| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2058
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | Arabian (29-07-09), Aurangzeb Yousaf (13-10-10), sahj (27-07-09), ابو عمار (27-07-09), حیدر Rehan (31-07-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
- حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ - قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ " .
صحیح مسلم حدیث نمبر 6975 جناب عادل سہیل صاحب آپ سے معودبانہ درخواست ھے کہ اس حدیث کا ترجمہ لکھدیں تاکہ مسلمان بھائی بہن مستفید ہو سکیں، اور سنتہ حسنہ اور سیئہ پر مزید تھوڑی سی روشنی بھی ڈالیں اسکے معنی سمیت، شکریہ اور جزاک اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | Arabian (29-07-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عادل سہیل بھائی آپ نے بہت احسن طریقے سے بدعت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
بھائی ایک سوال میرے ذھن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ خلفاء کے دور میں فجر کی اذان میں اضافہ کیا گیا۔ تو اسے ہم کیا کہیں گے، کیا یہ بھی دین میں اضافہ نہیں ہے ؟ برائے مہربانی اس کی بھی وضاحت فرما دیجیئے۔ |
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عادل سہیل بھائی آپ نے بہت احسن طریقے سے بدعت کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
بھائی ایک سوال میرے ذھن میں بھی ہے اور وہ یہ کہ خلفاء کے دور میں فجر کی اذان میں اضافہ کیا گیا۔ تو اسے ہم کیا کہیں گے، کیا یہ بھی دین میں اضافہ نہیں ہے ؟ برائے مہربانی اس کی بھی وضاحت فرما دیجیئے۔ |
|
|
| ابو عمار کا شکریہ ادا کیا گیا | ام طلحہ (29-07-09) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، سرمد بھائی ، اللہ تعالی آپ کی دعا قبول فرمائے ، آپکا سوال بہت اچھا ہے ، اور ان شبہات میں سے ایک ہے جو اہل بدعت کی طرف سے جانے اور انجانے میں اپنی اختیار کردہ بدعات کی درستگی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، اس کا جواب اللہ پاک کے پاک رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس فرمان مبارک میں ہے ::::: عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلہ آلہ وسلم نے فرمایا (((((( اُوصیکُم بتقوی اللَّہ وَ السَّمع ِ وَ الطَّاعۃِ وَ اِن عَبداً حبشيٌ ، فَاِنَّہُ مَن یَعِیش مِنکُم بَعدِ ي فَسَیَریٰ اِختلافاً کثیراً ، فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ تَمسَّکُوا بِھا وعَضَّوا عَلیھا بِالنَّواجِذِ ، وَ أیاکُم و مُحدثات الأمُورِ فَاِنَّ کُلَّ مُحد ثۃٍ بِدَ عۃٌ وکُل بِدعۃٍ ضلالۃٍ [ و کُلَّ ضلالۃٍ فی النَّارِ ] ::: میں تُم لوگوں کو اللہ سے بچنے ( یعنی اللہ کی نافرمانی سے باز رہ کر اللہ کے عذاب سے بچنے ) کی وصیت کرتا ہوں اور بات سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں ، خواہ حبشی غُلام ہی ہو ( یعنی اگر بات حق ہے تو اُسے مانو اور اُس پر عمل کرو خواہ کہنے والا کوئی حبشی غُلام ہی ہو ، اِس وجہ سے بات کو رد نہ کرو کہ کہنے والا کوئی بڑی حثیت نہیں رکھتا ) بے شک تُم سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا ، پس تُم لوگوں پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خُلفاء کی سنَّت فرض ہے اِس کو تھام لو اور دانت گاڑ دو ( یعنی اِس مضبوطی سے تھامو جیسے کہ کِسی چیز کو نوکیلے دانتوں سے تھاما جاتا ہے ) اور خبردار باز رہو نئے کاموں سے ، بے شک ہر نیا کام بِدَعت ہے اور ہر بِدَعت گُمراہی ہے [ اور ہر گُمراہی آگ میں ہے ] ))))) مُستدرک الحاکم ، حدیث ٣٢٩ ، سنن أبو داؤد ، حدیث ، ٤٥٩٤، سنن النسائی ، کتاب صلاۃ العیدین ، باب کیف الخطبہ ۔ فقہ الحدیث ::::: اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّت پر عمل کرنا فرض کیا ہے ، جی ہاں ، یہ معاملہ صرف ترغیب یا استحباب کا نہیں ، ہم سب اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک اللہ کی وحی کے مطابق ہی کلام فرماتی تھی جس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے ((((( وَ مَا یَنطِقُ عَنِ الھَویٰٓ O اِن ھُوَاِلاَّ وحیٌ یُوحَیٰ ::::::: اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) اپنی مرضی سے بات نہیں فرماتے O وہ تو صرف ( یعنی اُن کی بات تو اللہ کی طرف ) سے کی گئی وحی ہوتی ہے ))))) سورت النجم ،آیات 3 ، 4 ، اور اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے یہاں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی سُنّتوں کو """"" علیکم ::: تُم لوگوں پر ہے """" کہہ کر فرض قرار دیا گیا ، عربی لغت میں جب کسی کام کے بارے میں """" علیک ::: تُم پر ہے """" کہا جاتا ہے ، تو جسے کہا جا رہا ہو اس کے لیے اُس کام کی فرضیت کا مفہوم دیتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی اس مفہوم کو برقرار رکھا ہے ، جیسا کہ روزہ کے احکامات میں فرمایا ((((( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِديَةٌ طَعَامُ مِسكِينٍ ::: اور جو لوگ طاقت رکھتے ہیں ان پر غریب کو کھانا کھلانا فرض ہے ))))) سورت البقرۃ ، آیت 184 ، اور فرمایا ((((( مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ البَلاَغُ وَاللَّهُ يَعلَمُ مَا تُبدُونَ وَمَا تَكتُمُونَ ::: رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر سوائے بات پہنچانے کے (کچھ اور) فرض نہیں اور تُملوگوں جو کچھ چُھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ جانتا ہے ))))) سورت المائدہ ، آیت 99 ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ((((( فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ ::: پس تُم لوگوں پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خُلفاء کی سنَّت فرض ہے ))))) ، خلفاء راشدین کی سنتوں کو ،ان کے جاری کردہ ایسے کاموں کو جن پرصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی پوری جماعت کی طرف سے عملی طور مہر تصدیق ثبت ہو ، کسی بھی طور بدعت کے زُمرے میں داخل نہیں ہونے دیتا ، اور بات صرف یہاں تک نہیں ، بلکہ خلفاء راشدین کی سنت کی اہمیت اور منزلت کو مزید واضح فرماتے ہوئے اس قدر سختی سے تاکید فرمائی کہ فرمایا ((((( تَمسَّکُوا بِھا وعَضَّوا عَلیھا بِالنَّواجِذِ ::: اِس کو تھام لو اور دانت گاڑ دو ))))) خلفاء راشدین کے علاوہ کسی بھی اور کو ایسی کوئی رخصت میسر نہیں کہ اس کی طرف سے دین میں جاری کیے گئے کسی عمل کو درست مانا جائے ، اور اس کے بدعت ہونے سے انکار کیا جائے، ان شاء اللہ یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب میں کافی ہوں گی ، اور آپ کے ذہن سے خلفاء راشدین کی طرف سے جاری کردہ کاموں کے بارے میں جو شک تھا دور ہو جائے گا ، آخرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے منقولہ بالا فرمان کا آخری حصہ ایک دفعہ پھر دہراتا ہوں (((((( وَ أیاکُم و مُحدثات الأمُورِ فَاِنَّ کُلَّ مُحد ثۃٍ بِدَ عۃٌ وکُل بِدعۃٍ ضلالۃٍ ( و کُلَّ ضلالۃٍ فی النَّارِ ) ::: اور خبردار باز رہو نئے کاموں سے ، بے شک ہر نیا کام بِدَعت ہے اور ہر بِدَعت گُمراہی ہے [ اور ہر گُمراہی آگ میں ہے ] ))))) اللہ تعالیٰ ہم سب کوتوفیق عطافرمائے کہ ہم کسی ضد اور تعصب کے بغیر سنت اور بدعت کا وہ مفہوم سجھ لیں اور اپنا لیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدین اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم جمعیاً کے اقوال و افعال میں ملتا ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، ساھج بھائی ، آپکا سوان بھی کافی أہم ہے جس میں آپ نے بھی بھائی سرمد کی طرح ایک معروف شبہے کا اظہار کیا ہے ، ان شاء اللہ اس کا جواب ابھی پیش کرتا ہوں ، پہلے آپ ترجمہ ملاحظہ فرمایے ::: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دیہاتی لوگوں میں کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس آئے عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ ان پر موٹے کھردرے کپڑے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کی بد حالی دیکھی کہ ان لوگوں کوضرورت نے پکڑ رکھا ہے فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی ، تو لوگ صدقہ کرنے میں سست رہے یہاں تک اس کا اثر( ناراضگی یا دکھ کی صورت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دیکھا گیا - قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ جریر بن عبداللہ رضی اللہ ( اس واقعہ کے روای مزید ) کہتے ہیں ، پھر انصار میں سے ایک آدمی چاندی سے بھری ہوا ایک تھیلی لے کر آیا ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا پھر ایک اور آیا ، پھر لوگوں نے (اُس کی ) اتباع کی ، حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پرخوشی جان لی گئی ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ((((( مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلاَ يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ))))) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( جس نے اسلام میں اچھا طریقہ بنایا اور اس (بنانے والے) کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا (تو) اس (بنانے والے ) کے لیے اس طریقے پر عمل کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر لکھ دیا جاتا ہے اور ان ( طریقہ بنانے اور اس پر عمل کرنےوالوں میں سے کسی ) کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں برا طریقہ بنایا اور اس (بنانے والے) کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا (تو) اس (بنانے والے ) کے لیے اس طریقے پر عمل کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ لکھ دیے جاتے ہیں اور ان ( طریقہ بنانے اور اس پر عمل کرنےوالوں میں سے کسی ) کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی ))))) ساھج بھائی ، اس واقعے میں بڑے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ کسی نے اسلام میں کوئی نیا کام ایجاد نہیں کیا تھا ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ترغیب پر اور ان کی ناراضگی یا دُکھ دیکھ کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے صدقہ کرنے میں پہل کی اور خوب کی کہ چاندی سے بھری ہوئی ایک تھیلی لیے آئے ، پہلے سے موجود ایک کام """ صدقہ کرنا """ میں ان کی اس اچھی پہل کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ فرمان ان کے اس عمل کے بارے میں فرمایا ، اس میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں جسے اسلام میں نیا کام ایجاد کرنے یا بنانے کی دلیل ملتی ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اہل لغت ہی نہیں تھے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی کے مطابق کلام فرماتے تھے ، انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ ((((( مَن ابتدع فی الاسلام بدعۃ حسنۃ ::: جس نے اسلام میں اچھی بدعت بنائی ))))) بلکہ فرمایا (((( من سن فی اسلام سنۃ حسنۃ ::: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ بنایا )))) پس بات بہت واضح ہے کہ ، وہاں نہ تو کوئی نیا کام ایجاد کیا گیا تھا ، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کسی نئی ایجاد کا ذکر فرمایا ، بلکہ ایک کام کو کرنے لیے اچھے طور پر پہل کر کے اس کام کےلیے ایک اچھا طریقہ بنانے یا دکھانے کے بارے میں یہ فرمایا ، پس ایک دفعہ پھرکہتا ہوں کہ ، بدعت اور سنت کا فرق یہاں اس واقعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان میں مزید واضح ہو جاتا ہے ، اور واضح ہو جاتا ہے کہ اس واقعہ میں کہیں ایسی کوئی بات نہیں جسے ہم اسلام میں کوئی نیا کام ، یا عقیدہ بنانے کا جواز جان سکیں ، اللہ تعالیٰ اب معلومات کوسب پڑھنے والوں کے لیے دین دنیا اور آخرت میں فائدہ مند بنائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,990
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Salam. Muhtram alim sahib me na app ke tehree paree muje bohat pasand aee. magr maree zehan me chand sawalat han agr app in ka jawab ata farma dan to app ke meharbani ho ge.
1- bedat ki tareef kia he kisi ayat ya hadees ya kisi be sahabi ke kol se bayan farma dan, kisi be alim ya muhadis ka hawal na den, keun ke ik alim kuch kehta he to dosra kuch, is leay sirf quran ke ayat , hadees , ya sahabi ke hawale se he bedat ke tareef bayan farma dan. agla sawal bedat ki tareef ke ane ke bad ho ga, ta ke jis ko ham samjne ja rahan han os ke sahi tareef to ham ko pata ho. thanks Last edited by Student; 29-07-09 at 03:48 AM. |
|
|
| Student کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (30-07-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
پھلےتوآپ کہہ رہےتھےمجھےیہ بتایاجائےکہ اچھی بدعت اوربری بدعت والی حدیث کونسی ہے اب آپ نےخود ہی اس حدیث کاعربی متن پیش کردیااسےمیں پاک نیٹ کےحتمی قوانین کی رو سےمنافقت تو نہیں کہونگاکہ شائدمیرےالفاظ سخت اورناپسنددیدگی کےزمرےمیں آیئں مگراسےآپکادوغلاپن سےضرور تعبیرکرونگاکہ پھلےآپ نےکہاتھاایسی حدیث ثابت کی جائےکہاں ہےاورعربی متن خود پیش کیااسکامطلب تھاآپکومعلوم تھامگر ہائےرےفرقہ واریت میں قربان جاؤں تجھ پر!!!
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (31-07-09), خرم شہزاد خرم (29-07-09) |
| کمائي نے muhammad asif virani کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 29-07-09 | خرم شہزاد خرم | ویرانی صاحب یہ سب خود بات مانتے ہیں اور خود ہی اس کے خلاف دلیل دیتے ہیں | 150 |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عادل بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ ہمیں بدعات کے فتنوں سے بھی محفوظ رکھے، آمین |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسجدوں میں محراب نامی بدعت پر کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔۔
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (30-07-09) |
|
|
#14 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,329
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (30-07-09), مسافر (31-07-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
"سن" یعنی "جاری کیا" اور "ابتدع" یعنی "ایجاد کیا" میں بہت فرق ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم کے فرمان کا مطلب اگر وہی ہوتا جو ویرانیصاحب بیان کر رہے ہیںتو صحابہ کرام کو ہر وقت "اچھے کام ایجاد کرنے" کی فکر میں رہنا چاہیے تھا لیکن وہ دین میں "ایجادات" سے سختی سے روکتے تھے۔ چچا جان، آپ ہمیں صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میںبھی بتائیے کہ اس حدیث کا اصل مطلب کیا ہے۔ |
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کارنامے, کتابوں, پوسٹ, پاک, پسند, نظر, متعارف, اللہ, الزام, انتظامیہ, بھائی, بندگی, جواب, حدیث, حضرات, خواتین, خلاف, دل, رمضان, راستہ, عالم, صحیح, صدیقی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟ | عبداللہ حیدر | ایمان | 8 | 28-02-12 06:33 PM |
| میری بھی تو کوئی وقعت ہے | مسافر | عمومی بحث | 0 | 10-10-09 09:49 AM |
| جماعت الدعوۃ بھی دہشتگرد ہے | فیصل ناصر | خبریں | 19 | 14-12-08 10:24 PM |
| حکومت کی تشکیل کیلئے کسی بھی جماعت سے اتحاد سرحد اور وفاق کی سطح پر ہوگا،اسفند یار ولی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 20-02-08 02:36 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:28 AM |