہوئے۔ سنجے دت سنجے دت بھی اس سال کچھ نہ کرسکے۔ ان کی بھی تین فلمیں "لمحہ"، "ناک آوٴٹ" اور" نوپرابلم" بری طرح فلاپ ہوگئیں۔ البتہ ان کی زندگی میں اس سال دو جڑواں پھول کھلے۔ ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے ان کے آنگن میں جنم لیا اور سونا پن دورکیا۔ اجے دیوگن سال دوہزار دس اگر کسی فنکار کے لئے خوش بختی کی علامت ثابت ہوا تو وہ ہیں اجے دیوگن ۔ اس سال ان کی جتنی بھی فلمیں ریلیز ہوئیں ان میں ان کی پرفارمنس کو قابل تحسین قرارد یا گیا۔ "راج نیتی، "ونس سپون اے ٹائم ان ممبئی"، "گول مال تھری" اور "اتی تھی تم کب جاوٴگے"نے باکس آفس پر خوب بزنس کیا۔ اس سال ان کے یہاں بھی ایک بچی کی پیدائش ہوئی جو کاجول اور اجے دیوگن کا دوسرا بچہ ہے۔ ابھیشیک بچن جونیئر بچن کی اس سال دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ "راون" اور "کھیلیں ہم جی جان سے" اور بدقسمتی سے یہ دونوں ہی فلمیں ناکام ثابت ہوئیں۔ امید ہے کہ دوہزار گیارہ کا سورج ان کیلیے نئی خوش خبریاں لے کر طلوع ہوگا۔ ابھے دیول سال کے ابتدائی مہینوں میں ایسی خبریں مل رہی تھیں کہ ابھے دیول اور سونم کپور فلم "عائشہ" پر بہت محنت اور لگن سے کام کررہے ہیں مگر باکس آفس پر آنے کے بعد فلم بینوں نے اسے ناپسند کردیا اور فلم بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اکشے کمار اکشے اس سال فلموں سے زیادہ ٹی وی پر کامیاب نظر آئے۔ "ماسٹر شیف" کی کامیابی کا سہرا اکشے کے سر ہے ۔ اس سال ان کی دو فلمیں بھی ریلیز ہوئیں۔ "ہاوٴس فل" اور "تیس مار خاں"۔ پہلی فلم کامیاب رہی جبکہ "تیس مار خاں" چونکہ گزشتہ ہفتے ہی ریلیزہوئی ہے لہذا اس کے بارے میں ملی جلی آراء موصول ہورہی ہیں۔ امیتابھ بچن بگ بی سال 2010ء میں بھی فلموں کا حصہ رہے ۔ دراصل "کون بنے گا کروڑ پتی" کے چوتھے سیشن نے ان کے کیریئر کو مزید وسعت دی۔ چوتھا سیشن بھی پہلے سیشن کی طرح ہی کامیاب رہا۔ جہاں تک اس سال ریلیز ہونے والی ان کی فلموں کی بات ہے تو اس سال امیتابھ کی " رن" اور "تین پتی" نے کچھ زیاد ہ اچھا بزنس نہیں کیا۔ رنبیر کپور رنبیر کپور کے لئے سال دوہزار دس چاکلیٹی ہیرو کی امیج ختم کرنے کا باعث ہوا۔ اس سال انہوں نے میچور اداکا ر کی حیثیت سے فلم "راج نیتی" اور"انجانہ انجانی" میں کام کیا ۔ "انجانہ انجانی" میں کام کرکے وہ شائقین کی جانب سے اس سال کے سب سے موزوں اداکار قرار پائے۔ رشی کپور رشی کپور اور نیتو سنگھ ماضی کی فلموں کی بہترین جوڑی رہے ہیں ۔ اس سال ریلیز ہونے والی فلم "دو دنی چار" میں یہی جوڑی تیس سال بعد پھر ایک ساتھ کام کرتے ہوئے نظر آئی ۔ اگر چہ یہ دونوں دوہزار نو میں ریلیز ہونے والی ایک فلم "لو آج کل" میں بھی نظر آئے تھے مگربرائے نام۔ انیل کپور انیل کپور کے چاہنے والوں کے لئے ایک خوش خبری۔۔۔!! انیل کپور اب بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی نظر آئیں گے ۔ ان کی دو انگریزی فلمیں "مشن امپوسیبل" اور " گھوسٹ پروٹوکول" ہالی ووڈ فنکار ٹام کروز کے ساتھ بن رہی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اب انیل ملکی فلم بینوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی فلم بینوں اوراپنے چاہنے والوں کو کس حد تک مطمئن کرپاتے ہیں۔ فی الحال تو اس سال ریلیز ہونے والی ان کی ہندی فلم "نوپرابلم" کی بات کرتے ہیں جو ان دنوں اچھا خاصا بزنس کررہی ہے ۔ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ عمران ہاشمی 'ان کی دونوں فلمیں "سیریل کلر" اور "ونس سپون اے ٹائم ان ممبئی" باکس آفس پر اچھی چلیں جبکہ ان کی تیسری فلم "کروک: اٹس گڈ ٹوبی بیڈ" کوئی کارنامہ نہ کرسکی۔ تاہم ان کے فینز کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ان کی ایک فلم 'مرڈر2' آرہی ہے جو 'مرڈر' کا سیکول ہے ۔ اس فلم میں عمران سری لنکا کی اداکارہ جیکوئن فرنانڈیس کے ساتھ رومانس کرتے نظر آئیں گے۔ فرحان اختر فرحان بالی ووڈ کے ٹیلنٹ رکھنے والے اداکار ہیں۔ ان کی اس سال ایک فلم 'کارتک کالنگ کارتک' ریلیزہوئی ۔ وہ اس وقت شاہ رخ خان اور پریانکا چوپڑا کے ساتھ 'ڈان 2' کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ ارجن رامپال ارجن کی اس سال 'راج نیتی' ریلیز ہوئی جس میں ان کی اداکار ی کو سراہا گیا ۔ ان کی دو اور فلمیں 'ہاوس فل' اور 'وی آر فیملی' بھی ریلیز ہوئیں لیکن ارجن ان کے ذریعے اپنے آپ کو منوانے میں خاطر خواہ کامیاب نہ ہوسکے۔ رہتک روشن رہتک اس سال 'کائٹس' لے کر میدان میں اترے اور اس فلم کے ریلیز سے پہلے بہت چرچے بھی ہوئے اور فلم پر پیسہ پانی کی طرح بھی بہایا گیا مگر 'کائٹس' درمیان میں ہی پیچا کھا گئی۔ سال کے آخری مہینوں میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم 'گزارش' کے بارے میں بھی بہت مثبت رائے موصول ہورہی تھی مگر اس کا بھی براحال ہوا۔ مجموعی طور پر رہتک اس سال کوئی کارنامہ نہ دکھا سکے۔ جان ابراہم جان بھی باکس آفس پر اس سال کچھ نہ کرسکے۔ ان کی دو فلمیں 'آشیانہ' اور 'جھوٹا ہی سہی' ریلیز ہوئیں مگر جان ان دونوں فلموں کو ناکامی سے نہ بچا سکے۔ ہوسکتا ہے آنے والا سال ان کے لئے کچھ بہتر لائے۔ 2010: افغانستان میں 700نیٹو فوجی ہلاک امریکی صدر براک اوباما نے اس ماہ اپنی افغان جنگی حکمت عملی کا سالانہ جائزہ پیش کیا تھا جس میں انھوں نے افغانستان میں 30 ہزار اضافی امریکی فوجی تعینات کرنے کے فیصلے کو موثر قرار دیتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کامیابیاں نازک ہیں جنہیں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں اس سال اب تک اطلاعات کے مطابق امریکہ اور نیٹو کے مجموعی طور پر 700 سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں دو تہائی اکثریت امریکیوں کی جبکہ سو سے زیادہ کا تعلق برطانیہ اور باقی کا نیٹو میں شامل دوسرے ملکوں سے ہے۔ اس وقت ایک لاکھ پچا س ہزار سے زائد غیر ملکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جن میں تقریباََ ایک لاکھ امریکی ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں نو سال قبل شروع ہونے والی اس جنگ میں2010ء اتحادی افواج کے لیے مہلک ترین سال ثابت ہوا ہے، جبکہ طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بھی اس دوران ملک کے شمال اور مغرب میں ایسے علاقوں تک پھیل گئیں ہیں جو ماضی میں نسبتاََ پُر امن سمجھے جاتے تھے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اس ماہ اپنی افغان جنگی حکمت عملی کا سالانہ جائزہ پیش کیا تھا جس میں انھوں نے افغانستان میں 30 ہزار اضافی امریکی فوجی تعینات کرنے کے فیصلے کو موثر قرار دیتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کامیابیاں نازک ہیں جنہیں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ نیٹو کمانڈروں نے بھی جنگ میں طالبان کے خلاف اہم کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں تیرہ سو سے زائد طالبان رہنماؤں اور جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ دو ہزار سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے خفیہ نقشوں کی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی تفصیلات کے مطابق 2010ء میں افغانستان میں سلامتی کی صورت حال مسلسل خراب ہوئی ہے ۔ ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری امدادی تنظیموں نے بھی امریکی انتظامیہ اور نیٹو کے دعوؤں کے برعکس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (10-01-11), ڈاکٹرنور (11-01-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2010: کس شہر میں کتنے دھماکے ہوئے
رواں برس پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ کے عوض ملک کے چاروں صوبوں کے9 شہروں کو47 بم دھماکے، خودکش حملے اور دہشت گردی کے دیگر واقعات برداشت کرنا پڑے۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر ایک ہزار2 6 افراد جاں بحق اور دو ہزار ایک سو اکیاو ن زخمی ہوئے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ ، شہر لاہور اور مہینہ دسمبر خونریز ثابت ہوا ۔ خیبر پختونخواہ میں سترہ دھماکے ہوئے جس میں 467 افراد کو لقمہ اجل بنایا گیا ۔ دارلحکومت پشاور کو سب سے زیادہ 6 مرتبہ نشانہ بنایا گیا جس میں 156 معصوم جانوں کا ضیاع ہوا ۔ لکی مروت میں ایک دھماکے میں 105، کوہاٹ میں تین دھماکوں میں 47،لوئر دیر میں دودھماکوں میں 106، سوات میں ایک دھماکے میں 10، ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دھماکے میں 12، بنوں میں ایک دھماکے میں 6، ہنگو میں ایک دھماکے میں 17اور نوشہرہ میں ایک دھماکے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے ۔ دو ہزار دس میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر 9 بار وار کیا گیا جس میں سے 8 وار زندہ دلان لاہور کو جھیلنے پڑے اور 248 افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ اس کے علاوہ پاک پتن میں ایک دھماکے میں 6 افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا ۔ صوبہ سندھ میں صرف ملک کے تجارتی حب میں 5بار خود کش و بم حملے کیے گئے جن میں 54 افراد اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کو دو بار خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں 65 افراد موت کی وادیوں میں گم ہو گئے ۔ اسلام آباد میں دو دھماکوں میں تیرہ افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایک، ایک دھماکا کیا گیا۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے دھماکے میں 24 جبکہ شمالی وزیرستان میں ہونے والے دھماکے میں7 افرادجاں بحق ہوئے ۔ اورکزئی ایجنسی میں ایک دھماکے میں 18، باجوڑ ایجنسی میں دو دھماکوں میں 63، خیبر ایجنسی میں چار دھماکوں میں 44، کرم ایجنسی میں چار دھماکوں میں 46 اورمہمند ایجنسی میں تین دھماکوں میں 140افراد لقمہ اجل بنے ۔ جنوری میں تین، فروری میں پانچ، مارچ میں پانچ، اپریل میں پانچ، مئی میں تین، جولائی میں پانچ، اگست میں تین، ستمبر میں چھ، اکتوبر میں دو، نومبر میں چار اور دسمبر میں سات دھماکے ہوئے ۔ صرف جون کا مہینہ ایسا تھا جس میں کوئی دھماکا نہیں ہوا۔ 2010 میں عالمی مالیاتی بحران کا ایشیا نے بہتر مقابلہ کیا عالمی مالیاتی بحران سے ایشیا بڑی مضبوطی سے باہر نکل آیا ہے ۔ لیکن جیسے جیسے بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے ایشیائی معیشتوں میں بھاری مقدار میں سرمایہ لگانا شروع کیا، افراطِ زر اور معیشت میں اتار چڑھاؤ کےبارے میں تشویش پیدا ہوئی۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ 1997 کے مالیاتی بحران کے تجربے سے ایشیا کو اس چیلنج کا سامنا کرنے میں مدد ملی ہے ۔ امریکہ اور یورپ میں شرح سود کم ہے۔ اس لیئے بین الاقوامی سرمایہ کار زیادہ منافع کی تلاش میں، ایشیا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ بنگکاک کے Kasikornbank کی اقتصادی ماہر Nalin Chutchotitham کو توقع ہے کہ مختصر مدت کے لیئے غیر ملکی سرمایہ آتا رہے گا۔ ان کے الفاظ ہیں: “چونکہ سرمایہ مسلسل آرہا ہے اس لیئے ایشیا میں سرمایہ حاصل کرنے کی لاگت کم ہوگئی ہے اور یہ اس معاملے کا مثبت پہلو ہے۔” اس طرح کمپنیوں کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایشیا کے ملکوں کی کرنسیوں کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اور درآمد شدہ خام مال سستا ہو جاتا ہے۔تا ہم، اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی کرنسی مضبوط ہو، تو اس کی بر آمدات مہنگی پڑتی ہیں اور یہ ایشیا کی بر آمدات پر مبنی معیشتوں کے لیڈروں کے لیئے تشویش کی بات ہے ۔ لیکن علاقے کے اقتصادی ح ماہرین اس سرمایے سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں انتباہ کرتے ہیں۔ بہت زیادہ پیسہ محدود اثاثوں کی تلاش میں ہوتا ہے تو افراطِ زر بڑھ جاتا ہے ۔ چین میں جب نومبر میں اشیاء کی قیمتیں دو برس سے زیادہ عرصے میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئیں تو حکومت نے قیمتوں پر کنٹرول کرنے کا عہد کیا۔ ایک اور بڑی پریشانی یہ ہے کہ کہیں سرمایہ اچانک واپس نہ نکال لیا جائے۔ 1990 کی دہائی کے وسط میں، سرمایے کی مانگ میں آج کل کی طرح اضافہ ہوا تھا۔ پھر تشویش میں مبتلا سرمایہ کاروں نے بہت سے ایشیایئ ملکوں سے اچانک اپنا پیسہ نکال لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں کی کرنسیوں کی قدر اچانک کم ہو گئی، اور کمپنیاں دیوالیہ ہو گئیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا تھے۔ Kasikornbank کے Kobsidithi Silpachai کہتے ہیں ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ ملک میں پیسہ آئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ مختصر مدت کے لیئے آرہا ہے یا لمبے عرصے کے لیئے ۔ اقتصادی ماہرین ، بنکاروں اور پالیسی سازوں کو مختصر مدت کے لیئے آنے والے پیسے سے پریشانی ہوتی ہے ۔ اس پیسے کو hot money بھی کہتے ہیں اور یہ عام طور سے شیئرز یا بونڈز میں لگایا جاتا ہے اور یہ بڑی تیزی سے ملک سے باہر جا سکتا ہے ۔ دوسری طرح ، لمبی مدت کی سرمایہ کاری فیکٹریوں ، فارمز اور بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے میں ہوتی ہے اور اس میں اچانک تبدیلی کا امکان کم ہوتا ہے ۔ انڈونیشین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کے اقتصادی تجزیہ کار Siwage Dharma Negara کو تشویش ہے کہ انڈونیشیا میں آج کل جو پیسہ آ رہا ہے اس کا مقصد شیئرز میں پیسہ لگانا اور تیزی سے منافع کمانا ہے۔ ان کا کہنا ہے: “اگر آپ مالیاتی اعداد و شمار کا جائزہ لیں، تو پتہ چلے گا کہ جو بھی سرمایہ آرہا ہے وہ اسٹاک مارکٹ، سرکاری بانڈز اور سینٹرل بنک کے سرٹیفیکٹ خریدنے کے لیئے ہے، لیکن ان چیزوں کااصل معیشت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے ۔” اگرچہ سرمایے کی آمد کے بارے میں تشویش موجود ہے، لیکن اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ایشیا نے 1997 کے مالی بحران سے سبق سیکھا ہے۔ Fredrico Gil Sander تھائی لینڈ میں ورلڈ بنک میں ماہر معاشیات ہیں، وہ کہتے ہیں کہ 1997 کے بحران کے بعد ایشیائی معیشتیں اچانک تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیئے بہتر طور پر تیار ہیں۔ بہت سے ایشیائی ملکوں کی حکومتوں نے ، جیسے تھائی لینڈ نے، غیر ملکی کرنسیوں کے ذخائر محفوظ کر لیئے ہیں تا کہ غیر ملکی سرمایے کے اچانک واپس چلے جانے اور زر مبادلہ کی شرح میں اچانک تبدیلیوں سے نمٹا جا سکے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ چھہ مہینوں میں جتنا پیسہ آیا ہے، وہ کل واپس چلا جائے، تو بھی زر مبادلہ کی شرح پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ سینٹرل بنک نے کافی سرمایہ محفوظ کر رکھا ہے۔ چین میں حکومت کوشش کر رہی ہے کہ فاضل پیسے کو مالیاتی نظام میں جذب کر لیا جائے ۔ حکومت نے بنکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ قرض کی رقم کو محدود کر دیں، محفوظ سرمایے میں اضافہ کر یں، اور ممکن ہو تو شرح سود میں مزید اضافہ کر دیں۔ ایشیائی حکومتیں افراط ِ زر کو قابو میں رکھنے اور پیسے کی ایسی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے اقدام کر رہی ہیں جس سے معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے ۔ دوسری طرف، توقع ہے کہ اس علاقے میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہے گی۔ تاہم ، ماہرین معاشیات اور منڈی کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ علاقہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیئے بدستور پُر کشش رہے گا۔ سال 2010ء اور پاکستان کے اقتصادی چیلنجز حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی امداد کے لیے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 70 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء کی خرید میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ سرکاری اعداوشمار کے مطابق خط غربت کی لکیر سے نیچے 15فیصد آبادی کو ہر ماہ ایک ہزار روپے دیے جاتے ہے اور حکومت کا ہدف اس پروگرام کے تحت ملک کی 40 فیصد غریب آبادی تک پہنچنا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی خراب صورت حال، توانائی کا بحران اور پھر سال کے وسط میں ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہونے والی تباہی نے پہلے سے کمزور معیشت کو 2010ء میں نئی مشکلات سے دوچار کردیا۔ جولائی کے اواخر میں ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے چند ہفتے قبل ہی حکومت نے مالی سال 2010-11ء کے ساڑھے 32 کھرب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا تھا لیکن اس قدرتی آفت کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں طے کردہ اہداف اور ترجیحات پر حکومت کو فوری طور پر نظر ثانی کرنا پڑی۔ ڈاکٹر عابد سلہری ماہر معاشیات اور پائیدار ترقی کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ 2010ء پاکستانی عوام کے لیے مشکل ترین سالوں میں سے ایک سال رہا اور سیلاب کے بعد بجٹ خسارے میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اُنھوں نے بتایا کہ حکومت کو اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنا پڑی جو بعض علاقوں میں بے روزگاری کا سبب بنی۔ رواں مالی سال کے دوران حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 663 ارب روپے مختص کیے تھے لیکن سیلاب متاثرین کی ہنگامی امداد کے لیے درکار وسائل کے تناظر میں حکومت کو مجبوراً یہ اعلان کرنا پڑا کہ صرف اُنھی منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا جن پر نصف یا اُس سے زائد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ گیلپ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی کا کہنا ہے کہ اُن کی تنظیم کے سروے کے مطابق معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کی ایک بڑی اکثریت گذشتہ سال کے دوران حکومت سے مایوس اور بدظن ہوئی ۔”عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی بدانتظامی سب سے بڑ امسئلہ ہے اور تقریباً ساٹھ فیصد سے زائد صاحب روزگار افراد کا کہنا ہے کہ وہ بے یقینی کا شکار ہیں کہ آیا اگلے سال اُن کی نوکری برقرار رہے گی یا نہیں۔ اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کی ایک وجہ اشیائی خوردنی کی قیمتوں میں20 سے 30 فیصداضافہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک”ڈبلیو ایف پی“ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اشیاء خورو نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کے لیے مناسب خوراک کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی امداد کے لیے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 70 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء کی خرید میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ سرکاری اعداوشمار کے مطابق خط غربت کی لکیر سے نیچے 15فیصد آبادی کو ہر ماہ ایک ہزار روپے دیے جاتے ہے اور حکومت کا ہدف اس پروگرام کے تحت ملک کی 40 فیصد غریب آبادی تک پہنچنا ہے۔ اس پروگرام پر بعض حلقوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ اُن کا موقف ہے کہ کئی اہم شعبوں میں کٹوتی کر کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ توانائی کا بحران توانائی کا بحران بالخصوص بجلی اور گیس کی لوڈشیدنگ بھی اقتصادی مشکلات اور صنعتی پیداوار میں کمی کا سبب بنی ہے۔ قدرتی گیس کی بندش کے خلاف صنعت کار سراپا احتجاج ہیں کیوں کہ اُن کا کہنا ہے کہ کارخانوں اور فیکٹریوں کی بندش سے نہ صرف لاکھو ں مزدور روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں بلکہ یہ صنعتیں اپنے برآمدی اہداف بھی حاصل نہیں کر سکتیں۔ حکومت توانائی کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے اور ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کے علاوہ حال ہی میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کیے گئے۔ اس منصوبے کے تحت ترکمانستان کے دولت آباد کے علاقے سے قدرتی گیس 1640کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعہ افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت پہنچے گی۔ گیس درآمد کرنے کے اس منصوبے کے تحت پائپ لائن بچھانے کے لیے 2015ء کی ڈیڈ لائن مقر ر کی گئی ہے تاہم وزرات پٹرولیم اور وزرات پانی وبجلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اندرون ملک بھی توانائی کے زیر زمین ذخائر کے تلاش کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عالمی برادری بالخصو ص امریکہ نے بجلی کی پیدوار بڑھانے کے منصوبوں پر حکومت پاکستان کی معاونت کے لیے 2010ء میں نئے مالی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ اندرونی و بیرونی قرضے اور ٹیکس اصلاحات ڈاکٹر عابد سلہر ی کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ہر ماہ قرض لینا پڑ رہا ہے جو اُن کے بقول مزید دشواریوں کا باعث بن رہا ہے۔ اندرون ملک قرض کے علاوہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے ”آئی ایم ایف “ سے بھی 11.3 ارب ڈالر قرض کے حصول کا معاہدہ کر رکھا ہے جس میں سے اب تک اُسے سات ارب ڈالر سے زائد کی رقم موصول ہو چکی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے سے قرض کی دومزید اقساط کے لیے حکومت کو وعدے کے مطابق ملک میں ٹیکس اصلاحات نافذ کرنی ہیں اور اس لیے اُس نے مجوزہ اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس کا ایک بل بھی تیار کر رکھا ہے جسے منظور کروانے کے لیے وہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے ۔ لیکن حکمران پیپلزپارٹی کو نہ صرف اپنی اتحادی جماعتوں بلکہ حزب اختلاف کی پارٹیوں کی طرف سے بھی اس معاملے پرشدید مخالفت کا سامنا ہے۔ انھی مشکلات کے تناظر حکومت کی درخواست پر آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے اپنے پروگرام میں نو ماہ کی توسیع کر دی ہے جس کے بعد اسلام آباد کو مزید مہلت مل گئی ہے کہ وہ اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر مالیاتی شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کر سکے۔ وزرات خزانہ نے ٹیکس کے حصول میں بہتری کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ”ایف بی آر“ کے محکمہ میں اصلاحات کا نظام شروع کر رکھا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے 2010ء کے دوران 1327ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو 1380ارب روپے کے مقررہ ہد ف سے 53ارب روپے کم ہے۔ وزارت خزانہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محصولات اکٹھے کرنے کے نظام میں بہتری کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے زائد ہیں لیکن اس کے باوجود اقتصادی ماہرین اور خود حکومت میں شامل وزراء کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کو نہیں روکا جاسکا ہے۔ حکومت کو ریلوے، سٹیل مل اور پی آئی اے جیسے اہم قومی اداروں کے مالی خساروں کو پورا کرنے کے لیے 300 سے 350 ارب روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں جو یقینا مالی دشواریوں میں اضافے کا سبب ہے۔ پاکستان کی کمزور اقتصادی صورت حال کے میں بہتری کی اُمید اُس وقت پیدا ہو ئی جب 2010ء کے اواخر میں چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ کے تین روز سرکاری دورہ پاکستان کے موقع پر سرکاری اور نجی شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان 25 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی طر ف سے سرمایہ کاری کے بعد پاکستان میں آئندہ تین سالوں کے دوران روزگار کے وسائل بڑھنے اور ملک کی مجموعی معاشی صورت حال میں بہتر ی آئے گی۔ گیلپ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت کی سطح پر بدانتظامی کے باعث لوگ مایوسی کا شکار ہیں اُنھوں نے بتایا کہ اگرکوئی واضح سمت متعین کر دی جائے تو لوگوں کو اپنی منزل کی جانب راستہ طے ہوتے ہوئے نظر آئے گا اور اس طرح مایوسی کو اُمید میں بدلتا جاسکتا ہے۔ 2010: دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے واقعات میں پانچ ہزار ہلاکتیں ایس پی او کے سربراہ نصیر میمن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے رجحانات انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تشدد کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کا دائرہ اب ان علاقوں تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے جو پہلے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم سٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن کے تازہ جائزے کے مطابق سال 2010 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے مرتب کردہ اعداد و شمار تشدد کے واقعات کا سو فیصد احاطہ نہیں کرتے بلکہ صرف ایک مجموعی خاکہ ہے جو مقامی میڈیا کے ذریعے منظرعام پرآنے والے واقعات پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوام کو مسلسل ایک عدم تحفظ کا احساس لاحق ہے کیونکہ دہشت گرد اپنی کارروائی کہیں بھی اور کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ برداشت اور پرامن بقائے باہمی کی علامت سمجھے جانے والے مقدس مقامات بھی ان سے محفوظ نہیں ۔ مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2010 میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں 1800افراد ہلاک ہوئے، ڈرون حملوں میں550 سے زیادہ ، فوجی آپریشن میں 2060جبکہ ٹارگٹ کلنگ سمیت تشدد کے دوسرے واقعات میں 273افراد مارے گئے۔ یوں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے جن میں عام شہری، عسکریت پسند اور سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں ایس پی او کے سربراہ نصیر میمن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے رجحانات انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تشدد کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کا دائرہ اب ان علاقوں تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے جو پہلے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کی اقتصادی ترقی پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں کیونکہ ان سے نمٹنے کے لئے وسائل کا ایک بڑا حصہ صرف ہو جاتا جو صحت، تعلیم اور صاف پانی کی سہولتوں پر خرچ ہوناچائیے۔ نصیر میمن کا کہنا تھا کہ تشدد کے واقعات خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ان میں اضافے کو روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ریاست بھی بے گناہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا فوری طور پر مداوا کرے اور اسے انصاف دے تاکہ وہ بدلے کے طور پر خود ہتھیار اٹھا کے ریاست کی عمل داری کو چیلنج نہ کرے۔ رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں موجود سابق وزیر اطلاعات اور سیاسی تجزیہ کار جاوید جبّار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں جاری تشدد کی موجودہ لہر کی کئی جہتیں اور اشکال ہیں اور ان کے مطابق کم از کم مستقبل قریب میں اس کے تھمنے کے آثار نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورت حال کتنی بھی پیچیدہ کیوں نہ ہو ریاست کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کے سامنے کسی بھی طور کمزوری ظاہر نہ کرے بلکہ ان عناصر کے خلاف اپنا پختہ عزم بر قرار رکھتے ہوئے تدبیری حکمت عملی سے ان کا مقابلہ کرے۔ 2010 میں مہنگائی کا نیا ریکارڈ، قیمتوں میں سو فیصد سے زائد اضافہ 2010 میں جہاں ایک طرف عوام کو دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے سارا سال دوچار ہونا پڑا وہیں ملک میں بڑھنے والی روز بہ روز مہنگائی نے بھی سابقہ تمام ریکارڈز توڑ دیئے۔ 2010ء کے دورا ن عام استعمال کی اشیاء بالخصوص ایسی ایشیاء جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں، کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سرکاری اعدود شمار پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران جس شرح سے مہنگائی بڑھی ہے وہ عام آدمی کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہے۔ ذیل میں ان چیزوں کا الگ الگ بیان کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کی شرح کا بغور جائزہ لیا جاسکے: وہ اشیاء جن کی قیمتوں میں سو فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا: پیاز ایک عام استعمال کی چیز ہے مگر عیدالفطر، عید الاضحی اورمحرم کے مواقع پر پیاز کی قیمتوں میں ایک سو بیس فیصد اضافہ ہوا۔ اس وقت پیاز کم از کم 60فیصد اضافے کے ساتھ ملک بھر کی مارکیٹو ں میں فروخت ہورہی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس بار بڑے پیمانے پر پیاز بھارت برآمد کی جارہی ہے۔ بھارت میں زیادہ اور بے ہنگم بارشوں کے باعث پیاز اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جس کے بعد دہلی سرکار نے پاکستان سے پیاز کی ڈیمانڈ کی ہے۔ چینی اوپن مارکیٹ میں 55 روپے تھی جس میں 130فیصد اضافہ نوٹ کیاگیا۔ وہ اشیاء جن کی قیمتوں میں سو فی صد سے کچھ کم اضافہ ہوا : مونگ کی دال عموماً امیر اور غریب دونوں کے ہی دستر خوان پر نظر آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سال مونگ کی دال 85 فیصد اضافے کے ساتھ 140روپے فی کل فروخت ہوئی ۔ وہ اشیاء جن کی قیمتوں میں پچیس فیصد سے زائد اضافہ ہوا : اس کیٹگری میں سب سے اوپر ٹماٹر آتا ہے ۔ رواں سال ٹماٹر بھارت سے برآمد کرنا پڑا کیوں کہ سیلاب کے باعث ملکی ٹماٹر کی فصل تباہ ہوگئی تھی۔ ٹماٹر کی فی کلو قیمت اوسطاً تیس روپے سے بڑھ کر 70اور اسی روپے تک پہنچ گئی کیوں کہ ٹماٹر تقریباً ہر قسم کے سالن میں ڈالا جاتا ہے۔ وہ اشیاء جن کی قیمتوں میں پچاس فیصد یا اس سے زائد اضافہ ہوا: رواں سال سرخ مرچوں کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کے ساتھ سرخ مرچیں دو سو چالیس روپے فی کلو فروخت ہوئیں۔ آلو کی قیمت میں25 فیصدجبکہ لہسن کے داموں میں پچاس فیصداضافہ نوٹ کیا گیا۔ یہی کچھ چینی کے ساتھ بھی ہوا۔ گڑ کی قیمت تیس فیصد اضافے کے ساتھ 165، دال چنا پچاس فیصد اضافے کے ساتھ 75روپے کلو، ایل پی جی گیس سلینڈر 30 فیصد اضافے کے ساتھ 1357روپے، کھلا ویجیٹیبل گھی 36فیصد اضافے کے ساتھ 155 روپے کلو فروخت ہوا۔ سو یونٹ تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں کے نرخوں میں 23 فیصد اضافے نے بھی عوام کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ گیس چارجز میں 18 فیصد، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 20 فیصداضافہ ہوا۔ رواں سال چھوٹے گوشت کی فی کلو قیمت 37 فیصد اضافے کے ساتھ 411 روپے رہی۔ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا۔ تازہ دودھ کی قیمتیں اٹھارہ روپے اضافے کے ساتھ پچاس روپے تک پہنچ گئیں جبکہ انڈے، مرغی، جلانے کی لکڑی، صابن، کیلا، نمک، آٹا، گندم، چائے کے پتی وغیرہ کی قیمتوں میں بھی دو سے دس فیصد اوسطاً اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران خام مال کی قیمتوں میں سترفیصد، ایندھن کی قیمتوں میں تیرہ فیصد، صنعتی اشیاء کی قیمتوں میں انتیس فیصد اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں انیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ جہاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے وہیں ناقص طرز حکمرانی، تاجروں کی من مانی قیمتیں، اسٹیٹ بینک سے دھڑا دھڑ حکومتی قرضے اور سیلاب کے باعث طلب و رسد میں عدم توازن اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بناہے۔ 2010ء پاکستان ہاکی کے لئے نشیب و فراز کا سال سال دو ہزار دس میں پاکستان ہاکی کو نشیب و فرازکا سامنا رہا۔ پہلی ششماہی میں تواس نے زوال کی ایسی داستان رقم کی کہ ہاکی کاشوق رکھنے والوں کے دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئے لیکن سال کے آخری مہنیوں میں ہاکی اس وقت دوبارہ زندہ ہوگئی جب بیس سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان ایشین چیمپئن بنا۔ مارچ میں گرین شرٹس نے ہاکی کے عالمی کپ میں شرکت کے لئے بھارت کی سر زمین پر قدم رکھالیکن دیگر عالمی طاقتوں نے اس کے قدموں تلے سے دھیان چند اسٹیڈیم کا احاطہ تنگ کر دیا اور اسے اتنی خفت کا سامنا کرنا پڑاکہ جس کی پاکستان ہاکی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ عالمی کپ کے حصول کیلئے پاکستان سمیت بارہ ٹیمیں جدوجہد کر رہی تھیں ۔ عالمی کپ میں پاکستان سب سے آخری یعنی بارہویں نمبر پررہا جو پنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔ اس سے قبل پاکستان کی سب سے خراب کارکردگی انیس سو چھیاسی کے ورلڈ کپ میں رہی تھی جس میں قومی ٹیم نے بھارت کو شکست دے کر گیارہویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ پاکستان نے عالمی کپ میں چھ میچ کھیلے اور اسے صرف ایک میں کامیابی مل سکی ۔ اس کے بعد اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لئے گرین شرٹس نے ایک بار پھر بھارت کا رخ کیا تاہم اس مرتبہ بھی نتائج حوصلہ افزا ثابت نہ ہوسکے ۔ پاکستان نے اپنے گروپ کی چار ٹیموں سے معرکہ آرائی کی۔ دو مرتبہ اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ دو بار فتح اس کے حصے میں آئی لیکن بھارت سے شکست کی سزا نے اسے سیمی فائنل سے دور کر دیا کیونکہ بھارت پاکستان کو شکست دے کر پول میں بہتر پوزیشن میں آ گیا تھا اور یوں ایک مرتبہ پھر پانچویں پوزیشن کے ساتھ قومی ٹیم کو وطن واپس لوٹنا پڑا ۔ جیت کو ترستی یہ ٹیم نومبر میں ایشین گیمز میں شرکت کے لئے چین کے شہر گوانگزو پہنچی تاہم اپنے گروپ کے پہلے ہی میچ میں بھارت نے ایک مرتبہ پھر اس کے چاروں شانے چت کر دیئے ۔ اس موقع پر یوں لگتا تھا کہ شاید اس بار بھی مایوسی ہاتھ لگے مگر پہلے میچ کے بعد سے ہی گرین شرٹس نے وہ تہلکہ مچایا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ دوسرے میچ سے فائنل تک پاکستان میچز جیتتا چلا گیا اور بیس سال بعد ایشین چیمپن بن کر نہ صرف قوم کے تمام غم بھلا دیئے بلکہ دو ہزار بارہ میں لندن میں ہونے والے اولمپک گیمز میں شرکت کے لئے اپنی نشست بھی یقینی بنالی ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2010ء ماحولیات کے لیے کڑا سال
پاکستان میں قیامت خیز سیلابوں میں ملک کا پانچواں حصہ زیرِ آب آ گیا۔ کین کُن میں اقوامِ متحدہ کے تحت آب و ہوا کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔ توانائی استعمال کرنے والے سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ امریکہ کی تاریخ میں ساحلِ سمندر کے نزدیک تیل پھیلنے کے بدترین واقعے کے بعد، خلیج میکسیکو میں ماہی گیری کی صنعت ٹھپ ہو گئی۔ یہ وہ اہم واقعات ہیں جن سے 2010 میں دنیا کا ماحول متاثر ہوا امریکہ میں موسم کے بارے میں ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ 1880 سے شروع ہوا۔ نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس کے بعد سے اب تک، 2010 گرم ترین سال تھا۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے صدرجوناتھن لیش کہتے ہیں کہ اس سال دنیا میں بہت سے ایسے واقعات ہوئے جو آب و ہوا میں تبدیلی کا پیش خیمہ تھے۔ ”سائبیریا میں جنگلوں میں آگ لگنا، پاکستان میں قیامت خیز سیلاب، گرین لینڈ میں برف کی چٹان کے ایک حصے کا گِر جانا اور تاریخ میں مونگوں کی بہت بڑی آبادی کا رنگ بدلنا اور ہلاک ہو جانا، یہ سب ایسے واقعات ہیں جن کے بارے میں سائنسدانوں نے پیشگوئی کی تھی کہ وہ دنیا میں حدت بڑھنے کے نتیجے میں واقع ہوں گے۔“ ارتھ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر لاسٹر براؤن کے لیئے بھی دنیا میں گرمی میں اضافہ، 2010 کا اہم واقعہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ موسم میں انتہا درجے کی تبدیلی، خشک سالی اور جنگلات کی آگ کے نتیجے میں روس میں غلے کی پیداوار میں چالیس فیصد کمی ہوگئی۔ ایک ایسے ملک کے لیئے جو گذشتہ سال تک گیہوں بر آمد کرنے والا ایک بڑا ملک تھا، یہ بہت بڑی تباہی ہے۔ اس سال اسے گیہوں در آمد کرنا پڑے گا اور اس نے گیہوں کی بر آمد پر پابندی لگا دی ہے۔ لاسٹر براؤن نے آب و ہوا میں تبدیلی کی کچھ اور پریشان کن علامتیں بھی دیکھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ جولائی میں پاکستان میں سیلاب آنے سے پہلے، وہاں درجہ حرارت اتنا زیادہ ہو چکا تھا جو ایشیا میں پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ جنوبی پاکستان میں دریائے سندھ کے طاس کے علاقے میں یہ 53 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں”اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمالیہ کے کوہستانی سلسلے میں گلیشیئرز، جن سے دریائے سندھ کے معاون دریاؤں کو پانی ملتا ہے، اور دریائے سندھ جو پاکستان کی شہ رگ ہے، بارشیں شروع ہونے سے پہلے ہی بھرنا شروع ہو گئے کیوں کہ پہاڑوں پر برف بہت تیزی سے پگھل رہی تھی۔“ 2010 وہ سال بھی تھا جب چین جو 2009 میں گرین ہاؤس گیس پیدا کرنے کے معاملے میں امریکہ سے آگے نکل گیا تھا، توانائی خرچ کرنے والا امریکہ سے بھی بڑا ملک بن گیا۔ چین نے مقامی حکومتوں کے لیئے توانائی کی کارکردگی کے نئے معیار قائم کیے، کمپنیوں پر توانائی کے معیاروں کی پابندی لازمی قراردے دی، اور دنیا کے سب سے بڑے تیز رفتار ریل نیٹ ورک کی تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ جوناتھن لیش کہتے ہیں کہ اگر چہ امریکی کانگریس 2010 میں آب و ہوا کے بارے میں قانون منظور نہیں کر سکی لیکن کین کُن، میکسیکو میں اقوام متحدہ کی ماحول کے بارے میں سربراہ کانفرنس کے نتائج حوصلہ افزا تھے۔ یہ کانفرنس نومبر کے آخر سے دسمبر کے شروع تک جاری رہی۔ 192 ملکوں کے نمائندوں نے آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں کیوٹو پروٹوکول کی جگہ، جو 2012 میں ختم ہو جائے گا، ایک نئے عالمی معاہدے کی تیاری پر کام جاری رکھا۔ یک اور واقعہ جس نے 2010 میں ہلچل مچائے رکھی، خلیج میکسیکو میں تیل کے پھیلنے کا تھا۔ اپریل میں سمندر کے نیچے ڈیپ واٹر ہورائزن نامی تیل کے کنوئیں میں دھماکہ ہوا جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ۔ جولائی کے وسط میں تیل کے کنوئیں کو بند کرنے سے قبل، تقریباً پچاس لاکھ بیرل تیل سمندر میں پہنچ چکا تھا۔ سمندر کا یہ وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ ماہی گیری ہوتی تھی۔ رواں سال کے اختتام پر امریکی کوسٹ گارڈ کے ریئر ایڈمرل زوکُنت پال نے بتایا کہ 9,000 کارکن اب بھی صفائی کے کام میں مصروف ہیں اور ان کی خاص توجہ دلدلی علاقوں اور ساحلوں کی بحالی پر ہے۔ ”تیل کی بڑی مقدار ساحلوں کے تفریحی مقامات اور نیشنل پارکوں کے کناروں کے اندر دبی ہوئی ہے۔ تیل کی کچھ مقدار یا تو ہاتھوں سے نکالی جا چکی ہے یا ہم اس کے لیئے بھاری مشینیں استعمال کر رہے ہیں۔