واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-11, 01:55 PM   #1
آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 20-05-11, 01:55 PM


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
(سورہ نسا٥٩)
''اے صاحبان ایمان! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور اولوالامر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہو جائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو۔ یہی تمھارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔''


قرآن مجید کے سلسلہ میں ابتدائی اورسرسری نگاہ ڈالنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی آیتوں پر تدبر اور غورو خوض کرنا چاہئے۔

کیونکہ قرآن مجید کا ارشادہے:

فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ
(سورہ ملک / ۳ ۔ ۴)
”پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہیں کوئی شگاف تو نہیں ہے۔
اس کے بعد بار بار نگاہ ڈالو “


اس آیہ شریفہ میں مومنین سے خطاب ہے اور اللہ کی اطاعت، رسول ص کی اطاعت اور اولی الامر ع کی اطاعت کرنے کا حکم آیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ پہلے مرحلہ میں اللہ کی اطاعت،ان احکام کے بارے میں ہے کہ جو اللہ نے انھیں قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے اور رسول ص نے ان احکام کولوگوں تک پہنچایا ہے،جیسے کہ یہ حکم : ( وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ) رسول ص کے فرامین کی اطاعت دو حیثیت سے ممکن ہے :

١۔وہ فرمان جو سنّت کے عنوان سے آنحضرت (ص)کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں :

یہ اوامراگرچہ احکام الٰہی ہیں جو آنحضرت ۖ پر بصورت وحی نازل ہوئے ہیں اورآنحضرت ۖ نے انھیں لوگوں کے لئے بیان فرمایاہے،لیکن جن مواقع پریہ اوامر''مرکم بکذااونّہاکم من ہذا''(میں تم کو اس امرکا حکم دیتا ہوں یااس چیزسے منع کرتاہوں )کی تعبیرکے ساتھ ہوں (کہ فقہ کے باب میں اس طرح کی تعبیریں بہت ہیں )ان اوامراورنواہی کوخودآنحضرت ۖکے اوامر ونواحی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے نتیجہ کے طور پر ان کی اطا عت آنحضرت ۖ کی اطاعت ہوگی،چونکہ مذکورہ احکام خداکی طرف سے ہیں ،اس لئے ان احکام پرعمل کرنا بھی خداکی اطاعت ہوگی۔

٢۔وہ فرمان،جو آنحضرت (ص) نے مسلمانوں کے لئے ولی اورحاکم کی حیثیت سے جاری کئے ہیں ۔

یہ وہ احکام ہیں جوتبلیغ الہی کا عنوان نہیں رکھتے ہیں بلکہ انھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لحاظ سے جاری فرمایاہے کہ آپۖ مسلمانوں کے ولی،سرپرست اورحاکم تھے،جیسے جنگ وصلح نیزحکومت اسلامی کوادارہ کرنے اورامت کی سیاست کے سلسلہ میں جاری کئے جا نے والے فرامین۔

آیہء شریفہ میں (وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ) کا جملہ مذکورہ دونوں قسم کے فرمانوں پرمشتمل ہے۔


تمام اوامر و نواہی میں نبی اکرم (ص) کی عصمت

نبی اکرم ص ۖ کی عصمت کو ثابت کرنے کے بارے میں علم کلام میں بیان شدہ قطعی دلائل کے پیش نظر،آنحضرت ۖہر شے کا حکم دینے یا کسی چیز سے منع کرنے کے سلسلہ میں بھی معصوم ہیں ۔ آپ (ع) نہ صرف معصیت وگناہ کا حکم نہیں دیتے ہیں ،بلکہ آنحضرت ۖ،امرونہی میں بھی خطا کر نے سے محفوظ ہیں ۔

ہم اس آیہء شریفہ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرت ۖ کی اطاعت مطلق اورکسی قیدوشرط کے بغیربیان ہوئی ہے۔اگرآنحضرت ۖ کے امرونہی کرنے کے سلسلہ میں کوئی خطا ممکن ہوتی یااس قسم کا احتمال ہوتا تو آیہء شریفہ میں آنحضرت ۖ کی اطاعت کا حکم قیدوشرط کے ساتھ ہوتا اور خاص مواقع سے مربوط ہوتا۔

ماں باپ کی اطاعت جیسے مسائل میں ،کہ جس کی اہمیت نبی اکرم ۖ کی اطاعت سے بہت کم ہے،لیکن جب خدائے متعال والدین سے نیکی کرنے کا حکم بیان کرتا ہے،تو فرماتا ہے:

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا
(عنکبوت ٨)
''اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے کی وصیت کی ہے اور بتایا ہے کہ اگر وہ تم کو میرا شریک قرار دینے پر مجبور کریں کہ جس کہ کا تمھیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا۔''


جب احتمال ہوکہ والدین شرک کی طرف ہدایت کریں توشرک میں ان کی اطاعت کرنے سے منع فرماتاہے، لیکن آیہء کریمہ (اُولیّ المر) میں نبی اکرم ۖ کی اطاعت کوکسی قیدوشرط سے محدودنہیں کیاہے۔

ایک اورنکتہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکی متعدد آیات میں آنحضرت ۖ کی اطاعت خداوند متعال کی اطاعت کے ساتھ اور لفظ ''طیعوا'' کی تکرار کے بغیر ذکر ہوئی ہے۔ آیہء شریفہ (وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) یعنی''اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ مورد رحمت قرار پاؤ '' مذکورہ میں صرف ایک لفظ ''طیعوا'' کا اللہ اور نبی ص دونوں کے لئے استعمال ہونا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ۖ کی اطاعت کا واجب ہونا خدا کی اطاعت کے واجب ہونے کے مانند ہے۔ اس بناء پر نبی اکرم ۖ کے امر پر اطاعت کرنا قطعی طور پر اطلاق رکھتا ہے اور ناقابل شک وشبہ ہے۔

اُولوالاامرکی اطاعت
ائمہ علیہم السلام کی امامت و عصمت کے سلسلہ میں آیہ مذکورہ سے استفادہ کر نے کے لئے مندرجہ چندابعادپرتوجہ کرناضروری ہے:
ا۔اولوالامر کا مفہوم
٢۔اولوالامر کا مصداق
٣۔اولوالامر اور حدیث ''منزلت'' حدیث ''اطاعت'' اور حدیث ''ثقلین''
٤۔شیعہ اور سنی منابع میں اولوالامرکے بارے میں چند احادیث


اولوالامرکامفہوم
اولو الامر کا عنوان ایک مرکب مفہوم پرمشتمل ہے۔اس جہت سے پہلے لفظ''اولوا''اورپھرلفظ''الامر ''پرتوجہ کرنی چاہئے:

اصطلاح''اولوا''صاحب اور مالک کے معنی میں ہے اورلفظ''امر''دومعنی میں آیاہے:ایک''فرمان''کے معنی میں دوسرا''شان اورکام''کے معنی میں ۔''شان وکام''کامعنی زیادہ واضح اور روشن ہے،کیونکہ اسی سورئہ نساء کی ایک دوسری آیت میں لفظ''اولی الامر''بیان ہواہے:


وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ
(نسا٨٣)
''اور جب ان کے پاس امن ی اخوف کی خبر آتی ہے تو فوراً نشر کر دیتے ہیں حالانکہ اگر رسولۖ اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان میں ایسے افراد تھے کہ جو حقیقت حال کا علم پیدا کر لیتے.
..''

اس آیہء شریفہ میں دوسرا معنی مقصود ہے،یعنی جو لوگ زندگی کے امور اور اس کے مختلف حالتوں میں صاحب اختیارہیں ،اس آیت کے قرینہ کی وجہ سے''اولی الامر''کا لفظ مورد بحث آیت میں بھی واضح ہوجاتاہے۔

مورد نظرآیت میں اولوالامرکے مفہوم کے پیش نظر ہم اس نکتہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ''اولوالامر''کا لفظ صرف ان لوگوں کو شامل ہے جو در حقیقت فطری طورپرامورکی سرپرستی اورصاحب اختیارہونے کے لائق ہیں اورچونکہ خداوندمتعال ذاتی طورپرصاحب اختیارہے اورتمام امورمیں سرپرستی کااختیاررکھتاہے، اور یہ بھی کہ ھدایت و رہنمائی خدا ہی کی طرف سے ہے اس لیے یہ حکم بھی صابت کرتا ہے .اس لئے اس نے یہ سرپرستی انھیں عطاکی ہے ۔خواہ اگربظاہرانھیں اس عہدے سے محروم کر دیاگیا ہو،نہ ان لوگوں کو جو زوروزبردستی اورناحق طریقہ سے مسلط ہو کر لوگوں کے رہبر و رہنما و حکمران بن گئے ہیں ۔
اس لئے کہ صاحب خانہ وہ ہوتا ہے جوحقیقت میں اس کامالک ہو چا ہے وہ غصب کر لیا گیا ہو،نہ کہ وہ شخص جس نے زورو زبر دستی یامکروفریب سے اس گھرپرقبضہ کر لیا ہے۔

اولوالامرکا مصداق
اولوالامرکے مصادیق کے بارے میں مفسرین نے بہت سے اقوال پیش کئے ہیں ۔اس سلسلہ میں جونظریات ہمیں دستیاب ہوئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :
١۔ امرء
٢۔ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
٣۔ مہاجرین وانصار
٤۔ اصحاب اور تابعین
٥۔ چارو خلفائے امت
٦۔ ابوبکروعمر )رض)
٧۔ علماء
٨۔ جنگ کے کمانڈر
٩۔ ائمہء معصومین (علیہم السلام)
١٠۔ علی (علیہ السلام)
١١۔ وہ لوگ جوشرعی لحاظ سے ایک قسم کی ولایت اورسرپرستی رکھتے ہیں ۔
١٢۔ اہل حل وعقد
١٣۔ امرائے حق

حوالہ :-تفسیرالبحرالمحیط،ج٣،ص٢٧٨، التفسیرالکبیر

ان اقوال پرتحقیق اورتنقیدکرنے سے پہلے ہم خودآیہء کریمہ میں موجودنکات اورقرائن پرغورکرتے ہیں :

آیت میں اولوالامرکامرتبہ اور اطاعت کی کیفیت :

پہلانکتہ: اولوالامرکی اطاعت میں اطلاق آیہء شریفہ میں اولوالامرکی اطاعت مطلق طور پرذکرہوئی ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط بیان نہیں ہوئی ہے،جیساکہ رسول اکرم صل ۖ کی اطاعت میں اس بات کی تشریح کی گئی۔

یہ اطلاق اثبات کرتاہے کہ ’’اولوالامر‘‘ مطلق اطاعت کے حامل و سزاوارہیں اوران کی اطاعت خاص دستور،مخصوص حکم یا کسی خاص شرائط کے تحت محدود نہیں ہے، بلکہ ان کے تمام اوامرونواہی واجب الاطاعت ہیں ۔


دوسرانکتہ: اولوالامرکی اطاعت،اللہ اوررسولۖ ص کی اطاعت کے سیاق میں یعنی ان تین مقامات کی اطاعت میں کوئی قیدوشرط نہیں ہے اوریہ سیاق مذکورہ اطلاق کی تاکیدکرتاہے۔

تیسرانکتہ: اولوالامر میں ''طیعوا'' کا تکرار نہ ہونا۔

گزشتہ نکات سے اہم تر اس نکتہ کامقصدیہ ہے کہ اللہ اور رسول ص کی اطاعت کے لئے آیہء شریفہ میں ہرایک کے لئے الگ سے ایک ''طیعوا'' لایا گیا ہے اور فرمایاہے: ( ۔۔۔ وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ ) لیکن ’’اولوالامر‘‘ کی اطاعت کے لئے''طیعوا'' کے لفظ کی تکرار نہیں ہوئی ہے بلکہ اولی الامر ''الرسول'' پر عطف ہے، اس بنا پر وہی''طیعوا'' جو ’’رسول‘‘ کے لئے آیا ہے وہ ’’اولی الامر‘‘سے بھی متعلق ہے۔

اس عطف سے معلوم ہوتاہے کہ ''اولوالامر''اور''رسول'' کے لئے اطاعت کے حوالے سے دو الگ الگ واجب نہیں ہیں بلکہ وجوب اطاعت اولوالامر وہی ہے جو وجوب اطاعت رسولۖ ہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اولوالامر کی اطاعت تمام امر ونہی میں رسول اکرم ۖکی اطاعت کے مانندہے اوراس کانتیجہ گناہ وخطاسے اولوالامرکی عصمت،تمام اوامرونواہی میں رسولۖ کے مانندہے۔

