| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1782
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | کنعان (03-04-11), مرزا عامر (03-04-11), آبی ٹوکول (02-04-11), اویسی (04-04-11), خاور عباس (24-04-11), ذوالفقار علی (26-04-11), عارف اقبال (26-04-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,024
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السـلامُ علیکم
جزاک اللہ خیر اس بارے میں یہ ویڈیو ملاحظہ کیجئے۔ |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | کنعان (03-04-11), مرزا عامر (03-04-11), آبی ٹوکول (02-04-11), اویسی (04-04-11), حیدر Rehan (02-04-11), عارف اقبال (26-04-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ اچھی شیرنگ ہے
طاہرالقادری صاحب مجھے پہلے ہی سے پسند ہیں اس موضوع کے سنے سے پہلے اور سنے کے بعد بھی میں یہ کہوں گا کہ میں جانتا ہوں کہ مولا علی ع سے لے کر آخری امام عصرع تک کسی نے اپنے اپ کو امام نہی کہا اور نہ امامت کا دعوی کیا۔ |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | کنعان (03-04-11), مرزا عامر (05-04-11), آبی ٹوکول (02-04-11), اویسی (04-04-11), ذوالفقار علی (26-04-11), عارف اقبال (26-04-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
سورۃ النسا آیت نمبر ۵۹
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ۧ ترجمہ :- اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے ، پھر اگر تمہارا کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی، ترجمہ :- اے ایمان والو! خدا کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو اور جب کسی چیز میں جھگڑو تو اگر خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اسے خدا اور پیغمبر کی طرف لوٹا دو ۔ یہ تمہارے لئے ہے اور اس کا انجام و اختتام بہت اچھا ہے ۔ امام اگر معصوم اور منجانب اللہ نہ ہوتو ۔ ۔ ۔ کیا ہوگا ؟ جب یہ لوگ سمجھتے اور جانتے ہیں کہ یعنی دین میں جو کوئی بھی اضافہ کرے یا کمی کرے گا وہ مردود ہے اور اُس بدبخت کا انجام بھی نبی علیہ السلام نے ہم کو بتا دیا ہے اس لیے عمل کرو تو صرف قرآن اور سنت پر ورنہ نبی علیہ السلام بھی شفاعت نہیں کروائیں گے بلکہ وہ بھی اُس شخص سے نفرت کا اظہار کریں گے کہ دور ہو جاؤ اورایسا کہیں بھی کیوں نہ کہ اُس نے نبی علیہ السلام کے لائے ہوے دین میں اپنی مرضی کرنی چاہی۔ اگر امام معصوم و منجانب اللہ و رسول ص نہ ہوتو کسی کو کیسے اندازہ ہوگا کہ جو وہ کہہ رہا ہے وہ قران و حدیث کے ظاہری و باطنی معنی کے ساتھ ساتھ یہ جانتے ہوئے کہ کون سی آیت کس کے لیے اور کہاں کے لیے آئی ہے اور ان کا اصل حکم کیا ہے صحیح طور پر بیان کررہا ہے یا نہی اور اگر معصوم و منجانب اللہ و رسول ص نہی ہے اور بیان کررہا ہے تو و وہ بدبخت ہے اور دین میں بدعت کرنے والہ اور اسلام میں فرقے بنانے والہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اب اگر امام کا یہ حشر ہوگا تو عوام کا کیا ہوگا۔ اب اس کا حل تو وہی ہوگا جو امت مسلہ میں کچھ گروہوں کا ہے یعنی وہ امام کا سرے سے ہی انکار کررہے ہیں کیونکہ امام کا معصوم ہونا اور منجانب اللہ و رسول ص ہونے کا تصور ہی نہی رکھتے یا ان تک پہچا ہی نہی پھر تو وہ صحیح ہیں جو اماموں کو نہی مانتے یعنی کسی بھی امام کے مقلد نہی ہیں ۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپکی سمجھ میں یہ کیسے آسکتی ہے کہ امام کو خود ہی چنا جاسکتا ہے اس معنوں میں جس میں طاہرالقادری صاحب نے انکار کردیا کہ ہمیں کوئی خبر نہی ملتی کہ کسی بھی جگہ ایسا حکم ہو کہ جس سے صابت ہوتا ہو کہ امام منجانب اللہ و رسول ص ہوتا ہے اور وہ معصوم ہوتا ہے ضرورت امام ضرورت دین میں سے ہے اور یہ لازمی امر ہے ۔ (یہ سادہ سا سوال ہے یعنی کوئی دقیق مسلہ نہی اٹھایا کیونکہ میں عوام میں سے ہوں اور دوسرے یہ کہ میرا یہ کام بھی نہی ہے کہ میں ایسے مسائل میں بات کروں مگر سوال کرنے کا حق تو ہے Last edited by حیدر Rehan; 21-05-11 at 12:01 PM. |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | ذوالفقار علی (26-04-11), عارف اقبال (26-04-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,024
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے اہم نکتے کی جانب سوال اُٹھایا ہے۔ تبصرہ اُدھار رہا۔
جزاک اللہ خیر |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (05-04-11), ذوالفقار علی (26-04-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میری معلومات کے مطابق غلام احمد قادیانی اور ڈاکٹر خلیفہ راشد نے مسیح اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (25-04-11), فیصل ناصر (05-04-11), محمد عاصم (14-04-11), ارشد کمبوہ (16-05-11), حیدر (25-04-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
’’لا یَنَالُ عَہْدِی الظَالِمِیْنَ‘‘ امامت بھی ایک عظیم الشان منصب اور ایک آسمانی عہدہ ہے جو انسانی دست سازحکومتوں سے قابل قیاس بھی نہیں ہے یہاں تک کہ بعض علما اس بات کے قائل ہیں کہ امامت اگر بالفرض نبوت سے برتر و بالاتر نہ ہوتو یقینا اس سے کم بھی نہیں ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم ، روایات اور مسلمانوں کے اجماع و اتفاق سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم ں درجہ نبوت پر فائز ہونے اور سخت سے سخت امتحانات میں کامیابی کے بعد منصب امامت پر فائز ہوتے تھے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو اس طرح بیان کرتا ہے: وَِذْْ ابْْتَلَی ِبْْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَٲَتَمَّہُنَّ قَالَ ِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا قَالَ وَمِنْْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَیَنَالُ عَہْْدِی الظَّالِمِینَ ﴿سورۂ بقرہ،۴۲۱﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم (ع) کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدئہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا ۔ تین سخت آزمائشوں اور امتحانوں میں کامیابی کے بعد پروردگار عالم نے جناب ابراہیم ع کو امام قرار دیا اور فرمایا: ِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا۔ ﴿اے ابراہیم!﴾ ہم نے تمھیں لوگوں کا امام بنایا۔ اس جناب ابراہیم ں نے بارگاہ خداوندی میں دست دعا بلند کیاکہ خدایا! اس بلند و بالا مقام امامت کو میری نسل میں بھی قرار دے۔ تو خداوند عالم نے فرمایا کہ امامت ایک الٰہی منصب اور عہدہ ہے اور وہ ظالمین کو نہیں مل سکتا۔ ’’لا یَنَالُ عَہْدِی الظَالِمِیْنَ‘‘ اسی لئے یہ ایک اہم عقیدہ ہے کہ امامت ایک خدائی عہد و پیمان ہے اور ظالمین اور جولوگ ماضی میں شرک و بت پرستی میں پڑے رہے ہیں اور انھوں نے اپنے اوپر اور خدا پر ظلم کیاہے وہ اس عہدہ اور منصب کو حاصل نہیں کر سکتے۔ جناب ابراہیم ں نبوت کے شرائط سے باخبر تھے لیکن شاید یہ سوچ رہے تھے کہ امامت بھی مقدمات کو طے کئے بغیر صرف عصمت کے ساتھ حاصل ہو سکتی ہے البتہ جناب ابراہیم ع کا مقصد یہ نہیں تھا کہ خدا امامت کو ظالم یا مشرک نسل میں قرار دے بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ امامت کو آپ کی پاک وپاکیزہ اور طیب و طاہر نسل میں قرار دے جیسا کہ قرآن کریم نے بندگان خدا کی زبانی نقل کیا ہے : وَ اجْعَلْنِی لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً﴿سورۂ فرقان، ۳۷.﴾ خدایا! مجھے پرہیزگاروں کا امام قرار دے۔ بے شک خدا کے متقی اور پرہیزگار بندوں پر امامت و ولایت صرف طیب و طاہر نسل کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ گویا اس طرح خداوندعالم منصب امامت پر فائز ہونے کے معیار اور شرائط کو بیان کررہا ہے کہ ایک طیب و طاہر اور انسان کامل کے علاوہ کوئی دوسرا لوگوں پر امامت و ولایت نہیں کر سکتااس لئے کہ : اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْم عَظِیْم﴿سورۂ لقمان،۳۱.﴾ بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اہل سنت کے مشہور و معروف مفسر علامہ زمخشری رح ، ابن عیبہ رح سے نقل کرتے ہیں: ظالم کبھی بھی امام نہیں بن سکتا ۔ ظالم کیونکر امام بن سکتا ہے جبکہ امام مقرر کرنے کا مقصد لوگوں کو ظلم و ستم سے روکنا اور عدل و انصاف قائم کرنا ہے، اگر ظالم کو امام بنادیاجائے توا س کی مثال ایسی ہی ہوگی کہ بھیڑیا کو چرواہے کے نام پر گلے پر مسلط کردیا جائے اور یہ عمل خود بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔﴿تفسیر الکشاف، ج۱،ص۴۸۱.﴾ اہل سنت کے ایک دوسرے مشہور مفسر فخر رازی رح اپنی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں: جب جناب ابراہیم ں نے خدا سے دعا کی کہ امامت کو آپ کی نسل میں قراردے تو خداوند عالم کا یہ جواب دینا کہ ’’لا یَنَالُ عَہْدِی الظَالِمِیْنَ‘‘ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ منصب امامت اور دینی ریاست و حاکمیت، ظالمین کو نہیں ملے گی۔ نیز آیۂ ’’ َ ِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ مَامًا‘‘ کے ذیل میں کہتے ہیں : یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب ابراہیم ں تمام گناہوں سے پاک وپاکیزہ اور معصوم تھے اس لئے کہ امام وہ ہوتا ہے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے۔ اگروہ خود گناہ کرے تو لازم ہے کہ گناہ میں بھی اس کی پیروی کی جائے لہٰذا واجب ہے کہ ہم بھی گناہ کریں اور یہ محال ہے اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی چیز حرام بھی ہو اور واجب بھی اور واجب و حرام کے درمیان جمع کرنا ممکن نہیں ہے۔ ﴿تفسیرفخر رازی، ج۳۔۴،ص۷۳.﴾ وہ آیۂ ’’لایَنَالُ عَہْدِی الظَالِمِیْنَ‘‘ کے ذیل میں کہتے ہیں: بعض مسلمانوں نے اس آیت سے استدلال کی بنا پر ابوبکر اور عمر کی خلافت کو غلط قرار دیا ہے اس لئے کہ وہ دونوں ماضی میں کافر اور مشرک تھے اور شرک و کفر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ ایسے افراد منصب امامت و خلافت پر فائز نہیں ہوسکتے اس لئے کہ وہ شروع ہی سے امامت کی صلاحیت و لیاقت نہیں رکھتے تھے اور فی الحال تاریک ماضی کی وجہ سے امام نہیں بن سکتے اس لئے کہ وہ گناہ سے محفوظ نہ تھے اورنہ ہیں۔﴿یعنی معصوم نہیں تھے﴾﴿تفسیرفخر رازی، ج۳۔۴،ص۵۴.﴾ اس کے بعد خود اس استدلال کا جواب دیتے ہیں: وہ دونوں جب تک ظلم و کفر میں ملوث تھے امام نہیں بن سکتے تھے لیکن ایمان لانے اور توبہ کرلینے کے بعد اب کفر و شرک ان پر صادق نہیں آتا۔لیکن آیت کی دلالت التزامی سے معلوم ہوتا ہے صرف یہ کہ کسی کے اندر کفر و ظلم کی حالت پیدا ہوجائے تو وہ امامت سے ساقط ہوجاتا ہے چاہے اس نے ماضی بعید میں ظلم کیا ہو یا اس کے بعد ، اس لئے کہ اس خدائی منصب و عہدہ کے لئے ایک خاص دینداری کی ضرورت ہے۔ وہ پھر اس دلیل کااس طرح جواب دیتے ہیں: اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھائے کہ کافر کو سلام نہیں کرے گا تو یقینا اس کا مقصد موجودہ کافر ہے ۔ وہ شخص نہیں جو پچاس سال پہلے کافر تھا۔﴿تفسیرفخر رازی، ج۳۔۴،ص۶۴.﴾ فخر رازی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے اس لئے کہ : ۱۔ امام کو لوگوں کے جان ، مال اور عزت و آبرو پر حکومت و ولایت حاصل ہے اس لئے اسے ایک معمولی واجب اور ڈیموکراسی کی بنیاد پر قائم دنیوی حکومت سے مقایسہ نہیں کرنا چاہئے اور یہ ایک جزئی اور فرعی مسئلہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان رشتہ داروں کو تحفہ دینے کی نذر کرے تو یہاں پر اس کی مراد وہ رشتہ دار ہیں جو مسلمان ہیں اگرچہ وہ ماضی میں کافر رہے ہوں۔ ۲۔ حضرت ابراہیم ع معصوم اور عادل تھے اور سخت سے سخت امتحانات میں کامیابی کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے تھے لہٰذا یہ بات ان کے لئے واضح تھی کہ یہ بلند و بالا منصب یقینا ان ظالموں کو نہیں ملے گا جو ماضی میں مشرک و بت پرست رہے ہیںاور اب ایمان لے آئے ہیں اور ظالم نہیں ہے اس لئے کہ منصب امامت اس بات کا تقاضا کرتا ہے۔ ورنہ آپ کی دعا لغو و بے فائدہ ہوتی ۔ اس طرح کا دوسرا حکم بھی شریعت اسلامی میں آیا ہے اور وہ یہ کہ ولد الزنا اگرچہ کسی خطا کا مرتکب نہیں ہوا ہے اگر وہ کار خیر انجام د ے تو اسے دوگنا ثواب ملے گا اور اگر گناہ کرے تو عذاب۔ لیکن وہ قاضی، امام جماعت اور مرجع تقلید نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ علم اور عدالت کے لحاظ سے معاشرہ میں ایک نمایاں فرد ہو اس لئے کہ ایسے عہدوں میں طہارت مولد ﴿ولادت کی پاکیزگی﴾ شرط ہے۔ اس طرح منصب امامت میں دیگر شرائط کے ساتھ ظالم نہ ہونا بھی شرط ہے ، ماضی میں بھی اورحال و مستقبل میں بھی۔ لہٰذا نسل ابراہیمی میں جس کا ماضی خراب ہو اور وہ بعد میں مومن و عادل ہوجائے تو وہ معنوی مقامات تک تو پہنچ سکتا ہے لیکن منصب امامت و نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا۔ پروردگار عالم نے ان آیات میں جناب ابراہیم ں سے اسی حقیقت کو بیان کیاہے۔ ۳۔ دوسری جانب عصمت ، منصب امامت کی پہلی شرط ہے اس لئے کہ حضرت ابراہیم ں نبی اور معصوم ہونے کے باوجود جب تک انھوں نے ان سخت امتحانات کو نہ دے دیا مقام امامت پر فائز نہ ہوئے اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ صرف عصمت بھی انسان کو امام نہیں بنا سکتی۔ بعض علمائے اہل سنت جیسے فخر رازی نے ان آیات سے امام کے لئے عصمت کے ضروری ہونے کو ثابت کیا ہے بعض علمائے اہل سنت کا کہنا ہے کہ: لا یَنَالُ عَہْدِی الظَالِمِینَ‘‘ میں عہد سے مراد نبوت ہے ۔ جبکہ یہ صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ تمام انبیائے کرام منصب نبوت کے ساتھ ساتھ امام اور احکام و حدود الٰہی کو جاری کرنے والے تھے جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے اولو العزم ، جناب سلیمان اور جناب داؤد + اس منصب پر فائز تھے۔ ابن ابی الحدید، شارح نہج البلاغہ، حضرت علی ع کے ظاہری خلافت پر فائز ہونے کے بعد آپ کے ارشاد گرامی: الآنَ اِذْ رَجَعَ الْحَقُّ اِلیٰ اَھْلِہ وَ نُقِلَ اِلیٰ مَنْقَلِہ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں: حضرت علی ع کے اس قول کامطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے کے خلفائ اس منصب کے اہل نہیں تھے ۔ لیکن ہم ﴿اہل سنت﴾ حضرت علی ع کے اس کلام کو شیعوں کی تفسیر و تاویل کے برخلاف توجیہ و تاویل کرتے ہیں کہ آنحضرت(ع) خلافت کے لئے زیادہ مناسب اور حقدار تھے وہ بھی اس لئے نہیں کہ رسول خدا کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی وصیت یا حدیث صادر ہوئی ہو بلکہ اس لئے کہ آپ کو دوسر ے تمام افراد پر فضیلت حاصل تھی ۔ ﴿یعنی آپ سب سے افضل تھے﴾ اسی لئے آپ(ع) نے یہ ارشاد فرمایا کہ حق اپنے اہل کے پاس آگیا۔﴿شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص۱۷.﴾ ابن ابی الحدید رح کا یہ کہنا کہ’’ حضرت علی ع کی خلافت و امامت کے لئے رسول خدا کی کوئی وصیت یا حدیث نہیں ہے۔‘‘ اہل تشیع حضرات کے نزدیک کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ رسول اکرم نے اپنی حیات طیبہ میں مختلف مقامات و مناسبات پر حضرت علی ع کی خلافت و جانشینی کا اعلان کیا جس کی آخری کڑی واقعہ غدیرہے جسے اہل سنت کے اکثر اور معتبر علمائ، محدثین، مفسرین اور مورخین نے سینکڑوں صحابہ اور تابعین سے نقل کیاہے۔ ابن ابی الحدید حضرت علی ع کے اپنے حق سے چشم پوشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے: حضرت علی ع رسول خدا ص کے بعد تمام انسانوں سے برتر اور منصب خلافت کے سب سے زیادہ حقدار تھے لیکن آپ نے مسلمانوں کی بھلائی اور مصلحت کے پیش نظر اپنے مسلم حق سے چشم پوشی کرلی اس لئے کہ آپ نے امت اسلامیہ کی مصلحت اور بھلائی اپنے حق کو چھوڑ دینے میں دیکھا ۔ آپ اپنی تیز ہوشی، ذکاوت و ذہانت کی بناپر دیکھ رہے تھے کہ مسلمان اس وقت ایک اضطرابی حالت میں ہیں اور آپ اپنے سلسلہ میں عرب کے حسد و کینہ اور عداوت و دشمنی سے بھی اچھی طرح باخبر تھے۔﴿شرح نہج البلاغہ،ج۱،ص۱۷.﴾ |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ذوالفقار علی (26-04-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
لوگ کہتے ہیں کہ اگر ’’امامت‘‘ اتنا ہی اہم مسلہ تھا تو پھر ہمیں کہیں سے خبر کیوں نہی ملتی نہ حدیث سے نہ قرآن سے وغیرہ وغیرہ
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر ’’وسیلہ ‘‘ اتنا ہی اہم اور ضروری تھا تو اللہ نے ہمیں تلاش کرنے پر کیوں لگا دیا ؟؟ خود ہی صاف صاف بیان کردیتا کہ ’’مجھ تک پہچنے کا وسیلہ یہ ہے‘‘ ’’ولایت علی ع ہی وہ وسیلہ ہے جس کے تلاش کرنے کا حکم ہے‘‘ اگرچہ ’’امامت و ولایت ‘‘ ہی وہ ’’وسیلہ‘‘ ہے مگر پھربھی چونکہ سوال یہ ہے کہ اگر امامت اتنی ہی اہم تھی تو ہمیں خبر کیوں نہ ملی تو اس کو اپ ایسے سمجھیں کہ ’’امامت مثل وسیلہ ہے‘‘ یعنی امامت کی مثال وسیلہ کی مثال جیسی ہے بس ’وسیلہ‘‘ کے بارے میں جس کے لیے قرآن میں بھی بیان ہوا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی بہت کچھ ارشاد فرمایا ہے مگر امت کو کچھ یاد ہی نہی آرہا کیا ہمیں یوم السہت کا وعدہ یاد ہے ؟؟ بس اسی طرح ہم بہت کچھ بھول گئے ہیں |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ذوالفقار علی (26-04-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
کیا ’’آیہٴ اکمال دین‘‘ حضرت علی ( ع ) کی ولایت پر دلالت نہی کرتی ؟
متعدد رو ایات میں ، جو کہ اہل تسنن و اہل تشیع کے معروف طریقے کے ذریعے نقل ہوئی ہیں اور وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہ آیہٴ کریمہ : ” الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا “ (۱) ترجمہ : آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا ، اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا اور تمہارے لئے د ین اسلام کو پسند کر لیا “ غدیر خم کے دن ولایت علی (ع ) کی تبلیغ کے بعد نازل ہوئی منجملہ : ۱ ۔ معروف سنی دانشمند ابن جریر طبری کتاب ” ولایت “ میں ، معروف صحابی ” زید بن ارقم “ سے نقل کرتا ہے کہ یہ آیت ( آیہٴ اکمال ) غدیر خم کے دن حضرت علی (ع ) کے بارے میں نازل ہوئی . ۲ ۔ حافظ ابو نعیم اصفہا نی نے کتاب ” ما نزل من القرآن فی علی (علیہ السلام ) “ میں معروف صحابی ابو سعید خدری ( رح ) سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام ( ص ) نے غدیر خم میں علی ( ع ) کا ، ولی کے عنوان سے لوگوں کے سامنے تعارف کرایا اور لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے آیہٴ اکمال نازل ہوئی . اس موقع پر حضور اکرم ( ص ) نے فرمایا : ” اللّٰہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی و بالولایة لعلی من بعدی ثم قال : من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم و ال من و الاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ “ ترجمہ : اللہ اکبر دین کی تکمیل ، نعمت کے تمام ہونے ، پروردگار کے میری رسالت ، اور میرے بعد علی (ع) کے لئے ولایت سے راضی ہونے پر . پھر آپ ( ص ) نے فرمایا : جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ( ع ) بھی مولا ہیں خدا یا جو ان کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھ ، جو ان کو دشمن رکھے تو بھی اس کو دشمن رکھ ، جو ان کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو ان کی مدد سے ہاتھ کھینچے تو بھی اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ . ۳ ۔ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ سے اور انھوں نے حضور اکرم ( ص ) سے اس طرح نقل کیا ہے : واقعہٴ غدیر ، علی ( ع ) کی ولایت کے عہد و پیمان اور [B]حضرت عمر کے : ” بخ بخ یابن ابی طالب اصبحت مولای و مولیٰ کل مسلم “ (اے ابوطالب کے فرزند مبارک ہو مبارک ہو کہ آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا ہوگئے ) کہنے کے بعد آیت : ” الیوم اکملت لکم دینکم “ نازل ہوئی . ( 2 )[/B] کتاب ” احقاق الحق “ میں تفسیر ابن کثیر صفحہ ۱۴ اور مناقب خوارزمی صفحہ ۴۷ سے واقعہ غدیر کے سلسلے میں اس آیت کا نزول حضور اکرم ( ص ) سے نقل کیا گیا ہے . ( 3 ) تفسیر ” برھان “ اور ” نور الثقلین “ میں بھی دس روایتیں مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہیں کہ یہ آیت مولائے کائنات ( ع ) کے سلسلے میں غدیر خم کے دن نازل ہوئی . ان سب روایات کو نقل کرنے کے لئے علیحدہ کتابچے کی ضرورت ہے . (4 ) علامہ سید شرف الدین کتاب ” المراجعات “ میں فرماتے ہیں : غدیر کے دن اس آیت کا نزول امام باقر ( ع ) اور امام صادق ( ع ) سے منقول روایات میں ذکر ہوا ہے اور اہل سنت نے چھ احادیث مختلف اسناد کے ساتھ حضور اکرم ( ص ) سے اس سلسلے میں نقل کی ہیں جو مذکورہ آیت کے اس واقعہ کے سلسلے میں نازل ہونے کی صراحت کرتی ہیں . ( 5 ) ہماری مندرجہ بالا گفتگو سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ روایات جنہوں نے مندرجہ بالا آیت کا نزول واقعہ غدیر کے سلسلے میں ذکر کیا ہے وہ خبر واحد نہیں ہیں کہ ان کی بعض اسناد کو ضعیف قرار دے کر ان کو نظر انداز کیا جا سکے بلکہ یہ ایسی روایات ہیں جو اگر متواتر نہ بھی ہوں تو کم از کم مستفیض ہیں اور مشہور اسلامی مآخذ میں نقل ہوئی ہیں . ( 6 ) اہل سنت کے مآخذ میں ان امور کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے : جیسے ابن عساکرنے تاریخ دمشق میں ، ابن مغازلی شافعی نے مناقب علی بن ابی طالب میں ، سیوطی اتقان ج ۱ میں ، خوارزمی حنفی مناقب میں ، بسط بن جوزی تذکرة الخواص میں ، ابن کثیر اپنی تفسیر کی دوسری جلد میں ، آلوسی روح المعانی جلد ۶ میں ، ابن کثیردمشقی البدایہ و النہایة جلد ۳ میں سیوطی در منثور جلد ۳ میں ، قندوزی حنفی ینابیع المودہ میں ، حسکانی حنفی شواہد التنزیل جلد ۱ میںبیان کیا ہے . ( 7 ) 1. مائدہ / ۳ . 2. ان تین روایات کو علامہ امینی ( رح ) نے تمام مشخصات کے ساتھ الغدیر کی پہلی جلد میں صفحات ۲۳۰ ، ۲۳۱ اور ۲۳۲ پر نقل کیا ہے اور کتاب احقاق الحق جلد ۶ صفحہ ۳۵۳ پر مذکورہ آیت کا واقعہ غدیر کے سلسلے میں نزول دو طریق سے ابو ہریرہ سے نقل ہوا ہے اور ابو سعید خدری سے بھی چند طریقے سے نقل ہوئی ہیں. 3. احقاق الحق ، ج ۶ ، صفحہ ۳۵۳ بہ بعد دار الکتب الاسلامیہ ۱۳۸۲ ھ . 4. تفسیر ” برہان “ اور تفسیر ” نور الثقلین “ مورد بحث آیت کے ذیل میں . 5. المراجعات ، خط نمبر ۱۲ صفحہ ۳۸ . الصادق للمطبوعات بیروت ، اسی طرح مطبوعہ نسخہ سید علی شرف الدین اور سید موسی شرف الدین کے ذریعے ، مطبعہ عرفان ، صیدا ، ۱۳۵۳ ھ اور ۱۹۵۳ ء ۔ طبع سوم اور صفحہ ۷۵ ، دار الکتاب الاسلامی ، مطبعہ امیر ، طبع دوم ۱۴۲۳ ھ ۲۰۰۲ ء اور صفحہ ۹۱ . جمعیة الاسلامیہ طبع دوم ، ۱۴۰۲ ھ و ۱۹۸۲ ء تحقیق : حسین راضی یہ مطلب حاشیے میں علامہ سید شرف الدین ( رح ) کے ذریعے لکھا گیا ہے . 6. تفسیر نمونہ ، صفحہ ۳۴۳ . 7. ہمراہ باراستگویان ، صفحہ ۱۱۵ . Last edited by حیدر Rehan; 13-04-11 at 11:07 AM. |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ذوالفقار علی (26-04-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
حاکمیت میں وحدت:
