واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


Aliya Shamimکیا عورت کو اس کے حقوق مل گئے؟؟؟؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-04-11, 02:24 PM   #1
Aliya Shamimکیا عورت کو اس کے حقوق مل گئے؟؟؟؟؟؟
umalbaneen umalbaneen آف لائن ہے 04-04-11, 02:24 PM

کیا عورت کو اس کے حقوق مل گئے؟؟؟؟؟؟

میں ایک عورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ہزاروں لاکھوں کروڑوں عورتوں‌جیسی..... جسہے میں سانس لے رہی ہوں وہ معاشرہ موجودہ معاشرہ ہے

۔۔۔۔ جدت یافتہ ، ترقی پذیر معاشرہ۔۔۔۔ جہاں عورت اور مرد کو برابری کی بنیاد پر بغیر کسی تفریق کے اعلٰی عہدے،ملازمتیں دی گئی ہیں ،صنفی تفریق کا خاتمہ وقت کی ضرورت سمجھا گیا۔۔۔۔۔"مرد حاکم عورت محکوم"کی تفریق کی اصطلاحات کو ختم کر کے
عورت کو آزادانہ روش اختیار کرنے کی ترغیب دلا کر اسے چراغ خانہ سے چراغ محفل بنایا جا چکا ہے--
اس معاشرے میں جبکہ زندگی کے تمام شعبوں میں بغیر کسی امتیاز کے عورت کو تمام حقوق حتٰی کہ وراثت میں بھی اللہ کے
قانون کو پس پشت ڈال کر برابر کا حصہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے
۔۔۔۔۔آج حقوق نسواں کے عالمی دن پر میں سوچ رہی ہوں کہ کیا عورت کو اس کا حق مل گیا..

۔۔۔۔۔؟ کاروکاری کے نام پر عورت پر ظلم ختم ہو گیا۔۔۔۔۔

ملازمت سے واپس آکر عورت نے خانہ داری گھرداری و بچوں کی ذمہ داری کی وجہ سے کہیں اپنے اوپر دہرا تہرا بوجھ تو نہیں ڈال دیا ۔۔۔۔؟؟
گھریلو تشدد،عزت کے نام پر قتل،تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات۔۔۔۔۔؟ عورت کی نسوانی حیا اور وقار کی توہین و تذلیل ۔۔۔۔۔۔۔قرآن سے شادی کے نام پر وراثت سے محرومی۔۔۔۔۔عزت نفس کی پامالی .... جگہ جگہ مختلف اشتہارات کے ذریعے عورت کی رسوائی۔۔۔۔۔۔ناکافی لباس و انداز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آج کی عورت کو حقوق نسواں‌کے نام نہاد علمبرداروں نے تحفظ فراہم کر دیا؟؟؟؟؟

ًمغربی تہذیب کا یہ فلسفہ کہ "عورت کو گھر سے نکالو،آدھی آبادی گھر میں بیکار پڑی ہے" اہل مغرب کی شاطرانہ پالیسی ہے -عورت کے حقوق کا ورد کرنے والے کشمیر و فلسطین کی تڑپتی بلکتی عورتوں سے نا واقف ہیں
غزہ میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی 400 خواتین اور 200 معصوم بچے ان کے دلوں کو نہیں‌جھنجھوڑ سکے، فا ٹآ اور سوات کی مظلوم اور اپنے ہی وطن میں مہاجر ہونے والی عورت پر مہر بلب ہیں ہر 15 سیکنڈ میں ایک عورت تشدد کا شکار ہوتی ہے
-(Un study 2000)
ہر 2 منٹ کے بعد امریکا میں عورت جنسی حملہ کا شکار ہوتی ہے ---ہر چار میں سے 3 خاندانوں کے جو افراد تشدد کا شکار ہیں وہ عورتیں ہیں -- (جون 2005ء) -- یورپیں خواتین کی 16 سے 44 سال کی عمر میں موت اور معذوری کی سب سے بڑی وجہ گھریلو تشدد ہے
(ایمنسٹی انٹرنیشنل
1999ء اور 2002ءمیں لگائے گئے تخمینے کے مطابق روس میں 14000 عورتیں اپنے شوہر یا رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل کی گئیں -- کینیا 42 فیصد عورتیں مسلسل ماری جاتی ہیں
آج بھی لا پتہ افراد اور آپریشن کے نتیجے میں تباہ و برباد ہونے والی معصوم و بے بس عورتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لال مسجد کی زندہ در گور ہو جانے والی معصوم طالبات
--
اپنوں کے ہاتھوں غیروں کے سپرد کی جانے والی امریکا کے مظالم کا شکار ڈاکٹر عافیہ اپنے اوپر ہونے والی بربریت پر نوحہ کناں ہے ۔۔۔۔۔آج کی عورت اپنے حقوق کی آواز بلند کر رہی ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس نے اسلام کی پناہ گاہ کو جھٹک کر اپنے آپ کو ذلیل اور ارزاں کر لیا ہے -تہذیبوں کی کشمکش نے اس کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے

جہان ایک طرف جدید تہذیب آندھی طوفان کی طرح اس سے نسوانیت کا غرور،حیا کا چلن، ماں کی ممتا چھین لینے کے درپے ہے تو دوسری جانب اسلام سے دوری نے اس کو مساوی حقوق کے پھیر میں الجھا کر اس کے اپنے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا ہے۔۔ مغرب نے عورت کا استحصال کرتے ہوئے ،گھر کی چار دیواری سے محروم کرتے ہوئے ،مرد کا دل لبھانے کا ذریعہ بناتے ہوئے اس کی حیا کی چادر کو تار تار کر دیا ہے
جبکہ محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرے میں عورت کو بحیثیت ماں ،بہن ،بیوی، بیٹی کے بلند ترین مرتبے وعزت سے نوازا ۔۔ دینِ اسلام نے عورت کو عظمت و تحفظ کے بے مثال نظام سے نوازا

ماں کی نافرمانی کو حرام اور بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیا تو نیک بیوی کو بہترین متاع کہا ۔۔اور یہ بھی کہ عورتیں نازک آبگینے ہیں انھیں ٹھیس بھی نہ لگنے دو ۔۔عورت صرف مرد کی خوشنودی کے لئے نہیں بنائی گئی بلکہ اس کی زندگی کا مقصد بھی اللہ کی اطاعت اور رضا جوئی ہے۔۔ آج جبکہ ہمارا معاشرہ ہندوازم ومغرمیت کا ملغوبہ بنتا جا رھا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت قرآن و حدیث سے مکمل رہنمائی لے کر اپنے نسوانی پندار و حیا کی خاطر اسلامی قوانین کی پاسداری کرے جس میں عورت کے تقدس کی بحالی ہے---

umalbaneen
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 6
شکریہ: 1
4 مراسلہ میں 16 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 183
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے umalbaneen کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), فاروق سرورخان (04-04-11), نورالدین (05-04-11), موجو (05-04-11), مرزا عامر (04-04-11), احمد نذیر (04-04-11), احمد بلال (05-04-11), سحر (04-04-11), عبداللہ آدم (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 04:04 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,013
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الســـلامُ علیــکم

اگرحقوق نسواں پر نظر ڈالیں ہیں تومعلوم ہو گا کہ جو عورت عالم گیتی پر جانوروں، بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بے وقعت ومظلوم تھی، اس کو اسلام نے ذلت ونکبت سے اٹھاکرنہ صرف بلندی وعظمت کے تخت پر بٹھایابلکہ اسے تمام حقوق عطا کئے جس کا تصور بھی اسلام سے پہلے ناممکن تھا۔ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا، دیگرمذہبوں کے برعکس اسے ذاتی جائداد ومال رکھنے کا حق عطا کیا، شوہر سے ناچاقی کی صورت میں خلع کی صورت دکھلائی، وراثت میں اس کا حصہ مقرر کرایا، اسے معاشرہ کی قابل احترام ہستی قرار دیا اور اس کے تمام جائز قانونی حقوق کی نشان دہی کی، حاصل یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جس قدر حقوق دیئے ہیں، خواہ اس کا تعلق ذاتی جائداد وراثت سے ہو یا شادی یا طلاق کا مسئلہ ہو، اِسلام نے عورت کے حقوق مقررکر رکھے ہیں۔ The Eupensin of Islam میں کیش کہتے ہیں کہ "اسلام نے عورتوں کو پہلی بار انسانی حقوق دئے اور انہیں طلاق کا حق دیا"۔۔ الغرض عورت کوہرطرح کا حق دیا گیا۔

معاشرہ ہندوازم ومغرمیت کا ملغوبہ بنتا جا رھا ہے، نہیں بلکہ بن چُکا ہے۔ عورت (Not all) قرآن و حدیث سے مکمل رہنمائی لے کر اپنے نسوانی پنداروحیا کی خاطر اسلامی قوانین کی پاسداری کیا کرے وہ توخود اس قانون کیخلاف جاکرمغربیت کی پاسداری کرنے اورموڈرنزم ہونے کا بھرم رکھ رہی ہیں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
موجو (05-04-11), عبداللہ آدم (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 04:25 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زارا
اگر عورت خود مغرب سے متاثر ہے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے ۔
ہمارے یہاں کئی سو سالوں سے مسلمان عورت پر مسجد میں جانے پر پابندی اور قرآن کو سمجھ کر پڑھنے پر پابندی عائد کی گئی ہوئی ہے
جب عورت کو اسلام کے بارے میں علم ہی نہیں ہوگا تو اس سے متاثر کیسے ہوگی اور اس کو معلوم ہی کیسے ہوگا
کہ عورت کے فرائض اور حقوق کیا ہیں ۔
جب اسلام اور عورت کی بات کی جاتی ہے تو بات پردہ سے شروع ہوتی ہے اور پردہ پر ہی ختم ہوجاتی ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ اسلام نے عورت کے لیے پردہ کا حکم دیا اور کوئی بات عورت کے متعلق کی ہی نہیں ۔
۔

اپنے معاشرے کی بات صرف اتنی کہوں گی
کہ عورت کے مساجد میں نا جانے کے سیکڑوں فتوے حاضر ہونگے۔ حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواتین مسجد جایا کرتی تھیں ۔
لیکن انہی خواتین کو بازاروں میں جانے کی اجازت بھی ہے بلکہ شاپنگ کرنا گھر کی خواتین کا ہی کام سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ
بازار میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بھی بلا وجہ جانے کو منع فرمایا ہے ۔

مسجد میں مرد ہفتے میں ایک بار تو خطبے کی شکل میں‌اسلام کے بارے میں کچھ معلومات حآصل کرلیتے ہیں ۔
لیکن خواتین کو جتنا اسلام سے دور رکھ سکیں رکھتے ہیں ۔

ہمارے معاشرہ کے تو رنگ ہی نرالے ہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
موجو (05-04-11), منتظمین (04-04-11), احمد بلال (05-04-11), عبداللہ آدم (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 05:07 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,013
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکی بات سے اختلاف ہرگز نہ کروں گی۔ لیکن کچھ باتوں کی وضاحت ضرورکروں گی۔ عورت کی مغرب سے متاثرہونے مجھے ایک ہی وجہ نظرآتی ہیں اوروہ ہے، دین سے دُوری اسکے علاوہ اورکوئی وجہ نہیں۔


آپ نے کہا کہ ہمارے یہاں کئی سو سالوں سے مسلمان عورت پر مسجد میں جانے پر پابندی اور قرآن کو سمجھ کر پڑھنے پر پابندی عائد کی گئی ہوئی ہے
جب عورت کو اسلام کے بارے میں علم ہی نہیں ہوگا تو اس سے متاثر کیسے ہوگی اور اس کو معلوم ہی کیسے ہوگا کہ عورت کے فرائض اور حقوق کیا ہیں۔

اسلام سے متاثرہونے کیلئے یا اسکو جاننے کیلئے کیامساجد میں جانا ضروری ہے؟ ہمارے ہاں 100 فیصد میں سے 30/25 فیصد لڑکیاں مساجد میں قرآن پاک پڑھتی ہیں اوراس میں لوئرتا مڈل طبقہ ہوتا ہے نہ کہ ہائر جبکہ باقی کے تناسب گھروں میں جس میں ذیادہ ہائرطبقہ شامل ہے، آس پاس قرآن کی تعلیم کیلئے جاتی ہیں۔

آپکی دُوسری بات ایسا لگتا ہے کہ اسلام نے عورت کے لیے پردہ کا حکم دیا اور کوئی بات عورت کے متعلق کی ہی نہیں

سحرسسٹرعورت (ہاوس وائف/ورکنگ دونوں) باحیثیت بیٹی، ماں، بیوی، بہوالغرض ہررِشتے کوبہ احسن نبھا رہی ہے(نبھانے خواہ وجہ کوئی بھی ہو)جیسا کہ اسلام میں کہا گیا ہے اورجیسا نبھانے کا حق ہے لیکن جب پردے کی بات کریں تو یہاں اکثرخواتین اسلام کیساتھ ساتھ اپنی تہذیب کویکسراً بھلاکر یا نظراندازکرکے بے پردگی کی مرتکب ہوتی ہیں جبکہ سورۃ النور میں اللہ نے بڑی وضاحت کیساتھ ایک ایک چیز کو بیان کر دیا ہے، ”وقل للموٴمنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولایبدین زینتھن الاماظھر منھاولیضربن بخمرھن علیٰ جیوبھن ولایبدین زینتھن۔“
ترجمہ۔”اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘ مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ ہونے دیں“
۔۔ جب قرآن میں ایک ایک بات کووضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے توعورتوں کو مساجد میں یا کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے؟

آپکی تیسری بات کہ مسجد میں مرد ہفتے میں ایک بار تو خطبے کی شکل میں‌اسلام کے بارے میں کچھ معلومات حآصل کرلیتے ہیں ۔
لیکن خواتین کو جتنا اسلام سے دور رکھ سکیں رکھتے ہیں۔

سحرسسٹرآج کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں عورتوں کیلئے اسلامی مجلس کا اہتمام نہ کیا گیا ہو۔ بلکہ اکثرجگہوں میں مردوں کیساتھ پردہ ڈال کر عورتوں کا اہتمام بھی وہیں کر دیا جاتا ہے درس کیلئے۔ عورتیں جانے والی تو بنیں اورجاکرعمل تو کریں۔

آپ نے بجا فرمایا کہ ہمارے معاشرہ کے تو رنگ ہی نرالے ہیں اوراس رنگ میں اکثریت عورتوں کی ہے جو اس میں رنگ چُکی ہیں اورافسوس کیساتھ کہ زبردستی نہیں بلکہ اپنی مرضی سے۔ کبھی آپ نے سُنا کہ ماڈرن لڑکی کی آبروریزی کی ہو؟ نہیں نہ؟ کیونکہ وہ خود چلتی پھرتی دعوت کا اشتہار ہوتی ہیں اورافسوس کا مقام کہ جہنم میں ایسی عورتوں کی تعداد ذیادہ ہوگی۔

میرے خیال سے اگرایک عورت روزقرآن کو بمعہ ترجمہ پڑھے تو خود جان جائے کہ ہم نے کتنا سیکھااوروہ سیکھا جو کوئی نہ سیکھا پایاپھربہانہ نہ کرے گی کہ ہمیں آزادی نہیں دی گی بلکہ ہر بات عیاں ہو جائے گی۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
سحر (04-04-11), عبداللہ آدم (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 05:23 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زارا
آپ میری بات کا مطلب نہیں سمجھی ہیں ۔
میں ما نتی ہون آجکل بہت جگہوں پر خواتین کے درس کا اہتمام ہوتا ہے ۔
لیکن عمومی طور پر خواتین کے لیے ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسلام کی تعلیم حاصل کریں ۔
آپ کو حیرت ہوگی
خود میرے خاندان میں مجھے پردے اور اسلام کے متعلق بات کرنے پر کتنی باتیں سننی پڑی ہیں ۔
مردوں میں صرف میرے شوہر نے میرا ساتھ دیا اور کسی نے بھی نہیں
یہاں تک سننے کو ملا کہ اسلام کے بارے میں معلومات ہو کر خواتین من مانی کرنے لگتی ہیں ۔
کیونکہ اسلام نے والدین کی اور شوہر کی غیر شرعی باتیں ماننے کو منع فرمایا ہے ۔
اور کتنی ہی غیر شرعی باتیں ہمارے خاندان میں رائج ہیں ۔
اور میں آپ کی اس بات سے اختلاف کروں گی کہ گھروں میں خواتین بحیثیت ، ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی اسلام کے مطابق زندگی گزار رہی ہیں ۔
وہ صرف اپنے معاشرے کے متعلق زندگی گزار رہی ہیں /
اگر شوہر اجازت دے تو دیور سے ہاتھ ملانا بھی جائز ہے
اگر والدین کو اعتراض نہیں تو منگیتر کے ساتھ گھومنا جائز ہے ۔ اور بھی بہت کچھ ہے ہمارے معاشرے میں ۔ اور ہمارے گھروں میں خلاف اسلام کام ہوتے ہیں ۔
اور جب عورت یہ کہے کہ یہ خلاف اسلام ہے تو اس کو حجت باز اور کئی نام دیے جاتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (04-04-11), عبداللہ آدم (05-04-11)
پرانا 04-04-11, 05:37 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,504
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
زارا

کیونکہ اسلام نے والدین کی اور شوہر کی غیر شرعی باتیں ماننے کو منع فرمایا ہے ۔
اور کتنی ہی غیر شرعی باتیں ہمارے خاندان میں رائج ہیں ۔
اور میں آپ کی اس بات سے اختلاف کروں گی کہ گھروں میں خواتین بحیثیت ، ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی اسلام کے مطابق زندگی گزار رہی ہیں ۔
وہ صرف اپنے معاشرے کے متعلق زندگی گزار رہی ہیں /
اگر شوہر اجازت دے تو دیور سے ہاتھ ملانا بھی جائز ہے
اگر والدین کو اعتراض نہیں تو منگیتر کے ساتھ گھومنا جائز ہے ۔ اور بھی بہت کچھ ہے ہمارے معاشرے میں ۔ اور ہمارے گھروں میں خلاف اسلام کام ہوتے ہیں ۔
اور جب عورت یہ کہے کہ یہ خلاف اسلام ہے تو اس کو حجت باز اور کئی نام دیے جاتے ہیں ۔
بالکل درست کہا۔۔۔ میں کہتی ہوں اگر آپ خود دین پہ عمل نہیں کرنا چاہتے تو دوسرے کو دین پہ عمل کرنے سے روکنا نہیں چاہیے۔۔۔بس اللہ ھدایت دے آمین۔۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 04-04-11, 05:38 PM   #7
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,013
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اور میں آپ کی اس بات سے اختلاف کروں گی کہ گھروں میں خواتین بحیثیت ، ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی اسلام کے مطابق زندگی گزار رہی ہیں ۔
وہ صرف اپنے معاشرے کے متعلق زندگی گزار رہی ہیں /
اگر شوہر اجازت دے تو دیور سے ہاتھ ملانا بھی جائز ہے
اگر والدین کو اعتراض نہیں تو منگیتر کے ساتھ گھومنا جائز ہے ۔ اور بھی بہت کچھ ہے ہمارے معاشرے میں ۔ اور ہمارے گھروں میں خلاف اسلام کام ہوتے ہیں ۔
اور جب عورت یہ کہے کہ یہ خلاف اسلام ہے تو اس کو حجت باز اور کئی نام دیے جاتے ہیں ۔
میں نے تبھی بریکٹ میں لکھا ہے "وجہ کوئی بھی ہو" یعنی اِسلامی یا معاشرتی، لیکن فرض کی ادائیگی ہو رہی ہے۔ ضروری نہیں وہ زندگی اُس طرح گزار رہی ہوں جیسی گزارنا چاہتی ہیں۔

اگرپردے کی بات کریں تو آج سے 2 سال پہلے مجھے ایک سپیچ دینی تھی جسکے مہمان خصوصی پرویزمشرف تھے۔ لاہور میں لڑکیوں میں صرف میں ہی تھی اورI was in Obaya۔ ہمارے کالج کے چیئرمین کافی نمازی انسان تھے اورمجھے سیلیکٹ کرنے کے بعد کہا کہ آپ عبائے میں سپیچ مت کیجئے گا کیونکہ وہاں میڈیا ہوگا تھوڑا ساگلیمرہونا چاہئے۔ میری امی نے کہا کہ یہ کس کتاب میں لکھا ہے کہ جہاں میڈیا ہووہاں پردہ نہ ہو۔ امی نے منع کردیاکہ میری بیٹی کوئی سپیچ نہیں دے گی بغیرعبائے کے، البتہ نقاب نہ کرنے کا اختیاراسکو ہے۔ لیکن اُنہوں نے معذرت کرکے کہا نہیں آپ جیسے مرضی سپیچ دیں۔ وہاں 2 لڑکیاں اُردواَدب کی اورایک اسلامیات کی اسلام آباد سے تھیں اوریقین مانئے اُنکی ڈریسنگ ایسی تھیں جیسے وہ کوئی ماڈل ہو۔ لیکن پرویزمشرف کا وہ جملہ آج تک یاد ہے جواُس نے سب کے سامنے کہا، "اگرلڑکی کی جاب کی بات کی جائے،جاب کیلئے پہلے قابلیت دیکھی جاتی تھی لیکن اب ہم لوگ دیکھتے ہیں کہ اُسکا ڈریس کتنا ہے۔ اوراگروہ تمبو میں ہے تو قابلیت کوبھاڑمیں جانے دوبمعہ لڑکی"۔

اِنسان معاشرتی حیوان ہے لیکن یہ محاورہ لڑکیوں کیلئے بنا ہے کہنا غلط نہ ہوگاکیونکہ معاشرے میں خود کو ایڈجسٹ کرنے اورکہیں رِشتوں کو خوش کرنے کیلئے وہ خود کو قربان کر رہی ہے اوراُس کے دامن میں پھرکیا رہ جائے گا ہم جانتے ہیں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (06-04-11)
پرانا 05-04-11, 12:12 AM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,919
شکریہ: 23,988
4,984 مراسلہ میں 14,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اور زاویہ نظر بھی ملاحظہ ہو::

مکی کے بلاگ سے::

کہتے ہیں کہ عورت آدھا معاشرہ ہوتی ہے لیکن میرے خیال میں یہ آدھی حقیقت ہے!!

کچھ معاشروں میں آج کے دور میں بھی عورت کی ” پیکنگ ” کا کام بڑی شد ومد سے جاری وساری ہے اور اس کام کو جاری رکھنے کا مطالبہ کرنے والے ہر پتھر کے نیچے بیٹھے نظر آتے ہیں، انہیں عورت میں صرف ایک ” گھریلو مخلوق ” ہی نظر آتی ہے جس کا کام محض یہ ہے کہ وہ احکامات بجا لائے اور مرد کی روز بروز بڑھتی ہوئی خواہشات پوری کرے، وہ اس کی ” انسانی قدر ” کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں زندگی کی تمام خوبصورتی، محبت، قربانی اور بے پناہ طاقت پنہاں ہے.

ایسی فکر کے لوگوں کا مقصد عورت کو ایک ایسی ” پراڈکٹ ” بنانا ہے جو ان کی تمام خواہشات پر پوری اتر سکے چاہے اس کی قیمت اس کا وہ معصوم بچپن ہی کیوں نہ ہو جسے رونگھٹے کھڑی کرنے والی ” شادی ” کا نام دے کر اپنی بے لگام جنسی خواہشات کو ایک مقدس حیثیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے، ان کی لغت میں محبت، مساوات، اعتماد اور اتحاد جیسے الفاظ ہی نہیں ہیں جو شادی جیسے مقدس تعلق کے ذریعے ایک مرد کے دل کو ایک عورت کے دل سے جوڑتے ہیں، اے کاش کہ یہ لوگ سمجھ سکتے، مگر نہیں.. ان سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی، ان کے دل ودماغ پر ایسے قفل پڑے ہیں جن کی چابی شاید کبھی بنائی ہی نہیں گئی تھی.

عورت کے خطرے کا ڈر ہی انہیں ہر روز نئے نئے قوانین ایجاد کرنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ وہ خود کو اس کے ” مکر ” سے بچا سکیں، یہ ان کی اندرونی خرابی کی دلیل ہے، جو کچھ انسان کے اندر ہوتا ہے وہ اسی کے تناظر میں ہی دوسروں کو دیکھتا ہے، چنانچہ ان کے اندر کی بدنمائی نے عورت کی خوبصورتی کو ” عورہ ” قرار دے کر اسے بدنما کردیا جبکہ اصل ” عورہ ” ان کے مریض دماغوں اور زنگ آلود دلوں میں ہے.

جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے ” آفت ” بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ نہیں.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (06-04-11)
جواب

Tags
کوشش, مکمل, موت, موجودہ, ماں, مسجد, معاشرہ, آپریشن, آبادی, اللہ, اسلام, اسلامی, بہترین, بچوں, حدیث, خواتین, زندگی, سال, عورت, عورت،موجودہ معاشرہ ،حاکم, عافیہ, عرب, عظمت, غزہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دینی خدمت کا صلہ ؟؟؟؟؟؟ احمدنواز سیاست 8 22-10-10 03:32 PM
میں اور چالاک؟؟؟؟؟؟ مسٹر رائٹ گپ شپ 8 21-10-10 07:57 PM
دلربا کو کون کون یاد کرتا ہے ؟؟؟؟؟؟ ابن جلال گپ شپ 31 26-10-08 10:56 PM
ہائے اللہ میرے دستخط ؟؟؟؟؟؟ قیصرجی تجاویز اور شکایات 2 20-10-08 11:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger