| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جن دوستوں کو کبھی بلوچستان کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو اور خاص کر انہوں نے بلوچستان کو ٹرین پر دیکھا ہو تو بلوچستان کے بے آب و گیاہ، سخت پتھریلے اور سنگلاخ پہاڑوں کی ہیبت کو ضرور محسوس کیا ہو گا۔ ان پہاڑوں کے بیچ سے جب ٹرین دھیرے دھیرے چلتی ہے تو انسان حیران ہو کر سوچتا ہے کہ ان علاقوں میں انسان کیوں کر زندہ رہ پاتا ہو گا۔ اور پھر اس کے ذہن میں یہ بات بھی آتی ہو گی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں ان علاقوں میں رہنا اس قدر مشکل ہے تو ہزاروں سال قبل تو ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط بلوچستان کا علاقہ ویران پڑا ہوتا ہو گا۔ اس علاقے نے شاید کبھی حضرت انسان کے قدموں کی چاپ تک نہ سُنی ہو گی۔
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بلوچستان نے آج سے ہزاروں سال قبل انسانی تہذیب کا عروج دیکھا ہے۔ اس علاقے نے اُس انسانی تہذیب کو پروان چڑھایا تھا جو اپنے وقت میں میسو پٹامیا اور فراعین مصر کی تہذیبوں کے سامنے فخر سے کھڑی تھی۔ اور اس گم گشتہ تہذیب کو ہمارے سامنے لانے کا سہرا دو فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ کے سر جاتا ہے جنہوں نے دس سال تک اس علاقے میں ڈیرے ڈالے رکھے اور قدیم ترین انسانی تہذیب کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس تہذیب کے سامنے آنے کی جو وجہ بنی وہ اس علاقے کے مقامی لوگ تھی۔ ان کو اکثر کسی جگہ کھدائی کے دوران پرانے برتن زیورات وغیرہ ملا کرتا تھے، جو یہ لوگ اپنی سادہ دلی کی وجہ سے یا تو باہر پھینک دیتے تھے یا پھر اونے پونے داموں کباڑیوں کو بیچ دیا کرتے تھے۔ گھومتے پھرتے یہ قدیمی نوادرات، کوئٹہ کی نوادرات کی دکانوں پر پہنچ جاتے ، جہاں منڈلاتے غیر ملکی انکو خرید کر اپنے ممالک لے جاتے۔ یہ سلسلہ نا جانے کب تک چلتا رہتا کہ ایسے ہی چند نوادرات نے ایک فرانسیسی محقق جین فرانسس کی توجہ اپنی طرف مبذل کروا لی۔ اُسکو محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ گویا خزانے کی کنجی لگ گئی ہے۔ اس نے ڈور کا وہ سرا پکڑا اور کھینچتے کھینچتے وہ پاکستان پہنچ گیا۔ 1974 میں اُس نے اس علاقے میں قدیم انسانی تہذیب کے آثار موجود ہونے کا اعلان کیا اور 1974 سے 1986 تک اس علاقے میں موجود رہ کر کھدائی کرواتا رہا۔ اسکی تحقیق ،جس کو جدید سائنسی جرنلز کی سپورٹ حاصل ہے ، کے مطابق اس علاقے میں 2 مربع کلو میٹر کے ایریا پر تقریباً 7000 سال قبل مسیح پرانے ایک گاؤں کے آثار ملے ہیں۔ یہ آثار دنیا میں اپنی نوعیت کے قدیم ترین انسانی تہذیب کے آثار تصور کیئے جاتے ہیں۔ اور اس دریافت پر فرانسیسی محقق کو اُس کی حکومت کی طرف سے اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیدہ چیدہ خصوصیات: ْٕؔٔ$$ تحقیق کے مطابق یہ آثار پتھر کے دور کے آثار ہیں $$اس تہذیب کے لوگ گارے کی اینٹوں کے بنے ہوئے مکانات میں رہتے تھے، غلہ سٹور کرنے کے لیے یہ اُس وقت کے جدید ترین غلہ سٹورز کا استعمال کرتے تھے، مختلف کاموں کو سر انجام دینے کے لیے انکے پاس جدید ترین فیشن ایبل آلات تھے، زراعت کا نظام جدید خطوط پر استوار تھا اور یہ لوگ کاشتکاری موجودہ جدید طرز پر قطاروں میں حد بندی کر کے کرتے تھے، $$ایک امریکی محقق ڈیوڈ کی تحقیق کے مطابق یہ لوگ دانتوں کی بیماریوں کا علاج اور کیڑے لگنے کا علاج بھی موجود جدید طرف پر کرتے تھے۔ اُس نے ان علاقوں میں پائی جانے والی نو کھوپڑیوں کا معانہ کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ یہ لوگ باقاعدہ دانت میں سوراخ کر کے کیڑا باہر نکالنے اور پھر اس کی فلنگ کی اہلیت ریکھتے تھے۔ $$مہر گڑھ کی تہذیبی علامات کو 4 ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور کُلی طور پر پتھر کا دور کہلاتا ہے۔ جب انسان ابھی اپنے ماحول سے آگاہی حاصل کر رہا تھا۔ جبکہ اسکا تیسرا اور چوتھا دور ، مکمل عروج کا دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں ملنے والی اشیا کی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مہر گڑھ میں پروڈکشن اور مینو فیکچرنگ ایکٹی ویٹی کافی ترقی یافتہ ہو گئیں تھیں اور اس علاقے کے رہایشی پیتل، تانبہ کو ڈھال کر اپنے اوزار وغیرہ بنایا کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر گڑھ کے قدیم آثار بلوچستان کے شہر سبی سے چند کلومیٹر کے فاصلے واقع ہیں۔ اس تک پہنچنے کے لیے آپ بلوچستان آنے والی کسی بھی ٹرین پر بیٹھ جائیں۔ وہ آپ کو سبی ضرور پہنچائے گی۔ (کبھی نہ کبھی)۔ اس کے علاوہ بذریعہ روڈ بھی سبی تک آیا جا سکتا ہے۔ کراچی سے آنے کے لیے ، دو روٹس ممکن ہیں۔ یا تو وہ پہلے روہڑی ، اور پھر وہاں سے سبی کی طرف آئیں ۔ یا پھر پہلے کوئٹہ اور وہاں سے 4 گھنٹے کی مسافت پر سبی کی طرف آ سکتے ہیں۔ جو کہ بہترین راستہ ہے ۔ |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | Ajmal Anjum (17-06-11), shafresha (17-06-11), skjatala (17-06-11), فیصل ناصر (17-06-11), ہادی (18-06-11), فاروق سرورخان (18-06-11), ھارون اعظم (19-06-11), یاسر عمران مرزا (18-06-11), منتظمین (17-06-11), wajee (17-06-11), حیدر Rehan (26-08-11), راجہ اکرام (20-06-11), سید محمد عابد (20-06-11), سام (17-06-11), عبداللہ آدم (18-06-11), عروج (18-06-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,766
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان کے متعلق معلومات واقعی دلچسپ اور ہمارے لیئے نئی ہیں،
کراچی سے بائی روڈ کافی سال پہلے دونوں راستوں سے کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا، راستے میں واقعی ایسا لگتا ہے کہ شاید ہی کبھی انسان ادھر آیا ہو۔ ان دنوں بلوچستان کے راستوں پر سکون بھی بہت تھا۔ بلوچوں کی آپس میں جیسی بھی دشمنی ہو مگر مسافروں کا بہت خیال اور آؤ بھگت کرتے تھے۔ میں نے رات کو دوتین بجے کراچی خضدار کوئٹہ روڈ پر جوان میاں بیوی اکیلے بے خطر کاروں میں سفر کرتے دیکھے ہیں- بلکہ جب میں نے ایک بلوچ سے پوچھا تو اس نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ تم نے اسے دوسرے صوبوں کی طرح کیوں سمجھا۔ مگر اب تو پنجابیوں کے لئے مشکل ہے وہاں جا کر آزادی سے گھومنا پھرنا۔ اللہ پاکستان کو دوبارہ سے صحت یاب کر دے۔ آمین
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (19-06-11), یاسر عمران مرزا (18-06-11), حیدر (17-06-11), حیدر Rehan (26-08-11), سام (17-06-11), عبداللہ آدم (18-06-11) |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے یاد ہے چند سال قبل ایک دو افراد ایسے قتل ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ الطاف حسین نے ایسی گھُرکی دی تھی کہ پھر ان "نام نہاد حریت پسندوں" کو جرات نہ ہو سکی اہلیان کراچی کی طرف آنکھ اُٹھانے کی۔ ![]() اب پتا نہیں کیا حالات ہیں۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | حیدر Rehan (26-08-11), سام (17-06-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,947
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تہذیب کونام کیادیاگیاہے؟
صبح صبح بہت اچھاتھریڈپڑھنےکوملا۔شکریہ ،پاکستان ہرلحاظ سےماشاءاللہ بہتrichہے۔اللہ سلامت رکھے آمین۔ Last edited by سام; 17-06-11 at 01:41 PM. |
|
|
|
| سام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (17-06-11) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اُس فرانسیسی محقق نے اس "مہر گڑھ " پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔اور پاکستانیوں کو مبارکباد دی تھی کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ اس قدر خوبصورت اور قدیم ترین تاریخی ورثے کے امین ہیں۔ جو آپ کو ہر لحاظ سے دوسرے علاقوں سے ممتاز کرتا ہے۔ تب میں نے سوچا تھا کہ آج ہم پوری کوشش میں ہیں کہ خود بھی ایک تاریخی ورثہ بن جائیں۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,766
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ کو شش ہماری تو بلکل نہیں ہے۔ ہاں مگر ارباب اختیار یہ ضرور چاہتے ہیں کہ خدا ناخواستہ “پاکستان مشرقی پاکستان کی طرح قصہ پارینہ بن جائے ” |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ کا ھم پر بہت کرم ھے ھمارا وطن ھر لحاظ سے بھرپور ھے۔میرا سب سے بڑا اورمہنگا شوق وطن ِعزیز کے چپّے چپّے کی زیارت ھے۔ اےاللہ میرا خواب پورا کردینا۔آمین۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن اب پاکستان کے اکثر علاقے نو گو ایریا بن چکے ہیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
مفید معلومات دینے کا شکریہ برادر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (26-08-11) |
![]() |
| Tags |
| کوئٹہ, کلومیٹر, کراچی, پاکستان, لوگ, مکمل, موجودہ, ممکن, معلوم, آج, انسان, اعلیٰ, بہترین, بے, دنیا, دریافت, راستہ, سفر, سال, شہر, علاقہ, علاقے, علامات, علاج, عروج |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| گردے کی پتھری کا گھریلو علاج | سیپ | شعبہ طب | 5 | 04-11-11 04:31 AM |
| فلسطین ۔ پتھر سے مزاحمت نے دُنیا کو بدل دیا | ALI-OAD | اپکے کالم | 0 | 12-10-10 11:22 AM |
| پتھر ہو جاؤں | بزم خیال | شعر و شاعری | 0 | 06-06-09 11:54 AM |
| دہشت گردی یا پارس کا پتھر | راجہ اکرام | اپکے کالم | 9 | 14-05-09 09:15 AM |
| دل پتھر یا پتھر دل | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 5 | 24-02-09 05:58 PM |