ایک دور تھا جب ماں باپ بچوں کی پرورش پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے انہیں سونے کا نوالہ کھلانے مگر شیر کی نگاہ رکھنے کے مصداق بچوں کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی ہر طرح کا ادب آداب بچوں کو نہ صرف بچپن سے ہی سکھایا جاتا تھا بلکہ والدین عملاًخود کر کے دکھاتے تھے ، نماز روزہ ، سچ بولنے کی عادت ،بڑوں کا لحاظ، چھوٹوں سے محبت اورکتابوں سے دوستی یہ سب گھر کے ماحول کا اہم حصہ ہوا کرتا تھا۔ بچے کی پرورش میں والدین خاص کر ماں کے کردار سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ماں وہ سانچہ ہے جس میں ڈھل کر بچے بہترین شخصیت میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اب ایسا اچھا ماحول کسی گھر میں نہیں ملتا یا کتابوں سے دوستی اور عزت و احترام کا درس اب بچوں کو دیا ہی نہیں جاتا لیکن شومئی قسمت یہ رکھ رکھاوّ اب بہت کم گھروں میں نظر آتا ہے-
یہ رجحان بہت کم ہوتا جا رہا ہے کہ والدین سونے اور کھانے پینے سے لے کر دین دنیا کی ہر اچھی بری بات بچوں کو نہ صرف نصیحت کریں بلکہ گھر میں بڑوں کے زیرِ سایہ بچے ان تمام سہنری باتوں کو عملاٰ ہوتا دیکھیں۔آج کل کے والدین ان تمام فکروں سے یکسر آزاد نظر آتے ہیں۔ بڑے تو بڑے چھوٹے بچوں تک کا ساری ساری رات فون پر گزار دینا بچوں کے والدین کو عام سی بات لگتی ہے ، خدا کا ایک نام“ المصور“ بہترین صورتیں بنانے والا ہے اور رب تعالی نے یہ ہنر ماں کو بھی بخشا ہے ایک ظاہری صورت خدا انسان کو عطا کرتا ہے اور ایک صورت جو ہمارا باطن ہماری شخصیت کو ظاہر کرتی ہے وہ صورت والدین خاص کر ماں اچھی تربیت سے بناتی ہے ،ہمارا ایک ایک نقش خدا کی کاریگری کا مظہر ہے اسی طرح سے ہمارا ہر عمل ہمارے ماحول ہماری پرورش ہماری اس گود کا مظہر ہے جس میں پل کر ہم بڑے ہوتے ہیں خدا انسان کی تخلیق کو 9 ماہ میںمکمل کرکے خوبصورتی بخشتا ہے۔ والدین بھی اسی انداز میں ایک بچے کی پرورش میں ایک عرصہ لگا کربچوں کو زندگی جینے کا ہنر سیکھاتے ہیں ادب و تہذیب کو اپنے بچے کی شخصیت کا حصہ بناتے ہیں -
جس طرح سے چڑیا دانہ دانہ اپنے بچوںکے منہ میں ڈالتی ہے اسی طرح انسانوں میں والدین خاص طور پر ماں بھی اپنے بچوں کو زندگی جینا سکھاتی ہے۔ کچھ دنوں پہلے ایک عیجب منظر دیکھنے کا اتفاق ہوا ایک خاتون جنہوں نے بے جا لاڈ پیار سے اپنے بیٹے کو بگاڑا تھا کسی محفل میں موجود تھیں ویاں ایک دوسری خاتون نے اپنے بچے کو اس کی غلط بات پر بہت اچھے انداز سے نصیحت کی اور ان کا کہنا تھا کے ہمارے بچے ہمارا آئینہ ہوتے ہیں اور ہم اپنے والدین کا م اس لئے میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ میرے بچوں کی شخصیت میں ایسی کوئی کمی رہ جائے جس سے میں اپنے ماں باپ کی تربیت کو شرمندہ کردوں۔ ان کی اس بات کی سب نے تعریف کی یہ دیکھ کر ان خاتون کو شاید اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ بہت شرمندہ دکھائی دینے لگیں -
بچے تو پھر بچے ہی ہوتے ہیں ان کو اچھا برا سمجھانا بہت ضروری ہے انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنے ماحول سے سب سے زیادہ سیکھتا ہے اگر گھر کا ماحول دینی اور ادبی ہے بڑے نماز کے پابند ہوں تو بچے خود بہ خود نماز اور دیگر دینی کاموں کے ساتھ ساتھ درسی و دینی کتابوں کی طرف راغب ہوں گے۔اسی طرح اگر کسی گھر میں صبح شام ٹی وی، فلمیں گانا بجانا ہو گا تو بچہ بھی وہی سیکھے گا ۔
ایک بات جو آج کل بہت عام ہوتی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے والدین بچوں کی ہر اچھی بری حرکت کو یہ کہہ کر نظر انداز کرنے لگے ہیں کہ وقت کے ساتھ خود سیکھ جائے گا یہ کہنا ان کے ساتھ کھلی دشمنی کے سوا کیا ہے ؟
بچے کی شخصیت ایک عمارت کی ماند ضرور ہے مگر یہ عمارت ریت مٹی سمنٹ کی نہیں کہ آپ ٹھکےدار کو زہادہ پیسے دے کر اور زیادہ مزدور لگوا کر اس عمارت کو کم وقت میں بہترین شکل دے سکتے ہیں، بچوں کی پرورش کا عمل کم وقت میں ایک سے زیادہ ماہیں مل کر انجام نہیں دے سکتیں اس عمل میں سالوں لگتے ہیں تب کہیں جا کر ایک بہترین شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے -
اس عمل کی مثال کسی مریض کو لگی ہوئی ڈرپ کی طرح ہے جس کہ ذریعے زندگی مریض کی رگوں میں قطرہ قطرہ اترتی ہے، اس کو آپ ایک ہی وقت میں مریض کے نیم جان جسم میں داخل نہیں کر سکتے، بلکہ ایک مخصوس رفتار کے ساتھ یہ عمل انجام دیا جاتا ہے، بچوں کی تربیت بھی ایک ایسا ہی عمل ہے ، ہمارے دین اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے انسان کو زندگی گزارنے کہ اصولوں کی تعلیم نصیحت نہں کی بلکہ ایک بہترین نمونہ ساری دنیا کے سامنےرکھا اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا االلہ نے والدین کے کردار کے لیے اس کا عملی نمونہ بھی اپنے بیارے حبیب(ص) کی بیٹی جنابِ سیدہ فاطمہ (ع) اور جناب علی (ع) کے زریعے سے دنیا کے سامنے رکھا کہ کس طرح سے ماں باپ کو اپنے بچوں کی تربیت خدا اور اس کے رسول(ص) کے احکامات کے مطابق کرنی چاہیے جیسا کے نبی پاک (ص) کی بیٹی اور داماد نے کعر کے عملی مثال دی -
یہ اس گھر کے ماحول اور پرروش میں اللہ اور اللہ کے نبی سے عشق کی ایک مثال ہے کہ، ایک روز جنابِ علی (ع) نے اپنی بیٹی جنابِ سیدہ زینب(ع) سے کہا کے پڑھیں واحد انہوں نے پڑھا پھر جنابِ علی (ع) نے کہا اب پڑھیں دوم ، اس پر بی بی زینب (ع) نے کہا بابا جس زبان سے واحد کا اقرار کر لیا اس سے دو کیسے کہہ سکتی ہوں(سبحان اللہ) خدا کی ذات کی یہ پہچان خدا کے حبیب (ص) کے گھر کے بچوں کا ہی خاصہ ہو سکتی ہے یہ سنہرے اصولِ تمام والدین کے لیے مشعلِ راہ ہیں ، خدا اور اس کے حبیب (ص) کے بتایے ہوئے احکام پر عمل کر کہ والدین بچوں کو منفرد اور بہترین شخصیت دے سکتے ہیں بہترین تربیت پانہ ہر بچے کا حق ہے مگر یہ عمل دنوں ہا مہینوں کا نہیں بلکہ سالوں کا ہے اس کو اسی طرح انجام دیں تو ہی ایک بچے کی صیح پرورش کا حق ادا ہو سکتا ہے۔
تحریر: ثمرین بخاری
والسلام
زارا