واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت > بچوں کے لیے کہانیاں



بچوں کے لیے کہانیاں بچوں کے لیے کہانیاں


جبران کی خواہش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-02-11, 03:36 PM   #1
جبران کی خواہش
زارا زارا آف لائن ہے 21-02-11, 03:36 PM

صدر پاکستان کے انتظار میں کھڑے ننھے جبران کو بس ایک ہی فکر تھی، وہ تھا اس کا پیارا سا ٹونی۔
مئی کی تیز دھوپ میں سب بچے سڑک کے دونوں جانب قطاریں بنائے، آنکھیں سکیڑ کر ایئرپورٹ کی جانب دیکھ رہے تھے۔ جبران ان سب کے ساتھ کھڑا اپنے ٹونی کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ٹونی کو ڈاکٹر کے پاس کیسے لے جائے؟
ٹونی جبران کا پالتو کتا تو نہیں تھا، لیکن پھر بھی دونوں ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ٹونی اس کا پالتو کتا ہوتا تو شاید وہ اس کا اتنا خیال نہ رکھتا۔
جس اسکول میں جبران پڑھتا تھا، اس کے گیٹ کے نزدیک ہی ٹونی رہتا تھا۔ وہ ہر روز صبح اسکول جاتے ہوئے اور چھٹی کے وقت واپس آتے ہوئے اسے ضرور پیار کرتا، اس کو کھانے کی چیزیں دیتا اور اس کا خوب خیال رکھتا۔ اسکول کے نزدیک چائے کا چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ جبران نے ہوٹل کے مالک سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں ٹونی کا خیال رکھے، لیکن پھر بھی اسے ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکسی روز وہ اسکول جائے اور ٹونی اسے نہ ملے۔ مگر ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔ دراصل ٹونی خود بھی جبران سے بہت پیار کرتا تھا۔ اگر اس کے گھر والے جانور رکھنے کے خلاف نہ ہوتے تو وہ ٹونی کوضرور اپنے گھر لے آتا۔
آج صبح جب جبران اسکول کے گیٹ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ٹونی بڑے بوجھل انداز میں لیٹا ہوا ہے۔ جبران کو دیکھ کر وہ اس کی جانب لپکا بھی نہیں، جیسا کہ اس کی عادت تھی۔ وہ شاید بیمار تھا! جبران نے جھک کر اسے غورسے دیکھا، وہ زور زور سے سانس لے رہا تھا۔
"اب کیا کریں؟" جبران نے اپنے دوست سے پوچھا، جو اس کے ساتھ سکول آتا تھا۔
"اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔" دوست نے جواب دیا۔
"لیکن کلاس تو شروع ہونے والی ہے۔" جبران نے فکر مند ہوکر کہا۔
"پھر تو تمہیں چھٹی ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔"
جبران نے سوچا، جیسے ہی چھٹی ہوگی وہ ٹونی کوڈاکٹر کے پاس لے جائے گا۔
اسکول میں سارا وقت اسے ٹونی ہی کی فکر رہی۔ بریک میں وہ دوبارہ اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہ ویسے ہی ساکت پڑا ہے۔ اس نے اسے دودھ اور ڈبل روٹی کھلانے کی کوشش کی مگر اس نے کچھ نہ کھایا، بلکہ بے سدھ پڑا رہا۔ اسے سخت تشویش ہوئی۔
آج پڑھائی میں بھی اس کا بالکل دل نہیں لگ رہا تھا۔ وہ بڑی بے تابی سے چھٹی ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ آخری پیریڈ میں ماسٹر صاحب نے انہیں بتایا کہ آج پاکستان کے نئے صدر ان کے شہر آ رہے ہیں۔ ان کا اسکول ایئرپورٹ کے قریب تھا، اس لیے سب بچے صدر صاحب کے استقبال کے لیے جائیں گے۔ آخری پیریڈ ختم ہوا تو ماسٹر صاحب کی ہدایت پر سب بچوں نے سکول کے باہر قطار بنائی، پھر اسی طرح چلتے ہوئے سڑک کے دائیں بائیں کھڑے ہوگئے۔ یہیں سے صدر صاحب کی گاڑی نے گزرنا تھا۔
جبران، ماسٹرصاحب کے پاس گیا اور کہا: "سر، میرا کتا بہت بیمار ہے۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔"
"کہاں ہے تمہارا کتا؟" ماسٹر صاحب نے پوچھا۔
"سر وہ، وہاں! گیٹ کے پاس۔"
"لیکن ابھی تو صدر صاحب آنے والے ہیں۔ وہ گزر جائیں، تب چلے جانا۔"
"مگر سر، ٹونی کی طبیعت بہت خراب ہے، وہ مر جائے گا۔"
"تم اسے ڈاکٹر کے پاس کیسے لے کر جاؤ گے؟"
"سر میں کسی بس یا وین میں چلا جاؤں گا۔" اس نے سوچتے ہوئے کہا۔
"لیکن جبران، اس وقت تمام گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہو چکی ہے، کیونکہ صدر صاحب آ رہے ہیں۔ اس وقت تمہیں کوئی بس یا وین بھی نہیں ملے گی۔ ابھی انتظار کرو اور لائن میں جا کر کھڑے ہو جاؤ۔"
جبران سخت مایوسی کے عالم میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ سب بچے ہاتھ میں جھنڈیاں پکڑے بے چینی سے صدر صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اسکول کے بچوں کے علاوہ ان کے اساتذہ اور آس پاس کے کئی لوگ بھی اس استقبالیہ میں شامل تھے۔ اکثر نے اپنے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں پر سایہ بنا رکھا تھا۔
جبران نہ صرف اسکول، بلکہ پورے خاندان میں بھی ایک دلیر بچہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ جب بھی کوئی درست فیصلہ کر لیتا تو اس پر عمل کرنے سے بالکل نہ گھبراتا۔ ایک بار وہ ایک دکاندار سے محض اس لیے الجھ پڑا تھا کہ وہ سودا پورا نہیں تول رہا تھا۔ بینک میں وہ بڑوں کو بھی قطار بنانے کی تلقین کرنے سے نہیں گھبراتا تھا۔ جس بات کو وہ ٹھیک سمجھ لیتا، اس پر عمل کرنے سے کبھی نہیں ہچکچاتا تھا۔
آج بھی اسے کوئی فوری قدم اٹھانا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ صدر پاکستان کے آنے میں خاصی دیر ہے اور ان کے گزر جانے کے بعد بھی اسے آسانی سے وین نہیں ملے گی، کیوں کہ بہت سے دوسرے لوگ بھی بسوں اور ویگنوں کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ٹونی صبح سے بیمار اور بھوکا تھا۔ ایسے میں جلد کچھ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن کوشش کے باوجود وہ اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ایئرپورٹ کے اوپر طیارہ منڈلاتا نظر آیا تو سب نے سکون کا سانس لیا۔ لیکن ایئرپورٹ سے نکلتے ہوئے بھی صدر صاحب کو مزید آدھ گھنٹہ لگ گیا۔ پھر ایئرپورٹ کی جانب سے سائرن بجنے کی آوازیں آنے لگی۔ صدر صاحب کے محافظ بڑی بڑی موٹر سائیکلوں پر آتے نظر آئے۔ سب کی نظریں اس قافلے پر جم گئیں۔ موٹر سائیکلوں کے پیچھے لمبی لمبی گاڑیوں کی ایک قطار تھی۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے موٹر سائیکل دو دو کرکے بچوں کے آگے سے گزرنے لگے۔ سائرن کی تیز آواز اور گاڑیوں کی گرج نے فضا پر ایک رعب سا طاری کر دیا تھا۔ بچوں نے جھنڈیاں ہلا ہلا کر قافلے کو خوش آمدید کہنا شروع کر دیا۔
یکایک جبران کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ جیسے ہی صدر صاحب کی سیاہ چمک دار گاڑی اس کے قریب پہنچی اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ سے دوڑ کر گاڑی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
بریک کی خوفناک چیخ بلند ہوئی اور صدر صاحب کی گاڑی جبران سے چند فٹ کے فاصلے پر رک گئی۔ اس کے پیچھے موٹر سائیکلیں بھی اپنی اپنی جگہ رک گئیں۔ آگے والی موٹر سائیکلیں بھی اپنی جگہ پر ٹھہر گئیں۔ سب اس بچے کی طرف متوجہ ہو گئے تھے، جس نے ایک عظیم الشان قافلے کو روک لیا تھا۔ کئی ایک پولیس والے اس کی طرف دوڑے، مگر جبران کو کسی کی پروا نہیں تھی۔
جیسے ہی گاڑی رکی، وہ دوڑ کر صدر صاحب کے پاس گیا۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ اس نے کئی مرتبہ خبرنامے میں ان کی تصویر دیکھی تھی، اس لیے انہیں پہچاننے میں اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی۔
"صدرصاحب، میں معافی چاہتا ہوں۔" جبران نے جلدی سے کہا: "میرا کتا سخت بیمار ہے۔ اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے، لیکن اس وقت تمام ٹریفک رکی ہوئی ہے۔ آپ میری مدد کیجئے، ورنہ وہ مر جائے گا۔"
جبران کو معلوم نہیں تھا کہ صدر صاحب کی گاڑی کے بلٹ پروف شیشے بالکل بند ہیں اور وہ اس کی آواز بھی نہیں سن سکے۔ البتہ انہوں نے اس کے ہلتے ہونٹ، پراعتماد چہرے اور گود میں اٹھائے معصوم سے جانور کو دیکھ کر معاملے کی نزاکت کا احساس کر لیا تھا۔ آخر وہ ملک کے صدر تھے، کیا اتنا بھی نہ سمجھتے!
انہوں نے گاڑی کا شیشہ اتار دیا۔ اتنی دیر میں پولیس والے جبران پر "حملہ آور" ہو چکے تھے۔ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا اور پیار بھرے لہجے میں بولے:"بیٹے، کیا بات ہے؟"
جبران نے دوبارہ اپنی بات بیان کی۔ اس دفعہ اس نے ایک دو جملوں ہی میں اپنا مسئلہ بیان کر دیا تھا۔ اس دوران میں پولیس والوں نے جبران کو مکمل طور پر اپنے گھیرے میں لیے رکھا۔
صدر صاحب نے حیرت سے اس بچے کو دیکھا جو بے دھڑک ان کی گاڑی کو رکوا کرانہیں اپنا مسئلہ بتا رہا تھا۔ وہ کچھ دیر تک کچھ نہ بولے، شاید سوچ رہے تھے کہ ٹونی کے ساتھ معلوم نہیں اور کتنے انسان بھی موت اور زندگی کے درمیان لٹکے ان کے اس شاندار قافلے کے گزرنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
جبران پھر بولا: "صدر صاحب، ہم نے اسکول میں پڑھا ہے کہ اسلامی ملک کا حکمران عوام کا خادم ہوتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بہت بڑے خلیفہ تھے، آپ نے ان کا نام سنا ہوگا۔ صدر صاحب، ان کا کہنا تھا اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو اس کی موت کا ذمہ دارمیں ہوں گا۔ صدر صاحب، آپ میرے کتے کو بچا لیں۔ اسے گاڑی میں بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے چلیں، واپس میں اسے خود ہی لے آؤں گا۔"
جبران بے تابی سے صدر صاحب کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا، کہیں صدر صاحب اس کی گستاخی کا برا نہ منا گئے ہوں، لیکن ٹونی کو بچانا بھی تو ضروری تھا۔
یکایک صدر صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تو جبران کی جان میں جان آئی۔انہوں نے کہا:
"بیٹے، ہم ذرا مصروف ہیں۔ ہمیں جلدی جانا ہے۔ تم پچھلی گاڑی میں اپنے کتے کو بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔" اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ بیٹھے ایک صاحب کو کچھ ہدایات دیں۔
"تھینک یو، صدر صاحب!" جبران نے نعرہ مارا۔
اس مختصر رکاوٹ کے بعد جب صدر صاحب کا قافلہ دوبارہ روانہ ہوا تو ایک چمک دار سیاہ گاڑی میں جبران بھی ٹونی کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔
جب ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا سے ٹونی اچھا ہو گیا تو جبران نے یہ نتیجہ نکالا کہ اپنا حق ہر حال میں مانگنے کی ہمت ہر انسان میں ہونی چاہیے، دینے والا تو اللہ ہے۔
٭٭٭

تحریر: سُہیل احمد

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 144
Reply With Quote
جواب

Tags
ٹریفک, پولیس, پاکستان, قدم, لوگ, نظر, مکمل, موت, معلوم, اللہ, انسان, اسلامی, بچوں, تلاش, تصویر, جواب, جلد, حل, حال, خوش, خلاف, دوست, زندگی, سودا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger