واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


Haarp پر ایک تفصیلی رپورٹ روحانی بابا کے روحانی قلم سے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-09-10, 07:54 PM   #1
Haarp پر ایک تفصیلی رپورٹ روحانی بابا کے روحانی قلم سے
روحانی بابا روحانی بابا آف لائن ہے 09-09-10, 07:54 PM

سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے ہے کہ Haarp ہے کیا چیز؟؟؟؟
امریکہ میں 1993سے اس کی ریاست الاسکا میں ایک پروگرام ام HAARP کے نام سے چل رہا ہے اور اس پروگرام کو امریکہ کی ریاست الاسکا میں لانچ کیا گیا ہے اور تقریباً 30 ایکڑ زمین اس کو الاٹ کی گٰی ہے یہ جدید ترین ٹیکنالوجی ہے جس میں وہ Technology Latest Weather Modificationپرعمل کررہا ہے اور اس پر اس نے عبور بھی حاصل کرلیا ہے اور اس پروگرام کا نام ہے High Frequency Active Auroral Research Program الاسکا میں جدھر اسکا پروگرام چل رہا ہے ادھر Antennas کا جال بچھا دیا گیا ہے اور ELF یعنی Extremely Low Frequency لہریں ان Antennas کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے اور یہ Wavesخلا میں بھیجی جاتی ہیں اور خلا کی سب سے جو Outer Sphere جس کو Ionosphere کہتے ہیں اس سے یہ Waves ایک خاص فرینکوینسی کے ساتھ ٹکراتی ہیں اور پھر بہت زیادہ طاقتور ہوکر دوبارہ زمین کی طرف پلٹ کر آتی ہیں لیکن جب یہ پلٹ کر واپش آتی ہیں تو ان کو کنٹرول کرکے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یعنی قدرتی طور پر جو موسم چل رہا ہے اس کو تبدیل کرنا اور اس کی تفصیل اتنی خوفناک ہے کہ انسان خوفزدہ ہوجاتا ہے یعنی کسی بھی ملک میں درجہ حرارت کو زیادہ کردینا زلزلے پیدا کرنا اور اتنی بارشیں کروانا کہ سیلاب آجاٗےاور جنگلات میں آگ لگادینا۔
22 ستمبر 1940ء میں امریکی سائنسدان نیکولاٹیسلا نے نیویارک ٹایمز میں ایک تھیوری پیش کیجس کا خلاصہ یہ ہے کہ موسم میں ایسے تغیرات لا ئے جا سکتے ہیں جو بارش برسا سکتے ہیں اور زلزلہ لاسکتے ہیں یا کسی جہاز کے انجن کو کسی خاص جگہ سے 250 کلومیٹر پہلے ہی ایک چھوٹی سی شعاع سے پگھلا یا جاسکتاہے، کسی خاص ملک خطہ یا علاقے کے گرد شعاعوں کا دیوار چین جیسا حصار قائم کیا جاسکتا ہے مگر معروف امریکی سائنسدانوں نے اس نظریہ کو یہ کہہ کر مشہور نہیں ہونے دیا کہ اُن کے نظریہ کو قبول کرلیا جائے تو کرئہ ارض کو توڑ دے گامگر امریکی حکومت نے اُن کے نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پینٹاگون کو ذمہ داری سونپی۔
پینٹاگون نے HAARP) High Frequency Active Auroral Research Program) پر کام شروع کیا اورا لاسکا سے 200 میل دور ایک انتہائی طاقتور ٹرانسمیٹر نصب کیا۔ 23 ایکڑ پلاٹ پر 180 ٹاورز پر 72میٹر لمبے انٹینا لگایے کئے جسکے ذریعہ تین بلین واٹ کی طاقت کی Electromagnetic wave) 2.5-10) میگا ہرٹز کی فریکوئنسی سے چھوڑی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکن اسٹار وارز، میزائل ڈیفنس اسکیم اور موسم میں اصلاح اور انسان کے ذہن کو قابو کرنے کے پروگراموں پر عملدرآمد کررہی ہے موسمی تغیرات پیدا کرنے کے لئے ایک کم مگر طے شدہ کرئہ ارض کے فضائی تہوں میں کہیں بھی جہاں موسمی تغیر لانا ہو سے وہ الاسکا کے اس اسٹیشن سے ڈالی جاسکتی ہے جو کئی سو میلوں کی قطر میں موسمی اصلاح کرسکتی ہے۔ HARRP کا Patentیعنی کاپی رایٹ نمبر 4,686,605 ہے، ساینسدان اس کوجلتی ہوئی شعاعی بندوق کہتے ہیں۔
اِس Patent کے مطابق یہ ایسا طریقہ اور Instrument ہے جو کرئہ ارض کے کسی Zone میں Weather Alternation پید اکردے اور ایسے جدید میزائل اور جہازوں کو روک دے یا اُن کا راستہ بدل دے، کسی ملک کے Satellite System میں مداخلت کرے یاریڈار سسٹم کو جام کردے یا اپنا نظام مسلط کردے۔ دوسروں کے انٹیلی جنس سگنل کو قابو میں کرے اور میزائل یا ایئر کرافٹ کو تباہ کردے۔ راستہ موڑ دے یا اس کو غیر موثر کردے یا کسی جہاز کو اونچائی پر لے جائے یا نیچے لے آئے۔ اس کا طریقہ پنٹنٹ(دنیا میں جو ایجادات ہوتی ہیں اس کو اپنے نام رجسٹرڈ کرنا ضروری ہوتا ہے جب یہ رجسٹرڈ ہوجاتا ہے تو پھر اس رجسٹر میں اس کی پوری تفصیل بیان کی جاتی ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے) میں یہ لکھا ہے کہ ایک یا زیادہ ذرات کا مرغولہ بنا کر بالائی کرہ ارض کے قرینہ یا سانچے (Pattern) میں ڈال دے تو اس میں موسم میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اس کو موسمی اصلاح کا نام دیا گیا۔ پنٹنٹ کے مطابق موسم میں شدت لانا یا تیزی یا گھٹنا، مصنوعی حدت پیدا کرنا، اس طرح بالائی کرئہ ارض میں تبدیلی لا کر طوفانی سانچہ یا سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کے قرینے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ زمین کے کسی خطہ پر سورج کی انتہایی روشنی، حدت کو ڈالا جاسکتا ہے۔ اس نظام پر ایک کتاب Angles Don't play this Haarp" " جو دو سائنسدانوں JEANE MANNING اور Dr. NICK BEGICHنے لکھی ہے ،ا س کے مطابق کرئہ ارض کا اوپری قدرتی نظام جو سورج کی روشنی کی شعاؤں کے ضرر رساں اثرات کو جذب/چھان لیتا ہے ، مگر ہارپ کا مقصدIonosphere کواپنی مرض کے مطابق چلانا ہے، اس کو Ionospheric Heater کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اسکے ذریعہ مصنوئی حدت یا اس میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ ہارپ کے بارے میں پہلی اطلاع 1958ء میں وہائٹ ہاؤس کے موسم کی اصلاح کے چیف ایڈوائزر Captain Howard نےیہ کہہ کر دی کہ امریکہ کرئہ ارض کے موسم کو ہیرپھیر کے ذریعہ متاثر کرنے پر تجربات کررہا ہے۔ اسی طرح 1986ء پروفیسر گورڈن جے ایف میکڈونلڈ نے ایک مقالہ لکھا کہ امریکہ ماحولیات کنٹرول ٹیکنالوجی کو ملٹری مقاصد کے حصول کے لئے تجربات کررہا ہے۔ یہ جغرافیائی جنگوں میں کام آئے گی اور قلیل مقدار کی انرجی سے ماحول کو غیر مستحکم کردے گا۔ اسی طرح 1997میں اس وقت کے امریکی وزیر دفاع ولیم کوہن نے بھی اس پروگرام کو متنازعہ قرار دیا تھا۔
امریکہ کی بدمعاشی اور کسی کو خاطر میں نہ لانا ایسے ہی نہیں ہے اس کے پیچھے اُس کی وہ سائنسی طاقت ہےجس میں فی الحال اس کا کویی مقابل نہیں ہےاور جس میں ایٹم بم ایک حقیر ہتھیار ہو کر رہ گیا ہے۔امریکی سائنسداں ہر وقت کام میں جتےرہتے ہیں جبکہ پاکستان میں سائنسدانوں کو مقید کرکے رکھا جاتا ہے، امریکی تجربہ گاہوں میں موسموں کا ہیرپھیر، آب و ہوا کی اصلاح، قطب جنوبی و قطب شمالی کے برف کو بڑی مقدار میں پگھلانا یا پگھلنے کو روکنا اوراوزون کی تہوں کو تراشنا، سمندر لہروں کو قابو کرنا، دماغی شعاعوں کو قبضہ کرنا، دو سیاروں کی انرجی فیلڈ پر کام ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے 1970ء میں بززنسکی نے جہاں یہ کہا تھا کہ وہ دنیا کے طاقت کے محور کو امریکہ لے گئے ہیں اور اب کبھی یورو ایشیا میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ زیادہ قابومیں رہنے والی اور ہدایت کے مطابق چلنے والی سوسائٹی ، امریکی ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ابھرے گی اور معاشرہ یا اس کرہ ارض کے لوگ اُن لوگوں کے حکم پر چلیں گے جو زیادہ سائنسی علم رکھتے ہوں گے۔ یہ عالم لوگ روایتی اور منافقانہ یا بے تعصبی سے قطع نظر اپنے جدید ترین تکنالوجی کو سیاسی عزائم کے حصول کے لئے بروئے کار لانے سے گریز نہیں کریں اور عوامی عادتوں اور معاشرہ کو کڑی نگرانی اور قابو میں رکھنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے جس صورت پر کام کیا جارہا ہوگا اس پر تکنیکی اور سائنسی معیار اور مقدار متحرک کی جائے گی۔ ان کی یہ پیش گوئی آج صحیح ثابت ہورہی ہے۔ ج ایسے عوامل سامنے آرہے ہیں اور سائنس کو بروئے کار لا کر زلزلے، سونامی، موسم میں تغیر، جہازوں کے راستے، جہازوں کو گرایا جارہا ہے اور سیلاب لائے جارہے ہیں۔دراصل ہارپ امریکی فوج کا ایک ایسا پروگرام ہے جو کہ 2022
تک تمام دنیا میں امریکی تصرف کو یقینی بنانے کے لیئے استعمال کیا جاسکے۔
روس کے معروف سکالر اور معرف سٹریٹیجک کلچر فاونڈیشن کے نائب سربراہ آندرے اریشیف نے روس کے
جنگلوں میں لگنے والی آگ کو بھی امریکی ہارپ ٹیکنالوجی کا کارنامہ قرار دیا ہے۔


پاکستان میں موسم برسات میں عموماً مون سون کے بادل مشرق سے آتے ہیں اور سردیوں کی بارش کے مون سون مغرب سے، مگر اس دفعہ جس کی وجہ سے پاکستان میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، جس سے پاکستان کی زرعی معیشت زمین بوس ہوگئی اور کروڑوں افراد بے گھر ہوگئے۔ مون سون کے بادل مشرق اور مغرب سے آئے اور وزیرستان و شمالی علاقہ جات میں آکر ٹکرا گئے، اب ایسا کیوں ہوا،، اسکے بعد ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہونگے کہ پاکستان میں جو بد ترین بارش ہوئی اور ہیبتناک طوفان آیایا قدرتی موسمی تغیرات اس کی وجہ ہیں، یہ کسی انسانی عمل سے یہ تغیر پیدا ہوا، اس بات کے امکانات موجودہیں کہ یہ تبدیلی طور ہتھیار استعمال کی گئی، ایک خاص خطہ پر دو مون سون کو ٹکرا کر تباہی لائی گئی، اسکے بعد شبہات بڑھ گئے ہیں کہ 2005ء کا زلزلہ بھی زمینی پلیٹوں میں تبدیلی کرکے لایا گیا ہو، اِس بات پر بھی شک ہے کہ ایئر بلیو کی فلائٹ کے انجن کو کسی شعاع کے ذریعہ پگھلا دیا گیا اور سونامی بھی سمندری لہروں کو قابو کرنے کے کسی تجربہ کی بناء پر آیا ہو۔ ایسا کیوں کیا جارہا ہے ؟ کیا ہم ان سائنسی ایجاد کے پہلے ہدف ہیں اور ہمیں زیادہ مطیع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے یا ہمارے ایٹمی اثاثہ جات کو ٹھکانے لگانا مقصود ہے۔ ایسا کرنے کیلئے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ دو وار کئے جاچکے ہیں، ایک زلزلہ اور دوسرا سیلاب۔
کیا اس کے بعد بھی یہ شک رہ جاتا ہے کہ کوہاٹ کی پہاڑیوں میںپاک فضائیہ کے ایئر مارشل مصحف علی میر کا قتل اور ایئر بلیو کا مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا جاناسونامی کا طوفان،2005کا زلزلہ 9/11اور پھر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیئے کہ یہ طوفان اور سیلاب امریکہ میں بھی آسکتے ہیں بلکہ یہ امریکہ میں آنے والے سیلاب تو دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لیئے تھے ۔ جن میں ہری کین (سمندری ہوائی طوفان)‘ قطرینہ‘ ڈینس‘ امیلی‘ ریٹا کا ڈرامہ رچایا گیا۔۔۔۔کیا سب قدرتی حادثات تھے۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا ہے کہ پاکستان سٹیٹ آئل نے پٹرول پمپوں کے لیئے اسرائیلی سافٹ ویئرز کی خریداری کی ہے ۔ترپاک نامی کمپنی دراصل اورپاک کمپنی کی ذیلی شاخ ہے جس کی ایک شاخ بھارت میں بھی ہے بھارتی سرمایہ کاروں نے اس کمپنی پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے اس کمپنی کا چیف ایگزیکٹو اور صدر ہیم کوہن ہے اور منیجنگ ڈائریکٹر تان ہم اورین ہے جو اسرائیلی ملٹری انڈسٹریز کا سربراہ رہا ہے اور آج کل اورپاک سمیت تمام اس کے تمام ذیلی اداروں کی نگرانی کرتا ہے یہ تمام ادارے دراصل اسرائیلی ملٹری انڈسٹریز کی غیر سرکاری شاخیں ہیں جو کہ دنیا بھر میں اپنی جاسوسی کے آلات پھیلاتی ہیں ۔

پاکستان میںپٹرول پمپوں پر نگرانی کے لیئے جوآلات نصب کیئے گئے اس پر اسرائیل کی مہریں ہیں اور جو
سافٹ ویئر کمپیوٹر میں فیڈ ہے اس کی زبان انگریزی کی بجائے عبرانی ہے کیا مارگلہ کی پہاڑیوں سے طیارے کا ٹکرا جانا اور سیلاب کا آنا کسی عبرانی زبان میں دی جانے والی ہدایات یا کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی کا نتیجہ تو نہیں ہے ذرا سوچیے؟؟؟؟؟؟

لمحہ فکریہ:: کیا اس سیلاب سے پاکستان داخلی اور خارجی طور پر پرمزید کمزور نہ ہوجایے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت انکل سام کے 20 ہیلی کوپٹر اور 700 فوجی بھی امدادی کاروا یوں میں مصروف ہیں 2005کے زلزلے میں بھی امریکہ نے امداد کے ساتھ ساتھ امدادی کاروایوں کے لیے اپاچی اور کوبرا ہیلی کوپٹر بھیجے تھے یہ ہیلی کوپٹر دو ماہ تک اسلام آباد سے لیکر گلگت اور اور بالاکوٹ اور مظفر آباد تک پروازیں کرتے رہے ۔ان ہیلی کوپٹرز نے شمالی علاقوں کا کونہ کونہ چھان مارا اور سوات سے لیکر پشاور تک اور لاہور سے اسلام آباد تک بلاخوف و خطر دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں یہاں تک کہ چترال اور کالام کے بعض پسماندہ ترین علاقوں سے بھی کچھ امریکیوں کو کو گرفتار کیا گیا جو ادھر ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف کار تھے ۔اس کے علاوہ اس زلزلے میں درجنوں امریکی امدادی ٹیمیں این جی اوز کی شکل میں کام کرتی رہیں اور ساتھ ساتھ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے بھی کام کرتی ہیں اور تو اور سوات اور بالا کوٹ سے ایسے بروشرز اور پمفلٹ بھی پکڑے گیے جس میں لوگوں کو عیسایت کی تبلیغ دی جاتی تھی ۔یہ بنیادی طور پر اسلام اور پاکستان کے خلاف امریکہ کی سازش ہے ایک طرف تو یہ لوگ آفات میں گھرے ہویے لوگوں کی امداد کرتے ہیں اور دوسری طرف اسلام دشمن اور وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں 2005کے زلزلے میں طاغوتی قوتوں نے فایدہ اٹھایا اور امداد دینے کے بہانے ملک کے شمالی علاقہ جات کا چپہ چپہ چھان مارا اور اب یہی کھیل پنجاب سندھ اور بلوچستان میں کھیلا جایے گا ۔

اسوقت پاکستان ناران سے لیکر پشاور تک اور کویٹہ سے لیکر روہڑی تک پانی میں گھرا ہوا ہے کروڑوں لوگ مشکلات میں مبتلا ہیں اور امریکی ہیلی کوپٹر ز اور کمانڈوز پورے ملک میں کھلے عام پھر رہے ہیں یہ کیا چاہیتے ہیں ؟؟؟؟؟؟
یہ پاکستان کو کیوں کھنگالنا چاہتے ہیں کیا یہ کسی بڑے آپریشن سے پہلے ریکی کررہے ہیں یا پاکستان کےسنگلاخ پہاڑوں اور چٹیل میدانوں کا جایزہ لے رہے ہیں کہ ایٹمی پروگرام کا درست اور صحیح محل وقوع معلوم کرسکیں۔


روحانی تبصرہ: ہارپ پروگرام کا روح رواں Extremely Low Frequency Wavesہے کوشش کرونگا کہ اس کو عام فہم طور پر اپنے خطے کی مثالوں اور علم الاسماء کی روشنی میں بیان کروں۔
ساینس یہ کہتی ہے کہ دو ہم آہنگ سروں کے ملنے کا نام فریکوینسی ہے۔
ہماری موسیقی میں کل سات سُر ہیں اور عام طور پر مشہور 36 راگنیاں ہیں اور جیسا کہ مشہور ہے کہ دربار اکبری میں تان سین نے دیپک راگ گا کر آگ لگا دی تھی۔ بقول شاعر
شعلہ سا چمک جایے ہے آواز تو دیکھو
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

اور مشہور ہے کہ راگ ملہار کے گانے سے بارش ہوجاتی ہے یہ سب کیا ہے یہ راگوں کی مخصوص فریکوینسیوں کا تسلسل ہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں ایک سنٹر ہے جو کہ بیماریوں کا روحانی علاج کرتا ہے اور اکثر ٹیلیوژن پر اس کا پروگرام بھی آتا ہے جس میں سورہ رحمٰن قاری باسط کی آواز میں سنائی جاتی ہے۔
آیے اس پرروحانی روشنی ڈالتے ہیں کہ یہ سب کیا ہے۔

ر لفظ ایک Unite یا Atom ہے جیسا کہ اندرونی جذبات کی تجلیاں برقیاتی ہیں اور اس کے اثرات اس عالم خاکی اورعالم لطیف یعنی cosmic world اور Astral World دونوں میں نمودار ہوتے ہیں اور Cosmic Vibrations توساینس کی ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے ایتھر(cosmic world) جو کہ حقیقت انسانیہ کی جہتوں میں سے ایک جہت ہے نہایت حساس چیز ہے جس میں نہ صرف بجلیوں کی کڑک، طیارے کی پروازاور ریل گاڑی کی حرکت سے لہریں اٹھتی ہیں بلکہ ایک ہلکی سی آواز اور رباب کی جنبش سے بھی ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ (اہل روحانیت اس کو فرشتہ میططرون بھی کہتے ہیں)۔
ماہرین روح کی تازہ ترین تحقیق یہ ہے کہ آواز تو رہی ایک طرف بلکہ ارادرہ اور خیال سے لہریں (تموج) اٹھنے لگتی ہیں Cosmic Vibrationsکے ذریعے انسان روحانیت سے رابطے کرسکتا ہے اور جن فرشتوں اور فوت شدگان سے مل سکتا ہے۔
Emotional Energy یعنی جذبات کی قوت Cosmic World میں زبردست لہریں پیدا کرتی ہیں جب یہ لہریں فیض رساں قوتوں سے ٹکراتی ہیں تو یا تو خود وہ قوتیں ہماری مدد کے لیے آجاتی ہیں یا پھر طاقتور خیالات کی لہریں وہاں سے چھوڑتی ہیں جو ہمارے دماغ سے ٹکرا کر ایک ایسی تجویز کی شکل اختیار کرلیتی ہیں جس پر عمل پیرا ہوکر ہماری تکلیف دور ہوجاتی ہیں۔
جیسے کسی مشکل کے وقت گیٹیوں کا ختم کیا جاتا ہے جس میں سوالاکھ بار لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین پڑھا جاتا ہے تو مشاہدے میں آیا ہے کہ مشکل حل ہوجاتی ہے۔ یا پھر خود آکر مدد کرنے کا ایک واقعہ جو کہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ہے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ ایک لٹیرے نے گھیر لیا جب قتل کا ارادہ کیا تو آپ نے دورکعت نماز کی اجازت چاہی تو لٹیرے نے کہا کہ جتنے لوگوں کو میں اس ویرانے میں قتل کرچکا ہوں سب نے دعا کی ہے لیکن کویی فایدہ نہیں ہوا تو بھی پڑھ لے آپ نے دورکعت نماز کے بعد یہ کلمات پڑھے اللہم یا ودود یا ودود یا ودود یا ذالعرش المجید یا مبدی یا معید یا فعال لما یرید اسءلک بنور وجھک الذی ملاء ارکان عرشک وبقدرتک التی قدرت بھا علیٰ جمیع خلقک وبرحمتک التی وسعت کل شءی لا الٰہ الا انت یا غیاث المستغثین اغثنی۔ جیسے ہی لٹیرا ان کو قتل کرنے کے لیے آگے بڑھا تو پیچھے سے کسی نے آواز دی کہ تیرا مقابل یہ نہیں میں ہوں جب لٹیرے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک گھڑ سوار کھڑا تھا اتنے میں وہ گھڑ سوار آگے بڑھا اور ایک ہی وار میں لٹیرے کے دو ٹکڑے کرڈالے اور زید بن حارثہ سے کہنے لگا کہ جب تو نے پہلی مرتبہ دعا پڑھی تو جبرایل نے کہا کہ کون اس بے کس کی مدد کو جایے گا تو میں نے کہا کہ میں جاتا ہوں اسوقت میں ساتویں آسمان پر تھا جب تو نے دوسری بار یہ دعا پڑھی تو میں آسمان دنیا پر تھا اور جب تونے تیسری بار یہ دعا پڑھی تو میں تیرے پاس تھا۔
ہر لفظ Energy کا Unite ہے ہمارا ہر جملہ قوت کا ایک خزانہ و ذخیرہ ہے ایک مخصوص Vibration یا Radiation ہمارے منہ سے نکلتی ہے اور ایک اثر پیدا کردیتی یے کیونکہ اس کا کاسمک ورلڈ میں ایک مقام ہے۔
غرض ہر جذبہ محبت،رحم،خوف خدا،مروت،خوش خلقی،قناعت،شرم وحیا،دانائی،پارسائی،بے طمعی، صبر، بردباری،درگزر، استقلال، صالحیت، اللہ کی عبادت،گدازاور نیاز سے جسم میں ایسی رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں جو کہ اس کے گرد نور کا ایک ہالہ (دائرہ)بنا دیتی ہیں جو نظر تو نہیں آتا لیکن اس کو محسوس کیا جاسکتا ہے ایسے شخص کے پاس جو بھی بیٹھتا ہے اس دائرے کی مقناطیسی کشش روحانی بیماریوں یعنی اخلاق رذیلہ کے اثرات کو زائل کردیتی ہیں اوراگر اس کے پاس بار بار بیٹھا جائے تو گناہ کے تباہ کن اثرات کو ختم کردیتی ہے۔آپ لوگوں کا مشاہدہ ہوگا کہ ایسے بندے کے پاس خواہ مخواہ بیٹھنے کو جی چاہتا ہے اور جو اس کے برعکس ہوتا ہے اس سے
ہرانسان بھاگتا ہے۔
یک زمانہ صحبت بااولیاء
بہتر است صد سالہ طاعت بے ریا

 
روحانی بابا's Avatar
روحانی بابا
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: پشاور
عمر: 36
مراسلات: 33
شکریہ: 12
29 مراسلہ میں 113 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1592
Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے روحانی بابا کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (09-09-10), ھارون اعظم (10-09-10), پرنس آف ڈھمپ (05-05-11), یاسر عمران مرزا (11-09-10), محمدمبشرعلی (17-09-10), محمدخلیل (09-09-10), مرزا عامر (10-09-10), wajee (09-09-10), ایکسٹو (15-10-10), اویسی (14-09-10), احمد بلال (09-09-10), حسنین ایوب (11-09-10), طارق راحیل (14-10-10), عبدالقدوس (10-09-10), عبداللہ آدم (10-09-10), غلام خان (15-10-10)
پرانا 09-09-10, 08:17 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,113
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,464 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے تو یقین نہیں آ رہا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔زلزلہ،طوفان یہ تو قدرت کے کھیل ہے اگر ایسی بات ہے تو پھر تو موت کو بھی ہرا دینا چاہیے انکو!!!!
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (09-09-10), مرزا عامر (10-09-10), احمد بلال (09-09-10)
پرانا 10-09-10, 01:23 AM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,919
شکریہ: 23,988
4,984 مراسلہ میں 14,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ بات مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کے ضرب مومن میں کالم میں سیلاب کے چند دن بعد پڑھی جس میں انہوں نے ہارپ کا ذکر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس طرح کے اسباب کی طرف شروع میں کوئی توجہ نہیں کرتا لیکن جب میڈیا مین آجائے تو پھر سب لپکتے ہیں..........

لیکن ایک بات ہے کہ امریکہ کو اس سب کرنے کا مجھے تو کوئی فائدہ نظر نہیں ارہا.
اگر کرنا ہی ہوتا تو وہ وزیرستان میں کرتا جہاں سے اسے خطرہ ہے.پاکستان تو اس کا ہر طرح سے ساتھ دے رہا تھا اور اب سیلاب کے بعد اس صلیبی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بھی خاطر خواہ اثر پڑا ہے...............!!!
بہرحال کہا جا سکتا ہے کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ::کچھ لوگوں کو ہر چیز کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ نظر آتا ہے.

وللہ اعلم بالصواب
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), یاسر عمران مرزا (12-09-10), مرزا عامر (10-09-10), حیدر (10-09-10)
پرانا 10-09-10, 06:30 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,468
شکریہ: 52,468
11,155 مراسلہ میں 35,198 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

روزنامہ امت نے بھی یہی الزام لگایا تھا امریکہ پر۔
تاہم مجھے بھی یقین نہیں کہ امریکہ نے ایسا کیا ہو گا۔
اور جو امریکہ پر "الزام" لگایا جاتا ہے کہ ہارپ کی بدولت وہ موسموں پر قابو پا چُکا ہے(یعنی دجالی قوت) مجھے محض لا یعنی بات لگتی ہے۔
اگر تو وہ موسموں پر واقعی قابو پا چُکا ہوتا تو پھر گزشتہ دو دہائیوں میں اس پر درجنوں سمندری طوفان حملہ آور ہو کر اسکو اربوں ڈالرز کا نقصان جو دے چُکے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ نہ ہوا ہوتا۔

موسموں پو قابو پانے کی کوشش کرنا امریکہ کا حق ہے تاہم الزام لگانا شاید ہمارا۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), منتظمین (10-09-10), محمدمبشرعلی (17-09-10), مرزا عامر (10-09-10), اویسی (14-09-10), عبدالقدوس (10-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 10-09-10, 08:43 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستانی قوم کو برا بولنا بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پر الزام لگاتی ہے وغیرہ وغیرہ
بات کرنے سے پہلے تحقیق کرلینی چاہیے
آپ لوگوں کے کمنٹس دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مجھے ۔
آپ لوگ ذرا گوگل پر سرچ کریں haarp کے نام سے ۔ امریکہ کے اوپر لگائے پوئے الزامات کے پیچھے کوئی بھی پاکستانی نہیں ملے گا
ہاں پاکستانیوں کا قصور یہ ہے کہ ایک معلومات آپ تک اردو میں ترجمعہ کرکے پہنچائی
آج مجھے پتہ چلا کہ ہم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں
کیونکہ ہم کو اپنے ہی لوگوں کو برا بولنے سے فرصت نہیں ہے
نا کہ ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ ہارپ ایسی کونسی ٹیکنالوجی ہے اور اس سے ہم بھی کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا نہیں
یا اس کی وجہ سے ہم کو کوئی نقصان پہنچا رہا ہے تو کیا ہم اللہ کی مدد سے اس کا کاونٹر ایجاد کرکے اس سے بچ سکتے ہیں کہ نہیں
بس امریکہ کو معصوم ثابت کرنے کے پیچے پڑ گئے ۔ اور اپنی قوم کو الزام لگانے والے کہنے سے آگے ہماری سوچ کام ہی نہیں کرتی
بس کہہ دیا کہ یہ بات تو لایعنی لگتی ہے ۔ امریکہ ایسا نہیں کرسکتا ہے
اور اپنا فرض پورا کردیا ۔
سوچیں مگر اپنی ذاتی سوچ سے سوچیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فیصل ناصر (10-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), پرنس آف ڈھمپ (05-05-11), مہر (11-09-10), محمد عاصم (11-09-10), مرزا عامر (10-09-10), wajee (10-09-10), ایکسٹو (15-10-10), اویسی (14-09-10), حیدر (11-09-10), حسنین ایوب (11-09-10), شمشاد احمد (12-09-10), طارق راحیل (14-10-10), عبدالقدوس (11-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 01:25 AM   #6
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر پاک نیٹ کا کوئی ساتھی Conspiracy theories کو اہمیت دیکر ان پر وقت ضایئع کرنا چاہتا ہے تو بے شک کرے لیکن میرا مشورہ ہے ان پر توجہ دینے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے۔

در اصل یہ theories مغربی ممالک سےشروع ہوتی ہیں اسلیے ہمیں جاننا چاہیے وہا ں میڈیا اور لوگوں کا ان کے متعلق کیا رویہ ہے۔جہاں تک مجھے علم ہے وہاں پر ان theories کو عجیب و غریب قسم کا جھوٹ اور ان پر یقن رکھنے والوں کوcrank یا کسی پاگل گروپ lunatic fringe. میں سے سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ، خاصکر تعلیم یافتہ اور سمجدار طبقے ان پر دھیان نہیں دیتے۔ mainstream میڈیا بھی پرائم ٹائم کے دوران ان پر کوئی سنجیدہ پروگرام پیش نہیں کرتا۔ یہ theories عموماً پرائم ٹائم کے باہر پروگرام اور ٹیبلوئڈ اخبارات جنہیں گٹر پریس کا نام بھی دیا جاتا ہے اور جو غیر سنجیدہ اور سنسنی قسم کی خبریں پیش کرتے ہیں ان کی زینت بنتی ہیں۔

rb.jpg
__________________

Last edited by ناصحی; 11-09-10 at 01:52 AM. وجہ: Attached an image
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), محمدمبشرعلی (17-09-10), مرزا عامر (11-09-10), حیدر (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 09:14 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عجیب لوگ ہیں آپ بھی
آپ کو اس پوری تحریر میں قابل غور بات صرف کورنسپینسی تھیوری ہی نظر آئی ۔
ہارپ ایز اے ٹیکنالوجی کے بارے میں پاکستانی قوم کو علم نہیں ہونا چاہیے ۔ کیا ہم کو اس کے بارے میں جاننا نہیں چاہیے
اگر یہ مان بھی لیا جائے ، کہ پاکستانی سیلاب کے پیچھے کسی ہارپ یا امریکہ کا ہاتھ نہیں
تب بھی اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہمارے لیے آپ لوگوں کی نظر میں فالتو بات ہے ۔
ترقی یافتہ ممالک اور ہم میں یہی فرق ہے
ترقی یافتہ ممالک اپنی قوم کو ریسرچ کے مواقع فراہم کرتی ہے
اور ہم اپنی قوم کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی ٹیکنالوجی کے بارے میں علم ہی حاصل کرسکیں ۔
ان کے سوچنے کے دروازے ہی بند کردیتے ہیں
ہر معلوماتی بات کو فالتو کہتے ہیں اور فضول مباحث کو فروغ دیتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), مہر (11-09-10), محمد عاصم (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10), ایکسٹو (15-10-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 09:39 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,468
شکریہ: 52,468
11,155 مراسلہ میں 35,198 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے جب لفظ "ہمارا" لکھا اور بولا جاتا ہے اس میں لکھنے اور بولنے والا خود بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے محض دوسرے پاکستانیوں کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔

میں اپنا موقف واضح کرتا چلوں۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں نے ہارپ کو تفصیلی مطالعہ کیا ہے تاہم یہ ضرور کہتا ہوں کہ کوشش ضرور کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہارپ سے متعلق تھیوریز کا جنم پاکستان سے نہیں بلکہ خود مغربی ممالک سے ہوا ہے اور اس کے چند افراد جو سائنسی علم رکھتے ہیں انہوں نے امریکہ پر وہی الزام لگایا ہے جو مندرجہ بالا مضمون میں لگایا گیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ اپنے اس پروجیکٹ کو تعلیمی مقاصد کے ساتھ ساتھ دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر رہا ہو گا۔
پاکستان کا 2005 کا زلزلہ ہو یا حالیہ سیلاب، ہیٹی کا زلزلہ ہو یا افریقہ میں چیونٹی کا مرنا سبھی اسی ہارپ کے کارنامے بتائے جا رہے ہیں۔

میں امریکہ کا دفاع ہر گز نہیں کر رہا بلکہ میں نے ایک اور زاویہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اللہ تعالی اپنی کتاب حکمت میں فرماتا ہے کہ کسی گروہ کی دشمنی تم کو انصاف (کی بات) سے دور نہ کر دے۔ چناچہ ضروری نہیں کہ اگر میں امریکہ کا دشمن ہوں تو اس پر ہر قسم کا الزام دھر دوں۔

ڈاکٹر نک اور جین اپنی تھیوری "ملٹری کا پنڈورہ باکس" میں اس پروجیکٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ
"اس پروجیکٹ کے مخالفین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔مثلاً خود الاسکا کے شہری (یہ پرجیکٹ الاسکا میں روبہ عمل ہے)، فن لیند میں ایک فزیشن، ہالینڈ کا ایک سائنس دان، آسٹریلیا کا ایک ایٹمی مخالف، امریکہ کا ایک آزاد ماہر طبعیات، کینیڈا کی ایک دادی اور دوسرے لاتعداد" (مندرجہ بالا مضمون کے چند نام بھی شام کر لیں)

کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ یہ عالم فاضل حضرات اپنی دلیل اور موافقت میں کینیڈا کی ایک دادی کا بھی پیش کر رہے ہیں۔ اور دوسرے لا تعداد وہی جو ان تھیوریز پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔

میں ایک بار پھر کہوں گا کہ میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہا کہ امریکہ ایسی ریسرچ نہیں کر رہا ہوں گا۔ یقینا اسکی پوری خواہش ہوگی موسموں کا ہتھیار استعمال کرنے کی۔ میرا موقف محض اتنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا اس نے موسموں پر قابو پا لیا ہو گا۔کیونکہ اگر اس نے موسموں پر قابو پا لیا ہوتا تو گزشتہ دو دہائیوں میں وہ کسی موسمی آفت کر اپنی سر زمین پر نہ انے دیتا۔جہاں تک میرا خیال ہے کہ امریکہ کے ساحلوں پر ہر سال نہیں تو ہر دوسرے یا تیسرے سال کوئی نہ کوئی بڑا سمندری طوفان ضرور ٹکراتا ہے اور اربوں ڈالرز کی تباہی لاتا ہے۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ اپنے ملک کے بارے میں انتہائی حساس ہے۔

میرے موقف کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ایسی تھیوریز کو جان بوجھ کر ہوا دی جاتی ہے تاکہ انکی دھاک جمی رہے۔ یہ ذہنی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ اس میں آدھے سے زیادہ دشمنوں کو ہتیاروں سے جنگ لڑے بغیر زیر کر لیا جاتا ہے۔

میرے موقف کا ایک تیسرا حصہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں ان تھیوریز کو ہوا دینا درحقیقت اپنی غلطیوں و اعمال سے نظر چرانا ہے۔ پاکستان کی حالیہ آفت پاکستان سے نہیں بلکہ بھارتی زیر قبضہ علاقے لداخ سے شروع ہوئی۔ چلیں یہ تسلیم کہ خیبر پی کے والوں کو موقع ہی نہ ملا اس آفت سے نبتنے کا ۔ ۔ ۔ لیکن پنجاب اور سندھ کو کیا ہوا؟ پنجاب کے پاس تو پندرہ دن کا وقت تھا جبکہ سندھ کے پاس ایک مہنہ سے زائد کا ۔ خود اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تباہی "انسانی غلطیوں" کی وجہ سے ہوئی۔کیا ضروری ہے کہ اب وہ انسانی غلطیاں یا حماقتیں یا نا اہلیاں میں ادھر بھی لکھوں؟؟؟؟؟ چناچہ اگر امریکہ یہ تباہی لایا بھی ہے تو بھی اس کو اس قدر بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ذمہ داری خؤد ہماری اپنی ہے امریکہ کی نہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), منتظمین (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 10:49 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,512
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا موقف یہ ہے کہ
ہارپ ٹیکنالوجی کیا ہے ، کیوں ہے ، اور اس کا مقصد کیا ہے اور اس کی ٹیکنیکیلیٹیس کیا ہے
اس پر ریسرچ پروفیشنلز کو کرنا چاہیے ۔
لیکن کسی کا بھی یوں بغیر تحقیق کیے یا بغیر کسی علم کے
پاکستانی قوم کو برا بھلا بولنے کے خلاف ہوں ۔ کہ پاکستانی قوم کا تو کام ہی الزام لگانا ہے یا جو کچھ نہیں کرتے وہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان باتوں کی میں مذمت کرتی ہوں ۔
ہم خود پاکستانی قوم کو انڈر اسٹیمیٹ کرتے ہیں حالانکہ ہماری قوم کے پروفیشنلز دنیا کے کسی بھی ملک کے پروفیشنلز کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں بس ان کو مواقع نہیں ملتے ہیں‌۔
حکومت تو ہے ہی نااہلوں پر قائم ۔ جس کی نظر میں تعلیم اور ریسرچ کی کوئی اہمیت نہیں
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حال کا تو علم ہے آپ سب کو
باقی رہ گئی عام عوام ، تو لوگوں کے دماغ میں جان بوجھ کر یہ بات ڈالی جارہی ہے کہ ہم کسی قابل نہیں ۔

میں یہاں آپ کو ایک مثال دیتی ہوں ۔
چونکہ میرا تعلق میڈیکل پروفیشن سے ہے اس لیے مجھے اس پروفیشن کا ذیادہ علم ہے
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستانی ڈاکٹرز نالج وائس اور اپنی قابلیت و صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں بہت سوں سے بہتر ہیں ۔
پاکستان کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری fcps دنیا کی ٹف ترین ڈگریوں میں سے ہے ۔
جو ایف سی پی ایس نہیں کرپاتا وہ انگلینڈ سے frcs باآسانی کرلیتا ہے ۔
ہمارا پروفیشنل ایجوکیشن اسٹینڈرڈ بہت سوں سے ہائی ہے لیکن پاکستانی ڈاکٹرز کی وقعت پاکستان میں کچھ نہیں ۔ اور ان کو پاکستان میں اتنے مواقع نہیں ملتے کہ وہ ریسرچ سائیڈ پر کچھ کرسکیں ۔
ہم اپنے ٹیلنٹ کو ضایع کرتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قوم کچھ نہیں کرسکتی ہے ۔

جہاں تک سیلاب کا تعلق ہے ۔
اور مہینے بھر کا ٹائم ملنے پر بھی کچھ نہیں کیا گیا تو میں اس کو غلطی نہیں کہتی ہوں
یہ حکومتی لوگوں نے اور بڑے بڑے لوگوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے لوگوں کو قتل کیا اور لاکھوں لوگوں بے گھر کیا ۔ یہ کام بھی جان بوجھ کر گیا گیا ہے ۔
میں اب پہر کہوں گی عوام میں مایوسی پھیلا کر یہ لوگ اپنے مطلب نکالتے ہیں ۔ کیونکہ مایوس قوم آگے بڑھ کر کسی سے نہیں پوچھتی کہ ہمارے ذیادتی کرنے کا تمھیں کیا حق پہنچتا ہے ۔

قوم کو برا بھلابولنے کے بجائے اس کو ہمت دیں کہ کچھ بھی ہوا اور کیسے بھی حالات ہیں ہم اس کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر کوئی بھی ہمارے ساتھ ذیادتی کرے گا تو اس کا گریبان پکڑنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), مہر (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10), حیدر (11-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 12:35 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,919
شکریہ: 23,988
4,984 مراسلہ میں 14,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دجال کے آنے سے پہلے اس کے ایک عالم گیر نظام کے قائمہونے پر یقین رکھنے والے اسے سازش کی نظر سے ہی دیکھ رہے ہیں،اور ان کے پاس دلائل بھی اچھے خاصے ہیں.
ایک مثال میں بھی دیتا ہوں 70 کی دہائی میں غالبا ایم کے الٹرا کے نام سے ایک پروگرام امریکہ میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد دماغ کو کنٹرول کرنا ےتھا................اس کے کرتا دھرتا بھی یہودی تھے،سائنس اور ریسرچ کے نام پر قدرت اور انسانی وسائل پر کنٹرول کے لیے امریکہ کے روپ میں فری میسن متحرک ہیں.ہاں عام امریکی انکے بارے میں جاننا چاہے بھی تو ان کی سرگرمیاں بہت خفیہ ہوتی ہیں اور اسی لیے محض اندازے قیافے ہی لگائے جا سکتے ہیں.
اسی طرح زمین کے مدار کو ڈسترب کرنے کے لیے دنیا کی ایک طویک ترین سرنگ میں چند سال پہلے تجربہ کیا گیا تا کہ زمین کی محوری گردش پر قابو پانے کی صلاحیت کا جائزہ کیا جا سکے.
محوری گردش کے دسٹرب ہونے سے بھی موسموں پر شدید اثرات مرتب ہوں گے................

نشانیاں ہیں اس میں عقل والوں کے لیے.

Last edited by عبداللہ آدم; 11-09-10 at 12:38 PM. وجہ: word correction
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), shafresha (11-09-10), فاروق سرورخان (11-09-10), مہر (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10), آصف وسیم (14-09-10), حیدر (11-09-10), سحر (12-09-10)
پرانا 11-09-10, 01:43 PM   #11
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,734
شکریہ: 53,117
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اسی طرح زمین کے مدار کو ڈسترب کرنے کے لیے دنیا کی ایک طویک ترین سرنگ میں چند سال پہلے تجربہ کیا گیا تا کہ زمین کی محوری گردش پر قابو پانے کی صلاحیت کا جائزہ کیا جا سکے.
محوری گردش کے دسٹرب ہونے سے بھی موسموں پر شدید اثرات مرتب ہوں گے................

نشانیاں ہیں اس میں عقل والوں کے لیے.
عبداللہ بھائ السلام علیکم،
مجھے اس بات اختلاف ہے!
اگر آپ کا اشارہ
"Large Hadron Collider" کی طرف ہے تو وہ تجربہ "تخلیق کائنات" کے رازوں کو جاننے کے لیئے تھا نا کہ زمین کے محور کو تبدیل/خراب کرنے کے لیئے!

لارج ہارڈن کولائیڈر
Name:  Large-Hadron-Collider.jpg
Views: 164
Size:  54.3 KB

لارج ہارڈن کولائیڈر کتنی بڑی جگہ پر محیط ہے!
Name:  Large Hadron Collider2.jpg
Views: 177
Size:  25.5 KB
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), فاروق سرورخان (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10), اویسی (14-09-10), حیدر (11-09-10), عبدالقدوس (11-09-10), عبداللہ آدم (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 01:48 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عبداللہ بھائ السلام علیکم،
مجھے اس بات اختلاف ہے!
اگر آپ کا اشارہ "Large Hadron Collider" کی طرف ہے تو وہ تجربہ "تخلیق کائنات" کے رازوں کو جاننے کے لیئے تھا نا کہ زمین کے محور کو تبدیل/خراب کرنے کے لیئے!
اگر زمین کے محور کو خراب یا تبدیل کیا جائے گا تو کیا امریکہ خود اس کی زد میں نہیں آئے گا ؟؟؟ ۔ ریسرچ والی بات زیادہ مناسب لگتی ہے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), حیدر (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 04:53 PM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اپنے گریبان میں‌جھانک کر اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کی جائے بجائے اس کہ ہر چیز کا الزام کسی دوسرے فریق پر ڈال کر فارغ‌ہو جایا جائے۔
چھوٹے علاقوں‌کے تھانوں‌میں اگر کوئی چوری ہو جائے تو بجائے چور ڈھونڈنے کہ کسی پہلے سے مشہور ڈکیٹ / اشتہاری کے نام سے پرچہ کاٹ دیا جاتا ہے تاکہ محنت نہ کرنی پڑی

بڑے شہروں میں‌ یہی کام خود کش حملہ کہ کر لیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), مرزا عامر (11-09-10), wajee (11-09-10), اویسی (14-09-10), حیدر (11-09-10), عبدالقدوس (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 06:40 PM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,468
شکریہ: 52,468
11,155 مراسلہ میں 35,198 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا موقف یہ ہے کہ
ہارپ ٹیکنالوجی کیا ہے ، کیوں ہے ، اور اس کا مقصد کیا ہے اور اس کی ٹیکنیکیلیٹیس کیا ہے
اس پر ریسرچ پروفیشنلز کو کرنا چاہیے ۔
لیکن کسی کا بھی یوں بغیر تحقیق کیے یا بغیر کسی علم کے
پاکستانی قوم کو برا بھلا بولنے کے خلاف ہوں ۔ کہ پاکستانی قوم کا تو کام ہی الزام لگانا ہے یا جو کچھ نہیں کرتے وہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان باتوں کی میں مذمت کرتی ہوں ۔
ہم خود پاکستانی قوم کو انڈر اسٹیمیٹ کرتے ہیں حالانکہ ہماری قوم کے پروفیشنلز دنیا کے کسی بھی ملک کے پروفیشنلز کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں بس ان کو مواقع نہیں ملتے ہیں‌۔
حکومت تو ہے ہی نااہلوں پر قائم ۔ جس کی نظر میں تعلیم اور ریسرچ کی کوئی اہمیت نہیں
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حال کا تو علم ہے آپ سب کو
باقی رہ گئی عام عوام ، تو لوگوں کے دماغ میں جان بوجھ کر یہ بات ڈالی جارہی ہے کہ ہم کسی قابل نہیں ۔

میں یہاں آپ کو ایک مثال دیتی ہوں ۔
چونکہ میرا تعلق میڈیکل پروفیشن سے ہے اس لیے مجھے اس پروفیشن کا ذیادہ علم ہے
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستانی ڈاکٹرز نالج وائس اور اپنی قابلیت و صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں بہت سوں سے بہتر ہیں ۔
پاکستان کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری fcps دنیا کی ٹف ترین ڈگریوں میں سے ہے ۔
جو ایف سی پی ایس نہیں کرپاتا وہ انگلینڈ سے frcs باآسانی کرلیتا ہے ۔
ہمارا پروفیشنل ایجوکیشن اسٹینڈرڈ بہت سوں سے ہائی ہے لیکن پاکستانی ڈاکٹرز کی وقعت پاکستان میں کچھ نہیں ۔ اور ان کو پاکستان میں اتنے مواقع نہیں ملتے کہ وہ ریسرچ سائیڈ پر کچھ کرسکیں ۔
ہم اپنے ٹیلنٹ کو ضایع کرتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قوم کچھ نہیں کرسکتی ہے ۔

جہاں تک سیلاب کا تعلق ہے ۔
اور مہینے بھر کا ٹائم ملنے پر بھی کچھ نہیں کیا گیا تو میں اس کو غلطی نہیں کہتی ہوں
یہ حکومتی لوگوں نے اور بڑے بڑے لوگوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے لوگوں کو قتل کیا اور لاکھوں لوگوں بے گھر کیا ۔ یہ کام بھی جان بوجھ کر گیا گیا ہے ۔
میں اب پہر کہوں گی عوام میں مایوسی پھیلا کر یہ لوگ اپنے مطلب نکالتے ہیں ۔ کیونکہ مایوس قوم آگے بڑھ کر کسی سے نہیں پوچھتی کہ ہمارے ذیادتی کرنے کا تمھیں کیا حق پہنچتا ہے ۔

قوم کو برا بھلابولنے کے بجائے اس کو ہمت دیں کہ کچھ بھی ہوا اور کیسے بھی حالات ہیں ہم اس کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر کوئی بھی ہمارے ساتھ ذیادتی کرے گا تو اس کا گریبان پکڑنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں ۔
محترمہ اگر آپکو بُرا لگا ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں
لیکن میں اپنی بات حسن نثار کے الفاظ میں بیان کر کے ختم کیے دیتا ہوں
کسی نے حسن نثار پر تنقید کی کہ وہ علی اعلان پوری قوم کو مطعون کرتا ہے چناچہ مایوسی پھیلاتا ہے۔ پوری قوم خراب نہیں ہے بلکہ اس قوم کے کافی افراد کی وجہ سے ہمارا امیج خراب ہے۔اس پر حسن نثار نے کہا تھا کہ " اگر کسی گروہ کے 60 یا 70 فیصد افراد غلط حرکات میں ملوث ہوں تو پورا گروہ ہی غلط کہلائے گا"۔

پھر کسی نے اس سے پوچھا کہ ہماری قوم کس طرح اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے اس نے کہا "جو قوم ٹریفک سگنل پر کھڑی ہونا پسند نہیں کرتی وہ بھلا اپنے پاؤں پر کیسے کھڑی ہوگی"۔ بڑے مقاصد حاصل کرنے سے پہلے چھوٹے چھوٹے مقاصد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قوم میں بہت سے گوہر چھپے ہوئے ہیں لیکن ایسے گوہر کا کیا فائدہ جب وہ چُھپا ہی رہے۔

رہی ریسرچ کی بات تو میں ریسرچ کے نہیں بلکہ ریسرچ کے نہاں خانوں میں چھپی متنازعہ تھیوری پر تنقید کر رہا تھا کہ جو بالاخر ہمارے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کے چانس کو ہی ختم کر دیتی۔
میں اپنی بات کو یوں سمجھائے دیتا ہوں کہ اس سیلابی آفت کی دو وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں
نمبر ایک: امریکہ نے ہماری اوپر یہ آفت بھیجی
نمبر دو: ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر یہ آفت اللہ کی طرف سے آئی۔

اگر ہم پہلی وجہ پر یقین کر بیٹھیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم محض ہائے امریکہ وائے امریکہ کر کے رہ جائیں گے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ہم امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیں گے ۔ لیکن کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اصل مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ لیکن اگر ہم اس آفت کی وجہ اپنے ہی اعمال کو سمجھیں اور توبہ تائب ہو جائیں تو یقیناً پہلی وجہ خود بخود ہی ختم ہو جائے گی۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), فیصل ناصر (11-09-10), ھارون اعظم (11-09-10), مرزا عامر (11-09-10)
پرانا 11-09-10, 07:49 PM   #15
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا موقف یہ ہے کہ
ہارپ ٹیکنالوجی کیا ہے ، کیوں ہے ، اور اس کا مقصد کیا ہے اور اس کی ٹیکنیکیلیٹیس کیا ہے
اس پر ریسرچ پروفیشنلز کو کرنا چاہیے ۔
لیکن کسی کا بھی یوں بغیر تحقیق کیے یا بغیر کسی علم کے
پاکستانی قوم کو برا بھلا بولنے کے خلاف ہوں ۔ کہ پاکستانی قوم کا تو کام ہی الزام لگانا ہے یا جو کچھ نہیں کرتے وہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان باتوں کی میں مذمت کرتی ہوں
ہارپ کا پراجیکٹ جو اسوقت پاکستان کا مسئلہ بھی نہیں اس سے تو آپکو گہری دلچسپی ہے لیکن تباہ کن بارشیں اور سیلاب جو پاکستان کااسوقت سب سے اہم اور بڑا مسئلہ ہیں اس کے پیچھے حقیقی وجوہات کو جاننے اور سمجھنے سے آپکو اور ہماری قوم کے اکثرلوگوں کو کتنی دلچسپی ہے؟ Name:  irrt 1.gif
Views: 150
Size:  34.1 KB

اگر ہماری اکثریت پاکستان اور قوم کے حقیقی، اہم اور ضروری مسائل پر توجہ دیتی تو آج ہمارے ملک کی حالت اتنی بدتر نہ ہوتی Name:  jhanda.gif
Views: 144
Size:  8.7 KB

فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، آپ ہارپ پر اپنی بعث جاری رکھیں، دوسرے ممالک کے لوگوں کو ہمارے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کی فکر کرنے دیں Name:  ranty.gif
Views: 148
Size:  5.2 KB

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Nasiwise مراسلہ دیکھیں
کیا یہ تباہ کن بارشیں اور سیلاب دوبارہ آ سکتے ہیں؟
اس کے باوجود کہ پاکستان اسوقت سنگین سیلاب کا شکار ہے، نہ تو ہمیں اس سوال کے معقُول جواب سے دلچسپی ہے اور لگتا ہے نہ ہی ہمارے پاس اس کا جواب ڈھونڈنے کی صلاحیت ہے۔ کیا ہم اپنی ترجیحات کی شناخت کی قابلیت رکھتے ہیں؟

دریا سندھ کی سیلابی ہسٹری کو بہتر سمجھنے کیلیے ہمارے نہِیں بلکہ دوسرے ممالک سے جیولوجسٹ دن رات کام کر رہے ہیں، تا کہ آئندہ اس کے تباہ کن سیلابوں کی پیشن گوئی میں مدد مل سکے۔ ان میں سے ایک ایبرڈین یونورسٹی سکاٹ لینڈ یو کے کا پروفیسر پیٹر کلیف ہے جو دریا سندھ کا ماہر جیولوجسٹ ہے۔(کیا پاکستان میں کوئی پاکستانی جیولوجسٹ دریا سندھ کا ماہر نہیں؟ )

Geologists are working round the clock to better understand the ancient flood history of the Indus River.
Such history lessons will help to better predict its erratic behaviour and "plan for our own uncertain future", said Professor Peter Clift of Aberdeen University, an expert on the Indus River.
His team recently used makeshift "rigs" to drill down into the sands and mud of the Indus floodplain. By precisely dating layers of flood-deposited sand, they were able to work out past changes in river flow.
(بی بی سی انگلش سیکشن کے ایک آرٹیکل سےاقتباس)
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
rabab (06-10-10), نورالدین (15-10-10), مرزا عامر (11-09-10)
جواب

Tags
system, کمپیوٹر, گانے, پاکستان, وزیر, لوگ, چین, نماز, معلوم, معاشرہ, world, ایٹم بم, اللہ, انٹینا, انسان, امریکہ, اسکیم, اسلام, جام, خلاف, دیکھو, دعا, راستہ, زلزلہ, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فصیلِ اسلام آباد! فیصل ناصر سیاست 11 04-09-11 01:38 AM
بارش اور طوفان لانے والا ہتھیار ہارپ haarp ALI-OAD عمومی بحث 1 12-10-10 09:43 AM
مسجد اقصیٰ پر تازہ حملہ عبداللہ آدم خبریں 0 28-02-10 04:49 PM
وائرس: بینک تفصیلات چوری وجدان خبریں 0 05-11-08 12:51 PM
تفصیلی خبر:: زرداری وعدے پورے کرتے تو ملک بحران کا شکار نہ ہوتا:نواز شریف ابن جلال خبریں 0 12-10-08 08:11 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger