| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1858
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
كافي عرصہ بعد اس آيہ كي پر اتني تفصيلي تحرير سامنے آئي ہے۔۔۔۔ رات كو انشاء اللہ اس كو مكمل پڑھ كر تبصرہ كي كوشش كروں گا۔۔۔۔۔ بہر حال اتني تفصيل سے لكھنے پر مبارك باد قبول فرمائيں۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (20-05-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جي خير سے آپ كا پيش كردہ مضمون بغور مطالعہ كيا۔۔۔ آخر ميں آپ نے اہل سنت كے اعتراضات اور ان كے جوابات كے انتظار كا كہا ہے ۔۔۔۔ سو ان كا انتظار ہے۔۔۔۔۔ عين ممكن ہے۔۔۔۔ ان كو پڑھنے كے بعد تبصرےيا سوال كي ضرورت ہي باقي نہ رہے۔۔۔۔
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (21-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
برائے مہربانی قرآنی آیات کو درست نقل کیا جائے اگر جس ماخذ سے آیات نقل کی گئیں ہیں وہاں املا کی غلطیاں تو پھر کسی مستند ماخذ سے آیات قرآنی کو نقل کیا جائے جیسے اکثر آیات میں ہمزہ یا الف چھوٹ گیا مثلا پہلی آیت درست درج زیل طریق پر ہے ۔ ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
| 8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (01-06-11), کنعان (21-05-11), محمد عاصم (25-05-11), مرزا عامر (12-07-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (21-05-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو علم کے طلبگارہیں
یہ مراسلہ اپ جیسے ہی پڑھنےوالوں اور طالب علم حضرات کے لیے شایع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسے ضرور پڑھیں گئے اور استفادہ کریں گئے اور پڑھنے والوں کی علم و اگہی میں ضرور اضافہ ہوگا ۔ ان شااللہ |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | اویسی (01-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
ان نکات کے پیش نظریہ واضح ہوگیاکہ آیہء کریمہ اس امر پر دلالت کر تی ہے کہ اس آیت میں ''اولوالامر''نبی اکرم ص کے مانند معصوم ہیں ۔
یہ مطلب کہ''اولوالامر کی اطاعت''آیہء کریمہ میں مذکورہ خصوصیات کے پیش نظر،اولوالامر کی عصمت پر دلالت ہے۔ آیہء اولوالامر کے بارے میں فخررازی کا قول ''اللہ نے آیہء کریمہ میں ''اولوالامر'' کی اطاعت کو قطعی طورپرضروری جانا ہے،اورجس کسی کے لئے اس قسم کی اطاعت واجب ہواس کاخطاواشتباہ سے معصوم ہو ناناگزیر ہے،کیونکہ اگر وہ خطاواشتباہ سے معصوم نہ ہو اور بالفرض وہ خطا کا مر تکب ہو جائے تو ،اس آیت کے مطابق اس کی اطاعت کرنی ہوگی!اوریہ ایک امر خطا واشتباہ کی اطاعت ہوگی،جبکہ خطااوراشتباہ کی نہی کی جاتی ہے لہذا انہیں چاۂے کر اس کے امر کی پیروی کیجائے، کیونکہ اس قسم کے فرض کا نتیجہ فعل واحد میں امرونہی کا جمع ہو نا ہے (جو محال ہے) ٢۔ فخررازی اولوالامرکی عصمت کوآیہء سے استدلال کرنے کے بعد،یہ مشخص کرنے کے لئے کہ اولوالامر سے مراد کون لوگ ہیں کہ جن کامعصوم ہونا ضروری ہے کہتے ہیں : '' اولوالامر سے مرادشیعہ امامیہ کے ائمہ معصو مین علیھم السلام(ع)نہیں ہو سکتے ہیں ، بلکہ اس سے مراداہل حل وعقد(جن کے ذمہ معاشرہ کے اہم مسائل کے حل کرنے کی ذمہ داری ہے)کہ جواپنے حکم اورفیصلے میں معصوم ہوتے ہیں اوران کے فیصلے سوفیصد صحیح اورمطابق واقع ہوتے ہیں ''۔ ۔غرائب القرآن،نیشا بوری،ج٢،ص٤٣٤،دارالکتب العلمیة بیروت،تفسیرالمنار،شیخ محمدعبدہ ورشیدرضا،ج٥،ص١٨١دارالمعرف ةبیروت ٢۔التفسیرالکبیر، فخررازی کاجواب یہ بات کہ اولوالامر سے مراد اہل حل وعقد ہیں اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں معصوم ہیں ،مندرجہ ذیل دلائل کے پیش نظر صحیح نہیں ہے: ١۔آیہء کریمہ میں ''اولوالامر''کا لفظ جمع ا ور عام ہے کہ جو عمو میت و استغراق پر دلالت کر تا ہے۔اگر اس سے مراد اہل حل وعقد ہوں گے تو اس کی دلالت ایک مجموعی واحد پر ہو گی اور یہ خلاف ظاہر ہے۔ وضاحت یہ ہے کہ آیہء کریمہ کاظاہریہ بتاتاہے کہ ایسے صاحبان امرکی اطاعت لازم ہے جن میں سے ہر کوئی، واجب الاطاعت ہو، نہ یہ کہ وہ تمام افراد ( ایک مشترک فیصلہ کی بنیاد پر)ایک حکم رکھتے ہوں اور اس حکم کی اطا عت کر نا واجب ہو ۔ ٢۔عصمت،ایک تحفظ الہٰی ہے،ایک ملکہ نفسانی اورحقیقی صفت ہے اوراس کے لئے ایک حقیقی موصوف کاہوناضرودری ہے اوریہ لازمی طور پرایک امرواقعی پر قائم ہو نا چاہئے جبکہ اہل حل وعقدایک مجموعی واحدہے اورمجموعی واحد ایک امراعتباری ہو تا ہے اورامر واقعی کا امراعتباری پر قائم ہونا محال ہے۔ ٣۔ اس بات پر اتفاق نظر موجود ہے کہ شیعوں کے ائمہ اورانبیاء کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے۔ ائمہء معصومین (ع )کی امامت پر فخررازی کے اعتراضات اس کے بعد فخررازی نے شیعہ امامیہ کے عقیدہ، یعنی''اولوالامر''سے مرادبارہ ائمہ معصومین ہیں ،کے بارے میں چنداعتراضات کئے ہیں : پہلا اعتراض:ائمہء معصومین (علیہم السلام) کی ا طاعت کا واجب ہونا یا مطلقاً ہے یعنی اس میں ان کی معرفت وشناخت نیزان تک رسائی کی شرط نہیں ہے،تو اس صورت میں تکلیف مالایطاق کا ہو نا لازم آتا ہے،کیونکہ اس فرض کی بنیاد پر اگر ہم انھیں نہ پہچان سکیں اوران تک ہماری رسائی نہ ہو سکے،تو ہم کیسے ان کی اطاعت کریں گے؟یا ان کی شناخت اور معرفت کی شرط ہے،اگر ایسا ہے تویہ بھی صحیح نہیں ہے ،کیونکہ اس بات کا لازمہ ان کی اطاعت کا واجب ہونامشروط ہوگا،جبکہ آیہء شریفہ میں ان کی اطاعت کا واجب ہو نا مطلقاً ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط نہیں ہے ۔ جواب:ائمہء معصومین کی اطاعت کے واجب ہونے میں ان کی معرفت شرط نہیں ہے تاکہ اگرکوئی انھیں نہ پہچانے تواس پران کی اطاعت واجب نہ ہو،بلکہ ان کی اطاعت بذات خودمشروط ہے۔نتیجہ کے طور پر انھیں پہچاننا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے اوران دونوں کے درمیان کافی فرق ہے۔ مزیدوضاحت:بعض اوقات شرط، شرط وجوب ہے اور بعض اوقات شرط،شرط واجب ہے۔مثلاً وجوب حج کے لئے استطاعت کی شرط ہے اورخوداستطاعت وجوب حج کی شرط ہے۔اس بناء پر اگر استطاعت نہ ہو توحج واجب نہیں ہو گا۔لیکن نمازمیں طہارت شرط واجب ہے،یعنی نماز جو واجب ہے اس کے لئے طہارت شرط ہے۔اس بناء پر اگرکسی نے طہارت نہیں کی ہے تووہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے،وہ گناہ کا مرتکب ہوگا،کیونکہ اس پر واجب تھاکہ طہارت کرے تاکہ نماز پڑھے۔لیکن حج کے مسئلہ میں ،اگراستطاعت نہیں رکھتا ہے تواس پر حج واجب نہیں ہے اور وہ کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی نبی اکرم (ص) اور امام (ع) دونوں کی اطاعت کے لئے ان کی معرفت کی شرط ہے۔اس لحاظ سے ان کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے۔پس ان کی اطاعت کاوجوب مطلقاًہے،لیکن خوداطاعت مشروط ہے۔ خدائے متعال نے بھی قطعی دلالت سے اس معرفت کے مقدمات فراہم کئے ہیں ۔جس طرح نبی اکرم ۖ قطعی دلائل کی بناپرپہنچانے جاتے ہیں ،اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کو بھی جوآپۖ کے جانشین ہیں قطعی اورواضح دلائل کی بناپر جیسا کہ شیعوں کے کلام اورحدیث کی کتابوں میں مفصل طورپرآیاہے اوران کے بارے میں معرفت اورآگاہی حاصل کرناضروری ہے۔ دوسرااعتراض:شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہرزمانہ میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتا ہے،جبکہ''اولوالامر''جمع ہے اورمتعدداماموں کی اطاعت کوواجب قراردیتاہے۔ جواب:اگرچہ ہرزمانے میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتاہے،لیکن ائمہ کی اطاعت مختلف ومتعددزمانوں کے لحاظ سے ہے،اوریہ ہرزمانہ میں ایک امام کی اطاعت کے واجب ہونے کے منافی نہیں ہے۔نتیجہ کے طورپرمختلف زمانوں میں مومنین پرواجب ہے کہ جس آئمہ معصوم کی طرف سے حکم ان تک پہنچے،اس کی اطاعت کریں ۔ تیسرااعتراض:اگرآیہء شریفہ میں ''اولوالامر''سے مراد آئمہ معصومین ہیں توآیہئ شریفہ کے ذیل میں جوحکم دیاگیاہے کہ اختلافی مسائل کے سلسلہ میں خدائے متعال اوررسول ۖکی طرف رجوع کریں ،اس میں ائمہ معصومین(ع)کی طرف لوٹنے کا بھی ذکرہوناچاہئے تھا جبکہ آیت میں یوں کہاگیاہے فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ والرّسول)''پھراگرآپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تواسے خدااور رسولۖکی طرف ارجاع دو۔''جبکہ یہاں پر''اولوالامر''ذکرنہیں ہواہے۔جواب:چونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام اختلافات کو حل کرنے اوراختلافی مسائل کے بارے میں حکم دینے میں قرآن مجیداورسنّت ۖکے مطابق عمل کرتے ہیں اورکتاب وسنّت کے بارے میں مکمل علم وآگاہی رکھتے ہیں ،اس لئے اختلافی مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرناخدا اوررسولۖکی طرف رجوع کرناہے۔اسی لئے''اولوالامر''کاذکر اور اس کی تکرارکرنایہاں پرضروری نہیں تھا۔ جملہء شرطیہ میں ''فائے تفریع'' ایک اورنکتہ جو''اولوالامر''کے معنی کو ثابت کرنے کے لئے بہت مؤثرہے وہ جملہئ شرطیہ میں (طیعو اللّٰہ وطیعوالرّسول وولی المر)کے بعد''فائے تفریع''کا پایا جا نا ہے۔ یہ جملہء شرطیہ یوں آیاہے:(فن تنازعتم فی شیئٍ فردّوہ لی اللّٰہ و رسول)اختلافی مسائل کو اللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے کاوجوب، خدا، رسولۖ اور اولی الامرکی اطاعت کے وجوب پرمتفرع ہواہے، اوراس بیان سے بخوبی سمجھ میں آتاہے کہ اختلافی مسائل کواللہ اوررسول ۖکی طرف پلٹانے میں اولوالامرکی اطاعت دخالت رکھتی ہے۔یہ تفریع دوبنیادی مطلب کی حامل ہے: ١۔اولوالامرکی عصمت :اس لحاظ سے کہ اگراولوالامرخطااورگناہ کامرتکب ہو گااور اختلافی مسائل میں غلط فیصلہ دے گا تواس کے اس فیصلہ کاکتاب وسنت سے کوئی ربط نہیں ہوگاجبکہ تفریع دلالت کرتی ہے کہ چونکہ اولی الامرکی اطاعت ضروری ہے لہذا چاہیئے کہ،اختلافی مسائل کو اللہ اوررسول ۖ کی طرف پلٹایا جائے۔ ٢۔کتاب وسنت کے بارے میں کامل ووسیع معلو مات:اس لحاظ سے اگراولی الامر کتاب وسنت کے ایک حکم سے بھی جاہل ہواوراس سلسلہ میں غلط حکم جاری کرے تواس حکم میں اس کی طرف رجوع کرناگویاکتاب وسنت کی طرف رجوع نہ کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ''فائے تفریع''سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اولی الامرکی اطاعت مسلسل اختلافی مسائل کوکتاب وسنت کی طرف پلٹانے کاسبب ہے۔اس لئے آیہء شریفہ میں فائے تفریع، کاوجوداولی الامر کے تعین کے لئے کہ جس سے مرادائمہ معصومین (ع)واضح قرینہ ہے۔ زمخشری کاتفسیرالکشاف ١میں اس آیہء شریفہ کے ذیل میں کہناہے: ''خدااوررسول ص ظالم حکام سے بیزارہیں اوروہ خداورسول کی اطاعت کے واجب ہونے پرعطف کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ۔ان کے لئے شائستہ ترین نام''اللصوص المتغلبہ''ہے۔ یعنی ایسے راہزن کہ جو لوگوں کی سر نوشت پرزبردستی مسلط ہوگئے ہیں ۔'' ۔الکشاف،ج١،ص٢٧٧۔٢٧٦،دارال معرفة،بیروت اس بیان سے معروف مفسرقرآن، طبری کے نظریہ کاقابل اعتراض ہوناواضح ہوجاتاہے،جس نے ظالم کام کو بھی اولوالامر کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کی اطاعت کے ضروری ہونے کی طرف اشارہ کیاہے۔ اولوالامرکے بارے میں طبری کا قول. ۔تفسیرطبری،ج٥،ص٩٥،دارالمع رفة،بیروت طبری نے تمام اقوال میں سے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ جس میں ''اولوالامر''سے مراد مطلق حکام (نیک وبد) لیا گیاہے۔اوراس سلسلہ میں ان دواحادیث سے استدلال کیا ہے، جن میں حکمران اور فرمانرواؤں کی اطاعت کو مطلق طور پر ضروری جا ناکیا گیا ہے۔ نہ صرف''اولی الامر''کا مفہوم اوراس کا رسول ۖ پر عطف ہونااس نظریہ کو مسترد کرتا ہے،بلکہ ایسی صورت میں طبری کے نظریہ پر چند اعتراضات بھی وارد ہوتے ہیں : پہلا اعتراض:یہ احادیث قابل اعتبار اورحجت نہیں ہیں ،کیونکہ حدیث کی سند میں پہلے ابن ابی فدیک کا نام ہے کہ اہل سنّت کے رجال وحدیث کے ایک امام،ابن سعدکا اس کے بارے میں کہنا ہے: ''کان کثیرالحدیث ولیس بحجة''١ ''اس سے کافی احادیث رو ایت ہوئی ہیں اور(اس کی بات) حجت نہیں ہے'' ابن حبان نے اسے خطا اوراشتباہ کرنے والا جانا ہے۔٢ اس کے علاوہ اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عروة ہے کہ جس کا علم رجال کی معروف کتابوں میں موثق ہونا ثابت نہیں ہے۔ دوسری حدیث کی سند میں بھی بعض ضعیف اور مجہول افراد پائے جاتے ہیں ،جیسے یحییٰ بن عبیداللہ،کے متعلق اہل سنت کے ائمہء رجال جیسے ابوحاتم،ابن عیینہ، یحییٰ القطان،ابن معین ،ابن شیبہ،نسائی اوردار قطبنی نے اسے ضعیف اور قابل مذمت قراردیا ہے۔٣ ١۔الطبقات الکبری،ج٥،ص٤٣٧،داربیروت للطباعةوالنشر ٢۔کتاب الثقات،ج٩،ص٤٢،مؤسسةالکتب الثقافیة ٣۔تہذیب التہذیب ،ج١١،ص٢٢١،دارالفکر دوسرااعتراض:ان احادیث کا آیہء ''اولی الامر'' سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ احادیث اس آیت کی تفسیر نہیں کرتی ہیں ۔ تیسرااعتراض طبری کی یہ تفسیرقرآن مجید کی دوسری آیات سے تناقص رکھتی ہے،من جملہ یہ آیہء شریفہ: (ولا تطیعوامرالمسرفین الذین یفسدون فی الرض ولا یصلحون) (شعرائ١٥٢۔١٥١) ''اورزیادتی کرنے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو،جوزمین میں فساد برپاکرتے ہیں اوراصلاح کے در پی نہیں ہیں '' جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ Last edited by حیدر Rehan; 21-05-11 at 02:07 PM. |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں نے اس مضمون کو کاپی کر لیا ہے وقت ملنے پر اس کا رَد قرآن اور صحیح احادیث سے لکھتا رہوں گا ان شاءاللہ۔ اللہ ہم سب کو حق یعنی قرآن و سنت پر چلائے اور بعد کی جہالتوں سے بچائے آمین
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (26-05-11), شمشاد احمد (26-05-11), عبداللہ ناصر (26-05-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن کیا یہ سوالات اپ کے زہن میں آسکتے تھے ؟؟ جسقدر اونچے درجہ کے یہ سوالات اور ان کے جوابات ہیں یقینا اپ کے سوالات اس سے کم ہی درجہ کے ہونگے ۔۔اس کی وجہ اپ خود بھی جانتے ہیں ۔ ’’علم ‘‘حاصل کرنے میں جتنا وقت اپ صرف کریں گئے اللہ کا وعدہ ہے کہ اس وقت کے بدلے بہت اچھا نعمبدل عطا کرئے گا ۔ ۔ ۔ اپ کے اچھے سوالات کا انتظار رہے گا۔ شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | کنعان (26-05-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), شمشاد احمد (26-05-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے جناب جن کو آُپ معصوم بنا کر پیش کر رہے ہیں بے شک وہ ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ہمارے لیے مدار ایمان ہیں مگر کیا ایسی بات ہےکہ اللہ تعالی نے ہر حکم واضح انداز میں بیان کیا مگر اس معاملے میں علماء کی تاویلات پر چحوڑ دیا کچھتوخدا کا خوف کرو۔اگر انکی اطاعت بجا لانا اللہ تعالی اور اسکے رسول کے احکام کو بجالاناہےاور انکی پیروی فرض ہے تو انکی تعلیمات سےاختلاف بھی کفر ہونا چاہیے۔پھر یہ کیا بات ہوئی کہ اختلاف اولوالامر کے معاملے پر ہوا انہی کی بات سے اختلاف کا ذکر کیا جارہاہے اور آپ کہتے ہیں کہ نہیں وہ اللہ و رسول کے قائم مقام ہیں یہ انسے اختلاف کی بات نہیں ہورہی۔ پھر ذراخود ہی ائمہ اہل بیت کے ھالت پڑھ لو بہت سے مواقع پر انکا اپنے مؤقف سے رجوع اور اعتراف غلطی ملے گا۔ یہ سب کیا ہے۔ جو دعوے تم انسے منسوب کر رہے ہو یہ تمام باتیں انہوں نے خود بحی کی تھیں کیا؟؟؟؟؟؟/
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (07-06-11), آبی ٹوکول (01-06-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11), شمشاد احمد (31-05-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام و علیکم یہ مضمون آپ کا دیکھ کر میں لکھنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
مجھے بس اتنا بتا دیں کہ ان معصوموں پر کس کو اعتراز ہے۔ ؟؟؟؟؟ |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا | اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11), سام (01-06-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
کیا ان ---- وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ --- صاحب اقتدار لوگوںمیں ۔۔ زرداری اور نوز شریف -- جیسے معصوم لوگ بھی شامل ہی؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (01-06-11), مرزا عامر (12-07-11), اویسی (01-06-11), احمد نذیر (02-06-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر Rehan (01-06-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے نزدیک معصوم لوگ حضور:
کی آل اولاد ہے۔
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
فاروق بھائی یہ اپکا کہلا طنز ہے؟؟ ۔ ایسا کوئی شخص نہی ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ظلم کی کئی اقسام ہیں ظلم کی اتنی اقسام ہیں کہ ہمارے عقل میں انکی معلومات تک نہ ہونگی اور اگر ایک بھی ایسا ظلم ہے جو ہم نہی جانتے بھلے وہ کیا ہو یا نہ کیا ہو تو یوں بھی ہم ظالم کہلائیں گئے کیونکہ خدا کے واجب احکام سے بے خبر رہے اور اللہ کا وعدہ ہے کہ کوئی ’’عہدہ الہی‘‘ ظالم تک نہی پہنچے گا خاص کر امت کی سربراہی و سرپرستی سوائے خدا واحد کے ’’سفارت کار و خلیفہ و امام‘‘ کے جسے خود اللہ نے ہی چنا ہو ۔ تو جو ظالم ہوا وہ معصوم نہی ہوگا جب معصوم نہی ہوگا تو صاحب اقتدار نہی کہلائے گا غاصب اقتدار ضرور کہلائے گا۔ جیسے ہم ہیں ویسے ہی ہمارے حکمران ہیں لیکن یہ وہ حکمران نہی ہیں کہ جن کی اطاعت کی جائے کیونکہ صاحب اقتدار ہر شے پر اقتدار رکھتا ہے جیسے رسول اکرم ص نے چاند کے دو ٹکڑے کیے یہ اللہ کا فضل ان کے ساتھ ساتھ تھا اسے صاحب اقتدار ہونا کہتے ہیں یعنی ۔۔۔ ’’صاحب امر و اقتدار‘‘ وہ ہے کہ جس کی حکومت تاج و تخت پہ نہی ’’چاند ستاروں‘‘ پہ بھی ہو ۔ ۔ اور ویسے بھی پاکستانی حکمران تو دنیاوی لحاظ سے بھی اس قابل نہی ہیں کہ ان کو کسی ملک کا حکمران تصور کیا جائے کیونکہ یہ تو ہیں ہی چور اچکے اور ہم پر احترام کے لیے جس چیز کا اطلاق ہوتا ہے وہ ہی کسی بھی ملک کا قانون اس کا آئین اور اس پر کیا گیا وعدہ و قسم ہے ۔۔۔۔۔یعنی اپ امریکہ میں ہیں تو اپ پر اس کے آئین و قانون اور وہ قسم جو اپ سے لی گئے ہے اپ اس کے پابند ہیں اور یہاں جو جس شخص قانون و آئین توڑ کر ائے ؟؟ پھر تو بات ہی ختم ہوگئی Last edited by حیدر Rehan; 01-06-11 at 01:10 PM. |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں
حقیقت تو یہ ہے کہ نبی اکرم ص کی ’’نورانی یا روحانی‘‘ پہلو تو دور کی بات ہے ہم لوگوں نے اب تک حضور ص منزلِ بشریت کو ہی نہی سمجھا. اور جب ہم نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دنیاوی و مادی حیات کو ہی نہی سمجھا تو ال محمد علیہ سلام کی ظاہری بشریت اور مقام روحانیت کو کیا سمجھیں گئے ? اگرچہ یہ جملہ ’ ’لباس بشریت‘ میں امام معصوم لکھ چکا ہوں ......اچھا ہے اس لیے پھر پڑھ لیں . . . کہتے ہیں کہ چونکہ نبی آخرالزمان ص بشر تھے تو بھولنا چوکنا بشریت کا تقاضا ہے یعنی بنص قرآن آنحضرت ص بشر تھے تو پھر بھولنے کا امکان بھی ہے، چوکنے کا امکان بھی ہے یہ بات قابل قیاس ہے کہ نہ جانے یہ کون سی بشر شناسی ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھولنا چوکنا بشریت اور انسانیت کا لازمہ ہے۔ درحقیقت زیادہ تر اپنی بھول چوک کو حق بجانب بتانے کیلئے بیچاری انسانیت پر یہ حرف لایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان ہیں، لہٰذا بھولیں گے بھی۔ایسے افراد وہ ہیں جو خود کوگھٹانا منظور نہیں کرتے بلکہ خود کو بڑھانا منظور ہے . میں کہتا ہوں کہ کیا واقعی بھول چوک انسانیت کا لازمی حصہ ہے کہ جو انسان ہو، اُسے بھولنا ضرور چاہئے؟ جو انسان ہو، اُسے غلطی ضرور کرنی چاہئے؟ جو چیز کسی چیز کا لازمہ ہو، تو جتنی وہ چیز زیادہ کامل ہو، اتنا اس لازمہ کو بڑھنا چاہئے۔ مثال :- روشنی کا کام ہے تاریکی کو دور کرنا تو جتنی روشنی زیادہ کامل ہوگی، تاریکی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی۔ تو اگر یہ تصور صحیح ہو کہ بھولنا چوکنابشریت کا لازمہ ہے ، لوازمِ انسانیت میں سے ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جتنا کامل انسان ہو، اُتنا زیادہ بھولےگا ، حالانکہ ہر بڑے آدمی کے حالات میں یہ لکھا جاتا ہے کہ حافظہ بہت قوی تھا، بھولتے بہت کم تھے۔ صاحب الرائے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانیت کی بڑائی ان چیزوں کے بڑھنے میں نہیں ہے، گھٹنے میں ہے۔ تو اب سمجھ میں آتا ہے کہ بھولنا چوکنا لوازمِ انسانیت میں سے نہیں ہے، ناقص انسانیت کے لوازم میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسانیت کا نقص ہے۔لہٰذاجتنی انسانیت نقطہ کمال پر ہوگی، اتنی ہی بھول بھی ختم ہوگی، چوک بھی ختم ہوگی۔یہاں تک کہ اس کا کامل نقطہ وہ ہوگا جہاں ایک شائبہ بھی بھول کا نہ ہو۔ اسی کو ہم معصوم کہتے ہیں۔ بس اب سمجھیں کہ نبی اکرم ص کے کلام میں بھول کا سوال ہی نہیں۔ آپ ص کے کلام میں تضاد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نبی اکرم ص معراج انسانیت کے نقطہ کمال پر ہیں. قرآن میں ایک لفظ ایا ہے کہ ’’صادقین کے ساتھ ہوجاو‘‘ آیہء صادقین کی روشنی میں اما مت اس کا مطلب یہ ہوا کہ صادقین ایک سے زیادہ ہیں اور سب ایک جیسے صادق ہیں اور جب ایک جیسے صادق ہیں جس کی جمع صادقین ہے تو پھر ان صادقین میں سے کسی بھی فرد کے فعل و کلام میں تضاد نہی ہوسکتا جس طرح قران کی آیات میں یا نبی اکرم ص کی احادیث میں تضاد نہی ہوسکتا. اب اگر دو سادے جملوں میں بات کی جائے تو ’’صادق کا مطلب معصوم ہوا‘‘ اور چونکہ لفظ ’’صادقین‘“ جمع ہے صادق کی تو معصوم کی جمع ہوگئی ’’معصومین‘“ اور اگر اللہ کہہ رہا ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاو تو پھر اس کا مطلب ہے کہ دور نبی اکرم ص میں ایک سے زیادہ معصوم تھے یوں ہم کہتے ہیں کہ ’’محمد ص و آل محمد ع صادقین ہیں معصومین ہیں اور ہم انہی کے ساتھ ہیں. |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | اویسی (01-06-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
جی نہیںیہ میرا طنز نہیںتھا۔ اور نا ہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلعم کے بعد سے اب تک کیا ---- وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ --- صاحب اقتدار لوگوںمیں ۔۔ کوئی بھی نہیںہوا؟ |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فن, کلام, وصیت, ممکن, ماں, مجید, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, بہترین, جاہل, حسن, خلاف, زندگی, سیاست, شخص, ظالم, غلط, صادق, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|