واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 4.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 05-09-07, 09:32 PM   #1
6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!
زبیر زبیر آف لائن ہے 05-09-07, 09:32 PM
درجہ بندی: (1 votes - 4.00 average)

اس کالم کے فراہم کرنے والے : جناب مسٹر رائٹ ہیں۔


6ستمبر1965


اے نبی صلی اللہ علیہ والسلم ! مومنین کو جہاد کی ترغیب دو۔اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے۔اور تم میںسے سوآدمی ہوں گے تو ایک ہزار کفار پر غالب آئیں گے۔الانفال:
۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئیس کرار نے 6 ستمبر 1965 کے شمار ے میںجنگِ ستمبر کےآنکھوں دیکھا حال کے بعداپنی رپورٹ اس فقرے کے ساتھ شروع کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’جو قوم موت کے ساتھآنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہواُسے کون شکست دے سکتا ہے۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اُن گمنام جانبازوں کے نام جو اپنے خُون سے وطن کا نام روشن کر گئے

ایک ان پڑھ سپاہی کا خط اس کی اپنی فوجی زبان میں

سپاہی محمد اکرم

بینگن ، ٹماٹر ،شلغم
سپاہی محمد اکرم کابچپن، جوانی اور جنگ
سپاہی محمد اکرم کے بچپن کا احوال اور واقعات جو وہ دوسروں سے سنتا رہا(مختصرالفاظ میں): پاکستان بنا، کافروں نے بہت سے مسلمانوں کا قتل کیا، ہماری ماں بہن کی عزت خراب کی، ان کے بچوں کو برچھوں اور کرپانوںسے ٹوٹے ٹوٹے کیا۔ ہم کو اس ٹیم مالم تھا کہ کیہڑا دوست اوردشمن ہے، ہندو کو پاکستان پسند نہیں تھا۔
جوانی:
فوج میں فیلڈ ایمبولینس میں بھرتی، ہم ندان تھا اس ٹیم مالم نہیں تھا کہ فیلڈ ایمبولینس لڑتا نہیں ہے وہ زخمی کو اٹھاتا ہے پر ہم تو کافر کے ساتھ ہتھ ہتھ لڑنے کو تڑفتا تھا۔ہم پاکستان کے نو سال بعد بھرتی ہو اور بھرتی ہونے کے نو سال بعد سن پینسٹھ میں خدا نے ہم کو دشمن کا شکل دکھایا۔ ہم بس اس واسطے بھرتی ہوا تھا کہ دشمن کا شکل دیکھے اور مالم کرے کہ دشمن کتنابہادر اور کتنا ننھے خان ہے کہ سن سنتالیس میں ہمارے بچے کو برچھے اور کرپان سے کاٹ دیا اور ہمارا
مائی بہن کا عزت برباد کیا۔
ہم کو کپتان صاحب آرڈر دیا کہ سٹیچر اور گاڑی تیار کرلو،آگے بہت جوان زخمی ہو رہا ہے،ہم کپتان صاحب کو بول دیا کہ ہم دونوں کام کرے گا۔ زخمی کو بھی اٹھائے گا اور ساتھ ساتھ لڑے گا بھی۔ ہم کو ہتھیا دے دو پر کپتان بولا کہ تم فضول بات مت بولو۔
ہم پہلے لڑائی نہیں دیکھا تھا۔ گائوں میں کبھی کبھی لوگ آپس میں لڑتا تھا ہم تماشا دیکھتا تھا۔جس کو ایک سوٹا پڑتا تھا وہ دہائی دہائی کرتا تھا۔ پر ادھر محاذ پر ہم نے دیکھا کہ جوان کے جسم سے گولی گزر گیا یا توپ کے گولے سے جسم کا بوٹی اڑ گیا پر ہو دہائی دہائی نہیں کرتا تھا۔ہم ایک زخمی جوان کو سٹیچر پر ڈالنے لگا تو زخمی جوان بولاتم ہم کو اتنا بے غیرت سمجھتا ہے کہ میرا پلٹن لڑرہا ہے اور تم ہم کو پیچھے لے جائے گا۔ ہم بولا جوان تم کیسے لڑے گا؟ تمہارا سارے جسم سے خون نکلتا ہے وہ بولا۔ پرواہ نہیں۔ جائو۔ کسی اور کو اٹھا کر لے جائو۔ہم ادھر ہی مرے گا۔اس نے دشمن کو ماں بہن کا گالی نکالا۔ وہ بہت زخمی تھا۔ہم اس کو جبر جستی سٹیچر پر ڈالنے لگا تو اس نے ہم کو بھی گالی نکالا اور بولا کہ تم جائو۔کپتان صاحب آگیا-اس کو رپورٹ کیا۔ ہم سمجھا کہ کپتان صاحب اس کو ڈانٹ مارے گا اور آرڈر دے گا پر کپتان صاحب کا آنکھ میں اتھرو آ گیا-اور اس نے زخمی جوان کا سر اپنی چھاتی سے لگا کر بولا، دیکھو جوان ہمارے واسطے شرم کا بات ہے کہ علاج کے بغیر تم ادھر مر جائیگا ۔دشمن کیا بولے گا کہ پاکستان کے پاس کوئی ڈاکٹر نہیں ہے
ہم تم کو دو دن میں ٹھیک کر دے گا پھر ادھر آکر لڑو، پر جوان بولا صاحب ہم ہسپتا ل میں مر گیا تو خدا کو کیا جواب دے گا۔کپتان صاحب نے اس کو راضی کر لیا اور جوان بولا ہم سٹیچر پر نہیں لیٹے گا۔دشمن دیکھ لے گا تو بولے گا کہ پاکستان کا جوان زخمی ہو کر چل نہیں سکتا۔ وہ جوان اپنے قدم پر چلا پر گر پڑا ۔ہم نے اسے سٹیچر پر ڈال دیا تو وہ رو پڑا۔ہم اس کو بولا گرائیں رئو مت۔ہم زخم سے نہیں روتا ہم اس واسطے روتا ہے کہ تم ہم کو بزدل بنا دیا اور ہم کربلا کے میدان سے جارہا ہے۔ ہم بزدل بن گیا۔
ہمارا یہ پوسٹ محاذ سے پیچھے ایک گائوں میں تھا ، گائوں کے لوگ بہت بہادراور بھائی بند لوگ تھے۔تمام عورت اور تمام بچہ ادھر جمع ہو گیا اور ہم سے بولا کہ ہم کو بتائو ہم زخمی جوان کے واسطے کیا کرے۔وہ چار بالٹی دودھ گرم کرکے لایا ،بولا کہ زخمی جوان کو پلائو۔گائوں کا سب مائی بہن اور جوان لڑکی دوپٹہ ہاتھ میں لے کر دعا کرتا تھا۔پھر زخمی جوان کے سر اور منہ پر ہاتھ پھیر کر بولتا تھا، میرے ویر ہم کو کج بتائو کہ تمہارے واسطے کیا کرے۔تمہارا مائی بہن اِدھر نہیں ہے ہمارا سب زخمی جوان جوش میں آکر بولتا تھا بہن جی بس دعا کرو ہم ٹھیک ہو جاوے پھر ہم تم کو بتائے گا کہ تمہار ا وِیر اپنی بہن کی عزت کے واسطے کیا کرتا ہے۔
ہم تم کو ان بہادروں کا کہانی سناتا ہے جن کا صرف ایک ٹانگ پیچھے رہ گیا تھا۔ ان کا باقی دھڑ کدھر تھا؟ہم کو مالم نہیں تھا وہ سب اللہ پاک کے واسطے سیس(گردن کٹا دی تھی) نوا دیا تھا۔ہم نے بہادر کا ٹانگ بازو اٹھا لیا۔ہم کو مالم نہیں تھا کہ یہ ایک جوان کا تھا یہ دو جوان کا۔ ہم اُدھر دو قبر کھود کر ایک میں ٹانگ اور دوسرے میں بازو دفن کر دیا اور اوپر پورے پورے آدمی جتنا بڑا دو قبر بنا دیا۔ہم ادھر بہت دن فاتحہ پڑھا ۔وہ بہت خوش قسمت جوان تھا جو قوم کے مائی بہن کا عزت کے واسطے کربلا کے میدان میں کٹ گیا۔ہم نے ادھر بہت قبر بنا یا تھا نہ ہم کو مالم ہے نہ تم کو مالم ہے کہ وہ کون جوان تھے پر یاد رکھو اور غور کرووہ تمہار ا ہمار ا مافق کسی مائی کا لال تھے جن کو مائی نے اپنی چھاتی سے دودھ پلا کر شیر ببر بنا دیا تھاان کو اتنا فرشت(فرصت) نہیں ملا کہ مائیوں سے بتی(بتیس) دھار بخشوا لیتے۔ ان کا مائی بہن گھر میں بیٹھا انتظاری کرتا ہے کہ گھبرو بیٹا اور سوہنا وِیر چھٹی لے کر گھر آئے گا پر آج تین سال سے اوپر ہوگیا ہے سوہنا ویر چھٹی نہیں گیا۔مائی بہن کو مالم نہیں ہے کہ گھبرو بیٹا اور شیر ببر کافر کی چھاتی پر گج وج(گرج اور دھاڑ کے)باڈر کی مٹی میں مل کر مٹی ہو گیا ہے۔
چونڈہ کا محاذ بہت ظالم محاذ تھا آدمی ٹینک سے لڑ گیا۔پاک فوج کا جوان دشمن کا حملہ روک دیا پر پاک فوج کو اپنے جوان کا بہت قربانی دینا پڑی۔اُدھر ایک گائوں ہے بوتر ڈوگراں دی۔ ادھر ایک روز ہمارا یک ٹینک سکاڈرن کا بہت سارا جوان شہید اور زخمی ہو گیا وجہ یہ ہو گیا کہ دشمن کا ٹینک ہمارے ٹینک کے پیچھے آگیا۔ ٹینک کے اندر کا زخمی اور لاش دیکھنے کے واسطے بہت بڑا جگرا چاہیے۔ ایسا بات مت پوچھو بس یاد کرو کہ وہ تمہارا مائی بہن کے واسطے جل کر کولہ ہو گیا۔
اس گائوںسے دور آگئے ہم کو جانے کاآڈر مل گیا۔ادھر ہمارا ایک پلٹن جس کو ہم انفنٹری بولتا ہے کا دو کمپنی تھا۔ یہ دو کمپنی چار روز سے اُدھر لڑ رہا تھا۔ہم کو مالم ہو اکہ کہ دشمن چار روزمیں ان پر بہت حملہ کیا پر یہ دو کمپنی کا جوان مار نہیں کھایا اور دشمن کو سیالکوٹ کا راستہ نہیں دیا۔ہم نے سمجھ لیا کہ جو گولہ دشمن کی طرف سے آتا ہے وہ توپ کا گولہ ہے پر ہم نے غلط سمجھ لیا ۔وہ ٹینک کا گولہ تھا۔ہم دور سے دیکھ لیا ۔دشمن کا ٹینک آرہا تھا اور بہت گولہ پھینک رہا تھا۔بس تم غور کرو کہ آج دشمن ہمارا دو کمپنی کو رگڑ کر سیالکوٹ پہنچنے کے واسطے آیا تھا۔ہم نے سوچ لیا کہ ہمارے جوان کے پاس ٹینک نہیں ہے وہ دشمن کے ٹینک کو کیسے روک لے گا۔پیچھے سے ہمارا توپ خانہ بہت گولہ پھینک رہا تھا پر دشمن کا ٹینک مار نہیں کھار ہا تھا۔ہمار ا پیادہ(پیدل) جوان ابھی کوئی فیر نہیں کرتا تھا۔ ہم سمجھ لیا کہ ہمارا جوان ٹینک سے ڈر کر بھاگ جائے گا۔
دھواں غبار میں سے دشمن کا ٹینک نکل آیا- وہ کِھلرا(بکھرا) ہوا تھا اور بہت اچھے ڈپلائے میں تھا ہم نے گن لیا۔آگے آگےسات ٹینک تھا۔ پیچھے کا ٹھیک مالم نہیں تھا۔ ان کا سب گولہ ہمارا دو کمپنی کی پودیشن پر گرتا تھا۔ادھر ہمارے جوان نے آر آر کا گولہ مارا اور ہم نے دیکھ لیا دشمن کا ایک ٹینک پھٹ گیا۔یاد رکھو آر آر گن ہوتا ہے جو ٹینک کو گولہ مارتا ہے اور جیپ کے اوپر لگا ہوتا ہے۔وہ جیپ کو پھرتی سے دوسرا پودیشن پر لے گیا اور ایک اور گولہ مار دیا دشمن کا ایک اور ٹینک پھٹ گیا پھر اس ٹینک کا بھامڑ مچ گیا۔پھر ہم دیکھ لیا داہنے باہنے سے دشمن کا بے شمار ٹینک آگیا۔ہر طرف ٹینک ہی ٹینک تھا۔ سب کِھلرا ہوا تھا۔ ان کا بیشمار گولہ ہمارے آس پاس اور نیڑے تڑیڑے گرتا تھا اور ایسا زور سے پھٹتا تھا کہ ہمار کلیجہ منہ کے راستے باہر آ جاتا تھا۔ نیچے کا ساہ نیچے او ر اوپر کا ساہ اوپر رہ جاتا تھا۔
یاد رکھو ٹینک کو مارنے کے واسطے ایک اور ہتھیار ہوتا ہے جس کو ہم راکٹ لانچر بولتے ہیں۔راکٹ لانچر جوان کندھے پر رکھ کر فائر کرتا ہے۔اب ہماراجوان راکٹ لانچر کا بھی فیر کھول دیا- آر آر والا چار جیپ تھا۔وہ کھلے میدان میں ٹینک کے منہ کے آگے دوڑتا اور فائر کرتا۔ہمار ا جوان پودیشن بدل بدل کے فائر کرتا تھا۔ ادھر دشمن کا ٹینک اور زیادہ کِھلر گیا۔ وہ اس کوشت میںتھا کہ ہمار ا دو کمپنی کے مورچوں کو گھیرے میں لے لے۔
جدھر ہم تھا اُدھر داہنے ہاتھ ایک مورچے میں ہمارا کمپنی کا چار جوان تھا۔ان کے پاس ایک لائٹ مشین گن اور تین رفل تھا ، وہ بہت اچھا اور بہت تیز فائر کرتا تھا۔ پر اللہ دشمن کو برباد کرے ۔دو گولے ان کے پیچھے پھٹ گیا۔ اور چارو ں جوان سخت زخمی ہو گیااور مورچے میں دہرا ہو گیا۔ جدھر ہم آڑ میں تھا اُدھر ہمارے ساتھ ایمبولینس کا دو اور جوان تھا۔ ہم ان کو بولا جوانو آج دل کا ارمان نکالو۔اٹھو ،ہتھیار پکڑو۔ اللہ بیلی ، ہم تین جوان دوڑ کر مورچے تک گیا اور چار زخمی جوان کا ہتھیار لے لیا۔ ہمار ا ڈیوٹی یہ تھا کہ زخمی جوان کا خیال کرتا پر ہم اتنا جوش میں آگیا کہ پرواہ نہ کیاکہ وہ چار جوان زندہ رہے یا مر گیا ہے۔داہنے طرف دشمن کا دو ٹینک اور بہت سارا ہر ی وردی والا پیادہ جوان ایڈبنس کرتا اور پودیشن لیتاتھا۔ہم دشمن کو پہلی بار اتنا نیڑے سے دیکھا۔
ہمارا مورچے کے بالکل نیڑے دشمن کا ایک گولہ پھٹا۔ہم کو ایک کا تین تین نظر آنے لگا۔ہم کو مالم نہیں تھا کہ جو گولہ نیڑے پھٹتا ہے وہ اتنا زور سے پھٹتا ہے۔ہم کو لیس نیک نے بولا ۔جگرا قابو رکھو۔ڈرو مت۔ ہم بہت مشکل سے جگرا قابو کر لیا۔
پلٹن کا ایک جوان تیزی سے دوڑ لگا کر آیا اور ہمارے پاس نیِلنگ(kneeling گھٹنوں کے بل) ہو گیا۔ اس کے پاس ایک راکٹ لانچر تھا۔اس نے داہنے ہاتھ راکٹ فیر کر دیااور دشمن کا ٹینک داہنے سے ہم کو گھیرنے کا کوشت کر تا تھا وہ پھٹ گیاپر بڑا ظلم ہو گیا۔
یہ جوان پودیشن بدلی کرنے کے واسطے اٹھا تو ایک گولہ بہت نیڑے پھٹا۔یہ جوان گر گیا۔ہم دیکھ لیا۔ اس کا ایک ٹانگ گوڈے سے صاف کٹ کر الگ ہو گیا۔ہم ریفل پھینک کر اس کے پاس پہنچا اور اپنے جھولے(بیگ)سے پیڈ پٹی نکال اس کے کٹے ہوئے ٹانگ پر باندھ دیا۔پھر ہم اس کو بولا کہ اپنا فیلڈ پٹی دے دو۔ہم وہ بھی باندھ دیتا ہے۔پر وہ جوان بہت غصے سے بولا۔ہمارا پرواہ مت کرو ہمارا لانچراٹھائو۔اُدھر دیکھو دوسرا ٹینک آگے جاتا ہے۔اس نے اٹھنے کا کوشت کیا پر تم غور کرو جس کا ایک ٹانگ صاف کٹ جاتا ہے وہ کیسے اٹھ سکتا ہے۔ ہم نے بولا تم راکٹ کو گولی مارو ۔ہم پہلے تم کو سنبھالے گا۔ اس نے ہم کو بہت گندہ گالی دیا اور بولا کہ ہم مرتا ہے تو فکر نہیں دشمن کا ٹینک آگے نہیں جائے گا۔ہم راکٹ لانچر اٹھا لایا ۔اس میں ایک راکٹ لوڈ تھا۔زخمی جوان بولا۔تم چلائوہم اٹھ نہیں سکتا۔ہم بولا ہم نہیں چلا سکتا ہم فیلڈ ایمبولینس کا جوان ہے۔ زخمی جوان نے ہم کو اپنے پاس نیلنگ کرنے کو کہا۔وہ جوان لانچر ہمارے کندھے پر ٹھیک سے رکھ دیا اور بولا اس میں راکٹ ہے۔ابھی ٹریگر سے انگلی باہر رکھواور اس میں شست لو۔جلدی کرو گرائیں، ٹینک آگے جاتا ہے۔ہم نے دیکھ لیا ٹینک بہت دور نہیں تھا۔زخمی جوان لیٹے لیٹے لانچر کا فاصلہ ٹھیک کیا اور بولا انگلی ٹریگر پر رکھو۔پکڑ مظبوط، ٹینک کا سینٹر، شست میں دیکھو، بسم اللہ شریف پڑھو اور انگلی دبا دو، وہ جیسا بولا ہم ویسا کیاہم بڑی زور سے بسم اللہ پڑھا شریف پڑھا۔ اور انگلی دبا دیا ہم کو مالم نہیں راکٹ کدھر گیا پر زخمی جوان زور سے بولا ۔مار دیا مار دیا علی ، علی ماردیا۔پھر ہم ادھر دیکھا وہ ٹینک جس کا ہم شست لیا تھا رُک گیا پھر اس میں سے دھواں نکلاپھر ٹینک ایسے زور سے پھٹا کہ ہمارا دل گردہ ہل گیا۔ہم کو اس واسطے بہت خوشی ہوا کہ ہم اپنے ہاتھ سے سن سنتالیس کا بدلہ لے لیا۔
ہمارے پیچھے بہت شور ہوا۔ کوئی جوان زوس سے بولا۔ ٹینک آگیا۔ ٹینک آ گیا- ہم ڈر گیا کہ دشمن کا ٹینک پیچھے سے آگیا - پرمالم ہو گیا کہ وہ ہمارا ٹینک تھا۔ جو پیادہ کمپنی کا مدد کے واسطے پہنچ گیا تھا۔ہمارا ٹینک کِھلر گیا اور دشمن کا ایسا کونڈا(برا حال) کیا کہ نہ اس کا انفنٹری پلٹن رہا نہ اس کا ٹینک رہااور لڑائی ختم ہو گیا۔
ہم اس جوان کا غم تھا جس کا ٹانگ گوڈے سے صاف کٹ گیا تھا۔اس کا سار ا خون نکل گیا تو اس کا رنگ لاش کی مافق سفید ہو گیا۔ہم سمجھ لیا کہ یہ جوان شہید ہو جائے گا۔ہم اس جوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کو غور سے دیکھنے لگا ۔وہ بالکل لڑکا تھا ابھی پورا جوان نہیں ہو ا تھا۔ ابھی بہت تھوڑا مونچھ آیا تھا۔ہم نے سوچا کہ اس کے بھجنے(بھاگنے) دوڑنے کے دن تھے اس کے مائی بہن کیا سوچے گا۔ پر ہم نے سوچ لیا کہ اس لڑکے نے قوم کے واسطے سارا عمر کا کھیل قربان کر دیا۔اس کا مائی بہن افسوس نہیں کرے گا۔پر ہم نے یہ بھی سوچ لیا کہ جس قوم کے واسطے اس نے قربانی دے دیا اس قوم کو کون بتائے گاکہ اس نے قربانی دیا۔ہم نے سوچ لیا کہ اس کو کوئی اپنی لڑکی کا رشتہ نہیں دے گا۔بولے گا یہ تو لنگڑا ہے۔ کیا کام کرے گا ۔ہم کو مالم تھا۔ یہ لڑکا پڑھا ہوا نہیں ہے۔ یہ دفتر میں کیسے کام کرے گا۔اس کو کوئی چپڑاسی کی نوکری بھی نہیں دے گا۔ہم کو بہت غم ہوا۔ پر ہم نے اپنے دل کو تسلی دے لیا کہ ہمارا قوم غیرت والا ہے۔وہ اس لڑکے کو گلے لگائے گا اور بولے گا کہ اس لڑکے نے ہمارا مائی بہن کا عزت کے واسطے سارا عمر برباد کیا۔
جنگ ختم ہو گیا پر ہم فوج میں نہیں رہ سکا۔اس واسطے کے آخری روز ایک گولہ ہمارے نیڑے پھٹا جس سے ہماری ایک آنکھ کا نظر خراب ہوگیا۔ بارود اندر جانے سے ہمارا پھیپھرا بھی خراب ہوگیا۔ہم کو میڈیکل پنشن مل گیا۔
ہم اب جو کہانی سنائے گا وہ شٹوری نہیں ہے۔ شٹوری جھوٹا ہوتا ہے کہانی سولہ آنے سچا ہوتا ہے ہم گھر چلا گیا۔ہمارے دل میں اس لڑکے کا بہت خیال آتا تھا۔ ہم کو کدھر نوکری نہ ملا تو ہم سوچتا تھا کہ جس کا ٹانگ کٹ گیاتھا اس کو نوکری کدھر سے ملے گا۔
ایک سال گزر گیا ہم کو اپنے ماموں نے کراچی سے خط لکھا۔ادھر آجائو۔نوکری مل جائے گا۔ ہم کراچی چلا گیا۔دو تین روز پیچھے ہم اپنے ماموں کے ساتھ سڑک پر بس کے واسطے کھڑا تھا ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی پہیوں والا ریڑھی پر سبزی ترکاری بیچتا تھا۔وہ آدمی ریڑھی کو دھکیل کر ادھر لا رہا تھا جدھر ہم کھڑا تھا۔ پر ہم نے دیکھ لیا کہ وہ آدمی ٹھیک سے نہیں چلتا تھا۔ وہ ایک قدم ٹھیک اٹھاتا ہے پر دوسرا قدم پر اچھلتا تھا۔
جب وہ آدمی ہمارے پاس آکر کھڑا کیا تو ہم دیکھا کہ اس کا دوسرا ٹانگ نہیں تھا۔ گوڈے سے کاٹا ہوا تھا۔اس نے ریڑھی کے ساتھ نیچے کر کے لکڑی کا پھٹی(تختی) لگایا ہوا تھا اور پھٹی پر کپڑے کا گدی بنایا ہوا تھا۔ گدی پر اس نے کاٹاہوا ٹانگ کا گوڈا رکھا ہوا تھا۔ اس واسطے وہ ایک قدم اچھلتا اور اور ایک قدم چلتا تھا۔ہم اس کا کاٹا ہوا ٹانگ اور ٹانگ کو سہارا دینے کا بندوبست دیکھتا رہا۔ پر ابھی اس کا شکل نہیں دیکھا، اس نے زور سے آواز دیا۔۔۔
بینگن، ٹماٹر، شلغم۔۔۔۔ تو ہم اس کا شکل دیکھا۔تم ہمارے اللہ پر یقین کرو، ہمارے دل کو بہت زور کا چوٹ لگا۔ ہم اس کی شکل کو پہچان لیا۔ یہ وہی نوجوان تھاجس نے دشمن کے ٹینک رجمنٹ کو روکا تھا۔ ہم اگلے جہان بھی گواہی دے گا کہ اس کا ٹانگ میرے سامنے کٹ گیا تھا اور ہم اس کو پٹی باندھا تو وہ غصے میں بولا تھا کہ ہم مرتا ہے تو پرواہ نہیں ،دشمن کا ٹینک آگے نہ جائے۔
ہم اس کو ٹھیک سے پہچان لیا پر ہم نے اس کو اپنا شکل نہیں دکھایا۔ہم کو شرم آ گیا- اس واسطے کے ہم بھی کربلا کے میدان میں گیا تھا پر ٹھیک سے واپس آگیا۔ پر وہ میدان سے ٹھیک واپس نہیں آیا۔ وہ بہت بڑا قربانی دیا۔ہم کیا دیا؟ہم حیران ہوتا ہے کہ فوج کے زخمی کو لکڑی کا ٹانگ مفت ملتا ہے اس کو کیوں نہیں ملا۔پر ہم نے سو چ لیا کہ لکڑی کا ٹانگ ضرور ہی ملا ہو گا۔ یہ جوان اس کو پسند نہیں کرتا اور اس کے ساتھ اتنی دور کا پھیری نہیں لگا سکتا۔
خیر وہ اس کا مرضی ہے کہ لکڑی کا ٹانگ لگاتا ہے کہ نہیں۔پر ہم یہ سوچتا ہے کہ لوگوں کے بھرے ہوئے کراچی شہر میں صرف ہم ایک آدمی نے اس کو پہچان لیا کہ وہ قوم کا غازی ہے۔ اور کوئی آدمی اس کو نہیں پہچانتا۔
اُدھر سے کسی بچے کا زور سے آوازآیا۔ او لنگڑے سبزی والے۔ اس نے پھرتی سے ریڑھی گھمایا اور اُدھر کو ریڑھی لے گیا۔ ہم کو بہت غم ہوتا ہے کہ جس نے سیالکوٹ کے میدان میں یا علی کا نعرہ مار کر ٹانگ کٹوا لیا وہ آج بینگن ٹماٹر کا نعرہ مارتا ہے اور لوگ اس کو لنگڑا سبزی والا بولتا ہے۔ ہم کراچی والوں کو اور سارے پاکستان کو سناتا ہے کہ اگر غازی لنگڑا نہ ہوجاتا تو سارا پاکستان لنگڑا ہو جاتا۔
تم غور کرو اور ہم کو بتائو کہ تم اس کو کیوں نہیں پہچانتا؟
سپاہی محمد اکرم۔

بصد شکریہ:بدر سے باٹا پور تک از عنائت اللہ مرحوم۔
گنہگار: مسڑ رائٹ۔
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]

زبیر
Administrator
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 940
Reply With Quote
زبیر کا شکریہ ادا کیا گیا
مسکان گل (25-11-07)
پرانا 07-09-07, 02:50 PM   #2
Senior Member
 
چاند's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Lahore
عمر: 27
مراسلات: 266
کمائي: 1,163
شکریہ: 11
87 مراسلہ میں 130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب مسٹر رائٹ۔۔۔۔

آپ کا کالم پڑھ کر میں تو emotional ھو گیا ھوں۔۔۔

یہ بات بالکل ٹھیک ھے کہ ھماری قوم میں قربانی دینے کا جذبہ تو ھے لیکن قربانی دینے والے کی قدربہت کم لوگ کرتے ھیں۔۔۔۔

1965، 1971 اور کارگل کے محاز پر کئی ایسے جانباز سپاہی تھے جنہوں نے لڑتے لڑتے اپنی جان قربان کر دی اور کئی معذور ھو گئے لیکن ابھی تک جتنے فوجیوں کو نشان حیدر ملا وہ صرف میرے خیال سے 15 کے قریب ھیں۔۔۔ باقی سارے شہید وقت کی دھول میں کہیں کھو گئے یہ لڑکا جس کی ٹانگ کٹ گئی اُن میں سے کوئی ایک ھو گا۔۔۔۔

ھمیں چاہیئے کہ ایسے لوگوں کی قدر کریں اور انھیں اُس مقام پر لا کر کھڑا کریں جہاں پر دیکھ کر دنیا کو پتہ چلے کہ یہ وہ لوگ ھیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے ملک عزیز کے لئے قربانی دی اپنا نام ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔۔۔۔۔

والسلام۔۔۔۔
چاند آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے چاند کا شکریہ ادا کیا
مہک (20-07-08), مسٹر رائٹ (26-10-07)
پرانا 07-09-07, 04:30 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستانی قوم میں بھول جانے کی عادت یاں‌برائی کچھ اس طرح سے ہے کہ کچھ دن تو ہم میں جذبہ اور جوش اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے لیکن بس چند ایک ہفتوں کے بعد ہی کسی کے ذہن میں بھی نہیں‌ہوتا کہ سارے قصے کا کیا بنا۔
ہزاروں لوگوں نے 6 ستمبر کو اپنی جانوں، مال اور جسموں سے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن آج کتنے ہیں جن کو ہم یاد کرتے ہیں۔ اور کتنے ہیں جن کے گھرانوں کو عزت کی روٹی اور ہمدردی دی گئی۔ شائد چند ایک ہی ہوں گے جن کو یہ سب میسر آیا باقی سے وقت کے بے رحم ہاتھوں میں دھول میں شامل کر دیے گے۔
بس رہے نام اللہ

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-09-07, 08:20 AM   #4
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,338
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معزرت چاہتا ہوں‌میں اس پر کوئی تبصرہ پسند نہیں کرتا کیوں‌کہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-09-07, 10:35 PM   #5
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,274
کمائي: 62,450
شکریہ: 10,292
3,096 مراسلہ میں 7,444 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

1965 کی جنگ اس لئے جیتے تھے کہ اس وقت ہم ایک تھے۔1971 کی جنگ اس لئے ہارے تھے کہ اس وقت ہم لیٹ تھے۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-09-07, 01:54 PM   #6
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ لیکن بعض عناصر اس کی آڑ میں جہاد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبہ جہاد اور شہادت کو زندہ رکھا جائے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
جسے مرنا نہیں‌آتا اسے جینا نہیں آتا
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-10-07, 09:55 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 184
کمائي: 495
شکریہ: 0
23 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: 6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

وہیی قومیں زندہ رہتی ہیں جو موت سے آنکھیں ملاکرجیتی ہیں
جاوید آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-11-07, 04:27 PM   #8
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,851
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: 6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

ویسے مجھے جنگ کے بارے میں بہت سارے ایسے حقائق جانتا جو میں لکھ نہیں سکتا۔ مجھے کچھ شرم سی آجاتی ہے جو ہماری قوم نہیں جانتی۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-11-07, 07:10 PM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: 6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
ویسے مجھے جنگ کے بارے میں بہت سارے ایسے حقائق جانتا جو میں لکھ نہیں سکتا۔ مجھے کچھ شرم سی آجاتی ہے جو ہماری قوم نہیں جانتی۔
بھائی ا ھی وقت ہے کہ شرم کر قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جایے۔ اپ کو لکھنا چاہیے-

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-11-07, 09:52 PM   #10
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 11
کمائي: 295
شکریہ: 53
3 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: 6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

مسٹر رائیٹ‌بھائی۔
اسلام علیکم
بھائی آپ کی تحریر نے حقیقا رلا دیا ہے۔روح کا جھنجھوڑ‌دیا۔
آپ سچے ہیں میرے بھائی۔
آپ اسی طرح کے حقیقی واقعات بیان کرتے رہیں۔
قوم کو سوچنا چاہیے
مسکان گل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-11-07, 01:23 PM   #11
Junior Member
اجنبی
 
عمران ضياء's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 4
کمائي: 164
شکریہ: 0
3 مراسلہ میں 3 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: 6ستمبر1965 آو ملک کے دفاع کا عہد کریں!

چاند بابو کی بات بالکل درست ہے۔ اب تک صرف 15 جوان ہی نشانِ حیدر لے پاۓ ہيں جبکہ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اب تک 1500 جوانوں کو ان کی عظمت کو سلام پيش کرتے ہوۓ نشانِ حیدر سے نوازنا چاہيۓ تھا۔ آپ کا کيا خيال ہے؟
عمران ضياء آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, کراچی, کربلا, پہچان, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, لوگ, نظر, موت, ماں, آج, بچوں, جواب, خدا, دیکھو, دوست, دعا, روزہ, راستہ, عہد, عورت, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
1965 کی جنگ فتح یا شکست عبداللہ حیدر تاریخ پاکستان 39 06-11-10 01:38 AM
1965 جنگ کی تصاویر ابن جلال 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان 11 06-09-10 08:44 PM
6ستمبر۔۔۔۔ یوم دفاع اور ہماری ذمہ داریاں راجہ اکرام 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان 14 06-09-10 08:39 PM
1965 کی جنگ کے 18 پاکستانی فوجی افسران آج بھی بھارتی جیلوں میں آزادی کے منتظر! عدنان دانی عمومی بحث 0 17-12-09 11:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger