واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 06:12 PM  
ª!ª حقیقت بدعت ª!ª
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 01-08-09, 06:12 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 7323
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 17-09-10, 07:35 AM   #121
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 35
کمائي: 995
شکریہ: 86
33 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا بدعت کئے بغیر دین مکمل نہیں؟

ما شاء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھائی عبداللہ آدم اور محترم عادل سہیل کی جانب سےخالص دین اسلام کی اشاعت و فروغ کیلئے کی گئی محنت کو قبول فرمائے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

حیرت کی بات ہے خود کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والوں کو اللہ کے نبی صلی الله علیه وسلم كا دیا هوا دین مكمل كیوں نهیں لگتا۔ وه كیوں چاهتے هیں كه جس طرح عیسائیوں كے پوپ كو اجازت ہے ان کے دین میں تبدیلی كی اِن كے علماء كو بھی نه روكا جائے۔
ٹھیک ہے قیامت تک کے مومنین کے راستہ پر ہی چلنا چاہیئے مگر مومنین ہیں کون؟ مومنین وہی ہیں جو مومنوں کے امام اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ نہ کہ وہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے دین کو نامکمل سمجھیں اور اپنی طرف سے اس میں اضافہ کریں۔

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح بخاری)

اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دین کی تکمیل کرتے ہوئے سونے، جاگنے، کروٹ بدلنے، گھبراہٹ سے ڈرنے ، آئینہ دیکھنے ، بازار جانے، سفر کرنے، مصیبت کے وقت، خوشی کے وقت حتہ کے بیت الخلا میں داخل ہونے اور باہر نکلنے وقت تک کی دعائیں بھی سکھا دیں۔ شاید ہی کوئی ایسی دینی و دنیاوی ضرورت ہو جس کی اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہ سکھا دی ہو۔ پھر بھی عاشقانان رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین میں کوئی کمی لگتی ہے کہ آئے روز نیا طریقہ نکالا ہوتا ہے ثواب کمانے کا؟

حصول ثواب کیلئے میلاد شریف کی تقریبات منعقد کرنے والے کتنے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے جن کو امن، خوشحالی، سلامتی اور نیکیوں کے حصول کیلئے سکھائی گئی یہ دعائیں یاد ہونگی؟؟؟

خدا کے بندو اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین پر تو پہلے پوری طرح عمل کر لو، ہاں اگر وہ کم محسوس ہونے لگے تو پھر نئ نئ چیزیں نکالو اور پھر جب روز قیامت حوض کوثر پر ان سے ملو تو بتانا کہ ہم نے آپ کے بعد یہ یہ نئے نیک کام شروع کئے تھے جو (نعوذ باللہ، ثم نعوذ باللہ) آپ ہمیں‌ بتا کر نہیں آئے تھے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ حوض کوثر پر اتریں گے یہاں تک کہ میں ان کو پہچان لوں گا وہ میرے سامنے سے کھینچ کر لے جائے جائیں گے تو میں کہونگا کہ میری امت کے لوگ ہیں اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے۔ (بخاری)
۔۔۔اللہ تعالی فرمائیں گے کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہو کہ اس نے آپ کے بعد نئی باتیں گھڑی تھیں (مسلم)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Last edited by آصف وسیم; 17-09-10 at 08:14 AM.
آصف وسیم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آصف وسیم کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (14-10-10), shafresha (17-09-10), محمد عاصم (22-09-10), مرزا عامر (17-09-10), عادل سہیل (17-09-10), عبداللہ ناصر (19-09-11), عبداللہ حیدر (17-09-10)
پرانا 17-09-10, 06:29 PM   #122
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
خوش آمدید بھائی آصف وسیم ،
اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے اور آپ کو اس سے بھی بہتر عطا فرمإئے جو آپ نے اپنے دو مسلمان بھإئیوں کے لیے اللہ سے مانگا ہے ،
اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کو ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حقوق اور محبت کا درست فہم عطا فرمائے اور ادإئیگی کی ہمت بھی ، جزاک اللہ خیرا آصف بھائی ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (22-09-10), آصف وسیم (18-09-10)
پرانا 12-03-11, 08:50 PM   #123
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 39
کمائي: 1,269
شکریہ: 8
36 مراسلہ میں 140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اللہ کے بندے ، میرے محترم بھائی ، کیا آپ واقعتا دِین میں ایجاد کیے گئے نئے کاموں ، نئے عقائد ، نئی عبادات ، یا پہلے سے موجود عقائد اور عبادات میں اضافے یا کمی میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے ؟؟؟؟؟
یا دُنیاوی معاملات میں نئے کاموں کی مثال دے کر دینی شرعی بدعات کی راہ کو جان بوجھ کر صراطء مُستقیم کے ساتھ جوڑ کر اپنے """ تصورات """ کے مطابق اسلام میں """ کشادہ راہیں """ بنانا چاہ رہے ہیں ؟؟؟؟؟
بہت شکریہ عادل صاحب۔ یہ اہم نکتہ بیان کیا ہے۔
ابوالحسن آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-09-11, 12:14 AM   #124
Senior Member
 
Ferozi's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشااللہ عابد بھائی بہت زبردست اور ایمان افروز بیان ہے آپ کا شکریہ
Ferozi آف لائن ہے   Reply With Quote
Ferozi کا شکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ (12-09-11)
پرانا 20-09-11, 09:57 PM   #125
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آصف وسیم صاحب آپ پہلے علم حاصل کریں بلا وجہ فتوے مت لگائیں
ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان)

بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164)

آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان)
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), کنعان (22-09-11), مفتی (29-11-11), آبی ٹوکول (21-09-11)
پرانا 20-09-11, 10:03 PM   #126
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔
میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), کنعان (22-09-11), مفتی (29-11-11), آبی ٹوکول (21-09-11)
پرانا 20-09-11, 10:15 PM   #127
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سوال نمبر ُُُُُُ 1: بدعت کسے کہتے ہیں؟
جواب :بدعت اس نئی چیز کو کہتے ہیں جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں نکلی ہو، پھر اس کی دو قسمیں ہیں، ایک بدعت ضلالت جس کو بدعت سیئہ بھی کہتے ہیں اور دوسری بدعت محمود ہ جس کو بدعت حسنہ بھی کہتے ہیں۔
سوال نمبر ُُُُُُ 2: بدعت سیئہ کسے کہتے ہیں؟
جواب :بدعت سیئہ وہ نو پید بات ہے جو کتاب (قرآن) اور سنت (حدیث) اور اجماع امت کے مخالف ہو یا یوں کہنا چاہیے کہ جو نو پید بات کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی برائی شروع سے ثابت ہے تو وہ بری اور بدعت سیئہ ہے اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔
سوال نمبر ُُُُُُ 3: بدعت حسنہ کسے کہتے ہیں؟
جواب :جو ناپید بات یا نئی چیز کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت کے مخالف نہ ہو وہ بدعت محمود یا بدعت حسنہ کہلاتی ہے یا یوں سمجھو کہ جو نئی بات کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شروع سے ثابت ہے۔ تو وہ اچھی بات اور بدعت حسنہ ہے اور بدعت مستحب بلکہ سنت د واجب تک ہوتی ہے۔
سوال نمبر 4: صحابہ یا تابعین کے بعد جو بات نو پید ہو وہ بدعت سےّئہ ہے یا نہیں؟
جواب :کسی نو پید بات کا بدعت سےّئہ یا حسنہ ہونا کسی زمانہ پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ کتاب و سنت اور اجماع امت کی موافقت یا مخالف پر ہے تو جس امر کی اصل ، شرع شریف سے ثابت ہو کہ کتاب و سنت اور اجماع کے مخالف نہ ہو وہ ہرگز بدعت سےئہ نہیں خواہ کسی زمانے میں ہو، خود صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ رائج رہا ہے کہ اپنے زمانے کی بعض نوپید چیزوں کو منع کرتے اور بعض جو جائز رکھتے۔
حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں ’’نعمت البدعتہ ھٰذہِ‘‘ یہ اچھی بدعت ہے حالانکہ تراویح سنت موکدہ ہے سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو نماز میں بسم اللہ بآواز پڑھتے سن کر فرمایا۔ ’’یا نبی محدث ایاک و الھد یث‘‘ اے میرے بیٹے ! یہ نوپید بات ہے۔ نئی باتوں سے بچ، تو معلوم ہو اکہ ان کے نزدیک بھی اپنے زمانے میں ہونے یا نہ ہونے پر مدار نہ تھا بلکہ نفس فعل کو دیکھتے اگر اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہوتی تو اجازت دیتے ورنہ منع فرما دیتے اور انھیں برا کہتے ۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بات پیدا کرنے والے کو سنت نکالنے والا فرمایا تو قیامت تک نئی نئی باتیں پیدا کرنے کی اجازت فرمائی اور یہ کہ جو نئی بات نکالے گا۔ ثواب پائے گا اور قیامت تک جتنے اس پر عمل کریں گے سب کا ثواب اسے ملے گا، چاہے وہ عبادت ہو یا کوئی ادب کی بات یا کچھ اور ہو مگر یہ بات نہیں کہ جس زمانے کے جاہل جو بات چاہیں اپنی طرف سے نکال لیں اور وہ بدعت حسنہ ہو جائے۔ یہ گفتگو علمائے دین اور پابند شرع مسلمین کے بارے میں ہے کہ یہ جو امر ایجاد کر لیں اور اسے جائز ومستحب کہیں وہ بے شک جائز و مستحب ہے، چاہے کبھی واقع ہو تو اس نیک بات کا کرنے والا ہی سنی کہلائے گا نہ کہ بدعتی۔

Last edited by ملک اظہر; 20-09-11 at 10:19 PM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-09-11), مرزا عامر (20-09-11), آبی ٹوکول (21-09-11)
پرانا 21-09-11, 10:45 PM   #128
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آصف وسیم مراسلہ دیکھیں
ما شاء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھائی عبداللہ آدم اور محترم عادل سہیل کی جانب سےخالص دین اسلام کی اشاعت و فروغ کیلئے کی گئی محنت کو قبول فرمائے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

حیرت کی بات ہے خود کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والوں کو اللہ کے نبی صلی الله علیه وسلم كا دیا هوا دین مكمل كیوں نهیں لگتا۔ وه كیوں چاهتے هیں كه جس طرح عیسائیوں كے پوپ كو اجازت ہے ان کے دین میں تبدیلی كی اِن كے علماء كو بھی نه روكا جائے۔
ٹھیک ہے قیامت تک کے مومنین کے راستہ پر ہی چلنا چاہیئے مگر مومنین ہیں کون؟ مومنین وہی ہیں جو مومنوں کے امام اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ نہ کہ وہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے دین کو نامکمل سمجھیں اور اپنی طرف سے اس میں اضافہ کریں۔

انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح بخاری)

اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دین کی تکمیل کرتے ہوئے سونے، جاگنے، کروٹ بدلنے، گھبراہٹ سے ڈرنے ، آئینہ دیکھنے ، بازار جانے، سفر کرنے، مصیبت کے وقت، خوشی کے وقت حتہ کے بیت الخلا میں داخل ہونے اور باہر نکلنے وقت تک کی دعائیں بھی سکھا دیں۔ شاید ہی کوئی ایسی دینی و دنیاوی ضرورت ہو جس کی اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہ سکھا دی ہو۔ پھر بھی عاشقانان رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین میں کوئی کمی لگتی ہے کہ آئے روز نیا طریقہ نکالا ہوتا ہے ثواب کمانے کا؟

حصول ثواب کیلئے میلاد شریف کی تقریبات منعقد کرنے والے کتنے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے جن کو امن، خوشحالی، سلامتی اور نیکیوں کے حصول کیلئے سکھائی گئی یہ دعائیں یاد ہونگی؟؟؟

خدا کے بندو اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین پر تو پہلے پوری طرح عمل کر لو، ہاں اگر وہ کم محسوس ہونے لگے تو پھر نئ نئ چیزیں نکالو اور پھر جب روز قیامت حوض کوثر پر ان سے ملو تو بتانا کہ ہم نے آپ کے بعد یہ یہ نئے نیک کام شروع کئے تھے جو (نعوذ باللہ، ثم نعوذ باللہ) آپ ہمیں‌ بتا کر نہیں آئے تھے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ حوض کوثر پر اتریں گے یہاں تک کہ میں ان کو پہچان لوں گا وہ میرے سامنے سے کھینچ کر لے جائے جائیں گے تو میں کہونگا کہ میری امت کے لوگ ہیں اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے۔ (بخاری)
۔۔۔اللہ تعالی فرمائیں گے کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہو کہ اس نے آپ کے بعد نئی باتیں گھڑی تھیں (مسلم)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آپ کو صرف میلاد شریف منانے والے عاشقوں پر ھی حیرانی کیوں ھویئ
سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔

رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129)

اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان)

صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔

عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں
کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

Last edited by ملک اظہر; 21-09-11 at 10:51 PM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (21-09-11), کنعان (22-09-11), مفتی (29-11-11), آبی ٹوکول (21-09-11)
پرانا 22-09-11, 08:01 PM   #129
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی اظہر ملک صاحب ، پاک نیٹ پر خوش آمدید ،
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور بدعت کی تقسیم کے بارے میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے بارے میں میرا مشورہ ہے کہ آپ درج ذیل کتاب کا مطالعہ فرمایے ،
""" عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """
""" عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """
اس کتاب میں‌عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں آپ جو کچھ فرما رہے ہیں ، اور جو کچھ نہیں فرمایا ان سب کا ان شاء اللہ شافی و کافی جواب موجود ہے ،
آپ اگر تحمل اور بردباری کے ساتھ ، اور ہر قسم مسلکی مذہبی ضد سے آزاد ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اِن شاء اللہ بڑی خیر ہو گی ،
اور اگر آپ یہاں پاک نیٹ میں ہی اس موضوع پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو پاک نیٹ انتظامیہ سے اجازت لے کر ایک الگ تھریڈ شروع کر لیجیے ، ان شاء اللہ آپ کے تمام تر فرمودات کا مکمل و مدلل جواب حاضر کر دیا جإئے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (23-09-11)
پرانا 23-09-11, 08:02 PM   #130
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی اظہر ملک صاحب ، پاک نیٹ پر خوش آمدید ،
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور بدعت کی تقسیم کے بارے میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے بارے میں میرا مشورہ ہے کہ آپ درج ذیل کتاب کا مطالعہ فرمایے ،
""" عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """
""" عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """
اس کتاب میں‌عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں آپ جو کچھ فرما رہے ہیں ، اور جو کچھ نہیں فرمایا ان سب کا ان شاء اللہ شافی و کافی جواب موجود ہے ،
آپ اگر تحمل اور بردباری کے ساتھ ، اور ہر قسم مسلکی مذہبی ضد سے آزاد ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اِن شاء اللہ بڑی خیر ہو گی ،
اور اگر آپ یہاں پاک نیٹ میں ہی اس موضوع پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو پاک نیٹ انتظامیہ سے اجازت لے کر ایک الگ تھریڈ شروع کر لیجیے ، ان شاء اللہ آپ کے تمام تر فرمودات کا مکمل و مدلل جواب حاضر کر دیا جإئے گا ، و السلام علیکم۔
اسلام علیکم !
چاچا جی ہُن اینج تے نہ کرو ساڈے نال ؟ کی ہُن تُسی ساڈے نال اینج کروگے ایہہ تے زیادتی اے پرا جی؟؟؟؟

ہم نے آپ کے ایک ایک اعتراض کا تفصیلی جواب دیا اس مکالمے میں جبکہ آُ پنے فقط دو مراسلات لکھ کر مکمل کرنے کا وقت مانگا تھا جو ہم نے بخوشی دیا اور بعد میں جب طویل مدت گزرگئی تو ہم نے بطور خیر سگالی کے کبھی اس موضوع کو چھڑا نہیں کہ پاک نیٹ پر آپ اور ہم ہمارے مشترکہ مخالفین یعنی منکرین حدیث ٹائپ لوگوں کے ساتھ مصروف تھے بلکہ اصل میں آپ ان لوگوں کے ساتھ زیادہ مصروف تھے اور ہیں سو ہم نے بھلائی اسی میں سمجھی کو آپ کو اس اصل محاذ سے ڈسٹرب نہ کیا جائے وگرنہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہم آج بھی آپکی طرفسے ہمارے تمام سوالوں کے جوابات اور دلائل کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں اور جہاں تک بات ہے کتابوں کی تو بازار بھرے پڑیں فریقین کے نزاعی مسائل پر دلائل کی کتب سے آپ نے خوامخواہ میں یہاں تردد کیا ۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (23-09-11), ملک زوالفقار (30-09-11)
پرانا 23-09-11, 09:05 PM   #131
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم !
چاچا جی ہُن اینج تے نہ کرو ساڈے نال ؟ کی ہُن تُسی ساڈے نال اینج کروگے ایہہ تے زیادتی اے پرا جی؟؟؟؟

ہم نے آپ کے ایک ایک اعتراض کا تفصیلی جواب دیا اس مکالمے میں جبکہ آُ پنے فقط دو مراسلات لکھ کر مکمل کرنے کا وقت مانگا تھا جو ہم نے بخوشی دیا اور بعد میں جب طویل مدت گزرگئی تو ہم نے بطور خیر سگالی کے کبھی اس موضوع کو چھڑا نہیں کہ پاک نیٹ پر آپ اور ہم ہمارے مشترکہ مخالفین یعنی منکرین حدیث ٹائپ لوگوں کے ساتھ مصروف تھے بلکہ اصل میں آپ ان لوگوں کے ساتھ زیادہ مصروف تھے اور ہیں سو ہم نے بھلائی اسی میں سمجھی کو آپ کو اس اصل محاذ سے ڈسٹرب نہ کیا جائے وگرنہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہم آج بھی آپکی طرفسے ہمارے تمام سوالوں کے جوابات اور دلائل کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں اور جہاں تک بات ہے کتابوں کی تو بازار بھرے پڑیں فریقین کے نزاعی مسائل پر دلائل کی کتب سے آپ نے خوامخواہ میں یہاں تردد کیا ۔۔۔والسلام
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، عابد بھإئی کہ آپ نے ایک بہت اچھی مصلحت پر عمل کیا اور عمل پیرا ہیں ، میں بھی اسی پر عمل پیرا رہ کر آپ سے یا کسی بھی اور بھإئی سے ایسے کسی موضوع پر بحث نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ہمارے دین کی دوسری بنیاد سنت مبارکہ کے خلاف کام کرنے والوں کو کوٕئی تقویت میسر ہو سکے ،
یہاں بھإئی اظہر ملک صاحب نے ایک بات کو پھر سے چھیڑ دیا ، اور اس سے پہلے کو یہاں ایک اور ایسی بحث چھڑ جإئے جس پر مکمل بات چیت میسر ہے ، میں نے انہیں اس کتاب کا لنک دیا ، کہ وہ اسے پڑھ لیں ، ان شاء اللہ ان کے مراسلے میں مذکور اور غیر مذکور باتوں کا جواب اس میں مل جإئے گا ،
جی آپ کا کہنا درست ہے کہ بازار کتابوں سے بھرے پڑے ہیں ، لیکن عابد بھإئی میں نے کسی بازار کا پتہ نہیں بتایا ، اور نہ ہی کسی اور کی کتاب کا ، یہ کتاب میری ہی لکھی ہوٕئی ہے ، اس لیے اس کے مطالعے کا حوالہ دیا کہ ہمارے بھإئی ملک صاحب کو اس کے مطالعے کے بعد بھی اگر کوٕئی نٕئی بات معلوم ہو ، تو اس کا ذکر کر دیں ، ہم مل جل کر اس پر بھی غور کر لیں گے ، اور اللہ تعالیٰ حق واضح کر کے ہی رہتا ہے ،
ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا عابد بھإئی ، اللہ نے چاہا تو آپ کے یہاں بیان کردہ فرمودات کے جوابات بھی مہیا کروں گا ، میں ہمیشہ ہی اس عمل کا خواہاں ہوں کہ لکڑیوں کا گھٹا جڑا ہی رہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (23-09-11)
پرانا 27-02-12, 09:04 PM   #132
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 30
کمائي: 638
شکریہ: 0
22 مراسلہ میں 62 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ آبی بھائی اور ملک اظہر بھائی بہت خوب اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے
مفتی محمد یاسر قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مفتی محمد یاسر قادری کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (19-03-12), آبی ٹوکول (27-02-12)
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 05:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 09:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 08:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger