| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#62 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,791
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیدر ریحان صاحب، ایتھے وی آؤ۔
|
|
|
| ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (11-07-11) |
|
|
#63 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
#64 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اس کا جوب میں دے چکا ہوں پھر بھی اگر اس جواب کے بعد بھی کوئی سوال بنتا ہے تو شمشاد بھائی بس ایک لائن میں دوبارہ سوال لکھ دیں اگرچہ یہ مراسلہ ان کے اس سوال کا ہے بھی نہی شاید میں یہ پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں اس لیے امام حسین ع کے لیے ایک الگ مراسلہ کل پرسوں پیش کرونگا ان شااللہ ۔۔۔ Last edited by حیدر Rehan; 11-07-11 at 06:34 PM. |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ارشد کمبوہ (12-07-11) |
|
|
#65 |
|
Senior Member
![]() |
اہل تشیع کا موقف :
فنّ تنازعتم)میں مخاطبین وہی ہیں جو(یاایّہا الذین آمنوا)میں مخاطبین ہیں ۔یہاں مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔ اہلسنت حضرات کی تنقید قرطبی اورجصّاص نے جملہ(فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ والرّسول)کواس پر دلیل قراردیا کہ''اولوالامر'' سے مرادعلماء ہیں ،اورچونکہ جو علماء نہیں ہیں وہ خدا ورسولۖ کی طرف پلٹانے کی کیفیت کو نہیں جانتے ہیں ،اس لحاظ سے خدائے تعالیٰ نے علماء کوخطاب کیا ہے اورانھیں جھگڑے اوراختلاف کی صورت میں حکم دیاہے کہ اختلافی مسئلہ کو خدا اور رسول کی طرف پلٹادیں ۔ جامع احکام القرآن،ج٥،ص٢٦٠،دارالفکر۔ا حکام القرآن جصاص،ج٢،ص٢١٠،دارالکناف العربی۔ ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں اس قول کو پیش کیا ہے اورمذکورہ دومفسروں نے جو کچھ کہا ہے،اس کے خلاف ہے:جملہئ''فن تنازعتم''اس کی دلیل ہے کہ اولوالامر سے مراد علماء نہیں ہو سکتے ہیں ،کیونکہ مقلد مجتہد کے حکم کے بارے میں اس سے اختلاف نہیں کرسکتا ہے!مگر یہ کہ ہم کہیں کہ جملہ''فن تنازعتم''کا مقلدین سے کوئی ربط نہیں ہے اوریہ خطاب صرف علماء سے ہے اوراس سلسلہ میں کسی حد تک التفات ملا حظہ کیا گیا ہے لیکن یہ بھی بعید ہے۔ ارشاد العقل السلیم ،تفسیر ابوالسعود،ج٢،ص١٩٣،داراحیا ئ التراث العربی ،بیروت۔ قرطبی اورجصّاص کے لئے یہ اعتراض ہے کہ وہ التفات(توجہ) کے قائل ہوئے ہیں اور جملہ ''تنازعتم'' کو علماء سے خطاب جاناہے جبکہ بظاہر یہ ہے کہ' 'تنازعتم'' کا خطاب تمام مومنین سے ہے اوراس التفات کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ابوالسعودکا اشکال یہ ہے کہ اس نے آیہء شریفہ میں اختلاف کو ''اولوالامر''سے مراد علماء ہو نے کی صورت میں اختلاف بین علماء اور مقلدین سمجھا ہے ،جبکہ مؤ منین سے خطاب ہے،چونکہ مؤ منین آیہء شریفہ میں اولوالامر کے مقابلہ میں قراردئے گئے ہیں ،لہذاان کے اختلافات ان کے آپسی اختلافات ہوں گے،نہ کہ علماء کے فرض کر نے کی صورت میں اولوالامر کے ساتھ یہاں تک واضح ہوا کہ مذکورہ نکات کے پیش نظر''اولوالامر''سے مرادعلمائ نہیں ہوسکتے ہیں ۔قرطبی اورجصاص کا نظریہ بھی صحیح نہیں ہے،جنھوں نے التفات کا سہارالے کر اس قول کوصحیح قراردینے کی کوشش کی ہے اورابوالسعود کا نظریہ بھی درست نہ ہونے کی وجہ سے اس کامستردہونا واضح ہے۔ |
|
|
|
|
#66 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (27-07-11), سیفی خان (28-11-11) |
![]() |
| Tags |
| color, فن, کلام, وصیت, ممکن, ماں, مجید, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, بہترین, جاہل, حسن, خلاف, زندگی, سیاست, شخص, ظالم, غلط, صادق, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|