حيدر ريحان صاحب نے ايك دھأگہ بعنوان
ھذا صراط علی مستقیم قائم كياتھا۔۔۔
ميں اس دھاگےكا مطالعہ كر رہا تھا۔۔۔پھر اس دھأگے پر چند گذارشات تحرير كر رہا تھا اتنےميںمعلوم ہوا كہ يہ دھأگہ بند كر ديا گيا ہے۔۔۔۔ واقعي اس ميں بعض باتيں ايسي ہيں جن پر يقينا انتظاميہ كو تشويش ہوئي ہو گي۔۔۔۔ بہر حال انتظاميہ اس دھاگے كے حوالے سے كيا فيصلہ كرتي ہے۔۔۔ يہ تو اسي پر منحصر ہے۔۔۔ ليكن چوں كہ ميں اس پر ايك قدرے مفصل تبصرہ لكھ چكا تھا اس لئے اسے متعلقہ دھاگے كے بند ہونے كي وجہ سے الگ سے لگا رہا ہوں۔۔۔
ميرے اس تبصرے كو بند كرنے يا نہ كرنے كے حوالے سےانتظاميہ جو بھي فيصلہ كرے مجھے اس سےكوئي غرض نہيں۔۔۔ اور ہاں۔۔۔ اگر انتظاميہ يہ فيصلہ كرتي ہے كہ حيدر ريحان صاحب كا دھاگہ كھول ديا جائے۔۔۔تو ميرے اس دھأگہ كو وہاں منتقل كر ديا جائے۔۔۔
شكريہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
|
یعنی کوئی مضائقہ نہی تھا اس جملہ میں کہ اگر میں یہ کہتا کہ آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے مگر چونکہ علی کا راستہ سیدھا کہا تھا اس لیے کچھ حضرات برا مان گئے .جس سے مجھے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ وہ محبت اہلبیت ع میں زبانی جمع خرچ کرے ہیں کیونکہ اگر مولا علی کو نفس رسول ص اور ان کا بھائی نہ بھی مانتا ہوتا اور صرف اور صرف آصحاب نبی رض میں ہی شمار کیا ہوتا اور مانتا تو یہ نہ کہتا جو کہا
|
بد گماني بري چيز ہے۔۔۔۔ كون زباني جمع خرچ كرتا ہے ۔۔۔ اور كون نہيں اس كا فيصلہ تو ہر سال دس محرم كو ہو ہي جاتا ہے ۔۔ كيوں كہ خالق كائنات ديكھ رہا ہوتا ہے كہ جس دن اس كے محبوب رسول عليہ السلام كا نواسہ بھوكا پياسا شہيد كر ديا گيا۔۔۔۔ اس دن كون روزے سے ہوتا ہے اور كون حليميں اور نان اڑا رہا ہوتا ہے؟
اس لئے ميں كہتا ہوں عشق سكھاؤ عشق كے طريقے مت سكھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضروري نہيں كہ آپ كے يا ميرے پسنديدہ طريقے كے مطابق ہي باقي سب بھي اظہار عشق كريں۔۔۔ قطعا ضروري نہيں۔۔۔ لہذا عشق پر بات كيجئے عشق كے اظہار كےطريقوں طبع آزمائي كا كوئي فائدہ نہيں۔۔
اقتباس:
|
،اگر کسی اہل تشیع سے پوچھا ہوگا تو یہ سنا ہوگا کہ ’’علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے
|
سياپا ہي سارا ۔۔۔ہي ۔۔۔۔اور۔۔۔ بھي۔۔۔ كا ہے۔۔
اس كو سمجھ جاؤ تو سياپا ہي مك گيا مگر وہ كيا ہے كہ جن كےچوہلے ہي ۔۔۔۔ہي۔۔۔۔اور ۔۔۔۔بھي ۔۔۔۔ كے فرق كو باقي ركھنے كي وجہ سے چلتے ہيں۔۔۔ان كا كيا كيا جائے۔
اقتباس:
آپ نے یقینا سنا ہوگا کہ رسول اللہ ص کا راستہ سیدھا ہے.
آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے ..اور اگر کبھی مولائی سے پوچھا ہوگا تو وہ فورا بولا ہوگا کہ ’’علی حق‘‘ ،اگر کسی اہل تشیع سے پوچھا ہوگا تو یہ سنا ہوگا کہ ’’علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے‘‘،
|
سني سنائي بات پر عقيدہ قائم نہيں كيا جاتا۔۔۔ عقيدہ كےلئے يقيني بات ہوني چاہے۔۔۔اور قرآن و سنت كےمطابق يقيني بات صرف يہي ہے كہ سيدھا راستہ صرف اللہ كا راستہ ہے اور جن حضرات كے راستوں كي تقسيم آپ نے بيان كي ہے وہ اصل ميں راستوں كو تقسيم كرنےوالے نہيں اسي ايك اللہ كے راستے كي طرف بلانےوالے ہيں۔۔۔۔ اب جو شخص ان كے راستوں كو تقسيم كرتا ہے ۔۔۔ تو اس ميں مجبوري اس كے چوہلے اور جہالت كي ہے۔۔۔
اللہ كے نبي نے تو ہميں يہ تعليم دي ہےكہ ہم سني سنائي بات آگے بلا تحقيق بيان نہ كريں ۔۔چہ جائےكہ اس پر عقيدہ قائم كر كے بيٹھ جائيں۔۔۔۔۔تو بہ۔
اقتباس:
|
بس پھر کچھ لوگ بنا سوچے سمجھے غلو غلو چلانے لگے. تو سوچا کہ کچھ لکھ ہی دوں تاکہ لوگوں کو کم از کم کچھ سوالوں کا تو جواب مل جائیں
|
اس كا بہت بہت شكريہ
اقتباس:
|
ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا ص رحمت العالمین ہیں بس جس جس نے رحمت العالمین کا دامن پکڑا اس اس نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت پائی. یعنی جس جس نے دل سے تسلیم کیا کہ رسول خدا ص ہمارے مولا و آقا ہیں وہی یہ بھی تسلیم کریں گئےکہ علی ع بھی ہمارے مولا ہیں یعنی جو حاصل ہوا وہ صراط مستقیم ہی ہے ...
|
يعني يہاں بھي مسئلہ۔۔۔۔بھي۔۔۔ اور ۔۔۔۔ہي كا ہے۔۔۔ يا نہيں۔ وضاحت فرما ديجئےگا۔۔
اقتباس:
ایک اور راز . .. . .
بس جو لوگ الحمد شریف پڑھنے کے بعد ’’آمین‘‘ کہتے ہیں وہ درآصل صراط مستقیم کے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دکھا دے یعنی ابھی تک دکھی نہی ہے. اور جو لوگ ’’الحمدللہ رب العاالمین‘‘ کہتے ہیں یعنی اللہ کا شکر وہ لوگ کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ صراط مستقیم نہ صرف دیکھائی ہے بلکہ اس پر لے بھی آیا ہے.
|
اس راز پر سے بھي پردہ نہيں اٹھ پايا۔۔۔۔كم از كم ميںتو نہ راز سمجھا نہ بات سمجھا ۔
اقتباس:
امام زین العابدین ع نے فرمایا لوگو :خدا نے ہم(آل اہلبیت ع) کوپانچ فضیلت بخشی ہیں :
۱ ۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ص ہیں۔
۲ ۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔
۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیزہے ،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات کریں۔
۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کامرکزہیں اوراس کے لیے علم کاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیاکے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔
۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلندہیں ،اگرہم نہ ہوتے توخدادنیاکوپیداہی نہ کرتا،ہرفخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت ) سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔
|
پھر وہي مسئلہ۔۔۔۔ہي۔۔۔۔اور ۔۔۔۔بھي۔۔۔۔۔ يہاں بھي كارفرما ہے۔۔۔
ويسے امام موصوف كے ارشادات عاليہ ميں سے نمبر ايك اور دو كے بارے ميں چند سوالات ہيں۔۔۔۔ليكن بعد ميں پھر كبھي ابھي دو دھاگوں ميں آپ كا انتظار كر رہا ہوں۔۔۔ وہي كافي ہيں۔
اقتباس:
|
انبیا ع اور رسول اکرم ص کے ساتھ ساتھ یہ قران بھی سیدھا راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے
|
پھر وہي مسئلہ۔۔۔۔ہي۔۔۔۔اور ۔۔۔۔بھي۔۔۔۔۔ يہاں بھي آپ نے لايا۔۔۔ويسےايك مزيد راز سے بھي پردہ اٹھا ديںتو نوازش ہو گي كہ۔۔۔
آپ نے آئمہ كو
ہي صراط مستقيم كا مصداق ٹھہرانے كے لئے آئمہ كے ہي اقوال پيش كئے خصوصا زين العابدين عليہ الرحمہ كے اقوال۔۔۔ جب كہ انبياء ، رسول اكرم صلي اللہ عليہ وسلم اور قرآن كے صراط مستقيم ہونےكے لئے آپ نے آيات كريمہ پيش كي ہيں۔۔۔۔ كيا قرآن ميں آئمہ كے صراط مستقيم ہونے كے حوالے سےكوئي صريح حكم موجود نہيں ہے۔۔
خود بدلتے نہيں قرآن كو بدل ديتے ہيں
اقتباس:
ایک سوال : جس راستے پر اللہ تعالی خود ہے اور رسول خدا ص ہیں مومنین ہیں اور شیطان خود بھی بیٹھ گیا ہے یہ کہہ کر کہ میں کسی کو اگے بڑھنے نہی دونگا جو راستہ اللہ اور رسول اللہ ص اور مومنین کے نیچے ہے. وہ راستہ اللہ کے اوپر کس طرح ہوسکتا ہے.??
قَالَ ہذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 15:41
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ راستہ مجھ پر سیدھا ہے
جس صراط/ راستہ پر چلا جاتا ہے وہ راستہ خدا سے اوپر کیسے ہوسکتا ہے بس چلنے والہ اللہ سے اوپر نہی چل سکتااور یہ بھی باطل اور غلط ہے. پس سیدھی راہ وہی ہے جس پر رسول خدا ص ہیں اور مومنین ہیں اور خدا سے اوپر کوئی شے نہی ہے ھو فوق کل شئی .. وہ ہر شے سے اوپر ہے بس خدا سے اورپر تلفظ اعراب لگا کر علی سے عَلَيَّ سے ثابت کی گئی ہے وہ غلط ہے باطل ہے کیونکہ خدا سے اورپر کوئی شئے نہی ہے بس یہ دشمنی و بغض مولا علی میں ہی تسلیم کیا گیا ہے کہ اسم مقدس علی کو اعراب غلط دے کر عَلَيَّ بنایاگیا ہے جس سے خدا کی نافرمانی ثابت ہوتی ہے.
|
حضرات توجہ فرمائيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہي۔۔۔۔اور بھي۔۔۔۔ كا فرق كس موڑ پر لے آيا كہ اپنے۔۔۔۔ہي۔۔۔كو ثابت كرنے كے لئےمعاذ اللہ قرآن كريم تك كو غلط اور باطل قرار ديا جا رہا ہے۔۔۔ وہ بھي مومن بن كر بلكہ مومن كامل بن كر۔۔۔ تمام حضرات مذكورہ عبارت كو ايك بار پھر پڑہيں اور اس سوالات كے جوابات حل ديں۔
سوال نمبر 1۔۔۔۔ اعراب كي يہ تبديلي كس نے كي۔۔۔ يعني كس كےحكم سےكي گئي۔۔۔۔؟؟؟
اللہ كي حكم سےكي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں؟
رسول كےحكم سےكي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں۔
اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے اگر يہ تبديلي كي گئي ہے اور اس پر كسي كو اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے كہ اس كو كيا اعتراض ہے؟
سوال نمبر 2۔۔۔۔ اگر يہ تبديلي اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے نہيں كي گئي تو كس نےكي ہے؟
سوال نمبر 3۔۔۔ كيا قرآن كريم ميں صرف يہي ايك تحريف كي گئي ہے يا اور بھي ہيں۔
سوال نمبر4۔۔۔ اگر اور بھي ايسي تحريفات كي گئي ہيں وہ امت كو معلوم ہيں يا نہيں۔
سوال نمبر5۔۔۔ اگر معلوم ہيں تو كون كون سي آيات ميں كيا كيا تحريفات كي گئي ہيں۔۔
سوال نمبر6۔۔۔ اگر وہ تحريفات معلوم نہيں ہيں تو پھر تو ہر آيت اور ہر لفظ كے بارےميں يہ شك پيدا ہو جائےگا كہ ممكن ہے يہ لفظ تحريف شدہ ہو۔۔۔ اس طرح قرآن پر سے اعتماد ہي اٹھ جائےگا۔
اقتباس:
|
اگر اس کی تاویل یہ کی جائے کہ عَلَيَّ سے مراد اللہ کی طرف سیدھی راہ ہے تو اس کے لیے اول تو اس آیت کو متشابہات میں سے ثابت کیا جائے اور پھر جو اس کی تاویل کی جائے وہ رسول اکرم ص سے بیان کی جائے کیونکہ وہی راسخون فی العلم ہیں اور یہ بھی کہ خدا نے اپنی متشابہات آیات کی تاویل انہی کو سمجھائی ہے نہ کہ علمائے اسلام کو
|
ايك بار پھر مسئلہ۔۔۔۔ہي۔۔۔اور ۔۔۔۔ بھي۔۔۔
اقتباس:
|
دوسرے اگر ’’علی‘‘ سے مراد میری طرف ہوتا تو اس کی جگہ ’’الی‘‘ استعمال کیا جانا چاہیے تھا جسکا ترجمہ میری طرف ہوسکتا ہے
|
گويا كہ موصوف كي عربي اللہ اور اس كے رسول سے بھي اچھي ہے۔۔۔۔
اقتباس:
|
بس صراط مستقیم کہہ کر قران میں اللہ نے مولا علی کے لیے نص فرمائی ہے اور ان نصوص کو اعراب کی مدد سے شک پیدا کرنا یا انکار کرنا اور شبہ پیدا کرنا نفاق کی علامت ہے
|
مذكورہ 6 سوالات كو يہاں ايك بار پھر دہرا ليا جائے۔۔۔۔
اقتباس:
|
صوائق محرقہ اور وینابیع مودت میں لکھا ہے کہ بس علی کی دوستی ہی وہ نیکی ہے جو لے کر ائے گا وہ کامیاب ہوگا
|
يہاں بھي ايك راز كھلتا ہے۔۔۔كہ جب قرآن ميں اعراب كي مدد سے شبہ پيدا كر ديا گيا ہے تو صوائق محرقہ اور ينابيع مودت نامي غير معصوم لوگوں كي لكھي ہوئي كتابوں ميں شبہ كيوں نہيںہو سكتا۔۔۔
اقتباس:
|
فرمان رسول ص ہے کہ اگر لوگ علی ع کی محبت پر ایک ہو جاتے تو اللہ جہنم خلق نہ کرتا..صوائق محرقہ اور وینابیع مودت اور مشکواہ شریف
|
حوالے دينےكا شوق تو آپ كو بہت ہے۔۔۔۔زرا وضاحت فرمائيںكہ مشكوة شريف ميں يہ حديث كہاں ہے۔۔۔۔ اور اس حديث پر كوئي شك و شبہ كيوں نہيں آپ كو۔۔
اقتباس:
|
پس علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے جو کہ سورہ الحمد سے بھی ثابت ہے
|
ظاہر ہے جس طرح سے آپ اپني ۔۔۔۔ بھي۔۔۔۔كو ثابت كر رہے ہيں۔۔۔۔اس سے كون انكار كر سكتا ہے۔۔۔ آخر كو 21ويں صدي ہے۔۔۔ جس كا جو دل چاہے كہے بولے سمجھے سمجھائے۔۔
اقتباس:
امام صادق (ع) کا ارشاد اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یوں ہے :
الطریق و معرفہ الامام ۔.......... اس سے مراد امام کا راستہ اور اس کی معرفت ہے.
مختلف اور جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ :
واللہ نحن صراط المستقیم۔...... بخدا ہم صراط مستقیم ہیں . ایک جگہ فرماتے ہیں صراط مستقیم امیرالمومنین علی(ع) ہیں.
یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ اس سے مراد امام معصوم ہے. اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
|
خدا كا شكر ہے بخاري مسلم سے آگے بڑھ كر آپ كوئي اور ح والہ تو ديا۔۔۔۔۔۔
باقي تبصرہ ادھار۔۔۔
ويسے آپس كي بات ہے۔۔۔۔اس اتني لمبي تحرير ميں آپ نے ثابت كيا كيا ہے۔۔۔
حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ كي فضليت و منقبت يا قرآن كريم كي تحريف۔۔۔۔