واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


(اور خرچ نہ کرکے ) خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-01-12, 02:30 PM   #1
(اور خرچ نہ کرکے ) خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 27-01-12, 02:30 PM

آیہٴ ہلاکت سے متعلق
’’ کیا اس آیت میں وہ معنی ہیں جو عام لوگ کہتے ہیں کہ ”اپنے ہاتھ سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘


وَ أَنْفِقُوا فی سَبیلِ اللّہ وَ لا تُلْقُوا بِأَیْدیکُمْ إِلَى التَّہلُکَہ وَ أَحْسِنُوا إِنَّ اللّہ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ سورہ (195)
اور راہ خدا میں خرچ کرو (اور خرچ نہ کرکے ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی کرو کہ اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتاہے

یہ آیت اگر چہ آیات جہاد کے ذیل میں آئی ہے لیکن اس سے ایک کلی و اجتماعی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ خرچ کرنا افراد معاشرہ کو ہلاکت سے پچا نے کا باعث بنتا ہے ۔

جس طرح جہاد میں مخلص ، طاقتور اور تجربہ کار مردوں کی ضرورت ہے اسی طرح مال و دولت کی بھی احتیاج ہے کیونکہ جہاد میں روحانی و جسمانی آمادگی کی ضرورت ہے اور فوج کے لیے مناسب اسلحہ اور سامان جنگ کی بھی احتیاج ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آیت تاکید کر رہی ہے کہ اس راہ میں خرچ نہ کرنا گویا اپنے تیئں ہلاکت وتباہی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

خصوصا اس زمانے میں تو بہت سے مسلمان جذ بے اور عشق جہاد سے سرشار تھے لیکن فقیر و محتاج ہونے اور اسباب جنگ مہیا کر نے کی سکت نہ رکھتے تھے ...
قران اسی طرف اشارہ کرتا ہے..
وَ لا عَلَى الَّذینَ إِذا ما أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہمْ قُلْتَ لا أَجِدُ ما أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہ تَوَلَّوْا وَ أَعْیُنُہمْ تَفیضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَناً أَلاّ یَجِدُوا ما یُنْفِقُونَ ..سورہ توبہ 92
نیز ان پر بھی اعتراض نہیں ہو جو جب تیرے پاس آئے کہ تو انھیں ( میدان جہاد کے لئے ) مرکب پر سوار کرے تو تونے کہا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے کہ جس پر تمہیں سوار کرو ں تو وہ ( تیرے پاس سے)اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے وہ راہ خدا میں خرچ کرتے۔


خرچ کرنا معاشر ے کو ہلاکت سے بچاتا ہے ۔
اور اس سے خرچ کر نے اور ہلاکت سے بچنے کا باہمی ربط بھی اضح ہو جاتا ہے ۔

چنانچہ حضرت علی اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں :
حصنوا اموالکم بالزکوة
زکوة د ے کر اپنے مال کی حفاظت کرو۔

و احسنوا ان اللہ یحب المحسنین آیت کے آخر میں احسان اور نیکی کر نے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس طرح جہاد و انفاق کے مرحلے سے احسان و نیکی کے مرحلے کی طرف راہنمائی دی گئی ہے کیونکہ اسلام کی نظر میں احسان انسانیت کے تکامل و ارتقاء کے بلند ترین مرحلے کا نام ہے۔

آیت انفاق میں اس جملے کا آنا اس طرف اشارہ ہے کہ انفاق میں نیکی کی مکمل تصویر اور مہربانی کاپور اظہار ہو نا چاہئیے


.................................................. .................................................. .....................................
یہی آیت دوسرے زاویعے سے.

[COLOR="Red"]”وَاٴَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللہ وَلاَتُلْقُوا بِاٴَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَہ وَاٴَحْسِنُوا إِنَّ اللہ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ“ سورہ بقرہ ایت 195
”اور راہ خدا میں (اعتدال سے )خرچ کرو اور (افراط و تفریط سے) اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالو، نیک برتاؤ کرو خدا نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔[/COLOR]

”اس آیت کے ابتدائی حصہ پر توجہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کی راہ میں مال کا خرچ کرنا /انفاق کرنا جہاد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں انفاق کرنے یا حد سے زیادہ خرچ /انفاق کرنے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور انفاق کرنے میں افراط و تفریط سے کام نہ لو۔

اسی وجہ سے تفسیر درّمنثور میں اس آیت کے ذیل میں ”اسلم بن ابی عمران“سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا: ”ہم قسطنطنیہ (ترکیہ میں آج کا استامبول) میں تھے تو دیکھا عقبہ بن سالم مصر والوں کے ساتھ اور فضال بن عبید بھی شام والوں کے ساتھ وہاں موجود تھے اور جب روم کا ایک بہت ہی عظیم لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لئے میدان میں آگیا تو میں نے بھی ان کے مقابلہ کے لئے صفوں کو منظم کیا اس اثنا میں ایک مسلمان شخص نے روم کے قلب لشکر پر اس طر ح حملہ کیا کہ وہ لشکر میں داخل ہوگیا یہ دیکھ کر بعض مسلمانوں نے چیخ کر کہا: ”یہ شخص اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے“۔

اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے کھڑے ہوکر کہا: ”تم لوگ اس آیت ”ولا تلقوابایدیکم ۔۔۔“کے معنی اپنی طرف سے غلط کر رہے ہویہ آیت ہم گروہ انصار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب خداوند متعال نے اپنے دین کو کامران و کامیاب کیا اور اس کے چاہنے والے بہت زیادہ ہوگئے تو ہم بعض لوگوں نے چھپ چھپ کے آپس میں کہا کہ ہمارا مال ضائع ہو گیا خداوند متعال نے اسلام کو سر فراز کیا اور اس کے ماننے والے بھی زیادہ ہوگئے اگر ہم لوگ اپنے مال کو بچائے ہوئے رہتے تو ہمارا مال ضائع نہ ہوتا اس وقت ہمارے اس بیہودہ اور منفی عمل کی رد میں خدا وند متعال نے یہ آیت نازل کی ۔”اس طرح اس آیت میں ہلاکت سے مراد اپنے مال کی حفاظت اور جہاد کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے ہیں۔
.. تفسیر المیزان،ج۲،ص۷۴۔

یہ تو طے ہوا کہ اصل آیت خدا کی راہ میں خرچ کرنے یعنی انفاق کے بارے میں ہی ہے
یعنی وہ معنی تو بلکل ہی نہی جو کچھ جاہل لوگ منہ پھاڑے کہتے ہیں کہ ’خود کو ہلاکت میں مت ڈالو‘ . بجاے اس کہ آیت کو سمجھتے اور یہ کہتے کہ

’راہ خدا میں مال کو اعتدال سے خرچ کرو اور خرچ نہ کرو گئے تو ہلاک ہوجاو گئے‘

معلوم ہوا کہ
یہ آیت راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے متعلق ہے
یا پھر
راہ خدا میں مال خرچ کرنا جہاد کے معنوں میں ہے .


پھر بھی اگر کوئی اس آیت کو تیسرے مقام پر سمجھے تو اس پر پہلے ”اہم اور اہم ترین“ کا قاعدہ نافذ ہوگا
یعنی
اگر جان کا خطرہ مول لے کر کوئی بہت بڑا دینی فائدہ حاصل ہو اور اسلام کو ضرورت ہو تو اس وقت اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنا صرف یہی نہیں کہ کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ بعض اوقات واجب وضروری ہوجاتا ہے.
لیکن یہاں بھی اعتدال سے کام لینا ہے کون جانتا ہے کہ کسی کی جان کو خطرے میں ڈال کر کتنا نقصان ہوگا ?
اور کسی دوسرے کا مال خرچ کرکے دین کو کتنا فائدہ ہوگا ?


بس نہ صرف خود کی بلکہ کسی دوسرے کی بھی جان و مال کے لیے ایسا فیصلہ ایک عادل امام ہی کرسکتا ہے جیسا کہ امام حسین علیہ سلام نے کربلا میں کیا
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے قیام میں انھونے ایسے خطرے اور ایسی موت کو خود سے اختیار کیا تھا جس کے واضح اور روشن نتائج اس زمانہ میں اور روز قیامت تک ہر زمانہ میں دکھائی دیتے رہیں گے.لہٰذا ایسا قدم سعادت کا وسیلہ ہوتا ہے.

اس لیے یہ ہر کسی سے کوئی نہی کہہ سکتا ہے کہ آگ میں کود پڑو

کیا حضرت ابراہیم علیہ سلام کے زریعے جو فائدے اگ میں کودنے پڑنے سے دین کو حاصل ہوئے وہ فائدے کوئی اور حاصل کرسکتا ہے?
کیا کسی کے آگ میں کود پڑنے سے اسلام کو وہ سربلندی مل سکتی ہے?


ایک قدم اور اگے بڑھ کر سوچیں

اگر کسان گیہوں کے دانوں کو زمین میں ڈالتا ہے تاکہ اس سے ہزاروں من گیہوں حاصل کرسکے تو کیا ا سے یہ کہنا درست ہے ”تم کیوں ان دانوں کو بیکار کر رہے ہو اور مٹی میں ملارہے ہو؟“

بس پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ یہ آیت ’مال خرچ ‘ کرنے سے متعلق ہے

راہ خدا میں خرچ کرو (اور خرچ نہ کرکے ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو،
یا
راہ خدا میں (اعتدال سے )خرچ کرو اور (افراط و تفریط سے) خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو،



ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ آیت
اعتدال میں رہ کر راہِ خدا میں ہی مال خرچ کرنے سے متعلق ہے۔
نیز
راہ خدا میں مال خرچ نہ کرنا جہاد نہ کرنے کے برابر ہے یعنی راہ خدا میں مال خرچ کرنا جہاد کے معنوں میں ہے.



لیکن اس میں وہ مطلب ہرگز ہرگز نہی ہے جو لوگ انگلی آٹھا کر کہتے ہیں کہ
”اپنے ہاتھ سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 218
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), مرزا عامر (27-01-12), بلال الراعی (27-01-12)
پرانا 27-01-12, 05:32 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر اچھی لگی!!!!!!!!!!!
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (25-02-12), حیدر Rehan (28-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger