واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


سابقہ نازل شدہ کتابوں اور شریعتوں کی اسلامی حیثیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-02-08, 06:00 PM   #1
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 03-02-08, 06:00 PM

::::: سابقہ نازل شدہ کتابیں ، اور اُن کی شرعی حیثیت :::::

الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین:::
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن
صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
یہاں میں آپ صاحبان سے سابقہ الہامی ، آسمانی کتابوں ، اگر اب اُن میں سے کوئی اپنی اصلی حالت میں کہیں موجود ہے تو بھی ، اُن کتابوں کی شرعی حیثیت کے بارے میں کچھ عرض کروں گا کیونکہ ہمارے کچھ مُسلمان بھائی اُن کتابوں میں سے اپنے کِسی قول یا عمل کے لیے دلیل تلاش کرتے اور دلیل بنانے کی کوشش میں مظر آتے ہیں ،
ہمیں اُن سب کتابوں پر اِیمان رکھنے کا حُکم ہے کہ ، وہ کتابیں ، یا صحیفے ، جِن کا ذِکر اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں ، تو ہم اُن کے اللہ کی طرف سے ہونے پر اِیمان رکھیں ، لیکن اُن اِلفاظ پر جو پایہ ثبوت تک پہنچتے ہوں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ، نہ کہ تحریف اور تبدیل شدہ اِلفاظ پر ، اور الحمدُ للہ ہم اُن کتابوں کے اللہ کی طرف سے ہونے پر اِیمان رکھتے ہیں ، لیکن اُن کے تحریف و تبدیل شدہ نسخوں کو قابل اعتماد نہیں جانتے ، اور یہ اللہ کی طرف سے اُمتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و السلام پر اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ایک ہے کہ اُس کی طرف نازل کی گئی کتاب اللہ نے محفوظ رکھی اور قیامت تک محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا ، اور اُس کتاب قُران کے عِلاوہ کوئی اور سابقہ آسمانی کتاب محفوظ نہیں رہی ،
قطع نظر اِس کے کہ وہ کتابیں اللہ کے نازل کردہ الفاظ میں محفوظ رہِیں یا نہیں ، ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اُن کتابوں کا شریعتِ محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و السلام میں کوئی عقیدہ ، یا عِبادت ، یا حُکم اختیار کرنے کا ذریعہ یا دلیل ہونے کا معاملہ کیا ہے ؟؟؟ اور کیا حُکم ہے ؟؟؟
تو اِس کے بارے میں عرض ہے کہ ، وہ سب کتابیں ، ایک ایک قوم کی طرف تِھیں اور اُسی اُسی قوم کی زُبان میں تِھیں ،
رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں آئے ، اللہ کی آخری شریعت لے کر آئے ، وہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کِسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے رسول تھے ،
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے
((((( وَمَا اَرسَلنَاکَ اِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیراً وَنَذِیراً وَلَکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لَا یَعلَمُونَ ::: اور ہم نے آپ کو سارے انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت یہ حقیقت نہیں جانتی )
)))) سورت سباء آیت ٢٨،
اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رسالت تا قیامت ہے ، اُن کے ذریعے بھیجی جانے والی شریعت تا قیامت ہے ، کِسی ایک قوم کے لیے نہیں قیامت تک آنے والے ہر ایک اِنسان کے لیے ، قران و رسالت کی زُبان عربی مقرر ہو چکی ، اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کیے گئے ، عقائد ، احکامات ،اور آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تک ہر ایک رسول اور نبی کی مشترکہ دعوت ، اللہ کی توحید ، جِس کی اصل اساس اللہ کا تعارف اور پہچان ہے ، قیامت تک کے لیے اُس زبان میں ہے ، ہم اُن کو سمجھنے کے لیے اپنی غیر عرب زبانوں سے مدد تو لے سکتے ہیں ہیں لیکن ، اللہ کے نام اور صفات ، اور احکام ، زُبان کے قواعد کے ذریعے یا اپنی اپنی قدیم یا جدید زُبانوں کے مفاہیم کی روشنی میں نہیں سمجھے جا سکتے ، کیونکہ ایسا کرنا بلا شک و شبہہ دِین دُنیا اور آخرت کے گھاٹے والا کام ہے ، پس مُسلمانوں کو اپنے عقائد و احکامات اپنانے کے لیے صرف اللہ کی آخری کتاب اور آخری رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول و فعل کو صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال کی حدود میں رہنا ہے ، سابقہ الہامی ، یا وحی شدہ، یا لکھی لکھائی دی گئی کتابوں ، یا سابقہ نبیوں علیہم السلام سے مروی روایات کو دلیل بنا کر کوئی عقیدہ ، عبادت ، دِینی حُکم ، معاشرتی حُکم ، کاروباری ، تجارتی حُکم کوئی بھی معاملہ جِس کے لیے قران و صحیح سنّت کی موافقت نہ ہو ، نہیں اپنایا جا سکتا ،
اور ایسا اِس لیے کہ اللہ کے مُقرر کردہ قانون کے مُطابق ہر نئے نبی کی اتباع یعنی تابع فرمانی کرنا اُس سے پہلے والے(سابقہ ، پُرانے ) نبی پر فرض ہے، اور اُمتیوں پر نبی سے زیادہ فرض ہے ، اور ہر نئی شریعت اُس سے پہلے والی(سابقہ ، پُرانی) شریعت (عقائد و احکامات) کو منسوخ کرتی ہے ،

:::::::: مُلاحظہ فرمائیے کہ اِس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم کیا ہے ،
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ''''' ایک دِن عُمر ابن الخطاب (رضی اللہ عنہما ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے اور عرض کیا ::: اے اللہ کے رسول یہ تورات کا نسخہ ہے :::رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم خاموش رہے ، تو عُمر (رضی اللہ عنہُ ) نے اُس کو پڑہنا شروع کر دِیا جیسے جیسے وہ پڑہتے جا رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (غصے کی وجہ سے )بدلتا جا رہا تھا ، یہ دیکھ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہُ ) نے عُمر (رضی اللہ عنہُ ) سے کہا ::: تُماری ماں تُمہیں گنوا دے کیا تُم دیکھتے کیوں نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کے چہرے مُبارک پر کیا ہے ؟ (یعنی کتنا غُصہ ہے؟)::: تو عُمر (رضی اللہ عنہُ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چہرہ مُبارک کی طرف دیکھا ، اور فوراً پکار اُٹھے ::::: اَعُوذُ بِاللَّہِ من غَضَبِ اللَّہِ ومن غضب رَسُولِہِ رَضِینَا بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالاِسلَامِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا ، میں اللہ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، ہم اِس پر راضی ہیں کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور اِسلام ہی ہمار دِین ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) ہمارے نبی ہیں ::::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بِیَدہِ ، لَو بَدَاء لَکُم مُوسَی فَاتَّبَعتُمُوہُ وَتَرَکتُمُونِی لَضَلَلتُم عَن سَوَاء ِ السَّبِیلِ ، وَلَو کَان حَیًّا وَاَدرَکَ نُبُوَّتِی لَاتَّبَعَنِی ::: اُس ذات کی قِسم جِس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، اگر موسیٰ تُم لوگوں کے سامنے آ جائیں اور تُم لوگ مجھے چھوڑ کر اُن کی اتباع (پیروی ، تابع فرمانی ) کرنے لگو تو یقینا تُم لوگ دُرست راستے سے بھٹکے ہوئے ہو جاؤ گے ، اور اگر مُوسیٰ میری نبوت کے وقت میں زندہ ہوتے تو یقینا میری اتباع (پیروی ، تابع فرمانی) کرتے ))))) سنن الدارمی /حدیث ٣٤٥ ، الالبانی ، مشکاۃ ١٩٤،٥٥،
::::: اِس حدیث میں جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، کا تقویٰ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ، اور اُن کی اطاعت کے طریقے کے اظہار ہوتا ہے ، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اللہ تعالیٰ کا مندرجہ بالا فرمان مزید واضح ہو گیا کہ محمد
ث میں جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، کا تقویٰ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے بھجے جانے والے آخری رسول اور نبی ہیں ، اور اُن ث میں جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، کا تقویٰ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعے بھیجی جانی والی کتاب ، اور شریعت ، اور عقیدہ ، اور احکام ، سابقہ کتابوں ، شریعتوں ، عقائد و عِبادات کو منسوخ کرنے والے ہیں ، اور قیامت تک کے لیے ہیں ،
اورجو کتاب ، اور شریعت ، اور عقیدہ ، اور احکام ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجے گئے ہیں اُن محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول و فعل کے مطابق ہی عمل کرنا فرض ہے ، اور سابقہ کتابوں ، نبیوں ، اُمتوں ، کے واقعات ، و احکام سے کوئی حکم نہیں لیا جا سکتا ، بلکہ وہ سب منسوخ ہیں ، یہاں تک کہ اگر سابقہ نبیوں میں سے کِسی کو اللہ تعالیٰ دوبارہ دُنیا میں بھیج بھی دے تو وہ محمد
صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرے گا ، نہ کہ خود اُس پر یا اُس کی قوم کی طرف نازل شدہ عقائد و احکام کو اپنائے گا ،
مزید غور فرمائیے ، اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان پر ((((( وَاِذ اَخَذَ اللّہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ لَمَا آتَیتُکُم مِّن کِتَابٍ وَحِکمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُم رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُم لَتُؤمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ قَالَ اَاَقرَرتُم وَاَخَذتُم عَلَی ذَلِکُم اِصرِی قَالُوا اَقرَرنَا قَالَ فَاشہَدُوا وَاَنَا مَعَکُم مِّنَ الشَّاہِدِینَ ::: اور جن اللہ نے تمام نبیوں سے عہد لیا کہ میں تُم (نبیوں) کو کتاب او رحِکمت میں سے ( احکام و پیغامات )دوں گا پھر (اُس کے بعد میر ا) رسول وہ کچھ لے کر آئے گا جو تمہارے پاس (پہلے سے )موجود (کتاب و حِکمت ) کے تصدیق کرے گا ، اور( میں تُم نبیوں سے یہ عہدلے رہا ہوں کہ ) تُم ضرور اُس (رسول) پر اِیمان لاؤ گے اور اُس کی مدد کرو گے ، پھر اللہ نے فرمایا کیا تُم لوگ ایسا کرنے کا اِقرار کرتے ہو اور اِس پر میرا عہد تھامتے ہو ، سب نبیوں نے کہا ، ہم اقرار کرتے ہیں ، اللہ نے کہا ، پس تُم سب بھی گواہ رہو اور میں خود بھی تُم سب کے ساتھ گوا ہ ہوں )
)))) سورت آل عمران / آیت ٨١ ،
اِس کے بعد کِسی صاحبِ اِیمان ، اور عقل سلیم والے مُسلمان کے لیے کیا گنجائش ہے کہ وہ اپنی یا اپنے بڑوں کی کِسی غلط فہمی کو درست ثابت کرنے کے لیے اللہ کی آخری شریعت اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اقوال و افعال کو چھوڑ کر سابقہ نازل شدہ کتابوں ، صحیفوں ، یا سابقہ نبیوں ، اور اُمتوں کو دلیل بنائے ؟؟؟

میرے مُسلمان بھائیو، بہنوں ، سابقہ نبیوں اور اُمتوں کے واقعات کو اللہ تعالیٰ نے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف عبرت و سبق کے لیے بیان فرمایا ہے ، نہ کہ اُن سے کوئی عقیدہ اخذ کرنے ، اللہ کے نام اور صفات اپنانے ، یا عبادات و احکام بنانے کے لیے ،
غور سے پڑہیئے اِیمان والو ، اللہ تعالیٰ کی پُکاریں ، یہ پُکاریں کافروں یا مشرکوں کو نہیں ، بلا سمجھے کلمہ پڑھ کر مُسلمانوں کی گنتی میں شامل ہونے والوں کو نہیں ، یہ پکاریں اِیمان لانے والوں کے لیے ہیں ، اللہ اُن کو پُکار پُکار کر کیا حُکم دیتا ہے ، غور سے پڑہیئے ((((( یٰۤاَ اَیّْھَا الذَّینَ اَمَنُوا ادخُلُوا فی السِّلمِ کَآفَۃً وَ لا تَتَّبِعُوا الشَّیطٰنَ اِنَّہُ لَکُم عَدُوٌ مُبِینٌ فَاِن زَلَلتُم مِّن بَعدِ مَا جَآء َتکُمُ البَیِّنَاتُ فَاعلَمُوا اِنَّ اللّٰہ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ::: اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو پورے کے پورے اِسلام میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے مت چلو ، بے شک وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے اور اگر تُم لوگوں تک واضح باتیں آنے کے بعد بھی تُم لوگ گمراہ ہوتے ہو تو جان رکھو کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے ) سورت البقرۃ / آ یت ٢٠٨ ،
((((( یٰۤاَ اَیّْھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعْوا اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ وَ لاتَوَلَّوا عَنہُ وَ اَنتُم تَسمَعُونَ O وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُواسَمِعنَا وَ ھُم لَا یَسمَعُونَ O اِنَّ شَرَّ الدََّّوَآبِّ عِندَ اللّٰہِ الصّْمُ البُکمُ الَّذِینَ لَا یَعقِلُونَ::: اے لوگو جو اِیمان لائے ہو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور سنتے جانتے ہوئے رسول سے منہ نہیں پھیرو O اور اُن لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم سن رہے ہیں لیکن وہ سنتے نہیں O بے شک اللہ کے سامنے سب سے بُرے وہ ہیں جو(عقل کے ) بہرے اور گونگے ہیں اور سمجھتے نہیں
))))) سورت ا لانفال /آ یت ٢٠ ، ٢١ ، ٢٢ ،
((((( یٰۤاَ اَیّْھَا الذَّینَ اَمَنُوا لَا تقدمُوا بَین َ یَدی اللَّّہ و رسَولَہُ و اتَّقُوا اللَّہ اِنَّ اللَّہ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ::: اے ( لوگو) جواِیمان لائے ہو اللہ اور اُس کے رسول سے آگے مت بڑھو اور اللہ سے بچو ( یعنی اُس کے عذاب سے ) بے شک اللہ سنتا اور جانتا ہے )
))))سورت الحجرات / آیت ١ ۔
پس اے اِیمان والو اپنے رب ،اکیلے و تنہا خالق و معبودِ حقیقی اللہ کی پکار پر لیبک کہتے ہوئے اُن پر عمل پیرا ہوجائیے ،
والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔

Last edited by عادل سہیل; 12-03-10 at 02:15 AM.. وجہ: re formating

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 485
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (01-07-10)
پرانا 16-03-08, 03:11 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,600
کمائي: 31,070
شکریہ: 7,103
2,936 مراسلہ میں 8,711 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سابقہ نازل شدہ کتابوں اور شریعتوں کی اسلامی حیثیت

سوال : کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پر ایمان لانے کا مطلب ہو قرآن کا مکمل طور پر ماننا؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-08, 06:26 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سابقہ نازل شدہ کتابوں اور شریعتوں کی اسلامی حیثیت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سوال : کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پر ایمان لانے کا مطلب ہو قرآن کا مکمل طور پر ماننا؟
السلام علیکم ، فورمز پر خوش آمدید ، بھائی فاروق سرور خان صاحب ، قران پر ایمان لانے کا مطلب ہوا کہ اس کے ایک ایک حرف کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ مانا جائے ، اسے کسی تبدیلی ، تحریف ، کمی یا زیادتی سے محفوظ مانا جائے ، قیامت تک کے لیے ہر انسان کے لیے یہی آخری آسمانی کتاب ہے اور اس کے علاوہ کسی خاص شخصیت یا گروہ کو اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص قران یا مصحف نہیں دیا ، عقیدے اور عبادات ، دُنیا و آخرت کے عذاب و ثواب ، معاشی ، معاشرتی ، ازدواجی ، تجارتی ، ہر قسم کے معاملات کی حدود بندی ، اور حلال و حرام کے لیے اس میں نازل کیئے گئے احکامات کو جوں کا توں مانا جائے ، اس کی تفسیر و شرح اسی میں سے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک میں سے ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت سے لی جائے ، یہ سب باتیں قران پر ایمان میں شامل ہیں ۔ واللہ اعلم ، و السلام علیکم ،
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فرض, کتابوں, پہچان, واقعات, قواعد, قران, نظر, مکمل, ماں, محبت, اللہ, اسلامی, بھائی, توحید, تلاش, تعارف, حکم, حدیث, عہد, عقل, عمران, عبادت, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
امریکا سمیت 3 ملکوں کے سربراہوں کو عدالتوں نے استثنٰی نہیں دیا گلاب خان خبریں 0 26-09-10 03:24 AM
اسرائیلی درندوں کی “غزہ“ میں بربریت(تصویروں کی زبانی) ایکسٹو خبریں 7 27-01-09 10:19 AM
میثاق جمہوریت پر عمل ہو اتو زرداری اور نواز شر یف کی حمایت کروں گا،اچکزئی عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 02:33 AM
سوات: پختون نوجوانوں اور بزرگوں کی متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:06 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:48 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger