|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
دل جَلانے کی بات مت کیجیئے
آج جانے کی بات مت کیجیئے زخم کھایا ہے آج دل نے نیا مُسکرانے کی بات مت کیجیئے تو میری ذات سے جُدا تو نہیں بھول جانے کی بات مت کیجیئے ہے تیری ذات پہ یقین مجھے آزمانے کی بات مت کیجیئے تو مکیں ہے میرے خیالوں کا یاد آنے کی بات مت کیجیئے تووصل کی شب نہیں طویل صنم بیت جانے کی بات مت کیجیئے ہاتھ میں جام اور گناہ کا خیال؟ کُفر ڈھانے کی بات مت کیجیئے آپ رُکے ہی رہیں نگاہوں میں بہہ جانے کی بات مت کیجیئے ہم بھی باغی سے مل کر آئے ہیں اُس دیوانے کی بات مت کیجیئے
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,527
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مقطع خوب ہے۔۔۔۔۔۔!
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کھایا, گناہ, پہ, یقین, نگاہوں, مل, مت, باغی, جانے, جام, خیالوں, دیوانے, دل, ذات, رہیں, شکریہ, شاعری, شب, طویل, عمدہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|