اس برہان کی مزید وضاحت کے لئے کہا جا سکتا ہے: آیہء شریفہ میں رسول اکرم ص اور اولوالامر کی اطاعت کے لئے ایک''طیعوا''سے زیادہ استعمال نہیں ہوا ہے اور یہ ''طیعوا'' ایک ہی وقت میں مطلق بھی ہو اور مقیّد بھی یہ نہیں ہو سکتا ہے یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ''طیعوا'' رسول اللہ ۖ کے بارے میں مطلق ہے اوراولوالامرکے بارے میں مقیّدہے، کیونکہ اطلاق اور قیدقابل جمع نہیں ہیں ۔اگر''طیعوا''رسول ص ۖ کے بارے میں مطلق ہے اورکسی قسم کی قیدنہیں رکھتا ہے، (مثلاًاس سے مقیّدنہیں ہے کہ آنحضرت ۖ کا امرونہی گناہ یا اشتباہ کی وجہ سے نہ ہو) تواولوالامر کی اطاعت بھی مطلق اوربلا قید ہو نی چاہئے ورنہ نقیضین کاجمع ہونا لازم ہوگا۔

ان نکات کے پیش نظریہ واضح ہو گیا کہ آیہء کریمہ اس امر پر دلالت کر تی ہے کہ اس آیت میں ''اولوالامر''رسول مکرم ص کے مانند معصوم ہیں ۔

ایک اورنکتہ جو ''اولوالامر'' کے معنی کو ثابت کرنے کے لئے بہت مؤثر ہے وہ جملہئ شرطیہ میں ( أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ ) کے بعد ''فائے تفریع'' کا پایا جا نا ہے۔

یہ جملہء شرطیہ یوں آیاہے: (فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ و رسول) اختلافی مسائل کواللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے کاوجوب،خدا،رسولۖ اوراولی الامرکی اطاعت کے وجوب پرمتفرع ہواہے،اوراس بیان سے بخوبی سمجھ میں آتاہے کہ اختلافی مسائل کوخدااوررسول ۖکی طرف پلٹانے میں اولوالامرکی اطاعت دخالت رکھتی ہے۔یہ تفریع دوبنیادی مطلب کی حامل ہے:


١۔اولوالامرکی عصمت :
اس لحاظ سے کہ اگراولوالامرخطااورگناہ کامرتکب ہو گااور اختلافی مسائل میں غلط فیصلہ دے گا تواس کے اس فیصلہ کاکتاب وسنت سے کوئی ربط نہیں ہوگاجبکہ تفریع دلالت کرتی ہے کہ چونکہ اولی الامرکی اطاعت ضروری ہے لہذا چاہیئے کہ،اختلافی مسائل کوخدا اور رسول ۖ کی طرف پلٹا یا جائے۔



٢۔کتاب وسنت کے بارے میں کامل ووسیع معلو مات:
اس لحاظ سے اگراولی الامر کتاب وسنت کے ایک حکم سے بھی جاہل ہواوراس سلسلہ میں غلط حکم جاری کرے تواس حکم میں اس کی طرف رجوع کرناگویاکتاب وسنت کی طرف رجوع نہ کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ''فائے تفریع''سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اولی الامرکی اطاعت مسلسل اختلافی مسائل کوکتاب وسنت کی طرف پلٹانے کاسبب ہے۔اس لئے آیہء شریفہ میں فائے تفریع، کاوجوداولی الامر کے تعین کے لئے کہ جس سے مرادائمہ معصومین (ع)واضح قرینہ ہے۔

اس سلسلہ میں بھی نبی (ص) اورامام(ع) دونوں کی اطاعت کے لئے ان کی معرفت کی شرط ہے۔اس لحاظ سے ان کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے۔پس ان کی اطاعت کاوجوب مطلقاًہے،لیکن خوداطاعت مشروط ہے

مذکورہ نکات سے استفادہ کی صورت میں اب تک درج ذیل چندمطالب واضح ہوگئے:

١۔آیہء شریفہ میں ''اولی الامر''سے مرادجوبھی ہیں ان کاامرونہی کر نے میں گناہ اورخطاسے معصوم ہونا ضروری ہے۔

٢۔اولی الامرکا انطباق اہل حل وعقدپر صحیح ودرست نہیں ہے۔(جیساکہ فخررازی کا نظریہ ہے)

٣۔اب تک جوکچھ ثابت ہوچکا ہے اس کے پیش نظراگر''اولی الامر''کے بارے میں ہمارے بیان کئے گئے گیارہ اقوال پرنظرڈالیں ،توآیہء کریمہ کی روشنی میں ''اولی الامر''سے مراد تنہاشیعہ امامیہ کا نظریہ قابل قبول ہے اوریہ امران کے علاوہ دوسروں کے عدم عصمت پراجماع ہونے کی بھی تاکیدکرتاہے۔


ظالم حکام اولوالامر نہیں ہیں
اولوالامرکے مفہوم میں اشارہ کیاگیاکہ اولوالامرمیں صرف وہ لوگ شامل ہیں ،جوامت کی سرپرستی ان کے امور کے مالک ہوں ،اوریہ عنوان ان پر بھی صادق ہے کہ جنھیں ظلم اورناحق طریقہ سے امت کی سرپرستی سے علیحدہ کیاگیاہے۔اس کی مثال اس مالک مکان کی جیسی ہے،جس کے مکان پرغاصبانہ قبضہ کرکے اسے نکال باہرکر دیاگیاہو۔

دوسرانکتہ جو''اولوالامر''کے مقام کی عظمت اور اس کے بلند مر تبہ ہونے پر دلالت کرتا ہے وہ''اولوالامر''کا اللہ اور رسول ۖکے او پرعطف ہوناہے۔مطلقاً وجوب اطاعت میں اللہ ا ورر سول کے ساتھ یہ اشتراک و مقا رنت ایک ایسا رتبہ ہے جوان کے قدرومنزلت کے لائق افراد کے علاوہ دوسروں کے لئے میسرنہیں ہے۔


یہ دواہم نکتے(مفہوم ''اولوالامر'' اوروجوب اطاعت کے سلسلہ میں الوالامر کا خدا و رسولۖ پر عطف ہونا) خود ''اولوالامر'' کے دائرے سے ظالم حکام کے خارج ہونے کو واضح کرتا ہے۔


علماء بھی اولوالامرنہیں ہیں

''اولوالامر''کا مفہوم سرپرستی اورولایت کو بیان کرتا ہے اورعلماء کا کردار لوگوں کووضاحت اور آگاہی دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے،

کیونکہ ایک تو،''اولوالامر''کے عنوان سے صاحبان علم وفقہ ذہن میں نہیں آتے ہیں مگریہ کہ خارج سے اس سلسلہ میں کوئی دلیل موجود ہو جس کے روسے علماء اوردانشوروں کو سر پرستی حاصل ہو جائے اوریہ دلالت آیت کے علاوہ ہے جنہوں نے اس قول کو پیش کیاہے،وہ اس لحاظ سے ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے معاملات میں علماء کی اطاعت کرکے ان کی راہنمائی سے استفادہ کریں ۔

اس قول کے بارے میں کہ''اولوالامر''سے مراد علماء ہیں ،مفسرین کے بیانات میں بعض قابل غور باتیں دیکھنے میں آتی ہیں ،شائستہ نکات کو ملحوظ رکھتے ہو ئے آیت میں غور وخوص ان اعتراضات کو واضح کر دیتا ہے

پہلا نکتہ: (فنّ تنازعتم) میں مخاطبین وہی ہیں جو ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ) میں مخاطبین ہیں ۔ '' آیت میں مخاطب مو منین '' کا اولوالامر کے درمیان تقابل کا قرینہ متقاضی ہے کہ ''الذین آمنوا'' ''اولوالامر'' کے علاوہ ہوں کہ جس میں حاکم و فرمانروا اولوالامر اور مطیع وفرمانبردار مومنین قرار دیئے جائیں ۔

دوسرانکتہ: اس نکتہ کے پیش نظر،مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔


تیسرانکتہ: یہ کہ مو منین سے خطاب مورد توجہ واقع ہو اور اس کو اولی الامر کی طرف موڑ دیا جائے ،یہ سیاق آیت کے خلاف ہے اوراس تو جہ کے بارے میں آیہء شریفہ میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اہلسنت و الجماعت کے دیگر خداشات و ان کے جوابات اگے پڑھیے ۔ ۔ ۔
تحریر رضا کاردان

Last edited by کنعان; 21-05-11 at 05:15 AM.. وجہ: صرف عربی متن کی درسگتی کی ھے

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1858
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-06-11), مرزا عامر (20-05-11), اویسی (01-06-11), شمشاد احمد (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 03:36 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

كافي عرصہ بعد اس آيہ كي پر اتني تفصيلي تحرير سامنے آئي ہے۔۔۔۔ رات كو انشاء اللہ اس كو مكمل پڑھ كر تبصرہ كي كوشش كروں گا۔۔۔۔۔ بہر حال اتني تفصيل سے لكھنے پر مبارك باد قبول فرمائيں‌۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 11:54 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جي خير سے آپ كا پيش كردہ مضمون بغور مطالعہ كيا۔۔۔ آخر ميں آپ نے اہل سنت كے اعتراضات اور ان كے جوابات كے انتظار كا كہا ہے ۔۔۔۔ سو ان كا انتظار ہے۔۔۔۔۔ عين ممكن ہے۔۔۔۔ ان كو پڑھنے كے بعد تبصرےيا سوال كي ضرورت ہي باقي نہ رہے۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (21-05-11)
پرانا 21-05-11, 04:05 AM   #4
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برائے مہربانی قرآنی آیات کو درست نقل کیا جائے اگر جس ماخذ سے آیات نقل کی گئیں ہیں وہاں املا کی غلطیاں تو پھر کسی مستند ماخذ سے آیات قرآنی کو نقل کیا جائے جیسے اکثر آیات میں ہمزہ یا الف چھوٹ گیا مثلا پہلی آیت درست درج زیل طریق پر ہے ۔ ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-06-11), کنعان (21-05-11), محمد عاصم (25-05-11), مرزا عامر (12-07-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (21-05-11)
پرانا 21-05-11, 11:43 AM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو علم کے طلبگارہیں

یہ مراسلہ اپ جیسے ہی پڑھنےوالوں اور طالب علم حضرات کے لیے شایع کرنے کی کوشش کی ہے۔

مجھے امید ہے کہ اسے ضرور پڑھیں گئے اور استفادہ کریں گئے اور پڑھنے والوں کی علم و اگہی میں ضرور اضافہ ہوگا ۔
ان شااللہ
حیدر Rehan آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
اویسی (01-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11)
پرانا 21-05-11, 01:55 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ان نکات کے پیش نظریہ واضح ہوگیاکہ آیہء کریمہ اس امر پر دلالت کر تی ہے کہ اس آیت میں ''اولوالامر''نبی اکرم ص کے مانند معصوم ہیں ۔

یہ مطلب کہ''اولوالامر کی اطاعت''آیہء کریمہ میں مذکورہ خصوصیات کے پیش نظر،اولوالامر کی عصمت پر دلالت ہے۔

آیہء اولوالامر کے بارے میں فخررازی کا قول
''اللہ نے آیہء کریمہ میں ''اولوالامر'' کی اطاعت کو قطعی طورپرضروری جانا ہے،اورجس کسی کے لئے اس قسم کی اطاعت واجب ہواس کاخطاواشتباہ سے معصوم ہو ناناگزیر ہے،کیونکہ اگر وہ خطاواشتباہ سے معصوم نہ ہو اور بالفرض وہ خطا کا مر تکب ہو جائے تو ،اس آیت کے مطابق اس کی اطاعت کرنی ہوگی!اوریہ ایک امر خطا واشتباہ کی اطاعت ہوگی،جبکہ خطااوراشتباہ کی نہی کی جاتی ہے لہذا انہیں چاۂے کر اس کے امر کی پیروی کیجائے، کیونکہ اس قسم کے فرض کا نتیجہ فعل واحد میں امرونہی کا جمع ہو نا ہے (جو محال ہے) ٢۔

فخررازی اولوالامرکی عصمت کوآیہء سے استدلال کرنے کے بعد،یہ مشخص کرنے کے لئے کہ اولوالامر سے مراد کون لوگ ہیں کہ جن کامعصوم ہونا ضروری ہے کہتے ہیں :
'' اولوالامر سے مرادشیعہ امامیہ کے ائمہ معصو مین علیھم السلام(ع)نہیں ہو سکتے ہیں ، بلکہ اس سے مراداہل حل وعقد(جن کے ذمہ معاشرہ کے اہم مسائل کے حل کرنے کی ذمہ داری ہے)کہ جواپنے حکم اورفیصلے میں معصوم ہوتے ہیں اوران کے فیصلے سوفیصد صحیح اورمطابق واقع ہوتے ہیں ''۔

۔غرائب القرآن،نیشا بوری،ج٢،ص٤٣٤،دارالکتب العلمیة بیروت،تفسیرالمنار،شیخ محمدعبدہ ورشیدرضا،ج٥،ص١٨١دارالمعرف ةبیروت
٢۔التفسیرالکبیر،


فخررازی کاجواب
یہ بات کہ اولوالامر سے مراد اہل حل وعقد ہیں اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں معصوم ہیں ،مندرجہ ذیل دلائل کے پیش نظر صحیح نہیں ہے:

١۔آیہء کریمہ میں ''اولوالامر''کا لفظ جمع ا ور عام ہے کہ جو عمو میت و استغراق پر دلالت کر تا ہے۔اگر اس سے مراد اہل حل وعقد ہوں گے تو اس کی دلالت ایک مجموعی واحد پر ہو گی اور یہ خلاف ظاہر ہے۔
وضاحت یہ ہے کہ آیہء کریمہ کاظاہریہ بتاتاہے کہ ایسے صاحبان امرکی اطاعت لازم ہے جن میں سے ہر کوئی، واجب الاطاعت ہو، نہ یہ کہ وہ تمام افراد ( ایک مشترک فیصلہ کی بنیاد پر)ایک حکم رکھتے ہوں اور اس حکم کی اطا عت کر نا واجب ہو ۔

٢۔عصمت،ایک تحفظ الہٰی ہے،ایک ملکہ نفسانی اورحقیقی صفت ہے اوراس کے لئے ایک حقیقی موصوف کاہوناضرودری ہے اوریہ لازمی طور پرایک امرواقعی پر قائم ہو نا چاہئے جبکہ اہل حل وعقدایک مجموعی واحدہے اورمجموعی واحد ایک امراعتباری ہو تا ہے اورامر واقعی کا امراعتباری پر قائم ہونا محال ہے۔

٣۔ اس بات پر اتفاق نظر موجود ہے کہ شیعوں کے ائمہ اورانبیاء کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے۔

ائمہء معصومین (ع )کی امامت پر فخررازی کے اعتراضات
اس کے بعد فخررازی نے شیعہ امامیہ کے عقیدہ، یعنی''اولوالامر''سے مرادبارہ ائمہ معصومین ہیں ،کے بارے میں چنداعتراضات کئے ہیں :

پہلا اعتراض:ائمہء معصومین (علیہم السلام) کی ا طاعت کا واجب ہونا یا مطلقاً ہے یعنی اس میں ان کی معرفت وشناخت نیزان تک رسائی کی شرط نہیں ہے،تو اس صورت میں تکلیف مالایطاق کا ہو نا لازم آتا ہے،کیونکہ اس فرض کی بنیاد پر اگر ہم انھیں نہ پہچان سکیں اوران تک ہماری رسائی نہ ہو سکے،تو ہم کیسے ان کی اطاعت کریں گے؟یا ان کی شناخت اور معرفت کی شرط ہے،اگر ایسا ہے تویہ بھی صحیح نہیں ہے ،کیونکہ اس بات کا لازمہ ان کی اطاعت کا واجب ہونامشروط ہوگا،جبکہ آیہء شریفہ میں ان کی اطاعت کا واجب ہو نا مطلقاً ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط نہیں ہے ۔

جواب:ائمہء معصومین کی اطاعت کے واجب ہونے میں ان کی معرفت شرط نہیں ہے تاکہ اگرکوئی انھیں نہ پہچانے تواس پران کی اطاعت واجب نہ ہو،بلکہ ان کی اطاعت بذات خودمشروط ہے۔نتیجہ کے طور پر انھیں پہچاننا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے اوران دونوں کے درمیان کافی فرق ہے۔
مزیدوضاحت:بعض اوقات شرط، شرط وجوب ہے اور بعض اوقات شرط،شرط واجب ہے۔مثلاً وجوب حج کے لئے استطاعت کی شرط ہے اورخوداستطاعت وجوب حج کی شرط ہے۔اس بناء پر اگر استطاعت نہ ہو توحج واجب نہیں ہو گا۔لیکن نمازمیں طہارت شرط واجب ہے،یعنی نماز جو واجب ہے اس کے لئے طہارت شرط ہے۔اس بناء پر اگرکسی نے طہارت نہیں کی ہے تووہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے،وہ گناہ کا مرتکب ہوگا،کیونکہ اس پر واجب تھاکہ طہارت کرے تاکہ نماز پڑھے۔لیکن حج کے مسئلہ میں ،اگراستطاعت نہیں رکھتا ہے تواس پر حج واجب نہیں ہے اور وہ کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔
اس سلسلہ میں بھی نبی اکرم (ص) اور امام (ع) دونوں کی اطاعت کے لئے ان کی معرفت کی شرط ہے۔اس لحاظ سے ان کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے۔پس ان کی اطاعت کاوجوب مطلقاًہے،لیکن خوداطاعت مشروط ہے۔

خدائے متعال نے بھی قطعی دلالت سے اس معرفت کے مقدمات فراہم کئے ہیں ۔جس طرح نبی اکرم ۖ قطعی دلائل کی بناپرپہنچانے جاتے ہیں ،اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کو بھی جوآپۖ کے جانشین ہیں قطعی اورواضح دلائل کی بناپر جیسا کہ شیعوں کے کلام اورحدیث کی کتابوں میں مفصل طورپرآیاہے اوران کے بارے میں معرفت اورآگاہی حاصل کرناضروری ہے۔

دوسرااعتراض:شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہرزمانہ میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتا ہے،جبکہ''اولوالامر''جمع ہے اورمتعدداماموں کی اطاعت کوواجب قراردیتاہے۔

جواب:اگرچہ ہرزمانے میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتاہے،لیکن ائمہ کی اطاعت مختلف ومتعددزمانوں کے لحاظ سے ہے،اوریہ ہرزمانہ میں ایک امام کی اطاعت کے واجب ہونے کے منافی نہیں ہے۔نتیجہ کے طورپرمختلف زمانوں میں مومنین پرواجب ہے کہ جس آئمہ معصوم کی طرف سے حکم ان تک پہنچے،اس کی اطاعت کریں ۔

تیسرااعتراض:اگرآیہء شریفہ میں ''اولوالامر''سے مراد آئمہ معصومین ہیں توآیہئ شریفہ کے ذیل میں جوحکم دیاگیاہے کہ اختلافی مسائل کے سلسلہ میں خدائے متعال اوررسول ۖکی طرف رجوع کریں ،اس میں ائمہ معصومین(ع)کی طرف لوٹنے کا بھی ذکرہوناچاہئے تھا جبکہ آیت میں یوں کہاگیاہےفن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ والرّسول)''پھراگرآپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تواسے خدااور رسولۖکی طرف ارجاع دو۔''جبکہ یہاں پر''اولوالامر''ذکرنہیں ہواہے۔

جواب:چونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام اختلافات کو حل کرنے اوراختلافی مسائل کے بارے میں حکم دینے میں قرآن مجیداورسنّت ۖکے مطابق عمل کرتے ہیں اورکتاب وسنّت کے بارے میں مکمل علم وآگاہی رکھتے ہیں ،اس لئے اختلافی مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرناخدا اوررسولۖکی طرف رجوع کرناہے۔اسی لئے''اولوالامر''کاذکر اور اس کی تکرارکرنایہاں پرضروری نہیں تھا۔

جملہء شرطیہ میں ''فائے تفریع''
ایک اورنکتہ جو''اولوالامر''کے معنی کو ثابت کرنے کے لئے بہت مؤثرہے وہ جملہئ شرطیہ میں (طیعو اللّٰہ وطیعوالرّسول وولی المر)کے بعد''فائے تفریع''کا پایا جا نا ہے۔ یہ جملہء شرطیہ یوں آیاہے:(فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ و رسول)اختلافی مسائل کو اللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے کاوجوب، خدا، رسولۖ اور اولی الامرکی اطاعت کے وجوب پرمتفرع ہواہے، اوراس بیان سے بخوبی سمجھ میں آتاہے کہ اختلافی مسائل کواللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے میں اولوالامرکی اطاعت دخالت رکھتی ہے۔یہ تفریع دوبنیادی مطلب کی حامل ہے:

١۔اولوالامرکی عصمت :اس لحاظ سے کہ اگراولوالامرخطااورگناہ کامرتکب ہو گااور اختلافی مسائل میں غلط فیصلہ دے گا تواس کے اس فیصلہ کاکتاب وسنت سے کوئی ربط نہیں ہوگاجبکہ تفریع دلالت کرتی ہے کہ چونکہ اولی الامرکی اطاعت ضروری ہے لہذا چاہیئے کہ،اختلافی مسائل کو اللہ اوررسول ۖ کی طرف پلٹایا جائے۔

٢۔کتاب وسنت کے بارے میں کامل ووسیع معلو مات:اس لحاظ سے اگراولی الامر کتاب وسنت کے ایک حکم سے بھی جاہل ہواوراس سلسلہ میں غلط حکم جاری کرے تواس حکم میں اس کی طرف رجوع کرناگویاکتاب وسنت کی طرف رجوع نہ کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ''فائے تفریع''سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اولی الامرکی اطاعت مسلسل اختلافی مسائل کوکتاب وسنت کی طرف پلٹانے کاسبب ہے۔اس لئے آیہء شریفہ میں فائے تفریع، کاوجوداولی الامر کے تعین کے لئے کہ جس سے مرادائمہ معصومین (ع)واضح قرینہ ہے۔

زمخشری کاتفسیرالکشاف ١میں اس آیہء شریفہ کے ذیل میں کہناہے:
''خدااوررسول ص ظالم حکام سے بیزارہیں اوروہ خداورسول کی اطاعت کے واجب ہونے پرعطف کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ۔ان کے لئے شائستہ ترین نام''اللصوص المتغلبہ''ہے۔ یعنی ایسے راہزن کہ جو لوگوں کی سر نوشت پرزبردستی مسلط ہوگئے ہیں ۔''
۔الکشاف،ج١،ص٢٧٧۔٢٧٦،دارال معرفة،بیروت

اس بیان سے معروف مفسرقرآن، طبری کے نظریہ کاقابل اعتراض ہوناواضح ہوجاتاہے،جس نے ظالم کام کو بھی اولوالامر کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کی اطاعت کے ضروری ہونے کی طرف اشارہ کیاہے۔

اولوالامرکے بارے میں طبری کا قول.
۔تفسیرطبری،ج٥،ص٩٥،دارالمع رفة،بیروت
طبری نے تمام اقوال میں سے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ جس میں ''اولوالامر''سے مراد مطلق حکام (نیک وبد) لیا گیاہے۔اوراس سلسلہ میں ان دواحادیث سے استدلال کیا ہے، جن میں حکمران اور فرمانرواؤں کی اطاعت کو مطلق طور پر ضروری جا ناکیا گیا ہے۔

نہ صرف''اولی الامر''کا مفہوم اوراس کا رسول ۖ پر عطف ہونااس نظریہ کو مسترد کرتا ہے،بلکہ ایسی صورت میں طبری کے نظریہ پر چند اعتراضات بھی وارد ہوتے ہیں :

پہلا اعتراض:یہ احادیث قابل اعتبار اورحجت نہیں ہیں ،کیونکہ حدیث کی سند میں پہلے ابن ابی فدیک کا نام ہے کہ اہل سنّت کے رجال وحدیث کے ایک امام،ابن سعدکا اس کے بارے میں کہنا ہے: ''کان کثیرالحدیث ولیس بحجة''١ ''اس سے کافی احادیث رو ایت ہوئی ہیں اور(اس کی بات) حجت نہیں ہے''

ابن حبان نے اسے خطا اوراشتباہ کرنے والا جانا ہے۔٢ اس کے علاوہ اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عروة ہے کہ جس کا علم رجال کی معروف کتابوں میں موثق ہونا ثابت نہیں ہے۔

دوسری حدیث کی سند میں بھی بعض ضعیف اور مجہول افراد پائے جاتے ہیں ،جیسے یحییٰ بن عبیداللہ،کے متعلق اہل سنت کے ائمہء رجال جیسے ابوحاتم،ابن عیینہ، یحییٰ القطان،ابن معین ،ابن شیبہ،نسائی اوردار قطبنی نے اسے ضعیف اور قابل مذمت قراردیا ہے۔
٣
١۔الطبقات الکبری،ج٥،ص٤٣٧،داربیروت للطباعةوالنشر
٢۔کتاب الثقات،ج٩،ص٤٢،مؤسسةالکتب الثقافیة
٣۔تہذیب التہذیب ،ج١١،ص٢٢١،دارالفکر


دوسرااعتراض:ان احادیث کا آیہء ''اولی الامر'' سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ احادیث اس آیت کی تفسیر نہیں کرتی ہیں ۔

تیسرااعتراض طبری کی یہ تفسیرقرآن مجید کی دوسری آیات سے تناقص رکھتی ہے،من جملہ یہ آیہء شریفہ:
(ولا تطیعوامرالمسرفین الذین یفسدون فی الرض ولا یصلحون) (شعرائ١٥٢۔١٥١)
''اورزیادتی کرنے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو،جوزمین میں فساد برپاکرتے ہیں اوراصلاح کے در پی نہیں ہیں '
'



جاری رہے گا ۔ ۔ ۔

Last edited by حیدر Rehan; 21-05-11 at 02:07 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
اویسی (01-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), شمشاد احمد (26-05-11)
پرانا 25-05-11, 11:59 PM   #7
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
جي خير سے آپ كا پيش كردہ مضمون بغور مطالعہ كيا۔۔۔ آخر ميں آپ نے اہل سنت كے اعتراضات اور ان كے جوابات كے انتظار كا كہا ہے ۔۔۔۔ سو ان كا انتظار ہے۔۔۔۔۔ عين ممكن ہے۔۔۔۔ ان كو پڑھنے كے بعد تبصرےيا سوال كي ضرورت ہي باقي نہ رہے۔۔۔۔
بھائی ایک بات یاد رکھیں کہ جب کوئی بندہ مضمون لکھنے لگتا ہے تو دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ وہ مخالفین کے ایسے اعتراضات ہی سامنے لاتا ہے جس کا جواب وہ دے سکتا ہو یا اس کا رد قرآن و حدیث میں موجود ہو اور جن اعتراضات کا رد قرآن و حدیث میں نہ ہو بلکہ قرآن و سنت کے مطابق ہو وہ پیش ہی نہیں کیا جاتا اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ڈرامہ کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے اور آپ اس ڈرمے کو سمجھیں بچہ نہ بنیں۔
میں نے اس مضمون کو کاپی کر لیا ہے وقت ملنے پر اس کا رَد قرآن اور صحیح احادیث سے لکھتا رہوں گا ان شاءاللہ۔
اللہ ہم سب کو حق یعنی قرآن و سنت پر چلائے اور بعد کی جہالتوں سے بچائے آمین
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (26-05-11), شمشاد احمد (26-05-11), عبداللہ ناصر (26-05-11)
پرانا 26-05-11, 11:48 AM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
میں نے اس مضمون کو کاپی کر لیا ہے وقت ملنے پر اس کا رَد قرآن اور صحیح احادیث سے لکھتا رہوں گا ان شاءاللہ۔
یہ زیادہ اچھی بات ہے کہ آپ قرآن اور صحیح احادیث سے جواب لکھنا چاہ رہے ہیں

لیکن کیا یہ سوالات اپ کے زہن میں آسکتے تھے ؟؟
جسقدر اونچے درجہ کے یہ سوالات اور ان کے جوابات ہیں یقینا اپ کے سوالات اس سے کم ہی درجہ کے ہونگے ۔۔اس کی وجہ اپ خود بھی جانتے ہیں ۔

’’علم ‘‘حاصل کرنے میں جتنا وقت اپ صرف کریں گئے اللہ کا وعدہ ہے کہ اس وقت کے بدلے بہت اچھا نعمبدل عطا کرئے گا ۔ ۔ ۔


اپ کے اچھے سوالات کا انتظار رہے گا۔
شکریہ
حیدر Rehan آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-05-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), شمشاد احمد (26-05-11)
پرانا 31-05-11, 11:44 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے جناب جن کو آُپ معصوم بنا کر پیش کر رہے ہیں بے شک وہ ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ہمارے لیے مدار ایمان ہیں مگر کیا ایسی بات ہےکہ اللہ تعالی نے ہر حکم واضح انداز میں بیان کیا مگر اس معاملے میں علماء کی تاویلات پر چحوڑ دیا کچھتوخدا کا خوف کرو۔اگر انکی اطاعت بجا لانا اللہ تعالی اور اسکے رسول کے احکام کو بجالاناہےاور انکی پیروی فرض ہے تو انکی تعلیمات سےاختلاف بھی کفر ہونا چاہیے۔پھر یہ کیا بات ہوئی کہ اختلاف اولوالامر کے معاملے پر ہوا انہی کی بات سے اختلاف کا ذکر کیا جارہاہے اور آپ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ و رسول کے قائم مقام ہیں یہ انسے اختلاف کی بات نہیں ہورہی۔ پھر ذراخود ہی ائمہ اہل بیت کے ھالت پڑھ لو بہت سے مواقع پر انکا اپنے مؤقف سے رجوع اور اعتراف غلطی ملے گا۔ یہ سب کیا ہے۔ جو دعوے تم انسے منسوب کر رہے ہو یہ تمام باتیں انہوں نے خود بحی کی تھیں کیا؟؟؟؟؟؟/
غیاث آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (07-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11)
پرانا 01-06-11, 12:26 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام و علیکم یہ مضمون آپ کا دیکھ کر میں لکھنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
مجھے بس اتنا بتا دیں کہ ان معصوموں پر کس کو اعتراز ہے۔
؟؟؟؟؟
پیارا آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا
اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11), سام (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 12:33 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,600
کمائي: 31,070
شکریہ: 7,103
2,936 مراسلہ میں 8,711 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا ان ---- وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ --- صاحب اقتدار لوگوں‌میں ۔۔ زرداری اور نوز شریف -- جیسے معصوم لوگ بھی شامل ہی؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-06-11), مرزا عامر (12-07-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 01:57 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے نزدیک معصوم لوگ حضور:کی آل اولاد ہے۔
پیارا آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا
اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 01:00 PM   #13
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا ان ---- وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ --- صاحب اقتدار لوگوں‌میں ۔۔ زرداری اور نوز شریف -- جیسے معصوم لوگ بھی شامل ہی؟
سلام ان پر جو علم کے طلبگارہیں

فاروق بھائی یہ اپکا کہلا طنز ہے؟؟
۔
ایسا کوئی شخص نہی ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ظلم کی کئی اقسام ہیں ظلم کی اتنی اقسام ہیں کہ ہمارے عقل میں انکی معلومات تک نہ ہونگی اور اگر ایک بھی ایسا ظلم ہے جو ہم نہی جانتے بھلے وہ کیا ہو یا نہ کیا ہو تو یوں بھی ہم ظالم کہلائیں گئے کیونکہ خدا کے واجب احکام سے بے خبر رہے
اور اللہ کا وعدہ ہے کہ کوئی ’’عہدہ الہی‘‘ ظالم تک نہی پہنچے گا خاص کر امت کی سربراہی و سرپرستی سوائے خدا واحد کے ’’سفارت کار و خلیفہ و امام‘‘ کے جسے خود اللہ نے ہی چنا ہو ۔

تو جو ظالم ہوا وہ معصوم نہی ہوگا جب معصوم نہی ہوگا تو صاحب اقتدار نہی کہلائے گا
غاصب اقتدار ضرور کہلائے گا۔

جیسے ہم ہیں ویسے ہی ہمارے حکمران ہیں لیکن یہ وہ حکمران نہی ہیں کہ جن کی اطاعت کی جائے کیونکہ صاحب اقتدار ہر شے پر اقتدار رکھتا ہے جیسے رسول اکرم ص نے چاند کے دو ٹکڑے کیے یہ اللہ کا فضل ان کے ساتھ ساتھ تھا اسے صاحب اقتدار ہونا کہتے ہیں‌
یعنی ۔۔۔
’’صاحب امر و اقتدار‘‘ وہ ہے کہ جس کی حکومت
تاج و تخت پہ نہی ’’چاند ستاروں‘‘ پہ بھی ہو

۔
۔
اور ویسے بھی پاکستانی حکمران تو دنیاوی لحاظ سے بھی اس قابل نہی ہیں کہ ان کو کسی ملک کا حکمران تصور کیا جائے کیونکہ یہ تو ہیں ہی چور اچکے
اور ہم پر احترام کے لیے جس چیز کا اطلاق ہوتا ہے وہ ہی کسی بھی ملک کا قانون اس کا آئین اور اس پر کیا گیا وعدہ و قسم ہے ۔۔۔۔۔یعنی اپ امریکہ میں ہیں تو اپ پر اس کے آئین و قانون اور وہ قسم جو اپ سے لی گئے ہے اپ اس کے پابند ہیں‌
اور یہاں جو جس شخص قانون و آئین توڑ کر ائے ؟؟ پھر تو بات ہی ختم ہوگئی

Last edited by حیدر Rehan; 01-06-11 at 01:10 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (12-07-11), اویسی (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 01:37 PM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,197
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پیارا مراسلہ دیکھیں
میرے نزدیک معصوم لوگ حضور:کی آل اولاد ہے۔
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں

حقیقت تو یہ ہے کہ نبی اکرم ص کی ’’نورانی یا روحانی‘‘ پہلو تو دور کی بات ہے ہم لوگوں نے اب تک حضور ص منزلِ بشریت کو ہی نہی سمجھا.
اور جب ہم نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دنیاوی و مادی حیات کو ہی نہی سمجھا تو ال محمد علیہ سلام کی ظاہری بشریت اور مقام روحانیت کو کیا سمجھیں گئے ?


اگرچہ یہ جملہ ’ ’لباس بشریت‘ میں امام معصوم لکھ چکا ہوں ......اچھا ہے اس لیے پھر پڑھ لیں . . .

کہتے ہیں کہ چونکہ نبی آخرالزمان ص بشر تھے تو بھولنا چوکنا بشریت کا تقاضا ہے یعنی بنص قرآن آنحضرت ص بشر تھے تو پھر بھولنے کا امکان بھی ہے، چوکنے کا امکان بھی ہے
یہ بات قابل قیاس ہے کہ نہ جانے یہ کون سی بشر شناسی ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھولنا چوکنا بشریت اور انسانیت کا لازمہ ہے۔


درحقیقت زیادہ تر اپنی بھول چوک کو حق بجانب بتانے کیلئے بیچاری انسانیت پر یہ حرف لایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان ہیں، لہٰذا بھولیں گے بھی۔ایسے افراد وہ ہیں جو خود کوگھٹانا منظور نہیں کرتے بلکہ خود کو بڑھانا منظور ہے .

میں کہتا ہوں کہ کیا واقعی بھول چوک انسانیت کا لازمی حصہ ہے کہ
جو انسان ہو، اُسے بھولنا ضرور چاہئے؟
جو انسان ہو، اُسے غلطی ضرور کرنی چاہئے؟


جو چیز کسی چیز کا لازمہ ہو، تو جتنی وہ چیز زیادہ کامل ہو، اتنا اس لازمہ کو بڑھنا چاہئے۔ مثال :-
روشنی کا کام ہے تاریکی کو دور کرنا تو جتنی روشنی زیادہ کامل ہوگی، تاریکی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی
۔
تو اگر یہ تصور صحیح ہو کہ بھولنا چوکنابشریت کا لازمہ ہے ، لوازمِ انسانیت میں سے ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ
جتنا کامل انسان ہو، اُتنا زیادہ بھولےگا ،

حالانکہ ہر بڑے آدمی کے حالات میں یہ لکھا جاتا ہے کہ حافظہ بہت قوی تھا، بھولتے بہت کم تھے۔ صاحب الرائے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانیت کی بڑائی ان چیزوں کے بڑھنے میں نہیں ہے، گھٹنے میں ہے۔

تو اب سمجھ میں آتا ہے کہ بھولنا چوکنا لوازمِ انسانیت میں سے نہیں ہے، ناقص انسانیت کے لوازم میں سے ہے۔

دوسرے لفظوں میں انسانیت کا نقص ہے۔لہٰذاجتنی انسانیت نقطہ کمال پر ہوگی، اتنی ہی بھول بھی ختم ہوگی، چوک بھی ختم ہوگی۔یہاں تک کہ اس کا کامل نقطہ وہ ہوگا جہاں ایک شائبہ بھی بھول کا نہ ہو۔ اسی کو ہم معصوم کہتے ہیں۔


بس اب سمجھیں کہ نبی اکرم ص کے کلام میں بھول کا سوال ہی نہیں۔ آپ ص کے کلام میں تضاد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نبی اکرم ص معراج انسانیت کے نقطہ کمال پر ہیں.

قرآن میں ایک لفظ ایا ہے کہ ’’صادقین کے ساتھ ہوجاو‘‘ آیہء صادقین کی روشنی میں اما مت اس کا مطلب یہ ہوا کہ صادقین ایک سے زیادہ ہیں اور سب ایک جیسے صادق ہیں
اور جب ایک جیسے صادق ہیں جس کی جمع صادقین ہے تو پھر ان صادقین میں سے کسی بھی فرد کے فعل و کلام میں تضاد نہی ہوسکتا جس طرح قران کی آیات میں یا نبی اکرم ص کی احادیث میں تضاد نہی ہوسکتا.

اب اگر دو سادے جملوں میں بات کی جائے تو ’’صادق کا مطلب معصوم ہوا‘‘ اور چونکہ لفظ ’’صادقین‘“ جمع ہے صادق کی تو معصوم کی جمع ہوگئی ’’معصومین‘“ اور اگر اللہ کہہ رہا ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاو تو پھر اس کا مطلب ہے کہ دور نبی اکرم ص میں ایک سے زیادہ معصوم تھے
یوں ہم کہتے ہیں کہ ’’محمد ص و آل محمد ع صادقین ہیں معصومین ہیں اور ہم انہی کے ساتھ ہیں.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (01-06-11)
پرانا 01-06-11, 08:05 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,600
کمائي: 31,070
شکریہ: 7,103
2,936 مراسلہ میں 8,711 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جی نہیں‌یہ میرا طنز نہیں‌تھا۔ اور نا ہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلعم کے بعد سے اب تک کیا ---- وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ --- صاحب اقتدار لوگوں‌میں ۔۔ کوئی بھی نہیں‌ہوا؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (12-07-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (02-06-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, فن, کلام, وصیت, ممکن, ماں, مجید, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, بہترین, جاہل, حسن, خلاف, زندگی, سیاست, شخص, ظالم, غلط, صادق, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger