واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ھذا صراط علی مستقیم

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-07-11, 06:27 PM   #1
ھذا صراط علی مستقیم
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 25-07-11, 06:27 PM

اگر میں کبھی آل محمد علیہ سلام کی تعریف میں کچھ نیا کہہ دوں تو فورا پکڑ ہوجاتی ہے. یعنی ایک جملہ جو بہت عام ہے اور اس کے کہنے اور سننے میں شائد ہی کوئی کبھی پکڑا گیا ہو اس پر بھی میں پکڑا گیا . آپ نے یقینا سنا ہوگا کہ رسول اللہ ص کا راستہ سیدھا ہے.
آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے ..اور اگر کبھی مولائی سے پوچھا ہوگا تو وہ فورا بولا ہوگا کہ ’’علی حق‘‘ ،اگر کسی اہل تشیع سے پوچھا ہوگا تو یہ سنا ہوگا کہ ’’علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے‘‘، اگر پوچھنے والا مخالف ہوگا تو وہ بھی فورا کہے گا:- کہ بیٹا/ میرے بھائی صرف علی ہی کیا سارے آصحاب اکرم رض کا راستہ سیدھا ہے.
یعنی کوئی مضائقہ نہی تھا اس جملہ میں کہ اگر میں یہ کہتا کہ آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے مگر چونکہ علی کا راستہ سیدھا کہا تھا اس لیے کچھ حضرات برا مان گئے .جس سے مجھے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ وہ محبت اہلبیت ع میں زبانی جمع خرچ کرے ہیں کیونکہ اگر مولا علی کو نفس رسول ص اور ان کا بھائی نہ بھی مانتا ہوتا اور صرف اور صرف آصحاب نبی رض میں ہی شمار کیا ہوتا اور مانتا تو یہ نہ کہتا جو کہا .....بس پھر کچھ لوگ بنا سوچے سمجھے غلو غلو چلانے لگے. تو سوچا کہ کچھ لکھ ہی دوں تاکہ لوگوں کو کم از کم کچھ سوالوں کا تو جواب مل جائیں.

اہدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 1:6 ہمیں سیدھا راستہ دکھا
سورہ الحمد کی اس آیت میں اللہ نے مومنین سے حالت نماز میں بھی اس طرح دعا کروائی ہے یعنی اللہ کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب مدد کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کا بندے سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ کی دعا کرئے جن پر انعام بھی ہوا ہو۔

ایک راز . .. . .
بس جو لوگ الحمد شریف پڑھنے کے بعد ’’آمین‘‘ کہتے ہیں وہ درآصل صراط مستقیم کے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دکھا دے یعنی ابھی تک دکھی نہی ہے. اور جو لوگ ’’الحمدللہ رب العاالمین‘‘ کہتے ہیں یعنی اللہ کا شکر وہ لوگ کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ صراط مستقیم نہ صرف دیکھائی ہے بلکہ اس پر لے بھی آیا ہے.

رسول خدا ص نے فرمایا: علی حق کےساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے اور یہ بھی کہ قران اور اہلبیت ع حوض کوثر تک ساتھ ساتھ پہچ جائیں گئے. اور یہ بھی کہ میرے ص اہلبیت کی مثال کشتی نوح کی مثال ہے....وغیرہ وغیر
مولا علی ع نے فرمایا : امام ضلالت کی تاریکیوں میں درخشاں چراغ ہے۔اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور سیراب کرنے والا پانی اور موجزن سمندر ہے۔ وہی روشن چاند اور علوم معارف سے بھرا ہوا تالاب ہے۔ وہی صراط الہٰی ہے.
امام زین العابدین ع نے فرمایا لوگو :خدا نے ہم(آل اہلبیت ع) کوپانچ فضیلت بخشی ہیں :
۱ ۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ص ہیں۔
۲ ۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔
۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیزہے ،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات کریں۔
۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کامرکزہیں اوراس کے لیے علم کاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیاکے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔
۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلندہیں ،اگرہم نہ ہوتے توخدادنیاکوپیداہی نہ کرتا،ہرفخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت ) سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔


انبیا ع اور رسول اکرم ص کے ساتھ ساتھ یہ قران بھی سیدھا راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے.
وَإِنَّكَ لَتَدْعُوہمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور بیشک آپ تو (انہی کے بھلے کے لئے) انہیں سیدھی راہ (الی صراط مستقیم) کی طرف بلاتے ہیں 23:73

إِنَّ ہـذَا الْقُرْآنَ يَہدِي لِلَّتِي ہيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہمْ أَجْرًا كَبِيرًا 17:09
بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
ایک نبی ص کے عہدے پر رہتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ کی طرف سے یہ حکم ہے کہ لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف ھدایت دیں .بس کتنی ہی آیات و آحادیث نے مولا علی ع کی طرف رہنمائی کروائی کیا غدیر میں یہ کہنا کم ہے کہ جس جس کا میں ص مولا ہوں اس اس کا علی ع مولا ہیں
.
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم صراط مستقیم پر ہیں : (عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)اس سے پہلے کہ ہم یہ دیکھیں کہ صراط مستقیم کون ہے یا کہاں ہے پہلے ہم یہ دیکھتے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہ رسول خدا ص کہاں ہیں کیا ایک نبی ص ہونے کی حیثیت سے وہ صراط مستقیم کے اوپر ہیں یا خود صراط مستقیم ہیں اور یہ بھی کہ انبیا علیہ سلام کی زمہ داری تھی کہ لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف لے جائیں یا کچھ اور ....بس پھر ہمیں صراط مستقیم کی اہمت کا اندازہوگا .
سورہ یاسین میں اللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمارہا ہے کہ
إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں

عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ۔۔۔۔۔۔۔سیدھی راہ پر/سیدھے راستے پر ہو//On a right way.
Upon a straight path
.

قران پاک میں ایک اور جگہ اللہ کا فرمان ہے کہ
فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
پس آپ اس (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رکھیئے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، بیشک آپ(عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ) سیدھی راہ پر ہیں.

اللہ بھی صراط مستقیم پر ہے. ( اللہ کا یہ کہنا مثال ہے رسول اللہ ص کی وجہ سے)
إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّہ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّہ إِلاَّ ہوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِہا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 11:56
میں اللہ پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے، بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا پروردگار (عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ) سیدھے رستے پر ہے

صِرَاطِ اللَّہ الَّذِي لَہ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّہ تَصِيرُ الْأُمُورُ 42:53
اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں

یہ ترجمہ اس وجہ سے صحیح ہے کہ اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صراط مستقیم پر ہونے کو خود کے لیے صراط پر ہونے کا لفظ استعمال کیا ورنہ اللہ کسی راستے پر نہی چلتا ۔ بس جس طرح اللہ کے ہاتھ نہی ہیں مگر رسول خدا ص کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا .کہ اے رسول ص یہ تمھارا ہاتھ نہی بلکہ میرا ہاتھ ہے بلکل اسی طرح یہاں بھی مثال دی گئی ہے۔
اہلسنت ولجاعت اس آیت سے بھی یہی مراد لیتے ہیں کہ اللہ صراط مستقیم پر ہے مگر زرا دوسرے طریقے سے۔

مومنین بھی صراط مستقیم پر ہیں.(عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ)
وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَن يَشَإِ اللّہ يُضْلِلْہ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْہ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 6:39
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں (بھٹک رہے) ہیں۔ اﷲ جسے چاہتا ہے اسے (انکارِ حق اور ضد کے باعث) گمراہ کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اسے (قبولِ حق کے باعث) سیدھی راہ (عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ) پر لگا دیتا ہے/ پر چلاتا ہے

وَضَرَبَ اللّہ مَثَلاً رَّجُلَيْنِ أَحَدُہمَا أَبْكَمُ لاَ يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلاَهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لاَ يَأْتِ بِخَيْرٍ ہيَسْتَوِي ہو وَمَن يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور بتائی اللہ نے ایک دوسری مثال دو مرد ہیں ایک گونگا کچھ کام نہیں کر سکتا اور وہ بھاری ہے اپنے صاحب (مالک) پر جس طرف اسکو بھیجے نہ کر کے لائے کچھ بھلائی کہیں برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو حکم کرتا ہے انصاف سے اور ہے (عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ) سیدھی راہ پر 16؛76

مومنین کو گمراہ کرنے اور انھیں روکنے کے لیے شیطان بھی صراط مستقیم پر بیٹھ گیا ہے اور کہتا ہے کہ میں صراط مستقیم پر چند لوگوں کے سوا ہر ایک کو بہکاونگا .
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَہمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ 7:16
اس (ابلیس) نے کہا: پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے (مجھے قَسم ہے کہ) میں (بھی) ان (افرادِ بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لئے تیری سیدھی راہ (صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ) پر ضرور بیٹھوں گا (تآنکہ انہیں راہِ حق سے ہٹا دوں)

ایک سوال : جس راستے پر اللہ تعالی خود ہے اور رسول خدا ص ہیں مومنین ہیں اور شیطان خود بھی بیٹھ گیا ہے یہ کہہ کر کہ میں کسی کو اگے بڑھنے نہی دونگا جو راستہ اللہ اور رسول اللہ ص اور مومنین کے نیچے ہے. وہ راستہ اللہ کے اوپر کس طرح ہوسکتا ہے.??

قَالَ ہذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 15:41
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ راستہ مجھ پر سیدھا ہے

جس صراط/ راستہ پر چلا جاتا ہے وہ راستہ خدا سے اوپر کیسے ہوسکتا ہے بس چلنے والہ اللہ سے اوپر نہی چل سکتااور یہ بھی باطل اور غلط ہے. پس سیدھی راہ وہی ہے جس پر رسول خدا ص ہیں اور مومنین ہیں اور خدا سے اوپر کوئی شے نہی ہے ھو فوق کل شئی .. وہ ہر شے سے اوپر ہے بس خدا سے اورپر تلفظ اعراب لگا کر علی سے عَلَيَّ سے ثابت کی گئی ہے وہ غلط ہے باطل ہے کیونکہ خدا سے اورپر کوئی شئے نہی ہے بس یہ دشمنی و بغض مولا علی میں ہی تسلیم کیا گیا ہے کہ اسم مقدس علی کو اعراب غلط دے کر عَلَيَّ بنایاگیا ہے جس سے خدا کی نافرمانی ثابت ہوتی ہے.

اگر اس کی تاویل یہ کی جائے کہ عَلَيَّ سے مراد اللہ کی طرف سیدھی راہ ہے تو اس کے لیے اول تو اس آیت کو متشابہات میں سے ثابت کیا جائے اور پھر جو اس کی تاویل کی جائے وہ رسول اکرم ص سے بیان کی جائے کیونکہ وہی راسخون فی العلم ہیں اور یہ بھی کہ خدا نے اپنی متشابہات آیات کی تاویل انہی کو سمجھائی ہے نہ کہ علمائے اسلام کو

دوسرے اگر ’’علی‘‘ سے مراد میری طرف ہوتا تو اس کی جگہ ’’الی‘‘ استعمال کیا جانا چاہیے تھا جسکا ترجمہ میری طرف ہوسکتا ہے.
یعنی ’’کی طرف‘‘ اور ’’ پر / اوپر‘‘ کے لیے قرآن پاک میں ایک دو جگہ نہی بلکہ بہت ہی زیادہ جگہ إِلَى اور عَلَى استعمال کیا گیا ہے.
پھر غور کریں...
یعنی تقریبا 16 جگہ قرآن پاک میں............ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور 5 بار استعمال کیا گیا ہے.................... عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور صرف ایک جگہ آیا ہے .......................صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ

بس خدا تک پہچنے کہ لیے صراط مستقیم پر چلانا ہوگا جس کے دوسرے سرے پر خدا ہوگا جس راستے پر انسان اور شیطان چلیں اور بیٹھ جائیں وہ راہ خدا سے اوپر کسی طور پر نہی سمجھی جاسکتی اور جو راستہ اللہ کے اوپر سے گزر جائے وہ تو کسی کے بھی سر کے اوپر سے گزر جائے گئی کہ بات سمجھ نہی آئی .

بس صراط مستقیم کہہ کر قران میں اللہ نے مولا علی کے لیے نص فرمائی ہے اور ان نصوص کو اعراب کی مدد سے شک پیدا کرنا یا انکار کرنا اور شبہ پیدا کرنا نفاق کی علامت ہے بس جس کہ ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہ دے گئ. صوائق محرقہ اور وینابیع مودت میں لکھا ہے کہ بس علی کی دوستی ہی وہ نیکی ہے جو لے کر ائے گا وہ کامیاب ہوگا. فرمان رسول ص ہے کہ اگر لوگ علی ع کی محبت پر ایک ہو جاتے تو اللہ جہنم خلق نہ کرتا..صوائق محرقہ اور وینابیع مودت اور مشکواہ شریف

پس علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے جو کہ سورہ الحمد سے بھی ثابت ہے ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا جن پر تو نے انعام کیا ہے بس درود وہ خاص انعام ہے جو کسی پر نہی ہوا صرف اور صرف حضرت محمد ص اور ان کی آل پاک پر ہوا . اس کے علاوہ بھی بہت کچھ انعام ہوا ہے مگر اس پر پھر کہیں بات کریں گئے.

لفظ ھذا ثابت کرتا ہے کہ اس وقت نورانی اجسام میں یہ پنجتن موجود تھے .اور جو لوگوں کو صراط مستقیم سے بٹھکائے درآصل وہ شیطان کا کام کرتا ہے .. بس مولا علی ع کے قدم کے نشان سے ہی صراط مستقیم بنا ہے

عالعین سے مراد بھی یہی مقدس نورانی اجسام ہیں جن پر اللہ کی طرف سے آدم ع کو سجدہ کا حکم نہ تھا العالین پر بعد میں پھر کبھی بات کریں گئے

پس لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اللہ کی توہین کرتے ہیں صرف اس لیے کہ مولا علی ع کو اللہ نے صراط مستقیم کہا ہے تو اس بات کا انکار کرنے کے لیے آیت کے ترجمہ میں صراط مستقیم کو اللہ کے اوپر قرار دیتے ہیں جو کہ باطل عقیدہ ہے جبکہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ اور رسول اکرم ص ، مومنین صراط مستقیم پر ہیں اور شیطان بھی راہ سے بھٹکانے کے لیے صراط مستقیم پر بیٹھ گیا ہے. بس اس بات سے لوگوں کی نیتوں کا بھی پتا چلتا ہے کہ لوگ کہتے یہی ہیں کہ محمد ص و آل محمد ع ہی کا راستہ سیدھا ہے مگر دل سے نہی مانتے.

اگر بغیر اعراب کے پڑھا جائےتو بات صاف ظاہر ہے . . .
قَالَ ہذَا صِرَاطٌ علی مُسْتَقِيمٌ .15:41
(اللہ نے فرمایا) یہ علی کا راستہ سیدھا ہے.


یہ بھی یاد رکھیں کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی راستہ ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم صرف ایک ہی ہوسکتا ہے جو نزدیک ترین راستے کو تشکیل دیتا ہے۔

بس یہی صراط وسیلہ بھی ہے جس کے ڈھنڈنے کے لیے اللہ نے حکم دیا ہے. کہ اللہ تک پہچنے کا وسیلہ تلاش کرو. . ..

اللہ نے حرف مقطعات کو جو قرآن پاک میں مختلف سورتوں کا شروع میں نازل کیے ہیں اگر سب کو جمع کیا جائے اور تمام مکررات کو الگ کردیا جائے تو چودہ حرف مفردات برآمد ہونگے .جو سورتوں کے قبل حروف مقطعات نازل ہوئے ہیں وہ یہ ہیں.

الم 6 ، سورتوں کے ساتھ الرا5، المص 1، المرا 1، کھیعص 1،طہ 1، طسم 2، طس 1، یس 1، ص 1،
حم 7،سورتوں کے ساتھ ق 1، ن 1، اور حمعسق 1، ایک سورت کے ساتھ ، کل اسی حروف ہوئے.

جن میں13 الف ،13 ل ، 18م، 3ص اور 6ر اور 1ک اور 2ہ اور 2ی اور 2ع اور 4ط ، 5س، 8ح اور 2ق اور 1ن ہے .

مکررات کو ایک طرف کریں . . .
ا ل م ص ر ک ہ ی ع ط س ح ق ن ....یہ حرف چودہ 14 بنے گئے (رسول خدا ص اور جناب فاطمہ س کے ساتھ 12 امام) .
جب ان کو لکھ کر ایک جملہ بنائیں تو فقط ایک ہی جملہ بنتا ہے.
صراط علی حق نمسکہ. بس علی ہی سیدھا راستہ ہیں جسے ہم نے اختیار کیا ہے.


امام صادق (ع) کا ارشاد اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یوں ہے :
الطریق و معرفہ الامام ۔.......... اس سے مراد امام کا راستہ اور اس کی معرفت ہے.
مختلف اور جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ :
واللہ نحن صراط المستقیم۔...... بخدا ہم صراط مستقیم ہیں . ایک جگہ فرماتے ہیں صراط مستقیم امیرالمومنین علی(ع) ہیں.
یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ اس سے مراد امام معصوم ہے.
اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

Last edited by حیدر Rehan; 01-08-11 at 12:41 PM..

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1300
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
پیارا (26-07-11), شمشاد احمد (27-07-11)
پرانا 25-07-11, 10:07 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,471
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,507 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلا شبہ علی رضی اللہ عنہ کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے

حضرت ابوبکر کو سیدناعلی نے اپنا امام اورخلیفہ تسلیم کیا
حضرت عمر کو سیدناعلی نے اپنا امام اورخلیفہ تسلیم کیا
حضرت عثمان کو سیدناعلی نے اپنا امام اورخلیفہ تسلیم کیا

ان تینوں کو اپنا امام اور خلیفہ ماننا یہی علی رضی اللہ عنہ کا راستہ ہے اور اب فیصلہ آپ کر لیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے راستے پر کون ہے ان کو ماننے والا یا ان کو نعوذ بااللہ نعوذ بااللہ غاصب کہنے والا ۔۔۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

اس سے آگے چلیں ۔۔۔۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا سیدنا امیر معاویہ کو اپنا امام اور خلیفہ تسلیم کرنا یہ بتاتا ہے کہ یہی صراط مستقیم اور علی رضی اللہ عنہ کا راستہ ہے ۔۔

باقی آپ نے تحریف قرآن کی طرف جو اشارہ بلکہ واضح لکھا ہے اس کے لئیے اہل علم کی توجہ درکار ہے
نبیل خان آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-07-11), محمدمبشرعلی (26-07-11), احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (26-07-11), حیدر (26-07-11), حسن قادری (30-07-11), راجہ اکرام (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), عبداللہ آدم (26-07-11)
پرانا 25-07-11, 10:37 PM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یعنی کوئی مضائقہ نہی تھا اس جملہ میں کہ اگر میں یہ کہتا کہ آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے مگر چونکہ علی کا راستہ سیدھا کہا تھا اس لیے کچھ حضرات برا مان گئے .جس سے مجھے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ وہ محبت اہلبیت ع میں زبانی جمع خرچ کرے ہیں کیونکہ اگر مولا علی کو نفس رسول ص اور ان کا بھائی نہ بھی مانتا ہوتا اور صرف اور صرف آصحاب نبی رض میں ہی شمار کیا ہوتا اور مانتا تو یہ نہ کہتا جو کہا
بد گماني بري چيز ہے۔۔۔۔ كون زباني جمع خرچ كرتا ہے ۔۔۔ اور كون نہيں اس كا فيصلہ تو ہر سال دس محرم كو ہو ہي جاتا ہے ۔۔ كيوں كہ خالق كائنات ديكھ رہا ہوتا ہے كہ جس دن اس كے محبوب رسول عليہ السلام كا نواسہ بھوكا پياسا شہيد كر ديا گيا۔۔۔۔ اس دن كون روزے سے ہوتا ہے اور كون حليميں اور نان اڑا رہا ہوتا ہے؟
اس لئے ميں كہتا ہوں عشق سكھاؤ عشق كے طريقے مت سكھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضروري نہيں كہ آپ كے يا ميرے پسنديدہ طريقے كے مطابق ہي باقي سب بھي اظہار عشق كريں۔۔۔ قطعا ضروري نہيں۔۔۔ لہذا عشق پر بات كيجئے عشق كے اظہار كے‌طريقوں طبع آزمائي كا كوئي فائدہ نہيں۔۔

اقتباس:
،اگر کسی اہل تشیع سے پوچھا ہوگا تو یہ سنا ہوگا کہ ’’علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے
سياپا ہي سارا ۔۔۔‌ہي ۔۔۔۔‌اور۔۔۔ بھي۔۔۔ كا ہے۔۔
اس كو سمجھ جاؤ تو سياپا ہي مك گيا مگر وہ كيا ہے كہ جن كے‌چوہلے ہي ۔۔۔۔‌ہي۔۔۔۔‌اور ۔۔۔۔‌بھي ۔۔۔۔ كے فرق كو باقي ركھنے كي وجہ سے چلتے ہيں۔۔۔‌ان كا كيا كيا جائے۔
اقتباس:
آپ نے یقینا سنا ہوگا کہ رسول اللہ ص کا راستہ سیدھا ہے.
آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے ..اور اگر کبھی مولائی سے پوچھا ہوگا تو وہ فورا بولا ہوگا کہ ’’علی حق‘‘ ،اگر کسی اہل تشیع سے پوچھا ہوگا تو یہ سنا ہوگا کہ ’’علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے‘‘،
سني سنائي بات پر عقيدہ قائم نہيں كيا جاتا۔۔۔ عقيدہ كے‌لئے يقيني بات ہوني چاہے۔۔۔‌اور قرآن و سنت كے‌مطابق يقيني بات صرف يہي ہے كہ سيدھا راستہ صرف اللہ كا راستہ ہے اور جن حضرات كے راستوں كي تقسيم آپ نے بيان كي ہے وہ اصل ميں راستوں كو تقسيم كرنے‌والے نہيں اسي ايك اللہ كے راستے كي طرف بلانے‌والے ہيں۔۔۔۔ اب جو شخص ان كے راستوں كو تقسيم كرتا ہے ۔۔۔ تو اس ميں مجبوري اس كے چوہلے اور جہالت كي ہے۔۔۔
اللہ كے نبي نے تو ہميں يہ تعليم دي ہے‌كہ ہم سني سنائي بات آگے بلا تحقيق بيان نہ كريں ۔۔‌چہ جائے‌كہ اس پر عقيدہ قائم كر كے بيٹھ جائيں۔۔۔۔۔‌تو بہ۔

اقتباس:
بس پھر کچھ لوگ بنا سوچے سمجھے غلو غلو چلانے لگے. تو سوچا کہ کچھ لکھ ہی دوں تاکہ لوگوں کو کم از کم کچھ سوالوں کا تو جواب مل جائیں
اس كا بہت بہت شكريہ

اقتباس:
ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا ص رحمت العالمین ہیں بس جس جس نے رحمت العالمین کا دامن پکڑا اس اس نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت پائی. یعنی جس جس نے دل سے تسلیم کیا کہ رسول خدا ص ہمارے مولا و آقا ہیں وہی یہ بھی تسلیم کریں گئےکہ علی ع بھی ہمارے مولا ہیں یعنی جو حاصل ہوا وہ صراط مستقیم ہی ہے ...
يعني يہاں بھي مسئلہ۔۔۔۔‌بھي۔۔۔ اور ۔۔۔۔‌ہي كا ہے۔۔۔ يا نہيں۔ وضاحت فرما ديجئے‌گا۔۔

اقتباس:
ایک اور راز . .. . .
بس جو لوگ الحمد شریف پڑھنے کے بعد ’’آمین‘‘ کہتے ہیں وہ درآصل صراط مستقیم کے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دکھا دے یعنی ابھی تک دکھی نہی ہے. اور جو لوگ ’’الحمدللہ رب العاالمین‘‘ کہتے ہیں یعنی اللہ کا شکر وہ لوگ کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ صراط مستقیم نہ صرف دیکھائی ہے بلکہ اس پر لے بھی آیا ہے.
اس راز پر سے بھي پردہ نہيں اٹھ پايا۔۔۔۔‌كم از كم ميں‌تو نہ راز سمجھا نہ بات سمجھا ۔

اقتباس:
امام زین العابدین ع نے فرمایا لوگو :خدا نے ہم(آل اہلبیت ع) کوپانچ فضیلت بخشی ہیں :
۱ ۔ خدا کی قسم ہمارے ہی گھرمیں فرشتوں کی آمدورفت رہی اورہم ہی معدن نبوت ورسالت ص ہیں۔
۲ ۔ ہماری شان میں قرآن کی آیتیں نازل کیں، اورہم نے لوگوں کی ہدایت کی۔
۳ ۔ شجاعت ہمارے ہی گھرکی کنیزہے ،ہم کبھی کسی کی قوت وطاقت سے نہیں ڈرے اورفصاحت ہماراہی حصہ ہے، جب فصحاء فخرومباہات کریں۔
۴ ۔ ہم ہی صراط مستقیم اورہدایت کامرکزہیں اوراس کے لیے علم کاسرچشمہ ہیں جوعلم حاصل کرناچاہے اوردنیاکے مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ہے۔
۵ ۔ ہمارے ہی مرتبے آسمانوں اورزمینوں میں بلندہیں ،اگرہم نہ ہوتے توخدادنیاکوپیداہی نہ کرتا،ہرفخرہمارے فخرکے سامنے پست ہے، ہمارے دوست (روزقیامت ) سیروسیراب ہوں گے اورہمارے دشمن روزقیامت بدبختی میں ہوں گے۔
پھر وہي مسئلہ۔۔۔۔‌ہي۔۔۔۔‌اور ۔۔۔۔‌بھي۔۔۔۔۔ يہاں بھي كارفرما ہے۔۔۔
ويسے امام موصوف كے ارشادات عاليہ ميں سے نمبر ايك اور دو كے بارے ميں چند سوالات ہيں۔۔۔۔‌ليكن بعد ميں پھر كبھي ابھي دو دھاگوں ميں آپ كا انتظار كر رہا ہوں۔۔۔ وہي كافي ہيں۔

اقتباس:
انبیا ع اور رسول اکرم ص کے ساتھ ساتھ یہ قران بھی سیدھا راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے
پھر وہي مسئلہ۔۔۔۔‌ہي۔۔۔۔‌اور ۔۔۔۔‌بھي۔۔۔۔۔ يہاں بھي آپ نے لايا۔۔۔ويسے‌ايك مزيد راز سے بھي پردہ اٹھا ديں‌تو نوازش ہو گي كہ۔۔۔
آپ نے آئمہ كو ہي صراط مستقيم كا مصداق ٹھہرانے كے لئے آئمہ كے ہي اقوال پيش كئے خصوصا زين العابدين عليہ الرحمہ كے اقوال۔۔۔ جب كہ انبياء ، رسول اكرم صلي اللہ عليہ وسلم اور قرآن كے صراط مستقيم ہونے‌كے لئے آپ نے آيات كريمہ پيش كي ہيں۔۔۔۔ كيا قرآن ميں آئمہ كے صراط مستقيم ہونے كے حوالے سے‌كوئي صريح حكم موجود نہيں ہے۔۔
خود بدلتے نہيں قرآن كو بدل ديتے ہيں

اقتباس:
ایک سوال : جس راستے پر اللہ تعالی خود ہے اور رسول خدا ص ہیں مومنین ہیں اور شیطان خود بھی بیٹھ گیا ہے یہ کہہ کر کہ میں کسی کو اگے بڑھنے نہی دونگا جو راستہ اللہ اور رسول اللہ ص اور مومنین کے نیچے ہے. وہ راستہ اللہ کے اوپر کس طرح ہوسکتا ہے.??

قَالَ ہذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 15:41
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ راستہ مجھ پر سیدھا ہے
جس صراط/ راستہ پر چلا جاتا ہے وہ راستہ خدا سے اوپر کیسے ہوسکتا ہے بس چلنے والہ اللہ سے اوپر نہی چل سکتااور یہ بھی باطل اور غلط ہے. پس سیدھی راہ وہی ہے جس پر رسول خدا ص ہیں اور مومنین ہیں اور خدا سے اوپر کوئی شے نہی ہے ھو فوق کل شئی .. وہ ہر شے سے اوپر ہے بس خدا سے اورپر تلفظ اعراب لگا کر علی سے عَلَيَّ سے ثابت کی گئی ہے وہ غلط ہے باطل ہے کیونکہ خدا سے اورپر کوئی شئے نہی ہے بس یہ دشمنی و بغض مولا علی میں ہی تسلیم کیا گیا ہے کہ اسم مقدس علی کو اعراب غلط دے کر عَلَيَّ بنایاگیا ہے جس سے خدا کی نافرمانی ثابت ہوتی ہے.
حضرات توجہ فرمائيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہي۔۔۔۔‌اور بھي۔۔۔۔ كا فرق كس موڑ پر لے آيا كہ اپنے۔۔۔۔‌ہي۔۔۔‌كو ثابت كرنے كے لئے‌معاذ اللہ قرآن كريم تك كو غلط اور باطل قرار ديا جا رہا ہے۔۔۔ وہ بھي مومن بن كر بلكہ مومن كامل بن كر۔۔۔ تمام حضرات مذكورہ عبارت كو ايك بار پھر پڑہيں اور اس سوالات كے جوابات حل ديں۔
سوال نمبر 1۔۔۔۔ اعراب كي يہ تبديلي كس نے كي۔۔۔ يعني كس كے‌حكم سے‌كي گئي۔۔۔۔؟؟؟
اللہ كي حكم سے‌كي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں؟
رسول كے‌حكم سے‌كي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں۔
اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے اگر يہ تبديلي كي گئي ہے اور اس پر كسي كو اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے كہ اس كو كيا اعتراض ہے؟
سوال نمبر 2۔۔۔۔ اگر يہ تبديلي اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے نہيں كي گئي تو كس نے‌كي ہے؟
سوال نمبر 3۔۔۔ كيا قرآن كريم ميں صرف يہي ايك تحريف كي گئي ہے يا اور بھي ہيں۔
سوال نمبر4۔۔۔ اگر اور بھي ايسي تحريفات كي گئي ہيں وہ امت كو معلوم ہيں يا نہيں۔
سوال نمبر5۔۔۔ اگر معلوم ہيں تو كون كون سي آيات ميں كيا كيا تحريفات كي گئي ہيں۔۔
سوال نمبر6۔۔۔ اگر وہ تحريفات معلوم نہيں ہيں تو پھر تو ہر آيت اور ہر لفظ كے بارے‌ميں يہ شك پيدا ہو جائے‌گا كہ ممكن ہے يہ لفظ تحريف شدہ ہو۔۔۔ اس طرح قرآن پر سے اعتماد ہي اٹھ جائے‌گا۔
اقتباس:
اگر اس کی تاویل یہ کی جائے کہ عَلَيَّ سے مراد اللہ کی طرف سیدھی راہ ہے تو اس کے لیے اول تو اس آیت کو متشابہات میں سے ثابت کیا جائے اور پھر جو اس کی تاویل کی جائے وہ رسول اکرم ص سے بیان کی جائے کیونکہ وہی راسخون فی العلم ہیں اور یہ بھی کہ خدا نے اپنی متشابہات آیات کی تاویل انہی کو سمجھائی ہے نہ کہ علمائے اسلام کو
ايك بار پھر مسئلہ۔۔۔۔‌ہي۔۔۔‌اور ۔۔۔۔ بھي۔۔۔
اقتباس:
دوسرے اگر ’’علی‘‘ سے مراد میری طرف ہوتا تو اس کی جگہ ’’الی‘‘ استعمال کیا جانا چاہیے تھا جسکا ترجمہ میری طرف ہوسکتا ہے
گويا كہ موصوف كي عربي اللہ اور اس كے رسول سے بھي اچھي ہے۔۔۔۔

اقتباس:
بس صراط مستقیم کہہ کر قران میں اللہ نے مولا علی کے لیے نص فرمائی ہے اور ان نصوص کو اعراب کی مدد سے شک پیدا کرنا یا انکار کرنا اور شبہ پیدا کرنا نفاق کی علامت ہے
مذكورہ 6 سوالات كو يہاں ايك بار پھر دہرا ليا جائے۔۔۔۔
اقتباس:
صوائق محرقہ اور وینابیع مودت میں لکھا ہے کہ بس علی کی دوستی ہی وہ نیکی ہے جو لے کر ائے گا وہ کامیاب ہوگا
يہاں بھي ايك راز كھلتا ہے۔۔۔‌كہ جب قرآن ميں اعراب كي مدد سے شبہ پيدا كر ديا گيا ہے تو صوائق محرقہ اور ينابيع مودت نامي غير معصوم لوگوں كي لكھي ہوئي كتابوں ميں شبہ كيوں نہيں‌ہو سكتا۔۔۔

اقتباس:
فرمان رسول ص ہے کہ اگر لوگ علی ع کی محبت پر ایک ہو جاتے تو اللہ جہنم خلق نہ کرتا..صوائق محرقہ اور وینابیع مودت اور مشکواہ شریف
حوالے دينے‌كا شوق تو آپ كو بہت ہے۔۔۔۔‌زرا وضاحت فرمائيں‌كہ مشكوة شريف ميں يہ حديث كہاں ہے۔۔۔۔ اور اس حديث پر كوئي شك و شبہ كيوں نہيں آپ كو۔۔
اقتباس:
پس علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے جو کہ سورہ الحمد سے بھی ثابت ہے
ظاہر ہے جس طرح سے آپ اپني ۔۔۔۔ بھي۔۔۔۔‌كو ثابت كر رہے ہيں۔۔۔۔‌اس سے كون انكار كر سكتا ہے۔۔۔ آخر كو 21ويں صدي ہے۔۔۔ جس كا جو دل چاہے كہے بولے سمجھے سمجھائے۔۔

اقتباس:
امام صادق (ع) کا ارشاد اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یوں ہے :
الطریق و معرفہ الامام ۔.......... اس سے مراد امام کا راستہ اور اس کی معرفت ہے.
مختلف اور جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ :
واللہ نحن صراط المستقیم۔...... بخدا ہم صراط مستقیم ہیں . ایک جگہ فرماتے ہیں صراط مستقیم امیرالمومنین علی(ع) ہیں.
یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ اس سے مراد امام معصوم ہے. اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
خدا كا شكر ہے بخاري مسلم سے آگے بڑھ كر آپ كوئي اور ح والہ تو ديا۔۔۔۔۔۔
باقي تبصرہ ادھار۔۔۔

ويسے آپس كي بات ہے۔۔۔۔‌اس اتني لمبي تحرير ميں آپ نے ثابت كيا كيا ہے۔۔۔
حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ كي فضليت و منقبت يا قرآن كريم كي تحريف۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
13 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
asakpke (31-10-11), dxbgraphics (27-07-11), ھارون اعظم (25-07-11), نبیل خان (25-07-11), محمدمبشرعلی (26-07-11), آبی ٹوکول (26-07-11), احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (26-07-11), حیدر (26-07-11), حسن قادری (30-07-11), طاھر (26-07-11), عبداللہ آدم (26-07-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
پرانا 25-07-11, 10:49 PM   #4
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم !
میری انتظامیہ سے گذارش ہے کہ اس دھاگا کو بالکل بھی بند نہ کیا جائے میں نے جہالت کہ اس پلندہ کو پڑھ لیا ہے چونکہ بنیادی طور پر یہ میرے اعتراضات کہ جواب میں ہی تحریر کیا گیا ہے سو آج رات کو یکسوئی کہ عالم میں جہالت کا اس طویل پلندے کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کروں گا تب تک کے لیے انتظار پلیز ۔۔۔۔ والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
asakpke (31-10-11), dxbgraphics (27-07-11), ننھا بچہ (26-07-11), نبیل خان (25-07-11), محسن بٹ (26-07-11), احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (26-07-11), حیدر (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), شمشاد احمد (25-07-11), طاھر (26-07-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
پرانا 25-07-11, 10:50 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,471
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,507 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
يا قرآن كريم كي تحريف۔۔۔۔
قرآن كريم كي تحريف۔۔۔۔ مجھے بھی یہی معلوم ہوا ہے
نبیل خان آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (26-07-11), حیدر (26-07-11), حسن قادری (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), شمشاد احمد (25-07-11)
پرانا 26-07-11, 03:20 AM   #6
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حید ر ریحان کی تلبیسات و تحریفات قرآنی کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

تمہید
اسلام علیکم معزز قارئین کرام !
کافی عرصہ سے پاک نیٹ پر "شیعی تلبیسات " کو نوٹ کررہے ہیں مگر جواب نہیں دیا ۔کیونکہ ہمارے نزدیک اسکی متعدد وجوہات ہیں اور ان میں سے جو سب سے قوی تر امر ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں زرا سی بھی عقل سلیم ہو تو وہ اس " مذہب غیر مہذب " کی طرف ہرگز التفات نہ برتے گا اور یہی قوی تر امر مانع بھی تھا ہمارے نزدیک ثانیا جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس " مذہب غیر مہذبہ " کی جو پرچارک ہستی یہاں پاک نیٹ پر موجود ہیں انکے بے جا تطویل کلام پر مشتمل بے سروپا مراسلات جو کہ ایک طرف قارئین کے لیے کوفت کا سامان پیدا کرتے ہیں وہیں دوسری طرف بوریت طاری کردیتے ہیں کیونکہ ان میں نفس موضوع اور مسئلہ نزاعیہ پر تو کچھ نہیں ہوتا مگر ادھر ادھر کی لایعنی باتیں اور رطب و یابس کی بھرمار ہوتی ہے جو کہ ہر سلیم الطبع اور سلیم الفطرت انسان پر گراں گرزتی ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ موصوف کہ اکثر مراسلات پر صرف نظر سے کام لیتا ہوں مگر بعض مرتبہ اسی صورتحال بھی پیدا ہوجاتی ہے کہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دینا لازم و ملزوم ہوجاتا ہے اور ایسا ہی کچھ اس وقت بھی ہوا جب میرے ایک دیرینہ دوست محمد خلیل نے
" مجھے کیا ہوا ہے اور میں‌کدھر گیا ہوں۔/؟ " نامی مراسلہ لگایا تو وہاں پر ہمارے فریق مخالف و مخاطب نے مراسلہ نمبر 4 کی صورت میں حب علی رضی اللہ عنہ کی آڑ میں بغض رسالت کا ثبوت دیا جس پر ہم نے انکی پکڑ کی تو حضرت چند دن مفقود الخبر رہنے کے بعد آج وارد ہوئے تو یہ مراسلہ لکھ مارا جسکی سطحیت و سفیہانہ پن سب کہ سامنے ہے ضرورت تو نہ تھی سفاہت کہ اس پلندہ ہ جواب کی مگر چونکہ اولا تنقید اس پر ہماری ہی تھی اور یہ رد عمل بھی اسی تنقید کا تھا تو ہم نے سوچا کہ کچھ " لے دے " اس مسئلہ پر ہوہی جائے۔ سو اب آتے ہیں نفس مسئلہ پر ۔۔۔۔۔۔

ہم نے موصوف کی جس اول عبارت پر گرفت کی تھی وہ درج زیل ہے ۔ ۔۔
اقتباس:
بس علی علی کرتے جانا یہی کیونکہ مولا علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے جس پر نبی اکرم ص بھی ہیں اور مومنین بھی ہیں۔ جس کے لیے اللہ نےکہا ہے کہ ۔۔۔

۔۔۔ ھذا صراط علی مستقیم ۔۔۔۔۔ القران
اس عبارت کا قبیحانہ پن ہم نے درج زیل طریق سے واضح کیا تھا ۔ ۔

کچھ غور کیا لوگووووووووو کہ کس طرح سے لوگ حب علی کی آڑ میں آپکے اور میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریحا گستاخی کررہے ہیں ۔
اوپر سرخ کی گئی عبارات پر غور کریں کس طرح سے لوگ قرآن کہ ساتھ ظلم کرتے ہیں اور پھر اہل بیت کی محبت میں کرتے ہیں اور اہل بیت جس کہ اہل بیت ہیں اسکی توہین کرتے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ اہل بیت کی اصل نبی ہیں یا نبی کی اصل اہل بیت ہیں ؟؟؟ انکی اصل کون ہے ؟؟؟

دیکھو کس طرح سے ظلم کیا اس شخص نے قرآن پر افتراء پردازی کی اورجھوٹ باندھا لکھتا ہے کہ
بس علی علی کرتے جانا ہے ۔۔۔

پھر اپنے قول کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ

کیونکہ علی کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے ۔۔۔

حالانکہ کہنا چاہیے تھا کہ علی سیدھے راستے پر ہیں ۔

اور پھر ان سب سے بڑھ کر میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یوں گستاخی کرتا ہے کہ اور کہتا ہے کہ ۔۔ ۔

کہ جس پر نبی اکرم ص بھی ہیں ۔۔ ۔

حالانکہ کہنا چاہیے تھا کہ علی سیدھے راستے پر ہیں کیونکہ وہ راستہ رسول اللہ کا راستہ ہے کہ جس پر علی ہیں یعنی علی رسول کہ رستے پر ہے نہ کہ رسول علی کہ رستے پر انا للہ وانا الیہ راجعون

معزز قارئین کرام عبارات قابل غور ہیں جہالت ،غلو اور گستاخی رسالت واضح اور صریح ہے ۔
بجائے یہ کہنے کہ راستہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی سیدھا ہے اور علی اسی راستے پر ہیں ۔ راستے کا تعلق اور نسبت ہی براہ راست علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی اور پھر علی ہی کہ راستے کو حق قرار دے کر اور حق کا اس میں حصر قرار دے کر نبی کو اس راستے کی پیروی کرنے والا بنا دیا معاذاللہ ثمہ معاذاللہ حالانکہ حق اس کہ بر عکس ہے علی سیدھے راستے پر ضرور ہیں اور حق پر ہیں مگر وہ راستہ اللہ اور اس کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے نہ کہ علی کا ۔ ۔ ۔ ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔۔۔

اور کوئی زرا ان سے یہ پوچھے کہ جو آیت آپ نے کوٹ کی ہے اور جس سے استدلال کیا ہے وہ قرآن کہ کس سورہ کی کونسی آیت ہے اور ترجمہ کیا ہے ۔۔۔
اگلی بات میں بعد میں کرتا پوں فاعتبروا یا اولی الابصار
۔
جب ہم انکی گستاخی واضح کرچکے تو چاہیے تھا کہ توبہ کرتے اور رجوع لاتے اپنی عبارت سے مگر وہی ہوا کہ ہٹ دھرمی آڑے آئی لہذا اب اپنی عبارت پر توبہ تو نہیں کی مگر مختلف تاویلات فاسدہ سے اسکا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جو کہ عذر گناہ بد تر از گناہ کا مصداق ہیں ۔
موصوف نے فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔


اقتباس:
اگر میں کبھی آل محمد علیہ سلام کی تعریف میں کچھ نیا کہہ دوں تو فورا پکڑ ہوجاتی ہے. یعنی ایک جملہ جو بہت عام ہے اور اس کے کہنے اور سننے میں شائد ہی کوئی کبھی پکڑا گیا ہو اس پر بھی میں پکڑا گیا . آپ نے یقینا سنا ہوگا کہ رسول اللہ ص کا راستہ سیدھا ہے.


حضور پکڑ آپ کے آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ نیا کہنے پر نہیں ہوتی بلکہ ایسا نیا کہنے کی وجہ سے ہوتی ہے کہ جو نیا اول تو نیا ہونے کے ساتھ ساتھ خود ساختہ و من گھڑت طریق پر ہوتا ہے لہذا یہی وجہ ہوتی ہے کہ ایسا نیا سفاہت کا پلندہ ثابت ہوتا ہے لہذا یہ وجہ بنتی ہے کہ ایسا نیا خود قرآن و سنت کہ بھی خلاف ہوجاتا ہے کیونکہ آپکا نیا " خود ساختہ و گھڑنتو " ہوتا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ نصوص قرآن و سنت سے اسکا واضح ٹکراؤ تصادم واقع ہوجاتاہے اور پھر نتیجتا ہمارے جیسے کسی مبتدی طالب علم کو آپکی گرفت کرنا پڑتی ہے ۔ ۔ ۔

پھر آپ نے فرمایا کہ : آپ نے یقینا سنا ہوگا کہ رسول اللہ ص کا راستہ سیدھا ہے ۔ ۔ ۔

واضح ہو اور یاد رہے کہ ہم نے فقط سنا ہی نہیں بلکہ دیکھا بھی ہے اور ہمارا یہ عقیدہ و ایمان ہے کہ حضور اکرم فداک ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اور یہی وہ صراط مستقیم ہے کے جسکی طرف اللہ پاک نے پورے قرآن پاک میں جابجا رہنمائی فرمائی ہے کیونکہ یہ اللہ اور اسکے رسول فداک قلبی و روحی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے اور یہی وہ راستہ ہے کہ جس پر علی رضی اللہ عنہ اور تمام آل رسول اور اہل بیت رسول اور تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

لہذا جب ایک شیعہ تخصیص کہ ساتھ صراط مستقیم کی تصریح فقط حضرت علی کہ ساتھ کرئے گا تو اسکی پکڑ ہوگی اور ضرور ہوگی اور اسکی اس پکڑ پر قرینہ اسکے شیعی عقائد ہیں کہ جن میں حضرت علی کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لہذا یہی وجہ تھی کہ صراط مستقیم کی جو تخصیص آپ نے خصوصیت کہ ساتھ براہ راست حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف فرمائی تھی اس پر آپ لوگوں کہ فاسدانہ عقائد حصر کا قرینہ تھے لہذا یہی وجہ بنی کہ ہم نے گرفت کی اور درست کی کیونکہ سیدھے راست کی نسبت براہ راست جب کی جائے کہ اور تخصیص کہ ساتھ جب کی جائے گی تو وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جائے گی نہ کہ آپکے کسی بھی متبع کی طرف براہ راست اور اسکے برعکس جب کوئی شیعہ سیدھے راستے کی تخصیص حضرت علی کی طرف کرئے گا نیز بعد اس تخصیص کہ اسی راستے پر اصحاب پیغمبر اور خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے والا بھی بتلائے گا تو اسکا شیعہ العقیدہ ہونا اس بات پر دال ہے اور قرینہ ہے کہ اسکی اس عبارت پر گرفت کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔

پھر فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
اقتباس:
یعنی کوئی مضائقہ نہی تھا اس جملہ میں کہ اگر میں یہ کہتا کہ آصحاب نبی رض کا راستہ سیدھا ہے مگر چونکہ علی کا راستہ سیدھا کہا تھا اس لیے کچھ حضرات برا مان گئے .جس سے مجھے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ وہ محبت اہلبیت ع میں زبانی جمع خرچ کرے ہیں کیونکہ اگر مولا علی کو نفس رسول ص اور ان کا بھائی نہ بھی مانتا ہوتا اور صرف اور صرف آصحاب نبی رض میں ہی شمار کیا ہوتا اور مانتا تو یہ نہ کہتا جو کہا


مضائقہ ہرگز نہ ہوتا اگر آپ ایسا کہتے تو ہرگز آپکی پکڑ بھی نہ ہوتی مگر جو ماحول اس وقت بنا ہوا تھا اور جس ماحول اور صورتحال میں جس انداز میں آپ نے وہ جملے تحریر کیے وہ یقینا قابل گرفت تھے ماحول اور صورتحال اس وقت یہ تھی کہ محمد خلیل نامی ایک یوزر بار بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر زبان طعن دراز کررہا تھا جبکہ انتظامیہ اسے بار بار سمجھا رہی تھی مگر جب وہ نہ سمجھا تو اس نے ایک فیصلہ لیا اور اسکے اس فیصلہ کہ رد عمل میں آپ نے وہ مندرجہ بالا عبارات تحریر فرمائیں جو کہ اس وقت کی صورتحال میں مزید اشتعال و افتراق کا باعث بنیں اور آپ نے محمد خلیل کو اس کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ بس علی علی ہی کیے جانا ہے اور یہی حق اور یہی سیدھا راستہ اور اسی راستہ پر رسول اور دیگر مومنین بھی ہیں تو تب ہم نے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے آپکی گرفت کی اور بجا کی ۔۔

مولا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں یقینا حق پر ہیں اور کیوں حق پر ہیں ؟؟؟
اس لیے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ رستہ پر ہیں لہذا جب مولا علی کہ حق پر ہونے کی توضیح و تصریح ہوگی تو اسکی جو " علت العلل " ہوگی یعنی " علت اولی " وہ یہی ہوگی کہ علی اس لیے حق پر ہیں کیونکہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ رستہ پر ہیں نہ کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ یہ ہوگی کہ علی حق پر ہیں کیونکہ علی ہی کے راستہ پر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔نعوذباللہ من تلک الخرافات
۔۔۔

اسکے بعد موصوف نے سورہ فاتحہ کہ آیت نمبر 5 یعنی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو نقل کرکے اس پر خود ہی نام نہاد اشکالات وارد کرکے اور پھر ان نام نہاد اشکالات کہ لایعنی جوابات دے کر بے جا تطویل کلام سے کام لیا ہے کہ جسکا ہرگز یہاں پر نہ تو کوئی محمل تھا اور نہ ہی ضرورت ۔ کیونکہ ایک عامی ادنٰی سے مبتدی طالب علم اور ہر بچہ کو بھی معلوم ہے کہ ہر نماز میں دعا ہدایت کے تکرار کا مقصد دوام ہدایت ہے اور استقامت و قوام راہ ہدایت ہے نہ کے کلمہ " اھدنا یعنی ہمیں دکھا " یہاں طلب ہدایت بمعنی ہنوز عدم حصول ہدایت کہ معنی میں ہے ۔۔۔

اور پھر اسکے بعد ایک راز کا عنوان قائم کرکے قرآن مقدس میں سے سورہ نساء کی آیت نمبر 175 کو نقل کرتا ہے جو کہ درج زیل ہے ۔۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ بِاللّهِ وَاعْتَصَمُواْ بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطاً مُّسْتَقِيماً .175 النساء

پس جو لوگ الله پر ايمان لائے او راس سے وابستہ ہوئے انہيں وہ اپنى رحمت او راپنے فضل ميں داخل كرلے گا او رسيد ھے راستہ كى ہدايت كردے گا ۔۔۔

فائدہ : معزز قارئین کرام سورہ نساء کی اس آیت کی تفسیر میں اہل سنت مفسرین نے وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطاً مُّسْتَقِيماً کہ کلام مبارک سے جنت میں مومنین کو تمام ظاہری نعمتوں کہ حصول کہ بعد روحانی نعمتوں کا حصول مراد لیا ہے نیز اس میں تخصیص کہ ساتھ دیدار باری تعالٰی یعنی معیت و قربت الٰہی مراد لی ہے ۔

جب کہ آپ نے دیکھا کہ ہمارے فاضل دوست نے کس طرح سے سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 5 میں صراط مستقیم کا لفظ دیکھ کر اور پھر سورہ نساء کی آیت نمبر 175 میں یہ لفظ صراط مستقیم دیکھ کر کس قدر بھونڈے اور لایعنی و سفاہانہ انداز میں اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لینے کی کوشش کی ہے ۔
موصوف فرماتے ہیں کہ ۔ ۔

اقتباس:
یعنی جس جس نے دل سے تسلیم کیا کہ رسول خدا ص ہمارے مولا و آقا ہیں وہی یہ بھی تسلیم کریں گئےکہ علی ع بھی ہمارے مولا ہیں یعنی جو حاصل ہوا وہ صراط مستقیم ہی ہے ...


معزز قارئین کرام آپ نے دیکھا کہ کیا خوب طرز استدلال اور قوت استدلال ہے صراط یعنی پہلے خود ہی سے حضرت علی کو صراط مستقیم فرض کرلو اور پھر قرآن میں جہاں جہاں لفظ علی جو کہ حرف جر ہے اور لفظ صراط مستقیم دیکھو تو ان آیات کو بلاسوچے سمجھے نقل کرو اور پھر نتیجہ یوں برآمد کرو کہ چونکہ نبی نے علی کو حق کہا ہے لہذا جو دل سے نبی کو مولا مانے وہ علی کو بھی مولا مانے گا لہذا جو دل سے نبی کو اپنا آقا و مولا مانتا ہے وہ دل سے علی کو بھی وہی تسلیم کرتا ہے لہزا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت علی صراط مستقیم ہیں لاحول ولا قوۃ الا باللہ اس فہم و فراست و طرز استدلال اور قوت استدلال پر ۔۔۔۔


نوٹ معزز قارئین کرام مراسلہ بہت طویل ہوگیا ہمارا اس سے اگلا مراسلہ سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 5 اور سورہ نساء کی آیت نمبر 175 کی شیعی تفسیر پر مشتمل ہوگا ۔۔۔تب تک کے لیے اجازت دیجیئے ۔۔والسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Last edited by آبی ٹوکول; 26-07-11 at 03:28 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
13 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (27-07-11), کنعان (26-07-11), ننھا بچہ (26-07-11), محمدمبشرعلی (26-07-11), احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (26-07-11), حیدر (26-07-11), حسن قادری (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), شمشاد احمد (26-07-11), طاھر (26-07-11), عبداللہ آدم (26-07-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
26-07-11 عبداللہ حیدر جزاک اللہ خیرا، ھذا صراط علی مستقیم 0
پرانا 26-07-11, 01:08 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,202
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں

شمشاد بھائی اور آبی بھائی میری تحریر سے زیادہ تو اپ کی تحریر نے نہ صرف بور کیا بلکہ لوگوں کا وقت بھی برباد کیا
کس نے کیا کہا تھا کیا ہوا پھر کیا ہوا پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہ نے دیں یہ کہانیاں سیدھا مدع پر آتے ہیں ۔ ۔
اپ دونوں میری تحریر میں املا کی غلطیاں اور گرامر چیک کریں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔

کیونکہ جو لکھ چکا ہوں وہ لوگ مطلب سمجھ لیں گئے کہ
میں نے مولا علی کو صراط مستقیم اس کے کہا ہے کہ آیت یہی ہے۔

ہاں شمشاد بھائ نے ایک بات لکھی ہے اس کا جواب
کسی لفظ کو اعراب دینا تحریف کرنا نہی کہلاتا بلکہ اس لفظ میں شکوک پیدا کرنا کہلاتا ہے ۔ بعد میں اس لفظ کا ترجمہ کرکے اور پھر اس کی غلط تفسیر بیان کرنا تحریف کہلائے گا
یعنی آیت میں تحریف نہی کہلائے گی بلکہ آیت کے ترجمہ میں کہلاسکتی ہے ۔ ۔ ۔

Last edited by حیدر Rehan; 26-07-11 at 01:11 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 01:15 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,202
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قران اور انبیاعلیہ سلام اور خود رسول اکرم ص کی زمہ داری ہے کہ صراط مستقیم کی طرف ھدایت کریں اور لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف لائیں ۔۔۔میں نے اوپر لکھا ہے کہ ’’مولا علی صراط مستقیم ہیں‘‘ اس لیے قرآن اور انبیاعلیہ سلام نے مولا علی علیہ سلام کی طرف ھدایت کی ہے اور رہنمائی کی ہے کیونکہ امام وہی صراط مستقیم ہوتا ہے ۔

سوال اب تک باقی ہے ۔ ۔ ۔
اللہ بھی صراط مستقیم پر ہے ۔۔ چونکہ رسول ص صراط مستقیم پر ہیں اس لیے قران میں مثال دی گئی ہے کہ اللہ بھی صراط مستقیم پر ہے۔
رسول اللہ ص صراط مستقیم پر ہیں ۔۔
مومنین صراط مستقیم پر ہیں
اور شیطان بھی صراط مستقیم پر بیٹھ گیا ہے
تاکہ لوگ گمراہ ہوجائیں اور ان کو صراط مستقیم پر چلنے نہ دے ۔

جس صراط پر اللہ کے انبیاع ، رسول ص اور مومنین ہیں اور شیطان بھی بیٹھ گیا ہے وہ صراط اللہ کے اوپر کیسے ہوسکتی ہے ؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 01:25 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,202
شکریہ: 7,909
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
تمام حضرات مذكورہ عبارت كو ايك بار پھر پڑہيں اور اس سوالات كے جوابات حل ديں۔
سوال نمبر 1۔۔۔۔ اعراب كي يہ تبديلي كس نے كي۔۔۔ يعني كس كے‌حكم سے‌كي گئي۔۔۔۔؟؟؟
اللہ كي حكم سے‌كي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں؟
رسول كے‌حكم سے‌كي گئي ہے تو اعتراض كي كوئي بات نہيں۔
اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے اگر يہ تبديلي كي گئي ہے اور اس پر كسي كو اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے كہ اس كو كيا اعتراض ہے؟
سوال نمبر 2۔۔۔۔ اگر يہ تبديلي اللہ اور اس كے رسول كے حكم سے نہيں كي گئي تو كس نے‌كي ہے؟
سوال نمبر 3۔۔۔ كيا قرآن كريم ميں صرف يہي ايك تحريف كي گئي ہے يا اور بھي ہيں۔
سوال نمبر4۔۔۔ اگر اور بھي ايسي تحريفات كي گئي ہيں وہ امت كو معلوم ہيں يا نہيں۔
سوال نمبر5۔۔۔ اگر معلوم ہيں تو كون كون سي آيات ميں كيا كيا تحريفات كي گئي ہيں۔۔
سوال نمبر6۔۔۔ اگر وہ تحريفات معلوم نہيں ہيں تو پھر تو ہر آيت اور ہر لفظ كے بارے‌ميں يہ شك پيدا ہو جائے‌گا كہ ممكن ہے يہ لفظ تحريف شدہ ہو۔۔۔ اس طرح قرآن پر سے اعتماد ہي اٹھ جائے‌گا۔


گويا كہ موصوف كي عربي اللہ اور اس كے رسول سے بھي اچھي ہے۔۔۔۔

۔۔
حجاج بن یوسف کو اگر بھول گئے ہیں کہ اعراب لگانے اور انھیں تیس پاروں میں تقسیم کرنے کاکارنامہ ان کا نہی ہے تو یہ میرے غلطی نہی ہے

پھر اس غلطی یعنی اعراب لگانے اور تیس پاروں میں تقسیم کرنے کے عمل کو اللہ کی طرف نسبت دے کر آپ اللہ پر الزام لگارہے ہیں یا مجھ پر ؟؟

کہ کسی کی عربی نعوزباللہ اللہ اور رسول ص سے زیادہ اچھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ان الفاظ پر دوبارہ غور کریں اور انھیں ہٹائیں
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 26-07-11, 04:01 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
۔

سوال اب تک باقی ہے ۔ ۔ ۔
؟؟[/SIZE][/COLOR]
اول تو آپ کو چاہیے تھا کہ مجھے تحریر مکمل کرنے دیتے میری تحریر کہ آخر پر صاف لکھا ہے کہ جاری ہے اور یہ وہ موقع تھا کہ ہم آپ کی پیش کی گئی آیات کا جواب آپ ہی کہ گھر سے نقل کرنے والے تھے مگر بھلا ہو پاک نیٹ کا رات دو گھنٹے بیٹھ کر جو مراسلہ لکھا جب submit کیا تو پاک نیٹ صاحب غائب ہوگئے اور میری ساری محنت ضائع گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
نہ جانے پاک نیٹ کو کیا ہوجاتا ہے اور یہ بیماری بار بار اس پر کیوں حملہ آور ہوتی ہے امید ہے پاک نیٹ کہ تکنیکی صاحبان حل و عقد اس کا ضرور نوٹس لیں گے خیر میری جناب سے گذارش ہے کہ ابھی آپکی پوسٹ کا تفصیلی رد باقی ہے سو دھیرج رکھیئے اور ہماری بات مکمل ہولینے دیجیئے کیونکہ ہم نے اپنے مراسلے کا عنوان آپ کی پوسٹ کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ رکھا ہے سو اس وجہ سے وہ لازما طویل ہوگی کیونکہ ایک ایک بات کو نقل کرکے کہ اس کا رد بصورت تحقیق و تنقید مقصود ہے ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (27-07-11), حیدر (26-07-11), حیدر Rehan (26-07-11), راجہ اکرام (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 06:50 PM   #11
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حیدر ریحان کی تلبیسات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔۔
اسلام علیکم معزز قارئین کرام !
آئیے ایک بار پھر سلسلہ کلام جہاں سے ٹوٹا تھا کڑی کو ایک بار پھر وہیں سے جوڑتے ہیں تو لیجیئے ہم اپنے ممدوح کو انکے گھر کی سیر کراتے ہوئے خود انکے گھر ہی سے گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں تاکہ ایک تو سند رہے اور دوسرے یہ کہ جن مشھور و معروف شیعہ ویب سائٹ سے ہمارے ممدوح صاحب کاپی پیسٹ فرماتے ہیں اور پھر اپنے ذہن نارساء کی بدولت اپنے ہی گھر کی کتابوں میں شعوری یا غیر شعوری طور پر جو کتر و بیونت کرتے ہیں اس کرپشن کا پردہ چاک ہو تو آئیے درج زیل میں مشھور شیعہ ویب سائٹ سے سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 6 کی تفسیر اسی تفسیر نمونہ سے نقل کرتے ہیں کہ جہاں سے ہمارے ممدوح نے خیانت کہ ساتھ نقل کی اور اپنے ہی مفسرین کی فقط ایک بات نقل کرکے اسے سب پر حجت ٹھرانا چاہا ۔۔۔


ہمارے ممدوح نے سورہ فاتحہ کی آیت نمبر 1:6 کی سرخی قائم کرکےدرج زیل دو عبارات بغیر کسی حوالہ سے نقل کی ہیں اور یہ ہمارے ممدوح کی ایک پختہ عادت کہ اکثر ان کے مراسلات میں قرآنی آیات کی تفسیر ہوتی ہے مگر یہ بغیر حوالہ سے نقل کرتے ہیں جس سے قارئین کہ ذہن میں یہ بات لازم آتی ہے کہ شاید ہمارے ممدوح خود مفسر قرآن ہیں ۔۔۔

آئیے پہلے انکی عبارات ملاحظہ کیجیئے او رپھر ہم کو بتلائیں کہ یہ انھوں نے کہاں سے کاپی پیسٹ کیں اور ان میں کیا کیا خیانت کی ۔۔۔۔۔

پہلی عبارت ۔۔

اقتباس:
اہدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 1:6 ہمیں سیدھا راستہ دکھا
سورہ الحمد کی اس آیت میں اللہ نے مومنین سے حالت نماز میں بھی اس طرح دعا کروائی ہے یعنی اللہ کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب مدد کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد اللہ کا بندے سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ کی دعا کرئے جن پر انعام بھی ہوا ہو۔
ہماری تنقید :- حضرت نے یہ عبارت ایک شیعہ مفسر مصنف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی کتاب تفسیر نمونہ کی جلد اول سے چرائی ہے " چرائی " ہم نے اس لیے کہا ایک تو جناب نے یہ عبارت نقل کرتے ہوئے کسی بھی کتاب کا حوالہ نقل نہیں کیا اور دوسرے عبارت میں کترو بیونت کرکے کچھ اپنے الفاظ اس میں ملا کر حذف و ترمیم کرکے اسے خود اپنا اجتھاد ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کی آپ پہلے درج زیل میں اصل عبارت ملاحظہ کرلیجیئے اور دونوں عبارات کے خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجیئے گا ۔ ۔

نام کتاب: تفسیر نمونه( جلداول)
مصنف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی


اقتباس:
اھدنا الصراط المستقیم
ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت فرما۔

تفسیر

صراط مستقیم پر چلنا
پرور دگار کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب استعانت کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد بندے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اسے سیدھی راہ، پاکیزگی و نیکی کی راہ، عدل و داد کی راہ اور ایمان و عمل صالح کی ہدایت نصیب ہو۔ تاکہ خداجس نے اسے تمام نعمتوں سے نوازا ہے ہدایت سے بھی سرفراز فرمائے۔
اب دونوں عبارات میں خط کشیدہ الفاظ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے ممدوح نے کس طرح سے اپنے ایک مفسر کہ کلام کو بھی نہیں بخشا اور اس میں کچھ حذف و ترمیم کرکے کلام کو اپنا کلام بنا کر نقل کیا جو شخص اپنے گھر کہ ساتھ یہ کرسکتا ہے وہ دوسروں کہ ساتھ کیا کرے گا ۔ ۔۔

ہمارے ممدوح کی دوسری عبارت ۔

اقتباس:
ایک سوال اور اسکا جواب . . .
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں، کیا ہم گمراہ ہیں؟

اگر چہ نمازی ان حالات میں بھی مومن ہے کیونکہ وہ خدا کی معرفت رکھتا ہے. لیکن یہ امکان ہے کہ کسی لمحہ یہ نعمت کچھ عوامل کے باعث اس سے چھن نہ جائے اور یہ صراط مستقیم سے منحرف اور گمراہ نہ ہوجائے اس لیے چاہئے کہ لازما شب و روز نماز میں کم از کم دس مرتبہ اپنے خدا سے صراط مستقیم کی خواہش کرے. چونکہ ہم ہر لمحہ محتاج ہیں ، چاروں طرف سے لوگ ہمیں راستہ دیکھا رہے' ہیں کہ یہ حق کا راستہ ہے اور یہ حق کا راستہ ہے. تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل راستہ /صراط مستقیم سے ہمارا دھیان ہٹ جائے اور ہدایت کے ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہوجائے بس سورہ الحمد میں صراط مستقیم کی بار بار تکرار اس لیے بھی ہے
اب تفسیر نمونہ سے اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے ۔۔

اقتباس:
اگر چہ یہ انسان ان حالات میں مومن ہے اور اپنے خدا کی معرفت رکھتا ہے لیکن یہ امکان ہے کہ کسی لحظے یہ نعمت کچھ عوامل کے باعث اس سے چھن جائے اور یہ صراط مستقیم سے منحرف اور گمراہ ہوجائے لہذا چاہئے کہ شب و روز میں دس مرتبہ اپنے خدا سے خواہش کرے کہ اسے کوئی لغزش و انحراف در پیش نہ ہو۔
یہ صراط مستقیم جو باالفاظ دیگر آئین و دستور حق ہے کے کئی مراتب و درجات ہں تمام افراد ان مدارج کو برابر طے نہیں کرتے انسان جس قدر ان درجات کو طے کرے اس سے بلند تر درجات موجود ہیں۔ پس صاحب ایمان کو چاہئے کہ وہ خدا سے خواہش و دعا کرے کہ وہ اسے ان درجات کی ہدایت کرے۔



یہاں یہ مشہور سوال سامنے آتا ہے کہ ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں، کیا ہم گمراہ ہیں؟
آپ نے نوٹ کیا قارئین کرام کچھ لفظوں کہ حذف و ترمیم کو تو ہم نے ان دونوں عبارتوں میں سرخ رنگ سے نمایاں کردیا مگر جہاں پوری پوری عبارت ہی چوری کرے اپنے لفظوں میں بیان کی ہو اس کا کیا کیا جائے تفسیر نمونہ سے اصل عبارت پڑھنے کہ بعد آپ کو معلوم ہوچکا ہوگا جو سوال جناب نے پہلے قائم کیا اس کی اصل ترتیب تفسیر نمونہ میں اس عبارت کہ بعد ہے کہ جسے نقل کرکے کہ جناب نے ایک سوال کا عنوان قائم کرکے سوال اٹھایا تھا ۔

قارئین کرام یہ تو تھی سورہ فاتحہ کی تفسیر میں ہمارے ممدوح کی اپنے اکابرین کی عبارات میں کترو بیونت اور حذف و ترمیم کرکے لفظی خیانتوں کی تفصیل اب ہم ذیل میں اسی سورہ نساء کی تفسیر میں جو انھوں نے معنوی خیانتیں کی ہیں انکو بیان کریں گے ۔ ۔ ۔

اسکے بعد ہمارے ممدوح نے سورہ نساء کی آیت نمبر 175 کو تختہ مشق بنایا ہے زیل میں‌ دیکھیئے اس ضمن موصوف کی پہلی عبارت ۔۔

اقتباس:
ایک راز . .. . .
جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اللہ نے کچھ شرائط کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ سیدھا راستہ (صراط مستقیم) دیکھاے گا .
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ بِاللّہ وَاعْتَصَمُواْ بِہ فَسَيُدْخِلُہمْ فِي رَحْمَہ مِّنْہ وَفَضْلٍ وَيَہدِيہمْ إِلَيْہ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا
پس جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے اور اس (کے دامن) کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو عنقریب (اﷲ) انہیں اپنی (خاص) رحمت اور فضل میں داخل فرمائے گا، اور انہیں اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ (صراط مستقیم) دکھائے گا.

یعنی جو اللہ پر ایمان لانے کےبعد اللہ کی رسی/قران کومضبوطی سے پکڑے رکھےگا تو اللہ اس کو رحمت میں داخل کرئے گا اور پھر اسی رحمت کی رہنمائی کے زریعے صراط مستقیم حاصل ہوجائے گئی.. ہم جانتے ہیں کہ رسول خدا ص رحمت العالمین ہیں بس جس جس نے رحمت العالمین کا دامن پکڑا اس اس نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت پائی. یعنی جس جس نے دل سے تسلیم کیا کہ رسول خدا ص ہمارے مولا و آقا ہیں وہی یہ بھی تسلیم کریں گئےکہ علی ع بھی ہمارے مولا ہیں یعنی جو حاصل ہوا وہ صراط مستقیم ہی ہے ...
اس عبارت کہ خط کشیدہ الفاظ قابل توجہ ہیں کہ کس طرح ہمارے ممدوح کو حضرت علی کو قرآن میں صراط مستقیم کہے جانے کو ثابت کرنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑے یعنی پہلے ایک حد تک درست تفسیر نقل کی اس آیت کی یعنی اس آیت اور سورہ فاتحہ دونوں آیات اور ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی قرآن میں لفظ صراط مستقیم آیا ہے اس سے مراد اللہ کا راستہ قرآن کا راستہ اور رسول کا راستہ ہے۔ اور یہی حق بھی ہے کہ صراط مستقیم اللہ اور اسکے رسول کا وہ راستہ ہے کہ جو دین مبین کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے لہذا قرآن بھی صراط مستقیم ہے اور صاحب قرآن بھی صراط مستقیم ہیں مگر ہمارے ممدوح نے قرآن اور صاحب قرآن کہ ساتھ صراط مستقیم کی نسبت کو تو تسلیم کیا مگر ساتھ ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہ اس ارشاد کو کہ جسکا یہاں نہ تو کوئی محمل تھا اور نہ ہی تُک یعنی " جسکا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے " کو نقل کرکے اس سے استدلال کرکے حضرت علی کو صراط مستقیم ثابت کردیا ۔واہ واہ واہ ماشاء اللہ کیا خوب دلیل اور کیا خوب طرز استدلال ہے یعنی ثابت تو یہ کرنا ہے کہ قرآن میں صراط مستقیم سے مراد حضرت علی ہیں مگر جب قرآن سے ثابت نہ ہوسکا تو حضور کہ ایک اس مقام کی نسبت سے ایک غیر محمل کلام کو نقل کرکے اس سے استدلال کرتے ہوئے حضرت علی کو صراط مستقیم قرار دے دیا لا حول ولا قوۃ الا باللہ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ ہم اہل سنت میں‌ اگر کوئی مختلف صحابہ کرام کی فضیلت میں وارد مختلف روایات کو اس مقام سے جوڑ کر حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان کو قرآنی نصوص کا محمل قرار دیکر انھے صراط مستقیم قرار دے ڈالے ۔
حالانکہ حضرت علی سمیت یہ تینوں خلفاء اور تمام اصحاب رسول یقینا صراط مستقیم ہی پر ہیں مگر نہ تو وہ خود صراط مستقیم ہیں اور نہ ہی صراط مستقیم کی اصل نسبت ان کہ دم سے قائم ہے بلکہ صراط مستقیم تو اللہ اور اسکے رسول کا راستہ ہے لہزا قرآن صراط مستقیم ہے اور قرآن جو دین لایا ہے وہ صراط مستقیم ہے نیز صاحب قرآن کہ جن کو قرآن نے برہان یعنی عظیم نشانی قرار دیا وہ خود صراط مستقیم ہیں ۔ لہذا اللہ اور اسکے رسول اور اسکی کتاب سے جڑ جانا یعنی تمسک ہی اصل صراط مستقیم پر ہونے کی علامت ہے اور صراط مستقیم کا تشخص اصل بطور سبب و علت انھی ہستیوں یعنی اللہ اور اسکے رسول سے قائم ہے ۔

اب ہم ذیل میں اپنی تائید میں اسی آیت کی تفسیر مشھور شیعہ ویب سائٹ سے نقل کریں گے وہیں سے کہ جہاں سے ہمارے مدوح اکثر قطر و بیونت کرتے ہوئے کاپی پیسٹ فرماتے ہیں
۔ ۔ ۔

نام کتاب: تفسير راہنما (جلدچہارم)
مصنف: آيت الله ہاشمى رفسنجاني


فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُواْ بِاللّهِ وَاعْتَصَمُواْ بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطاً مُّسْتَقِيماً .175

پس جو لوگ الله پر ايمان لائے او راس سے وابستہ ہوئے انہيں وہ اپنى رحمت او راپنے فضل ميں داخل كرلے گا او رسيد ھے راستہ كى ہدايت كردے گا ۔

نوٹ : یاد رہے کہ آیت مذکورہ کی تفسیر میں اہل سنت والجماعت کہ مفسرین نے صراطا مستقیما سے مراد جنت میں بعد فضل و رحمت یعنی حسی نعمتوں کہ بعد روحانی نعمتوں کا حاصل ہونا نقل کیا ہے جن میں سے سب سے بلند اللہ پاک کا دیدار اور قرب و معیت ہے کہ جسے یہاں الی صراط مستقیما سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
اس پر شہادت ملاحظہ ہو امام رازی علیہ رحمہ کی تفسیر مفاتیح الغیب سے ۔۔

وأقول: الرحمة والفضل محمولان على ما في الجنة من المنفعة والتعظيم، وأما الهداية فالمراد منها السعادات الحاصلة بتجلي أنوار عالم القدس والكبرياء في الأرواح البشرية وهذا هو السعادة الروحانية،۔۔۔۔۔

ترجمہ : اور میں کہتا ہوں کہ فضل اور رحمت کو محمول کیا جائے گا جنت میں منفعت و تعظیم سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے اور ہدایت سے مراد ان سعادتوں کا حصول ہے جو کہ حاصل ہونگی اللہ کہ انوار و تجلیات سے ارواح بشریہ پر اور یہی سعادت روحانی ہے ۔ ۔۔



شیعہ مفسر لکھتا ہے کہ ۔ ۔

شیعہ مفسر آیت کا ترجمہ نقل کرنے کہ بعد تفسیر نکات میں نقل کرتا ہے کہ ۔۔
1_ خداوند متعال اپنے ساتھ متمسك ہونے والے مؤمنين كو اپنى خاص رحمت، فضل اور ہدايت سے
بہرہ مند كرے گا_

خداوند عالم كى ہدايت، فضل اور رحمت تمام بندوں كے شامل حال ہوتى ہے لہذا انہيں پاداش اور اجر كے طور پر بيان كرنا اس بات كى علامت ہے كہ اس سے مراد خاص رحمت اور خاص فضل و ہدايت ہوگي_ واضح رہے كہ مذكورہ بالا مطلب ميں ''بہ'' كى ضمير ''اللہ'' كى طرف لوٹائي گئي ہے_

2_ خداوند متعال پر ايمان اور قرآن كريم و پيغمبر اكرم (ع) سے تمسك كرنا خدا وند عالم كے فضل و رحمت سے بہرہ مند ہونے كا باعث بنتاہے_

فاما الذين ا منوا باللہ و اعتصموا بہ فسيدخلھم فى رحمة منہ و فضل
اس احتمال كى بناپر كہ جب ''بہ'' كى ضمير گذشتہ آيت شريفہ ميں


موجود ''برھان'' ( پيغمبر اكرم (ع) ) اور ''نور'' ( قرآن كريم )كى طرف لوٹ رہى ہو_

3_ خداوند متعال سے متمسك ہونے والے مؤمنين كى پاداش يہ ہے كہ وہ مقام قرب الہى پر فائز، بہشت اور اس كى نعمتوں اور فضل خداوندى سے مكمل طور پر بہرہ مند ہوں گے_

4_ بہشت; رحمت خداوندى كا مظہر ہے_
فسيدخلھم فى رحمة منہ
اس بناپر جب مذكورہ پاداشوں سے مراد اخروى پاداشيں ہوں_اس مبنا كے مطابق كلمہ''دخول'' اور ''في''كے قرينہ كى بناپر ''رحمت'' سے مراد جنت ہوگي_

5_ خدا وند متعال پر ايمان اس وقت ثمر بخش اور مفيد ثابت ہوگا جب قرآن كريم اور پيغمبر اكرم(ص) سے تمسك كيا جائے_

6_ خداوند متعال اپنے ساتھ متمسك ہونے والے مؤمنين كو راہ مستقيم كى ہدايت كرتاہے_

7_ صراط مستقيم ايسى راہ و روش ہے كہ جو انسان كو خدا وند متعال تك لے جاتى ہے اور اس كى طرف راہنمائي كرتى ہے_

و يھديھم اليہ صراطاً مستقيما
مذكورہ بالا مطلب ميں ''صراطاً مستقيماً'' كو ''اليہ'' كيلئے عطف بيان كے طور پر لياگيا ہے يعنى وہ راستے جو ''اللہ تعالى'' تك منتہى ہوں صراط مستقيم ہيں_


8_ جنت ميں داخل ہونا، فضل خداوندى سے بہرہ مند ہونا اور مقام قرب الہى تك پہنچنا ; خدا پر ايمان لانے والوں اور پيغمبر اكرم(ع) و قرآن كريم كى پيروى كرنے والوں كى پاداش ہے_

فاما الذين امنوا باللہ و اعتصموا ... يھديھم اليہ صراطاً مستقيماً
9_ ہدايت اور خدا تك رسائي; جنت اور اس كى نعمتوں سے كئي درجہ افضل پاداش ہے_

فاما الذين امنوا باللہ ... و يھديھم اليہ صراطاً مستقيماً
خداوند متعال پاداش كا تذكرہ كرتے وقت اكثر و بيشتر پہلے ادني اور پھر اعلي كا ذكر كرتاہے لہذا خدا تك پہنچنا اور اس كا قرب حاصل كرنا ''يھديھم اليہ'' مومنين كيلئے بہترين پاداش ہوسكتى ہے_


10_ راہ راست كى ہدايت اور خدا تك پہنچنا، خداوند متعال پر ايمان اور اس سے متمسك ہونے پر موقوف ہے_

فاما الذين امنوا باللہ و اعتصموا بہ ... يھديھم اليہ صراطاً مستقيماً
11_ راہ راست كى ہدايت اور خداوند عالم تك رسائي ; اس پر ايمان اور قرآن و پيغمبر اكرم(ص) سے متمسك ہونے پر موقوف ہے_

فاما الذين امنوا باللہ و اعتصموا بہ ... يھديھم اليہ صراطا مستقيماً
12_ ايمان كے ثمر بخش ہونے كى شرط يہ ہے كہ زندگى كے تمام شعبوں ميں خداوند عالم سے تمسك كيا جائے_

فاما الذين امنوا باللہ ... و يھديھم اليہ صراطاً مستقيماً
متعلق اعتصام كو حذف كرنا بظاہر اس كے اطلاق كو بيان كررہاہے يعنى ہر زمانے اور ہر چيز ميں خداوند متعال سے تمسك كيا جائے_

13_ خداوند متعال، قرآن كريم اور پيغمبر اكرم(ص) كا انكار كرنے والے كفار ;خدا كى خاص رحمت اور خاص فضل و ہدايت سے محروم ہيں_

فاما الذين امنوا باللہ و اعتصموا بہ ... صراطاً مستقيماً
''اما'' تفصيليہ كا معادل حذف كرديا گيا ہے اور موجودہ جملہ'' فاما الذين آمنوا ...'' اس كو بيان كررہا ہے_

14_ مومنين آخرت ميں معنوى رشد و تكامل سے بہرہ مند ہوں گے_
و يھديھم اليہ صراطاًمستقيماً
جملہ''فسيدخلھم ...'' كي''سين'' كو سامنے ركھنے سے معلوم ہوتاہے كہ يہ جملہ اخروى رحمت اور فضل پر دلالت كرتاہے_ پس ہدايت جسے رحمت و فضل كے بعد ذكر كيا گيا ہے، سے مراد ہدايت اخروى ہے اور خدا وند متعال كى طرف ہدايت وہى معنوى كمال ہے_

خلاصہ شیعہ مفسر نے واضح طور پر آیت کی تفسیر میں تمسک باللہ تمسک بالرسول اور تمسک بالقرآن کو نقل کیا اور انہی تینوں کہ گرد تمام کہ تمام تفسیر نکات کو بیان کیا لہذا آیت میں صراط مستقیم کا محمل یہی تینو‌ں ہیں اگر اس سے مراد حضرت علی ہوتے تو شیعہ مفسر واضح قول کرتا مگر ایسا نہیں ہے پھر اسکے بعد آپ اگر نکتہ نمبر 2 کو ملاحظہ کیجیئے اس میں واضح طور پر شیعہ مفسر نے بیان کیا کہ ۔ ۔۔ خداوند متعال پر ايمان اور قرآن كريم و پيغمبر اكرم (ع) سے تمسك كرنا خدا وند عالم كے فضل و رحمت سے بہرہ مند ہونے كا باعث بنتاہے ۔

پھر اسی بات کو زرا مزید واضح کرتے ہوئے نکتہ نمبر 5 اور 6 میں یوں بیان کرتا ہے کہ ۔ ۔5 ۔ ۔ ۔_ خدا وند متعال پر ايمان اس وقت ثمر بخش اور مفيد ثابت ہوگا جب قرآن كريم اور پيغمبر اكرم(ص) سے تمسك كيا جائے_

6_ خداوند متعال اپنے ساتھ متمسك ہونے والے مؤمنين كو راہ مستقيم كى ہدايت كرتاہے

ان دونوں نکات میں شیعہ مفسر نے اللہ اور اسکے رسول اور قرآن کہ ساتھ تمسک کو کامل ایمان بار آور ایمان یعنی ثمر آور ایمان کا معیار نقل کیا ہے یعنی اللہ اور اسکے رسول اور قرآن سے تمسک کیا جائے یعنی جڑا جائے اور پھر اسی کو نکتہ نمبر 6 میں صراط مستقیم کے لیے شرط قرار دیا اب غور کیجیئے شیعہ مفسر تو کہہ رہا ہے کہ صراط مستقیم کو پانے کے لیے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسکی کتاب کہ ساتھ جڑ جاؤ تو اللہ تمہیں سیدھا راستہ دکھا دے گا جب کہ ہمارے ممدوح فرماتے ہیں کہ سیدھا راستہ سے مراد ہی حضرت علی ہیں جب کہ شیعہ مفسر نے یہاں ایک بھی تفسیر قول میں صراط مستقیم سے مراد براہ راست حضرت علی کو نقل نہیں کیا فاعتبروا یااولی الابصار ۔ ۔


معزز قارئین کرام ہمارے ممدوح کا دعوٰی یہ ہے کہ صراط مستقیم سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں لہذا قرآن میں سورہ فاتحہ میں جہاں یہ لفظ صراط مستقیم آیا وہاں بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے لہذا اسی ضمن میں اپنے دعوٰی کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے جو جو پاپڑ بیلے ہیں ہم ان سب کا قلع قمع ان شاء اللہ العزیز اس سے اگلا مراسلہ میں کریں گے تب تک کے لیے اجازت دیجیئے والسلام ۔ ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-07-11), ننھا بچہ (26-07-11), ملک اظہر (20-11-11), احمد نذیر (26-07-11), ارشد کمبوہ (27-07-11), حیدر Rehan (27-07-11), حسن قادری (28-07-11), راجہ اکرام (27-07-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 08:39 PM   #12
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,505
کمائي: 52,382
شکریہ: 5,862
3,220 مراسلہ میں 6,929 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلامُ علیکم آبی بھائی
ہمیشہ کی طرح انتہائی معلوماتی اور مفید ترین مراسلہ بہت سے شکوک و شبہات دور ہوئے
جزاءک اللہ خیر
ننھا بچہ آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (27-07-11), سیفی خان (26-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11)
پرانا 26-07-11, 09:53 PM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,075
شکریہ: 4,381
1,826 مراسلہ میں 6,818 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گذشتہ سے پیوستہ

اسلام علیکم معزز قارئین کرام ہمارے ممدوح کا دعوٰی یہ ہے کہ صراط مستقیم سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں لہذا قرآن میں سورہ فاتحہ میں جہاں یہ لفظ صراط مستقیم آیا وہاں بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے لہذا اسی ضمن میں اپنے دعوٰی کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے جو جو پاپڑ بیلے ہیں ہم ان سب کا قلع قمع ان شاء اللہ العزیز یہاں اس مراسلہ میں کریں گے ۔

ہمارے ممدوح ایک سوال کی سرخی قائم فرما کر رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔
اقتباس:
ایک سوال اور اسکا جواب . . .
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں، کیا ہم گمراہ ہیں؟
معززقارئین کرام ہہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ ایک مسلمان جب سورہ فاتحہ میں اھدنا الصراط المستقیم کی دعا کرتا ہے تو اس سے مراد دوام و قوام اور استقامت ہدایت ہے یعنی اس سے مراد ہدایت پر جمے رہنا ہے نہ کہ بندہ جب اس مقام پر ہوتا ہے تو اس سے مراد ہنوز طلب ہدایت بایں معنی کہ عدم دستیاب ہدایت اور عدم معرفت ہدایت ہے کیونکہ ہدایت تو اس نے یعنی اللہ نے دے ہی دی اور دکھلا بھی دی تبھی تو بندہ اس کے حضور سر بسجود ہوا ۔لہذا خوامخواہ میں ہمارے ممدوح نے تعلی کرتے ہوئے ایک سرخی جمائی اور نہ جانے اپنے تئیں اپنے اس کاپی پیسٹ علم کی اس عجب طریق سے تشہیر کی سعی نامراد کیوں کی ؟؟؟۔۔

پھر ہمارے ممدوح نے ایک اور راز کی سرخی جما کر ایک عجب اور مضحکہ خیز گوہر افشانی کی ہے زرا ملاحظہ ہو موصوف کی یہ عبارت ۔۔

اقتباس:
ایک اور راز . .. . .
بس جو لوگ الحمد شریف پڑھنے کے بعد ’’آمین‘‘ کہتے ہیں وہ درآصل صراط مستقیم کے لیے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دکھا دے یعنی ابھی تک دکھی نہی ہے. اور جو لوگ ’’الحمدللہ رب العاالمین‘‘ کہتے ہیں یعنی اللہ کا شکر وہ لوگ کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ صراط مستقیم نہ صرف دیکھائی ہے بلکہ اس پر لے بھی آیا ہے.
اول تو نہ جانے یہاں وہ راز کیا تھا کہ جسکی نقاب کشائی فرمائی گئی اور پھر عبارت کو اس قدر الجھا دیا کہ بجائے کسی راز کہ کشاء ہونے کہ عبارت خود ایک مضحکہ خیز راز بن گئی ہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ ۔
فرماتے ہیں کہ جو لوگ الحمد پڑھنے کہ بعد آمین کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ اجی حجرت ہم پوچھتے ہیں کیا آپ الحمد پڑھنے کہ بعد آمین نہیں کہتے ؟؟؟ سب ہی کہتے ہیں سنت ہے ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
اچھا جی فرماتے ہیں کہ جو لوگ الحمد کہ پڑھنے کہ بعد آمین کہتے ہیں انکی دعا یہ ہوتی ہے کہ ہمیں سیدھی راہ دکھادے لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔
یہاں پر یہ کیسے ثابت ہوا؟؟؟ اور کس دلیل سے ثابت ہوا ؟؟؟ آگے فرماتے ہیں جو لوگ الحمد للہ رب العٰلمین کہتے ہیں وہ اللہ کا شکر کرتے ہیں بایں معنی کہ انھے سیدھا راستہ نہ صرف معلوم بھی ہوتا ہے بلکہ وہ خود کو سیدھے راستے پر ہی تصور کییے ہوتے ہیں ۔
اب کوئی ان حضرت سے پوچھے کہ کیا جو لوگ الحمد شریف پڑھ کر آمین کہتے ہیں کیا وہ الحمد شریف کی یہ آیت چھوڑ جاتے ہیں یعنی
"الحمد للہ رب العٰلمین " ؟؟؟ وہ بھی تو یہی آیت تلاورت کرتے ہیں اور اللہ کا شکر کرنے والے ہیں اور جب آپ کے نزدیک یہ آیت پڑھنے والے اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہی ہوتے ہیں تو پھر یہ کیا کھینچا تانی فرمائی ہے جناب نے اور کیا فضول کی قلا بازیاں لگائی ہیں کہ جس کا جھول سب پر واضح ہے کہ ادھر پکڑو اُدھر نکلے اُدھر پکڑو تو ادھر نکلے ۔ ۔ ۔
اب ایسی عبارات کو کوئی سفاہت کا پلندہ نہ کہے تو کیا کہے ؟؟؟


پھر آگے جناب نے مختلف ائمہ اہل بیت سے خود آل رسول اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ فضائل نقل کیئے ہیں جو درست بھی ہوں تو وہ نہ تو موضوع بحث ہیں اور نہ ہی مسئلہ نزاعیہ اس لیے لہزا ان پر ہمارا تبصرہ محض عبث ہے ۔ ۔

پھر آگے جاکر ہمارے ممدوح نے بالترتیب پہلے انبیاء و قرآن پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر خود اللہ کہ صراط مستقیم ہونے کی سرخی جماکر چند آیات نقل کی ہیں اور پھر اسی طرح انکے بعد مومنین اور پھر شیطان کہ صراط مستقیم پر بیٹھ کر مومنین کو گمراہ کرنے کی سرخی جمائی ہے
نہ جانے ہمارے ممدوح ان مختلف سرخیوں کو جما کر ان سے کیا نتائج و عواقب اخذ کرنا چاہتے ہیں ؟

سیدھی سیدھی اور صاف اور بالکل نمایاں بات ہے کہ قرآن میں جہاں اللہ کو صراط مستقیم پر بتلایا گیا ہے تو وہاں سے مراد سیدھی راہ پر چل کر مومنین کا اللہ کو پالینا ہے یعنی صراط مستقیم پر چل کر ہی کسی کو اللہ مل سکتا ہے اور یہی مراد ہے اللہ پاک کے صراط مستقیم پر ہونے کی نہ کے اس سے نعوذباللہ من ذالک کوئی حسی راستہ مراد ہے کہ جس پر بالعفل پہلے اللہ پاک چلتا ہے اور پھر وہیں اس راستہ پر بالفعل بیٹھا ہوتا ہے نعوذباللہ لہزا نتیجتا جب اسکی مخلوق اسی راستہ پر اگر بالفعل چلے تو تب وہ اللہ کو پاسکتی ہے ۔

ارے خدا کے بندے قرآن میں جہاں جہاں صراط مستقیم کی بات کی گئی اس سے مراد اللہ اور اسکے رسولوں کا لایا ہوا راستہ اور دین مراد ہوتا ہے کہ جس پر چل مخلوق خدا خود خدا تک پہنچ سکتی ہے اور اللہ کو پا سکتی ہے بایں معنی کہ خدا کا قرب و معیت ان کو مل سکتا ہے لہذا وہ راستہ قرآن و سنت کا ہی راستہ ہے ۔۔۔۔

پھر شیطان کو جو اس صراط مستقیم پر کہا گیا تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ شیطان ہدایت یافتہ ہے اور دوسروں کو ہدایت دینے والا ہے اور اسی نیت سے وہ صراط مستقیم پر بیٹھا ہے بلکہ وہ بطور نقب زن کہ ہے( اور یہ بات آپکو بھی تسلیم ہے)۔ یعنی صراط مستقیم پر شیطان تو ہے مگر وہ لوگوں کو اس سیدھے راستہ سے بھٹکانے کے لیے ہے اور اس پر خود شیطان کو بھی اعتراف ہے کہ میرے اس دام فریب میں " اے اللہ تیرے مخلص بندے ہرگز نہ آئیں گے " لہذا جو شیطان کے محض صراط مستقیم پر ہونے کو ہی حق پر ہونے کی علامت سمجھے اور وہ شیطان کہ اس مقصد کو نہ دیکھے کہ وہ کیوں صراط مستقیم پر بیٹھا ہے تو پھر اسے چاہیے کہ اپنے عقیدہ کہ مطابق شیطان کو اپنا پیشوا بھی مان لے اور اسی کہ نقش قدم پر چلتا بنے۔ جب کہ ہم مومنین یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ شیطان کا صراط مستقیم پر ہونا شیطان کہ حق کی علامت نہیں بلکہ اس کے ارادہ اغواء مومنین اور نقب زنی کی وجہ سے باطل کی علامت ہے


پھر اسکے بعد ہمارے ممدوح نے ایک سوال کی سرخی قائم کرکے ایک بے ہودہ اور عقل سے پیدل سوال نقل کرکے اس پر بے جا تعلی فرمائی ہے اور بار بار جتلایا ہے کہ اس کا جواب نہیں آیا درج زیل میں وہ سوال ہے پھر اسکے بعد ہم اسکا جواب اور موصوف کی جہالت اور مبلغ علمی کا بھی پردہ چاک کریں گے ۔ ۔

فرماتے ہیں
اقتباس:
ایک سوال : جس راستے پر اللہ تعالی خود ہے اور رسول خدا ص ہیں مومنین ہیں اور شیطان خود بھی بیٹھ گیا ہے یہ کہہ کر کہ میں کسی کو اگے بڑھنے نہی دونگا جو راستہ اللہ اور رسول اللہ ص اور مومنین کے نیچے ہے. وہ راستہ اللہ کے اوپر کس طرح ہوسکتا ہے.??


ہمارے فاضل دوست کو بڑا شوق ہے اپنا مذہب نا مہذب یہاں پاک نیٹ پر پھیلانے کا اور عقل اور علم شریف اتنا ہے کہ قرآن پاک میں وارد " صراط مستقیم " کو مادی اور حسی راستہ تصور کیئے بیٹھے ہیں یعنی کہ صراط مستقیم بالفعل مادی اور حسی طور پر کسی جگہ یا مقام کا نام ہے جو کہ اس کائنات میں کسی جہت یا طرف میں واقع ہے تبھی تو حضرت کو ایک عجیب الجھن درپیش ہے کہ جس راستے کہ اوپر اللہ اور انبیاء و مومنین اور حٰتی کہ شیطان بھی ہے وہ راستہ اللہ کہ اوپر کس طرح سے ہوسکتا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
یعنی عجب تماشا ہے ان کی عقل کہ جب خود کو تسلیم ہے کہ اللہ صراط مستقیم پر ہے اور یہاں پر سے مراد جناب بالفعل اوپر ہونا لے رہے ہیں یعنی اوپر کی سمت لے رہے ہیں تو پھر یکایک ایسی کیا افتاد آن پڑی کہ ایک دم سے نیچے کی سمت میں تعمل فرمایا جناب نے ؟؟؟؟
معلوم ہوتا کہ حضرت کو حرف جر علی بمعنی پر (اوپر) ہونے سے شبہ لاحق ہوا ہے ۔ پہلے تو ہم جناب کی عقل شریف اور علم شریف میں یہ وارد کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن پاک میں وارد " صراط مستقیم " کوئی حسی یا مادی راستہ نہیں ہے کہ جسکی کوئی سمت یا جہت یا طرف مقرر ہو اور وہ اس کائنات میں کسی خاص مقام کی طرف واقع ہو کہ جہاں پر پہنچ کر اور اس پر بالفعل چل کر مخلوق خدا صراط مستقیم کو پانے والی کہلاتی ہو بلکہ وہ صراط مستقیم معنوی اور صوری راستہ ہے اور اس سے مراد معرفت باللہ ہے اور اسکا ذریعہ قرآن اور صاحب قرآن اسی طرح انبیاء کرام اور انکا طریق معنوی و صوری ہے ۔

اب آئیے اسی بات کی گواہی آپ کہ گھر سے دیں کہ صراط مستقیم سے مراد کوئی مادی یا حسی راستہ نہیں بلکہ اللہ اور رسول کا بتلایا ہوا صوری اور معنوی طریق ہے ۔چناچہ مشھور شیعی مفسر کہ جسے شیعہ نے اپنی ویب سائٹ پر " مرجع المسلمین آیۃ اللہ العظمیٰ السید ابو القاسم الموسوی الخوئی (رح
" کہ سابقوں اور لاحقوں سے یاد کیا ہے وہ اپنی تفسیر" البیان فی تفسیر القرآن "
میں زیر بحث آیت یعنی " اھدنا الصرط المستقیم " میں لفظ صراط کی لغوی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔

الصراط
''صراط،، وہ راستہ ہے جس پر چلنے سے انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے البتہ کبھی کسی غیر محسوس چیز کو بھی ''طریق،، کہا جاتا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے ''الاحتیاط طریق النجاۃ ،، یعنی '' احتیاط راہ نجات ہے،، اطاعتہ اللہ طریق الی الجنتہ،، یعنی ''اللہ کی اطاعت بہشت تک پہنچنے کا راستہ ہے،،
غیر محسوس طریق کو یا اس لئے ''طریق،، کہا جاتا ہے کہ لفظ ''طریق ،، طریق محسوس اور طریق غیر محسوس دونوں کیلئے استعمال ہو گا یا تشبیہ اور استعارہ کے طور پر غیر محسوس طریق کو بھی طریق کہا گیا ہے۔ ۔۔

قارئین کرام شیعہ مفسر کی لفظ " صراط " کی اس لغوی تفسیر واضح ہوا کہ آیت " اھدنا الصراط المستقیم " میں لفظ " صراط " صوری اور معنوی اعتبار سے " طریق " یعنی رستہ کہ معنی میں ہے لہذا اس تفسیر سے ہمارے ممدوح کے تمام باطل اور غیر عقلی شبہات کا رد ہوا کہ جنھے نقل کر کے وہ اپنے تئیں بڑے طمطرا ق سے فرما رہے تھے کہ میرے سوال کا جواب نہیں آیا حضور ہماری آپ سے عاجزانہ گذارش ہے کہ آپ یہاں پاک نیٹ پر اپنے علم کا نور شریف پھیلانے سے پہلے خود اپنے گھر کا مطالعہ اچھی طرح کرکے آیا کیجیئے کیونکہ آپ کہ اکثر و بیشتر مراسلات میں آپ نے جو مؤقف پیش کیا ہوتا ہے وہ خود آپ کے مذہب کی معتبر کتابوں کہ خلاف ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہوتی ہے کہ میں اکثر آپ کے مراسلات سے صرف نظر برتتا ہوں کہ اب کون روز روز سر کھپائے اور اتنی محنت کرکے کہ آپ کی لایعنیوں اور سفاہتوں اور جہالتوں کے پردے چاک کرتا پھرے ۔ اب دیکھیں ناں فقط آپ کے ایک موقف کہ " قرآن میں حضرت علی کو صراط مستقیم کہا گیا ہے " کہ پردہ کو چاک کرنے کے لیے ہمیں کس قدر طوالت اختیار کرنا پڑ رہی ہے کہ تاک اتمام حجت ہوجائے اب روز روز ایسی محنت کرنے کا نہ تو کسی کہ پاس وقت ہوتا ہے اور نہ ہی ہمت ۔ ۔ ۔

پھر اسکے بعد ہمارے ممدوح نے سورہ حجر کی آیت نمبر 41 نقل کرکے عجب بھونڈا اعتراض وارد کیا ہے کہ جسکا ایک حد تک ازالہ تو اوپر ہماری بیان کردہ شیعہ مفسر کی تصریح سے ہوگیا ہے کہ صراط کا مطلب کوئی مادی یا حسی راستہ نہیں بلکہ اس سے غیر مادی اور معنوی طریق مراد ہے ۔لہذا اس سے موصوف کے درج زیل شبھات بھی آٹو میٹکلی مردود ٹھرے ۔ ۔


فرماتے ہیں کہ ۔ ۔

اقتباس:
جس صراط/ راستہ پر چلا جاتا ہے وہ راستہ خدا سے اوپر کیسے ہوسکتا ہے بس چلنے والہ اللہ سے اوپر نہی چل سکتااور یہ بھی باطل اور غلط ہے. پس سیدھی راہ وہی ہے جس پر رسول خدا ص ہیں اور مومنین ہیں اور خدا سے اوپر کوئی شے نہی ہے ھو فوق کل شئی .. وہ ہر شے سے اوپر ہے بس خدا سے اورپر تلفظ اعراب لگا کر علی سے عَلَيَّ سے ثابت کی گئی ہے وہ غلط ہے باطل ہے کیونکہ خدا سے اورپر کوئی شئے نہی ہے بس یہ دشمنی و بغض مولا علی میں ہی تسلیم کیا گیا ہے کہ اسم مقدس علی کو اعراب غلط دے کر عَلَيَّ بنایاگیا ہے جس سے خدا کی نافرمانی ثابت ہوتی ہے
یہاں پر موصوف کہ دو اعتراض ہیں‌ ایک عقلی اور دوسرا نقلی عقلی شبہ تو موصوف کی بد عقلی پر مبنی تھا سو اسکا جواب تو شیعہ مفسر کہ حوالہ سے اوپر گذر گیا کہ یہاں صراط سے مراد کوئی مادی راستہ نہیں جو کہ کسی سمت یا جہت یا طرف میں ہو کہ جس کہ اوپر یا نیچے نعوذباللہ من ذالک خدا کو ثابت کیا جائے اللہ تو پاک ہے تمام جہات سے اور وہ بلند و منزا ومبرا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ مومنین کے لیے یہ حکم ہے کہ تم جدھر بھی جس طرف بھی منہ کرلو اللہ کو اسی طرف پاؤ گے یعنی اللہ پاک بالفعل کسی سمت یا جہت میں نہیں ہے مگر ہاں مخلوق کہ اعتبار سے جو بھی جہات تمہارے لیے مقرر ہیں وہ چاہے اوپر ہوں یا نیچے دائیں ہوں یا بائیں اور آگے ہوں یا پیچھے ان میں سے ہر سمت اور طرف اور جہت اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے اور اگر خصوصیت کہ ساتھ اللہ پاک کا کسی سمت میں ہونا اگر قرآن پاک میں بیان ہی ہوا ہے تو وہ ہے اوپر کی طرف مگر وہان بھی اوپر کا معنی مادی یا حسی سمت نہیں بلکہ معنوی اور صوری اعتبار سے اوپر کی سمت ہے اور وجہ اسکی یہ ہے کہ اوپر ہونا بلندی اور رفعت کی علامت ہے سو یہی وجہ ہے کہ اللہ کو فوق کہا جاتا ہے لہذا اللہ حقیقتا ہر شئے سے فوق ہے کہ وہ ہر شئے اس کی مخلوق ہے اور وہ خالق اس تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا سو اس حقیقی اعتبار سے بھی وہ فوق ہوا اور صورا بھی وہ ہر شئے پر فوق ہے کہ وہ ہر شئے سے بلند ہے کیونکہ وہ پاک ہے کسی بھی سمت یاجہت یا طرف میں ہونے سے لہذا وہ پاک و بلند اعلٰی و ارفع و منزا و مبرا ہے ۔

معزز قارئین کرام سورہ حجر کی آیت نمبر41 میں لفظ علی کے اعراب کا جواب دینے سے پہلے میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ نظم قرآن کے حوالہ سے سورہ حجر کی اس آیت کا تفصیلی نقشہ آپ سب کہ سامنے رکھ دوں تو معزز قارئین کرام سورہ حجر کی اس آیت میں شیطان ابلیس کے ساتھ اللہ پاک کے اس مکالمہ بطور تتمہ نقل ہوا ہے جو کہ اسی سورہ کی آیت نمبر 32 سے شیطان کہ انکار سجدہ آدم کے بعد شروع ہوا ۔۔
زیل میں آیت نمبر 32 سے لیکر 41 تک سب کا فقط ترجمہ پیش خدمت ہے ۔ ۔

اقتباس:
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلاَّ تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَO
32. (اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہواo

33. (ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہےo

34. (اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا پس بیشک تو مردود (راندۂ درگاہ) ہےo

35. اور بیشک تجھ پر روزِ جزا تک لعنت (پڑتی) رہے گیo

36. اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گےo

37. اللہ نے فرمایا: سو بیشک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہےo

38. وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تکo

39. ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گاo

40. سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیںo

41. قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌO
41. اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہےo

42. بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کیo


معزز قارئین کرام آپ نے دیکھا شیطان کہ ساتھ یہ مکالمہ پیدائش آدم علیہ السلام کے وقت کا ہے جب کہ اس وقت تک حضرت علی ابھی تک عالم ارواح میں تھے لہذا جب شیطان نے یہ عرض کی مجھے مہلت دے اور کہا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا مگر میرے بہکاوے میں تیرے مخلص بندے نہ آویں گے تو تب اللہ پاک نے فرمایا کہ ہاں بلاشبہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہذا اس ضمن میں بعض علمائے اہل سنت نے لکھا کہ جب اللہ اور شیطان کا یہ مکالمہ چل رہا تھا اس وقت تمام فرشتے خدا کے حضور سربسجود تھے کہ انھوں نے اخلاص کہ ساتھ اللہ کہ حکم کی تعمیل میں اپنے سر خدا کہ حضور جھکا رکھے تھے ۔۔۔

تو تب اللہ پاک نے ھذا اسم اشارہ قریب فرما کر کہا یہ ہے میرا راستہ ہے جو کہ سیدھا میری طرف لوٹتا ہے ۔

مگر آپ نے دیکھا کہ ہمارے ممدوح نے کس قدر حماقت سے کام لیتے ہوئے یہاں پر اعراب کی فضول اور لایعنی بحث کو گھسیڑ کو اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جب اللہ شیطان سے مکالمہ فرما رہا تھا وہاں اس وقت حضرت علی کا یکلخت ذکر کیسے آگیا ؟؟؟؟ اور وہ اس وقت بھلا وہاں کب تھے ؟؟؟ کہ جن کی طرف اللہ پاک نے ھذا اسم اشارہ قریب کہ ساتھ اشارہ فرما کر فرمایا کہ یہ میرا راستہ ہے ۔

جہاں تک بات ہے اعراب کی تو ہمارے ممدوح کو یہ نہیں معلوم کہ اعراب کا بالفعل قرآن کی کتابت میں لگانا ایک دیگر امر ہے اور مختلف اعراب کا قرآن کی قرآت میں پڑھا جانا ایک امر دیگر۔ یہ بات درست ہے کہ حجاج بن یوسف نے قرآن کی کتابت میں اعراب لگوائے مگر وہ عجمیوں کی سہولت کے لیے تھا نہ کہ قرآن میں اصلا کوئی اضافہ لہذا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ قرآن بغیر اعراب کے نازل ہوا تھا آخر کو قرآن کے ہر ہر لفظ کا ایک تلفظ اور پرونانسی ایشن ہے وہ بغیر اعراب کہ ادا نہیں ہوسکتی لہذا اب کوئی جاہل ہی ہوگا کہ وہ قرآن کہ اعراب کو ایک مخصوص وقت میں عجمیوں کی سہولت کے لیے قرآن کی کتابت میں لگائے جانے کو بنیاد بنا کر قرآن کے اعراب کا سرے سے ہی انکار کرڈالے ۔۔
اگر قرآن پر اعراب نہ پڑھیں جائیں تو پھر آپ ہی بتلائیے کہ کیا قرآن میں صرف لفظ " علی " ہی آیا ہے کہ جسے ہر جگہ حضرت علی کہ نام کے بطور پڑھا جائے یا دیگر بھی بہت سے اسماء، افعال اور حروف آئے ہیں؟؟؟ پھر انکو کس اعراب کہ تحت پھر پڑھا جائے گا؟؟؟؟ اہل عرب تو چونکہ زبان دان ہیں انکو قرآت کے لیے کسی اعراب کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی وہ بولتے ہوئے تمام حروف کو مکسور۔ مجرور ، مضموم اور مجذوم ضرور پڑھتے ہیں ۔ مگر اب وہ کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کہ اعراب کی قرآن پاک میں عجمیوں کے لیے مخصوص تخصیص کو بنیاد بنا کر اعراب قرآن کے قرآن پاک پر ہونے کا ہی انکار کردے ۔

پھر اسکے بعد حضرت سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ کا تو دعوٰی ہے کہ قرآن میں سورہ فاتحہ اور اس آیت میں صراط مستقیم سے مراد حضرت علی ہیں تو پھر آپکو چاہیے کہ بجائے تفسیری حوالہ جات نقل کرنے کہ واضح نصوص قرآن نقل کریں جو کہ دلالت النص یا عبارت النص یا اشارۃ النص یا پھر اقتضاء النص سے پایا ثبوت کو پہنچے یہ کیا حرکت ہوئی کبھی حضرت علی کو قرآن پاک سے صراط مستقیم ثابت کرنے کے لیے حدیث من کنت مولاہ کا سہارا لیتے ہو اور کبھی اعراب قرآن کا انکار کرکے ایک حرف جر کو حضرت کا اسم مبارک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو حالانکہ اگر میں جناب سے یہ پوچھ لوں کہ حضرت علی کا نام اسم جامد ہے یا اسم مشتق تو جناب کو اپنی کاپی پیسٹ ویب سائٹس سے اس سوال کا جواب ڈھونڈے میں خاصا عرصہ درکار ہوگا اور پھر اگر میں اسی آیت کی ترکیب نحوی پوچھ لوں تو تب بھی حضرت کی گھگھی بندھ جائے گی لہذا آپ پر بطور چیلنج سوال ہے کہ سورہ حجر کی اس آیت نمبر 41 کی ذرا نحوی ترکیب تو بیان کیجیئے ۔ ۔ ۔۔


قارئین کرام مراسلہ کافی طویل ہوگیا ہے مزید اعتراضات کا ازالہ اس سے اگلے مراسلہ میں تب تک کے لیے والسلام ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by آبی ٹوکول; 27-07-11 at 04:18 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-07-11), ننھا بچہ (26-07-11), ملک اظہر (20-11-11), احمد نذیر (27-07-11), حیدر Rehan (27-07-11), راجہ اکرام (27-07-11), سیفی خان (26-07-11), شمشاد احمد (26-07-11), عبداللہ حیدر (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 10:35 PM   #14
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,461
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,927 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیر ۔ ۔ ۔ آبی بھائی آپ دفاع صحابہ کے لئے جو خدمات سر انجام دے رہے ہیں اللہ انہیں قبول فرمائے اور ہر کمی کوتاہی کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرمائے اور روز قیامت آپ کو صحابہ کرام کا ساتھ نصیب ہو اٰمین ثم اٰمین
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (26-07-11), نبیل خان (28-07-11), آبی ٹوکول (29-07-11), احمد نذیر (27-07-11), راجہ اکرام (27-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11), شمشاد احمد (26-07-11)
پرانا 26-07-11, 11:35 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ آبي بھائي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لطف آ گيا۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالي آپ كے اس وقت اور محنت كا بہترين صلہ عطا فرمائے۔۔۔۔

ہاں ايك مشورہ آپ نے شكوہ كيا كہ مضمون آپ نے لكھا تھا ليكن پاك نٹ كي ٹيكنيكل وجوہات كي وجہ سے‌وہ ضائع ہو گيا۔۔۔۔۔ ميں‌جانتا ہوں بہت كوفت ہوتي ہے۔۔۔‌اور پھر دوبارہ پہلے سے دہري محنت اور توانائي بھي لگا لي جائے‌ويسا مضمون تيار نہيں‌ہوتا۔۔۔۔۔ اس مشكل سے‌بچنے كا ميں ايك آسان راستہ ہميشہ اختيار كرتا ہوں۔۔۔‌
جب طويل مضمون لكھنا ہو تو پاك نٹ‌پر نہيں بلكہ ايم ايس ورڈ‌پر لكھيں۔۔۔۔ اور پھر كاپي پيسٹ كر ديں۔۔۔
يہاں پاك نٹ پر فارميٹنگ كے لئے بعض اوقات ضروري ہوتا ہے‌كہ يہاں ہي مضمون لكھا جائے۔۔۔۔۔‌تو اس كا طريقہ يہ اختيار كرتا ہوں كہ مضمون تحرير كرنے كے ساتھ ساتھ تھوڑي دير بعد سارے مضمون كو كاپي كيا اور ورڈ‌پر پيسٹ‌كر ديا۔۔۔۔‌پھر مضمون لكھنا شروع كر ديا۔۔۔۔۔ جب كچھ مزيد سطور تحرير ہو گئي انگڑائي لينے كے لئے ہاتھ اٹھأنے سے پہلے سب كو سليكٹ كيا اور ورڈ پر پيٹ كر كے سيو كر ديا۔۔۔
بسا اوقات كسي بھي مسئلہ كي وجہ محنت ضائع ہو سكتي ہے۔۔۔۔ جب فائل سيو ہو تو بہت عافيت ہو جاتي ہے۔۔۔

اور ہاں۔۔۔۔ ايك بار پھر بھرپور علمي تحرير پيش كرنے‌پر بہت بہت شكريہ
شمشاد احمد آف لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (27-07-11), ملک اظہر (20-11-11), آبی ٹوکول (27-07-11), احمد نذیر (27-07-11), ارشد کمبوہ (27-07-11), راجہ اکرام (27-07-11), سیفی خان (28-07-11), شھزادباجوہ (05-08-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پاک, قدم, قرآن, قران, لوگ, نماز, مولا علی, محبت, ایمان, اللہ, انسان, امام زین العابدین, اسلام, بھائی, تلاش, جواب, حکم, خدا, دوست, دل, درخواست, دعا, راستہ, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger