واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت > بچوں کے لیے کہانیاں



بچوں کے لیے کہانیاں بچوں کے لیے کہانیاں


پینتالیس سال پہلے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-03-11, 03:18 PM   #1
پینتالیس سال پہلے
زارا زارا آف لائن ہے 23-03-11, 03:18 PM

داد جان کی آنکھیں نمناک تھیں۔ ان کے سامنے ایک میز دھری تھی جس پر سیکڑوں تصاویر بکھری پڑی تھیں۔ کچھ تصاویر نئی تھیں اور کئی تصاویر پینتالیس سال پرانی بلیک اینڈ وائٹ تھیں۔ دادا جان کا چہرہ افسردہ نظر آرہا تھا۔ میں چپکے سے کمرے میں داخل ہو کر داد جان کو ڈرانا چاہتا تھا مگر ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی دیکھ کر مجھے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔ میز پر ان کے اس دور کی تصاویر تھیں جب وہ فوج میں ہوا کرتے تھے۔ اسی تصاویر میں ان کا آج سے دس سال پہلے کا لکھا گیا مضمون موجود تھا۔ میں نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔
پاکستان کو بنے ہوئے ابھی صرف اٹھارہ سال ہی تو ہوئے تھے جب دشمن نے اپنی پوری عسکری قوت کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں پر شب خون مارا۔ وہ چھ ستمبر کی صبح کاذب تھی جب بھارت نے پاک سرزمین پر حملہ کیا۔ پاکستانی فوج میں شامل وہ جری جوان جو 14 اگست 1947ءکی ہجرت میں اپنا سب کچھ لٹاچکے تھے۔ دشمن کے سامنے فولاد کی دیوار کی طرح سینہ سپر ہوگئے۔ چشم فلک نے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہوں گے جب مسلمان ماﺅں کی بہادر اولاد دشمنوں کی گھناﺅنی اور مکروہ سازشوں سے ٹکراگئے۔ بھارتی جرنیلوں نے شام کو لاہور کے جم خانے میں کھنکتے ہوئے جاموں کے ساتھ جشن کامرانی کا جو رنگین خواب دیکھا تھا وہ حسرت ناکام کی صورت اختیار کرگیا کیوں کہ جم خانے کا تصور بھی دور تھا۔ بھارتی افواج تو بی آر بی نہر بھی پار نہ کرسکیں۔ لاہور محاذ پر بدترین ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد سیالکوٹ سیکٹر کو میدان کارزار بنایا گیا لیکن پاکستانی افواج کی جواں مردی کے سامنے دشمن کی ایک نہ چلی اور بھارت کے ایسے لتے لیے کہ اسے بھاگتے ہی بنی۔ دوسری جانب چونڈہ کا میدان دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا گیا۔ ان معرکوں میں پاکستان کی افواج اور عوام نے شجاعت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ آج بھی دشمنوں کے دل ان کی بہادری اور عظمت سے ہیبت زدہ ہیں۔
اس جنگ میں ناصرف بری فوج نے داد شجاعت حاصل کی بلکہ فضاﺅں پر بھی پاکستان کو برتری حاصل رہی، پہلی جنگی پرواز کا منفرد اعزاز 19 فائٹر اسکوارڈن کے حصے میں آیا اور دشمنوں کو دفاعی جنگ لڑنے پر مجبور کردیا۔ دشمن نے اندازہ لگایا کہ پاکستان کے دل لاہور پر قبضہ کا جو خواب وہ آنکھوں میں سجا کر اپنے دیش سے نکلا ہے، شیر دل پاکستانی اپنی آخری سانس تک اسے تعبیر کی صورت نہ دیکھنے دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ بحریہ نے بھی دشمن کے سمندری ٹھکانوں اور جہازوں پر کاری ضربیں لگائیں۔سومنات کا مندر جسے مسلمان فاتح محمود غزنوی کے ہاتھوں مٹی میںملنے کا شرف حاصل ہوچکا تھا اسے ایک بار پھر پاک بحریہ نے زمین بوس کردیا۔ یہ معرکہ آرائیں سترہ دن تک جاری رہیں اور ٹینکوں کی یہ دوسری بڑی عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔
مضمون پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ستمبر 1965ءکے ان سترہ دنوں میں پاکستانی قوم پورے عزم و یقین کے ساتھ زندہ و بیدار رہی۔ اب اس واقعے کو 45 سال ہوچکے ہیں لیکن ان سترہ دنوں کی نمایاں خصوصیات ہمارے ذہنوں میں اسی طرح زندہ و تابندہ ہیں اور ہم انہیںایک ایک کرکے نئی نسل کو بتاسکتے ہیں۔ اگرچہ بدقسمتی سے ایک سازش کے تحت نئی نسل کے ذہنوں سے وہ کارنامے حرف غلط کی طرح مٹانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن چھ ستمبر کے یہ سترہ دن اس قدر عظیم ہیں کہ یہ بھلائے نہیں بھولیں گے۔ آئیے ذرا ان کی یادیں تازہ کرکے اپنے حوصلوں کو جلا بخشتے ہیں۔
ان سترہ دنوں میں سب سے اہم بات اس وقت یہ دیکھنے میں آئی کہ صدر پاکستان کی مختصر نشری تقریر سنتے ہی پورے ملک میں اتحاد و یکجہتی کی لہر دوڑ گئی جس نے پوری قوم کو یک جان اور یک زبان کردیا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کیا۔ بھارتی حکمرانوں کو ابھی تک اس بات کا احساس نہیں ہے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔
قومی اتحاد و یکجہتی کے علاوہ ہر پاکستانی اسلامی جذبے سے بھی سرشار تھا۔ ہر پاکستانی اس جنگ کو حق و باطل کا معرکہ تصور کرتا تھا اور اسے یقین تھا کہ ہو حق پر ہے جس کی فتح کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حتیٰ کہ بعض سرحدوں پر یوں محسوس ہوا کہ غیب سے بھی مدد ہورہی ہے۔
پاکستانی کو ناصرف پاکستانی حمایت حاصل تھی بلکہ بہت سے مسلم ممالک نے اس موقع پر پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ ان میں سعودی عرب، ترکی اور انڈونیشیا قابل ذکر ہیں۔ دنیا بھر کی مسجدوں میں پاکستان کی کامیابی و سرخروئی کے لیے دعائیں مانگی جاتی رہیں۔ امیر مکہ مشعل بن عبدالعزیز بھی ان کروڑوں مسلمانوں میں شامل تھے۔ وہ ہر رات خانہ کعبہ کی چوکھٹ پکڑ کر پاکستان کی سلامتی اور کامران کے لیے مسلسل دعائیں مانگتے رہے۔
ستمبر کی جنگ کے دوران مثالی کردار کا اعلیٰ مظاہرہ صرف افواج پاکستان یا قوم کے چند مخصوص طبقوں نے نہیں کیا بلکہ پوری قوم نے دلوں کی کدورتیں دھوڈالی تھیں اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ ستمبر 1965ءکی جنگ کے چشم دید گواہ شاہد ہیں کہ شدید جنگی حالات کے باوجود تاجروں نے کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا نہیں کی۔ قیمتیں بھی معمول پر رہیں حتیٰ کہ بلیک آﺅٹ کے دنوں میں بھی چوری چکاری کی وارداتیں سننے میں نہیں آئیں۔ ڈاکا زنی تو ویسے بھی اس وقت انہونی بات تھی۔
پاک فوج کے جوانوں اور پاک وطن کو چاہنے والے عوام نے مل کر اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کو سبق سکھایا اور خود کو تاریخ میں امر کردیا۔

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 417
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (23-03-11), ھارون اعظم (25-03-11), نورالدین (25-03-11), عروج (30-09-11)
پرانا 23-03-11, 04:33 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,616
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستانی فوج اتنی "محنت"‌ تو کر رہی ہے اور اپ کیا چاہتی ہیں‌مزید کیا کریں، پہلے ہی سب کچھ فوج کر رہی ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (25-03-11), نورالدین (25-03-11)
پرانا 23-03-11, 04:41 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,041
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
پاکستانی فوج اتنی "محنت"‌ تو کر رہی ہے اور اپ کیا چاہتی ہیں‌مزید کیا کریں، پہلے ہی سب کچھ فوج کر رہی ہے۔
بجافرمایا "اِتنی محنت" سے اگروہ "اُتنی" محنت کریں تو ہمیں پھل لگتا نظر بھی آئے۔ "فوج" بس فوج ہے اس سے آگے "کچھ" نہیں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-03-11, 11:34 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,929
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,698 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہا ہا

منتطمین بھائی کا "مودا" سمجھنے میں آپ بری طرح ناکام رہی ہیں!!!

آہو
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (25-03-11)
پرانا 25-03-11, 03:55 PM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,041
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
ہا ہا

منتطمین بھائی کا "مودا" سمجھنے میں آپ بری طرح ناکام رہی ہیں!!!

آہو
اُنکا "مودا" سمجھ کر ہی جواب دیا ہے
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوششیں, کارنامے, پاکستانی, نظر, مکہ, موقع, ممکن, مشعل, آج, اللہ, امیر, اسلامی, اعلیٰ, تصاویر, خون, دل, دعائیں, رات, سال, طاقتور, عسکری, غلط, صبح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فیس بک کی اپیل سرحدوں اور عمر سے ماورا ہے گلاب خان خبریں 3 10-03-11 12:43 PM
سوئی سدرن گیس کمپنی کی گیس کا استعمال 20 فیصد کم کرنے کی اپیل جاویداسد خبریں 0 23-10-10 04:32 PM
پنجاب پولیس ، پردے کے پیچھے کیا ہے شاہ جی 90 گپ شپ 25 16-06-10 01:24 PM
عذرا پیچوہوکیس: الطاف انٹر کو جیل بھیج دیا گیا عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:55 PM
مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی وجدان خبریں 0 26-01-08 07:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger