واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت



بچوں کی تعلیم و تربیت بچوں کی تعلیم و تربیت


بچوں کو ذمہ داریاں دیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-11-10, 10:39 AM   #1
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بچوں کو ذمہ داریاں دیں

بچوں کو ذمہ داریاں دیں

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بچے ماؤں کے سر میں درد کر دیتے ہیں۔ خاصکر کھلونے پھیلانا تو بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ نوکری پیشہ خواتین کیلئے تو یہ بڑا مسئلہ ہوتا ہی ہے کہ گھر آتے ہی انہیں سارا ہجوم سمیٹنا پڑتا ہے اسکے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین بھی اس مسئلے سے پریشان دیکھی جاتی ہیں۔ادھر بچے سکول سے آئے اور ادھر سب کچھ بکھر گیا۔آخر اس مسئلے کا حل کیا کیا جائے؟؟

مسئلے کا حل وہی بہتر ہوتا ہے جو دیرپا ہو۔یعنی بنیادی حل تو بچوں کی تربیت میں پنہاں ہے۔ اب سوال ہے کہ تربیت کی حکمت عملی اس حوالے سے کیا ہونی چاہئے؟؟

دیکھا یہ گیا ہے کہ اگر دن رات بچوں کو لیکر سمجھانے بیٹھے رہیں تو بچے اس سے اکتا جائیں گے اور آپ کی بات اثر کھو دے گی۔اسکا بہترین حل یہ ہے کہ بچوں کو ذمہ داریاں دیں۔ بچوں میں سے ایک کو انچارج بنائیں اور باقی سب کو بھی اپنے اپنے کام دیں۔جو اپنے کام دھیان سے کرے اسکی خوب حوصلہ افزائی کریں۔ جو نہ کرے اسکی بھی ہمت بڑھائیں۔ اس سے بچوں میں یہ اعتماد پیدا ہوگا کہ آپ ان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ اس سے مقابلے کی فضا پیدا ہوگی۔ وہ بڑھ چڑھ کر کر دکھانے کی کوشش کریں گے اور ذمہ داریاں اٹھانا سیکھ جائیں گے۔یہ چیز نہ صرف آپکا کام کا بوجھ گھٹانے میں مددگار ہوگی بلکہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی اور مستقبل میں انکے بہت کام آئے گی۔

آزما کر دیکھیں کامیابی 90 فیصد یقینی ہے۔ میں نے ٹیچنگ کے زمانے میں یہ طریقہ آزمایا ہے کہ جو بچہ سب سے زیادہ شرارتی ہوتاتھا اسے مانیٹر بنا دیتی تھی۔ وہ بچہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے لگتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ وہ مانیٹر بنا رہے۔ اس طرح اسکی تعلیمی برتری کی خواہش بھی بڑھ جاتی تھی اور بہتر رزلٹ دینے لگتے تھے۔

اس سلسلے میں اگر اور تجاویز ہوں تو میں ان میں بھی دلچسپی رکھتی ہوں۔ امید ہے آپ سب تعاون کریں گے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), فرحان دانش (14-11-10), یاسر عمران مرزا (08-11-10), ناصحی (08-11-10), منتظمین (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), رضی (14-11-10), شمشاد احمد (08-11-10), عامرشہزاد (08-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 10:44 AM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھا آرٹیکل ہے اور واقعی بچوں کو ذمہ داریاں دیں تاکہ اُنکو احساس ہو۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 10:47 AM   #3
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,350
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,046 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی ٹپ ہے۔بچوں کو ہینڈل کرنا ایک مشکل کام ہے ۔ اس کے لیے بہت ہمت اورحوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), شمشاد احمد (08-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 11:25 AM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,518
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اس سے متفق ہوں اور یہ تربیت کا ایک طریقہ ہے
لیکن بچوں سے کام لینا خود کام کرلینے سے ذیادہ مشکل ہوتا ہے
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), منتظمین (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), رضی (14-11-10), شمشاد احمد (08-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 11:43 AM   #5
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں اس سے متفق ہوں اور یہ تربیت کا ایک طریقہ ہے
لیکن بچوں سے کام لینا خود کام کرلینے سے ذیادہ مشکل ہوتا ہے
آپ نے بالکل ٹھیک کہا اور اسکے لئے تحمل کی بھی بیحد ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 12:08 PM   #6
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,350
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,046 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
آپ نے بالکل ٹھیک کہا اور اسکے لئے تحمل کی بھی بیحد ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے اسکا اثر تو دھیرے دھیرے ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی کمپنی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کس طرح کے بچوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

ام طلحہ بہن، ایک سوال ہے آپ سے۔
اگر بچوں کی کمپنی میں اس طرح کے بچے آ جائیں جن کی عادات اچھی نہیں۔ مثلا چھوٹی چھوٹی چیزیں چوری کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں مٹی کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان بچوں‌کی کمپنی کو دور کرنا بھی ممکن نہ ہو۔یا تو وہ بچے ان ہمسایوں کے ہیں جن سے آپ کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اور ان کے بچے روز آپکے گھر کھیلنے آ جاتے ہیں۔ اگر ان کو منع کریں گے تو ان کے ماں‌باپ سے تعلق خراب ہو گا۔ یا وہ بچے آپ کے بھائی ، بہن یا کسی کزن کے ہیں جو آپکے گھر کےقریب ہی ہے۔ یوں آپ ان کو منع نہیں کر سکتے۔ مگر یہ بھی نہیں‌چاہتے کہ وہ بچے آپکے بچوں کے ساتھی کھیلیں یا اٹھیں بیٹھیں۔ ایسی صورت میں اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کی بری عادات اختیار کرنے سے کس طرح باز رکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپکے پاس تجاویزہوں اور چاہیں تو اس پر نیا دھاگہ بنا دیجیے۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 12:36 PM   #7
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اِس کی ایک صورت یہ ہے کہ بچوں کو پاس بیٹھا کر اُنکو منع کیا جائے کہ فلاں بچے کیساتھ مت کھیلومگر اِس طرح سمجھایا جائے کہ وہ آپکی بات سمجھ لے۔
میری کزن مبین ماشاللہ ساڑھے چار سال کی ہے۔ جب ہماری طرف آتی ہے تو ماموں اُسے باہر لے جاتے ہیں مگر اُنہوں نے منع کیا کہ فلاں فلاں سے بات نہیں کرنی۔ وہ باز نہیں اآئی پھر ماموں نے کہاکہ وہ بچے اچھے نہیں ہیں وغیرہ تو وہ سمجھ گئی مگر ذرا دیر سے سمجھی۔

مطلب ہم منع کریں گے تو بچے سوال کرتےے ہیں کیوں نہ کھیلیں وغیرہ تو ایسی صورت میں اُنکو طریقے سے سمجھائےں۔

باقی اُم طلحہ اچھے سے بتا سکتی ہیں
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10)
پرانا 08-11-10, 12:42 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,615
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), ناصحی (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 12:47 PM   #9
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اُن کی طرف سے میں نے کر دی ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), منتظمین (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 01:24 PM   #10
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ میں ذرا مصروف تھی وقت پر دیکھ نہیں پائی۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 01:28 PM   #11
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
شکریہ میں ذرا مصروف تھی وقت پر دیکھ نہیں پائی۔
آلویز ویلکم! ہم ایک فیملی کی طرح ہیں آپ مصروف تھیں آپکا کام میں نے کر دیا بات ایک ہی ہوئی
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), ام طلحہ (08-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 03:11 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,983
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,967 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امہ طلحہ بہن آپ کا آئیڈیا بہت اچھا ہیں
لیکن میرے خیال میں آج کل کے پڑنے والے بچوں کے پاس وقت ہی نہیں ہیں
دس دس کتابے اور کاپیاں ؟اس دور میں سب سے زیادہ مظلوم اس دور کے بچے ہیں؟
عامرشہزاد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فائزہ (02-11-11), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 08:02 PM   #13
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,990
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی تحریر ہے

آپ بچوں کو ذمہ داریاں دینے کی بات کر رہی ہیں لیکن میری سیچوایشن تو کچھ اس کے برعکس ہے۔ میں جب بھی کبھی اپنی چھوٹی بھانجیوں سے ملنے جاتا ہوں تو وہ میرے زمہ کام لگانا شروع کر دیتی ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے میں اپنی بہن کہ گھر بیھٹا باتیں کر رہا تھا، میری ایک بھانجی کی نظر میرے پاوں پر پڑی تو اسنے مجھے پاوں کے ناخن کاٹنے کیلیے کہا میں نے پوچھا کہ کیوں؟ تو کہنے لگی کہ اسنے ہسٹری کے کسی پروگرام میں وحشی لوگوں کے پاوں پرلمبے لمبے ناخن دیکھے تھے اسلیے وہ نہیں چاہتی کہ میرے ناخن بھی انکی طرح لمبے ہو جایئں۔

اس دن کے بعد میں جب ملنے جاتا ہوں تو اپنے پاوں سے جرابیں نہیں اتاراتا
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-11-10), فائزہ (02-11-11), یاسر عمران مرزا (08-11-10), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 08:50 PM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,170
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں اس سے متفق ہوں اور یہ تربیت کا ایک طریقہ ہے
لیکن بچوں سے کام لینا خود کام کرلینے سے ذیادہ مشکل ہوتا ہے
ہوسکتا ہے آپ کا تجربہ مختلف ہو لیکن مجھے بچوں سے کام لینا بہت آسان لگتا ہے
بس ان کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کے یہ ایک اچیومنٹ ہے اور تھوڑا سا اپریشئٹ کرنا ہوتا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فائزہ (02-11-11), ام طلحہ (08-11-10), احمد بلال (09-11-10), عبداللہ آدم (09-11-10), عروج (27-12-10)
پرانا 08-11-10, 09:58 PM   #15
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یاسر عمران مرزا مراسلہ دیکھیں
ظاہر ہے اسکا اثر تو دھیرے دھیرے ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی کمپنی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کس طرح کے بچوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

ام طلحہ بہن، ایک سوال ہے آپ سے۔
اگر بچوں کی کمپنی میں اس طرح کے بچے آ جائیں جن کی عادات اچھی نہیں۔ مثلا چھوٹی چھوٹی چیزیں چوری کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں مٹی کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان بچوں‌کی کمپنی کو دور کرنا بھی ممکن نہ ہو۔یا تو وہ بچے ان ہمسایوں کے ہیں جن سے آپ کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اور ان کے بچے روز آپکے گھر کھیلنے آ جاتے ہیں۔ اگر ان کو منع کریں گے تو ان کے ماں‌باپ سے تعلق خراب ہو گا۔ یا وہ بچے آپ کے بھائی ، بہن یا کسی کزن کے ہیں جو آپکے گھر کےقریب ہی ہے۔ یوں آپ ان کو منع نہیں کر سکتے۔ مگر یہ بھی نہیں‌چاہتے کہ وہ بچے آپکے بچوں کے ساتھی کھیلیں یا اٹھیں بیٹھیں۔ ایسی صورت میں اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کی بری عادات اختیار کرنے سے کس طرح باز رکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپکے پاس تجاویزہوں اور چاہیں تو اس پر نیا دھاگہ بنا دیجیے۔
یاسر بھائی بیحد مشکل سوال ہے یہ۔ تعلق والے مسئلے میں پوزیشن کافی نازک ہوتی ہے کیونکہ بچے من کے سچے ہوتے ہیں صاف صاف بول دیتے ہیں کسی کے سامنے۔ اب انہیں یہ سمجھانا بیحد مشکل ہوتا ہے کہ فلاں بچے سے کیوں نہ ملو۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ان کی تشخیص کی صلاحیت اتنی پختہ ہو کہ وہ اس بچے کی خرابیوں کو خود پہچان کر اس سے دوستی سے احتراز کریں۔ان کی تربیت مکمل کریں تو وہ نہیں بھٹکیں گے، اگر چہ ہے انتہائی مشکل۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان کو کچھ قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔میرے ساتھ ایسی صورتحال ایک پڑوسن کے حوالے سے ہو چکی ہے۔ خاتون خود بہت اچھی تھیں مگر بچی میں مسائل تھے۔ میں‌نے خود ہی مصروفیات کے بہانے آنا جانا کم کر لیا اور بیٹی کو کبھی کھیلنے وہاں جانے نہیں دیا کہ حالات صحیح نہیں ہیں، اسکے بابا نے باہر جانے سے منع کیا ہے۔ آہستہ آہستہ اس بچی کی آمدو رفت بھی منقطع ہو گئی۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (28-04-11), فائزہ (02-11-11), احمد بلال (09-11-10), رضی (14-11-10), عروج (27-12-10)
جواب

Tags
ہوتا, ہے۔, کھو, کوشش, کریں۔, کرے, گھر, گے, پریشان, پسندیدہ, نوکری, بہترین, بڑا, بچوں, بچے, جائیں, حل, خواتین, دیکھا, دیں, دے, رات, زمانے, سوال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
ملک کے اکثر علاقوں میں بارش، پہاڑوں پر برف باری، رابطہ سڑکیں بند، لوگ گھروں میں محصور گلاب خان خبریں 4 14-02-11 11:52 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
وکلاء تنظیموں نے پی سی او ججوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا،ملک بھر کے وکلاء،ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے ہڑتال کر یں گے خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger