| 8 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا | Blue Chips (14-03-11), کنعان (04-03-11), مفتی (29-11-11), آبی ٹوکول (03-03-11), ارشد کمبوہ (03-03-11), اعجازلاثانی (27-02-12), بلال اویسی (28-02-12), حیدر Rehan (04-03-11) |
|
|
#256 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 26
کمائي: 719
شکریہ: 20
19 مراسلہ میں 52 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر تھریڈ کا مسلہ ہے تو میں نیا تھریڈ کھول دیتا ہوں جس سے آپ سے سوال ہو جائے گا یا آپ تھریڈ کھول لیں ؟ |
|
|
|
|
|
#257 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ کی یہ بات بلکل سو فیصد غلط ھے ۔ دوبارہ سے تاریخ اور موجودہ حقائد کا جائزہ لیجئیے ۔ اقتباس:
اقتباس:
امید ھے آپ سمجھ گئے ھوں گے والسلام حسین
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|||
|
|
|
|
#258 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حسین بھائی
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔شاید اس کی وجہ ہے کہ کتابت کی غلطیوں سے مطلب کچھ کا کچھ ہو گیا ہے۔کیا بات غلط ہے کچھ وضاحت توکریں!! |
|
|
|
|
#259 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 39
کمائي: 1,269
شکریہ: 8
36 مراسلہ میں 140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ کے انعام بے حدو حساب ہیں، میرے سوہنے رب نے دوسروں کے در پر سر جھکانے جوگا چھوڑا ہی نہیں۔ جو مانگا اس نے اپنی بے پایاںرحمت سے عطا کیا۔ غیراللہ سے مانگنے کے قائلین مجھے بتائیں جو شخص ساری زندگی اللہ کے سوا کسی سے نہ مانگے ا ن کے نزدیک اس پر کیا وبال ہے اور قیامت کے دن اسے کیاخسارا اٹھانا پڑے گا۔
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ابوالحسن کا شکریہ ادا کیا | skjatala (14-05-11), محمد عاصم (07-05-11), مرزا عامر (01-05-11), معظم (02-05-11), راجہ اکرام (01-05-11), عبداللہ آدم (02-05-11), عبداللہ حیدر (01-05-11) |
|
|
#260 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ پاک سے مانگنے کا کہیں بھی انکار نہیں کیا گیا اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ وَجَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ (المائدہ 35)اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ اقتباس:
وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہ مِنۡ فَضْلِہ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا کہ اللہ (عزوجل) اور حضور سیّـد عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فضل سے غنی فرماتے ہیںاور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللّٰہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا اقتباس:
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (النساء 64)کیااللہ تعالٰی اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا۔ پھریہ کیوں فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضرہوں اورتو اللہ سے ان کی بخشش چاہے تو یہ دولت ونعمت پائیں گے۔ یہی ہمارا مطلب ہے۔ جو قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔ عن معاویہ رضی اللّٰہ عنہ قال سمعت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) یقول من یرد اللّٰہ بہ خیرایفقھہ فی الدین وانما انا قاسم و اللّٰہ یعطی ولن تزال ھذہ الا مة قائمة علی امر اللّٰہ لایضر ھم من خالفھم حتیٰ یا ؟تی امر اللّٰہ۔ (بخاری شریف جلد اول ،مسلم جلد اول) حل لغات:یرد:ارادہ فرمائے ۔ یفقھہ:سمجھ عطا فرمائے۔قاسم : بانٹنے والا۔ یعطی:دیتا ہے ۔لایضرھم : نقصان نہ دے گا ۔یا ؟تی :آجائے ۔ترجمہ :”سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلیہ واصحابہ وسلم)کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعا لٰی جس کے ساتھ بھلا ئی کا ارادہ فرمائے، اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے اور میں (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ(عزوجل) عطا فرماتا ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی ۔ ان کی مخالفت کر نے والا ان کو ضرر نہ دے گا حتیٰ کہ قیامت آجائے ۔ “ اللہ پاک اپنے مقرب بندوں کو عطا فرماتا ہے اور وہ اللہ پاک کی عطاء سے مخلوقِ خدا کی مدد کرتے ہیں ، اولیاء اللہ کو باِذن اللہ مدد گار نہ ماننا اللہ تعالٰی کی ان پر عطاء کا اور بہت سی آیات اور احادیث کا منکر ہونا ہے جیسے ڈاکٹر میڈیسن دیتا ہے تو شفاء اللہ تعالٰی کے اِذن سے ہی ملتی ہے دوائیاں اور ڈاکٹر صرف وسیلہ ہیں ،وسیلہ کا ذکر بہت دفعہ آیا ہے جیسے البقرہ آیت 89 میں ہے وَکَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا اب اگر کوئی ان آیات اور احکامات کی روشنی میں اولیاء اللہ کو حاجت روا باِذن اللہ مان لے تو منکرین "حاجت روا باِذن اللہ" (بلکہ منکرین قرآن وحدیث) والوں کے نزدیک اس پر کیا وبال ہے اور قیامت کے دن اسے کیاخسارا اٹھانا پڑے گا؟اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہ مَنۡ یَّشَآءُ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ آل عمران 74
اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللّٰہ بڑے فضل والا ہے Last edited by مہتاب; 03-05-11 at 09:22 AM. وجہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے ساتھ درود پاک لکھنے سے رہ گیا تھا |
|||
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#261 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آیات اور احادیث درست ہیں مگر تعبیر صحیح نہیں۔
جائز اور مشروع وسیلہ کی اقسام بڑی تفصیل سے قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ انسان اپنے علم کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات شرک کی دلدل میں جا پھنستا ہے۔ ? E D H $ : X 7 $ @ 1 . |
|
|
|
|
#262 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (النساء 64)
Last edited by مہتاب; 04-05-11 at 10:16 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#263 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وسیلے کی شرعی اور جائز حدود
قرآن اور حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی نے توبہ کرنے والے کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنائےیااللہ رب العالمین کے پاک ناموں کےتوسل سے دعا مانگہے۔تاہم علماء کے درمیان انبیاءو صلحاء کو وسیلہ بنانے میں اختلاف ہے۔ہم لوگ قرآن و حدیث کاخود مطالعہ نہیں کرتے اورسنی سنائی باتوں کو دین سمجھ کر خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ علماء کا ایک گروہ کہتا ہے جب اللہ سے دعا کرنے والا کہتا ہے کہ اے اللہ میں تجھ سے فلاں نبی یاصالح بندے وغیرہم کی عزت اور حرمت اور وجاہت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں ۔اگرچہ اس دعا کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک ان مقربین کی سچ مچ حرمت اوروجاہت ہو اور اگر یہ دعا صحیح ہے تواللہ اس دعا کو قبول کرتا ہے۔ تاہم علماء کے دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ چونکہ دعا شرعي عبادات ميں سےايك عظيم عبادت ہے جس كےساتھ اللہ تعالي كا قرب حاصل كيا جاتا ہے،لہذا عبادت کو اسی طریقے سے کرنا چاہیے جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہےیا جس پر آپ نے عمل فرمایا ہے یا کسی صحابی کو عمل کرتے دیکھ کر اس کی تحسین فرمائی یاروکا ٹوکا نہیں۔ بندے كےلیےجائزنہيں كہ وہ اللہ تعالي كي عبادت اس طريقے سےكرے جو نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي زبان یا عمل سے مشروع نہيں۔حديث ميں نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:حضرت عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا بيان كرتي ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا،" جس نےبھي ہمارے دين ميں كوئي ايسا كام ايجاد كيا جواس(دین )ميں سے نہيں تو وہ كام مردود ہے"صحيح بخاري حديث نمبر ( 2499 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 3242 ) اور مسلم كي ايك روايت كےالفاظاس طرح ہيں:" جس نےبھي ايسا كوئي عمل كيا جس پرہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے" صحيح مسلم حديث نمبر ( 3243 ) علماء کا موخر الذکر گروہ کہتا ہے اللہ تعالي كواس كا وسيلہ يا واسطہ دينا جو نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم سےثابت نہيں نہ تو قولي اورفعلي طور پر اور نہ ہي ان صحابہ كرام نےكيا جونيكي اورخير ميں ہم سےزيادہ سبقت لےجانےوالےتھے تو ايسا كام كرنا بدعت اور برائي ہے۔وہ بندہ جو اللہ تعالي سےمحبت كرتا اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي اتباع وپيروي كرتا ہے وہ اس سےاجتناب كرے اورايسےطريقے سےعبادت نہ كرے جو شرعا ثابت نہيں۔ قرآن اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي زندگي ميں آپ کی دعا کووسيلہ بناتے تھے۔ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كےلیےاللہ تعالي سےدعا فرمايا كرتے تھے۔ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئےتوانہوں نے زندہ اور صالح افراد كو دعا كا وسيلہ بنايا،حالانکہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا مزار موجود تھا،لیکن کسی نے مزار کا رخ نہیں کیا،نہ ہی کبھی دعا میں آپ کی شان اور مرتبے کووسيلہ بنايا، جو كہ واضح طور پر اس بات كي دليل ہے كہ اگر نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي ذات يا ان كےمقام ومرتبے كا وسيلہ خيرو بھلائي اور مشروع ہوتا تو صحابہ كرام ہم سےسبقت لے جاتے۔ عمربن خطاب رضي اللہ تعالي عنہ نے نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد آپ کےچچا كو دعا كا وسيلہ بناياجيسا كہ صحيح بخاري ميں انس بن مالك رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتےہيں كہ :" جب قحط پڑتا تو عمر بن خطاب رضي اللہ تعالي عنہ عباس بن عبدالمطلب رضي اللہ تعالي عنہ سےدعا كرواتے اور يہ كہتے: اے اللہ ہم تيري طرف اپنےنبي كا وسيلہ بنايا كرتےتھےتو ہميں تو بارش عطا كرتا تھا، اور اب ہم اپنےنبي كےچچا كا وسيلہ بناتےہيں توہميں بارش عطا فرما، وہ كہتےہيں كہ بارش ہوجايا كرتي تھي.صحيح بخاري حديث نمبر ( 954 )۔ دور نبوت میں متعدد صحابہ كرام کی رویات ہیں كہ جب قحط سالي ہوتی اور بارش نہ ہوتي تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دعا كرنےکی درخواست کی جاتی۔ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كےدعا كرنےسےبارش ہوجاتي تھی۔ مصنف عبدالرزاق ميں ابن عباس رضي اللہ تعالي عنہما كي حديث آئی ہےكہ عمر رضي اللہ رضي اللہ تعالي نےعيدگاہ ميں بارش كي دعا كي اور عباس رضي اللہ تعالي عنہ كو كہنےلگے: اٹھو اور بارش كي دعا كرو، تو عباس رضي اللہ تعالى عنہ كھڑے ہوئے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ايك نيك ،صالح اور بزرگ شخص سےدعا کرانا صحيح اور مشروع ہے۔ اللہ تعالى ہميں آخری سانسوں تك اپنےدين اور شريعت پر ثابت قدم ركھے اور دین میں نئی اختراعات اور بدعات رائج کرنے سے مھفوط رکھے۔۔۔آمين۔ Last edited by عبدالہادی احمد; 07-05-11 at 09:29 AM. |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | skjatala (04-06-11), محمد عاصم (07-05-11), آبی ٹوکول (07-05-11), ارشد کمبوہ (08-05-11), عبداللہ حیدر (08-05-11) |
|
|
#264 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا | مفتی (20-01-12), اعجازلاثانی (07-03-12) |
|
|
#265 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ عزو جل تمام مسلمانوں کو حق سچ والے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر دے۔ ثمہ آمین۔
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (07-05-11), ارشد کمبوہ (08-05-11) |
|
|
#266 |
|
Senior Member
![]() |
سکجاتلا انکل ! ایسا تب ہی ممکن ہے جب قرآن پاک کو ایسے ہی سمجھا جائے جیسے اللہ پاک کی چاہت ہے
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#267 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
درست ترجمہ یہ ہے: "اگر جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ کے پاس آ جاتے اور یہ اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتے، تویقینا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے" |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | skjatala (14-05-11), ارشد کمبوہ (08-05-11) |
|
|
#269 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ پاک اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مخاطب ہے تو اس کا ترجمہ منشاء الٰہی کے مطابق باادب ہونا چاہئے ناکہ بے ادبی والا ۔۔۔۔۔
اس آیت کریمہ میں اللہ پاک کی چاہت کیا ہے ؟ اس پر غور فرمائیں! ایسے فضول اور بلا مقصد اعتراضات تو ہم بھی کر سکتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بات بڑھ جائے گی اور شائد آپ کی طبع پر گراں گزرے ۔ فی الحال تو آیت مقدسہ پر غور فرمائیں! کیا اللہ تعالٰی ڈائریکٹ نہیں بخش سکتا تھا۔ پھریہ کیوں فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضرہوں اورتو اللہ سے ان کی بخشش چاہے تو اللہ توبہ قبول فرمائے ۔ یہی ہمارا مطلب ہے۔ جو قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔ اس سے اگلی آیت بھی ملاحظہ فرمالیں فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا
تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#270 |
|
Senior Member
![]() |
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوئی, پسند, وسلم, قائم, قرآن, چاہت, نبوی, ملک, ملکی, ماں, مطابق, ایمان, اللہ, السلام, انسان, بے, بچے, ثابت, رکھنے, زندگی, سوال, علم, عادت, عزوجل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| غیرمحرم کو سلام کرنے کا حکم ! | شریف | متفرقات | 0 | 06-04-10 10:04 AM |
| زمبابوے پر اجلاس موگابے کے بغیر | محمدعدنان | خبریں | 0 | 12-04-08 01:51 AM |
| نیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کی پالیسی اختیار کی ،اسٹیفن فلیمنگنیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقی | عبدالقدوس | کرکٹ | 0 | 29-10-07 11:48 AM |