|
::::: لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ ، مُحمَد رَسُول اللَّہ پراِیمان کا تقاضا :::::::

28-03-08, 04:26 PM
::::: لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ ، مُحمَد رَسُول اللَّہ پراِیمان کا تقاضا :::::::
الحَمدُ لِلَّہِ وَحدَہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبِيَّ وَ لا مَعصُومَ بَعدَہُ ، وَ عَلیٰ آلہِ وَ ازوَاجِہِ وَ اصَحَابِہِ وَ مَن تَبعَھُم باِحسَانٍ اِلیٰ یَومِ الدِین،
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ،
لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ ، مُحمَد رَسُول اللَّہ ، پر اِیمان زندگی کے ہر معاملے میں اِس کلمے کے مکمل نفاذ کاتقاضا کرتا ہے ، پس اِیمان لانے کا مطلب صِرف چند باتیں زُبان سے ادا کر دینا نہیں ،یا چند اَفکار کو اپنا لینا نہیں ، بلکہ اِیمان عِلم اور عمل ہے ، جی ہاں عقیدے کا عِلم اور اُسے قُبُول کرنا ، اور پھر اپنی زندگی پر پورے کا پورا اُس کو نافذ کرنا یعنی اُس پر عمل کرنا ،
یہ عِلم اور اُس پر بغیر کِسی شک کے یقین رکھنا کہ لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ ، کا معنیٰ اور مفہوم ، یہ ہے کہ اللہ کے عِلاوہ کوئی بھی عِبادت کا حق دار نہیں ، اُس کے عِلاوہ جِس جِس کی بھی عِبادت ہوتی ہے وہ جھوٹا اور باطل معبود ہے ، اور اللہ کی ذات اور صفات ،اور ناموں میں اُس کی واحدانیت ، کا عِلم اور اُس پر یقین ، اُس کے فرشتوں ، اُس نبیوں ، رسولوں ، نازل کردہ کتابوں ، قیامت کے قائم ہونے ، حساب و جزا و سزا ، جنّت و جہنم کا عِلم اور اُن پر یقین ، اور خیر اور شر والی تقدیر سب اللہ کی طرف سے ہونے پر یقین ،
اور پھر اِن سب باتوں پر یقین کا تقاضا ، مطلوب و مقصود ، اللہ سے محبت اور اُس کی رحمت و مغفرت کی اُمید رکھنا ، اور اُس کے عذاب سے ڈرنا ، اپنا ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے ، اور اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود میں رہتے ہوئے اللہ کے تمام تر احکامات پر عمل ہے ، نماز ، روزہ ، جہاد ، زکوۃ ، حج، کی ادائیگی ہے ، اللہ کے عِلاوہ کِسی اور کے نام پر نذر و نیاز ، قُربانی ، و خیرات نہ کرنا ، اللہ کے عِلاوہ کِسی بھی اور کی قسم نہ اُٹھانا ہے ، اپنے کمانے ، کھانے پینے ، پہنے اُوڑھنے ، گفت و شنید ، آرام و سکون ، میں حلال کو اپنانا اور حرام کو چھوڑنا ہے ، والدین کے ساتھ بہترین سلوک روا رکھنا ہے ، رشتہ داریوں کو جوڑے رکھنا ہے ، پڑوسیوں اور تمام مسلمانوںکے ساتھ خوش اخلاقی اور محبت و عِزت داری والا تعلق استوار رکھنا ہے ، حالتِ جِہاد کے معاملات کے عِلاوہ تمام اِنسانوں کی عِزت جان و مال نقصان نہ پہنچانا ہے ، اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اُن کے ساتھ کیئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنا ہے ، اور اُن کی امانتیں ادا کرنا ہے ، اور اللہ کے احکامات کو سب سے مکمل ترین اور بہترین شریعت یعنی قانون و دستور ماننا اُس پر راضی رہنا ، اُس پر فخر کرنا اور اُسے اللہ کی ساری زمین پر نافذ کرنا ہے ، کِسی بھی اور قانون ، دستور ، اِزم ، کو مُسلمانوں کی زندگیوں پر عملاً یا فِکری طور پر مُسلط کرنے یا ہونے سے روکنا ہے ، رد کرنا ہے ، شریعت سازی کا حق صرف اور صرف اللہ کا ماننا اور کِسی بھی اور کے اِس قسم کے قولی یا عملی دعوے پر انکار کرنا اُس کو رد کرنا اور مُسلمانوں کو اُس کے شر سے آگاہ کرتے رہنا اور محفوظ کرنے کی کوشش کرتے رہنا ہے ، اپنے ہاتھوں ، پیروں ، زُبان ، سماعت ، نظر،شرمگاہ ، دِل و دماغ کی حفاظت کرنا ہے ، یعنی اپنے اِن اعضاء کو ہر اُس بات ، کام ، اورچیز سے محفوظ رکھنا ہے جسے کہنے ، دیکھنے ، سننے ، اور کرنے کی شریعت میں ممانعت ہے ، اور اِنہیں اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا ہے ، اپنے آپ کو بے پردگی ،بے حیائی اور بے غیرتی سے محفوظ رکھنا ہے ، اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح سُنّت کی حدود میں رہتے ہوئے اللہ کے دِین کی دعوت دینا ہے ، نیکوں کا حُکم کرنا ہے ، اور برائی سے روکنا ہے ، اور اپنے آپ کو قولاً اور فعلاًاللہ کی چنیدہ جماعت سے منسوب رکھنا ہے اور جو کوئی بھی اِس راستے پر ہو اُس کے ساتھ رہنا ہے ، اِدھر اُدھر کے راستوں پر چلنے والوں اور اُن کی طرف دعوت دینے والوں سے دُور رہنا اور اُن کی غلطیوں کو مُسلمانوں پر ظاہر کرنا ہے ،
تو اجمالی طور پر ::: لا اِلہَ اِلّا اللَّہ پر اِیمان لانے کا تقاضا یہ ہوا کہ اِیمان لانے والے کا ہر کام صِرف اللہ کی رضا کے لیے ہو اور اللہ کے احکامات کے عین مُطابق ہو اور اُن پر عمل کی کیفیت اور طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کی حدود میں رہتے ہوئے اپنایا جائے ، اللہ کے عِلاوہ کِسی بھی اور کی کِسی بھی قِسم کی عِبادت سے خود بھی محفوظ رہا جائے اور دوسروں کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے ، اگر یہ کچھ کیا جائے تو کلمہ توحید کے پہلے حصے لا اِلہَ اِلَّا اللَّہَ ، کی تصدیق ہوتی ہے اُس کا حق ادا ہوتا ہے ،
کلمہ توحید کے پہلے حصے کی طرح دوسرے حصے مُحمَد رَّسُول اللَّہَ ، مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، کا جب ہم زُبان سے اِقرار کرتے ہیں تو پہلے حصے کی طرح ہی اِس پر اِیمان لانے کے لیے بھی وہی دو چیزیں درکار ہیں ، عِلم و یقین ، اور پھر نفاذ و عمل ،
پس لازم ہو جاتا ہے کہ ہم یہ عِلم حاصل کریں اور اِس پر یقین رکھیں کہ مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تمام تر اِنسانوں ، اور جِنّوں کے لیے اللہ کے رسول ہیں ، اللہ کی وحی اُن پر نازل ہوئی اور اُن ہی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اللہ کی نازل کردہ ساری کی ساری وحی بیان فرمائیں اور قولی اور عملی طور پر اُس کی تشریح بھی بیان فرما دیں ، اور اللہ کی طرف سے کی گئی وحی کی بنیاد پر ہی اللہ کی حفاظت اور عصمت میں رہتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی یہ ذمہ داری بہترین اور مکمل ترین طور پر ادا فرما دی ، پس ہر وہ بات اور ہر وہ کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں ثابت ہوتا ہے ، حق ہے ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول و فعل کی دلیل کے بغیر ، یا مخالفت والا کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہو سکتا ، بلکہ اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے ،
اِس عِلم و یقین کے بعد مُحمَد رَّسُول اللَّہَ ، پر اِیمان مکمل کرنے کے لیے اِس کو نافذ کرنا یعنی اِس پر عمل کرنا یوں ہے کہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مکمل اور بلا مشروط اطاعت کی جائے ، اور اپنے آپ کو اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کے مکمل سُپرد کردیا جائے ، اور یہ اِس طرح کہ کِسی مذہب ، مسلک، جماعت ، سوچ و فِکر ، فلسفے و منطق ، امکانیات ، باطنیت ، خصوصی لوگوں کے لیے خصوصی احکامات وغیرہ جیسی باتوں کا شِکار ہوئے بغیر اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف الصالح یعنی تابعین، تبع تابعین اور جِنہوں نے اُن کی اِتباع کی اُن کے راستے پر چلتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت کی پیروی کی جائے ، اور سُنّت کی مُخالفت ، یا تاویل والی ہر بات اور ہر کام کو چھوڑ دیا جائے ،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اپنی جان ، مال والدین ، اولاد ، آباو اجداد ، بیوی ، بہن بھائی ، وطن ، جماعت ، پیر و مرشد ، حضرت و مخدوم ، ہر ایک سے بڑھ کر مُحبت کی جائے اور ہر ایک سے زیادہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عِزت و توقیر کی جائے ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عِزت کی خاطر ، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی فتح و نصرت کے لیے ،اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خِلاف کِسی بھی قِسم کی کاروائی کو نیست و نابود کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قُربان کر دِیا جائے ،
جو کوئی بھی ، جب تک یہ کام نہیں کرے گا اُس کا اِیمان مکمل نہیں ہو سکتا ، لہذا ہر کلمہ گو پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہر ایک سے زیادہ محبوب رکھے اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی فتح و نُصرت کے لیے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عِزت کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرے ، تا کہ اللہ کے ہاں اُس کا یہ کہنا قُبُول ہو کہ مُحمَد رَسُول اللَّہ۔
مندرجہ ذیل مضمون کا مطالعہ بھی فرمائیے
::: اِیمان کی تکمیل کی شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت :::
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
Last edited by عادل سہیل; 28-03-08 at 04:29 PM..
|
عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|