|
|
#121 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 35
کمائي: 995
شکریہ: 86
33 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ما شاء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھائی عبداللہ آدم اور محترم عادل سہیل کی جانب سےخالص دین اسلام کی اشاعت و فروغ کیلئے کی گئی محنت کو قبول فرمائے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) حیرت کی بات ہے خود کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والوں کو اللہ کے نبی صلی الله علیه وسلم كا دیا هوا دین مكمل كیوں نهیں لگتا۔ وه كیوں چاهتے هیں كه جس طرح عیسائیوں كے پوپ كو اجازت ہے ان کے دین میں تبدیلی كی اِن كے علماء كو بھی نه روكا جائے۔ ٹھیک ہے قیامت تک کے مومنین کے راستہ پر ہی چلنا چاہیئے مگر مومنین ہیں کون؟ مومنین وہی ہیں جو مومنوں کے امام اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ نہ کہ وہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے دین کو نامکمل سمجھیں اور اپنی طرف سے اس میں اضافہ کریں۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح بخاری) اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو دین کی تکمیل کرتے ہوئے سونے، جاگنے، کروٹ بدلنے، گھبراہٹ سے ڈرنے ، آئینہ دیکھنے ، بازار جانے، سفر کرنے، مصیبت کے وقت، خوشی کے وقت حتہ کے بیت الخلا میں داخل ہونے اور باہر نکلنے وقت تک کی دعائیں بھی سکھا دیں۔ شاید ہی کوئی ایسی دینی و دنیاوی ضرورت ہو جس کی اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہ سکھا دی ہو۔ پھر بھی عاشقانان رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین میں کوئی کمی لگتی ہے کہ آئے روز نیا طریقہ نکالا ہوتا ہے ثواب کمانے کا؟ حصول ثواب کیلئے میلاد شریف کی تقریبات منعقد کرنے والے کتنے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونگے جن کو امن، خوشحالی، سلامتی اور نیکیوں کے حصول کیلئے سکھائی گئی یہ دعائیں یاد ہونگی؟؟؟ خدا کے بندو اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین پر تو پہلے پوری طرح عمل کر لو، ہاں اگر وہ کم محسوس ہونے لگے تو پھر نئ نئ چیزیں نکالو اور پھر جب روز قیامت حوض کوثر پر ان سے ملو تو بتانا کہ ہم نے آپ کے بعد یہ یہ نئے نیک کام شروع کئے تھے جو (نعوذ باللہ، ثم نعوذ باللہ) آپ ہمیں بتا کر نہیں آئے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ حوض کوثر پر اتریں گے یہاں تک کہ میں ان کو پہچان لوں گا وہ میرے سامنے سے کھینچ کر لے جائے جائیں گے تو میں کہونگا کہ میری امت کے لوگ ہیں اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے۔ (بخاری) ۔۔۔اللہ تعالی فرمائیں گے کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہو کہ اس نے آپ کے بعد نئی باتیں گھڑی تھیں (مسلم) اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) Last edited by آصف وسیم; 17-09-10 at 08:14 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے آصف وسیم کا شکریہ ادا کیا | Aurangzeb Yousaf (14-10-10), shafresha (17-09-10), محمد عاصم (22-09-10), مرزا عامر (17-09-10), عادل سہیل (17-09-10), عبداللہ ناصر (19-09-11), عبداللہ حیدر (17-09-10) |
|
|
#122 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
خوش آمدید بھائی آصف وسیم ، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے اور آپ کو اس سے بھی بہتر عطا فرمإئے جو آپ نے اپنے دو مسلمان بھإئیوں کے لیے اللہ سے مانگا ہے ، اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کو ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حقوق اور محبت کا درست فہم عطا فرمائے اور ادإئیگی کی ہمت بھی ، جزاک اللہ خیرا آصف بھائی ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#123 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مراسلات: 39
کمائي: 1,269
شکریہ: 8
36 مراسلہ میں 140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#125 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آصف وسیم صاحب آپ پہلے علم حاصل کریں بلا وجہ فتوے مت لگائیں
ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان) بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164) آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان) |
|
|
|
|
|
#126 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔
میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#127 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال نمبر ُُُُُُ 1: بدعت کسے کہتے ہیں؟
جواب :بدعت اس نئی چیز کو کہتے ہیں جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں نکلی ہو، پھر اس کی دو قسمیں ہیں، ایک بدعت ضلالت جس کو بدعت سیئہ بھی کہتے ہیں اور دوسری بدعت محمود ہ جس کو بدعت حسنہ بھی کہتے ہیں۔ سوال نمبر ُُُُُُ 2: بدعت سیئہ کسے کہتے ہیں؟ جواب :بدعت سیئہ وہ نو پید بات ہے جو کتاب (قرآن) اور سنت (حدیث) اور اجماع امت کے مخالف ہو یا یوں کہنا چاہیے کہ جو نو پید بات کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی برائی شروع سے ثابت ہے تو وہ بری اور بدعت سیئہ ہے اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔ سوال نمبر ُُُُُُ 3: بدعت حسنہ کسے کہتے ہیں؟ جواب :جو ناپید بات یا نئی چیز کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت کے مخالف نہ ہو وہ بدعت محمود یا بدعت حسنہ کہلاتی ہے یا یوں سمجھو کہ جو نئی بات کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شروع سے ثابت ہے۔ تو وہ اچھی بات اور بدعت حسنہ ہے اور بدعت مستحب بلکہ سنت د واجب تک ہوتی ہے۔ سوال نمبر 4: صحابہ یا تابعین کے بعد جو بات نو پید ہو وہ بدعت سےّئہ ہے یا نہیں؟ جواب :کسی نو پید بات کا بدعت سےّئہ یا حسنہ ہونا کسی زمانہ پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ کتاب و سنت اور اجماع امت کی موافقت یا مخالف پر ہے تو جس امر کی اصل ، شرع شریف سے ثابت ہو کہ کتاب و سنت اور اجماع کے مخالف نہ ہو وہ ہرگز بدعت سےئہ نہیں خواہ کسی زمانے میں ہو، خود صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ رائج رہا ہے کہ اپنے زمانے کی بعض نوپید چیزوں کو منع کرتے اور بعض جو جائز رکھتے۔ حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں ’’نعمت البدعتہ ھٰذہِ‘‘ یہ اچھی بدعت ہے حالانکہ تراویح سنت موکدہ ہے سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو نماز میں بسم اللہ بآواز پڑھتے سن کر فرمایا۔ ’’یا نبی محدث ایاک و الھد یث‘‘ اے میرے بیٹے ! یہ نوپید بات ہے۔ نئی باتوں سے بچ، تو معلوم ہو اکہ ان کے نزدیک بھی اپنے زمانے میں ہونے یا نہ ہونے پر مدار نہ تھا بلکہ نفس فعل کو دیکھتے اگر اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہوتی تو اجازت دیتے ورنہ منع فرما دیتے اور انھیں برا کہتے ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بات پیدا کرنے والے کو سنت نکالنے والا فرمایا تو قیامت تک نئی نئی باتیں پیدا کرنے کی اجازت فرمائی اور یہ کہ جو نئی بات نکالے گا۔ ثواب پائے گا اور قیامت تک جتنے اس پر عمل کریں گے سب کا ثواب اسے ملے گا، چاہے وہ عبادت ہو یا کوئی ادب کی بات یا کچھ اور ہو مگر یہ بات نہیں کہ جس زمانے کے جاہل جو بات چاہیں اپنی طرف سے نکال لیں اور وہ بدعت حسنہ ہو جائے۔ یہ گفتگو علمائے دین اور پابند شرع مسلمین کے بارے میں ہے کہ یہ جو امر ایجاد کر لیں اور اسے جائز ومستحب کہیں وہ بے شک جائز و مستحب ہے، چاہے کبھی واقع ہو تو اس نیک بات کا کرنے والا ہی سنی کہلائے گا نہ کہ بدعتی۔ Last edited by ملک اظہر; 20-09-11 at 10:19 PM. |
|
|
|
|
|
#128 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,574
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آپ کو صرف میلاد شریف منانے والے عاشقوں پر ھی حیرانی کیوں ھویئ سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129) اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان) صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔ عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں Last edited by ملک اظہر; 21-09-11 at 10:51 PM. |
|
|
|
|
|
|
#129 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی اظہر ملک صاحب ، پاک نیٹ پر خوش آمدید ، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور بدعت کی تقسیم کے بارے میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے بارے میں میرا مشورہ ہے کہ آپ درج ذیل کتاب کا مطالعہ فرمایے ، """ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """ """ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """ اس کتاب میںعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں آپ جو کچھ فرما رہے ہیں ، اور جو کچھ نہیں فرمایا ان سب کا ان شاء اللہ شافی و کافی جواب موجود ہے ، آپ اگر تحمل اور بردباری کے ساتھ ، اور ہر قسم مسلکی مذہبی ضد سے آزاد ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اِن شاء اللہ بڑی خیر ہو گی ، اور اگر آپ یہاں پاک نیٹ میں ہی اس موضوع پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو پاک نیٹ انتظامیہ سے اجازت لے کر ایک الگ تھریڈ شروع کر لیجیے ، ان شاء اللہ آپ کے تمام تر فرمودات کا مکمل و مدلل جواب حاضر کر دیا جإئے گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | آبی ٹوکول (23-09-11) |
|
|
#130 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
چاچا جی ہُن اینج تے نہ کرو ساڈے نال ؟ کی ہُن تُسی ساڈے نال اینج کروگے ایہہ تے زیادتی اے پرا جی؟؟؟؟ ہم نے آپ کے ایک ایک اعتراض کا تفصیلی جواب دیا اس مکالمے میں جبکہ آُ پنے فقط دو مراسلات لکھ کر مکمل کرنے کا وقت مانگا تھا جو ہم نے بخوشی دیا اور بعد میں جب طویل مدت گزرگئی تو ہم نے بطور خیر سگالی کے کبھی اس موضوع کو چھڑا نہیں کہ پاک نیٹ پر آپ اور ہم ہمارے مشترکہ مخالفین یعنی منکرین حدیث ٹائپ لوگوں کے ساتھ مصروف تھے بلکہ اصل میں آپ ان لوگوں کے ساتھ زیادہ مصروف تھے اور ہیں سو ہم نے بھلائی اسی میں سمجھی کو آپ کو اس اصل محاذ سے ڈسٹرب نہ کیا جائے وگرنہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہم آج بھی آپکی طرفسے ہمارے تمام سوالوں کے جوابات اور دلائل کے مکمل ہونے کے منتظر ہیں اور جہاں تک بات ہے کتابوں کی تو بازار بھرے پڑیں فریقین کے نزاعی مسائل پر دلائل کی کتب سے آپ نے خوامخواہ میں یہاں تردد کیا ۔۔۔والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | Ferozi (23-09-11), ملک زوالفقار (30-09-11) |
|
|
#131 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا، عابد بھإئی کہ آپ نے ایک بہت اچھی مصلحت پر عمل کیا اور عمل پیرا ہیں ، میں بھی اسی پر عمل پیرا رہ کر آپ سے یا کسی بھی اور بھإئی سے ایسے کسی موضوع پر بحث نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ہمارے دین کی دوسری بنیاد سنت مبارکہ کے خلاف کام کرنے والوں کو کوٕئی تقویت میسر ہو سکے ، یہاں بھإئی اظہر ملک صاحب نے ایک بات کو پھر سے چھیڑ دیا ، اور اس سے پہلے کو یہاں ایک اور ایسی بحث چھڑ جإئے جس پر مکمل بات چیت میسر ہے ، میں نے انہیں اس کتاب کا لنک دیا ، کہ وہ اسے پڑھ لیں ، ان شاء اللہ ان کے مراسلے میں مذکور اور غیر مذکور باتوں کا جواب اس میں مل جإئے گا ، جی آپ کا کہنا درست ہے کہ بازار کتابوں سے بھرے پڑے ہیں ، لیکن عابد بھإئی میں نے کسی بازار کا پتہ نہیں بتایا ، اور نہ ہی کسی اور کی کتاب کا ، یہ کتاب میری ہی لکھی ہوٕئی ہے ، اس لیے اس کے مطالعے کا حوالہ دیا کہ ہمارے بھإئی ملک صاحب کو اس کے مطالعے کے بعد بھی اگر کوٕئی نٕئی بات معلوم ہو ، تو اس کا ذکر کر دیں ، ہم مل جل کر اس پر بھی غور کر لیں گے ، اور اللہ تعالیٰ حق واضح کر کے ہی رہتا ہے ، ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا عابد بھإئی ، اللہ نے چاہا تو آپ کے یہاں بیان کردہ فرمودات کے جوابات بھی مہیا کروں گا ، میں ہمیشہ ہی اس عمل کا خواہاں ہوں کہ لکڑیوں کا گھٹا جڑا ہی رہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | آبی ٹوکول (23-09-11) |
|
|
#132 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 30
کمائي: 638
شکریہ: 0
22 مراسلہ میں 62 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ آبی بھائی اور ملک اظہر بھائی بہت خوب اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 05:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 09:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 08:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:28 AM |