“ ماحولیات کے بعض دوسرے اہم واقعات یہ تھے کہ 2010 میں بلیو فِن ٹوناکو بین الاقوامی سطح پر تحفظ نہ مل سکا۔ اس مچھلی کا بڑی مقدار میں شکار کیا جاتا ہے اور اس کے نا پید ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، ناروے نے انڈونیشیا میں جنگلات کی حفاظت کے لیئے ایک ارب ڈالر کا عطیہ دیا، اور 2010 کے آخری دنوں میں ، جو چین میں چیتے کا سال تھا، عالمی لیڈر روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمع ہوئے اور انھوں نے چیتے کی نسل کو بچانے کے ایک منصوبے پر اتفاق کیا اور اس کے لیئے پیسہ دینے کا وعدہ کیا۔ 2010 پاکستان کرکٹ کیلئے مایوس کن سال، کامیابی دور اور شکست غالب رہی سال 2010 پاکستان کرکٹ کیلئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ ایک جانب تو قومی ٹیم مسائل کے انبار تلے دبی رہی تو دوسری جانب تینوں طرز کی کرکٹ میں اس کی کارکردگی بھی انتہائی خراب رہی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال پاکستان نے چار ٹیسٹ سیریز اور تین ایک روزہ سیریز میں حصہ لیا تاہم فتح ہمیشہ اس سے کوسوں دور نظر آئی جبکہ پانچ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سے صرف ایک میں اسے کامیابی نصیب ہوئی ۔ اس سال کا سورج مایوسیوں کی خوفناک داستان اپنے ساتھ لیے طلوع ہوا۔ پورے سال میں پاکستان نے مجموعی طور پر دس ٹیسٹ میچ کھیلے، چھ میں اسے شکست کا کڑوا گھونٹ پینے کو ملا اور صرف دو مرتبہ جیت کا مزا چکھا جبکہ دو ہار جیت کے بغیر اختتام پذیرہوئے ۔ ایک روزہ کرکٹ میں بھی شکستوں کا ہی راج رہا۔ پاکستانی ٹیم کا 18 مرتبہ حریفوں سے ٹکراؤ ہوا تاہم صرف پانچ بار اسے جشن منانے کاموقع ملا جبکہ تیرہ بارحریف ٹیم نے اس کے چاروں شانے چت کر دیئے ۔ ٹی ٹوئنٹی میں بھی گرین شرٹس کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور نو میچوں میں صرف تین میں اسے کامیابی ملی جبکہ چھ مرتبہ سر جھکا کر میدان سے واپس لوٹنا پڑا۔ سال کے آغازمیں ہی آسٹریلیانے گرین شرٹس کوفکریات میں ڈال دیا ۔ جنوری میں دورہ آسٹریلیا کے دوران تین ٹیسٹ،پانچ ایک روزہ اورایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا اور ان تمام میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ فروری میں ابوظہبی میں انگلینڈ کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گئے جن میں سے ایک بار پاکستان اور ایک بار انگلینڈ فتح یاب ہوا ۔ جولائی میں پاکستان انگلینڈ پہنچا اور آسٹریلیا سے دو ٹیسٹ میچوں میں سے ایک میں جیت اور ایک میں ہار اس کے حصے میں آئی ۔ جولائی میں ہی پاکستان نے ابوظہبی کے مقام پر آسٹریلیا کو دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں شکست دے کر سال کی واحدسیریز اپنے نام کی ۔ جولائی میں ایشیا کپ کے دوران بھی پاکستان کو بھارت اور سری لنکا سے شکست ہوئی تاہم اس نے بنگلہ دیش پر غلبہ پایا ۔ جولائی اور اگست میں پاکستانی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کی سر زمین پر قدم رکھا تاہم اس مرتبہ بھی اس کی جھولی میں کانٹے ہی آئے اور لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ سے متعلق الزامات نے پاکستان کو ایساداغ دار بنا دیا کہ ابھی تک یہ داغ دھل نہیں سکے ہیں۔ اس دوران پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ کھیلے لیکن اس کے حصے میں صرف ایک میں ہی فتح آئی اور مخالف ٹیم نے تین، ایک سے اسے زیر کرلیا۔ انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی نتائج ٹیسٹ سریز سے مختلف نہ تھے اور پانچ میں سے تین میں فتح انگلینڈ کے نام رہی جبکہ دو میچ پاکستان کے نام رہے ۔ اس دوران دو ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے گئے تاہم وہ بھی میزبان انگلینڈ کے نام ہی رہے۔ نومبر میں پاکستان، جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوم سیریز کھیلنے کیلئے ابوظہبی پہنچا اور دوٹیسٹ میچ کھیلے تاہم دونوں بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئے ۔ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سے دو مرتبہ پاکستان اور تین مرتبہ جنوبی افریقہ فتحیاب ہوا ۔ اس دورہ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے گئے لیکن دونوں مرتبہ فتح حریف ٹیم کے ہی حصے میں آئی ۔ 2010پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی بھرمار پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ اور طالبان کے گڑھ کہے جاتے ہیں ۔ خفیہ اداروں کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں کہ ان میں مقامی اور غیر ملکی دونوں طرح کے دہشت گرد موجود ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش کے دور سے ہی ان علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ اگرچہ پاکستان میں ان میزائل حملوں کی وجہ سے امریکا کا سب سے زیادہ امیج خراب ہوا ہے لیکن اس میں بھی کوئی رائے نہیں کہ ڈورن حملے ہی دراصل دہشت گردوں کے خلاف سب سے موثر ہتھیار ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ پاکستان کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ۔ ڈورون حملوں کے نتیجے میں اب تک درجنوں مطلوب اور نہایت خطرناک افراد / دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جن کا تعلق القاعدہ اور طالبان سے بتایا جاتا رہا ہے۔ ایشیاء ٹیررازم پورٹل کی جانب سے پاکستان کے مطبوعہ ذرائع ابلاغ کی مدد سے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ حملے ماہ ستمبر میں ہوئے جن میں 131دہشت گرد مارے گئے ۔ اکتوبر اور نومبر میں بھی باقی مہینوں کے مقابلے میں زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم مجموعی طور پر اس ایک سال کے دوران کتنے ڈورن حملے ہوئے اور ان حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر کتنے دہشت گرد مارے گئے، آیئے ذیل میں ان کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے۔ سال کے پہلے ماہ کی پہلی، تیسری، چھٹی، آٹھویں، دسویں، گیارہویں، چودہویں، پندرہویں، سترہویں، انیسویں، وبیس ویں اور تیسویں تاریخوں کو حملے ہوئے ۔ ان حملوں کی مجموعی تعداد 12 بنتی ہے۔ ان 12 حملوں میں مجموعی طور پر 72 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے فاٹاکے علاقوں شمالی و جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹرز وانا اور میرانشاہ و دیگر علاقوں پر ہوئے۔ فروری میں دو، دس، چودہ ،پندرہ، اٹھارہ اور چوبیس تاریخوں میں کل چھ میزائل حملے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 54 افراد ہلاک ہوئے۔ سال کے تیسرے ماہ آٹھ ڈورن حملے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 53 افراد ہلاک ہوئے۔ اپریل میں پانچ میزائل حملے ہوئے جن میں 28افراد ہلاک ہوئے ۔ مئی میں حملوں کی کل تعداد چار اور ان میں مرنے والوں کی تعداد 41رہی۔ جون میں پانچ حملے ہوئے۔ اس ماہ مرنے والوں کی تعداد 33رہی۔ جولائی میں تین حملوں میں 50 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح اگست میں چار، ستمبر میں 13، اکتوبر میں گیارہ، نومبر میں دس اور دسمبر کی انیس تاریخ تک چھ حملے ہوئے جن میں مرنے والوں کی تعداد بالترتیب 36، 131، 90، 93اور 79 رہی۔ سال 2010: کراچی سے پشاور تک دھماکوں اورخودکش حملوں کی بازگشت رواں سال، دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی ایسی تاریخ بن گیا ہے جس میں کراچی سے پشاور تک دھماکوں، بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ دھماکے کب کب ہوئے اور ان میں کتنے کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ پیش ہے: دس دسمبر: ضلع ہنگوکے زیر تعمیر اسپتال سے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ آٹھ دسمبر: اورکزئی ایجنسی کے تیرہ بازار میں بس اسٹینڈ پر کھڑی بس میں دھماکے سے اٹھارہ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔ چھ دسمبر: فاٹا کی مہمند ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلانئی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر جرگے میں دو خودکش بم دھماکے میں 40 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوگئے۔ تیس نومبر: خیبر پختوانخواہ کے ضلع بنوں میں میلان چوک کے قریب پولیس وین پر خودکش حملے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔ ستائیس نومبر: خیبر پختونخواہ کے درہ آدم خیل سے لکی مروت جانے والی بس پر نامعلوم افراد کا حملہ، تین مسافر ہلاک ہوگئے۔ گیارہ نومبر:کراچی میں سی آئی ڈی ہیڈ آفس میں دھماکہ خیز مواد سے بھرے ٹرک کے ذریعے دھماکا، بیس افراد ہلاک، ایک سو زخمی ہوگئے۔ پانچ نومبر:عسکریت پسندوں کی جانب سے درہ آدم خیل اور پشاور کے قریب بڈھ پیر کی مسجد پر حملوں میں بالترتیب 68، اور 65افراد ہلاک اور 70، 70 زخمی ہوگئے۔ پچیس اکتوبر: پاک پتن میں خواجہ فرید کی درگاہ پر بم دھماکا، چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی۔ سات اکتوبر: کراچی کی مشہور درگاہ عبداللہ شاہ غازی کے صدر دروازے پر دو خودکش دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے۔ بارہ ستمبر: کرم ایجنسی میں ایک گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکراگئی، کم ازکم 6 افراد ہلاک۔ نو ستمبر:کرم ایجنسی فاٹا کے گاوٴں پلاسین میں ایک گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔ سات ستمبر: خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کی پولیس کالونی میں خود کش حملے کے نتیجے میں 24افراد ہلاک جبکہ اٹھاسی زخمی ہوگئے۔ تین ستمبر: کوئٹہ میں یوم القدس کے حوالے سے منعقدہ ایک ریلی پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں 55 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ یکم ستمبر: لاہور میں ایک مذہبی جلوس میں ہونے والے بم دھماکے اور یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں 45 سے زائد افراد ہلاک اور 250 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔ تئیس اگست: جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کی ایک مسجد کے باہر ہونے والے ایک خودکش حملے میں سابق رکنِ قومی اسمبلی مولانا نور محمد سمیت 24 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہوگئے۔ اسی روز کرم ایجنسی میں کیے جانے والے ایک بم حملے میں سات افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ چار اگست: پشاور میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سربراہ صفوت غیور سمیت پانچ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ دو اگست: کراچی میں ایک حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور اگلے تین روز میں 80 سے زائد افراد مارے گئے۔ چوبیس جولائی: دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو نوشہرہ میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ دو روز بعد، یعنی 26 جولائی کو مقتول کے سوئم کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ سترہ جولائی: کرم ایجنسی سے پشاور جانے والے عام شہریوں کے قافلے پہ دہشت گردوں کے حملے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ سولہ جولائی: خیبر ایجنسی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی فروخت کیلئے لگنے والے ہفتہ وار بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ نو جولائی: مہمند ایجنسی کے علاقے یکہ غنڈ میں ایک مقامی انتظامی اہلکار کے دفتر پہ کیے جانے والے خودکش حملے میں سو سے زائد افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوگئے۔ یکم جولائی: لاہور میں واقع مشہور صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پہ دو خودکش حملے کیے گئے جن میں 42 افراد ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوگئے۔ چودہ جون: مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے حملہ کرکے سات سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا جبکہ دس دیگر کو یرغمال بنا لیا۔ نو جون: نیٹو سپلائی لے جانے والے ایک قافلے پہ اسلام آباد کے قریب حملہ کیا گیا۔ واقعے میں سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سامان سے لدے بیس سے زائد کنٹینرز کوآگ لگادی گئی۔ اکتیس مئی: لاہور کے ایک مصروف اسپتال پر دہشت گروں کے حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں نے یہ حملہ اسپتال میں زیرِ علاج اپنے ایک زخمی ساتھی کو چھڑانے کیلیے کیا تھا تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اٹھائیس مئی: دہشت گردوں نے بیک وقت لاہور کے دوعلاقوں گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں واقع احمدی مذہب کی دو عبادت گاہوں پہ حملہ کرکے سینکڑوں افراد کو یرغمال بنالیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد دونوں جگہوں کو دہشت گردوں سے خالی کرالیا گیا تاہم واقعہ میں 95 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے۔ بیس مئی: کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور فسادات میں 23 افراد مارے گئے۔ اٹھارہ مئی: ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس تھانے کے باہر کھڑی موٹرسائیکل میں نصب بم پھٹنے سے 12 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔ تئیس اپریل: شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک سیکیورٹی کانوائے پہ ہونے والے حملے میں سات سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔ انیس اپریل: کوہاٹ میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں 23 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ سولہ اپریل: کوئٹہ کے ایک اسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 35 دیگر زخمی ہوگئے۔ پانچ اپریل: لوئر دیر کے علاقے میں منعقدہ عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی پہ ہونے والے خودکش حملے میں 43 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے۔ اسی روز پشاور میں دہشت گردوں کی جانب سے امریکی قونصلیٹ پہ حملہ کیا گیا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ اکتیس مارچ: خیبر ایجنسی میں ایک حملے میں 6 پاکستانی فوجی ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوئے۔ تیرہ مارچ: ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ایک رکشہ سوار خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ واقعے میں 10 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے۔ بارہ مارچ: لاہور کے ایک مصروف علاقے میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے پہ کیے جانے والے یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں45 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں اسی شام شہر کے مختلف علاقوں میں کئی چھوٹے دھماکے بھی ہوئے تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دس مارچ: اسلام آباد میں واقع ایک عالمی امدادی ادارے کے دفتر پہ دہشت گردوں کے حملے میں غیر ملکیوں سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوئے۔ آٹھ مارچ: پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایک حساس ادارے کے دفتر پہ ہونے والے خودکش حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی شدت سے حساس ادارے کے دفتر کی عمارت زمیں بوس ہوگئی۔ پانچ مارچ: صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگو سے کرم ایجنسی جانے والے ایک سیکیورٹی قافلہ پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں 12 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے۔ اٹھارہ فروری: خیبر ایجنسی کے ایک بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ دس فروری: خیبر ایجنسی میں ایک سیکیورٹی پیٹرول ٹیم پہ ہونے والے خودکش حملے میں 13 پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی روز ایجنسی میں وادی تیرہ کے مقام پہ فوج کی ایک ٹیم پہ گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں ایک بریگیڈیئر سمیت تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ پانچ فروری: کراچی میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کیلئے جانے والے شیعہ زائرین کی بس سے ایک موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور ٹکرا گیا۔ واقعے میں 12 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں کو شہر کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کچھ ہی دیر بعد ایمرجنسی وارڈ کے باہر پارکنگ میں نصب ایک بم پھٹنے سے مزید 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ ایمرجنسی وارڈ میں نصب دوسرے بم کو بعد ازاں ناکارہ بنادیا گیا۔ تین فروری: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے ایک نواحی علاقے میں ایک اسکول میں جاری تقریب پہ اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب علاقہ میں پاکستانی فوج کے انچارج افسر تقریب میں شرکت کیلیے پہنچے تھے۔ دھماکے میں تین کم سن طالبات سمیت دس افراد جاں بحق ہوگئے جن میں کم از کم تین امریکی سیکیورٹی آفیشل بھی شامل تھے جو پاکستانی پیراملٹری دستوں کی ٹریننگ کی غرض سے علاقے میں موجود تھے۔ دھماکے میں 63 طالبات سمیت کم ازکم 70 افراد زخمی بھی ہوئے۔ یکم فروری: پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی شہہ رگ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور فسادات میں ایک ہی دن میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔ تیس جنوری: پاکستانی وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں 16 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔ چھ جنوری: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک فوجی بیرک کے باہر ہونے والے دھماکے میں تین پاکستانی فوجی ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔ یکم جنوری : سال کے پہلے ہی دن ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت کے ایک نواحی قصبے کے گراؤنڈ میں جاری والی بال کا میچ دیکھنے میں مصروف دیہاتیوں کے مجمع سے ٹکرادی۔ واقعے میں 105 افراد ہلاک ہوگئے۔ سال 2010میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات سال دوہزار دس اب تقریباً سمٹ ہی گیاہے۔ اس سال پاکستان کی کئی اہم شخصیات ہم سے بچھڑگئیں۔ ان میں ایک سابق صدر، ایک وزیر اعلیٰ، کئی سیاسی رہنما، ارکان اسمبلی،کئی ممتاز صحافی اور متعدد فلم آرٹسٹ شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی مختصر تفصیل دی گئی ہے جبکہ کچھ غیر ملکی شخصیات کا بھی تذکرہ موجود ہے: جنوری 17جنوری بھارت کے سینئر سیاستدان، کیمونسٹ رہنما اور ریاست مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو 18جنوری ممتاز صحافی اور مئوقر روزنامہ ملت کے ایڈیٹر انچیف انقلاب ماتری ، 24جنوری برطانوی سلورا سکرین اور ٹی وی اسکرین کی اداکارہ جین سیمنز پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث کیلی فورنیا میں انتقال کرگئیں 24جنوری ممتاز کالم نگار، معروف تجزیہ کار اور سابق نگراں وزیر اطلاعات ارشاد احمد حقانی فروری 2 فروری بالی ووڈ اداکار عامر خان کے والد فلمساز طاہر حسین 7 فروری عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سربرا ہ اور بزرگ سیاستدان اجمل خٹک 11 فروری سابق سوویت افواج کے خلاف افغان مجاہدین کو منظم اور مسلح کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سابق امریکی رکن کانگریس چارلس ولسن مارچ مارچ ا ردو کے ممتاز بھارتی شاعر اور ادیب، مخمور سعیدی مئی 4مئی معروف برطانوی اداکارہ لِن ریڈگریو 12ٹی وی ڈراما رائٹر ریاض الحق صدیقی 21 مئی دنیا کی پہلی اے ٹی ایم مشین ایجاد کرنے والے جان شیفلڈ بیرن 30مئی ہالی وڈ کے سینئر اداکار ڈینس ہوپر جون یکم جون 1970ء کی دہائی کے مشہور و مقبول ٹی وی پروگرام ”ڈیفرنٹ اسٹروک“ کے چائلڈ اسٹار گیری کولمین جولائی 20 جولائی متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اورسابق رکن سندھ اسمبلی عبدالقادرلاکھانی ستمبر یکم ستمبر وفاقی وزیر بلدیات عبدالرزاق تھہیم 15ستمبر گورنر گلگت بلتستان ڈاکٹر شمع خالد 16 ستمبر متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر اور سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق 24 ستمبر ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم محسن احسان 26ستمبر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر آفاق خان شاہد 26ستمبر سابق طالب علم رہنما، مزدور کسان پارٹی کے سربراہ اور بزرگ سیاستدان فتح یاب علی خان 29ستمبر سابق وفاقی وزیر دفاع راوٴ سکندر اقبال اکتوبر یکم اکتوبر ہالی ووڈ میں اپنی خوش اخلاقی کے لئے مشہور اداکار ٹونی کرٹس 15اکتوبر لالی وڈ پر طویل عرصے تک راج کرنے والی اداکارہ سلونی 14اکتوبر سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ اختر علی جی قاضی 19اکتوبر سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نومبر یکم نومبر ماضی کی معروف اداکارہ چکوری بیگم دسمبر 13 دسمبر بزرگ صحافی اورروزنامہ بزنس ریکارڈر کے بانی ایم اے زبیری 13 دسمبر معروف دانشورو صحافی میر جمیل الرحمن |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوہزار دس کے اہم ملکی و عالمی واقعات
2010 اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس سال افقِ عالم پر ظہور پذیر ہونے والے اہم واقعات کا ایک سرسری جائزہ درج ذیل ہے: جنوری سال کے پہلے دن پاکستان کے شمال مغربی ضلع لکی مروت میں ایک والی بال میچ کے دوران ہونے والے بم دھماکے میں 95 افراد ہلاک ہوگئے۔ چار جنوری کو دبئی میں تعمیر کردہ دنیا کی سب سے بڑی عمارت "برج الخلیفہ" کا افتتاح ہوا۔ 12 جنوری کو کیریبین ملک ہیٹی میں آنے والے 0ء 7 شدت کے تباہ کن زلزلے سے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد افرا دہلاک ہوگئے۔ 25 جنوری کو ایتھوپین ایئرلائنز کا طیارہ گرنے سے طیارہ میں سوار تمام 90 افراد ہلاک ہوگئے۔ فروری 12 فروری کو کینیڈا کے شہروں وینکوور اور وسلر میں 2010 کے سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا جو 28 فروری تک جاری رہے۔18 فروری کو افریقی ملک نائیجر میں ہونے والی ایک فوجی بغاوت میں ملک کے صدر تاندجا مماڈو کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 27 فروری کو لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں آنے والے 8ء 8 شدت کے زلزلے میں 497 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ زلزلہ ریکارڈ تاریخ کے چند شدید ترین زلزلوں میں سے ایک تھا۔ مارچ 23 مارچ کو جنوبی کوریائی بحریہ کا ایک جہاز ملک کے مغربی ساحل کے نزدیک ڈوب گیا۔ جہاز پر 104 افراد سوار تھے جن میں سے 46 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ بعد ازاں ہونے والی ایک انکوائری میں حادثے کا الزام شمالی کوریا پر عائد کیا گیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ اپریل کرغیزستان میں پھوٹنے والی عوامی بغاوت کے بعد کرغز صدر کرمان بیگ باقیوف 7 اپریل کو ملک سے فرار ہوگئے۔ ملک بھر میں کئی روز تک فسادات کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد ملک کی حزبِ مخالف کی جماعتوں نے عارضی انتظا م کے تحت حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ 10 اپریل کو پولینڈ کے صدر لیج کیزنسکی کا طیارہ مغربی روس کے ایک علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں پولش صدر سمیت 96 افراد ہلاک ہوئے۔ یورپی ملک آئس لینڈ میں واقع ایک آتش فشاں پہاڑ نے 14 اپریل کو راکھ اگلنا شروع کردی۔ راکھ کے بادل کئی ہفتوں تک یورپی فضاؤں پر چھائے رہے جس سے شمالی اور مغربی یورپ کیلئے فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی اور کئی بڑے یورپی ایئرپورٹ بند کردئیے گئے۔ 20 اپریل کو خلیجِ میکسیکو میں واقع ایک آئل پلیٹ فارم پہ ہونے والے دھماکے سے گیارہ کارکن ہلاک ہوگئے۔ پلیٹ فارم سے بہنے والے تیل کا رساؤ آئندہ کئی مہینوں تک نہ روکا جاسکا جس سے نہ صرف سمندری آلودگی پھیلی اور سمندری حیات کو نقصان پہنچا بلکہ امریکی انتظامیہ کو بھی عالمی برادری کی شدید تنقید برداشت کرنا پڑی۔ مئی 2 مئی کو یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی جانب سے یونان کی دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچی معیشت کیلئے 110 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دی گئی۔ پیکیج میں یونان سے داخلی مالی بحران پرقابو پانے کیلئے کئی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے جواب میں یونان کی مزدور تنظیموں کی جانب سے آئندہ کئی روز تک پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ 12 مئی کو "افریقیہ ایئر ویز" کا طیارہ لیبیا کے تریپولی ایئر پورٹ کی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار 104 میں سے 103 مسافر ہلاک ہوگئے اور صرف ایک دو سالہ بچہ محفوظ رہا۔ 22 مئی کو ایک اور فضائی حادثہ میں "ایئر انڈیا " کا ایک طیارہ بھارت کے منگلور ایئر پورٹ کے نزدیک گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں 158افراد ہلاک ہوئے۔ 31 مئی کو فلسطینی علاقے غزہ کیلئے امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے میں ترکی سے تعلق رکھنے والے 9 رضاکار ہلاک ہوگئے۔ واقعہ کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی جبکہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ جون 9 جون کو کرغیزستان کے مختلف علاقوں میں کرغز اور ازبک قومیتوں کے درمیان نسلی فسادات پھوٹ پڑے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے۔ 11 جون کو کھیلوں کے سب سے بڑے اور اہم مقابلے فٹبال ورلڈ کپ کا افتتاح ہوا۔ جنوبی افریقہ میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 11 جولائی تک جاری رہا جس میں اسپین نے فتح حاصل کی۔ جولائی 25 جولائی کو وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی جانب سے افغان جنگ سے متعلق 90 ہزار سے زائد خفیہ امریکی فوجی دستاویزات کا اجراء کیا گیا۔ جولائی کے آخری دنوں میں شروع ہونے والی مون سون کی طوفانی بارشوں سے آنے والے سیلاب نے پاکستان کے طول و عرض میں تباہی مچادی۔ سیلاب کا یہ سلسلہ آئندہ مہینے تک جاری رہا جس نے ملک کے ایک چوتھائی رقبہ اور دو کروڑ کی آبادی کو متاثر کیا۔ سیلاب سے 1600 سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ بے گھر ہوئے۔ 28 جولائی کو پاکستانی ایئر لائن "ایئر بلو" کا طیارہ دارالحکومت اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں طیارہ میں سوار تمام 152 افراد ہلاک ہوگئے۔ اگست یکم اگست کو نیدر لینڈ نے افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کیا۔ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ پورا مہینہ جاری رہا جن پر ہونے والے پولیس تشدد میں کئی درجن مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی شہ رگ کراچی میں مہینہ بھر جاری رہنے والی ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی چپقلش کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ ستمبر یکم ستمبر کو یونان بھر میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی گئی۔ پاکستان کے شہر لاہور میں ایک مذہبی جلوس پر ہونے والے 3 خودکش حملوں میں 30 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوگئے۔ 3 ستمبر کو کوئٹہ میں ایک اور مذہبی جلوس پر ہونے والے خود کش حملے میں 65 افراد ہلاک ہوئے۔ 13 ستمبر کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس کی فائرنگ سے 18 شہری ہلاک ہوگئے۔ اکتوبر چلی کی 700 میٹر گہری کان میں پھنسے 33 کان کنوں کو 69 دن بعد 13 اکتوبر کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ 23 اکتوبر کو "جی 20" کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں آئی ایم ایف کی تنظیمِ نو اور فیصلہ سازی میں ترقی پذیر ممالک کو مزید حصہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 25 اکتوبر کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں آنے والے زلزلے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سونامی سے 400 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتا ہوگئے۔ 26 اکتوبر کو انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں ایک آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے لاوے اور راکھ سے 240 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہزاروں افراد اپنا گھر بارچھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ نومبر 4 نومبر کو "ایرو کیریبین" کا طیارہ کیوبا میں گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں 68 افراد ہلاک ہوئے۔ 11، 12 نومبر کو جنوبی کوریا میں جی 20 سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ 13 نومبر کو برما کی نوبیل انعام یافتہ اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کو گیارہ سال بعد نظر بندی سے رہائی ملی۔ پرتگال کے دارالحکومت میں نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد 20 نومبر کو "اعلانِ لزبن" جاری کیا گیا جس میں تنظیم کے مقاصد اور پروگرام میں اہم تبدیلیوں پر انتفاق کیا گیا تھا۔ 22 نومبر کو کمبوڈیا کے ایک روایتی میلے میں مچنے والی بھگدڑ سے 347 افراد ہلاک ہوگئے۔ 23 نومبر کو شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ایک سرحدی جزیرے پر بمباری کردی جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ 28 نومبر کو وکی لیکس نے ڈھائی لاکھ خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کے اجراء کا آغاز کرکے عالمی سیاست میں تہلکہ مچا دیا۔ دسمبر برطانیہ میں طلبہ کی جانب سے حکومتی اقدامات اور فیسوں میں اضافے کے خلاف پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ دسمبر کے آغاز کے ساتھ ہی شدید سردی اور برف باری نے یورپ کے کئی ممالک میں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ 5 دسمبر کو کولمبیا میں سیلاب سے 174 افراد ہلاک اور پندرہ لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے۔ صوبہ سندھ: دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹتے پانچ سال گزر گئے سال دو ہزار دس پاکستان کے لئے خوش کن ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سال ملک میں مزید دہشت گردی پھیلی ۔ ملک کا جنوبی صوبہ،سندھ بھی باقی تینوں صوبوں کی طرح تقریباً سال بھر ہی دہشت گردوں سے لڑتا رہا اور اس لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ آیئے گزرتے ہوئے سال کے دوران سندھ میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے کچھ اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے۔ دو سال کے دوران دہشت گردی میں ڈھائی فیصد اضافہ سندھ میں سن 2009میں دہشت گردی کے 19چھوٹے بڑے واقعا ت ہوئے جن میں ہلاک ہونے والوں میں 49 عام شہری، چودہ عسکریت پسند اور تین سیکورٹی اہلکار شامل تھے۔ جبکہ رواں سال 19دسمبر تک 62واقعات ہوئے جن کے ہلاک شدگان میں ایک سو گیارہ عام شہری، چھبیس سیکورٹی اہلکاراور 25 عسکریت پسند یا دہشت گرد شامل ہیں۔ اس طرح دوہزار نو اور دوہزار دس کے درمیان دہشت گردی کے واقعات میں ڈھائی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ میں دہشت گردی کے واقعات : 2005 سے 2008تک ایک نظر میں سندھ میں 2005 سے 2008 تک کے دہشت گردی کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی بعد کے سالوں میں ہوئی ہے۔ دوہزار پانچ میں دہشت گردی کا صرف ایک واقعہ ہوا، دوہزار چھ میں 7، دوہزار سات میں 5، دوہزار آٹھ میں 14 واقعات ہوئے۔ مجموعی طور پر ان تمام سالوں میں 317 افراد ہلاک ہوئے جن میں عام شہری، عسکریت پسند اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔ سندھ میں دہشت گردی کا دوسرا نام :کراچی چونکہ دہشت گردی کے99فیصد واقعات سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوئے لہذا سندھ میں دہشت گردی کا دوسرا نام 'کراچی میں دہشت گردی'ہے۔ دہشت گردی سے متعلق مذکورہ بالا اعداد و شمار میں ٹارگٹ کلنگز شامل نہیں ہیں۔ اگر ٹارگٹ کلنگز کو بھی شامل کرلیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سندھ اور خاص کر کراچی میں سال بھر موت کا برہنہ کھیل جاری رہا۔ اس سال 19 دسمبر تک ٹارگٹ کلنگز، دھماکوں، قتل و غارت گری سمیت مختلف دہشت گردانہ واقعات کے ایک سوتینتس واقعات ہوئے جب کہ پچھلے سال یعنی دوہزار نو میں ان واقعات کی تعداد 45 تھی۔ فرقہ ورانہ پر تشددواقعات سندھ میں دہشت گردی عروج پر ہونے کے باوجود فرقہ ورانہ پرتشدد واقعات بھی جاری رہے۔ رواں سال ایسے واقعات کی تعداد 24 رہی جن میں 96 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اس سے پہلے سال 8فرقہ ورانہ واقعات میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔کراچی کے علاقے اورنگی ٹاوٴن میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر فرقہ ورانہ فسادات کے پہ در پہ کئی واقعات ہوئے اور صرف چار دن کے دوران ستر سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روز نامے کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے چھ اگست2010 کے دوران فرقہ ورانہ، زبان، سیاسی وابستگی اور سیاسی نظریات میں اختلافات کی بناء پر ٹارگٹ کلنگز ہوئیں جن میں 249 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گیارہ پولیس اہلکاروں کو بھی نامعلوم افراد نے اپنی گولیاں کا نشانہ بنایا۔ پاکستان میں 2010 کے دوران عبادت گاہوں پر12 خونریز حملے ہوئے پاکستان میں رواں سال جو اب تقریباً ختم ہی ہوا چاہتا ہے، دہشت گردوں کے ہاتھوں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور 15 دسمبر تک مختلف عبادت گاہوں پر مجموعی طور پر دہشت گردی کے 12 واقعات ہوئے جن میں تیس سو چھپن افراد جاں بحق اور چھ سو بارہ افراد زخمی ہوئے۔ سال کے مختلف مہینوں میں نامعلوم دہشت گردوں نے دس شہروں/ علاقوں کی9 مساجد، امام بارگاہوں/عبادت گاہوں اورتین مزارات کو نشانہ بنایا۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 15 دسمبر 2010 ء کے درمیان 12 حملوں میں اوسطاً ماہانہ 30 افراد اور یومیہ ایک شخص ہلاک ہوا۔ پہلا خود کش حملہ 18 فروری کو خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے علاقے اکاخیل کی مسجدمیں ہوا جس کے نتیجے میں 38 افراد جاں بحق اور 121 زخمی ہوئے ۔ دوسرا حملہ 28 مئی کو لاہور کے علاقے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاوٴن کی عبادت گاہوں میں ہوا۔یہ قادیانیوں کی عبادت گاہیں تھیں۔ حملے میں مجموعی طور پر 114 افراد ہلاک اور 117 زخمی ہوئے ۔گڑھی شاہو میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 84 جبکہ ماڈل ٹاوٴن میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تھی۔ یکم جولائی کو لاہور کے د اتا دربار میں تیسرا حملہ ہوا جس میں پہ در پہ دو دھماکے ہوئے ۔یہ خودکش دھماکے تھے جن میں 51 افراد ہلاک اور 121 زخمی ہوئے۔ ایک حملہ آور نے خود کو دربار کے تہہ خانہ اور دوسرے نے صحن میں زائرین کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ 14 جولائی کو دہشت گردی کا پانچواں واقعہ ہوا ۔ لنڈی کوتل کی ایک مسجد میں عین نماز کے وقت زور دار دھماکا ہوا جس سے 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔ 18 جولائی کو چھٹے واقعے میں سرگردھا کی ایک امام بارگاہ کے باہر خودکش دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ 23 اگست کو ساتویں واقعہ میں وانا کے علاقے میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے میں سابق رکن قومی اسمبلی سمیت 36 افراد جاں بحق اور 43 زخمی ہوئے۔ 26 ستمبر کو آٹھویں واقعہ میں بہاولپور کی مسجد پر حملے میں 3 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔ 7 اکتوبر کو کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر خودکش حملوں میں 17 افراد جاں بحق اور 72 زخمی ہوئے۔ یہ نواں واقعہ تھا۔ 25 اکتوبر کو دسویں واقعے میں پاکپتن میں حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار کے مشرقی دروازے پر بم پھٹنے سے 8 افراد جاں بحق 12 زخمی ہوئے۔ پانچ نومبر کو درہ آدم خیل کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران سولہ سالہ بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے 76افرادجاں بحق ا ور 82 زخمی ہوئے۔ بارہویں واقعہ میں پانچ نومبر کو ہی پشاور کے علاقے بڈھ بیر کی مسجد پر دستی بم حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں اور اس کے نتیجے میں افغانستان پر امریکا کی کاروائی کے بعد سے ایسے 65 حملوں میں اب تک 1500 پاکستانی ہلاک اور 2 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ 21 حملے خیبر پختونخواہ میں ہوئے ۔ دوسرے نمبر پر پنجاب رہا جہاں 17 حملے ہوئے۔ اس کے بعد سندھ میں 11، فاٹا میں 11، بلوچستان میں 4 اور آزادکشمیر میں ایک حملہ ہوا۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب دانی بھائ بہترین معلوماتی مضمون
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب کا شکریہ
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شیرنگ کا شکریہ دانی بھائی
سچی بات ہے ابھی مکمل پڑھا نہیں فارغ وقت میں تسلی سے پڑھتا ہوں ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا |
|
|
|
| بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان دانی (11-01-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے تو مکمل ریکارڈ پیش کردیا۔
یہ ایک بہت اچھی دستاویز ہے۔ پاک نیٹ پر اسے شیئر کرنے کا شکریہ ویل ڈن ینگ مین
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی) Visit My Blog http://www.homeopathypakistan.blogspot.com |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,204
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,053 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ اولڈ بھائی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, کمال, کراچی, گانے, ٹریفک, پولیس, پاکستان, پاکستانی, ویب, قدم, نیوز, نظر, مکمل, ملیریا, منتقل, منصوبہ, مسائل, آپریشن, آلودگی, اقوام متحدہ, انٹرنیٹ, امریکہ, بچوں, طالبان, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میل کردے ربّا 2010 | طارق راحیل | فلمی دنیا | 12 | 13-10-10 04:40 PM |
| طرحی مشاعرہ جو لائی 2010 | ام طلحہ | شعر و شاعری | 83 | 14-08-10 09:15 PM |
| ہنڈا سوک Honda Civic 2010 2010 | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 6 | 23-04-10 08:20 PM |
| اعلان نتائج مقابلہ جات مارچ 2010 | ام طلحہ | خاص آفرز اور اعلانات | 15 | 06-04-10 04:32 PM |
| اعلان نتائج مقابلہ جات فروری 2010 | ام طلحہ | خاص آفرز اور اعلانات | 32 | 09-03-10 08:32 AM |