| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() گریٹ گیم کے ابتدائی منصوبوں کے مطابق انگریزوں نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو وہاں سے اپنے فوجیوں کے لاشیں چھوڑ کر پسپا ہوئے۔ لیکن پسپا ہوتے ہوتے انہوں نے برصغیر کے علاقے بلوچستان پر قبضہ کر لیا تاکہ گریٹ گیم کے کھیل کو جاری رکھا جا سکے۔ گریٹ گیم کیا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں ، اس سے پہلو تہی کرتے ہوئے ، آج ہم گریٹ گیم کی وجہ سے گزشتہ صدی کے ایک بہت بڑے شاہکار کے بارے میں جانیں گے جس نے بلوچستان میں جنم لیا۔ اس شاہکار کا نام ہے "کھوجک/خوجک ٹنل"۔ یہ ایک سرنگ ہے جو بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں 1891 میں کھودی گئی تھی تاکہ افواج کو باآسانی افغانستان کے بارڈر تک پہنچایا جا سکے۔ اس ٹنل کی اہمیت کی وجہ سے حکومت پاکستان نے 5 روپے کے پرانے نوٹ پر بھی اس کی تصویر جاری کی تھی ۔ ![]() کھوجک یا خوجک پشتو زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ٹیڑھا میڑھا یا زگ زیگ۔ خوجک ٹنل ، کوئٹہ۔چمن ریلوے لائن پر ، کوئٹہ سے 113 کلومیٹر کے فاصلے پر ، شیلا باغ اور سانزلا کے گاؤں کے درمیان ، خواجہ عمران کے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے۔ اس ٹنل کی کل لمبائی 3 اعشاریہ 912 کلومیٹر ہے جو اپنے وقت میں ایشیا کی سب سے بڑی سرنگ شمار کی جاتی تھی۔ اس وقت بھی اس سرنگ کا شمار پاکستان کی دوسری بڑی سرنگ میں کیا جاتا ہے (گزشتہ سال لواری ٹنل پاکستان کی سب سے بڑی سرنگ بن گئی) ۔ جبکہ یہ ایشیا کی چوتھی بڑی سرنگ اور دنیا کی آٹھویں بڑی سرنگ شمار کی جاتی ہے،۔ چونکہ اس وقت انڈیا میں مطلوبہ مہارت رکھنے والے مزدور دستیاب نہ تھے اس لیے انجینیز اور مطلوبہ سامان برطانیہ سے منگوایا گیا۔ جبکہ دیگر مزدور انڈیا سے ہی بھرتی کیے گئے۔ نذیر لغاری اپنے مضمون میں یوں رقم طراز ہیں "ہرات قندھار، غزنی، سیستان، سبی، کابل ، بنوں ، جلال آباد، ملتان، خیر پور حیدر آباد، ڈیرہ غازی خان، کشمیر ، تبت ، قلات، مکران اور کافرستان سے مزدور بلوائے گئے۔ بنگال سے اینٹیں بنانے والے ، بھٹوں میں پکانے والے اور انگلینڈ کے قریب ویلز سے 66 کے قریب کان کن منگوائے گئے۔ 6000 سے زائد روشنی دینے والے چراغ منگوائے، روزانہ 80 ٹن سے زائد دپانی کے ٹنیکرز منگوائے گئے۔خؤجک پاس کے دونوں اطراف سے کام کا آغآز کر دیا گیا۔ انگریز انجنیر نے کہا کہ ہم تین سال بعد5 ستمبر کو اس مقام پر آپس میں آ ملیں گے اور فتح کا جشن منائیں گے " 14 اپریل 1888 میں اس ٹنل پر کام کا آغاز ہوا اور 5 ستمبر 1891 کو اس ٹنل پر پہلے سٹیم انجن نے اپنے سفر کا آغآز کیا۔ تاہم یہ کہانی اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔ خوجک پاس سطح سمندر سے 5394 فیٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس علاقے میں ہر وقت انتہائی یخ بستہ ٹھنڈی اور تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ ان ہواؤں کی وجہ سے وہاں پر آنے والے مزدور تیزی سے بیمار پڑنے لگ پڑے۔ اور ان میں ٹائیفائیڈ کی وبا پھیل گئی۔ صرف ایک موسم سرما نے وہاں 800 سے زائد مزدوروں کی جان لے لی۔ اس سخت موسم اور گھروں سے ہزاروں میل دور بے آب و گیاہ علاقے میں ہونے کی وجہ سے مزدوروں میں بد دلی پھیلنا شروع ہو گئی اور مزدور وہاں کے سنگلاخ پہاڑوں کی بے رحمی سے گھبرا کر راہ فرار اختیار کرنا شروع ہو گئے ۔ حکومت ہند کے لیے یہ صورت حآل سخت تشویش ناک تھی۔ وہ یہ پرجیکٹ ہر صورت میں مکمل کرنا چاہتی تھی ۔ چناچہ وہاں کی مینجمنٹ نے ایک بولڈ سٹیپ لیا اور مزدوروں کے لیے تفریح طبع کا سامان مہیا کرنے کا فیصلہ کیا۔ کلکتہ سے مشہور ہندو رقاصہ "شیلا" کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ تھکے ہارے مزدوروں کو اپنے جادو بھرے رقص دکھا کر شانت کرے۔ جس مقام پر "شیلا" رقص کرتی تھی اس مقام کا نام شیلا باغ رکھ دیا گیا ![]() نذیر لغاری لکھتے ہیں "شیلا باغ کا نام اس رقاصہ کے نام پر رکھ دیا گیا جو دن بھر کے تھکے ہارے مزدوروں کو اپنے تھرکتے، بل کھاتے اعضا کے نرت بھاؤ سے فریفتہ کر دیا کرتی تھی۔ اس کے پیروں میں گھنگھرو بندھے ہوتے،وہ ایک بلند مقام پر بنے سٹیج پر اپنے نپے تلے قدموں کے ساتھ آگے بڑھتی۔ ان دنوں بلب ایجاد نہیں ہوا تھا اور مٹی کے تیل کے دیوں پر گزار کرنا پڑتا تھا۔ ہزاروں چراغوں کی لو کی روشنی میں شیلا بارش کے پانی کی طرح پہاڑ کے پہلو سے بر آمد ہوتی اور پہاڑی ندی کی طرح ٹپکتی بوندوں کی تال پر ہوا کی سرسراہٹ میں کسی پر اسرار نغمے کی لے پر اپنے گھنگھروں کی جھنکار کا آغاز کرتی ۔ ممبئی، لاہور اور قصور سے منگوائے گے سازندے، سازوں کی تاروں کو چھیڑتے، طبلے اور ڈھولک پر تھاپ لگاتے، سرندے کو کاندھے پر رکھ کر مضراب کی کی ضرب لگاتے اور یک تارے کی تار کو انگلی سے اشارہ کرتے تو پورب کا راگ چھڑ جاتا ، پہاڑی رقص کا نغمہ ابھرتا، سازندوں کے سروں سے نکلتا بھروی کا الاپ رقاصہ کے قدموں سے لپٹ جاتا اور شیلا وجد میں آتی اور پھر دم بخود کر دینے والا رقص وجود میں آتا۔ ۔۔جو ہزاروں مزدوروں کو سحر زدہ کر دیتا۔ـ’’ ![]() دن گزرتے گئے۔۔۔۔شیلا کے رقص سے مسحور مزدور ٹنل کی کھدائی میں اپنا خون پسینہ ایک کرتے گئے۔ حتیٰ کہ وہ دن ٓ گیا جس کا انگریز انجینئر نے وعدہ کیا تھا۔ یعنی ۵ ستمبر ،۔ وہ دن جس دن دونوں سائیڈ سے کھدائی ہوتی ٹنلز کو آپس میں ٓ ملنا تھا۔ لیکن اسی وقت ایک خوفناک حقیقت سامنے آئی۔ وہ یہ کہ کسی سروئیر کی غلطی سے دونوں اطراف کی سرنگیں ایک دوسرے کے بالکل سامنے نہیں تھیں۔ اُس وقت کا سب سے بڑا انجنرنگ پروجیکٹ پر کام رُک گیا۔ْ وہ انگریز ایجنئر اس قدر دل برداشتہ ہوا اپنی اس غلطی سے کہ وہ دھیمے قدموں سے پہاڑی کے کنارے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ وہاں موجود کسی بھی شخص کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اُسی وقت ایک چیخ نے سب کو چونکا دیا ۔ لوگ گھبرا کر کنرے کی طرف بھاگے تو یہ روح فرسا نظارے کو دیکھ کر لوگوں کے آنسو نکل گئے کہ ایجینیر نے اس غلطی کی پاداش میں خود کشی کر لی۔ لیکن اس معاملے کی سب سے دکھ بھری کہانی یہ ہے کہ جس وقت اُس نے خود کشی کی ، اُسی وقت دوسرا انجینیر اس مسئلہ کا حل نکال چُکا تھا۔ بے شک یار لوگ اس انجینیر کی خود کشی کو چھوٹے دلـ کی حرکت کہیں گے۔ لیکن اس معاملے کو دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اس قدر فرض شناس اور اپنے کام سے لگن رکھنے والا شخص تھا کہ اسے اپنی غلطی کے اس مداوے کی کوئی صورت ہی نظر نہ ائی۔ اس کے بر عکس ہمارے ملک کے نا اہل افراد کس طرح ملکی دولت برباد کر رہے ہئیں اس کی مثالیں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ دور کیوں جائیں خود بلوچستان میں ریکو ڈیک اور سیندک پروجیکٹ کا معاملہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ‘‘میں کسی سے خود کشی کی تمنا نہیں رکھتا۔لیکن کسی میں احساس ذمہ داری تو ہو’’ خیر ۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ دونوں سرنگوں کو ایک ‘‘جوڑ’’ کے ذریعے آپس میں ملا دیا گیا اور یہ سرنگ اُسی دن ہی مکمل ہو گئی جس دن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یعنی 5 ستمبر 1891۔اس ‘‘خطرناک’’ جوڑ کی خطرناکیت کم کرنے کے لیے سرنگ میں ایک گھنٹی لگا دی گئی ۔ جونہی ٹرین سرنگ میں داخل ہوتی ہے وہ گھنٹی بجنا شروع ہا جاتی ہے۔ اور جب ٹرین سٹاف کو وہ گھنٹی سنائی دیتی ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ سرنگ کا ‘‘جوڑ’’ یا درمیان آ گیا ہے۔ یہ گھنٹی آج بھی کام کرتی ہے۔ چمن تک ٹرین سروس کا آغاز ہو گیا ۔لیکن تب تک برطانیہ اس گریٹ گیم میں بُری طرح شکست کھا چُکا تھا۔ افغانیوں کے پنجے سے نکلنے کی ایک ہی صورت اسے نظر ائی اور وہ تھی ڈیورنڈ لائن۔ تُم اُدھر ہم اِدھر۔ اس سرنگ کو 125 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن یہ آج بھی اُسی آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ پر موجود ہے۔ نذیر لغاری رقم طراز ہیں ‘‘مگر ڈیڑھ صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد دنیا بدل گئی۔ کئی بار ورلڈ آرڈر تبدیل ہوا۔ پرانی عالمی طاقتوں کی جگہ نئی عالمی طاقتوں کا ظہور ہوا۔ خلافت عثمانیہ کا سورج انقرہ اور استنبول کے عجائب گھروں میں ڈوب گیا۔اس زمین کے کونے کونے پر چمکنے والا تاج برطانیہ کا سورج برٹش نیشنل میوزیم کی زینت بنا۔ زار روس کے اقتدار کو بالشویک انقلاب کھا گیا۔ بالشویک انقلاب کو دقیا نوسی عوام دشمن ریاستی مشینری، میخائل گوربا چوف، رونالڈ ریگن، ،امریکی سی آئی اے، ، سرد جنگ کی فرنٹ لائن سٹیٹ (پاکستان) اور افغان مزاحمت کار کھا گئے ، مگر ۱۵۴ سال گزر جانے کے باوجود ریلوے لائن چمن سے ایک کلومیٹر بھی آگے نا جا سکی۔‘‘ ![]() مرکزی ماخذ : 1: خؤجک ٹنل، شیلا کا رقص اور انجینیر کی چھلانگ:نذیر لغاری ایکسپریس نیوز۔ 1: پاکستانیات: آل تھنگز پاکستان (اے ٹی پی ڈاٹ کام) |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
سرورق کیلئے اپلائی کریں۔ شُکریہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بدر بھائی یہ ہے آپ کا اصل میدان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار آپ کہاں "وہاں" پر دھکم پیل میںلگے ہوئے ہیں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
یہ ذمہ داری آج کل آپ نے لی ہوئی ہے ۔
وہ کہاں ہیں جن کا یہ ٹریڈ مارک ہے ۔ ![]() سرورق کے لیے اپلائی کریں
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ہم علاقائی سیکشن سے زیادہ شیلا کی متوقع ایکسٹرا نالج کے لالچ میں یہاں آئے مگر یہ کیا یہاں تو ماجرہ ہی کچھ اور ہے ۔ مگر بہت ہی لاجواب دھاگہ ہے ۔ طبعیت صاف ہوگئی معلومات پڑھ کر ۔ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
زبردست حیدر بھائی بہت عمدہ ٹاپک بنایا آپ نے
معلومات نے دل خوش کر دئیا ساتھ ہی ساتھ آپ کی شیلا نے۔۔۔۔ ارمان ختم کر ڈالے
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
ویسے حیدر بھائی مائنڈ نہ کرنا بنا پنگالوجی کے اور آپ
مزہ نہیں آرہا۔۔۔ کوئی شیلا دا ہی سکیندل لا دیو |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کے یہ الفاظ میرے لیے اعزاز اور انعام ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ مجھے آپ کے ان الفاظ سے بہت خوشی ہوئی۔ اللہ آپکو خوش رکھے۔ آمین۔ اور یقین مانیے ۔۔۔میں نے یہ موضؤع آپ ہی کے لیے لکھا ہے۔ بس ٹاپک میں اس لیے مینشن نہیں کیا تھا کہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ ادھر آتے بھی ہیں کہ نہیں۔ آپکا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار سکینڈلیس کام سے دور ہی رہتا ہوں۔ میری پنگالوجی محض اس قسم کی ہوتی ہے جس کو شافی بھائی نے "وہاں پر" "دھکم پیل" کا نام دیا ہے۔
تاہم کوئی آئیڈیا دیں۔میرے پاس آئیڈیاز کی بہت کمی ہے۔ ۔ اگر پسند آیا تو ریسرچ کر ڈالوں گا۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بلوچستان کے ساحل پر بہت بڑے بڑے پہاڑوںمیں کٹے ہوئے گھر ہیں ۔ ان کے بارے میںلکھیںاور تصاویر فراہم کریںکہ یہ کون لوگ تھے جنہوں نے پتھروںکو تراش کر گھر بنائے۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ شاید "پرا سرار شہر روغان" کی بات کر رہے ہیں۔ اس بارے میں تھوڑا بہت تو مندرجہ ذیل ٹاپک میں موجود ہے۔ تاہم جو کُچھ بھی وہاں لکھا تھا ، میں خود بھی اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ کیونکہ آپ کے بیان کردہ شہر میں "ایسا بہت کُچھ ہے" جو انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں اور تحریر شکل میں جو ہے وہ "چھوٹے شہر" میں مقیم ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں ہو پا رہا ۔
شہر روغان کی پراسرار رہائیشیں |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (14-04-11) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس یار آج بالاخڑ ۔۔۔میرے پنڈورہ باکس کا مکھو ٹھپا گیا۔ اب میری کوشش ہو گی کہ یہ نہ ہی کھلے۔ میرے دستخط ہی دیکھ لو
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں اور کوشش کریں کہ لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل نہ ہوں۔ ہمیں پھر یہ اچھے اچھے مضامین کون دے گا۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (15-04-11) |
![]() |
| Tags |
| com, images, ہندو, فرض, کلومیٹر, گمان, پاکستان, ڈاٹ, لوگ, نظر, مکمل, آج, تاج, تصویر, حل, خون, سفر, سٹاف, سال, شخص, عمران, غلطی, غازی, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|