|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 548
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | قاسمی (15-06-11), محمد عاصم (16-06-11), حیدر (15-06-11), حیدر Rehan (17-06-11), راجہ اکرام (15-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), غلام خان (13-07-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
شیعہ کہتے ہیں
:........ کہ یہ آیت اولی الامر حضرت علی رض کی خلافت بلا فصل اور عصمت آئمہ کے لئے نص صریح ہے اور آیت انما ولیکم اللہ کے بعد اسی کا نمبر ہی۔ اس آیت سے استدلال کرنے میں شیعوؤں نے کئی رنگ بدلے ہیں سب سے پہلا اور اصلی رنگ یہ ہے ۔ کہ اس آیت میں تحریف ہو گئی ہے اور اصلی آیت یوں تھی یاایھا الذین اٰ منوا اطیعوااللہ و اطیعواالرسول واولی الامر منکم فان خفتم تنازع فی امر فردوہ الی اللہ والی الرسول واولی الامر منکم ترجمہ : یعنی اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور اولی الامر کی ۔ اور تم کو آپس میں کسی بات میں نزاع پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس کو اللہ اور رسول اور اولی الامر کی طرف رجوع کرو مطلب یہ ہے کہ اولواالامر بھی مثل رسول ہی۔ مولوی مقبول احمد اپنے ترجمہ قرآن مطبوعہ مقبول پریس دہلی کے صفحہ ۸۳۱ میں لکھتے ہیں کافی اور عیاشی میں جناب امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ حضرت آیت کو یوں تلاوت فرماتے تھے ’’ فان خفتم تنازعا فی امر فردوہ الی اللہ و الی الرسول والی اولی الامر منکم ‘‘ اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اولوالامر کی اطاعت کا حکم بھی دے اور پھر ان سے جھگڑا کرنے کی اجازت بھی دے بلکہ یہ حکم تو ان مامورین کے حق میں ہے جن سے اطیعو اللہ کہا گیا ہے ۔ الحمدللہ ... کہ خود شیعوں نے بلکہ ان کے امام محمد باقر نے اقرار کرلیا کہ قرآن شریف میں یہ آیت جن الفاظ میں ہے ان سے اولواالامر کا غیر معصوم ہونا ثابت ہوتا ہی۔ کیونکہ معصوم سے جھگڑا کرنے کی اجازت نہیں ہو سکتی اور اس اقرار سے روزروشن کی طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آیت مذکورہ بالفاظ موجودہ شیعوں کے دو ازدہ امام پر صادق نہیں آسکتی ۔ کیونکہ وہ بزعم شیعہ معصوم تھی۔ ہاں ... اہل سنت کے نزدیک اس تفسیر کی بنا پر کہ اولواالامر سے علماء فقہاء مراد ہوں حضرات حسنین رضی اللہ عنہما و باقی بزرگان خاندان نبوی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین اولواالامر میں داخل ہو سکتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امام مہدی جب پیدا ہونگے اور انکے ہاتھ پر جب بیعت ہو جائیگی ۔ لفظ اولواالامر کے مصداق میں اس تفسیر کی بنا پر خلیفہ بھی داخل ہیں اور ہونگے ۔ کیونکہ اہل سنت کے نزدیک یہ سب حضرات غیر معصوم ہیں ۔ اب رہا .... اس آیت کو محرف کہنا یا اس کے مضمون پر اعتراض کرنا یہ نتیجہ ہے قرآن شریف پر ایمان نہ ہونے کا جس کے جواب دینے کی ہمیں ضرورت نہیں ۔ کیونکہ دنیا میں کون ذی عقل ہے جو قرآن شریف جیسی کتاب کو جس کی محفوظیت بلا شبہ عدیم المثال اور مسلم الکل معجزہ ہے غیر مسلم تک اس کا اقرار کر چکے ہیں ۔ چند خود غرض اور ابولہوس لوگوں کے بے دلیل بکواس سے محرف مان لے گا یا اس کی ایک صاف اور معقول بات کو مورد اعتراض قرار دے گا ۔ شیعوں کے مطابق امام باقر صاحب نے جو یہ اعتراض قرآن پر کیا ہے کہ ’’ کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اولوالامر کی اطاعت کا حکم بھی دے اور پھر ان سے جھگڑا کرنے کی اجازت بھی دے ‘‘ ۔ ایک عجیب منطق ہے کہ خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اولواالامر کی اطاعت ہر بات میں آنکھ بند کرکے کرنا واجب ہے یہ شان صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ان کا ہر حکم وحی الٰہی ہے اور ہر ان کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا واجب ہی۔ اولواالامر کی ا طاعت صرف انہیں امور میں ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہوں ۔ اگر شیعہ کہیں کہ غیر معصوم کی اطاعت کسی بات میں بھی درست نہیں تو یہ فطرۃ اللہ کے خلاف ہو گا ۔ خود معصوم کے زمانے میں بھی لوگ غیر معصوم کی اطاعت کرنے پر مامور اور مجبور تھی۔فرض کرو کہ ( کفرض المکذوبات) کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معصوم ہیں لیکن وہ کوفہ میں رہتے تھے اطراف و جوانب میں نزدیک دور مقامات میں ان کے عامل ، قاضی مقرر تھے جو غیر معصوم تھے وہاں کے لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ ہر خلیفہ کے زمانہ میں ایسا ہوا ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایسا ہوا اور ایسا نہ ہو تو نظام خلافت ہی قائم نہیں رہ سکتا ۔ خود شیعوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ یہ بات چلنے والی نہیں سوا شیعوں کے مٹھی بھر فرقے کے کوئی انسان قرآن شریف کی کسی آ یت کو محرف اور مبدل ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا لہٰذا اس آیت سے استدلال کرنے کے لئے دوسرا رنگ بدلا گیا ۔ دوسرا رنگ...... شیعوں کے قبلوں کے قبلہ جناب کلینی صاحب نے اس آیت کے متعلق ابو بصیر اور امام جعفر صادق کی ایک گفتگو نقل کی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام موصوف نے اپنے باپ کے خلاف اس آیت کو غیر محرف مان کر فرمایا کہ اولی الامر سے مراد حضرت علی و حسنین رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔ ابو بصیر نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ حضرت علی اور ان کے اہل بیت کا نام آیت میں کیوں نہ لیا گیا ( تاک آیت اولی الامر کی مراد سب پر ظاہر ہو جاتی ) اس کا کوئی معقول جواب امام صاحب نہ دے سکے اب اصل عبارت اصول کافی صفحہ نمبر ۳۷۱ پر ملاحظہ ہو عن ابی بصیر قال سالت ابا عبداللہ علیہ السلام عن قول اللہ عزووجل اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم فقال نزلت فی علی بن طالب والحسن والحسین علیہم السلام فقلت لہ ان الناس یقولون فمالہ لم یسم علیا اول بیتہ علیہم السلام فی کتاب اللہ عزووجل قال فقال قولولہم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزلت علیہ الصلوۃ ولم یسم لہم ثلٰثا ولا اربعا حتیٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھوالذی فسر ذٰلک لہم ونزلت علیہ الزکوۃ ولم یسم لہم من کل اربعین درھما درھم حتیٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسر ذٰلک لہم ونزل الحج فلم یقل لہم طوفوا اسبوعا ھتٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھوالذی فسر لہم ذٰلک ترجمہ : ابو بصیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میںنے امام جعفر علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے قول ( اطیعواللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم) کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا یہ آیت علی بن ابی طالب اور حسن و حسین علیہم السلام کے حق میں اتری ہے میںنے ان سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے علی کا اور ان کے ا ہل بیت علیہم السلام کا نام قرآن میں نہ لیا ۔ امام نے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہ دینا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز کا حکم اترا مگر خدا نے نہ بتلایا کہ تین رکعت یا چار رکعت یہاں تک رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل لوگوں سے بیان کی اور زکوٰۃ کا حکم اترا مگر خدا نے نہ بتلایا کہ ہر چالیس درھم میں ایک درھم زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لوگوں سے بیان کیا اور حج کا حکم نازل ہوامگر خدا نے یہ نہ فرمایا کہ سات مرتبہ طواف کرو یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ان سے فرمائی ۔ ف ... شیعہ کے مطابق امام جعفر صادق نے جو جواب ابو بصیر کو دیا وہ بچند وجہ غیر معقول ہی اول ... یہ کہ سوال تھا مسلہ امامت کے متعلق جو شیعوں کے ہاں اصول دین میں ہے اور مدار نجات ہے جواب میں امام صاحب نے نماز ، روزہ وغیرہ فروعات پر قیاس کیا یہ قیاس مع الفارق نہیں تو کیا ہے اعمال کی تفصیل قرآن میں نہ ہوئی تو اس سے عقائد کی تفصیل نہ کرنے کا جواب کیونکر نکلا ۔ دوم ... یہ کہ نماز کی تعداد رکعات یا نصاب زکوۃ کا بیان قرآن میں نہ ہوا تو کسی خلاف مراد مضمون کی طرف ذہن نہ گیا بخلاف اس کے لفظ اولواالامر کی مراد نہ بیان کرنے سے ذہن اب اسی عام معنی کی طرف جاتا ہے جو ازروئے لغت مفہوم ہوتے ہیں حالانکہ وہ معنی خلاف مراد ہیں جاری |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سوم .... یہ کہ بالفرض یہ سب مان لیا جائے تو اما م کو چاہیئے تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہی پیش کرتے جس میں اولواالامر کی مراد بیان کی گئی ہوتی لیکن انہوں نے یہ بھی نہ کیااور نہ کر سکتے تھے علاوہ اسکے سب سے بڑا نقص امام صاحب کے استدلال میں یہ ہے کہ اولی الامر سے حضرت علی و حسنین رضی اللہ عنہم مراد لئے جائیں تو ان کی عصمت باطل ہوئی جاتی ہے کیوں کہ فان تنازعتم سے حسب اقرار امام باقر عصمت کی نفی ہو رہی ہے اس نقص کو شیعوں کے اولین و آخرین مل نہیں اٹھا سکتے اس لئے متاخرین ِ شیعہ نے آیت کا ستدلال ایک تیسرے رنگ میں شروع کیا
تیسرا رنگ .... شیعہ کے امام اعظم شیخ حلی نے اور ان کے بعد دوسرے علماء شیعہ نے اس آیت سے یوں استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اولواالامر کی اطاعت کا یکساں حکم دیا ہے کچھ فرق ان تینوں اطاعتوں میںنہیں بیان کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح رسول معصوم ہیں اولواالامر بھی معصوم ہیں اور بالاتفاق مفسرین فریقین اولواالامر سے مراد آئمہ ہیں لہٰذا ان کا معصو م ہونا ثابت ہو گیا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ معصوم کے ہوتے ہوئے غیر معصوم کو خلیفہ بنانا جائز نہیں لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل بھی ثابت ہو گئی جواب .... شیعوں کی پہلی دونوں تقریروں کا جواب تو انہی تقریروں کے ساتھ ہو چکا ۔ اس تیسری تقریر کا جواب یہ ہے کہ اس تقریر کی بنیاد دو باتوں پر ہے اور دونوں خالص افترا ہیں اول.... یہ کہ خدا نے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کو یکساں واجب کیا کچھ فرق بیان نہیں کیا یہ خدا پر افتراء ہے اس سے زیادہ فرق کیا ہو گا ’’ فان تنازعتم ‘‘ فرما کر ظاہر کر دیا کہ اولواالامر سے درصورت شبہ مخالفت شریعت نزع جائز ہے اور رسول سے کسی حال میں نزع جائز نہیں۔ اور بالفرض اگر یہ فرق نہ بیان ہوتا تو بھی اولواالامر کا مثل رسول معصوم ہونا ثابت نہ ہوتا کیا اللہ اور رسول کی اطاعت جو واقعی اس آیت اور دوسری آیات میں یکساں بیان کی گئی ہے ۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہو سکتی ہے کہ رسول مثل خدا کے واجب الوجود اور بے والدو بے ولد ہیں( نعوذ بااللہ) دوم .... یہ کہ مفسرین اہل سنت کا اتفاق ہے کہ اولوالامر سے بارہ امام مراد ہیں یہ مفسرین اہل سنت پر افتراء ہے تفاسیر اہل سنت کی عبارتیں ہم اوپر نقل کر چکے ہیں کسی میں بھی بارہ امام کا ذکر نہیں شاید کسی مفسر نے اگر اولواالامر سے ان حضرات کو مراد لیا ہو تو اس کا مقصود یہ نہ ہو گا کہ صرف یہی حضرات مراد ہیں بلکہ اس کا مقصود یہ ہو گا کہ لفظ اولواالامر میں اگر علماء و فقہاء کو بھی شامل رکھا جائے تو یہ آئمہ بھی اس میں داخل ہو سکتے ہیں خلاصۃ الکلام ۱..: اس آیت مذکورہ کو کسی خاص خلیفہ کی خلافت سے کوئی تعلق نہیں آیت میں ایک عام حکم بیان ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے حاکم کی اطاعت کرنی چاہئی ۲..: اولی الامر کے معنی صاحب حکومت کے ہیں اور یہی معنی لغوی آیت میں مراد ہیں ۔ قیامت تک جتنے مسلمان حاکم ہوں سب کو بلاتخصیص یہ لفظ شامل ہی ۳..: اولی الامر سے بارہ امام کو مراد لینا آیت کی تحریف معنوی کے علاوہ خود مذہب شیعہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ آیت میں اولواالامر سے نزاع کی اجازت ہے جو عصمت کے منافی ہے اور شیعہ کہتے ہیں کہ بارہ امام معصوم ہیں ان سے کسی مسئلے میں نزاع کرنا ویسا ہی حرام ہے جیسا رسول سے نزاع کرنا ۴..: آیت مذکورہ صاف بتلا رہی ہے کہ اولی الامر معصوم نہیں ہوتا نہ اس کا قول حجت شرعی ہے حجت مستقلہ شرعی صرف اللہ اور رسول کا فرمان ہے ورنہ درصورت نزاع صرف اللہ اور رسول کی طرف رجوع کا حکم نہ دیا جاتا ۔ فقط ھٰذا اٰخر الکلام والحمد للہ رب العالمین
Last edited by سیفی خان; 15-06-11 at 03:58 PM. |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
ماشاءاللہ سیفی بھائی اللہ آپ کو جزاء دے۔
میں آجکل لیپ ٹاپ خراب ہونے کی وجہ سے آن لائن نہیں ہو پارہا یعنی ریگولر جلد ہی اگر عبدالقدوس بھائی سے ریٹ طے پا گیا تو میں بھی اس پر اپنی رائے کا اظہار کرونگا ان شاءاللہ۔ بہرحال آپ نے باطل نظریات کا دلائل کے ساتھ رَد کیا ہے۔جزاک اللہ
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ ہمیں حق و باطل میں فرق کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰ مین
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
امت محمدی ص کے 72 فرقوں میں سے کوئی بھی فرقہ یہ نہی مانتا کہ سوائے انبیا علیہ سلام کے کوئی معصوم تھا یا ہے(جو کہ غلط عقیدہ ہے(۔
اور یہ بھی کہ اسلام کے 72 فرقوں کا کوئی بھی امام یا خلیفہ یا حکمران معصوم نہ تھا۔ کیونکہ جانتے ہیںکہ معصوم ہونے کی وجہ ان حضرات کے قول و فعل سے کسی بھی قسم کی نافرمانی و گناہ و ظلم کا سرزد ہونا سمجھتے ہیں۔ تو پھر کسی ہم سے کس طرح کہہ سکتے ہیں ؟؟ کہ اس ایت سے مراد خلیفہ و دیگر ائمہ و دیگر حکمران ہیں تو ان کی اطاعت کرو یا ان سے رجوع کرو ۔ جب خود ہی کشمکش میں ہیں تو کسی پر زور زبردستی کا قانون اگرچہ اسلام میں بھی نہی پھر بھی اسرار نہی کرسکتے یا یہ کہ اگرہم ان خلیفہ اکرام یا ائمہ اہلسنت و الجماعت کو نہی مانتے تو کیا کسی بھی قسم کے گنا ہ و سزا کے مستحق ہونگے ؟؟ اور اگر گناہگار ہونگے تو کس ایت کی رو سے اور کس دلیل سے ؟؟ |
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
شیعہ کے امام خمینی نے حکومت اسلامیہ میں لکھا ہے فان للامام مقام محمودا و درجہ سامیہ و خلافہ تکونیہ الخ ’” امام کو وہ مقام محمود اور بلند ایسی تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کاذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے سامنے سرنگوں اور زیر فرمان ہوتا ہے ملاں باقر مجلسی اپنی کتاب ’’ بحار الانوار ‘‘ میں عقائد الصدوق کے حوالہ سے لکھتے ہیں یجب اںیعتقد ان اللہ عزوجل لم یخلق خلقا افضل من محمد صلی اللہ علیہ وسلم والائمہ علیہم السلام‘‘ یہ عقیدہ لازم ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ کرام سے افضل کوئی مخلوق پیدا نہیں کی آگے چل کر یہی ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں اعلم ان ماذکرہ رحمہ اللہ من فضل نبینا و ائمتنا صلوات اللہ علیہم علی جمیع المخلوقات و کون ائمتنا علیہم السلام افضل من سائر الانبیاء ھو الذی لایرتاب فییہ من تتبع اخبارھم علیہم السلام رلی وجہ الاذعان والیقین ( بحار الانوار ص 297 ) معلوم ہوا کہ شیخ صدوق نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ صلوت اللہ علیہم تمام مخلوقات پر فضیلت رکھتے ہیں اور یہ آئمہ علیہم السلام تمام انبیاء سے اٍفضل ہیں ۔ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ اذعان و یقین کے ساتھ اخبار کا تتبع کرنے والا کوئی بھی شخص اس میں شک و شبہ کا شکار نہیں ہو سکتا ۔ لی جئیے ملاں باقر مجلسی نے تو بات ہی ختم کر دی کہ آئمہ انبیاء سے بھی افضل ہیں ۔ ۔اور آپ کہ رہے ہیں کہ ایسا کسی کا عقیدہ نہیں ۔ اب انبیاء سے افضل ہونے کے معصوم ہونا ہی شرط ہو گا نا کہ غیر معصوم ۔ ۔ ۔ ملاں باقر نے حیات القلوب مطبوعہ اردو لاہور ص 787 ج 2 اور مولوی سید نجم الحسن نے ذکر العباس ص 104 حسین بخش جاڑا مقدمی تفسیر انوارالنجف فی اسرارالمصحف ص 19 اور ملک غلام حیدر کلو کتاب امہات آئمہ ص 30 ان سب کتب میں یہ لکھا ہے کہ آئم انبیاء سے افضل ہیں اگر بقول آپ کے آئمہ کو کوئی بھی معصوم نہیں کہتا تو غیر معصوم معصوم سے افضل کیونکر ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملاں باقر مجلسی بحارالانوار میں ایک باب کا عنوان یوں قائم کرتے ہیں ’’ عصمتہم و لزوم عصمہ الامام علیہ السلام یعنی امام معصوم ہوتے ہیں اور امام کو عصمت لازم ہے ۔ ۔ اس باب میں عیون الاخبار کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے ۔ جس کے آخر میں ہے وھم المعصومون من کل ذنب و خطیئہ اور وہ معصوم ہوتے ہیں ہر گناہ غلطی سے ۔ ۔ ۔ اگر اب بھی شیعہ امام کو معصوم نہیں کہتے تو پھر کیسے معصوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ کیا معصوم کی تعریف کوئی اور ہوتی ہے ۔ ۔ یہاں تک کہ یہی باقر مجلسی لکھتے ہیں بحارالانوار ص 390 پع لھتے ہیں جاننا چاہیئے کہ جو شخص امیر المؤمنین کی اور ان کی اولاد میں سے گیارہ اماموں کی امامت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو اور دوسروں کو ان سے افضل کہتا ہو ۔ ۔ ۔ اس پر کفر اور شرک کا لفظ بولنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ سب کافر ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ ۔ ۔ انصاف کی جئیے ۔ ۔ کتنے لوگ ہیں جو عقیدہ امامت رکھتے ہیں ۔ ۔ ملاں باقر نے کہا ہے کہ جو یہ عقیدہ نہ رکھے وہ کافر اور جھنمی ہین ۔ ۔ ۔ کیا اب بھی آپ یہی کہیں گے آعمہ کو کوئی معصوم نہیں کہتا ۔ ۔ ۔؟ Last edited by سیفی خان; 17-06-11 at 02:04 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لوگوں کی نظریں دیکھنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔۔۔۔۔ میں نے خاص طور پر یہ جملہ لکھا ہے ؟ سوچیں کیوں لکھا ہے ؟؟ ائمہ اہلبیت یعنی آل محمد علیہ سلام ۔ ۔ ۔ ۔امام معصوم ہی ہیں امامت الہی عہدہ ہے اور خلافت بھی الہی عہدہ ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہی ہے ۔ اپ جواب دینے میں جلدی کی ۔ ۔ ۔ ۔ جواب محفوظ کرلیا ہے ویسے یہ کتابیں اپ کے پاس ، ہیں تو مجھے بھی بھیج دیں کسی اور دن میرے لیے کسی اور موضوع پر کام ائیںگئ۔ ۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
سیدھی سے بات ہے کہ کسی ایک چیز سے 72 ٹکڑے الگ کیے جائیں تو ٹوٹل 73 بنے گا ۔ حدیث ڈھنڈ کر پڑھ لیں ۔ ۔ ۔ ۔صابت ہوجائے گا دوسرے یہ کہ میں نے ان 72 ٹکڑوں کی بات کی ہے جو اپنی اصل سے الگ ہوئے ہیں نہ کہ وہ شئے جس سے الگ ہوئے ہوں اس کی بات کی ہے یہ بات اس وقت سامنے ائی تھی جب اسلام کے تمام فرقوں کو رجسڑ کیا جارہا تھا ایک کے بعد ایک فقہ سامنے آتا گیا اور رجسڑ ہوتے گئے جب 4 فقہ رجسٹر ہوگئے تو اہل تشیع حضرات کو بھی بلوایا گیا کہ اپ بھی رجسڑ ہوجائیں اج کے بعد امت میں کوئی نیا فرقہ نہ بننے دیا جائے گا ۔ اہل تشیع علما نے صاف کہلا بھیجا کہ فرقے رجسڑ ہورہے ہیں جو اسلام سے الگ ہوئے ہیں ۔ اگر دنیا کے مذاہب رجسڑ ہوتے تو ہم ضرور اپنا مذہب اسلام لے کر حاضر ہوتے ۔ باقی چار فرقوں کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ اپ پریشان نہ ہوں وہ اس لیے نہی آئے کیونکہ رجسڑ ہونے کی فیس بہت زیادہ تھی اور شیعہ لوگ چونکہ تعداد میں کم ہیں اس لیے پیسے نہی ہیں۔ ۔ تاریخ پر ہلکی سی نظر ۔ ۔ ۔معذرت کے ساتھ |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
| سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا | شھزادباجوہ (27-07-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (11-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
سیفی خان صاحب کے مراسلےسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بات میں کشمکش میں مبتلا ہیں ان کی کمشکش کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہم واپس اسی مراسلے کی طرف جائیں گہ جہاں سے اپ کو سیفی صاحب لائیں ہیں یہ اس موضوع کی کے اصل مراسلہ کی طرف ۔۔
شکریہ پہلا نکتہ: (فنّ تنازعتم) میں مخاطبین وہی ہیں جو ( يَا أَيُّھا الَّذِينَ آمَنُواْ ) میں مخاطبین ہیں ۔ '' آیت میں مخاطب مو منین '' کا اولوالامر کے درمیان تقابل کا قرینہ متقاضی ہے کہ ''الذین آمنوا'' ''اولوالامر'' کے علاوہ ہوں کہ جس میں حاکم و فرمانروا اولوالامر اور مطیع وفرمانبردار مومنین قرار دیئے جائیں ۔ دوسرانکتہ: اس نکتہ کے پیش نظر،مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔ تیسرانکتہ: یہ کہ مو منین سے خطاب مورد توجہ واقع ہو اور اس کو اولی الامر کی طرف موڑ دیا جائے ،یہ سیاق آیت کے خلاف ہے اوراس تو جہ کے بارے میں آیہء شریفہ میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ باقی اٹھنے والے سوالات بھی وہیں ہیں شکریہ ۔ آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت Last edited by حیدر Rehan; 11-07-11 at 06:23 PM. |
|
|
|
|
#13 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,517
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پہلے اپ یہ واضع کریں کہ شعیہ فقہ ہے یا فرقہ اس حدیث پر تو میں نے بھی بہت غور کیا ہےکہ جس کا مفہوم ہے کہ میری امت میں 73 فرقے ہوں گے 72 جہنم مین جائیں گے اور ایک گروہ جنت میں جائے گا اور یہ وہ گروہ ہوگا جو میری صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے راستے پر ہوگا ۔ اب آپ اگر یہ کہتے ہیں کہ شعیہ وہ گروہ ہے تو کیا شعیہ الگ فرقہ یا بقول آپ کے الگ فقہ نہیں ہے ؟ کیا شعیہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو مانتے اور پیروی کرتے ہیں ؟ یاد رہے اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کو کہا ہے صرف اہل بیت کے نہیں ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (28-07-11), حیدر Rehan (27-07-11), سیفی خان (28-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11), شمشاد احمد (27-07-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے سحر بہن جي حيدر ريحان صاحب كو آج كل معاذ اللہ قرآن كريم كي زبريں زيرريں ہلي اور تبديل ہوئي نظر آ رہي ہيں۔ آپ ان سے احاديث كي بات كر رہي ہيں۔۔ وہ بھي حضرات صحابہ كرام كے فضائل و مناقب كے متعلقہ احاديث۔۔۔
ھذا صراط علی مستقیم
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (27-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11) |
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,517
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شمشاد بھائی مجھے حیدر ریحان کی یہ بات کافی اپیلنگ لگی لیکن اس بات کو شیعہ مسلک سے منسلک کرنا کچھ جچا نہیں اس لیے سوال کردیا
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (27-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11) |
![]() |
| Tags |
| فرمان علی, پسند, قیس, قرآن, لوگ, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, اعلیٰ, تعلیم, حکم, حال, حدیث, خلاف, خبر, زمانہ, سیاست, شہر, شخص, علی, عبادت, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایک آیت کی تفسیر | سحر | علوم قرآن کریم | 8 | 09-05-11 06:50 PM |
| آیت الکرسی کی تفسیر | skjatala | ویڈیوز | 0 | 22-04-11 10:59 PM |
| ایشز:انگلینڈ نے سیریز جیت لی۔ | تفسیر حیدر | کرکٹ | 0 | 24-08-09 01:14 AM |
| وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا | محمدعدنان | خبریں | 1 | 03-05-08 02:39 PM |