[COLOR="Blue"]حاکمیت میں وحدت اس بات کی طرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اللہ ، خالق، مالک اورحقیقی رب ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں حکومت کرنے کا حق اور سارے جہاں پر تصرف رکھتا ہے۔وہ اس حکومت کرنے کے حق کو اس زمین پر اپنے نبی اور ولی کو دے سکتا ہے اور یوں خدا کی پیروی میں نبی اور ولی بھی جہان میں تصرف اور امر و نہی کا حق رکھتے ہیں۔ النبِی ا ولیٰ بِالمؤمِنین مِن ا نفسِہِم وا زواجہ ا مہاتہم وأ ولوا الا رحامِ بعضہم ا ولیٰ بِبعضٍ فی کِتابِ اللہِ مِن المؤمِنین و المہٰجِرین ا ِلّا ان تفعلوا ِلیٰ ا ولِیائکِم معروفاً کان ذالکِ فِی الکِتابِ مسطوراً (الاحزاب6) نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے یا یہا الذین آمنوا طیعوا اللہ و طیعوا الرسول و أولِی الامرِ مِنکم فأِن تنازعتم فی شی ئٍ فردوہ ِلیَ اللہِ و الرسولِ اِن کنتم تؤمِنون بِاللہِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر و أحسن تأویلا (النسائ٥٩) (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا) ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو بھی اللہ کے علاوہ دوسروں پر حکومت کرنے اور دوسروں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دینے کا حق نہیں ہے۔ ۔ قرآن میں اللہ کی صفات میں سے ایک صفت خلیفہ کا انتخاب ہے۔ و اِذ قال ربّک لِلملائکة اِِ ِنِّی جاعِل فِی الارضِ خلیفة قالوا ا تجعل فیہا من یفسِد فیہا و یسفکِ الدِماء و نحن نسبِح بحمدک و نقدِس لک قال ا ِنِّی ا علم ما لا تعلمون (البقرہ ٣٠) (اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فسادپھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟جب کہ ہم تیری ثنا کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)یا داوودا ِنا جعلنٰک خلیفة فِی الارضِ فاحکم بین الناسِ بِالحقِ و لا تتبِعِ الہویٰ فیضِلک عن سبیلِ اللہِ اِن الذین یضِلون عن سبیلِ اللہِ لہم عذاب شدید بِما نسوا یوم الحِسابِ (ص٢٦) (اے داؤد!ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا لوگوںمیں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا ) ام یحسدون الناس علیٰ ما آتاہم اللہ مِن فضلِہِ فقد آتینا آل ِبراہیم الکِتاب و الحِکمة و آتیناہم ملکاً عظیماً (نسائ٥٤) (کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟(اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں عظیم سلطنت عنایت کی ) و جعلناہم ائِمة یہدون باِمرِنا و واحینا اِلیہِم فِعل الخیراتِ وا ِقام الصلاةِ وا یتاء الزکوةاِ وکانوا لنا عابِدین (انبیائ٧٣) (اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے نیک عمل کی انجام دہی اور قیام نماز اور ادائیگی زکواة کے لیے ان کی طرف وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے ) و نریدا ن نمن علی الذین استضعِفوا فِی الارضِ و نجعلہم ا ئِمة و نجعلہم الوارِثین ( قصص٥) ّ(اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں )[/COLOR] فہزموہم باِِذنِ اللہِ و قتل داوود جالوت و ء اتاہ اللہ الملک و الحکِمة و علمہ مِما یشاء و لو لا دفع اللہِ الناس بعضہم بِبعض لفسدتِ الارض و لکِن اللہ ذو فضل علی العالمین (بقرة ٢٥١) (چنانچہ اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھا دیا اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا، لیکن اہل عالم پر اللہ کا بڑا فضل ہے ) قال ربِ اغفِر لی و ہب لی ملکاً لا ینبغی لاِحد مِن بعدی اِنک ا نت الوہاب (ص٣٥) (کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو، یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے ) مندرجہ بالا اور دوسری آیتوں میں خلیفہ کا انتخاب کرنا اللہ کے اوصاف میں ایک وصف شمارکیا گیا ہے۔ اور لوگوں کے ذریعہ خلیفہ کو منتخب کیے جانے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اللہ اپنے علم سے یہ جانتا ہے کہ انسانوں کے لیے کیا صحیح ہے اور کون اس کی اس دنیا میں جانشینی اور دین خدا کو زمین پر نافذ کرنے کی شرائط رکھتا ہے۔ ان شرائط میں معصوم ہونا، اعلم اور افضل ہونا شامل ہیں اور صاف ظاہر یہ کہ یہ اوصاف کسی بھی شخص میں اگر موجود ہوں تو یہ اس کے باطن میں موجود ہوں گی اور ان اوصاف کو پھر وہی پہچان سکتا ہے کہ جو خود تمام حقیقتوں کا عالم ہو۔ کس طرح لوگ ان اوصاف کو پہچان سکتے ہیں جبکہ وہ خود صرف ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی نگاہ سطحی ہے اور یہ سطحی نگاہ بہت آرام سے فریب کار افراد سے دھوکہ بھی کھا جاتی ہے۔ امامت جو کہ اِس زمین پر خدا کی خلافت ہے امامت جو کہ اِس زمین پر خدا کی خلافت ہےاور امام کا مشن انسانوں کے درمیان خدا اور اس کے دین کی حاکمیت کوقائم کرنا ہے۔ امامت اور امام کا انتخاب خدا کے کاموں میں سے ایک کام ہے کہ وہ بلند ترین معیار کے مطابق اپنا نمائندہ اور خلیفہ اس سرزمین پر منتخب کرے اور اس انتخاب میں عام لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اور ان پر فرض ہے کہ خدا کے انتخاب کیے ہوئے ایسے معصوم اور الہی انسانوں کی اطاعت کریں۔ بس اللہ کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کی مضبوط عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں اور یہ بات کہ اللہ اوراسکے رسول(ص) نے یہ اقدام عام لوگوں پر چھوڑ دیا تھا وہ کہ اپنے لیے خلیفہ خود منتخب کرلیں عقلی اور نقلی دلیل سے عاری ہے۔ اس طرح کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بجائے اہل تشیع پر اشکال کرنے کہ اہل سنت پر اشکال کرے کہ کس طرح وہ عام لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرنے کے قابل ہیں جبکہ اسکے خلاف شیعوں کے پاس عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں۔ |
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | ذوالفقار علی (26-04-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
تھوڑا انتظار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | مسلم بھائی (14-05-11), حیدر Rehan (18-05-11) |
|
|
#13 | ||||
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمن الرحیم ریحان حیدر صاحب کا یہ تھریڈ جس میں امامت کی بناوٹی حقیقت کو پیش کیا گیا ہے کافی دن پہلے نظر سے گزرا مگر وقت کی کمی کی وجہ سے اس پر کچھ لکھ نہ سکا اب ان شاءاللہ اس میں پیش کی گئی آیات اور روایات کا صحیح مفہوم پیش کرنے کی کوشش کرونگا اور جو غلط عقیدہ پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے اس کا رَد بھی اسی قرآن کی آیات سے پیش کرونگا۔ ایک اور بات ذہن نشین کر لیں کہ قرآن اور حدیث میں لفظ امام جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اس سے مراد نبی، خلیفۃ المسلمین،نماز کا امام، کسی جہادی لشکر کا امام وغیرہ ہے۔۔۔ نہ کہ کوئی ایسا خاص امام مرادہے جو دین میں سیاہ و سفید کا مالک ہو، اس کا حکم دین کا درجہ رکھتا ہو یا وہ دین کی تجدید کرنے والا ہو یا وہ معصوم گناہوں سے پاک ہو یہ سب نظریات قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں ان پر بات بعد میں ضرور ہوگی ان شاءاللہ۔ ریحان صاحب نے جو پہلی آیت پیش کی ہے کہ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ١٢٤ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے میری اولاد کو فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔ البقرہ:۱۲۴ اس آیت کے تحت جناب تبصرہ فرماتے ہیں کہ اقتباس:
اور جب کہ حقیقی معنی یہ بنتے ہیں کہ کلمات سے مراد احکام شریعت، مناسک حج، ذبح پسر، ہجرت، نار نمرود وغیرہ اور وہ تمام آزمائشیں ہیں جن سے حضرت ابراہیم علیہ السلام گزارے گئے اور ہر آزمائش میں کامیاب اور کامران رہے، جس کے صلے میں امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے، چنانچہ مسلمان ہی نہیں، یہودی، عیسائی حتٰی کہ مشرکین عرب سب ہی میں ان کی شخصیت محترم اور پیشوا مانی جاتی ہے اور یہی امام کے معنی بھی ہیں یعنی پیشوا، رہنما اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جو نبی ہو وہ امام و پیشوا ہی ہوتا ہے اس آیت میں ایسا کوئی مفہوم پوشیدہ نہیں ہے جو خود ساختہ اماموں کو کوئی رتبہ دیتا ہو۔ خود ساختہ کا لفظ میں اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ نبیﷺ کی وفات کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی بھی امام مقرر نہیں ہوا اگر ہوا ہے تو اس کی دلیل یہ دعویٰ کرنے والے پر ہے۔اور نہ ہی اس آیت سے کچھ ایسا ملتا ہے کہ اس سے امامت کے کسی حصوصی عہدہ کے احکامات ہیں۔ ایک یہ آیت پیش کی وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ڜ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ 24 اور ہم نے ان میں سے کچھ کو پیشوا بنایا تھا جو (لوگوں کی) راہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم کے مطابق جب کہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔السجدہ:۲۴ ریحان آپ نے اس آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے آپ نے آیت میں ہی اپنے عقیدے ڈال دیا ہے کہ جو ہمارے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور جبکہ صحیح ترجمہ ہے کہ جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں یعنی ان کو حق بات کی طرف دعوت دیتے ہیں لوگوں کی پیشوائی کرتے ہیں رہا معاملہ لوگوں کی ہدایت کا تو وہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کرئے۔ اس آیت کے تحت آپ نے اپنا فہم لکھا ہے کہ اقتباس:
علماء امت کی نظر سے اوجھل رہے مگر آپ کی نظر بہت اعلیٰ اور پائے کی نکلی جس نے امامت کے وہ خاص معنی پیش کر دیئے ہیں واہ ریحان صاحب واہ میں علمائے حق کا ایک ادنا سا شاگرد ہوں اور ان شاءاللہ یہ شگرد ہی آپ کے باطل نظریات کا توڑ پیش کرئے گا اپنے فہم سے نہیں بلکہ قرآن اور احادیث کی دلیل سے کہ جس کا انکار انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔امامت کا انکار کوئی نہیں کرتا مگر جو امامت آپ ثابت کرنا چاہتے ہو وہ امامت دینِ اسلام میں ہے ہی نہیں ہے اگر ہے تو اس کو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت کر کے دکھلاؤ اور اگر ثابت نہ کر سکو تو اپنے اس باطل عقیدے سے توبہ کرنا اور قرآن اور صحیح حدیث پر ایمان لے آنا جو حقیقت میں دینِ اسلام ہے کہ جس کے باہر ہر باطل اور گمراہی ہے اور جس کے اندر صراط مستقیم ہے جو بالکل سیدھا اور شفاف راستہ ہے کہ جس میں ایک زرا سی بھی ٹیر نہیں ہے۔ پھر ریحان ایک اور آیت پیش کرتے ہیں يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59ۧ اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالٰی کی اور فرمانبرداری کرو (رسول اللہ علیہ و سلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالٰی کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ النساء:۵۹ اس آیت کے تحت جناب نے کسی کا فہم پیش کیا ہے کہ اقتباس:
حالانکہ سورۃ النساء کی درج بالا آیت میں ایسی کوئی بات پیش ہی نہیں کی گئی ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کے علاوہ کسی کی مطلق اطاعت کی جائے بلکہ اس آیت میں تو واضح نص ملتی ہے کہ اطاعت ہے ہی صرف اللہ اور رسولﷺ کی اگر کسی تیسرے بندے کی اطاعت ہے تو وہ شخص ہے خلیفہ، امام، سلطان، امیرالمومنین اور ان کی اطاعت بھی مشروط ہے قرآن و حدیث کے ساتھ کیونکہ اسی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم میں اور امام میں اختلاف ہو جائے تو اس اختلاف کو لوٹا دو اللہ اور رسولﷺ:::قرآن و حدیث:::کی طرف اور تم صاحبِ ایمان ہو تو۔ لیکن افسوس کہ ریحان صاحب نے اس آیت کا ایسا فہم پیش کیا ہے جو ہر لحاظ سے قرآن و حدیث کے ساتھ ٹکراتا ہے کہ معصومین کے علاوہ کوئی اور صاحبان امر نہیں ہوسکتا ،کیونکہ معصوم کے علاوہ کسی اور کی مطلق اطاعت کا حکم دینا محال ہے اور جبکہ معصومین صرف اور صرف نبی و رسل ہی ہیں مگر اس فہم سے امام، خلیفہ بھی معصوم ہیں یعنی گناہوں سے پاک۔ اس کے بعد ایک اور آیت پیش کرتے ہیں کہ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67 اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالٰی لوگوں سے بچا لے گا بیشک اللہ تعالٰی کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔المائدہ:۶۷ اس آیت کا ترجمہ بھی ریحان اپ نے غلط کیا ہے کہ اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جبکہ اس آیت میں حکم یعنی امر کا کہیں بھی ذکر ہی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جنرل طور پر بات کر رہے ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اس کو لوگوں تک پہنچا دیں اگر ایسا نہ کیا یعنی دین کو لوگوں تک نہ پہنچایا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہ کیا اس طرح اگر آپ ترجمہ کرتے تو آپ کا عقیدہ کیسے ثابت ہوتا؟اور آپ اپنے پسند کا مفہوم کیسے لوگوں میں پیش کرسکتے تھے؟
اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں سرکار لکھتے ہیں کہ اقتباس:
اس تبصرہ میں آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آیت غدیر کے موقع پر نازل ہوئی ہے اور اپنے اس دعویٰ میں کوئی بھی حدیث بھی پیش نہیں کی ہے بس اتنا ہی کہا کہ شیعہ اور اہلِ سنت کے دانشوروں کی ایک بڑی جماعت کے نظریے کے مطابق ، جناب ہمیں کسی کا نظریہ نہیں چاہیے اور نہ ہی ہم نے کسی ذاکر یا کسی مولوی کا کلمہ پڑھا ہے جو ہم ان کے ہر باطل نظریے کو مانیں ہمارے لیے تو اللہ اور رسولﷺ کی بات ہی دین ہے اور جو بھی دین کے حوالے سے بات ہوگی اس کی دلیل قرآن و صحیح حدیث سے دیں اگر نہیں دے سکتے تواپنے عقیدے کی اصلاح کرلیں میں یہاں صرف تفسیر ابنِ کثیر کی شرح پیش کرتا ہوں اور انہوں نے جو شانِ نزول پیش کیا ہے وہ بھی دیکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے کسی حکم کو چھپایا نہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالٰی حکم دیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے "اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے ، اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی"۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے "اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔آیت (وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشاہ) ۔ یعنی تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے"۔ ابن عباس سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا قسم اللہ کی ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا (ابن ابی حاتم) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ "حضرت علی سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے ، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں ، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے"۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت زہری کا فرمان ہے کہ اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں ، اس کی گواہ آپ کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی ، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں ، جس وقت آپ کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا"۔ صحیح مسلم میں ہے کہ "آپ نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ نے تبلیغ کر دی اور حق رسالت ادا کر دیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی ، آپ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا ، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ابن مردویہ میں ہے کہ "صحابہ کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ اسی کیلئے تلے آرام فرمائیں ، ایک دن آپ اسی طرح ایسے درخت تلے سو گئے اور آپ کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی ، ایک شخص آ گیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا ، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا اللہ بچائے گا ، تلوار رکھ دے اور وہ اس قدر ہیبت میں آ گیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ کے سامنے ڈال دی۔ " اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ (اللہ یعصمک من الناس) مسند میں ہے کہ "حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لئے بہتر تھا۔ ایک شخص کو صحابہ پکڑ کر آپ کے پاس لائے اور کہا یہ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا ، وہ کانپنے لگا ، آپ نے فرمایا گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا"۔ پھر فرماتا ہے تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے ، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے ، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے ، حساب کا لینے والا اللہ تعالٰی ہی ہے۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
||||
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (25-04-11), skjatala (24-04-11), مسلم بھائی (14-05-11), ارشد کمبوہ (16-05-11), بلال الراعی (05-05-11), سام (12-05-11) |
|
|
#14 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟قرآن سے اور احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جو اس آیت میں حکم ہے وہ دین کی دعوت اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہے نہ کہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا اعلان کرنے کا حکم تھا اور اہلِ سنت کی سبھی کتب میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ نے اپنا وصی، جانشین بنایا تھا اگر اس پر کوئی ایک حدیث بھی ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل کرتے کیونکہ سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امین تھے اور کوئی بھی مسلم ان کی عدالت پر شک نہیں کرسکتا اور جو شک کرتا ہے یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غاصب کہتا ہے تو وہ اہلِ سنت کے علماء کے فتویٰ کے مطابق مسلم ہی نہیں ہے۔ اقتباس:
جی بالکل ! میں نے درج بالا اقتباس میں دلائل سے یہی بات ثابت کی ہے کہ وہ ابلاغ جس کا حکم اس آیت میں دیا گی اہے وہ ہے اللہ کے دین کو مکمل کا مکمل لوگوں تک پہنچانا اور یہ نبوت کا حق آپﷺ نے بااحسن طریق نبایا۔ وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ 73 اور ہم نے انہیں::ابراہیم علیہ السلام کو:: اسحاق علیہ السلام جیسا بیٹا بھی بخشا اور یعقوب جیسا پوتا بھی انعام مزید کے طور پر اور ان سب کو ہم نے اعلیٰ درجے کا نیک بخت بنایا تھا اور ہم نے ان کو ایساپیشوا بنایا تھا جو لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے اور ہم نے ان کو وحی کے ذریعے ہدایت کی تھی نیک کام کرنے کی اور خاص کر نماز قائم رکھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی اور وہ سب ہماری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔ الانبیاء:۷۲۔۷۳ ان دو۲ آیات سے ایسا کچھ ثابت نہیں ہوتا جو ریحان صاحب آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں ، اس آیت میں امام سے مراد نبی ہے نہ کہ خود ساختہ کوئی امام مراد ہے اور دوسرا یہ کہ آپ یہ بھی اپنی تحریر میں ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ امام بھی اللہ کا قائم کیا ہوتا ہے اگر واقع ایسا ہی ہے تو آپ اپنے باراں اماموں کی دلیل قرآن مجید سے پیش کریں۔ اب جناب اس آیت کے تحت تبصرہ لکھتے ہیں کہ اقتباس:
یعنی امامت کا جو مقام ہے وہ نبوت سے اعلیٰ ہوتا ہے ایسا ہی کچھ ریحان آپ نے پہلے بھی کسی تھریڈ میں لکھا تھا اور وہاں میں نے آپ کے اس باطل نظریے کو قرآن و حدیث سے باطل ثابت کر دیا تھا الحمدللہ، آپ دبے الفاظوں اپنے عقیدے کا اچھا پرچار کرنا جانتے ہو کہ کوئی محسوس بھی نہ کرئے اور آپ اپنا عقیدہ بھی پیش کر دو۔ اب میں کوشش کرونگا کہ نبوت اور امامت پر کچھ تفصیلاً لکھ سکوں ان شاءاللہ آپ لوگ امام کو پتا نہیں کیا کیا سمجھنے لگ گے ہوحالانکہ امام سے مراد پیشوا ، خلیفہ،سردار، ہے، ایسی بےشمار احادیث موجود ہيں جن میں امام سے مراد خلیفہ ہے اور قرآن میں اللہ نے لوح محفوظ کو بھی امام کہا ہے اور جو کتاب موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی تھی اس کو بھی امام کہا گیا ہے، میں نیچے وہ آیات دیتا ہوں جن میں لفظ امام موجود ہے اور دیکھتے ہیں اللہ ا ن سے کیا مراد لے رہا ہے۔ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ١٢٤ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنا دوں گا، عرض کرنے لگے میری اولاد کو فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔ سورۃ البقرہ :آیت: ۱۲۴ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ وَھٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ڰ وَبُشْرٰى لِلْمُحْسِـنِيْنَ 12ۚ اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو۔ سورۃ الاحقاف : آیت : ۱۲ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ 17 ھود : آیت : ۱۷ کیا وہ شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواہ ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب جو پیشوا اور رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ رہنا، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان والے نہیں ہوتے ۔ اب مجھے وضاحت کر کے بتاو کہ پہلی آیت جس میں ابراہیم علیہ السلام کو امام کہا گیا اور دوسری اور تیسری نیچے والی آیات جس میں کتاب کو بھی امام کہا گیا دونوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوا ہے یعنی اِمَامًا اب مجھے اس کی وضاحت کر کے بتاو ۔ وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ ۙ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا 72 اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں ۔ وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا 73 اور جب ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے ۔ وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا 74 اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔ سورۃ الفرقان آیات:۷۲۔۷۳۔۷۴ یہ دُعا کسی کے لیے خاص نہیں ہے سب مسلمان یہ دعا مانگ سکتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ایسے لوگوں کا پیشوا بنا جو تم سے ڈرنے والے ہوں۔ افسوس ہے آپ لوگوں کی سوچ اور عقیدے پر کہ آپ لوگوں نے ۱۲ اماموں کو ختمی قرار دے دیا ہوا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو اس پر دلیل لاو اگر تم سچے ہو تو۔ اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہرچیز کو ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے ۔ سورۃ یس : آیت :۱۲ اس آیت کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ امام مبین سے مراد لوح محفوظ ہے مگر آپ لوگ اس آیت کا بھی غلط اور باطل مطلب نکالتے ہو کہ اس سے مراد ہمارا بارھواں ۱۲ امام ہے جبکہ آیت بلکل واضح ہے کہ ہم لکھتے جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہرچیز کو ایک واضح کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے ، یہ آیت بہت آسان معنی لیے ہوئے ہے اب بھی اگر کوئی اس کا مطلب غلط لیتا ہے تو اس سے مراد یہی ہو سکتی ہے کہ وہ شخص جان بوجھ کر فتنہ پروری کرنا چاہتا ہے۔ اور اب ذرہ اس آیت کی طرف بھی نظر فرمائیں اللہ کا ارشاد ہے کہ يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71 جس دن ہم بلائیں گے لوگوں کے ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ پھر جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (خوش ہو ہو کر) اپنے نامہ اعمال کو پڑھیں گے، اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ الاسراء:۷۱ اگر امام سے مراد صرف یہ لیا جائے کہ امام کو اللہ ہی منتحب کرتا ہے اوراللہ ان کی رہنمائی کے لیئے الہام کرتا ہے تو پھر سارا معاملہ اُلٹ ہوجائے گا، کیونکہ امام سے جو مراد حقیقی بنتی ہے اس حساب سے ایک کافر کا بھی امام ہو سکتا ہے ایک مشرک کا بھی امام ہو سکتا ہے جو کہ ان کو جہنم میں لے کر جائے گا اصل میں لفظ اِ مَام کے معنی پیشوا، لیڈر اور قائد کے ہیں جو کہ کسی کافر قوم کا بھی ہوسکتا ہے اور ہے بھی۔
احادیث سے بھی اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ امام سے مراد خلیفہ ہے نہ کہ یہ کوئی ایسا عہدہ ہے کہ جس کی کو بنیاد بنا کر ایک نیا مذہب بنا لیا جائے اور امام کو اتنا اختیار دے دیا جائے کہ وہ دین میں اضافہ یا کمی کرنے کا مجاز بن جائے اور جبکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دین نبیﷺ کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا اب اس میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی ہے۔ |
|||
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (25-04-11), skjatala (24-04-11), مسلم بھائی (14-05-11), ارشد کمبوہ (16-05-11), حیدر Rehan (25-04-11), سام (12-05-11), عبداللہ آدم (25-04-11), عبداللہ حیدر (24-04-11) |
|
|
#15 | ||||||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہاں آپ نے ایک ایسی بات کی ہے جو جھوٹ اور الزام ہے ایسا کچھ بھی اہلِ سنت کی احادیث کی کتب میں نہیں ہے بلکہ ایسا آپ کی ہی کتابوں میں ہوگا اگر ایسی کوئی حدیث ہوتی تو اس کا علم ہمیں بھی ہوتا بلکہ اس سے ملتی جلتی حدیث ہے اس میں نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ من خرج من السلطان شبرا مات ميتة جاهلية صحیح بحاری :جلد:۳ باب: 72 - فتنوں کا بیان : اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ کے قول میں آیا ہے کہ ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا اور ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا کہ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ صحیح مسلم:جلد:۳:باب- امارت اور خلافت کا بیان : فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں اب ان دونوں حدیثوں میں بات ایک ہی کہی گئی ہے مگر الفاظ دو۲ طرح کے استعمال کیئے گے ہیں پہلی میں ارشاد فرمایا جس نے امیر، امام، سلطان، خلیفہ کی اطاعت سے، فرمابرداری سے ایک بالشت بھی باہر ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر جدا ہو اور مر گیا اس کا مرنا جاہلیت کا سا مرنا ہوا، یعنی بات ایک ہی ہے کہ جو خلیفہ کی جماعت سے باہر ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا، اور اگر آپ والی حدیث بھی مان لی جائے تو بھی اس کا یہی مفہوم ملتا ہے کہ جو کوئی وقت کے خلیفہ کی اطاعت سے باہر ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا، اب اس حدیث میں امام کو پہچاننے والی بات بے معنی سی لگ رہی ہے کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ ہر کوئی خلیفہ کو نہ پہچانتا ہو مگر وہ اس کی اطاعت میں رہ رہا ہو۔ اقتباس:
آپ خود سے ہی اصول بناتے ہو اور خود ہی فتویٰ صادر کر دیتے ہو، ایسا طریق کوئی اہلِ علم نہیں اپناتا، آپ جاہلیت کی موت کو شرک کی موت سمجھ رہے ہو جبکہ ایسا نہیں ہے، گو کہ جاہلیت کی ایک قسم کفر اور شرک ضرور ہے مگر جاہلیت کی ہر قسم کفر و شرک ہو یہ باطل عقیدہ ہے اس کا رَد لازم ہے، احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر جہالت کفر و شرک نہیں ہے اور ان احادیث میں بھی نبیﷺ کا یہ فرمانا کہ وہ جاہلیت کی موت مرا ویسے ہی نہین فرما دیا تھا بلکہ اس میں بھی حکمت پوشیدہ تھی اور وہ یہی کہ اگر آپ ﷺ فرما دیتے کہ وہ مشرک یا کافر کی موت مرا تو بات ہی ختم ہوجاتی مگر آپﷺ کا ارشاد کہ جاہلیت کی موت مرا سے وہ انسان کفر اور شرک کی موت نہیں مرا بلکہ جاہلیت کی کسی قسم میں سے ایک قسم پر مرا۔ آج ہم بھی کسی کو جاہل کہہ دیتے ہیں تو کیا اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ تم مشرک ہو؟؟؟نہیں ناں بالکل اسی طرح اس حدیث میں بھی بات کی گئی ہے۔ اس کے بعد جناب اپنے اصل مقصد کو پیش کرتے ہیں کہ اقتباس:
یعنی آپ کا مطلب ہے کہ امامت نبوت سے اعلیٰ مرتبہ و رتبہ ہے؟استغفراللہ امامت پر تفصیل سے اوپر لکھ آیا ہوں یہاں صرف اتنا ہی کہ یہ عقیدہ جہالت سے کم نہیں ہے کہ امامت کا رتبہ نبوت سے زیادہ افضل ہے اسی باطل عقیدہ کی وجہ سے شیعہ نے اپنی کئی ایک کتب میں اپنے باراں اماموں کو سب انبیاء علیہم السلام پر افضلیت دی ہے اور بلکہ ریحان آپ نے ہی یہاں کسی تھریڈ میں لکھا تھا کہ نبیﷺ کے علاوہ سبھی انبیاء علیہم السلام علی رضی اللہ عنہ کے دَر کے سوالی منگتے ہیں، یہی باطل عقیدہ کی وجہ سے آپ لوگ میں اتنی ہمت پیدا کی کہ وہ انبیاء و رسل علیہم السلام کی توہین کر سکیں یہی عقیدہ باطلہ ہے کہ جس کی وجہ سے آپ لوگ امام کو دین کا شارع بناتے ہو یہی عقیدہ باطلہ ہے کہ جس کی وجہ سے آپ لوگ اپنے اماموں کو معصوم اور گناہوں سے پاک کہتے ہو اور جبکہ انبیاء اوررسل علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی گناہوں سے معصوم نہیں ہے، یہی عقیدہ باطلہ کی وجہ سے آپ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غاضب اور ان کی عدالت پر کدغن لگاتے ہو یہی عقیدہ باطلہ کی وجہ سے آپ لوگ وہ وہ دین میں اضافے کر رہے ہو کہ اللہ کی پناہ، کیونکہ آپ لوگ کہتے ہو کہ ایک نبی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو دین سکھائے جو اللہ ان پر وحی کرتا ہے تو امامت کا مقام نبوت سے اعلیٰ ہونے کی وجہ سے امام بھی دین میں کمی بیشی کا اختیار رکھتا ہے کیونکہ امام برائے راست اللہ کے ساتھ رابطہ میں ہوتا ہے۔ یہ ایک گمراہ کن عقیدہ ہے اللہ ہم سب کلمہ گو کو اس کی جہالت سے بچائے آمین۔ اس کے بعد مزید لکھتے ہیں کہ اقتباس:
اس تبصرہ میں ایک شیعہ کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے کسی اہلِ سنت کا نہیں، یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنا وصی، جانشین کسی کو بھی منتحب نہیں کیا تھا مگر شیعہ لوگ اس بات پر بضد ہیں کہ نبیﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا تھا اور اس پر وہ کوئی بھی دلیل نہیں رکھتے اس کے مقابلے پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے کافی شواہد ملتے ہیں کہ نبیﷺ کی وفات کے بعد امارت ان کے سپرد ہو اس پر احادیث پیش کرتا ہوں حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْکَ قَالَ أَبِي کَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَکْرٍ حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا سوال کیا تو آپ نے اس عورت کو دوبارہ آنے کے لئے فرمایا، اس عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آؤں اور آپ کو (موجود) نہ پاؤں؟ (یعنی آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں تو؟) آپ نے فرمایا اگر تو مجھے نہ پائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ جانا (اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت بلا فصل واضح ہے) صحیح مسلم:جلد:سوم:باب: فضائل کا بیان :خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کے بیان میں اس حدیث سے واضح طور پر یہی حکم مل رہا ہے کہ میں اگر نہ ہوں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جانایعنی اس حکم میں ایک اشارہ ہے ابوبکررضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ مُرِي أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ قَالَ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض بڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہ پا سکیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا ابوبکررضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو یوسف کے دور کی عورتوں کی طرح ہو تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ صحیح مسلم:جلد اول:باب:- نماز کا بیان :مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں یہ مقام و مرتبہ صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہی ملا ہے کہ نبیﷺ کی زندگی میں آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھوائی وہ بھی نبیﷺ کے حکم سے نہ کہ اپنی مرضی و منشا سے اور جبکہ ایک واقع ایسا بھی ملتا ہے کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ جماعت کروا رہے تھے اور نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ پیچھے ہٹ آئے اور باقی کی نماز نبیﷺ نے خود پڑھوائی وہ واقع بھی یہاں پیش کر دیتا ہوں۔ یحیی بن یحیی، مالک، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے جب نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں فرمایا ہاں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو لوگ نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سے گزرتے ہوئے صف میں جا کر کھڑے ہو گئے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے جب لوگوں کی تصفیق زیادہ ہوگئی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق اللہ کی حمد کی پھر ابوبکر پیچھے ہو کر صف میں برابر آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے تشریف لے گئے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا اے ابوبکر جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو تم اپنی جگہ پر کیوں نہ کھڑے رہے تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ ابن قحافہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لوگوں کو نماز پڑھانا مناسب نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تم کو کثرت کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سُبْحَانَ اللَّهِ کہو جب سُبْحَانَ اللَّهِ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہو جائے گا تصفیق عورتوں کے لئے ہے۔ صحیح مسلم:جلد اول:باب:- نماز کا بیان :جب امام کو تاخیر ہو جائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں ریحان صاحب ایک بات یاد رکھو کہ اگر ایک بھی واضح حکم نبیﷺ نے فرما دیا ہوتا کہ میرے بعد علی رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنانا تو کوئی بھی آپﷺ کے حکم کے خلاف نہیں کرتا مگر احادیث کی کتب اس پر شاہد ہیں کہ ایسا واضح حکم ایک بھی نہیں ہے بلکہ اشاراتاً کچھ شواہد ملتے ہیں وہ پیش کر دیئے ہیں، مگر آپ اسی بات کو لے کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر زبان دراز کرتے ہو اور ان کی عدالت پر، حتکہ ان کے ایمان پر کدغن لگاتے ہو، اور یہ سب کچھ اسی عقیدے کی وجہ سے ہے کہ آپ لوگ خلافت کو نبی کی میراث سمجھ کر اس کا حق دار صرف علی رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے ہو اور جبکہ آپ کے اس باطل دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیئے نبیﷺ کی بات ہی کافی ہےکہ و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:باب:- جہاد کا بیان :نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ الزہراء رضجی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اپنا ترکہ زمین فدک اور آمدنی خیبر سے مانگنے لگے، حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہم لوگوں::نبیوں:: کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گزر کے لیے اس میں سے لے سکتے ہیں، رہا سلوک کرنا تو اللہ کی قسم! میں رسول اکرمﷺ کے رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ صحیح بخاری:جلد دوم:باب: غزوات کا بیان ان احادیث سے ثابت ہواکہ انبیاءعلیہم السلام کی میراث تقسیم نہیں ہوتی بلکہ انبیاء کی میراث علم ہے اور ایک اور حدیث میں ہے کہ بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء دنیا و درہم کا وارث نہیں بناتے وہ صرف علم کا وارث بناتے ہیں اس لیے جس نے علم حاصل کیا بڑا حصہ حاصل کیا۔ سنن ابن ماجہ:جلد اول:باب: سنت کی پیروی کا بیان یہ حدیث کافی لمبی تھی اس کا لازمی حصہ ہی پیش کیا ہے۔ اقتباس:
یہی وہ نظریہ ہے جس پر میں اوپر لکھ آیا ہوں اب آپ ایسا کرو کہ کوئی ایک قرآن کی آیت یا صحیح حدیث اس دعویٰ پر پیش کرو کہ کس دلیل سے آپ لوگ امام کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کہتے ہو؟؟؟؟؟ اقتباس:
لو جی اسی تحریر میں آپ خود ہی مان گے کہ کون ہے جو امام کو پہچان سکے اس کا مطلب کہ کوئی بھی امام کو نہیں پہچان سکتا، اگر ایسا ہی ہے تو آپ کے عقیدے کے مطابق سبھی جہالت کی موت مرے کیونکہ اوپر آپ نے ہی ایک روایت نقل کی تھی کہ اقتباس:
اور اسی تحریر کے آخر میں سوالیہ انداز میں لکھا کہ کون ہے جو امام کو پہچان سکے اور اس کا انتخاب کر سکے یعنی یہ دونوں کام نہیں ہوسکتے، جو غلط بات ہوتی ہے اس کا اسی طرح کوئی سر اور پاؤں نہیں ہوتا کبھی کچھ کہا جاتا ہے تو کبھی کچھ اور جبکہ قرآن و صحیح حدیث میں ایسا متضاد رویہ نہیں پایا جاتا ہے، دینِ اسلام صاف اور سیدھا دین ہے اس میں کوئی کجی نہیں ہے اس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں الحمدللہ۔ اقتباس:
آپ نے جو خود ساختہ فضائل بیان کیئے ہیں اُس کا اندازہ لگا لیا گیا ہے آپ خود اس کا مطالعہ کر آئے ہو اور آپ کی عقلِ ناقص میں جو باتیں آئیں وہ دین نہیں ہے بلکہ دین قرآن اور صحیح حدیث ہے ، اور آپ نے سبھی کو عجز و ناتوانی کا اعتراف کروا دیا ہے مگر یہ آپ کے منہہ کی باتیں ہیں۔ کہاں علماء، حکماء اور خطیب قرآن و سنت بلکہ مجھ جیسے ایک چھوٹے سے طالب علم نے آپ کے خودساختہ امامت کی حقیقت کو پارا پارا کر دیا ہے اگر کوئی اہلِ علم آپ کی تحریر کا جواب دے تو آپ ایک منٹ بھی یہاں رکنا برداشت نہ کرو۔ میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ دین میں بگاڑ اور امت میں انتشار اُسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب کوئی بندہ اٹھ کر اس دین میں کوئی نئی بات داخل کرتا ہے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ آپ اس بات، کام پر دلیل دو قرآن و حدیث سے مگر وہ بجائے اس کے کہ دلیل دے اپنے کام کو دین کی حیثیت دینے پر بضد ہو جاتا ہے اور اس طرح امت میں انتشار کا باعث بن جاتا ہے، اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس نبی بات ،نئے کام کو چھوڑا جاتا لوگ قرآن و حدیث کو چھوڑ کر اس بندے کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور ایک نیاء فرقہ کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے اور ایسا لوگوں کی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آپ کی دوسری پوسٹوں کا جواب بھی وقت ملنے پر لکھتا رہوں گا ان شاءاللہ
|
||||||||
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (25-04-11), skjatala (24-04-11), ننھا بچہ (28-04-11), مسلم بھائی (14-05-11), ارشد کمبوہ (16-05-11), سام (12-05-11), عبداللہ آدم (25-04-11) |
![]() |
| Tags |
| پاک, وزیر, قرآن, نماز, نظر, میراث, موت, منافقین, ممکن, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, امیر, امتحان, اسلامی, بہترین, بھائی, حکم, حدیث, حسن, خوش, زمانہ, شخص, عزت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|