|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کوئی sms نا کوئیemail
keypad پر تھرکتی انگلیاں ساکت ہیں دل کی دھڑکنوں کی طرح خالی in-box منہ چڑاتا ہے کسی فقیر کے خالی کشکول کی طرح draft میں پڑے درجنوں پیغام منتظر ہیں send کیئے جانے کے وہ خاموش لبوں سے کہتے ہیں، ہمیں بھیج دو، ہمیں بھیج دو موبائل کی تھرتھراہٹ سے آشنا دل کی دھڑکنیں اک مانوس سی سنسناہٹ کی منتظر ہیں ماﺅس کے cursorنے مدتوں سے send کے بٹن کا بوسہ نہیں لیا کیا یہی ہوتاہے انجام؟ سچ کہے جانے کا، بپتا سننے اور سنانے کا؟ میں سچ کہنے سے باز آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹ بولنے کی "برکتوں" سے مالامال اس معاشرے میں اب لکھنے کی تاب ہے نا طاقت خالی کاغذ پہ پھرتے پھرتے انگلیاں سیاہ ہوچکی ہیں اماوس کی گھنی رات کی طرح کوئی sms نا کوئیemail ! کہیں جانے والا نہیں کیونکہ اب کہیں سے کوئی جواب آنے والا نہیں! |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (13-11-11), proiub (13-11-10), rabab (30-04-10), sahj (30-04-10), فیاض انصاری (19-12-11), فیصل ناصر (30-04-10), ھارون اعظم (30-04-10), نورالدین (30-04-10), موجو (14-11-10), ایکسٹو (09-02-12), اویسی (30-04-10), حیدر (30-04-10), رضی (13-11-10), عارف اقبال (30-04-10), عبدالقدوس (13-11-10), عبداللہ آدم (13-11-10), عبداللہ حیدر (30-04-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
شروع سے تو مزاحیہ نظم معلوم پڑتی ہے لیکن ہے فکر انگیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ جی شاہد بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت بہت بہت
عمدہ شافریشہ بھائی ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() بہت اچھا انداز بیان ہے موجودہ دور تک کی شاعری میں یہ رواج رہا ہے کہ جدید دور کی کسی چیز کا نام سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا اگر ایسا کیا جائے تو وہ ہنسنے کے قابل سمجھی جاتی ہے ۔ اس رواج کو سب سے پہلے شاد عارفی نے توڑا تھا جس پر ان کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر اپنے کام اور انداز فکر کے دیوانے تھے ۔۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,534
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,211 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کبھی "کسی" کے غم کا شاہکار تو کبھی معاشرے سے بغاوت کی علمبردار محسوس ہوئی یہ آزاد نظم۔ تاہم مزا آیا پڑھ کر ۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب شاہد علی بھائی ۔۔
ایک اچھوتا اور منفرد خیال جسے نظم کی شکل میں پیش کیا آپ نے جدید ٹیکنالوجی نے شاعری کو بھی جدید بنا دیا ہے ۔۔ اب کبوتر کی پیغام رسانی کے قصے تو شاید آئندہ نسل کے لیے ناقابل یقین بات ہو جائے
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | shafresha (30-04-10), ھارون اعظم (30-04-10), نورالدین (30-04-10), حیدر (30-04-10), عبداللہ آدم (30-04-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اپنے نئے ساتھیوںکی خدمت میں پیش ہے!
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
شکریہ سر جی!!!!!!!!!!!!!
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,527
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت عمدہ جناب!!!! ، بہترین نظم لکھی ہے اور آخر کی لائنز تو بہت اچھی لگیں!
کوئی sms نا کوئیemail ! کہیں جانے والا نہیں کیونکہ اب کہیں سے کوئی جواب آنے والا نہیں! |
|
|
|
| Miss Khan کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (09-02-12) |
![]() |
| Tags |
| color, send, sms, فقیر, کہنے, کوئی, کاغذ, پہ, پھرتے, پڑے, یہی, والا, لکھنے, لبوں, موبائل, منہ, انگلیاں, بٹن, باز, تاب, جانے, خاموش, درجنوں, رات, سنانے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|