واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت > بچوں کے لیے کہانیاں



بچوں کے لیے کہانیاں بچوں کے لیے کہانیاں


سازش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 05:44 PM   #1
سازش
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 05:44 PM

اسکول کی چھٹّی کے بعد عدنان جب گھر آیا تو اس نے دیکھا اُس کی والدہ دروازہ پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ بدھوار کا دن ہونے کی وجہ سے اُن کا کام بھی بند تھا جیسے ہی عدنان گھر میں داخل ہوا اُس نے اپنی امّی سے کہا’’امّی مجھے کھانا دو بہت زور کی بھوک لگی ہے صبح بھی تم نے مجھے بس ایک ہی روٹی دی تھی۔
اُس کی والدہ نے کہا’’بیٹا ابھی میں نے کچھ پکایا نہیں ہے تیرے ابّو کا انتظار کررہی ہوں وہ ہفتے کی خرچی لے کر آئیں گے تو گھر میں سامان آئے گا اور میں کھانا پکاؤں گی۔
امّی کچھ بھی ہوگا تو مجھے دے دو بھوک سے مجھے چکّر آرہا ہے۔
بیٹا تو پانی پی کر یہاں لیٹ جا بس اب تیرے ابّو آتے ہی ہوں گے پھر میں گرما گرم روٹی پکاؤں گی سبزی بناؤں گی اور اپنے لعل کو کھلاؤں گی اور ہاں تیرا نویں جماعت کا سالانہ امتحان کب شروع ہورہا ہے۔
امّی سر کہہ رہے تھے کہ اپریل کے پہلے ہفتہ سے امتحان شروع ہوجائے گا دیکھنا امّی اِس سال بھی میں اپنی جماعت میں اوّل آؤں گا۔
ہاں بیٹا مجھے امیّد ہی نہیں یقین ہے کہ تو ہی کلاس میں اوّل آئے گا آخر رات دن پڑھائی جو کرتا رہتا ہے۔ اﷲ نے تجھے دماغ بھی اچھا دیا ہے۔ تیری رائٹنگ بھی کتنی اچھی ہے۔
امّی میری رائٹنگ کی سب تعریف کرتے ہیں! امّی آپ نے رائٹنگ درست کرانے میں میری بہت مدد کی۔
بیٹا اچھی رائٹنگ سے زیادہ نمبر ملتے ہیں۔ پیپر جانچنے والا اچھی رائٹنگ دیکھ کر ہی خوش ہوجاتا ہے اگر سب کچھ صحیح ہو تو اُسے پڑھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے وہ زیادہ نمبر دیتا ہے۔ اچھی رائٹنگ کامیابی کی کنجی ہے۔
امّی میں میٹرک کا امتحان پاس کرکے نوکری کروں گا خوب پیسے کماؤں گا اور تمھیں بہت آرام سے رکھوں گا تم کو کوئی کام نہیں کرنے دوں گا۔ امّی بہت وقت ہوگیا کچھ کھانے کو دونا! دیکھونا کچھ بچا کچا ہی ہوگا تو مجھے دے دو۔
اچھا بیٹا۔ رُک میں دیکھتی ہوں ۔ یہ کہہ کر عدنان کی والدہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر کمرے کے اُس حصّے میںآئیں جہاں چولھا بنا ہوا تھا۔ کچھ برتن، جرمن اور اسٹیل کے کچھ ڈبّے الماری میں رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے ڈبّوں کو کھول کر دیکھنا شروع کیا اور پھر خوشی سے کہا’’بیٹا عدنان یہ دیکھ ڈبّے میں دو مٹھی آٹا ہے تو منھ ہاتھ دھو لے میں تیرے لئے دو روٹیاں ڈال دیتی ہوںاور ٹماٹر کی چٹنی بنا دیتی ہوں تو کھا لینا پھر تیرے ابّو آجائیں گے تو کرانہ کی دکان سے سامان لے کر آجانا آج بدھ کا دن ہے میں تیرے لئے پلاؤ پکاؤں گی۔ جا جلدی کر!
جی امّی بہت اچھا۔
اتنا کہہ کرعدنان اُٹھا اُس نے جلدی جلدی منھ ہاتھ دھو لیا اس کی امّی نے چولھا جلایا آٹا بھگایا لیکن بڑی مشکل سے اتنے آٹے میں دو روٹیاں ہی بن پائیں۔ پھر انھوں نے ٹماٹر نمک ہری مرچ کو پیس کر چٹنی بنالی اور عدنان کے سامنے رکھ دی ۔
عدنان کو بھوک ایسی زور کی لگی تھی کہ اس وقت وہ روٹیاں اور ٹماٹر کی چٹنی کسی نعمت سے کم نہیں لگ رہی تھیں جلدی جلدی اس نے کھایا اور ابھی کھاکر پانی بھی نہیں پینے پایا تھا کہ اُس کے والد گھر میں داخل ہوئے۔ وہ شراب کے نشے میں دُھت تھے قدم لڑکھڑارہے تھے عدنان پلیٹ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اُس کی امّی چولھے کے پاس بیٹھی ہوئیں تھیں ۔ چولھا گرم تھا اور چولھے سے ہلکا ہلکا دھواں نکل رہا تھا اُس کے والد نے دونوں پر ایک نظر ڈالی اور خود بھی عدنان کے قریب آکر بیٹھ گئے نشے سے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں انھوں نے کہا’’لا مجھے بھی کھانے کو دے۔‘‘
عدنان اپنی جگہ سے اُٹھ کر ہاتھ دھونے چلا گیا۔ عدنان کی امّی نے کہا’’گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا میں نے اب تک کچھ پکایا نہیں ہے ۔ تمھارا انتظار کررہی تھی کہ تم خرچی لے کر آؤگے تو سودا لائیں گے اور پکائیں گے۔
عدنان کی والدہ کے منھ سے یہ بات سن کر وہ بھڑک اُٹھے’’کھانا نہیں ہے ، اناج نہیں ہے تو پھر یہ چولھا کیوں جل رہا ہے اور یہ جھوٹی پلیٹ یہاں کیوں پڑی ہے۔ میرے لئے ہی کھانا نہیں ہے ‘‘ پھر اپنی جگہ کھڑے ہوکر انھوں نے پلیٹ کو ایک لات ماری اور چلّا کر کہا’’میرے لئے ہی کھانا نہیں ہے، ہفتہ بھر مرمر کر کام کرتا ہوں میں کمائی کرتا ہوں میں اور میرے لئے ہی کھانا نہیں ہے۔
عدنان کی والدہ نے کہا’’تم آرام سے بیٹھ جاؤ مجھے پیسے دو میں ابھی تمھارے لئے سبزی اور روٹی تیار کردیتی ہوں۔ آج پھر تم شراب پی کر آئے ہو اپنے بچے کا تو کچھ خیال کرو۔ اب وہ بڑا ہورہا ہے۔
مجھے سبق پڑھاتی ہے۔ میں اپنے بچّے کا خیال کروں اور تو کیا کرے گی تو روٹی پکائے گی خود کھائے گی اپنے بچّے کو کھلائے گی مجھے کون کھلائے گا آں مجھے کون کھلائے گا! تیرا باپ کھلائے گا مجھے ۔ مجھے سبق پڑھاتی ہے۔
عدنان اپنے والد کے قریب آیا۔ اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا’’ابّوجی آپ آرام سے یہاں بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی سودا لے کر آتا ہوں اور ابھی دس منٹ میں کھانا تیار ہوجائے گا۔ لائیے مجھے پیسے دیجئے میں سامان لے کر آتا ہوں۔
اس کے ابّو نے اُسے زور کا دھکّا دیا عدنان زمین پر گر گیا اس کے والد نے چلّاکر کہا ’’ماں کو پیسے چاہئیے بیٹے کو بھی پیسے چاہیئے سب کو پیسے چاہیئے۔ مجھے کھانا چاہیئے لاؤ پہلے مجھے کھانا دو پھر میں پیسے دوں گا۔ کھانا لاؤ پہلے میرے لئے کھانا لاؤ۔
عدنان کی والدہ نے عدنان کو اُٹھایا اور اُس کے والد سے کہا’’گھر میں اناج کا ایک دانہ نہیں ہے میں کیا پکاؤں۔ پیسے دوتو ابھی سب کے لئے پکاتی ہوں۔
بیٹے کے لئے اناج ہے، تیرے لئے اناج ہے میرے لئے ایک دانہ نہیں ہے میں کماتا ہوں اور مجھے ہی کھانے کو نہیں ملتا۔ میں ہوٹل میں جاکر کھالوںگا مجھے نہیں رہنا ہے اس گھر میں۔ مجھے نہیں کھانا ہے اس گھر میں۔ ہٹ جاؤمیرے راستے سے۔ دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔
اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھنے لگے۔ عدنان کی والدہ نے کہا’’دیکھو ابھی تم نشے میں ہو ہفتے کی خرچی تمھارے پاس ہے کوئی تمھاری جیب سے پیسے نکال لے گا ۔یہاں آپ آرام سے بیٹھ جاؤ میں دو منٹ میں کھانا تیار کردیتی ہوں۔
بس میرے پیسوں کی فکر ہے میری کسی کو فکر نہیں ہے ہٹ جا مجھے جانے دے مجھے نہیں رہنا ہے اِس گھر میں بے وقوف سمجھتی ہے مجھے،مجھے الّو بناتی ہے، ہٹ جا۔ اتنا کہہ کر انھوں نے ایک زوردار طمانچہ عدنان کی والدہ کو مارا وہ جاکر چولھے پر گریں۔ عدنان نے جلدی سے اُنھیں اُٹھایا اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا’’ابّومیری امّی کو نہیں مارنا۔ میری امّی کو ہاتھ نہیں لگانا۔ میں بول دیتا ہوں!
کیا کرے گا تو ابے کیا کرے گا تو میں ماروں گا۔ اُسے بھی ماروں گا تجھے بھی ماروں گا خود کھانا کھا لیتے ہیں مجھے کھانا نہیں دیتے ہٹ چھوڑ میرا ہاتھ۔ اتنا کہہ کر انھوں نے زور سے عدنان کا ہاتھ جھٹک دیا۔ عدنان جاکر سامنے کی دیوار سے ٹکرایا سر پر زور کی مار لگی اُس کے والد بھی لڑکھڑا کر نیچے گر پڑے عدنان کی امّی نے جلدی سے عدنان کو اُٹھایا دیکھا اُس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ پھر انھوں نے عدنان کے ابّو کو اُٹھانا چاہا لیکن جیسے ہی وہ ان کے قریب گئیں انھوں نے ایک زور دار لات عدنان کی امّی کو ماری وہ زمین پرگر پڑیں اُن کے منھ سے بے اختیار ایک چیخ نکل گئی چولھے کے پاس آگ جلانے کی لکڑی پڑی ہوئی تھی عدنان نے وہ لکڑی اُٹھالی اور اپنے والد کے اوپر ٹوٹ پڑا۔ سر پر، ہاتھ پر، پیٹھ پر لگاتار لکڑی کے وار کئے اُس کے والد چلّانے لگے ارے بچاؤ۔ مجھے اِس لڑکے سے بچاؤ ۔ اپنے باپ کو مار رہا ہے۔

تحریر: نامعلوم
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 170
Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان (12-02-11)
پرانا 12-02-11, 08:18 AM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,179
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کلاس, کرے, گھر, پہلے, پڑی, وقت, قدم, نوکری, نظر, امتحان, بول, بڑا, بے, جانے, خون, خود, خوش, دیکھا, دے, رات, سودا, شروع, عدنان, صبح, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:47 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger