واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-07-09, 04:40 PM   #1
کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 22-07-09, 04:40 PM

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین کو مکمل کر دیا تھا جس کی تفصیل اس دھاگے میں لکھی جا چکی ہے:
دین میں کمی بیشی کرنا جائز نہیں - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز
کچھ بھائیوں کے ذہن میں آنے والا ایک خیال جس کا اظہار بعض دفعہ زبان سے بھی ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں لیکن وہ انہیں اچھی نیت سے کرتے ہیں۔ و0 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات
“اعمال نیتوں سے ہیں”
ان کے استدلال اور باتوں کے بارے میں حق بات معلوم کرنے کے لیے میں کہتا ہوں:
جو مسلمان حق کو پانا چاہتا ہے، حق کی معرفت کا طلبگار ہے اور حق پر عمل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنت نبوی کی تمام نصوص کو سامنے رکھے نہ یہ کہ بعض کو اختیار کرے اور بعض کو ترک کر دے۔ یہی طریقہ ہے حق سے قریب اور خطا سے دور ہونے کا۔
اس مسئلے میں صحیح بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان “اعمال نیتوں سے ہیں”، ان دو شرائط میں سے ایک ہے جن پر عبادت کے درست ہونے اور اسکی قبولیت کا دارومدار ہے۔ پہلی یہ کہ جو عمل بھی کیا جائے وہ سچے دل سے خالصتًا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اس میں غیراللہ کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ دوسری یہ کہ وہ عمل سنت کے موافق ہو۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد

"جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ کام مردود ہے

(صحیح مسلم کتاب الاقضیہ باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمورآن لائن لنک۔
ان دو عظیم الشان حدیثوں میں دین کے اصول و فروع، ظاہر اور باطن بلکہ پورا دین داخل ہے۔ پہلی حدیث یعنی “اعمال نیتوں سے ہیں” اعمال کے باطن کی اصلاح کرتی ہے اور دوسری حدیث “جس نے کوئی بھی ایسا عمل کیا ۔ ۔ ۔” اعمال کی ظاہری صورت کے لیے میزان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی متابعت اور پیروی ہر قول و عمل کے ظاہر و باطن کو جانچنے کا پیمانہ ہیں۔ جس نے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع کی تو اس کا عمل مقبول ہے اور جس نے ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو چھوڑا تو اس کا عمل مردود اور ناقابل قبول ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے:
لیبلوکم ایکم احسن عملا (سورۃ الملک آیت 2)
“تا کہ اللہ آزمائے کہ تم میں سے اچھا عمل کرنے والا کون ہے”
فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
“اچھے عمل سے مراد یہ ہے کہ وہ خالص ہو اور درست ہو۔ عمل خالص ہو لیکن درست نہ ہو تو قبول نہ ہو گا اور درست ہو لیکن خالص نہ ہو تو بھی قبولیت نہ پا سکے گا۔ خالص سے مراد یہ ہے کہ اسے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جائے اور درست ہونے کا مطلب ہے کہ وہ سنت نبوی کے مطابق ہو” (ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء8/95، تفسیر بغوی 5/ 419، علم اصول البدع للشیخ علی بن حسن ص 61)
تابعین اور تبع تابعین میں سے بعض کا کہنا ہے کہ
“ ہر چھوٹے بڑے عمل کے لیے دو دیوان نشر کیے جاتے ہیں (یعنی اس کی قبولیت کو دو پیمانوں سے ناپا جاتا ہے) پہلا یہ کہ “عمل کس لیے کیا” اور دوسرا یہ کہ “عمل کس طرح کیا”۔
“عمل کس لیے کیا” کا مطلب ہے کہ اس کے پیچھے کیا نیت، محرک اور باعث تھا۔ دنیا کے فوائد سمیٹنے، لوگوں سے تعریف سننے اور ان کی تنقید سے بچنے وغیرہ کے لیے کیا یا اللہ کی عبادت، اللہ کی محبت میں اور اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا۔
“کس طرح کیا” یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کے مطابق تھا یا اپنی مرضی اور فہم سے نکالا گیا ۔
اِمام البیہقی نے اپنی '''سنن الکبری ''' میں صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا کہ ''' سعید بن المُسیب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے اُسے اِس کام سے منع کیا ،
اُس آدمی نے کہا:
::: یا ابَا مُحَمَّدٍ یُعَذِّبُنِی اللَّہ ُ عَلٰی الصَّلَاۃِ
اے ابا محمد کیا اللہ مجھے نماز پر عذاب دے گا ؟ :
:: تو سعید رحمۃُ اللہ علیہ نے جواب دِیا :
:: لَا وَلَکِن یُعَذِّبُکَ اللہ بِخِلَافِ السُّنَّۃِ '
'' نہیں لیکن تمہیں سُنّت کی خِلاف ورزی پر عذاب دے گا ''' :
:: سنن البیہقی الکبریٰ / حدیث٤٢٣٤ /کتاب الصلاۃ /باب ٥٩٣ من لم یصل بعد الفجر الا رکعتی الفجر ثم بادر بالفرض ، کی آخری روایت ، اِمام الالبانی نے "اِرواء الغلیل جلد 2 ، صفحہ 234 " میں اِس رواہت کو صحیح قرار دِیا ،
قارئین کرام ، یہ میرا نہیں ، دو چار سو سال پہلے بنے ہوئے کسی """ فرقے """ کا نہیں ، ایک تابعی کا فتویٰ ہے ، اِس پر غور فرمائیے ، اور بار بار فرمائیے۔

خلاصہ کلام یہ کہ نیک نیتی سے کیا گیا ہر کام قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مہرتصدیق ثبت نہ ہو۔ اور نیک نیتی اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب عمل بذات خود درست ہو۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 14-08-09 at 01:16 AM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1802
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (28-02-12), skjatala (29-02-12), نورالدین (16-02-10), مرزا عامر (10-03-11), آصف وسیم (17-09-10), ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11), سحر (23-07-09), شکاری (28-02-12), شمشاد احمد (06-03-11), عبداللہ آدم (10-03-11)
پرانا 22-07-09, 04:45 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
“جس نے کوئی بھی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا ۔ ۔ ۔نہیں ہے تووہ رد ہے۔
مکمل حدیث اور معتبر حوالہ عنایت کردیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11), عبداللہ حیدر (22-07-09)
پرانا 22-07-09, 05:12 PM   #3
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مکمل حدیث اور معتبر حوالہ عنایت کردیں
شکریہ فیصل چچا۔ حوالے کا اضافہ کر دیا ہے اور آن لائن لنک بھی دے دیا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-07-09), نورالدین (16-02-10), ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11)
پرانا 22-07-09, 05:32 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ بھتیجے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11), عبداللہ حیدر (22-07-09)
پرانا 22-07-09, 10:31 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مکمل حدیث اور معتبر حوالہ عنایت کردیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ ،
فیصل بھائی بھتیجے نے حوالہ مہیا کر دیا ہے ، جزاہ اللہ خیرا ،
اس حدیث پاک کا متن میں مہیا کیے دیتا ہوں ،
((((( مَن عَمِلَ عَمِلاً لیس علیہِ أمرُنا فھو ردٌ ::: جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ کام مردود ہے ))))) صحیح مسلم ، حدیث ١٧١٨
اس موضوع پر اور بھی ایسی احادیث موجود ہیں جو ہر شک اور شبہے کو دور کرتی ہیں لیکن جس کے لیے اللہ چاہے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (06-03-11), skjatala (29-02-12), فیصل ناصر (23-07-09), نورالدین (16-02-10), ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11), سحر (23-07-09), عبداللہ حیدر (22-07-09)
پرانا 06-03-11, 02:26 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ عبد اللہ بھائی ۔۔۔۔ ہم آپ کے تھریڈ میں‌ کچھ اضافہ کرنا چاہیں گے

اکثر لوگ بدعتوں کے جواز میں ایک حدیث پاک پیش فرماتے ہیں:
"جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اسکو خود بھی ثواب ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کا ثواب بھی اسکو ملتا رہے گا اور جس نے دین میں برا طریقہ نکالا تو اسکو نہ صرف اسکا گناہ بلکہ جو بعد میں اس (برے) عمل کو کرے گا اسکا بھی گناہ اسے ملے گا"(مسلم شریف کتاب الزکوۃ، ابن ماجہ، مشکوۃ شریف باب العلم ص 33

اس حدیث پاک سے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھا طریقہ ایجاد کرنے پر ثواب ہے اور یہی بدعت حسنہ ہے

بدعتوں کے جواز میں لوگوں کا اس حدیث سے استدلال غلط ہے :

اول اس لئے کہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت (دیکھیئے مشکوۃ جلد 1 ص 30)
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت (ملاحظہ ہو ہامش مشکوۃ ج 1 ص 30)
اور حضرت غضیف بن الحارث رضی اللہ عنہ کی روایت (دیکھیے مشکوۃ ج 1 ص 31)کی روایتوں میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’من تمسک بسنتی‘‘یعنی جس نے میری سنت سے تمسک کیا اور مضبوطی سے اس کو پکڑا .اور فرمایا کہ ’’من فتمسک بسنتہ خیر‘‘الخ یعنی میری سنت سے تمسک کرنا بہتر ہے .

ان روایات سے معلوم ہوا کہ امتی کا کام سنت پر چلنا ہے اس سے تمسک کرنا ہے .سنت جاری کرنا امتی کا کام نہیں .


رہا حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور خیرالقرون کا معاملہ وہ اس بحث سے خارج ہیں

ملاحظہ فرمائیں:
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے بعد زندہ رہا وہ بہت ہی زیادہ اختلاف دیکھے گا .سو تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے خلفاءراشدین کی سنت کو جو ہدایت یافتہ ہیں مضبوط پکڑو اور اپنی ڈاڑھوں اور کچلیوں سے محکم طور پر اس کو قابو میں رکھو اور تم نئی نئی چیزوں سے بچو ،کیوں کہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ‘‘
(ترمذی ج 2 ص 92 )(ابن ماجہ ص 5)(ابو داود ج 2 ص279)(مسند دارمی ص26)(مسند احمد ج 4 ص 27)(مستدرک ج 1 ص 95)

ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
اہل سنت والجماعت یہ فرماتے ہیں کہ جو قول اور فعل جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہوں تو اس کا کرنا بدعت ہے کیوں کہ اگر وہ ام اچھا ہوتا تو ضرور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہم سے پہلے اس کام کو کرتے .اس لئے انہوں نے نیکی کے کسی پہلو اور کسی نیک اور عمدہ خصلت کو تشنہ عمل نہیں چھوڑا بلکہ وہ ہر کام میں گوئے سبقت لے گئے ہیں ‘‘(تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 156)

اور خیر القرون کا تعامل بھی حجت ہے

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین کرام اور تبع تابعین کرام کی اکثریت کا کسی کام کو بلا نکیر کرنا یا چھوڑنا بھی حجت شرعی ہے اور ہمیں ان کی پیروی ضروری ہے .اس کے ثبوت میں بھی متعدد حدیثین موجود ہیں

ہم اختصار کے ساتھ دواحادیث پیش کررہے ہیں

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفی 32 ھ)سے روایت ہے :
حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہترین لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں پھر ان کے بعد والے اور پھر ان کے بعد والے پھر ایسی قومیں آئیں گی جن کی شہادتیں قسم سے اور قسم شہادت اور گواہی سے سبقت کرے گی‘‘
(بخاری ج 1 ص 362) (مسلم ج 2 ص 309)

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :
حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں اپنے صحابہ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں (کہ اُن کے نقش قدم پر چلنا)پھر ان کے بارے میں جو ان سے ملتے ہیں پھر اُن کے بارے میں جو ان سے ملتے ہیں پھر جھوٹ عام ہوجائے گا کہ آدمی بلا قسم دیئے بھی قسم اٹھائیں گے اور بلا گواہی طلب کئے بھی گواہی دیں گے سو جو شخص جنت کے وسط میں داخل ہونا چاہتا ہے تو وہ اس جماعت کا ساتھ نہ چھوڑے ‘‘(مسند ابو داود طیالسی ص 7 )(مستدرک ج 1 ص114)قال الحاکم والذھبی علیٰ شرطھما،مثلہ فی المشکوۃ ج 2 ص 554 )وفی المرقات راوہ نسائی و اسناد صحیح و موارد الظمآن ص 56

ان صحیح روایات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خیر القرون کے بعد جو لوگ پیدا ہوں گے ،اُن میں دین کی وہ قدر و عظمت نہ ہوگی جو خیر القرون میں تھی .جھوٹ ان بعد میں آنے والوں میں بکثرت رائج ہوجائے گا .بات بات پر بلا طلب کئے قسم اٹھاتے پھریں گے اور بے تحاشہ گواہی دیں گے .

اور لوگوں کے اس غلط استدلال کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اسی روایت میں ’’من سن فی الاسلام ‘‘کے بجائے یہ الفاظ بھی آئے ہیں ’’ایما داع الیٰ ھدیٰ ‘‘کہ جس داعی نے ہدایت کی طرف دعوت دی (مسلم ج 2 ص 341))(ابن ماجہ ص 19 )(مجمع الزوائد ج 1 ص 16

اسی روایت کے دوسرے طریق پر ہے :
’’جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہوچکی تھی‘‘(ابن ماجہ ص 19)(ترمذی ج 2 ص 92)(مشکوۃ ج 1 ص 30)

ایک روایت میں یوں آتا ہے :
’’جس نے میری سنتوں میں سے کوئی سنت زندہ کی کہ لوگ اس پر عمل پیرا ہوئے ‘‘(ابن ماجہ ص 19)

نیز فرمایا :
کہ جو شخص کسی اچھے راستے پر چلا ‘‘(ابن ماجہ ص 19)

ایک روایت میں ہے :
’’جس نے کوئی علم سیکھایا تو اس کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا عمل کرنے والے کو اس کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی ‘‘(ابن ماجہ ص 21)

ان روایات سے لوگوں کی طرف سے بدعت کے جواز میں پیش کی گئی اس مجمل روایت کی تفصیل اور تشریح ہوجاتی ہے کہ سنت اور طریقہ کا جاری کرنا مراد نہیں بلکہ اس کی طرف دعوت دینا ،اس کی تعلیم دینا ،کسی سنت کو زندہ کرنا ،اور اس پر خود بھی عمل کرنا اور لوگوں کو بھی عمل کی تلقلین کرنا مراد ہے .

اس سے یہ مطلب سمجھنا اور مراد لینا کہ از خود کوئی طریقہ جاری کرنا یقینا غلط ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے. آمین
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (06-03-11), skjatala (29-02-12), ارشد کمبوہ (09-03-11), حیدر (09-03-11)
پرانا 09-03-11, 08:14 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

بدعتوں کے جواز میں اہل بدعت کی دوسری دلیل اور اس کی وضاحت

اہل بدعت ہر قسم کی بدعات کے جواز پر ایک حدیث پیش کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔جس کو مفتی احمد یار نعیمی صاحب نے بھی نقل کیا ہے ۔۔۔۔چناچہ وہ لکھتے ہیں :
وقال علیہ السلام ماراہ المسلمون حسناً فھو عند اللہ حسن“(جاءالحق ص 301)
یعنی جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہے “

اس روایت کو سامنے رکھ کو وہ جملہ بدعات کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان ان کو اچھا سمجھتے ہیں ،لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہی ہوں گی ،اور اچھے کا م پر نہ تو گرفت ہوتی ہے اور نہ گناہ ۔

اس روایت کے متعلق چند ضروری ابحاث ہیں جن کو سمجھنا نہایت ہی اہم ہے ۔
اول :
اگر چہ بعض حضرات فقہائے کرام نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے لیکن یہ روایت مرفوع نہیں ہے بلکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے ۔چناچہ جمال الدین الزیلعی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 167 ھ) لکھتے ہیں :
”میں نے اس روایت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہی پایا ہے “
(نصب الرا یہ ج 4 ص133)

اور مشہور محدث علامہ الامام صلاح الدین ابو سعیدی العلائی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 741 ھ) فرماتے ہیں :
”مین نے اس روایت کو باوجود طویل بحث و تمحیص اور زیادہ کھوج اور سوال کے حدیث کی کسی کتاب میں کسی ضعیف سند کے ساتھ بھی مرفوع نہیں پایا ،بلکہ یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو موقوف قول ہے “(بحوالہ فتح الملہم ج 2 ص 409)

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابی کا قول خصوصاً حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے بارگاہ نبوت میں معتمد علیہ کا ،اپنے مقام پر ایک وزنی دلیل ہے ۔مگر اصول حدیث کی رو سے مرفوع اور موقوف کا جو فرق ہے وہ بھی نظر انداز کنے کے قابل نہیں ہے ۔جو حیثیت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث کی ہے وہ یقینا کسی صحابی کے قول کی نہیں ہے ،اگر چہ وہ صحیح بھی ہو ۔حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس موقوف قول کو پیش کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :”اس کی سند صحیح ہے “

دوم:
اصل بحث یہ ہے کہ ”المسلمون“سے کون سے مسلمان مراد ہیں ؟
اگر ”الف“اور ”لام“اس میں جنس کے لئے ہو تو لازم آئے گا کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے تہتر فرقے سب کے سب ناجی ہوجائیں کیوں کہ ہر ایک فرقہ ازراہ تدین اپنے معمول کو حسن ہی سمجھتا ہے اور یہ ”ماانا علیہ واصحابی“ حدیث کے خلاف ہے

اور اگر ”المسلمون“ میں ”الف “اور ”لام“سے استغراق مراد ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس چیز کو تمام مسلمان اچھا سمجھیں وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہی ہوگی ۔تو اس سے ”اجماع اُمت“مراد ہوگی ۔۔۔اور ”اجماع“ کے حسن ہونے میں کیا شک ہے ؟

اور اگر ”المسلمون“ میں ”الف “ اور ”لام“ سے عہد خارجی (علماءاصول کا یہ مسلک ہے کہ اصل الف لام میں عہد خارجی ہے ۔تلویح ص 147 اور ص 160وغیرہ )مراد ہو تو اس سے مسلمانوں کا ایک مخصوص طبقہ مراد ہوگا کہ مسلمانوں کا وہ گروہ اور طبقہ جس چیز کو اچھا سمجھے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھی ہوگی ۔۔۔اور مسلمانوں کا وہ گروہ اولین درجہ پر بفحوائے حدیث ”ماانا علیہ واصحابی“صرف حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا گروہ ہی ہوسکتا ہے۔۔۔ اور یہی بات صحیح ہے کہ جس چیز کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پسند کریں وہ اچھی ہوگی ۔

اگر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت اور ان سے مروی دیگر روایات کو سرسری نظر سے دیکھ لیا جائے تو ”المسلمون“سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا گروہ ہی متعین ہوجاتا ہے ۔
چناچہ امام ابو داود طیالسی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 204 ھ) نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے :
”اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں پر نظر کی تو حضرت محمد صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے علم کے بموجب رسالت کے لئے چنا اور انتخاب فرمایا ۔پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں کے دلوں کو دیکھا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو انتخاب فرمایا اور ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا ۔سو جس چیز کو وہ مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی ہوگی اور جس چیز کو وہ برا سمجھیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بری ہوگی “(طیالسی ص 33)
(کم و بیش یہی الفاظ مسند احمد میں بھی مروی ہیں ۔الزیلعی ج 4 ص 133 والدرایہ ص 306)

اور امام ابو عبد اللہ الحاکم رحمتہ اللہ علیہ ( المتوفی 405 ھ)صحیح سند کے ساتھ ( جس کی تصحیح پر امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ ذھبی رحمتہ اللہ علیہ دونوں متفق ہیں) اس روایت کو ان الفاظ سے نقل کرتے ہیں :
”جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ چیز اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اچھی ہی ہوگی اور جس چیز کو مسلمان برا سمجھیں وہ وہ عند اللہ بھی بری ہی ہوگی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا اور ان کی خلافت کو اچھا سمجھا ،لہٰذا ان کی خلافت عند اللہ بھی اچھی ہی ہوگی “
(المستدرک حاکم ج 3 ص 7

ان روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک ”المسلمون“کے لفظ سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہی کی طرف اشارہ ہے ،بلکہ تصریح فرماتے ہیں کہ ”المسلمون“سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا پاک گروہ ہی مراد ہے ۔
یہی نہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ”المسلمون“سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہی مراد لیتے ہیں بلکہ اُمت کو تاکید فرماتے ہیں کہ وہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلیں اور ان کی خلاف ورزی نہ کریں ۔کیوں کہ ان کی اتباع ہی میں فلاح ہے ۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص سنت پر چلنا چاہتا ہے وہ وہ ان بزرگوں کے قدم پر چلے جو فوت ہوچکے ہیں کیوں کہ زندہ کبھی فتنہ سے مامون نہیں ہوسکتا ۔وہ لوگ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس اُمت کے نہایت افضل لوگ ہیں اور نہایت بھلے قلوب والے اورر نہایت گہرے علم والے اور نہایت کم تکلف اور کم بناوٹ والے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کے قائم کرنے کے لئے انتخاب کیا تھا ۔ان کی فضیلتوں کو پہچانواور ان کے نقش وقدم پر چلو اور جس قدر ہوسکے اپن کے اخلاق اور سیرت کو مشعل راہ بناﺅ کیوں کہ وہ لوگ ہدایت مستقیمہ پر تھے “(رواہ رزین مشکوة ج 1 ص32)

اس روایت سے نہایت صراحت اور وضاحت سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک ”المسلمون“کا مصداق صرف ”اولٰئک اصحٰب محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم “ہی تھے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے” مااناعلیہ واصحابی “سے تعبیر فرمایا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اتباع کی تاکید فرمائی اور اس کے خلاف ابتداع کی مذمت کی ہے :
”ہمارے نقش قدم کی پیروی کرو اور اپنی طرف سے بدعتیں مت ایجاد کرو کیوں کہ (دین مکمل ہوچکا ہے اور) تم کفایت کئے گئے ہو“(الااعتصام ج 1 ص 54)

اور دوسری طرف حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سختی سے ان لوگوں کی تردید کی اور ان کو مسجد سے نکال دیا جنہوں نے مل کر بلند آواز سے ذکرکرنے کو پسند کیا تھا ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اُن کا گذر مسجد میں ذاکرین کی ایک جماعت پر ہوا ،جس میں ایک شخص کہتا تھا ۔سو مرتبہ اللہ اکبر پڑھو تو حلقہ نشین لوگ کنکریوں پر سو مرتبہ تکبیر کہتے ۔پھر وہ کہتا سو مرتبہ ”لاالہ الااللہ“پڑھو تو وہ سو بار تہلیل پڑھتے
۔پھر وہ کہتا سو مرتبہ” سبحان اللہ “ کہو،تو وہ سنگریزوں پر سو دفعہ تسبیح پڑھتے ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم ان سنگریزوں اور کنکریوں پر کیا پڑھتے تھے؟ وہ کہنے لگے ہم تکبیر ،تہلیل و تسبیح پڑھتے رہے ہیں ۔آپ نے فرمایا :
فقال فعدو ا من سیئا تکم فانا ضا من ان لا یضیع من حسنا تکم شئی ویحکم یا امتہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم مااسرع ھلکتم ھٰولاءصحابة بینکم متوافرون وھٰذا ثیا بہ لم تبل واٰ نیتہ لم تکسر (الیٰ ان قال) او مفتحی باب ضلالة“(مسند دارمی ص 38 قلت بسند صحیح )
یعنی تم ان کنکریوں پر اپنے گناہ شمار کیا کرو ،میں اس کا ضامن ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہ ہوگا ۔تعجب ہے تم پر اے اُمت محمدصلیٰ اللہ علیہ وسلم ،کیا ہی جلدی تم ہلاکت میں پڑ گئے ہو ۔ابھی تک حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تم میں بکثرت موجود ہیں ،اور ابھی تک جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اور ابھی تک آپ کے برتن نہیں ٹوٹے (آگے فرمایا ) اندریں حالات تم بدعت اور گمراہی کا دروازہ کھولتے ہو ۔

غورفرمائیں کہ اُن لوگوں کا یہ فعل جو بظاہر اچھا تھا بلکہ اُن مسلمانوں کو بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔۔لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن کے اس فعل کو ”ماراہ المسلمون حسناً“ کے تحت حسن اور اچھا نہ سمجھا کیوں کہ ان لوگوں کا یہ طریقہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے طریقہ کے خلاف تھا ۔


محترم قارئین کرام

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی اہل بدعت کے غلط استدلال کی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے


اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاءفرمائے ۔آمین

ماخوذ : راہ سنت
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-02-12), ارشد کمبوہ (09-03-11), عبداللہ آدم (10-03-11), عبداللہ حیدر (09-03-11)
پرانا 09-03-11, 09:44 PM   #8
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,791
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمتہ اللہ
جزاک اللہ خیرا
ارشد کمبوہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
حیدر (09-03-11), عبداللہ آدم (10-03-11)
پرانا 28-02-12, 06:33 PM   #9
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 30
کمائي: 638
شکریہ: 0
22 مراسلہ میں 62 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے بھائی یہی بات ہے تو جشن دارالعلوم دیو بند کہاں جائے گا؟قرآن پا ک کو اس چھاپنا یہ کہاں جائے گا ؟
مفتی محمد یاسر قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
مفتی محمد یاسر قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
arabic, color, com, search, فورمز, پاک, پاکستان, نماز, مکمل, محبت, مسجد, معلوم, آدمی, اللہ, بھائی, ترک, جھوٹ, جواب, جلد, حدیث, سال, عبادت, صفحہ, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مسلم قومیت کی بدعت عبداللہ آدم متفرقات 4 20-10-11 07:29 PM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 05:51 PM
9اپر یل کا سانحہ آمر یت کے تحفظ کی گھناؤنی سازش ہے ،جماعت اسلامی کے تحت کا عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:37 AM
انتخابات 2008 حکومتی مشینری کسی جماعت کیلئے استعمال نہ کی جائے،صدر پر ویز کی گور نر وں اور وزرائے اعلیٰ کو ہدایت عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 11:45 AM
نواز بینظیر ملاقاتوں سے کوئی فر ق نہیں پڑ تا،منشور مطالبات کا حشر میثاق جمہوریت سے بد تر ہو گا،شجاعت خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:02 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger