واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


::::: اچھی بدعت اور بری بدعت ::::::

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-09, 12:36 AM   #1
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت ::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 27-07-09, 12:36 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائیو ، بہنو ، پچھلے کچھ عرصہ سے بدعت کے بارے میں مخلتف دھاگوں میں گفتگو ہو رہی تھی ، جس میں اچھی بدعت اور بری بدعت کے بارے میں بھی تھی ،
میں وہاں شامل نہ ہو سکا ، تو اس اچھی اور بری بدعت والی بات کے بارے میں کچھ تفصیل یہاں پیش کر رہا ہوں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::::::::::::::: بدعت حسنہ اور بدعت سئیہ :::::::::::::::::
سب سے پہلے یہ حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیے ، اور بدعتِ حسنہ کے فلسفہ پر غور فرمائیے :::
عن أنس عن النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم قال ((((( إنِی فَرطُکُم عَلیٰ الحَوضِ مَن مَرَّ عليَّ شَرِبَ و مَن شَرِبَ لم یَظمَاء ُ أبداً لَیَرِدُنّ عَليّ أقواماً أعرِفُھُم و یَعرِفُونِي ثُمَّ یُحَالُ بینی و بینَھُم فأقولُ إِنَّھُم مِنی ، فَیُقال ،إِنکَ لا تدری ما أحدَثُوا بَعدَکَ ، قَأقُولُ سُحقاً سُحقاً لَمِن غَیَّرَ بَعدِی ))))) و قال ابن عباس سُحقاً بُعداً سُحیقٌ بَعِیدٌ سُحقۃً ، و أسحقہُ أبعَدُہُ :::((((( میں تم لوگوں سے پہلے حوض پر ہوں گا جو میرے پاس آئے گا وہ ( اُس حوض میں سے ) پیئے گا اور جو پیئے گا اُسے ( پھر ) کبھی پیاس نہیں لگے گی ، میرے پاس حوض پر کچھ لوگ آئیں گے یہاں تک میں اُنہیں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے ( کہ یہ میرے اُمتی ہیں اور میں اُن کا رسول ہوں)، پھر اُن کے اور میرے درمیان (کچھ پردہ وغیرہ)حائل کر دیا جائے گا ، اور میں کہوں گا یہ مجھ میں سے ہیں ( یعنی میرے اُمتی ہیں ، جیسا کہ صحیح مُسلم کی روایت میں ہے )، تو ( اللہ تعالیٰ ) کہے گا آپ نہیں جانتے کہ اِنہوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام کیئے ، تو میں کہوں گا دُور ہوں دُور ہوں ، جِس نے میرے بعد تبدیلی کی )))))) اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ::: سُحقاً یعنی دُور ہونا ، صحیح البُخاری/حدیث ٦٥٨٣ ، ٦٥٨٤/ کتاب الرقاق/ باب فی الحوض، صحیح مسلم / حدیث ٢٢٩٠، ٢٢٩١ /کتاب الفضائل/باب اِثبات حوض نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ ۔
محترم قارئین ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِن فرامین پر ٹھنڈے دِل سے غور فرمائیے ، دیکھیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے جو جواب دیا جائے گا اُس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کے اعمال نہیں جانتے ، اور اللہ تعالیٰ دِین میں نئے کام کرنے والوں کو حوضءِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ہٹوایں گے ، اچھے یا برے نئے کام کے فرق کے بغیر، اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے یہ سفارش کرنے کا ذِکر کیا کہ اچھے نئے کام یعنی ''' بدعتِ حسنہ ''' کرنے والوں کو چھوڑ دِیا جائے ،،،، غور فرمائیے ،،، ، بدعت دینی اور بدعت دُنیاوی ، یا یوں کہیئے ، بدعتِ شرعی اور بدعتِ لغوی میں بہت فرق ہے اور اِس فرق کو سمجھنے والا کبھی''' بدعتِ حسنہ اورسیئہ''' کی تقسیم کو درست نہیں جانتا ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( مَن أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس فیہ فھو رد ::: جِس نے ہمارے اِس کام ( یعنی دِین ) میں ایسا نیا کام بنایا جو اِس میں نہیں ہے تو وہ کام رد ہے ))))) صحیح البخُاری / حدیث ٢٦٩٧/کتاب الصلح /باب ٥ ۔
غور فرمائیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہر وہ کام مردود قرار دِیا گیا ہے جو دِین میں نہیں ہے ، کچھ لوگ کہتے ہیں ::: جو کام دِین میں سے نہیں وہ بدعت ہو سکتا ہے ، اور فلان فلان کام تو دِین میں سے ہیں ، اور ان کے اس فلسفے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان رد کرتاہے کہ """""جو اِس (یعنی دِین) میں نہیں ہے """""" ، پس ایسا کوئی بھی کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے کے وقت تک دین میں نہیں تھا وہ دین نہیں ہو سکتا ، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ کام جو خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کے طرف سے جاری نہیں کیا گیا وہ بھی دینی نکتہ نظر سے قابل اتباع نہیں ہے ،
مثلاً اپنی خود ساختہ عبادات ، دُعائیں ، ذکر اذکار ، چلہ کشیاں ، اور ان کے خاص کیفیات ، اوقات اور عدد وغیرہ مقرر کرنا ، خصوصی یاد گیری کی محافل سجانا اور دن منانے ، وغیرہ وغیرہ ،
جی ہاں یہ مذکورہ بالا کام """ دِین میں سے """ تو ہیں ، لیکن جب یہ کام ایسے طور طریقوں پر کیے جائیں جو """ دِین میں """ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مذکورہ بالا حُکم لاگو ہوتا ہے ،
بہت توجہ اور تحمل سے سمجھنے کی بات ہے کہ """ دِین میں سے ہونا """ اور """ دِین میں ہونا """ دو مختلف کیفیات ہیں ، کِسی کام ( قولی و فعلی ، ظاہری و باطنی ، عقیدہ ، اور معاملات کے نمٹانے کے احکام وغیرہ )کا دِین میں سے ہونا ، یعنی اُس کام کی اصل دِین میں """ جائز """ ہونا ہے ،
اور کِسی کام کا دِین میں ہونا ، اُس کام کو کرنے کی کیفیت کا دِین میں ثابت ہونا ہے ،

مَن گھڑت ، خود ساختہ طریقے اور کیفیات دِین میں سے نہیں ہیں ، اللہ کی عِبادت ، دُُعا، ذِکر و اذکار ، عید ، صلاۃ و سلام ، یہ سب دِین میں تو ہیں ، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ''' اِن کو کرنے کی کون سی کیفیت اور ہیئت دِین میں ہے ؟؟؟'''
قُران کی آیات کی اپنی طرف سے تفسیر و شرح کرنا ، ، صحیح ثابت شدہ سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کی موافقت کے بغیر اپنی طرف سے معنی و مفہوم نکالنا اور اُس کو بُنیاد بنا کر عِبادات و عقائد اخذ کرنے سے کوئی کام عبادت اور کوئی قول و سوچ عقیدہ نہیں بن سکتے ، نہ ہی کچھ حلال و حرام کیا جا سکتا ہے ، نہ ہی کچھ جائز و ناجائز کیا جا سکتا ہے ، نہ ہی کسی کو کافر و مشرک و بدعتی قرار دیا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی ایسے بلا دلیل اور ذاتی اراء و فہم پر مبنی اقوال و افعال و اَفکار دِین کا جُز قرار پا سکتے ہیں ، وہ یقینا دِین میں نئی چیز ہی قرار پائیں گے ، جِسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعت قرار فرمایا ہے ،
مزید ملاحظہ فرمایے :::
:::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( فَإنَّ أصدَقَ الحَدِیثِ کِتَاب اللَّہِ ، وَ خیرَ الھدٰی ھدٰي محمَّدٍ ، وَ شَرَّ الأمورِ محدَثَاتھَا ، وَ کَلَّ محدَثَۃٍ بِدَعَۃٌ، وَ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ::: پس بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھی ہدایت محمد کی ہدایت ہے ، اور کاموں میں سب سے بُرا کام نیا بنایا ہوا ہے اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ))))) صحیح مُسلم / حدیث ٨٦٧،
::::: ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بدعت کے بارے میں فیصلہ فرما دیا ہے ، ملاحظہ فرمایے ((((( فَاِنَّ مَن یَعِیشُ مِنکُم فَسیَری اِختلافاًً کثیراً ، فَعَلِیکُم بِسُنّتِی وَ سُنَّۃ الخُلفاء الراشدینَ المھدیَّینَ ، عضُّوا علیھا بالنَواجذِ ، وَ اِیَّاکُم وَ مُحدَثاتِ الأمور، فَاِنَّ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ ::: پس تُم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا ، تو تُم پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خلفاء کی سُنّت فرض ہے اُسے دانتوں سے پکڑے رکھو ، اور نئے کاموں سے خبردار ، بے شک ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ))))) صحیح ابن حبان /کتاب الرقاق، صحیح ابن خُزیمہ /حدیث ١٧٨٥/کتاب الجمعہ /باب٥١،سُنن ابن ماجہ /حدیث ٤٢/باب ٦، مُستدرک الحاکم حدیث ٣٢٩ ، ٣٣١،اسنادہ صحیح/ احکام الجنائز /مایحرم عندالقبور/١٢،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا اِن فرامین کے بعد دِین میں کِسی بھی نئے کام یعنی بدعت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ، ''' ہر ''' بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گمراہی قرار دِیا ہے ، کِسی بدعت کو اچھا یعنی بدعتِ حسنہ کہہ کر جائز کرنے کی کو ئی گنجائش نہیں ،
ان سب معلومات کے حصول کے بعد میں کہتا ہوں کہ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سئیہ کی تقسیم بذات خود ایک بدعت ہے ۔

اِمام الالکائی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا کہ :::
((((( کُلّ بدعۃ ضلالۃ و اِن رآھا الناسُ حسنہ ::: ہر بدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اُسے اچھا ہی سمجھتے ہوں ))))) ، یہ ایک ایسے عظیم القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے جن کے علم ، زھد و تقویٰ ، اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک بہترین مثال کے طر پر بیان ہوتی ہے ، ان کے علاوہ دیگر صحابہ ر ضی اللہ عنہم سے اِس موضوع پر بہت سے فرامین صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں ، اِنشاء اللہ کبھی اُن کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی سعی کروں گا ،
اِمام الشاطبی رحمہُ اللہ نے اپنی معروف کتاب ''' الأعتصام ''' میں ابن ماجشون سے نقل کیا ہے کہ اُنہوں نے اِمام مالک علیہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ''' جِس نے اِسلام میں نیا کام گھڑا اور ( اُس کام کو ) اچھی بدعت سمجھا تو گویا اُس نے یہ خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ((((( الیَومَ اَ کمَلت لَکُم دِینکُم ::: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مُکمل کر دِیا ))))) لہذا جو اُس دِن ( یعنی جِس دِن آیت نازل ہوئی ) دین نہیں تھا وہ آج دِین نہیں ہو سکتا '''
محترم قا رئین ؛ مجھے اُمید ہے کہ اب تک آپ یہ سمجھ چکے ہوں گے کہ دین میں ہر بدعت ، محض بدعت ہے ، اور اس میں کہیں سے بھی اچھی یا بری بدعت نکالنے کی گنجائش نہیں ، پس ایسا ہر کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے تک ، اور پھر خلافت راشدہ کے اختتام تک دین میں نہیں تھا وہ دین میں نہیں ہو سکتا ،
ایسا کوئی بھی کام کرنے والا ، کروانے والا اللہ کے ثواب نہیں پائے ، بلکہ ایسے کسی بھی کام کو دِین سمجھ کر کرنے والے پر عتاب ضرور ہو گا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف اور صریح أحکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے ، جیسا کہ جلیل القدر تابعی سعید بن المُسیب رحمہُ اللہ کا فتویٰ ہے جو کہ اِمام البیہقی نے اپنی '''سنن الکبری ''' صحیح أسناد کے ساتھ نقل کیا کہ ''' سعید بن المُسیب نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید نے اُسے اِس کام سے منع کیا ، اُس آدمی نے کہا """ یا أَبَا مُحَمَّدٍ أَیُعَذِّبُنِی اللَّہ ُ عَلٰی الصَّلَاۃِ ::: اے أبا محمد کیا اللہ مجھے نماز پر عذاب دے گا ؟ """ تو سعید رحمۃُ اللہ علیہ نے جواب دِیا """"" لَا وَلَکِن یُعَذِّبُکَ اللہ بِخِلَافِ السُّنَّۃِ ::: نہیں لیکن تمہیں سُنّت کی خِلاف ورزی پر عذاب دے گا """"" ، سنن البیہقی الکبریٰ / حدیث٤٢٣٤ /کتاب الصلاۃ /باب ٥٩٣ من لم یصل بعد الفجر إلا رکعتی الفجر ثم بادر بالفرض ، کی آخری روایت ، اِمام الالبانی نے صحیح قراردیا ''' اِرواء الغلیل /جلد٢ /صفحہ ٢٣٤ '''،
یہ میرا نہیں ، دو چار سو سال پہلے بنے ہوئے کسی ''' گستاخ فرقے ''' کا نہیں ، ایک تابعی کا فتویٰ ہے ، اِس پر غور فرمائیے ، اور بار بار فرمائیے ، یہ اتباع سُنّت ، محبت و عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اظہار کا صحیح اور ہمیشہ سے انداز ہے نا کہ وہ جو کچھ اپنی اپنی منطق ، سوچ اور فلسفے کی بُنیاد آیات و احادیث کی تفسیر و تشریح کر کے بنایا جاتا ہے ،
محترم قارئین ، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان ((((( مَن سَنَّ فی الاِسلامِ سُنَّۃً حَسنۃً ::: جس نے اسلام میں اچھی سنت چالو کی ))))) کو بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت اور بدعت سیئہ یعنی بری بدعت کی تقسیم کی دلیل بناتے ہیں ، جبکہ اس فرمان مبارک میں کِسی ''' بدعت حسنہ ''' کی کوئی دلیل نہیں ہے ،
اگر آپ اِس فرمان والے واقعے کو پورا پڑہیے ، اور صرف یہ غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کب ، کیوں اور کس کام کے بارے میں یہ فرمایا ؟ اور یہ بھی غور فرمائیے کہ ((((( مَن اَبتداعَ فی الاِسلام بَدعۃً حَسنۃً ::: جس نے اسلام میں اچھی بدعت ایجاد کی ))))) نہیں فرمایا کیونکہ '''سُنۃ '''اور '''بِدعۃ ''' قطعاً ایک چیز نہیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بڑھ کر شریعیت اور لغت کو جاننے والا کوئی اور نہیں، پوری حدیث اور واقعہ صحیح مُسلم /کتاب الزکاۃ/ باب ٢٠، اور ، صحیح ابن حبان /کتاب الزکاۃ /باب ٩ ، میں پڑہیئے ، بڑی وضاحت سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہاں کسی نئے کام کی ایجاد کا نام و نشان بھی نہیں ، اور جس کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے وہ کیا نیا کام نہیں تھا ، بلکہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا ، اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا تھا ، جو پہلے سے معروف تھا اور کیا جاتا تھا ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان ((((( مَن سَنَّ فی الاِسلامِ سُنَّۃً حَسنۃً ::: جس نے اسلام میں اچھی سنت چالو کی ))))) میں کسی نئے کام کی ایجاد کو اچھا نہیں کہا گیا ،
کچھ اسی طرح کا معاملہ دیگر ان باتوں کا ہے جو بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی دلیل بنائی جاتی ہیں ، جیسا کہ امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا قول """ نعمۃ البدعۃ ھذہ """ ، اور خلفاء راشدین کی طرف سے کیے جانے کچھ کاموں کو بدعت سمجھنا ،
ان شا اللہ اس کے بارے میں آگے بات کی جائے گی ،
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سُنّت کو پہچاننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر اُس کام کو جاننے اور پہچاننے اور اُس سے بچنے اور کم از کم اُس پر اِنکار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جو سُنّت کے خِلاف ہے ۔ والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2058
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Arabian (29-07-09), Aurangzeb Yousaf (13-10-10), sahj (27-07-09), ابو عمار (27-07-09), حیدر Rehan (31-07-09)
پرانا 27-07-09, 04:14 PM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

- حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.

صحیح مسلم حدیث نمبر 6975

جناب عادل سہیل صاحب آپ سے معودبانہ درخواست ھے کہ اس حدیث کا ترجمہ لکھدیں تاکہ مسلمان بھائی بہن مستفید ہو سکیں،
اور سنتہ حسنہ اور سیئہ پر مزید تھوڑی سی روشنی بھی ڈالیں اسکے معنی سمیت، شکریہ اور جزاک اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
Arabian (29-07-09)
پرانا 28-07-09, 09:27 AM   #3
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,077
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل بھائی آپ نے بہت احسن طریقے سے بدعت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

بھائی ایک سوال میرے ذھن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ خلفاء کے دور میں فجر کی اذان میں اضافہ کیا گیا۔ تو اسے ہم کیا کہیں گے، کیا یہ بھی دین میں اضافہ نہیں ہے ؟

برائے مہربانی اس کی بھی وضاحت فرما دیجیئے۔
ابو عمار آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
مسافر (29-07-09), ام طلحہ (29-07-09)
پرانا 28-07-09, 09:27 AM   #4
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,077
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل بھائی آپ نے بہت احسن طریقے سے بدعت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

بھائی ایک سوال میرے ذھن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ خلفاء کے دور میں فجر کی اذان میں اضافہ کیا گیا۔ تو اسے ہم کیا کہیں گے، کیا یہ بھی دین میں اضافہ نہیں ہے ؟

برائے مہربانی اس کی بھی وضاحت فرما دیجیئے۔
ابو عمار آف لائن ہے  
ابو عمار کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (29-07-09)
پرانا 29-07-09, 02:08 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سرمد مراسلہ دیکھیں
عادل سہیل بھائی آپ نے بہت احسن طریقے سے بدعت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

بھائی ایک سوال میرے ذھن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ خلفاء کے دور میں فجر کی اذان میں اضافہ کیا گیا۔ تو اسے ہم کیا کہیں گے، کیا یہ بھی دین میں اضافہ نہیں ہے ؟

برائے مہربانی اس کی بھی وضاحت فرما دیجیئے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، سرمد بھائی ، اللہ تعالی آپ کی دعا قبول فرمائے ،
آپکا سوال بہت اچھا ہے ، اور ان شبہات میں سے ایک ہے جو اہل بدعت کی طرف سے جانے اور انجانے میں اپنی اختیار کردہ بدعات کی درستگی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ،
اس کا جواب اللہ پاک کے پاک رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس فرمان مبارک میں ہے :::::
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلہ آلہ وسلم نے فرمایا (((((( اُوصیکُم بتقوی اللَّہ وَ السَّمع ِ وَ الطَّاعۃِ وَ اِن عَبداً حبشيٌ ، فَاِنَّہُ مَن یَعِیش مِنکُم بَعدِ ي فَسَیَریٰ اِختلافاً کثیراً ، فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ تَمسَّکُوا بِھا وعَضَّوا عَلیھا بِالنَّواجِذِ ، وَ أیاکُم و مُحدثات الأمُورِ فَاِنَّ کُلَّ مُحد ثۃٍ بِدَ عۃٌ وکُل بِدعۃٍ ضلالۃٍ [ و کُلَّ ضلالۃٍ فی النَّارِ ] ::: میں تُم لوگوں کو اللہ سے بچنے ( یعنی اللہ کی نافرمانی سے باز رہ کر اللہ کے عذاب سے بچنے ) کی وصیت کرتا ہوں اور بات سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں ، خواہ حبشی غُلام ہی ہو ( یعنی اگر بات حق ہے تو اُسے مانو اور اُس پر عمل کرو خواہ کہنے والا کوئی حبشی غُلام ہی ہو ، اِس وجہ سے بات کو رد نہ کرو کہ کہنے والا کوئی بڑی حثیت نہیں رکھتا ) بے شک تُم سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا ، پس تُم لوگوں پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خُلفاء کی سنَّت فرض ہے اِس کو تھام لو اور دانت گاڑ دو ( یعنی اِس مضبوطی سے تھامو جیسے کہ کِسی چیز کو نوکیلے دانتوں سے تھاما جاتا ہے ) اور خبردار باز رہو نئے کاموں سے ، بے شک ہر نیا کام بِدَعت ہے اور ہر بِدَعت گُمراہی ہے [ اور ہر گُمراہی آگ میں ہے ] )))))
مُستدرک الحاکم ، حدیث ٣٢٩ ، سنن أبو داؤد ، حدیث ، ٤٥٩٤، سنن النسائی ، کتاب صلاۃ العیدین ، باب کیف الخطبہ ۔
فقہ الحدیث ::::: اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّت پر عمل کرنا فرض کیا ہے ، جی ہاں ، یہ معاملہ صرف ترغیب یا استحباب کا نہیں ،
ہم سب اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک اللہ کی وحی کے مطابق ہی کلام فرماتی تھی جس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے ((((( وَ مَا یَنطِقُ عَنِ الھَویٰٓ O اِن ھُوَاِلاَّ وحیٌ یُوحَیٰ ::::::: اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) اپنی مرضی سے بات نہیں فرماتے O وہ تو صرف ( یعنی اُن کی بات تو اللہ کی طرف ) سے کی گئی وحی ہوتی ہے ))))) سورت النجم ،آیات 3 ، 4 ،
اور اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے یہاں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّتوں کو """"" علیکم ::: تُم لوگوں پر ہے """" کہہ کر فرض قرار دیا گیا ،
عربی لغت میں جب کسی کام کے بارے میں """" علیک ::: تُم پر ہے """" کہا جاتا ہے ، تو جسے کہا جا رہا ہو اس کے لیے اُس کام کی فرضیت کا مفہوم دیتا ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی اس مفہوم کو برقرار رکھا ہے ، جیسا کہ روزہ کے احکامات میں فرمایا ((((( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِديَةٌ طَعَامُ مِسكِينٍ ::: اور جو لوگ طاقت رکھتے ہیں ان پر غریب کو کھانا کھلانا فرض ہے ))))) سورت البقرۃ ، آیت 184 ،
اور فرمایا ((((( مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ البَلاَغُ وَاللَّهُ يَعلَمُ مَا تُبدُونَ وَمَا تَكتُمُونَ ::: رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر سوائے بات پہنچانے کے (کچھ اور) فرض نہیں اور تُملوگوں جو کچھ چُھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ جانتا ہے ))))) سورت المائدہ ، آیت 99 ،
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ((((( فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ ::: پس تُم لوگوں پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خُلفاء کی سنَّت فرض ہے ))))) ، خلفاء راشدین کی سنتوں کو ،ان کے جاری کردہ ایسے کاموں کو جن پرصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی پوری جماعت کی طرف سے عملی طور مہر تصدیق ثبت ہو ، کسی بھی طور بدعت کے زُمرے میں داخل نہیں ہونے دیتا ،
اور بات صرف یہاں تک نہیں ، بلکہ خلفاء راشدین کی سنت کی اہمیت اور منزلت کو مزید واضح فرماتے ہوئے اس قدر سختی سے تاکید فرمائی کہ فرمایا ((((( تَمسَّکُوا بِھا وعَضَّوا عَلیھا بِالنَّواجِذِ ::: اِس کو تھام لو اور دانت گاڑ دو )))))
خلفاء راشدین کے علاوہ کسی بھی اور کو ایسی کوئی رخصت میسر نہیں کہ اس کی طرف سے دین میں جاری کیے گئے کسی عمل کو درست مانا جائے ، اور اس کے بدعت ہونے سے انکار کیا جائے،
ان شاء اللہ یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب میں کافی ہوں گی ، اور آپ کے ذہن سے خلفاء راشدین کی طرف سے جاری کردہ کاموں کے بارے میں جو شک تھا دور ہو جائے گا ،
آخرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے منقولہ بالا فرمان کا آخری حصہ ایک دفعہ پھر دہراتا ہوں
(((((( وَ أیاکُم و مُحدثات الأمُورِ فَاِنَّ کُلَّ مُحد ثۃٍ بِدَ عۃٌ وکُل بِدعۃٍ ضلالۃٍ ( و کُلَّ ضلالۃٍ فی النَّارِ ) ::: اور خبردار باز رہو نئے کاموں سے ، بے شک ہر نیا کام بِدَعت ہے اور ہر بِدَعت گُمراہی ہے [ اور ہر گُمراہی آگ میں ہے ] )))))
اللہ تعالیٰ ہم سب کوتوفیق عطافرمائے کہ ہم کسی ضد اور تعصب کے بغیر سنت اور بدعت کا وہ مفہوم سجھ لیں اور اپنا لیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدین اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم جمعیاً کے اقوال و افعال میں ملتا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-07-09), ابو عمار (29-07-09), سحر (29-07-09), عبداللہ حیدر (29-07-09)
پرانا 29-07-09, 03:07 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
- حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.

صحیح مسلم حدیث نمبر 6975

جناب عادل سہیل صاحب آپ سے معودبانہ درخواست ھے کہ اس حدیث کا ترجمہ لکھدیں تاکہ مسلمان بھائی بہن مستفید ہو سکیں،
اور سنتہ حسنہ اور سیئہ پر مزید تھوڑی سی روشنی بھی ڈالیں اسکے معنی سمیت، شکریہ اور جزاک اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا ، ساھج بھائی ، آپکا سوان بھی کافی أہم ہے جس میں آپ نے بھی بھائی سرمد کی طرح ایک معروف شبہے کا اظہار کیا ہے ، ان شاء اللہ اس کا جواب ابھی پیش کرتا ہوں ،
پہلے آپ ترجمہ ملاحظہ فرمایے :::
جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
دیہاتی لوگوں میں کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس آئے
عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ
ان پر موٹے کھردرے کپڑے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کی بد حالی دیکھی کہ ان لوگوں کوضرورت نے پکڑ رکھا ہے
فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی ، تو لوگ صدقہ کرنے میں سست رہے یہاں تک اس کا اثر( ناراضگی یا دکھ کی صورت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دیکھا گیا
- قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ
جریر بن عبداللہ رضی اللہ ( اس واقعہ کے روای مزید ) کہتے ہیں ، پھر انصار میں سے ایک آدمی چاندی سے بھری ہوا ایک تھیلی لے کر آیا
ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا
پھر ایک اور آیا ، پھر لوگوں نے (اُس کی ) اتباع کی ،
حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ
یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پرخوشی جان لی گئی ،
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏(((((‏ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ‏)))))
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( جس نے اسلام میں اچھا طریقہ بنایا اور اس (بنانے والے) کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا (تو) اس (بنانے والے ) کے لیے اس طریقے پر عمل کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر لکھ دیا جاتا ہے اور ان ( طریقہ بنانے اور اس پر عمل کرنےوالوں میں سے کسی ) کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں برا طریقہ بنایا اور اس (بنانے والے) کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا (تو) اس (بنانے والے ) کے لیے اس طریقے پر عمل کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ لکھ دیے جاتے ہیں اور ان ( طریقہ بنانے اور اس پر عمل کرنےوالوں میں سے کسی ) کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی )))))
ساھج بھائی ، اس واقعے میں بڑے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ کسی نے اسلام میں کوئی نیا کام ایجاد نہیں کیا تھا ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ترغیب پر اور ان کی ناراضگی یا دُکھ دیکھ کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کرنے میں پہل کی اور خوب کی کہ چاندی سے بھری ہوئی ایک تھیلی لیے آئے ،
پہلے سے موجود ایک کام """ صدقہ کرنا """ میں ان کی اس اچھی پہل کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ فرمان ان کے اس عمل کے بارے میں فرمایا ،
اس میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں جسے اسلام میں نیا کام ایجاد کرنے یا بنانے کی دلیل ملتی ہوئی ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اہل لغت ہی نہیں تھے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی کے مطابق کلام فرماتے تھے ، انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ ((((( مَن ابتدع فی الاسلام بدعۃ حسنۃ ::: جس نے اسلام میں اچھی بدعت بنائی ))))) بلکہ فرمایا (((( من سن فی اسلام سنۃ حسنۃ ::: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ بنایا )))) پس بات بہت واضح ہے کہ ، وہاں نہ تو کوئی نیا کام ایجاد کیا گیا تھا ، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کسی نئی ایجاد کا ذکر فرمایا ، بلکہ ایک کام کو کرنے لیے اچھے طور پر پہل کر کے اس کام کےلیے ایک اچھا طریقہ بنانے یا دکھانے کے بارے میں یہ فرمایا ، پس ایک دفعہ پھرکہتا ہوں کہ ، بدعت اور سنت کا فرق یہاں اس واقعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان میں مزید واضح ہو جاتا ہے ، اور واضح ہو جاتا ہے کہ اس واقعہ میں کہیں ایسی کوئی بات نہیں جسے ہم اسلام میں کوئی نیا کام ، یا عقیدہ بنانے کا جواز جان سکیں ،
اللہ تعالیٰ اب معلومات کوسب پڑھنے والوں کے لیے دین دنیا اور آخرت میں فائدہ مند بنائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-07-09), ابو عمار (29-07-09), سحر (29-07-09), عبداللہ حیدر (29-07-09)
پرانا 29-07-09, 03:38 AM   #7
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,990
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Salam. Muhtram alim sahib me na app ke tehree paree muje bohat pasand aee. magr maree zehan me chand sawalat han agr app in ka jawab ata farma dan to app ke meharbani ho ge.
1- bedat ki tareef kia he kisi ayat ya hadees ya kisi be sahabi ke kol se bayan farma dan, kisi be alim ya muhadis ka hawal na den, keun ke ik alim kuch kehta he to dosra kuch, is leay sirf quran ke ayat , hadees , ya sahabi ke hawale se he bedat ke tareef bayan farma dan.
agla sawal bedat ki tareef ke ane ke bad ho ga, ta ke jis ko ham samjne ja rahan han os ke sahi tareef to ham ko pata ho.
thanks

Last edited by Student; 29-07-09 at 03:48 AM.
Student آف لائن ہے  
Student کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (30-07-09)
پرانا 29-07-09, 09:04 AM   #8
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ جناب عادل سہیل صاحب آپ نے بہت عمدہ انداذ میں ترجمہ تحریر کیا اور بہت اچھے طریقے سے حدیث مبارک کے مرکزی خیال پر روشنی ڈالی، اللہ تعالٰی قبول فرمائے اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء کرے ، آمیں
sahj آف لائن ہے  
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (30-07-09)
پرانا 29-07-09, 09:16 AM   #9
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پھلےتوآپ کہہ رہےتھےمجھےیہ بتایاجائےکہ اچھی بدعت اوربری بدعت والی حدیث کونسی ہے اب آپ نےخود ہی اس حدیث کاعربی متن پیش کردیااسےمیں پاک نیٹ کےحتمی قوانین کی رو سےمنافقت تو نہیں کہونگاکہ شائدمیرےالفاظ سخت اورناپسنددیدگی کےزمرےمیں آیئں مگراسےآپکادوغلاپن سےضرور تعبیرکرونگاکہ پھلےآپ نےکہاتھاایسی حدیث ثابت کی جائےکہاں ہےاورعربی متن خود پیش کیااسکامطلب تھاآپکومعلوم تھامگر ہائےرےفرقہ واریت میں قربان جاؤں تجھ پر!!!
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (31-07-09), خرم شہزاد خرم (29-07-09)
کمائي نے muhammad asif virani کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
29-07-09 خرم شہزاد خرم ویرانی صاحب یہ سب خود بات مانتے ہیں اور خود ہی اس کے خلاف دلیل دیتے ہیں 150
پرانا 29-07-09, 10:57 AM   #10
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,077
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ابو عمار آف لائن ہے  
پرانا 29-07-09, 12:17 PM   #11
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
پھلےتوآپ کہہ رہےتھےمجھےیہ بتایاجائےکہ اچھی بدعت اوربری بدعت والی حدیث کونسی ہے اب آپ نےخود ہی اس حدیث کاعربی متن پیش کردیااسےمیں پاک نیٹ کےحتمی قوانین کی رو سےمنافقت تو نہیں کہونگاکہ شائدمیرےالفاظ سخت اورناپسنددیدگی کےزمرےمیں آیئں مگراسےآپکادوغلاپن سےضرور تعبیرکرونگاکہ پھلےآپ نےکہاتھاایسی حدیث ثابت کی جائےکہاں ہےاورعربی متن خود پیش کیااسکامطلب تھاآپکومعلوم تھامگر ہائےرےفرقہ واریت میں قربان جاؤں تجھ پر!!!
بھائی ویرانی جس وقت میں نے آپ کے بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق حدیث کا مطالبہ کیا تھا اُس وقت میرے پاس "سنت حسنہ" والی حدیث نہیں تھی اور آپ بھول گئے شاید کہ آپ نے ہی سنت حسن کو "بدعت حسنہ" کہ کر متعارف کروایا تھا جس پر میں نے سوال کیا تھا،بہرحال اب جبکہ صحیح حدیث مل چکی ھے جس میں بدعت حسنہ کا کوئی نہ تو ذکر ہے اور نہ ہی کوئی اس حدیث کے زریعے کسی بدعت کو جاری کرنے کا جواز بنا سکتا ھے، ویسے اک بات کہتا ہو بھائی ویرانی میں عالم تو نہیں لیکن مجھ جیسا عام سمجھ رکھنے والا مسلمان کسی بھی "گڈ بدعت" کو ماننے کو تیار نہیں تو کیا دین کا علم جاننے والے علماء کرام اس معاملے کو نہیں جانتے ؟ سب جانتے ہیں اور یقینًا آپ بھی جانتے ہیں کہ بدعات چاھے کتنی ہی دلکش ھوں بدعت ہی ہوتی ھیں جنکی دین میں کوئی اہمیت نہیں اور بدعات میں مشغول ہونے والا اپنا ہی نقصان کرتا ھے ،
اللہ ہمیں بدعات کے فتنوں سے بھی محفوظ رکھے، آمین
sahj آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (29-07-09), عادل سہیل (30-07-09)
پرانا 29-07-09, 12:40 PM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسجدوں میں محراب نامی بدعت پر کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے  
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 29-07-09, 01:30 PM   #13
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,307
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کسی پر تنز کرنے کے اپنا اپنا موقف بیان کریں تاکہ عام قاری اس بات کو سمجھ سکے
مسافر آف لائن ہے  
مسافر کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (30-07-09)
پرانا 29-07-09, 04:13 PM   #14
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,329
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
بھائی ویرانی جس وقت میں نے آپ کے بیان کردہ حدیث کے مفہوم کے مطابق حدیث کا مطالبہ کیا تھا اُس وقت میرے پاس "سنت حسنہ" والی حدیث نہیں تھی اور آپ بھول گئے شاید کہ آپ نے ہی سنت حسن کو "بدعت حسنہ" کہ کر متعارف کروایا تھا جس پر میں نے سوال کیا تھا،بہرحال اب جبکہ صحیح حدیث مل چکی ھے جس میں بدعت حسنہ کا کوئی نہ تو ذکر ہے اور نہ ہی کوئی اس حدیث کے زریعے کسی بدعت کو جاری کرنے کا جواز بنا سکتا ھے، ویسے اک بات کہتا ہو بھائی ویرانی میں عالم تو نہیں لیکن مجھ جیسا عام سمجھ رکھنے والا مسلمان کسی بھی "گڈ بدعت" کو ماننے کو تیار نہیں تو کیا دین کا علم جاننے والے علماء کرام اس معاملے کو نہیں جانتے ؟ سب جانتے ہیں اور یقینًا آپ بھی جانتے ہیں کہ بدعات چاھے کتنی ہی دلکش ھوں بدعت ہی ہوتی ھیں جنکی دین میں کوئی اہمیت نہیں اور بدعات میں مشغول ہونے والا اپنا ہی نقصان کرتا ھے ،
اللہ ہمیں بدعات کے فتنوں سے بھی محفوظ رکھے، آمین
میری جان آپ تو رسم کو بھی بدعت کہتے ہیں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (30-07-09), مسافر (31-07-09)
پرانا 29-07-09, 04:26 PM   #15
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
"سن" یعنی "جاری کیا" اور "ابتدع" یعنی "ایجاد کیا" میں بہت فرق ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی‌آلہ وسلم کے فرمان کا مطلب اگر وہی ہوتا جو ویرانی‌صاحب بیان کر رہے ہیں‌تو صحابہ کرام کو ہر وقت "اچھے کام ایجاد کرنے" کی فکر میں رہنا چاہیے تھا لیکن وہ دین میں "ایجادات" سے سختی سے روکتے تھے۔ چچا جان، آپ ہمیں صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میں‌بھی بتائیے کہ اس حدیث کا اصل مطلب کیا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-07-09), مسافر (31-07-09), عادل سہیل (30-07-09)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, کارنامے, کتابوں, پوسٹ, پاک, پسند, نظر, متعارف, اللہ, الزام, انتظامیہ, بھائی, بندگی, جواب, حدیث, حضرات, خواتین, خلاف, دل, رمضان, راستہ, عالم, صحیح, صدیقی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟ عبداللہ حیدر ایمان 8 28-02-12 06:33 PM
میری بھی تو کوئی وقعت ہے مسافر عمومی بحث 0 10-10-09 09:49 AM
جماعت الدعوۃ بھی دہشتگرد ہے فیصل ناصر خبریں 19 14-12-08 10:24 PM
حکومت کی تشکیل کیلئے کسی بھی جماعت سے اتحاد سرحد اور وفاق کی سطح پر ہوگا،اسفند یار ولی عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:36 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger