ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے وہ اسی لیے کہ اللہ کے حکم سے اِس کی اطاعت کی جائے۔ (النساء / آیت 64)
جو کچھ رسول ﷺ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔(حشر/ آیت 7)
جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں اُن لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔(النساء / آیت 80)
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور(اطاعت سے منہ موڑکر)اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو۔(محمد/ آیت 33)
ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسولﷺ کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ﷺ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں-(نور/ آیت 51)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولﷺ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی ،مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے ) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب اُن کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول ﷺکی طرف ، تاکہ رسولﷺ اُن کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے-( نور/ آیت 47-48 )
اےنبی!کہہ دیجئے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اگر لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت سے منہ موڑیں (تو انہیں معلوم ہونا چاہیے) کہ اللہ یقیناً کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(آل عمران/ آیت 32)
کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اُسے اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔(احزاب/ آیت 36)
اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی بات مانو اور باز آجاؤ ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کو ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔(احزاب/ آیت92)
جو کوئی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔(فتح/ آیت17)
کہو ’’ اللہ کے مطیع بنو اور رسول ﷺکے تابع فرمان بن کر رہو ۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسول ﷺ پر جس کا فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم۔اس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول ﷺ کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔‘‘ (نور/ آیت 54)
