واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


آیت اولی الامر کی تفسیر (1)

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-06-11, 05:06 PM   #1
آیت اولی الامر کی تفسیر (1)
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 14-06-11, 05:06 PM

آیت اولی الامر سورہ نساء رکوع ساتواں

ترجمہ : اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اولی الامر ( یعنی صاحبان حکومت کی) جو تم میں سے ہوں پھر اگر تم ( یعنی رعیت اور صاحبان حکومت) ٓپس میں اختلاف کرو سکی بات میں تو اسکو رجوع کرو اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روز آخرت پر ۔ یہ بہتر ہے اور بہت خوب ہے باعتبار انجام کی۔

تراجم علمائے اہلسنت و شیعہ

۱ :. . حضرت شیخ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اسکا ترجمہ لکھتے ہیں ’’ اے مومناں فرمانبرداری کنید خداراو فرمان برداری پیغامبر راو ’’فرمان روایان‘‘
از جنس خویش پس اگر اختلاف کنید در چیزے پس رجوع کنید اور بسوئے خدا و پی غامبر اگر اعتقاد کنید بخدا روز آخر ایں بہتر است ونیکو تر باعتبار عاقبت‘‘

۲:.... حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں ’’ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اورجو ’’اختیار والے ‘‘ ہیں تم میں سے ۔ پھر اگر جھگڑپڑو کسی چیز میں تو اسکو رجوع کرو اللہ اور رسول کی طرف اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور پچھلے دن پر یہ خوب ہے اوربہتر تحقیق کرنا ۔‘‘
یہ دونوں ترجمے علمائے اہلسنت کے تھے اب دو ترجمے علمائے شیعہ کے بھی ملاحضہ ہوں :

۳:... شیعہ مولوی فرمان علی جن کا ترجمہ قرآن شیعوں کو اتنا پسند آیا کہ اس کاترجمہ انگریزی میں بھی کیا گیا اس آیت کا ترجمہ یوں لکھتے ہیں ’’ اے ایمان دارو خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے ’’ صاحبان حکومت‘‘ ہوں انکی اطاعت کرو اور اگر تم کسی بات پر جھگڑ ا کرو پس اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس امر میں خدا ور رسول کی طرف رجوع کرو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور انجام کی راہ سے بہت اچھا ہے ۔

۴:... شیعہ مولوی مقبول احمد دہلوی اپنے مشہور ترجمہ قرٓن میں لکھتے ہیں ’’ اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول اور ’’ ان والیان امر ‘‘ کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں پھر اگر کسی معاملہ میں تم میں آپس میں جھگڑا ہو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو بشرطیکہ تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو یہی سب سے بہتر اور عمدہ تاویل ہی۔

آیت کی صحیح تفسیر


اس آیت کا مطلب بالکل واضح ہے صاف بات ہے کہ حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ و رسول اور ان اولوالامر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہوں یعنی مسلمان ہوں اور یہ بھی فرمایا کہ اولوالامر اور رعیت میں اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو اس اختلاف کا تصفیہ اللہ اور رسول یعنی قرآن و سنت سے کرانا چاہیئے اور تصفیہ کی اس صورت کو اس قدر ضروری قرار دیا کہ فرمایا اگر تمہا را ایمان اللہ پر اور قیامت پر ہے تو ضرور تم ایسا ہی کرو گے یہ بھی فرما یا کہ ایسا کرنے میں تمہارے ہر طرح کی بھلائے ہے اور اسکا نتیجہ بہت اچھا نکلے گا ۔
oاس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت ہر حال میں واجب ہے اور ان سے نزاع کرنا حرام ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت ایک ہی چیز ہے لفظ دو ہیں مگر مصداق ایک ہی ہے چنانچہ اسی سورت میں آگے چل کر فرمایا ’’ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ‘‘ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کی ۔ ان دونوں اطاعتوں کا متحد ہونا محض اس سبب سے ہے کہ رسول معصوم ہوتے ہیں ان کا خلا ف حکم الٰہی کوئی بات صادر ہی نہیں ہو سکتی ’’ ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ ‘‘ یعنی رسول ہوائے نفسانی سے کوئی بات نہیں فرماتے ان کی ہر بات وحی الٰہی ہوتی ہے ۔
دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ اولی الامر کی اطاعت ہر حال میں واجب نہیں اگر ان کا کوئی حکم خلاف قرآن وسنت ہو اسکی اطاعت نہ کی جائے گی حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’ لا طاعتہ لمخولق فی معصیۃ الخالق‘‘ یعنہ خالق کی نافرمانی ہوتی ہو تو پھر مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اس لیئے اولی الامر اسے نزاع اور نزاع سے فیصلہ کا طریقہ بیان فرما دیا تھا ۔
اب یہاں دو باتیں سمجھ لینی چاہیئں :

اول: .... یہ کہ اولوالامر کے کیا معنی ہیں اور کون کون لوگ اس سے مراد ہو سکتے ہیں

دوم : ..... یہ کہ اولوالامر کی اطاعت کا حکم کیوں دیا گیا خصوصاََ جب کہ الولی الامر معصوم بھی نہیں اور اسکا معصوم نہ ہونا اسی سے ظاہر ہے کہ اس سے نزاع کی اجازت دی گئی۔

امر اول کی توضیح :.... اولوالامر کے معنیٰ ازروئے لغت عرب صاحب حکومت کے ہیں الہٰذا جس شخص کو کسی قسم کی حکومت حاصل ہو اسکو اولولامر کہیں گے ۔ حکومت دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ ایک حکومت عامہ جیسے بادشاہ وقت کی حکومت کہ اس کی تمام رعایا کو شامل ہے ۔ دوسری حکومت خاصہ جیسے افسران فوج یا حکام صوبہ یا قاضیوں کی حکومت کہ ان کی اپنی اپنی فوج یا صوبے یا شہر کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے ان سب کو اولوالامر کہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے علمائے مفسرین نے اولوالامر کی
تفسیر میں تین قول بیان کیے ہیں

۱:.... یہ کہ اس سے سرداران فوج مراد ہیں ۔ہر فوج کو اپنے سردار کی اطاعت واجب ہی۔
۲:... یہ کہ اس سے خلیفہ وقت مراد ہے اس تفسیر کی بان پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے ۔
۳: .. یہ کہ علماء اور فقہاء مراد ہیں ۔
ان تینوں قولوں میں کوئی اختلاف نہیں تینوں مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک کی اطاعت اپنے اپنے درجہ میں واجب ہے ۔

تفسیر درمنثور میں ہے :

اخرج البخاری و مسلم و ابو داود و الترمذی و النسائی و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و البیہقی فی الدلائل من طریق سعید بن جبیر عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامر منک قال نزلت فی عبداللہ بن حذافۃ بن قیس اذ بعثہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی سریۃ واخرج ابن جریر عن میمون بن مھرا فی قولہ واولی الامر منکم قال اصحاب السرایا علی عھدالنبی صلی اللہ علیہ وسلم

ترجمہ :۔ بخاری اور مسلم اور ابودائو اور ترمذی اور نسائی اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے دلائل نبوت میں بروایت سعید بن جریر ابن عبا سے اللہ تعالیٰ کے قول ’’ واطیعواللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم ‘‘کے متعلق روایت کیا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن حذافہ بن قیس کے بارہ میں نازل ہوئی تھی جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو ایک چھوٹے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا تھا اور ابن عساکر نے بروایت سدی ابو صالح سے انہوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ار ابن جریر نے میمون بن مہران سے اللہ تعالیٰ کے قول اولی الامر کے متعلق روایت کیا ہے کہ اس سے مراد وہ افسران فوج ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مقرر تھی۔

ان روایات سے معلوم ہو ا کہ یہ آیت ان سرداران فوج کے بارہ میں نازل ہوئی ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مقرر ہوا کرتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہم پر کسی دوسرے کو سردار فوج بنا کر بھیج دیتے تھے خود تشریف نہ لے جاتے تھے۔ لہٰذا حکم ہوا کہ فوجی لوگ اپنے سرداروں کی کی اطاعت کریں ۔
شان نزول تو یہی ہے مگر چونکہ الفاظ آیت عام ہیں۔اور اصول تفسیر کا قاعدہ کلیہ ہے کہ ’’ العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوالسبب ‘‘ لہٰذا اب حکم سرداران فوج کے ساتھ خاص نہ رہے گا بلکہ سرداران فوج کا بھی جو شخص سردار ہو یعنی خلیفہ وقت بدرجہ اولیٰ اس حکم میں شامل ہو گا ۔

تفسیر معالم التنزیل میں ہے : وقال ابوہریرۃ ھم الامراء والولاۃ وقال عکرمۃ اراد باولی الامر ابابکر و عمر۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ اولی الامر سے مراد ’’ امیر اور والی یعنی خلفاء ہیں ‘‘ عکرمہ کہتے ہیں اولی الامر سے مراد ابو بکر رض اور عمر رض ہیں۔
حضرت ابوبکر رض و عمر رض کے مراد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ لفظ اولی الامر ان کے لئے مخصوص ہے بلکہ ان کا ذکر محض اس لے کیا گیا کہ لفظ اولی الامر کے اعلیٰ و اکمل مصداق وہ ہیں۔

نیز تفسیر در منثور میں ہے : اخرج عبد بن حمید و ابن جبیر و ابن ابی حاتم عن عطاء فی قولہ تعالیٰ اطیعواللہ واطیعوالرسول قال اطاعۃ اللہ والرسول اتباع الکتاب والسنۃ واولی الامر منکم قال اولی الفقہ والعلم واخرج ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم عن ابن اعباس فی قولہ تعالیٰ واولی الامر منکم یعنی اھل الفقہ والدین اول الطاعۃ الذین یعلمون الباس معانی دینھم ویامرونھم بالمعروف وینھون عن المنکر فاوجب اللہ طاعتھم علی العباد واخرج ابن ابی شیبۃ و عبد بن حمید والحکیم الترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ عن جابر بن عبداللہ فی قولہ واولی الامر منکم واخرج ابن ابی حاتم شیبۃ و ابن جریر عن ابی العالیہ فی قولہ واولی الامر قال ھم اھل العلم الاتری الی انہ یقول ولو ردوہ الی الرسول واولی الامر منھم لعلمہ الذین یستننبونہ منھم۔

ترجمہ : عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے چطاء سے اللہ تعالیٰ کے قول ’’ اطیعواللہ واطیعوالرسول کے متعلق روایت کیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت سے مراد کتاب و سنت کی پیروی ہے اور اولوالامر سے مراد فقہاء اور علماء ہیں ۔ اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حارتم اور حاکم نے ابن عباس رض سے روایت کی ہے کہ اولی الامر سے فقہاء اور دیندار عبادت گزار لوگ مراد ہیں جو لوگوں کو دین کی باتوں کی تعلیم کرتے ہیں ۔اور انکو امر معروف و نہی منکر کرتے ہیں ۔ اللہ نے انکی اطاعت بندوں پر واجب کی ہے ۔ اور ابن شیبہ اور عبد بن حمید نے اور حکیم ترمذی نے نوادالاصول میں اور ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور حاکم نیروایت کی ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ بھی اولی الامر سے فقہاء کو مراد لیتے تھے ۔ اور ابن شیبہ اور ابن جریر نے ابولعالیہ سے روایت کیا ہے کہ اولوالامر سے مراد اہل علم ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ دوسری آیت میں فرمایا ہے کہ اگر وہ رسول اور اپنے اولوالامر کی طرف رجوع کرتے تو جولوگ استنباط کرسکتے ہیں وہ بات سمجھ لیتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل استنباط مراد ہیں اور اوہ اہل علم ہی ہو سکتے ہیں۔

مفسرین کے ان اقوال سے معلوم ہوا کہ ہر درجہ کے حاکموں پر لفظ اولی الامر کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔ پس کچھ شک نہ رہا کہ خلیفہ وقت جس کو حکومت عامہ حاصل ہے بدرجہ اولیٰ اس لفظ کا مصداق ہے ، بلکہ جب لفظ اولی الامر بولا جائے گا تو اس کے متبادل معنیٰ خلیفہ ہی کے ہونگی۔
امر دوم کی توضیح :.... اولی الامر سے مراد اگر علماء فقہاء لیے جائیں تو ان کی اطاعت کا حکم اس وجہ سے ہے کہ عوام الناس جو کتاب و سنت کے سمجھنے کی لیاقت یا اتنباط مسائل کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ اگر علماء فقہاء سے دین کی تعلیم نہ حاصل کریں یا انکی تعلیم پر عمل نہ کریں تو ظاہر ہے کہ دین سے بے خبر اور بے تعلق ہو جائیں گی۔
اور اگر اولوالامر سے مراد خلیفہ یا سردار فوج ہو اور یہی مراد ظاہر ہے تو ان کی اطاعت کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ نظام امت کا قیام اور امور سیاست کا انصرام اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
مشیت الٰہی میں روز اول سے یہ بات مقرر تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس لیے ہو گی کہ تمام روئے زمین پر اسلام کی شوکت و سطوت کا جھنڈا نصب ہو اور آپ کے متبعین کسی غیر مسلم قوت کے زیر فرمان ہوکر نہ رہیں ۔ بلکہ وہ خود فرمانروا ہوں اور دین الٰہی کے جلال و جبروت کے سامنے تمام ادیان باطلہ کو سرنگوں کر دیں آیت کریمہ ’’ لیظہرۃ علی الدین کلہ ‘‘ اس کی گواہ ہی۔
پس جب یہ بات پہلے مقرر تھی تو ضروری تھا کہ قرآن شریف میں جس طرح عبادات ماشرت و اخلاق کے اصول تعلیم فرمائے گئے ہیں ۔ اسی طرح سیاست و جہانداری کے اصول بھی ارزاد فرمائے جائیں۔ اور سیاست و جہانداری کے اصول میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ تمام اقوام کا شیرازہ متحد ہو۔ سب ایک نظام سے منسلک ہوں اور یہ بات بغیر اس کے حاصل نہیں ہو سکتی کہ قوم کا ایک شخص مقتدا اور صاحب حکم ہو اور باقی اشخاص اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔سیاست و جہانداری کی اسی اصل عظیم کی تعلیم آیت مذکورہ میں ہے ۔ اس آیت سے پہلے حکام کو تعلیم دی ہے کہ تم عدل و انصاف پر کاربند رہنا ۔ فرمایا ’’ وَ اِذَا حکَمتم بَین الناس ان تحکموا بالعدل ان اللہ نعما یعظکم بہ
‘‘یعنی تم لوگو ں کے درمیان میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ تحقیق اللہ کیا اچھی نصیحت تم کو کرتا ہی۔
اس کے بعد آیت مبحوثہ میں محکوموں کو حکام کی اطاعت کا حکم دیا ۔ اس طرح حاکم و محکوم دونوں کے فرائض بیان کئی۔
سیاست و جہانداری تو بڑی چیز ہے ایک گھر کا انتظام بھی بغیر اس کے درست نہیں ہو سکتا کہ اس گھر کے جتنے بھی رہنے والے ہوں سب مل کر اپنے میں سے کسی ایک کو بڑا مانیں اور سب اسکی اطاعت کریں۔ تو بھلا
ایسا ضروری مسئلہ قرآن شریف سے کیوں کر فروگزاشت ہو سکتا تھا

دین اسلام ایسا کامل و مکمل دین ہے کی اس نے فلاح دارین کے اصول تعلیم فرمائے ہیں تو کیونکر ممکن تھا کہ تمدن کا ایسا ضروری مسئلہ نہ تعلیم دیا جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ اطاعت اولی الامر کے متعلق احادیث صحیحہ کا بھی ایک بڑا دفتر ہے جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

احادیث نبویہ متعلق اطاعت اولی الامر

۱: عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اطاعی فقد اطاع اللہ وم عصانی فقد عصی اللہ ومن یطع الامیر فقد اطاعنی ومن یعص الامیر فقد عصانی وانما الامام جنۃ یقاتل من ورائہ ویتقی بہ فان امر بتقوی اللہ وعدل فان لہ بذلک اجرا وان قال بغیرہ فان علیہ منہ ( متفق علیہ )
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس شخص نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر(یعنی حاکم) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ امام یعنی خلیفہ جس کی پناہ میں جہاد کیا سکتا ہے پس اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو یقیناََ اسکو ثواب ملے گااور اگر اسکے خلاف کرے تو اس پر وبال ہو گا ( صحیح بخاری و صحیح مسلم)

ف: یہ جو فرمایا کہ امام مثل ایک سپر کے ہے الخ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام یعنی خلیفہ کا مقرر کرنا اس کی اطاعت کا واجب ہونا ان سیاسی و تمدنی مقاصد کے لئے ہے اور بس۔
۲:عن ام الحصین قا ل قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان امر علیکم عبد مجدع یقودکم بکتاب اللہ فاسمعوا لہ واطیعوا ( مسلم)
ترجمہ : حضرت ام حصین سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم پر کوئی غلام حاکم بنا دیا جائے ۔ جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں وہ تم کو کتاب اللہ کو موافق چلائے اس کا حکم سنو اور اطاعت کرو ( صحیح مسلم)
۳ : عن انس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اسمعوا واطیعوا وان استعمل علیکم عبد حبشی کا ن راسہ زبیبۃ ( بخاری)
ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا حکم سنو اطاعت کرو اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام عامل بنا دیا جائے ۔ اور وہ ایسا بد صورت ہو گویا اس کا سر انگور کے برابر ہو ( بخاری)
ف: معلوم ہوا کہ اگر غلام بھی خلیفہ ہو جائے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے ۔ ہاں مسلمان ہونا ضروری ہے کیونکہ مقصد خلافت کا یہی ہے کہ کتاب اللہ کے مطابق ہماری قیادت کرے ۔ تیسری حدیث میں ’’ استعمل ‘‘ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ ہر حاکم کی اطاعت واجب ہے خواہ وہ خلیفہ ہو یا خلیفہ کا مقرر کیا ہوا عامل ۔
۴: عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فیما احب وکرہ مالم یومر بمعصیت فاذا امر بمعصیت فلا سمع ولا طاعۃ ( متفق علیہ)
ترجمہ: حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکم سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب تمام باتوں میں خواہ اس کو پسند ہوں یا ناپسند ۔ تاوقتیکہ کہیں گناہ کا حکم نہ دیا جائے ۔ مگر جب گناہ کا حکم دیا جائے نہ سننا واجب ہے نہ اطاعت کرنا ( صحیح بخاری و مسلم)

آیت اولی الامر .... کی تفسیر بیان ہو چکی اب اہل انصاف غور کریں کہ اس آیت سے کس طرح حضرات شیعہ اپنا مدعا ثابت کر سکتے ہیں ۔ آیت میں کونسا لفظ ہے جس سے حضرت علی کی خلافت یا عصمت آئمہ ثابت کی جا سکے ۔
بلکہ اگر سچ پوچھو تو یہ آیت حضرات شیعہ کی ایجاد کیے ہوئے امامت و عصمت کا گھروندہ ہی بگاڑ دیتی ہے ۔ کیوںکہ آیت صاف بتا رہی کہ امام مثل رسول واجب الاطاعت اور معصوم نہیں ورنہ امام سے نزع کی ممانعت فرمائی جاتی ۔ جس طرح رسول سے نزاع کی ممانعت یہ نہ فرمایا جاتا کہ امام اگر کسی بات میں نزع ہو جائے اس کا فیصلہ قرآ ن و حدیث سے کرو ۔ یہ بالکل کھلی ہو ئی بات ہے ۔ جس کا اقرار خود آئمہ شیعہ سے بھی منقول ہے ۔
اب دیکھو شیعہ صاحبا ن کیا فرماتے ہیں اور کس طرح آیت قرآنی کی تحریف کرتے ہیں

جاری
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

Last edited by سیفی خان; 15-06-11 at 12:37 PM..

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 548
7 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (15-06-11), محمد عاصم (16-06-11), حیدر (15-06-11), حیدر Rehan (17-06-11), راجہ اکرام (15-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 15-06-11, 03:50 PM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default آیت اولی الامر کی تفسیر (2)

شیعہ کہتے ہیں
:........ کہ یہ آیت اولی الامر حضرت علی رض کی خلافت بلا فصل اور عصمت آئمہ کے لئے نص صریح ہے اور آیت انما ولیکم اللہ کے بعد اسی کا نمبر ہی۔
اس آیت سے استدلال کرنے میں شیعوؤں نے کئی رنگ بدلے ہیں
سب سے پہلا اور اصلی رنگ یہ ہے ۔ کہ اس آیت میں تحریف ہو گئی ہے اور اصلی آیت یوں تھی یاایھا الذین اٰ منوا اطیعوااللہ و اطیعواالرسول واولی الامر منکم فان خفتم تنازع فی امر فردوہ الی اللہ والی الرسول واولی الامر منکم
ترجمہ : یعنی اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور اولی الامر کی ۔ اور تم کو آپس میں کسی بات میں نزاع پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس کو اللہ اور رسول اور اولی الامر کی طرف رجوع کرو مطلب یہ ہے کہ اولواالامر بھی مثل رسول ہی۔
مولوی مقبول احمد اپنے ترجمہ قرآن مطبوعہ مقبول پریس دہلی کے صفحہ ۸۳۱ میں لکھتے ہیں
کافی اور عیاشی میں جناب امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ حضرت آیت کو یوں تلاوت فرماتے تھے ’’ فان خفتم تنازعا فی امر فردوہ الی اللہ و الی الرسول والی اولی الامر منکم ‘‘ اور یہ فرمایا کرتے تھے
کہ اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اولوالامر کی اطاعت کا حکم بھی دے اور پھر ان سے جھگڑا کرنے کی اجازت بھی دے بلکہ یہ حکم تو ان مامورین کے حق میں ہے جن سے اطیعو اللہ کہا گیا ہے ۔
الحمدللہ ... کہ خود شیعوں نے بلکہ ان کے امام محمد باقر نے اقرار کرلیا کہ قرآن شریف میں یہ آیت جن الفاظ میں ہے ان سے اولواالامر کا غیر معصوم ہونا ثابت ہوتا ہی۔ کیونکہ معصوم سے جھگڑا کرنے کی اجازت نہیں ہو سکتی اور اس اقرار سے روزروشن کی طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آیت مذکورہ بالفاظ موجودہ شیعوں کے دو ازدہ امام پر صادق نہیں آسکتی ۔ کیونکہ وہ بزعم شیعہ معصوم تھی۔
ہاں ... اہل سنت کے نزدیک اس تفسیر کی بنا پر کہ اولواالامر سے علماء فقہاء مراد ہوں حضرات حسنین رضی اللہ عنہما و باقی بزرگان خاندان نبوی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین اولواالامر میں داخل ہو سکتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امام مہدی جب پیدا ہونگے اور انکے ہاتھ پر جب بیعت ہو جائیگی ۔ لفظ اولواالامر کے مصداق میں اس تفسیر کی بنا پر خلیفہ بھی داخل ہیں اور ہونگے ۔ کیونکہ اہل سنت کے نزدیک یہ سب حضرات غیر معصوم ہیں ۔
اب رہا .... اس آیت کو محرف کہنا یا اس کے مضمون پر اعتراض کرنا یہ نتیجہ ہے قرآن شریف پر ایمان نہ ہونے کا جس کے جواب دینے کی ہمیں ضرورت نہیں ۔ کیونکہ دنیا میں کون ذی عقل ہے جو قرآن شریف جیسی کتاب کو جس کی محفوظیت بلا شبہ عدیم المثال اور مسلم الکل معجزہ ہے غیر مسلم تک اس کا اقرار کر چکے ہیں ۔ چند خود غرض اور ابولہوس لوگوں کے بے دلیل بکواس سے محرف مان لے گا یا اس کی ایک صاف اور معقول بات کو مورد اعتراض قرار دے گا ۔
شیعوں کے مطابق امام باقر صاحب نے جو یہ اعتراض قرآن پر کیا ہے کہ ’’ کیونکہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اولوالامر کی اطاعت کا حکم بھی دے اور پھر ان سے جھگڑا کرنے کی اجازت بھی دے ‘‘ ۔ ایک عجیب منطق ہے کہ خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اولواالامر کی اطاعت ہر بات میں آنکھ بند کرکے کرنا واجب ہے یہ شان صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ان کا ہر حکم وحی الٰہی ہے اور ہر ان کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا واجب ہی۔ اولواالامر کی ا طاعت صرف انہیں امور میں ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہوں ۔
اگر شیعہ کہیں کہ غیر معصوم کی اطاعت کسی بات میں بھی درست نہیں تو یہ فطرۃ اللہ کے خلاف ہو گا ۔ خود معصوم کے زمانے میں بھی لوگ غیر معصوم کی اطاعت کرنے پر مامور اور مجبور تھی۔فرض کرو کہ ( کفرض المکذوبات) کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معصوم ہیں لیکن وہ کوفہ میں رہتے تھے اطراف و جوانب میں نزدیک دور مقامات میں ان کے عامل ، قاضی مقرر تھے جو غیر معصوم تھے وہاں کے لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ ہر خلیفہ کے زمانہ میں ایسا ہوا ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایسا ہوا اور ایسا نہ ہو تو نظام خلافت ہی قائم نہیں رہ سکتا ۔
خود شیعوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ یہ بات چلنے والی نہیں سوا شیعوں کے مٹھی بھر فرقے کے کوئی انسان قرآن شریف کی کسی آ یت کو محرف اور مبدل ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا لہٰذا اس آیت سے استدلال کرنے کے لئے دوسرا رنگ بدلا گیا ۔
دوسرا رنگ...... شیعوں کے قبلوں کے قبلہ جناب کلینی صاحب نے اس آیت کے متعلق ابو بصیر اور امام جعفر صادق کی ایک گفتگو نقل کی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام موصوف نے اپنے باپ کے خلاف اس آیت کو غیر محرف مان کر فرمایا کہ اولی الامر سے مراد حضرت علی و حسنین رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔ ابو بصیر نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ حضرت علی اور ان کے اہل بیت کا نام آیت میں کیوں نہ لیا گیا ( تاک آیت اولی الامر کی مراد سب پر ظاہر ہو جاتی ) اس کا کوئی معقول جواب امام صاحب نہ دے سکے اب اصل عبارت اصول کافی صفحہ نمبر ۳۷۱ پر ملاحظہ ہو
عن ابی بصیر قال سالت ابا عبداللہ علیہ السلام عن قول اللہ عزووجل اطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم فقال نزلت فی علی بن طالب والحسن والحسین علیہم السلام فقلت لہ ان الناس یقولون فمالہ لم یسم علیا اول بیتہ علیہم السلام فی کتاب اللہ عزووجل قال فقال قولولہم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزلت علیہ الصلوۃ ولم یسم لہم ثلٰثا ولا اربعا حتیٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھوالذی فسر ذٰلک لہم ونزلت علیہ الزکوۃ ولم یسم لہم من کل اربعین درھما درھم حتیٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسر ذٰلک لہم ونزل الحج فلم یقل لہم طوفوا اسبوعا ھتٰ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھوالذی فسر لہم ذٰلک
ترجمہ : ابو بصیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میںنے امام جعفر علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے قول ( اطیعواللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم) کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا یہ آیت علی بن ابی طالب اور حسن و حسین علیہم السلام کے حق میں اتری ہے میںنے ان سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ خدا نے علی کا اور ان کے ا ہل بیت علیہم السلام کا نام قرآن میں نہ لیا ۔ امام نے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہ دینا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز کا حکم اترا مگر خدا نے نہ بتلایا کہ تین رکعت یا چار رکعت یہاں تک رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل لوگوں سے بیان کی اور زکوٰۃ کا حکم اترا مگر خدا نے نہ بتلایا کہ ہر چالیس درھم میں ایک درھم زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لوگوں سے بیان کیا اور حج کا حکم نازل ہوامگر خدا نے یہ نہ فرمایا کہ سات مرتبہ طواف کرو یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ان سے فرمائی ۔
ف ... شیعہ کے مطابق امام جعفر صادق نے جو جواب ابو بصیر کو دیا وہ بچند وجہ غیر معقول ہی

اول ... یہ کہ سوال تھا مسلہ امامت کے متعلق جو شیعوں کے ہاں اصول دین میں ہے اور مدار نجات ہے جواب میں امام صاحب نے نماز ، روزہ وغیرہ فروعات پر قیاس کیا یہ قیاس مع الفارق نہیں تو کیا ہے اعمال کی تفصیل قرآن میں نہ ہوئی تو اس سے عقائد کی تفصیل نہ کرنے کا جواب کیونکر نکلا ۔
دوم ... یہ کہ نماز کی تعداد رکعات یا نصاب زکوۃ کا بیان قرآن میں نہ ہوا تو کسی خلاف مراد مضمون کی طرف ذہن نہ گیا بخلاف اس کے لفظ اولواالامر کی مراد نہ بیان کرنے سے ذہن اب اسی عام معنی کی طرف جاتا ہے جو ازروئے لغت مفہوم ہوتے ہیں حالانکہ وہ معنی خلاف مراد ہیں

جاری
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-06-11), حیدر Rehan (17-06-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 15-06-11, 03:56 PM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default آیت اولی الامر کی تفسیر ( آخری حصہ)

سوم .... یہ کہ بالفرض یہ سب مان لیا جائے تو اما م کو چاہیئے تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہی پیش کرتے جس میں اولواالامر کی مراد بیان کی گئی ہوتی لیکن انہوں نے یہ بھی نہ کیااور نہ کر سکتے تھے علاوہ اسکے سب سے بڑا نقص امام صاحب کے استدلال میں یہ ہے کہ اولی الامر سے حضرت علی و حسنین رضی اللہ عنہم مراد لئے جائیں تو ان کی عصمت باطل ہوئی جاتی ہے کیوں کہ فان تنازعتم سے حسب اقرار امام باقر عصمت کی نفی ہو رہی ہے اس نقص کو شیعوں کے اولین و آخرین مل نہیں اٹھا سکتے اس لئے متاخرین ِ شیعہ نے آیت کا ستدلال ایک تیسرے رنگ میں شروع کیا
تیسرا رنگ .... شیعہ کے امام اعظم شیخ حلی نے اور ان کے بعد دوسرے علماء شیعہ نے اس آیت سے یوں استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اولواالامر کی اطاعت کا یکساں حکم دیا ہے کچھ فرق ان تینوں اطاعتوں میںنہیں بیان کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح رسول معصوم ہیں اولواالامر بھی معصوم ہیں اور بالاتفاق مفسرین فریقین اولواالامر سے مراد آئمہ ہیں لہٰذا ان کا معصو م ہونا ثابت ہو گیا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ معصوم کے ہوتے ہوئے غیر معصوم کو خلیفہ بنانا جائز نہیں لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل بھی ثابت ہو گئی

جواب ....


شیعوں کی پہلی دونوں تقریروں کا جواب تو انہی تقریروں کے ساتھ ہو چکا ۔ اس تیسری تقریر کا جواب یہ ہے کہ اس تقریر کی بنیاد دو باتوں پر ہے اور دونوں خالص افترا ہیں
اول.... یہ کہ خدا نے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کو یکساں واجب کیا کچھ فرق بیان نہیں کیا یہ خدا پر افتراء ہے اس سے زیادہ فرق کیا ہو گا ’’ فان تنازعتم ‘‘ فرما کر ظاہر کر دیا کہ اولواالامر سے درصورت شبہ مخالفت شریعت نزع جائز ہے اور رسول سے کسی حال میں نزع جائز نہیں۔ اور بالفرض اگر یہ فرق نہ بیان ہوتا تو بھی اولواالامر کا مثل رسول معصوم ہونا ثابت نہ ہوتا کیا اللہ اور رسول کی اطاعت جو واقعی اس آیت اور دوسری آیات میں یکساں بیان کی گئی ہے ۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہو سکتی ہے کہ رسول مثل خدا کے واجب الوجود اور بے والدو بے ولد ہیں( نعوذ بااللہ)

دوم .... یہ کہ مفسرین اہل سنت کا اتفاق ہے کہ اولوالامر سے بارہ امام مراد ہیں یہ مفسرین اہل سنت پر افتراء ہے تفاسیر اہل سنت کی عبارتیں ہم اوپر نقل کر چکے ہیں کسی میں بھی بارہ امام کا ذکر نہیں شاید کسی مفسر نے اگر اولواالامر سے ان حضرات کو مراد لیا ہو تو اس کا مقصود یہ نہ ہو گا کہ صرف یہی حضرات مراد ہیں بلکہ اس کا مقصود یہ ہو گا کہ لفظ اولواالامر میں اگر علماء و فقہاء کو بھی شامل رکھا جائے تو یہ آئمہ بھی اس میں داخل ہو سکتے ہیں
خلاصۃ الکلام


۱..: اس آیت مذکورہ کو کسی خاص خلیفہ کی خلافت سے کوئی تعلق نہیں آیت میں ایک عام حکم بیان ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے حاکم کی اطاعت کرنی چاہئی
۲..: اولی الامر کے معنی صاحب حکومت کے ہیں اور یہی معنی لغوی آیت میں مراد ہیں ۔ قیامت تک جتنے مسلمان حاکم ہوں سب کو بلاتخصیص یہ لفظ شامل ہی
۳..: اولی الامر سے بارہ امام کو مراد لینا آیت کی تحریف معنوی کے علاوہ خود مذہب شیعہ کے بھی خلاف ہے کیونکہ آیت میں اولواالامر سے نزاع کی اجازت ہے جو عصمت کے منافی ہے اور شیعہ کہتے ہیں کہ بارہ امام معصوم ہیں ان سے کسی مسئلے میں نزاع کرنا ویسا ہی حرام ہے جیسا رسول سے نزاع کرنا
۴..: آیت مذکورہ صاف بتلا رہی ہے کہ اولی الامر معصوم نہیں ہوتا نہ اس کا قول حجت شرعی ہے حجت مستقلہ شرعی صرف اللہ اور رسول کا فرمان ہے ورنہ درصورت نزاع صرف اللہ اور رسول کی طرف رجوع کا حکم نہ دیا جاتا ۔ فقط

ھٰذا اٰخر الکلام والحمد للہ رب العالمین

Last edited by سیفی خان; 15-06-11 at 03:58 PM.
سیفی خان آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-06-11), حیدر Rehan (17-06-11), شھزادباجوہ (27-07-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 16-06-11, 12:21 AM   #4
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاءاللہ سیفی بھائی اللہ آپ کو جزاء دے۔
میں آجکل لیپ ٹاپ خراب ہونے کی وجہ سے آن لائن نہیں ہو پارہا یعنی ریگولر جلد ہی اگر عبدالقدوس بھائی سے ریٹ طے پا گیا تو میں بھی اس پر اپنی رائے کا اظہار کرونگا ان شاءاللہ۔
بہرحال آپ نے باطل نظریات کا دلائل کے ساتھ رَد کیا ہے۔جزاک اللہ
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
سیفی خان (16-06-11), شھزادباجوہ (27-07-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 16-06-11, 12:25 AM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ ہمیں حق و باطل میں فرق کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٰ مین
سیفی خان آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (20-06-11), حیدر Rehan (17-06-11), شھزادباجوہ (27-07-11), عبداللہ خراسانی (16-06-11)
پرانا 17-06-11, 01:05 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امت محمدی ص کے 72 فرقوں میں سے کوئی بھی فرقہ یہ نہی مانتا کہ سوائے انبیا علیہ سلام کے کوئی معصوم تھا یا ہے(جو کہ غلط عقیدہ ہے(۔
اور یہ بھی کہ
اسلام کے 72 فرقوں کا کوئی بھی امام یا خلیفہ یا حکمران معصوم نہ تھا۔

کیونکہ جانتے ہیں‌کہ معصوم ہونے کی وجہ ان حضرات کے قول و فعل سے کسی بھی قسم کی نافرمانی و گناہ و ظلم کا سرزد ہونا سمجھتے ہیں۔
تو پھر کسی ہم سے کس طرح کہہ سکتے ہیں ؟؟ کہ اس ایت سے مراد خلیفہ و دیگر ائمہ و دیگر حکمران ہیں تو ان کی اطاعت کرو یا ان سے رجوع کرو ۔
جب خود ہی کشمکش میں ہیں تو کسی پر زور زبردستی کا قانون اگرچہ اسلام میں بھی نہی پھر بھی اسرار نہی کرسکتے
یا یہ کہ

اگرہم ان خلیفہ اکرام یا ائمہ اہلسنت و الجماعت کو نہی مانتے تو کیا کسی بھی قسم کے گنا ہ و سزا کے مستحق ہونگے ؟؟
اور اگر گناہگار ہونگے تو کس ایت کی رو سے اور کس دلیل سے ؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 17-06-11, 01:50 PM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
امت محمدی ص کے 72 فرقوں میں سے کوئی بھی فرقہ یہ نہی مانتا کہ سوائے انبیا علیہ سلام کے کوئی معصوم تھا یا ہے(جو کہ غلط عقیدہ ہے(۔
اور یہ بھی کہ
اسلام کے 72 فرقوں کا کوئی بھی امام یا خلیفہ یا حکمران معصوم نہ تھا۔

کیونکہ جانتے ہیں‌کہ معصوم ہونے کی وجہ ان حضرات کے قول و فعل سے کسی بھی قسم کی نافرمانی و گناہ و ظلم کا سرزد ہونا سمجھتے ہیں۔
جھوٹ کہ رہے ہیں آپ ۔ ۔ امام کے بارے شیعہ کا عقیدہ ان کی کتب میں لکھا ہے وہ ملاحظہ ہو
شیعہ کے امام خمینی نے حکومت اسلامیہ میں لکھا ہے
فان للامام مقام محمودا و درجہ سامیہ و خلافہ تکونیہ الخ
’” امام کو وہ مقام محمود اور بلند ایسی تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کاذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے سامنے سرنگوں اور زیر فرمان ہوتا ہے

ملاں باقر مجلسی اپنی کتاب ’’ بحار الانوار ‘‘ میں عقائد الصدوق کے حوالہ سے لکھتے ہیں

یجب اںیعتقد ان اللہ عزوجل لم یخلق خلقا افضل من محمد صلی اللہ علیہ وسلم والائمہ علیہم السلام‘‘
یہ عقیدہ لازم ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ کرام سے افضل کوئی مخلوق پیدا نہیں کی
آگے چل کر یہی ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں
اعلم ان ماذکرہ رحمہ اللہ من فضل نبینا و ائمتنا صلوات اللہ علیہم علی جمیع المخلوقات و کون ائمتنا علیہم السلام افضل من سائر الانبیاء ھو الذی لایرتاب فییہ من تتبع اخبارھم علیہم السلام رلی وجہ الاذعان والیقین ( بحار الانوار ص 297 )
معلوم ہوا کہ شیخ صدوق نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ صلوت اللہ علیہم تمام مخلوقات پر فضیلت رکھتے ہیں اور یہ آئمہ علیہم السلام تمام انبیاء سے اٍفضل ہیں ۔ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ اذعان و یقین کے ساتھ اخبار کا تتبع کرنے والا کوئی بھی شخص اس میں شک و شبہ کا شکار نہیں ہو سکتا ۔

لی جئیے ملاں باقر مجلسی نے تو بات ہی ختم کر دی کہ آئمہ انبیاء سے بھی افضل ہیں ۔ ۔اور آپ کہ رہے ہیں کہ ایسا کسی کا عقیدہ نہیں ۔
اب انبیاء سے افضل ہونے کے معصوم ہونا ہی شرط ہو گا نا کہ غیر معصوم ۔ ۔ ۔

ملاں باقر نے حیات القلوب مطبوعہ اردو لاہور ص 787 ج 2 اور مولوی سید نجم الحسن نے ذکر العباس ص 104 حسین بخش جاڑا مقدمی تفسیر انوارالنجف فی اسرارالمصحف ص 19 اور ملک غلام حیدر کلو کتاب امہات آئمہ ص 30
ان سب کتب میں یہ لکھا ہے کہ آئم انبیاء سے افضل ہیں


اگر بقول آپ کے آئمہ کو کوئی بھی معصوم نہیں کہتا تو غیر معصوم معصوم سے افضل کیونکر ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ملاں باقر مجلسی بحارالانوار میں ایک باب کا عنوان یوں قائم کرتے ہیں
’’ عصمتہم و لزوم عصمہ الامام علیہ السلام یعنی امام معصوم ہوتے ہیں اور امام کو عصمت لازم ہے ۔ ۔
اس باب میں عیون الاخبار کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے ۔ جس کے آخر میں ہے وھم المعصومون من کل ذنب و خطیئہ اور وہ معصوم ہوتے ہیں ہر گناہ غلطی سے ۔ ۔ ۔

اگر اب بھی شیعہ امام کو معصوم نہیں کہتے تو پھر کیسے معصوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کیا معصوم کی تعریف کوئی اور ہوتی ہے ۔ ۔

یہاں تک کہ یہی باقر مجلسی لکھتے ہیں بحارالانوار ص 390 پع لھتے ہیں جاننا چاہیئے کہ جو شخص امیر المؤمنین کی اور ان کی اولاد میں سے گیارہ اماموں کی امامت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو اور دوسروں کو ان سے افضل کہتا ہو ۔ ۔ ۔ اس پر کفر اور شرک کا لفظ بولنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ سب کافر ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ ۔ ۔

انصاف کی جئیے ۔ ۔ کتنے لوگ ہیں جو عقیدہ امامت رکھتے ہیں ۔ ۔ ملاں باقر نے کہا ہے کہ جو یہ عقیدہ نہ رکھے وہ کافر اور جھنمی ہین ۔ ۔ ۔

کیا اب بھی آپ یہی کہیں گے آعمہ کو کوئی معصوم نہیں کہتا ۔ ۔ ۔؟

Last edited by سیفی خان; 17-06-11 at 02:04 PM.
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (11-07-11), محمد عاصم (20-06-11), شھزادباجوہ (27-07-11)
پرانا 17-06-11, 02:45 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
جھوٹ کہ رہے ہیں آپ ۔ ۔ امام کے بارے شیعہ کا عقیدہ ان کی کتب میں لکھا ہے وہ ملاحظہ ہو
شیعہ کے امام خمینی نے حکومت اسلامیہ میں لکھا ہے
فان للامام مقام محمودا و درجہ سامیہ و خلافہ تکونیہ الخ
’” امام کو وہ مقام محمود اور بلند ایسی تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کاذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے سامنے سرنگوں اور زیر فرمان ہوتا ہے

ملاں باقر مجلسی اپنی کتاب ’’ بحار الانوار ‘‘ میں عقائد الصدوق کے حوالہ سے لکھتے ہیں

یجب اںیعتقد ان اللہ عزوجل لم یخلق خلقا افضل من محمد صلی اللہ علیہ وسلم والائمہ علیہم السلام‘‘
یہ عقیدہ لازم ہے کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ کرام سے افضل کوئی مخلوق پیدا نہیں کی
آگے چل کر یہی ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں
اعلم ان ماذکرہ رحمہ اللہ من فضل نبینا و ائمتنا صلوات اللہ علیہم علی جمیع المخلوقات و کون ائمتنا علیہم السلام افضل من سائر الانبیاء ھو الذی لایرتاب فییہ من تتبع اخبارھم علیہم السلام رلی وجہ الاذعان والیقین ( بحار الانوار ص 297 )
معلوم ہوا کہ شیخ صدوق نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ صلوت اللہ علیہم تمام مخلوقات پر فضیلت رکھتے ہیں اور یہ آئمہ علیہم السلام تمام انبیاء سے اٍفضل ہیں ۔ یہ ایسا عقیدہ ہے کہ اذعان و یقین کے ساتھ اخبار کا تتبع کرنے والا کوئی بھی شخص اس میں شک و شبہ کا شکار نہیں ہو سکتا ۔

لی جئیے ملاں باقر مجلسی نے تو بات ہی ختم کر دی کہ آئمہ انبیاء سے بھی افضل ہیں ۔ ۔اور آپ کہ رہے ہیں کہ ایسا کسی کا عقیدہ نہیں ۔
اب انبیاء سے افضل ہونے کے معصوم ہونا ہی شرط ہو گا نا کہ غیر معصوم ۔ ۔ ۔

ملاں باقر نے حیات القلوب مطبوعہ اردو لاہور ص 787 ج 2 اور مولوی سید نجم الحسن نے ذکر العباس ص 104 حسین بخش جاڑا مقدمی تفسیر انوارالنجف فی اسرارالمصحف ص 19 اور ملک غلام حیدر کلو کتاب امہات آئمہ ص 30
ان سب کتب میں یہ لکھا ہے کہ آئم انبیاء سے افضل ہیں


اگر بقول آپ کے آئمہ کو کوئی بھی معصوم نہیں کہتا تو غیر معصوم معصوم سے افضل کیونکر ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ملاں باقر مجلسی بحارالانوار میں ایک باب کا عنوان یوں قائم کرتے ہیں
’’ عصمتہم و لزوم عصمہ الامام علیہ السلام یعنی امام معصوم ہوتے ہیں اور امام کو عصمت لازم ہے ۔ ۔
اس باب میں عیون الاخبار کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے ۔ جس کے آخر میں ہے وھم المعصومون من کل ذنب و خطیئہ اور وہ معصوم ہوتے ہیں ہر گناہ غلطی سے ۔ ۔ ۔

اگر اب بھی شیعہ امام کو معصوم نہیں کہتے تو پھر کیسے معصوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کیا معصوم کی تعریف کوئی اور ہوتی ہے ۔ ۔

یہاں تک کہ یہی باقر مجلسی لکھتے ہیں بحارالانوار ص 390 پع لھتے ہیں جاننا چاہیئے کہ جو شخص امیر المؤمنین کی اور ان کی اولاد میں سے گیارہ اماموں کی امامت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو اور دوسروں کو ان سے افضل کہتا ہو ۔ ۔ ۔ اس پر کفر اور شرک کا لفظ بولنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ سب کافر ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ ۔ ۔

انصاف کی جئیے ۔ ۔ کتنے لوگ ہیں جو عقیدہ امامت رکھتے ہیں ۔ ۔ ملاں باقر نے کہا ہے کہ جو یہ عقیدہ نہ رکھے وہ کافر اور جھنمی ہین ۔ ۔ ۔

کیا اب بھی آپ یہی کہیں گے آعمہ کو کوئی معصوم نہیں کہتا ۔ ۔ ۔؟

لوگوں کی نظریں دیکھنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔۔۔۔۔
میں نے خاص طور پر یہ جملہ لکھا ہے ؟ سوچیں کیوں لکھا ہے ؟؟

ائمہ اہلبیت یعنی آل محمد علیہ سلام ۔ ۔ ۔ ۔امام معصوم ہی ہیں امامت الہی عہدہ ہے اور خلافت بھی الہی عہدہ ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہی ہے ۔

اپ جواب دینے میں جلدی کی ۔ ۔ ۔ ۔ جواب محفوظ کرلیا ہے ویسے یہ کتابیں اپ کے پاس ، ہیں تو مجھے بھی بھیج دیں کسی اور دن میرے لیے کسی اور موضوع پر کام ائیں‌گئ۔ ۔ شکریہ
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 17-06-11, 03:08 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
امت محمدی ص کے 72 فرقوں میں سے کوئی بھی فرقہ یہ نہی مانتا کہ سوائے انبیا علیہ سلام کے کوئی معصوم تھا یا ہے(جو کہ غلط عقیدہ ہے(۔
اور یہ بھی کہ
اسلام کے 72 فرقوں کا کوئی بھی امام یا خلیفہ یا حکمران معصوم نہ تھا۔
چلیں میں ہی بتائے دیتا ہوں بے کار میں لوگ اپنے زہن پر زور ڈالیں گے کہیں گھٹنوں میں زیادہ تکلیف ہوگئی تو پھر مشکل ہوجائے گی

سیدھی سے بات ہے کہ کسی ایک چیز سے 72 ٹکڑے الگ کیے جائیں تو ٹوٹل 73 بنے گا ۔


حدیث ڈھنڈ کر پڑھ لیں ۔ ۔ ۔ ۔صابت ہوجائے گا

دوسرے یہ کہ
میں نے ان 72 ٹکڑوں کی بات کی ہے جو اپنی اصل سے الگ ہوئے ہیں نہ کہ وہ شئے جس سے الگ ہوئے ہوں اس کی بات کی ہے

یہ بات اس وقت سامنے ائی تھی جب اسلام کے تمام فرقوں کو رجسڑ کیا جارہا تھا
ایک کے بعد ایک فقہ سامنے آتا گیا اور رجسڑ ہوتے گئے
جب 4 فقہ رجسٹر ہوگئے تو اہل تشیع حضرات کو بھی بلوایا گیا کہ اپ بھی رجسڑ ہوجائیں اج کے بعد امت میں کوئی نیا فرقہ نہ بننے دیا جائے گا ۔

اہل تشیع علما نے صاف کہلا بھیجا کہ
فرقے رجسڑ ہورہے ہیں جو اسلام سے الگ ہوئے ہیں ۔

اگر دنیا کے مذاہب رجسڑ ہوتے تو ہم ضرور اپنا مذہب اسلام لے کر حاضر ہوتے ۔


باقی چار فرقوں کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی کہ اپ پریشان نہ ہوں وہ اس لیے نہی آئے کیونکہ رجسڑ ہونے کی فیس بہت زیادہ تھی اور شیعہ لوگ چونکہ تعداد میں کم ہیں اس لیے پیسے نہی ہیں‌۔ ۔


تاریخ پر ہلکی سی نظر ۔ ۔ ۔معذرت کے ساتھ
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 17-06-11, 06:27 PM   #10
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اہل تشیع علما نے صاف کہلا بھیجا کہ
فرقے رجسڑ ہورہے ہیں جو اسلام سے الگ ہوئے ہیں ۔

اگر دنیا کے مذاہب رجسڑ ہوتے تو ہم ضرور اپنا مذہب اسلام لے کر حاضر ہوتے ۔
اور اس مذہب کی بنیاد کیا ہے ؟
سیفی خان آف لائن ہے  
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 11-07-11, 04:36 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,387
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
لوگوں کی نظریں دیکھنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔۔۔۔۔
میں نے خاص طور پر یہ جملہ لکھا ہے ؟ سوچیں کیوں لکھا ہے ؟؟

ائمہ اہلبیت یعنی آل محمد علیہ سلام ۔ ۔ ۔ ۔امام معصوم ہی ہیں امامت الہی عہدہ ہے اور خلافت بھی الہی عہدہ ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہی ہے ۔

اپ جواب دینے میں جلدی کی ۔ ۔ ۔ ۔ جواب محفوظ کرلیا ہے ویسے یہ کتابیں اپ کے پاس ، ہیں تو مجھے بھی بھیج دیں کسی اور دن میرے لیے کسی اور موضوع پر کام ائیں‌گئ۔ ۔ شکریہ
جناب جن حوالوں کا انہو‌ں نے ذکر کیا ہے اس کی تردید یا تصدیق کریں۔ وگرنہ فرار کا بہانہ سمجھا جائیگا۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (11-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11)
پرانا 11-07-11, 06:12 PM   #12
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیفی خان صاحب کے مراسلےسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بات میں کشمکش میں مبتلا ہیں ان کی کمشکش کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہم واپس اسی مراسلے کی طرف جائیں گہ جہاں سے اپ کو سیفی صاحب لائیں ہیں یہ اس موضوع کی کے اصل مراسلہ کی طرف ۔۔
شکریہ

پہلا نکتہ: (فنّ تنازعتم) میں مخاطبین وہی ہیں جو ( يَا أَيُّھا الَّذِينَ آمَنُواْ ) میں مخاطبین ہیں ۔ '' آیت میں مخاطب مو منین '' کا اولوالامر کے درمیان تقابل کا قرینہ متقاضی ہے کہ ''الذین آمنوا'' ''اولوالامر'' کے علاوہ ہوں کہ جس میں حاکم و فرمانروا اولوالامر اور مطیع وفرمانبردار مومنین قرار دیئے جائیں ۔

دوسرانکتہ: اس نکتہ کے پیش نظر،مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔

تیسرانکتہ: یہ کہ مو منین سے خطاب مورد توجہ واقع ہو اور اس کو اولی الامر کی طرف موڑ دیا جائے ،یہ سیاق آیت کے خلاف ہے اوراس تو جہ کے بارے میں آیہء شریفہ میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔


باقی اٹھنے والے سوالات بھی وہیں ہیں شکریہ ۔


آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت

Last edited by حیدر Rehan; 11-07-11 at 06:23 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 27-07-11, 12:01 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,517
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں

سیدھی سے بات ہے کہ کسی ایک چیز سے 72 ٹکڑے الگ کیے جائیں تو ٹوٹل 73 بنے گا ۔


حدیث ڈھنڈ کر پڑھ لیں ۔ ۔ ۔ ۔صابت ہوجائے گا

دوسرے یہ کہ
میں نے ان 72 ٹکڑوں کی بات کی ہے جو اپنی اصل سے الگ ہوئے ہیں نہ کہ وہ شئے جس سے الگ ہوئے ہوں اس کی بات کی ہے

یہ بات اس وقت سامنے ائی تھی جب اسلام کے تمام فرقوں کو رجسڑ کیا جارہا تھا
ایک کے بعد ایک فقہ سامنے آتا گیا اور رجسڑ ہوتے گئے
جب 4 فقہ رجسٹر ہوگئے تو اہل تشیع حضرات کو بھی بلوایا گیا کہ اپ بھی رجسڑ ہوجائیں اج کے بعد امت میں کوئی نیا فرقہ نہ بننے دیا جائے گا ۔

اہل تشیع علما نے صاف کہلا بھیجا کہ
فرقے رجسڑ ہورہے ہیں جو اسلام سے الگ ہوئے ہیں ۔

اگر دنیا کے مذاہب رجسڑ ہوتے تو ہم ضرور اپنا مذہب اسلام لے کر حاضر ہوتے ۔
فقہ اور فرقے میں فرق ہوتا ہے ۔
پہلے اپ یہ واضع کریں کہ شعیہ فقہ ہے یا فرقہ
اس حدیث پر تو میں نے بھی بہت غور کیا ہےکہ جس کا مفہوم ہے کہ
میری امت میں 73 فرقے ہوں گے 72 جہنم مین جائیں گے اور ایک گروہ جنت میں جائے گا اور یہ وہ گروہ ہوگا جو میری صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے راستے پر ہوگا ۔

اب آپ اگر یہ کہتے ہیں کہ شعیہ وہ گروہ ہے تو کیا شعیہ الگ فرقہ یا بقول آپ کے الگ فقہ نہیں ہے ؟
کیا شعیہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو مانتے اور پیروی کرتے ہیں ؟
یاد رہے اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کو کہا ہے صرف اہل بیت کے نہیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (28-07-11), حیدر Rehan (27-07-11), سیفی خان (28-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11), شمشاد احمد (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 01:25 PM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے سحر بہن جي حيدر ريحان صاحب كو آج كل معاذ اللہ قرآن كريم كي زبريں زيرريں ہلي اور تبديل ہوئي نظر آ رہي ہيں۔ آپ ان سے احاديث كي بات كر رہي ہيں۔۔ وہ بھي حضرات صحابہ كرام كے فضائل و مناقب كے متعلقہ احاديث۔۔۔‌
ھذا صراط علی مستقیم
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (27-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 03:12 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,517
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شمشاد بھائی مجھے حیدر ریحان کی یہ بات کافی اپیلنگ لگی لیکن اس بات کو شیعہ مسلک سے منسلک کرنا کچھ جچا نہیں اس لیے سوال کردیا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
سیدھی سے بات ہے کہ کسی ایک چیز سے 72 ٹکڑے الگ کیے جائیں تو ٹوٹل 73 بنے گا ۔
دوسرے یہ کہ
میں نے ان 72 ٹکڑوں کی بات کی ہے جو اپنی اصل سے الگ ہوئے ہیں نہ کہ وہ شئے جس سے الگ ہوئے ہوں اس کی بات کی ہے
سحر آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (27-07-11), شھزادباجوہ (27-07-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فرمان علی, پسند, قیس, قرآن, لوگ, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, اعلیٰ, تعلیم, حکم, حال, حدیث, خلاف, خبر, زمانہ, سیاست, شہر, شخص, علی, عبادت, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایک آیت کی تفسیر سحر علوم قرآن کریم 8 09-05-11 06:50 PM
آیت الکرسی کی تفسیر skjatala ویڈیوز 0 22-04-11 10:59 PM
ایشز:انگلینڈ نے سیریز جیت لی۔ تفسیر حیدر کرکٹ 0 24-08-09 01:14 AM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger