واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-11, 01:55 PM  
آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 20-05-11, 01:55 PM


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
(سورہ نسا٥٩)
''اے صاحبان ایمان! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور اولوالامر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔ یہی تمھارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔''


قرآن مجید کے سلسلہ میں ابتدائی اورسرسری نگاہ ڈالنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی آیتوں پر تدبر اور غورو خوض کرنا چاہئے۔

کیونکہ قرآن مجید کا ارشادہے:

فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ
(سورہ ملک / ۳ ۔ ۴)
”پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہیں کوئی شگاف تو نہیں ہے۔
اس کے بعد بار بار نگاہ ڈالو “


اس آیہ شریفہ میں مومنین سے خطاب ہے اور اللہ کی اطاعت، رسول ص کی اطاعت اور اولی الامر ع کی اطاعت کرنے کا حکم آیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ پہلے مرحلہ میں اللہ کی اطاعت،ان احکام کے بارے میں ہے کہ جو اللہ نے انھیں قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے اور رسول ص نے ان احکام کولوگوں تک پہنچایا ہے،جیسے کہ یہ حکم : ( وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ) رسول ص کے فرامین کی اطاعت دو حیثیت سے ممکن ہے :

١۔وہ فرمان جو سنّت کے عنوان سے آنحضرت (ص)کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں :

یہ اوامراگرچہ احکام الٰہی ہیں جو آنحضرت ۖ پر بصورت وحی نازل ہوئے ہیں اورآنحضرت ۖ نے انھیں لوگوں کے لئے بیان فرمایاہے،لیکن جن مواقع پریہ اوامر''مرکم بکذااونّہاکم من ہذا''(میں تم کو اس امرکا حکم دیتا ہوں یااس چیزسے منع کرتاہوں )کی تعبیرکے ساتھ ہوں (کہ فقہ کے باب میں اس طرح کی تعبیریں بہت ہیں )ان اوامراورنواہی کوخودآنحضرت ۖکے اوامر ونواحی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے نتیجہ کے طور پر ان کی اطا عت آنحضرت ۖ کی اطاعت ہوگی،چونکہ مذکورہ احکام خداکی طرف سے ہیں ،اس لئے ان احکام پرعمل کرنا بھی خداکی اطاعت ہوگی۔

٢۔وہ فرمان،جو آنحضرت (ص) نے مسلمانوں کے لئے ولی اورحاکم کی حیثیت سے جاری کئے ہیں ۔

یہ وہ احکام ہیں جوتبلیغ الہی کا عنوان نہیں رکھتے ہیں بلکہ انھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لحاظ سے جاری فرمایاہے کہ آپۖ مسلمانوں کے ولی،سرپرست اورحاکم تھے،جیسے جنگ وصلح نیزحکومت اسلامی کوادارہ کرنے اورامت کی سیاست کے سلسلہ میں جاری کئے جا نے والے فرامین۔

آیہء شریفہ میں (وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ) کا جملہ مذکورہ دونوں قسم کے فرمانوں پرمشتمل ہے۔


تمام اوامر و نواہی میں نبی اکرم (ص) کی عصمت

نبی اکرم ص ۖ کی عصمت کو ثابت کرنے کے بارے میں علم کلام میں بیان شدہ قطعی دلائل کے پیش نظر،آنحضرت ۖہر شے کا حکم دینے یا کسی چیز سے منع کرنے کے سلسلہ میں بھی معصوم ہیں ۔ آپ (ع) نہ صرف معصیت وگناہ کا حکم نہیں دیتے ہیں ،بلکہ آنحضرت ۖ،امرونہی میں بھی خطا کر نے سے محفوظ ہیں ۔

ہم اس آیہء شریفہ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرت ۖ کی اطاعت مطلق اورکسی قیدوشرط کے بغیربیان ہوئی ہے۔اگرآنحضرت ۖ کے امرونہی کرنے کے سلسلہ میں کوئی خطا ممکن ہوتی یااس قسم کا احتمال ہوتا تو آیہء شریفہ میں آنحضرت ۖ کی اطاعت کا حکم قیدوشرط کے ساتھ ہوتا اور خاص مواقع سے مربوط ہوتا۔

ماں باپ کی اطاعت جیسے مسائل میں ،کہ جس کی اہمیت نبی اکرم ۖ کی اطاعت سے بہت کم ہے،لیکن جب خدائے متعال والدین سے نیکی کرنے کا حکم بیان کرتا ہے،تو فرماتا ہے:

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا
(عنکبوت ٨)
''اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے کی وصیت کی ہے اور بتایا ہے کہ اگر وہ تم کو میرا شریک قرار دینے پر مجبور کریں کہ جس کہ کا تمھیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا۔''


جب احتمال ہوکہ والدین شرک کی طرف ہدایت کریں توشرک میں ان کی اطاعت کرنے سے منع فرماتاہے، لیکن آیہء کریمہ (اُولیّ المر) میں نبی اکرم ۖ کی اطاعت کوکسی قیدوشرط سے محدودنہیں کیاہے۔

ایک اورنکتہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکی متعدد آیات میں آنحضرت ۖ کی اطاعت خداوند متعال کی اطاعت کے ساتھ اور لفظ ''طیعوا'' کی تکرار کے بغیر ذکر ہوئی ہے۔ آیہء شریفہ (وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) یعنی''اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ مورد رحمت قرار پاؤ '' مذکورہ میں صرف ایک لفظ ''طیعوا'' کا اللہ اور نبی ص دونوں کے لئے استعمال ہونا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ۖ کی اطاعت کا واجب ہونا خدا کی اطاعت کے واجب ہونے کے مانند ہے۔ اس بناء پر نبی اکرم ۖ کے امر پر اطاعت کرنا قطعی طور پر اطلاق رکھتا ہے اور ناقابل شک وشبہ ہے۔

اُولوالاامرکی اطاعت
ائمہ علیہم السلام کی امامت و عصمت کے سلسلہ میں آیہ مذکورہ سے استفادہ کر نے کے لئے مندرجہ چندابعادپرتوجہ کرناضروری ہے:
ا۔اولوالامر کا مفہوم
٢۔اولوالامر کا مصداق
٣۔اولوالامر اور حدیث ''منزلت'' حدیث ''اطاعت'' اور حدیث ''ثقلین''
٤۔شیعہ اور سنی منابع میں اولوالامرکے بارے میں چند احادیث


اولوالامرکامفہوم
اولو الامر کا عنوان ایک مرکب مفہوم پرمشتمل ہے۔اس جہت سے پہلے لفظ''اولوا''اورپھرلفظ''الامر ''پرتوجہ کرنی چاہئے:

اصطلاح''اولوا''صاحب اور مالک کے معنی میں ہے اورلفظ''امر''دومعنی میں آیاہے:ایک''فرمان''کے معنی میں دوسرا''شان اورکام''کے معنی میں ۔''شان وکام''کامعنی زیادہ واضح اور روشن ہے،کیونکہ اسی سورئہ نساء کی ایک دوسری آیت میں لفظ''اولی الامر''بیان ہواہے:


وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ
(نسا٨٣)
''اور جب ان کے پاس امن ی اخوف کی خبر آتی ہے تو فوراً نشر کر دیتے ہیں حالانکہ اگر رسولۖ اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان میں ایسے افراد تھے کہ جو حقیقت حال کا علم پیدا کر لیتے.
..''

اس آیہء شریفہ میں دوسرا معنی مقصود ہے،یعنی جو لوگ زندگی کے امور اور اس کے مختلف حالتوں میں صاحب اختیارہیں ،اس آیت کے قرینہ کی وجہ سے''اولی الامر''کا لفظ مورد بحث آیت میں بھی واضح ہوجاتاہے۔

مورد نظرآیت میں اولوالامرکے مفہوم کے پیش نظر ہم اس نکتہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ''اولوالامر''کا لفظ صرف ان لوگوں کو شامل ہے جو در حقیقت فطری طورپرامورکی سرپرستی اورصاحب اختیارہونے کے لائق ہیں اورچونکہ خداوندمتعال ذاتی طورپرصاحب اختیارہے اورتمام امورمیں سرپرستی کااختیاررکھتاہے، اور یہ بھی کہ ھدایت و رہنمائی خدا ہی کی طرف سے ہے اس لیے یہ حکم بھی صابت کرتا ہے .اس لئے اس نے یہ سرپرستی انھیں عطاکی ہے ۔خواہ اگربظاہرانھیں اس عہدے سے محروم کر دیاگیا ہو،نہ ان لوگوں کو جو زوروزبردستی اورناحق طریقہ سے مسلط ہو کر لوگوں کے رہبر و رہنما و حکمران بن گئے ہیں ۔
اس لئے کہ صاحب خانہ وہ ہوتا ہے جوحقیقت میں اس کامالک ہو چا ہے وہ غصب کر لیا گیا ہو،نہ کہ وہ شخص جس نے زورو زبر دستی یامکروفریب سے اس گھرپرقبضہ کر لیا ہے۔

اولوالامرکا مصداق
اولوالامرکے مصادیق کے بارے میں مفسرین نے بہت سے اقوال پیش کئے ہیں ۔اس سلسلہ میں جونظریات ہمیں دستیاب ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :
١۔ امرء
٢۔ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
٣۔ مہاجرین وانصار
٤۔ اصحاب اور تابعین
٥۔ چارو خلفائے امت
٦۔ ابوبکروعمر )رض)
٧۔ علماء
٨۔ جنگ کے کمانڈر
٩۔ ائمہء معصومین (علیہم السلام)
١٠۔ علی (علیہ السلام)
١١۔ وہ لوگ جوشرعی لحاظ سے ایک قسم کی ولایت اورسرپرستی رکھتے ہیں ۔
١٢۔ اہل حل وعقد
١٣۔ امرائے حق

حوالہ :-تفسیرالبحرالمحیط،ج٣،ص٢٧٨، التفسیرالکبیر

ان اقوال پرتحقیق اورتنقیدکرنے سے پہلے ہم خودآیہء کریمہ میں موجودنکات اورقرائن پرغورکرتے ہیں :

آیت میں اولوالامرکامرتبہ اور اطاعت کی کیفیت :

پہلانکتہ: اولوالامرکی اطاعت میں اطلاق آیہء شریفہ میں اولوالامرکی اطاعت مطلق طور پرذکرہوئی ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط بیان نہیں ہوئی ہے،جیساکہ رسول اکرم صل ۖ کی اطاعت میں اس بات کی تشریح کی گئی۔

یہ اطلاق اثبات کرتاہے کہ ’’اولوالامر‘‘ مطلق اطاعت کے حامل و سزاوارہیں اوران کی اطاعت خاص دستور،مخصوص حکم یا کسی خاص شرائط کے تحت محدود نہیں ہے، بلکہ ان کے تمام اوامرونواہی واجب الاطاعت ہیں ۔


دوسرانکتہ: اولوالامرکی اطاعت،اللہ اوررسولۖ ص کی اطاعت کے سیاق میں یعنی ان تین مقامات کی اطاعت میں کوئی قیدوشرط نہیں ہے اوریہ سیاق مذکورہ اطلاق کی تاکیدکرتاہے۔

تیسرانکتہ: اولوالامر میں ''طیعوا'' کا تکرار نہ ہونا۔

گزشتہ نکات سے اہم تر اس نکتہ کامقصدیہ ہے کہ اللہ اور رسول ص کی اطاعت کے لئے آیہء شریفہ میں ہرایک کے لئے الگ سے ایک ''طیعوا'' لایا گیا ہے اور فرمایاہے: ( ۔۔۔ وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ ) لیکن ’’اولوالامر‘‘ کی اطاعت کے لئے''طیعوا'' کے لفظ کی تکرار نہیں ہوئی ہے بلکہ اولی الامر ''الرسول'' پر عطف ہے، اس بنا پر وہی''طیعوا'' جو ’’رسول‘‘ کے لئے آیا ہے وہ ’’اولی الامر‘‘سے بھی متعلق ہے۔

اس عطف سے معلوم ہوتاہے کہ ''اولوالامر''اور''رسول'' کے لئے اطاعت کے حوالے سے دو الگ الگ واجب نہیں ہیں بلکہ وجوب اطاعت اولوالامر وہی ہے جو وجوب اطاعت رسولۖ ہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اولوالامر کی اطاعت تمام امر ونہی میں رسول اکرم ۖکی اطاعت کے مانندہے اوراس کانتیجہ گناہ وخطاسے اولوالامرکی عصمت،تمام اوامرونواہی میں رسولۖ کے مانندہے۔

اس برہان کی مزید وضاحت کے لئے کہا جا سکتا ہے: آیہء شریفہ میں رسول اکرم ص اور اولوالامر کی اطاعت کے لئے ایک''طیعوا''سے زیادہ استعمال نہیں ہوا ہے اور یہ ''طیعوا'' ایک ہی وقت میں مطلق بھی ہو اور مقیّد بھی یہ نہیں ہو سکتا ہے یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ''طیعوا'' رسول اللہ ۖ کے بارے میں مطلق ہے اوراولوالامرکے بارے میں مقیّدہے، کیونکہ اطلاق اور قیدقابل جمع نہیں ہیں ۔اگر''طیعوا''رسول ص ۖ کے بارے میں مطلق ہے اورکسی قسم کی قیدنہیں رکھتا ہے، (مثلاًاس سے مقیّدنہیں ہے کہ آنحضرت ۖ کا امرونہی گناہ یا اشتباہ کی وجہ سے نہ ہو) تواولوالامر کی اطاعت بھی مطلق اوربلا قید ہو نی چاہئے ورنہ نقیضین کاجمع ہونا لازم ہوگا۔

ان نکات کے پیش نظریہ واضح ہو گیا کہ آیہء کریمہ اس امر پر دلالت کر تی ہے کہ اس آیت میں ''اولوالامر''رسول مکرم ص کے مانند معصوم ہیں ۔

ایک اورنکتہ جو ''اولوالامر'' کے معنی کو ثابت کرنے کے لئے بہت مؤثر ہے وہ جملہئ شرطیہ میں ( أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ ) کے بعد ''فائے تفریع'' کا پایا جا نا ہے۔

یہ جملہء شرطیہ یوں آیاہے: (فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ و رسول) اختلافی مسائل کواللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے کاوجوب،خدا،رسولۖ اوراولی الامرکی اطاعت کے وجوب پرمتفرع ہواہے،اوراس بیان سے بخوبی سمجھ میں آتاہے کہ اختلافی مسائل کوخدااوررسول ۖکی طرف پلٹانے میں اولوالامرکی اطاعت دخالت رکھتی ہے۔یہ تفریع دوبنیادی مطلب کی حامل ہے:


١۔اولوالامرکی عصمت :
اس لحاظ سے کہ اگراولوالامرخطااورگناہ کامرتکب ہو گااور اختلافی مسائل میں غلط فیصلہ دے گا تواس کے اس فیصلہ کاکتاب وسنت سے کوئی ربط نہیں ہوگاجبکہ تفریع دلالت کرتی ہے کہ چونکہ اولی الامرکی اطاعت ضروری ہے لہذا چاہیئے کہ،اختلافی مسائل کوخدا اور رسول ۖ کی طرف پلٹا یا جائے۔



٢۔کتاب وسنت کے بارے میں کامل ووسیع معلو مات:
اس لحاظ سے اگراولی الامر کتاب وسنت کے ایک حکم سے بھی جاہل ہواوراس سلسلہ میں غلط حکم جاری کرے تواس حکم میں اس کی طرف رجوع کرناگویاکتاب وسنت کی طرف رجوع نہ کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ''فائے تفریع''سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اولی الامرکی اطاعت مسلسل اختلافی مسائل کوکتاب وسنت کی طرف پلٹانے کاسبب ہے۔اس لئے آیہء شریفہ میں فائے تفریع، کاوجوداولی الامر کے تعین کے لئے کہ جس سے مرادائمہ معصومین (ع)واضح قرینہ ہے۔

اس سلسلہ میں بھی نبی (ص) اورامام(ع) دونوں کی اطاعت کے لئے ان کی معرفت کی شرط ہے۔اس لحاظ سے ان کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے۔پس ان کی اطاعت کاوجوب مطلقاًہے،لیکن خوداطاعت مشروط ہے

مذکورہ نکات سے استفادہ کی صورت میں اب تک درج ذیل چندمطالب واضح ہوگئے:

١۔آیہء شریفہ میں ''اولی الامر''سے مرادجوبھی ہیں ان کاامرونہی کر نے میں گناہ اورخطاسے معصوم ہونا ضروری ہے۔

٢۔اولی الامرکا انطباق اہل حل وعقدپر صحیح ودرست نہیں ہے۔(جیساکہ فخررازی کا نظریہ ہے)

٣۔اب تک جوکچھ ثابت ہوچکا ہے اس کے پیش نظراگر''اولی الامر''کے بارے میں ہمارے بیان کئے گئے گیارہ اقوال پرنظرڈالیں ،توآیہء کریمہ کی روشنی میں ''اولی الامر''سے مراد تنہاشیعہ امامیہ کا نظریہ قابل قبول ہے اوریہ امران کے علاوہ دوسروں کے عدم عصمت پراجماع ہونے کی بھی تاکیدکرتاہے۔


ظالم حکام اولوالامر نہیں ہیں
اولوالامرکے مفہوم میں اشارہ کیاگیاکہ اولوالامرمیں صرف وہ لوگ شامل ہیں ،جوامت کی سرپرستی ان کے امور کے مالک ہوں ،اوریہ عنوان ان پر بھی صادق ہے کہ جنھیں ظلم اورناحق طریقہ سے امت کی سرپرستی سے علیحدہ کیاگیاہے۔اس کی مثال اس مالک مکان کی جیسی ہے،جس کے مکان پرغاصبانہ قبضہ کرکے اسے نکال باہرکر دیاگیاہو۔

دوسرانکتہ جو''اولوالامر''کے مقام کی عظمت اور اس کے بلند مر تبہ ہونے پر دلالت کرتا ہے وہ''اولوالامر''کا اللہ اور رسول ۖکے او پرعطف ہوناہے۔مطلقاً وجوب اطاعت میں اللہ ا ورر سول کے ساتھ یہ اشتراک و مقا رنت ایک ایسا رتبہ ہے جوان کے قدرومنزلت کے لائق افراد کے علاوہ دوسروں کے لئے میسرنہیں ہے۔


یہ دواہم نکتے(مفہوم ''اولوالامر'' اوروجوب اطاعت کے سلسلہ میں الوالامر کا خدا و رسولۖ پر عطف ہونا) خود ''اولوالامر'' کے دائرے سے ظالم حکام کے خارج ہونے کو واضح کرتا ہے۔


علماء بھی اولوالامرنہیں ہیں

''اولوالامر''کا مفہوم سرپرستی اورولایت کو بیان کرتا ہے اورعلماء کا کردار لوگوں کووضاحت اور آگاہی دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے،

کیونکہ ایک تو،''اولوالامر''کے عنوان سے صاحبان علم وفقہ ذہن میں نہیں آتے ہیں مگریہ کہ خارج سے اس سلسلہ میں کوئی دلیل موجود ہو جس کے روسے علماء اوردانشوروں کو سر پرستی حاصل ہو جائے اوریہ دلالت آیت کے علاوہ ہے جنہوں نے اس قول کو پیش کیاہے،وہ اس لحاظ سے ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے معاملات میں علماء کی اطاعت کرکے ان کی راہنمائی سے استفادہ کریں ۔

اس قول کے بارے میں کہ''اولوالامر''سے مراد علماء ہیں ،مفسرین کے بیانات میں بعض قابل غور باتیں دیکھنے میں آتی ہیں ،شائستہ نکات کو ملحوظ رکھتے ہو ئے آیت میں غور وخوص ان اعتراضات کو واضح کر دیتا ہے

پہلا نکتہ: (فنّ تنازعتم) میں مخاطبین وہی ہیں جو ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ) میں مخاطبین ہیں ۔ '' آیت میں مخاطب مو منین '' کا اولوالامر کے درمیان تقابل کا قرینہ متقاضی ہے کہ ''الذین آمنوا'' ''اولوالامر'' کے علاوہ ہوں کہ جس میں حاکم و فرمانروا اولوالامر اور مطیع وفرمانبردار مومنین قرار دیئے جائیں ۔

دوسرانکتہ: اس نکتہ کے پیش نظر،مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔


تیسرانکتہ: یہ کہ مو منین سے خطاب مورد توجہ واقع ہو اور اس کو اولی الامر کی طرف موڑ دیا جائے ،یہ سیاق آیت کے خلاف ہے اوراس تو جہ کے بارے میں آیہء شریفہ میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اہلسنت و الجماعت کے دیگر خداشات و ان کے جوابات اگے پڑھیے ۔ ۔ ۔
تحریر رضا کاردان

Last edited by کنعان; 21-05-11 at 05:15 AM.. وجہ: صرف عربی متن کی درسگتی کی ھے

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1858
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-06-11), مرزا عامر (20-05-11), اویسی (01-06-11), شمشاد احمد (20-05-11)
پرانا 15-06-11, 10:35 PM   #61
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آیت اولی الامر کی صحیح تفسیر پڑھنے کے لئے اسے ضرور پڑھیں
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (17-06-11), شمشاد احمد (15-06-11)
پرانا 11-07-11, 04:07 PM   #62
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,791
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر ریحان صاحب، ایتھے وی آؤ۔
ارشد کمبوہ آن لائن ہے  
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (11-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:21 PM   #63
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
حیدر ریحان صاحب، ایتھے وی آؤ۔
لو جی آگئے ۔۔۔۔دسو کی پرابلم اے ؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 11-07-11, 04:40 PM   #64
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
(1)۔۔۔۔۔۔قرباني كي ضرورت كيا تھي
(2)۔۔۔۔۔۔اس قرباني كا فائدہ كيا ہوا
(3)۔۔۔۔۔۔اگر نہ ہوتي تو نقصان كيا ہوتا۔
شكريہ۔
آخری دن شمشاد بھائی سے یہیں بات ہورہی تھی اور شاید یہی اخری سوال بھی تھا
اس کا جوب میں دے چکا ہوں
پھر بھی اگر اس جواب کے بعد بھی کوئی سوال بنتا ہے تو شمشاد بھائی بس ایک لائن میں دوبارہ سوال لکھ دیں اگرچہ یہ مراسلہ ان کے اس سوال کا ہے بھی نہی شاید میں یہ پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں اس لیے امام حسین ع کے لیے ایک الگ مراسلہ کل پرسوں پیش کرونگا ان شااللہ ۔۔۔

Last edited by حیدر Rehan; 11-07-11 at 06:34 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 06:44 PM   #65
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اہل تشیع کا موقف :
فنّ تنازعتم)میں مخاطبین وہی ہیں جو(یاایّہا الذین آمنوا)میں مخاطبین ہیں ۔
یہاں مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔


اہلسنت حضرات کی تنقید
قرطبی اورجصّاص نے جملہ(فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ والرّسول)کواس پر دلیل قراردیا کہ''اولوالامر'' سے مرادعلماء ہیں ،اورچونکہ جو علماء نہیں ہیں وہ خدا ورسولۖ کی طرف پلٹانے کی کیفیت کو نہیں جانتے ہیں ،اس لحاظ سے خدائے تعالیٰ نے علماء کوخطاب کیا ہے اورانھیں جھگڑے اوراختلاف کی صورت میں حکم دیاہے کہ اختلافی مسئلہ کو خدا اور رسول کی طرف پلٹادیں ۔
جامع احکام القرآن،ج٥،ص٢٦٠،دارالفکر۔ا حکام القرآن جصاص،ج٢،ص٢١٠،دارالکناف العربی۔


ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں اس قول کو پیش کیا ہے اورمذکورہ دومفسروں نے جو کچھ کہا ہے،اس کے خلاف ہے:جملہئ''فن تنازعتم''اس کی دلیل ہے کہ اولوالامر سے مراد علماء نہیں ہو سکتے ہیں ،کیونکہ مقلد مجتہد کے حکم کے بارے میں اس سے اختلاف نہیں کرسکتا ہے!مگر یہ کہ ہم کہیں کہ جملہ''فن تنازعتم''کا مقلدین سے کوئی ربط نہیں ہے اوریہ خطاب صرف علماء سے ہے اوراس سلسلہ میں کسی حد تک التفات ملا حظہ کیا گیا ہے لیکن یہ بھی بعید ہے۔
ارشاد العقل السلیم ،تفسیر ابوالسعود،ج٢،ص١٩٣،داراحیا ئ التراث العربی ،بیروت۔


قرطبی اورجصّاص کے لئے یہ اعتراض ہے کہ وہ التفات(توجہ) کے قائل ہوئے ہیں اور جملہ ''تنازعتم'' کو علماء سے خطاب جاناہے جبکہ بظاہر یہ ہے کہ' 'تنازعتم'' کا خطاب تمام مومنین سے ہے اوراس التفات کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

ابوالسعودکا اشکال یہ ہے کہ اس نے آیہء شریفہ میں اختلاف کو ''اولوالامر''سے مراد علماء ہو نے کی صورت میں اختلاف بین علماء اور مقلدین سمجھا ہے ،جبکہ مؤ منین سے خطاب ہے،چونکہ مؤ منین آیہء شریفہ میں اولوالامر کے مقابلہ میں قراردئے گئے ہیں ،لہذاان کے اختلافات ان کے آپسی اختلافات ہوں گے،نہ کہ علماء کے فرض کر نے کی صورت میں اولوالامر کے ساتھ یہاں تک واضح ہوا کہ مذکورہ نکات کے پیش نظر''اولوالامر''سے مرادعلمائ نہیں ہوسکتے ہیں ۔قرطبی اورجصاص کا نظریہ بھی صحیح نہیں ہے،جنھوں نے التفات کا سہارالے کر اس قول کوصحیح قراردینے کی کوشش کی ہے اورابوالسعود کا نظریہ بھی درست نہ ہونے کی وجہ سے اس کامستردہونا واضح ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 27-07-11, 11:33 AM   #66
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
آخری دن شمشاد بھائی سے یہیں بات ہورہی تھی اور شاید یہی اخری سوال بھی تھا
اس کا جوب میں دے چکا ہوں
پھر بھی اگر اس جواب کے بعد بھی کوئی سوال بنتا ہے تو شمشاد بھائی بس ایک لائن میں دوبارہ سوال لکھ دیں اگرچہ یہ مراسلہ ان کے اس سوال کا ہے بھی نہی شاید میں یہ پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں اس لیے امام حسین ع کے لیے ایک الگ مراسلہ کل پرسوں پیش کرونگا ان شااللہ ۔۔۔
نہيں‌محترم ميرے سوال كا جواب آپ نے‌كہيں بھي نہيں‌ديا۔۔۔۔ آپ نے جو حضرت حسين رضي اللہ تعالي عنہ كي شہادت كي فلاسفي بيان كي تھي اس پر ميں نے مذكورہ تين سوال پوچھے تھے۔۔۔۔ ليكن آپ كي فلاسفي كي روشني ميں پيدا ہونے‌والے تينوں سوالات كے جوابات آپ نے نہيں‌ديئے۔۔۔۔ اگر ديئے ہيں تو نشاندھي كر ديجئے ميں دوبارہ ديكھ ليتا ہوں۔۔۔۔
شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (27-07-11), سیفی خان (28-11-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, فن, کلام, وصیت, ممکن, ماں, مجید, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, بہترین, جاہل, حسن, خلاف, زندگی, سیاست, شخص, ظالم, غلط, صادق, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:33 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger