واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت



بچوں کی تعلیم و تربیت بچوں کی تعلیم و تربیت


بلا تحقيق بات نقل کرنا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-02-11, 02:13 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بلا تحقيق بات نقل کرنا

بلا تحقيق بات نقل کرنا

بلا تحقيق نقل کرنا کا مرض اس قدر پھيل گيا ہے کہ جس سے جو بات سني اس ميں دو چار ملا کر آگے نقل کرديتے ہيں ان باتوں کي حقيقت نہيں ہوتي اور اس ميں بلا تحقيق نقل کرنے کي بدولت ہم کتنے لوگوں پر تہمت لگا ديتے ہيں، کتنے لوگوں کي آبروريزي کرديتے ہيں اور تہمت کا گناہ تو غنيم سے بھي زيادہ سخت ہے حديث ميں اس کو موبقات يعني ہلاک کرنے والے گناہوں ميں شمار کيا گيا۔
عموما غير تعليم يافتہ عورتوں کي عادت بدگماني کي بہت ہوتي ہے اپنے اپنے گمان سے باتيں سوچ کر فلاني کايہ مطلب ہوگا، فلاني نے مجھے جلانے کيلئے کا کيا وغيرہ،پھر اس طرح نقل کرديتي ہيں اور اس فالني کو تو پتہ بھي نہيں ہوتا، اس کا بہت بڑا گناہ ہے، قرآن کريم ميں ہے۔
اے ايمان والوں بہت سے گمانوں سے بچا کرو کيوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہيں۔
کسي کي بات آپ تک پہنچے اور اس ميں کسي شخص کي بري بات ہو، تو کسي اور کو بتانے کي ضرورت ہي کيا ہے، کسي کي برائي سنن اور کرنا دونوں غيبت ہے اور اگر کسي ضرورت سے سننا ہي پڑے يا کسي کو بتانے کي ضرورت ہوتو پہلے اس کي تحقيق تو کرليں کہ واقعہ اس سے يہ برائي صادر بھي ہوئي ہے يا نہيں کيوں کہ اکثر اوقات لوگوں کو سمھجنے ميں غلطي ہوتي ہے يا دشمني سے ايسي باتيں پھيلا ديتے ہيں۔
قرآن مجيد ميں ايک دوسري جگہ ايسي خبريں پھيلانے والوں کے بارے ميں ارشاد ہے جس کا ترجمعہ يہ ہے۔
اور جب ان کے پاس کوئي خبر امنکييا خوف کي آتي ہے تو اس کو پھيلاديتے ہيں اور اگر وہ اس کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم اور اپنے اکابر کے حوالے کرديتے ہيں جو اس کي بصيرت رکھتے ہيں وہ خود ہي اس کو پہچان ليتے۔
تفاسير ميں آيت کے بارے ميں لکھا ہے کہ آس آيت ميں ان لوگوں کے طرز عمل پر نکير اور ترديد ہے جو باتوں کو ثبوت سے پہلے لے آڑے اور جلدي سے لپک کر ان کو پھيلانے لگتے ہيں، حالانکہ اکثر اوقات وہ صيح بھي نہيں ہوتي ہے۔
حديث ميں آتا ہے کہ جس کسي نے کسي مسلمان پر تہمت لگائي اللہ تعلاي اسکو دوزخ کے پل پر ٹہرائے رکھے گا يہاں تک کہ وہ اپن بات سے صاف ستھرا ہوکر نکل جائے، پاک و صاف ہونے کے دوطريقے ہيں يا تو وہ شخص معاف کردے جس کو تہمت لگائي يا اپني نيکياں اس کو ديکر اس کے گناہ اپنے سر لے کر دزخ ميں جلے۔
اس لئے جہاں تک ہوسکے اپني زبان کو اس قسم کي باتوں سے رکو بلکہ زيادہ باتوں کي عادت ہي نہ ڈالو، جو چپ چاپ رہ نجات پا گيا خوموش رہنے ہي ميں خير ہے، اللہ تعالي ہم کو زبان کي حفاظت کرنے والا بناديں۔

والسلام
زارا
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتے, ہے،, پہلے, پہچان, پاک, وسلم, قرآن, لگا, چار, مسلمان, آتا, ايک, اپنے, اللہ, بڑا, ثبوت, خود, رسول, سوچ, شخص, ضرورت, عورتوں, عادت, غيبت, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger