| بچوں کی تعلیم و تربیت بچوں کی تعلیم و تربیت |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,040
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم!!
بات متوسط طبقے اور نچلے گھرانوں کی کی جائے تو یہاں بھی حالات خاصے قابل رحم ہو چکے ہیں۔ خصوصاً نچلے طبقات میں تو والدین کی تعلیم و تربیت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ماں باپ بچوں کو پیدا کرکے ان کی تعلیم و تربیت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ یہاں بچوں کی بہتات تو ہوتی ہے مگر ان کے پیٹ بھرنے کے علاوہ ماﺅں کو کسی شے سے سر و کار نہیں ہوتا۔ ان کے بچے یونہی گلیوں، سڑکوں اور جھونپڑیوں میں رل کر پل بڑھ جاتے ہیں اور یہی وہ معاشرتی ناسور بنتے ہیں جو شر پسند اور تشدد پسند کہلاتے ہیں.... جن کا معاشرتی جرائم میں بڑا حصہ ہے۔ سو میں ستر فیصد مجرمانہ ذہنیت کے حامل چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور حسرتوں کے لیے کلپتے یہ معصوم بچے ہوتے ہیں جو کم عمری سے ہی چوری چکاری اور دیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں.... جن کی مائیں ان کی تربیت سے یکسر لا تعلق رہتی ہیں۔ خانہ بدوش، گداگروں اور فقراء کے بچے نہ صرف ماں باپ کے پیشے اختیار کرتے ہیں بلکہ ان کی ناقص تربیت انہیں نسل در نسل ان کو آبائی پیشوں سے وابستہ رکھتی ہے۔ تعلیم کا تو خیر ایسے گھرانوں میں کوئی کردار ہوتا ہے نہ تصور.... اور تربیت بھی نایاب شے ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے بچے فٹ پاتھ اور خیراتی اداروں کی زینت بنتے ہیں۔ نشہ آور منشیات کے عادی ہو کر دنیا و ما فیھا سے بے خبر ہو جانے والے اکثر پھول سڑکوں کے کناروں پر مسلے پڑے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی مقصد پیٹ بھرنا ہوتا ہے.... ان کا شخصی کردار ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وقت اتنا آگے سرک چکا ہے۔ ماں باپ انتہائی روشن خیال اور وسیع النظر ہو چکے ہیں۔ دنیا کمپیوٹر کی سکرین میں سمٹ چکی ہے۔ مگر نچلے گھرانوں کی ”ماں“ آج بھی صدیوں پہلے والی ماں ہے۔ اپنے بچوں کی ذاتی شخصیت میں اس کا حوالہ موجود ہوتا ہے لیکن کردار نہیں.... اپنی اولاد کے لیے اس کی ممتا وہی ہے، محبت وہی ہے تاہم اس کے خواب عام ماﺅں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے لیے زندگی کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور ہاتھ پھےلا کر مانگنے کا نام ہے اور یہی عمل اور سوچ نسل در نسل اس کے بچوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسی ماﺅں پر جو جانوروں کی طرح اپنے بچے پیدا کرکے ”پھینک“ دیتی ہیں جن کے نزدیک ماں کا کام صرف بچے پیدا کرنا ہے وہ اپنی تعلیم و تربیت کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ جو ہمارے وطن کی ستر فیصد آبادی پر مشتمل ہے اور جس کی نسل نو کا اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ یہاں بھی ”ماں“ دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ایک طرف ماں اتنی حساس، سمجھ دار اور با شعور ہے کہ اس کی تربیت اور بہترین درس زندگی اس کے بچوں کو معزز شہری اور باہمت شخصیت کے طور پر سامنے لاتی ہے تو دوسری طرف ”ماں“ اس قدر لا پرواہ اور لا تعلق ہوگئی ہے کہ بچے کیا کرتے ہیں؟ کہاں جاتے ہیں؟ کہاں گھومتے ہیں؟.... اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بچوں کی شخصیت کو بگاڑنے اور سنوارنے میں ماں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک پڑھی لکھی اور ایک جاہل ماں میں بہت فرق ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ممتا یا محبت میں تفرق آ جائے.... ماں جب ایک بچے کی تربیت و پرورش کرتی ہے تو وہ ایک بچے کی نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیت کر رہی ہوتی ہے۔ آج کل کی مادیت پسند دور نے ماں کو بھی تھوڑا سا خود غرض بنا دیا ہے لیکن یہ خال خال ہے۔ ماں اور بچے کا رشتہ انمول ہے.... ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو بہتر طور پر سمجھے تاکہ وہ ایک نسل کی تربیت قابلِ فخر اور شخصی بنیادوں پر کر سکے۔ ماں پڑھی لکھی ہو یا جاہل.... کسی بھی طبقے کی ہو اس کی ممتا منقسم نہیں ہو سکتی۔ اسٹیٹس اور معاشی حالات کے پیشِ نظر ماں کے کردار کو صرف ”ماں“ ہی ہونا چاہیے وہ ممی ہو مما ہو یا اماں.... اس کی گود اگر پہلی درس گاہ ہے تو اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پہلا سبق کیا دیتی ہے؟ اس کی ابتدائی تربیت کن خطوط پر کرتی ہے.... بچپن ہی سے ماں کو ہر رشتے اورتعلق کو اسی تکریم اور احترام سے متعارف کروانا چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔ کسی کی تذلیل و تحقیر کرنے سے قبل اسے اپنے بچوں کے معصوم ذہنوں کا بھی خیال رہنا چاہیے.... والدین جو بھی فعل کرتے ہیں بچہ اسے ضرور اختیار کرتا ہے.... یہی وجہ ہے کہ باپ کو بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی وغیرہ سے منع کیا جاتا ہے.... اسی طرح بعض مائیں بھی خاصی بے تکلفی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں.... کسی کو لعن طعن کرنا ہوتو بھی مہذب دائرے میں رہ کر.... کسی غلط کام پر ٹوکنا ہو.... کسی غلط فعل پر ممانعت کرنی ہو.... کسی ناجائز خواہش پر سمجھانا ہو.... کسی ضد پر بچے کو بہلانا ہو.... ہر ہر کام اور فعل میںتربیت کا پہلو مدّ نظر رکھنا چاہیے۔ بچہ ہر عمل، ہر بات، ہر حرکت اور ہر عادت سے سیکھتا ہے.... اسے بچپن میں جیسا ماحول دیا جائے اس کی شخصیت ویسی ہی ہوتی ہے.... بچپن سے ہی بچے کو منصفی کے پیمانے پر پورا اتر کر دکھانا چاہیے.... یہ نہیں کہ ایک بچے کو زیادہ چیز دی اور دوسرے کو کم.... ایک سے لاڈ پیار زیادہ جتانا اور دوسرے سے کم.... معصوم بچے ہر ہر حرکت کو ذہن میں رکھ کر اس کے محرک پر غور و خوض کرتے ہیں.... ان میں تجسس کا مادہ حد سے سوا ہوتا ہے وہ کیا؟ کیوں؟ کیسے ؟ سے سیکھتے ہیں.... ہرماں کے لیے اولاد کتنی ہی ہو ہر بچے کے لیے ماں ”ایک“ ہی ہوتی ہے.... ماں ہر بچے کے لیے ”انسٹی ٹیوٹ“ کا درجہ رکھتی ہے.... آج کل کی”ماں“ پڑھی لکھی تو ہے لیکن باشعور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ”روشن خیال“ بھی ہو گئی ہے.... اسی لیے ہر ماں سے گزارش ہے کہ وہ ابتدائی چند سالوں تک بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اپنے ذاتی مقصد اور شخصیت کو پس پشت ڈال کر صرف اس کی بہترین تربیت پر توجہ دے۔ اسے اپنے بچے کو شروع سے ہی باادب اور مہذب ماحول دینا چاہیے.... بچپن سے ہی مال بانٹ کر کھانے کا سلیقہ سیکھانا چاہیے.... بڑوں کے ادب واحترام اور چھوٹوں سے محبت بھرے سلوک پر زور دینا چاہیے، ہر جائز و ناجائز پر ”امناً صادقا“ کہنے کی بجائے صرف جائز ضروریات اور خواہشات کے حصول پر عمل کرنا چاہیے.... ہر ضد اور خواہش پوری کرنا بچے سے محبت نہیں اس پر ظلم ہے.... کیونکہ جسے بچپن سے ”نہ سننے“ کی عادت نہ ہو۔ وہ بڑا ہو کر بھی انکار نہیں سننا چاہتا.... چاہے مقصد یا مطمع نظر کچھ بھی ہو.... حد سے زیادہ سختی کی طرح حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی بچے کی شخصیت کو بگاڑ دیتا ہے.... ہر شے اور ہر کام اعتدال میں ہونا چاہیے۔ سورس: لاہوراپ ڈیٹس
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,537
شکریہ: 3,763
1,316 مراسلہ میں 3,009 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ عزیزم
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کمپیوٹر, پھول, پسند, منتقل, ماں, متعارف, محبت, آبادی, آج, انمول, بہترین, بچپن, بچوں, تعلیم, جاہل, خبر, رشتے, زندگی, عمری, عادی, عادت, غور, غلط, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فلسطین کو رکنیت دینے پر امریکہ نے یونیسکو کی امداد بند کر دی | dxbgraphics | خبریں | 7 | 02-11-11 03:52 PM |
| ماں بچوں کی تربیت کیسے کرے | عصمت | طہارت و نجاست | 1 | 28-10-11 03:37 PM |
| آپ کیسے اپنی ذہنی صلاحیت کو موثر بنا سکتے ہیں | راجہ صاحب | گپ شپ | 12 | 12-11-10 12:06 PM |
| کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کریں گے، الطاف حسین | گلاب خان | خبریں | 2 | 23-08-10 09:47 PM |
| رسم یا روایت کیسے جنم لیتی ہے ۔ | وسیم | عمومی بحث | 1 | 27-09-08 03:02 PM |