| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت دنوں بعد فورم کے اُس سیکشن میں آنا ہوا جہاں سے اس فورم کا آغاز کیا تھا۔
اس تاخیر کی وجہ میری سُستی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ دوسرے فورمز میں تو بغیر کسی تحقیق کے لکھا جا سکتا ہے جبکہ اس فورم کی زیادہ تر پوسٹس باقاعدہ تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں۔چناچہ گزشتہ آٹھ ماہ کی مصروفیات نے مجھے تحقیقی کام سے ذرا دُور ہی رکھا۔ تاہم خواہش ہمیشہ رہی کہ دوبارہ سے اس فورم کے لیے کچھ کام کرُوں۔ جو انشا اللہ اس ٹاپک سے اپنا آغاز لے لے گی۔ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ (فورٹ سنڈیمن)کی طرف جائیں تو تقریباً پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے یہی مسافت چار گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔ژوب کا علاقہ تخت سلیمان کی پہاڑی رینج میں واقع ہے جو کہ کوہ ہندو کش کی Extensionسمجھا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ 2500 سے 3500 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 سینٹی گریڈ جبکہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15 سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے-یہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔یہ باغات تقریباَ 1200 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جس میں سے تقریباَ 250 مربع کلومیٹر کا ایریا کمیونٹی بیسڈ ہے۔ اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔یہاں پیدا ہونے والا بیشتر چلغوزہ لاہور کی مارکیٹ میں سیل کیا جاتا ہے جہاں اسکی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اسکو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی، انگلیند، فرانس ،مسقط حتیٰ کہ اسرائیل میں بھی ہے۔وہاں کے خریدار اس علاقے کے چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔ اس قدر وسیع رقبے پر پھیلے باغات اس علاقے میں گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں۔ مقامی لوگ اپنی ایندھن اور ذاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کے درخت کی لکڑی استعمال کرتے ہیں جسکی وجہ سے یہ باغات تیزی سے معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تاہم WWFPنے یوروپی یونین کے تعاون سے اس علاقے کے قیمتی جنگلات کو بچنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔اس مقصد کے لیے WWFنے ژوب سے ایک گھنٹے کی مسافت پر اپنا آفس بھی قائم کیا ہوا ہے۔ WWFنے ان جنگلات کو بچانے کے لیے کئی ایک اقدامات کا آگاز کیا ہے جن میں سر فہرست "مڈل مین" کے کردار کا خاتمہ ہے۔چونکہ مڈل مین یہاں کے غریب کاشتکاروں سے قیمتی چلغوزہ کوڑیوں کے بھاؤ لے جاتے ہیں اور اسکو باہر کی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں اس لیے مقامی کاشتکار کو اسکا فاہدہ نہیں ہوتا ۔ چناچہ WWFنے کاشتکاروں میں یہ شعور پیدا کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہوا ہے کہ درخت کو کاٹنے سے محض چند ہزار ملتے ہیں جبکہ اگر اس کے پھل کو مناسب انداز میں فرخت کیا جائے تو یہ درخت ہر سال کئی ہزار روپے کی رقم دے سکتا ہے۔ یاد رہے چلغوزے کے درخت کی عمر تقریباً سو سال ہے۔اس مقصد کے لیے WWFنے بڑے خریداروں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں کہ وہ مڈل مین سے خریدنے کے بجائے مقامی کاشتکاروں سے براہ راست خریدیں۔ اسی سلسلے کی ایک اور کوشش کمیونٹی بیسڈ فورسٹنگ بھی ہے۔ اس سکیم کے تحت کئی افراد مل کر ایک جنگل لگاتے ہیں اور پھر اسکے پھل کی فرخت سے منافع اٹھاتے ہیں۔ یہ سسٹم کافی کامیاب ہو رہا ہے اور اس سسٹم کے تحت اب تک 250 مربع کلومیٹر کا علاقہ جنگلات سے ہرا بھرا ہو چُکا ہے۔ اکثر علاقے تو ایسے بھی ہیں کہ جہاں باغات کی وجہ سے پہاڑوں کی سطح تک نظر نہیں آتی۔اور کاشتکار بھی خوشحال ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کمیونٹی بیسڈ سسٹم کافی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مندرجہ ذیل چند تصاویر اُسی علاقے کی ہیں ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (13-06-10), shafresha (13-06-10), ھارون اعظم (13-06-10), یاسر عمران مرزا (13-06-10), ناصحی (14-06-10), محمدخلیل (13-06-10), محمدعدنان (14-06-10), مرزا عامر (11-07-10), ابن آدم (14-06-10), احمد بلال (14-06-10), بلال اویسی (14-07-10), رفیع انجم (01-07-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کیا بات ہے بدر بھائی
![]() آپ کی ابتدائی تحاریر کی طرح یہ بھی ایک بہت معلوماتی تحریر ہے، شئیرنگ کا شکریہ!
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم !
مفید اور معلوماتی مضمون ہے ۔۔۔مفید اس لیے کہ چلغوزے خریدتے ہوئے تھوڑا سا رعب ڈالا جا سکے گا ۔۔۔۔ لالہ آجائیں رعب میں تو کیونکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ساری اچھی اور اعلٰی کوالٹی کی غذائی اجناس پھل / میوہ / چاول وغیرہ باہر بھیج دیا جاتا ہے اور عوام لیے بچا ہوا مال رہ جاتا ہے ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جو ڈرائی فروٹ ایران سے اسمگل ہو کر کوئٹہ کے باڑہ بازار آتا ہے( مقامی لوگ یہی بتاتے ہیں ) اس کی قیمت خرید اب عوام کے بس سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔۔ کراچی میں گزشتہ سال اچھی کوالٹی کا چلغوزہ 2000 روپے کلو تھا تقریبا ۔۔ ملک میں ہونے والی پیداوار کی انتہا کو پہنچی ہوئی قیمت ۔۔۔۔ سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔ عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملتا ۔۔۔ مشرف نے اقتدار سنھالنے کے بعد یہی نعرہ لگایا تھا کہ اپنے وسائل سے مسائل کا حل نکالیں گے ۔۔۔۔۔ ان کے اس غبارے سے ہوا نکل گئی ۔۔۔۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | shafresha (14-06-10), ھارون اعظم (13-06-10), یاسر عمران مرزا (13-06-10), محمدخلیل (13-06-10), مرزا عامر (11-07-10), بلال اویسی (14-07-10), حیدر (13-06-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ان کا غبارہ کو خوچہ لوگوں نے پھاڑ دیا ہے |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے اس سیکش میں تو بدر بھائی چھائے ہوئے ہیں ۔۔۔
میں بلوچ نہیں ہوں لیکن بلوچ کمیونٹی سے کافی پرانے تعلقات ہیں اس لیے ان کی رسم و رواج پر مبنی تھریڈ بنا سکتی ہوں ٹائم ملا تو ان شاء اللہ ۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گزشتہ سال ہی چلغوزے کی لاہور کراچی میں اچھی کوالٹی کے چلغوزے کی پہنچ قیمت چالیس ہزار روپے من تھی یعنی ایک ہزار روپے فی کلو۔ چناچہ اندازہ کر لو کہ ایک ہزار روپے مختلف ایجنٹوں کے کمیشن کی مد میں چلا جاتا ہے۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-06-10), shafresha (14-06-10), یاسر عمران مرزا (13-06-10), مرزا عامر (11-07-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,550
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے خوشی ہوگی اگر آپ کی طرف سے کچھ شئیرنگ ہوئی تو |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-06-10), shafresha (14-06-10), ھارون اعظم (13-06-10), مرزا عامر (11-07-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,990
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہت ملکوں اور خاص کر غریب ملکوں سے جنگلات کا خاتمہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کے درخت اور پودے ہوا سے سی اوٹو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں اسلیےجنگلات فِضا سے سی اوٹو جو کہ ایک گرین ہاوس گیس ہے کو جزب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں جب بھی ہم لکڑی کوئلہ یا تیل جلاتے ہیں ان میں سےیہ گرین ہاوس گیس خارج ہوتی ہے کیونکہ یہ سب درختوں سے بنتے ہیں۔ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ کوئلے اور تیل کے استعال میں بےحد اضافہ ہوا ہےجسکیوجہ سے ہم اس گیس کوخارج زیادہ کر رہے ہیں اور یہ جذب کم ہو رہی ہے اور دنیا کی فِضا میں اس کا توزان بری طرح مُتاثِّر ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زمیں کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جسے گلوبل وارمینگ کا نام دیا گیا ہے۔
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-06-10), shafresha (14-06-10), ھارون اعظم (14-06-10), مرزا عامر (11-07-10), بلال اویسی (14-07-10), حیدر (14-06-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,990
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() آپ کے دلچسپ مضمون سے میں تو یہ سمجھا تھا کہ مقامی لوگ چلغوزے کے پودوّں سے باغات اگاتے ہیں لیکن DAWN اخبار میں اسی موضوع پر ایک آرٹیکل پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اگائے نہیں جاتے بلکہ قدرتی پائین کے پہاڑی جنگلات ہیں، کیا یہ درست ہے؟ اقتباس:
Last edited by ناصحی; 14-06-10 at 09:17 PM. |
||
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,990
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ٹائم ڈھونڈیں اور تھریڈ بنا کر جلد ہماری بلوچی رسم و رواج کی معلومات میں اضافہ کریں۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, فورم, فورمز, ہندو, فروخت, کوئٹہ, کوششیں, کلومیٹر, پسند, ڈرائیو, لوگ, نظر, اللہ, انداز, انشا, تصاویر, خان, دنیا, ذرا, سال, علاقہ, علاقے, عبداللہ, عدم, غریب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|